Baaghi TV

Blog

  • عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائیٹ ہاؤس میں آئے تو ان کی تقاریر اور بیانات میں ایک مرکزی نکتہ بار بار سامنے آیا: دنیا میں جنگوں کو ختم کرنا اور عالمی امن کو فروغ دینا۔ اس اعلان نے بہت سے ممالک اور خطوں میں امید پیدا کی کہ شاید امریکہ اپنی عالمی طاقت اور اثر و رسوخ کو اس بار جنگوں کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے استعمال کرے گا۔ تاہم موجودہ عالمی صورتحال ان توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
    خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید کشیدگی اور غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور اس پورے منظرنامے میں امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ موجودگی نے خطے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے خطرناک مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات محسوس کر رہی ہے۔

    عالمی معیشت پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے، اور جنگی ماحول نے ان مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال، سفری خدشات اور سیکیورٹی مسائل نے عام شہری کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور توانائی کے بحران کے خدشات دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ان جنگی اور سیاسی کشیدگیوں کے اثرات سب سے زیادہ عام آدمی پر پڑتے ہیں، جو نہ پالیسی سازی میں شریک ہوتا ہے اور نہ ہی جنگ کے فیصلوں میں اس کی کوئی رائے شامل ہوتی ہے۔
    ایسے حالات میں عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔ اگر واقعی عالمی امن کو ترجیح دی جائے تو ضروری ہے کہ جنگی بیانیے کے بجائے سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ دنیا کے کئی خطوں میں جاری تنازعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دی جائے۔

    آج کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اپنے اعلانات اور وعدوں کے مطابق واقعی امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں گی یا عالمی سیاست بدستور طاقت کے توازن اور اسٹریٹیجک مفادات کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، بین الاقوامی استحکام اور دنیا کے عام شہری کی زندگی پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
    دنیا اس وقت قیادت کی منتظر ہے—ایسی قیادت جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے اور سفارت کاری کو طاقت کے استعمال پر فوقیت دے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہی قائم ہوتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔

  • ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل،  ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل، ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ سے ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

    ایران کے خلاف جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں ایک جانب پارٹی کے کئی بااثر رہنما اور کارکن اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضرو ری قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے،مبصرین کے مطابق اس اختلاف نے پارٹی کے اندر نظریاتی تقسیم کو واضح کر دیا ہے جو آئندہ انتخابات میں بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    امریکی میڈیا کی معروف شخصیت ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے،کارلسن، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔

    ریپبلکن ووٹروں میں بھی اس جنگ پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا، اگرچہ کچھ حلقے اس اقدام کو ضروری قرار دیتے ہیں، تاہم بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتی ہے،امریکا میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، مگر اس بار صورتحال مختلف ہے، ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    ایک عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں تاہم ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی واضح تقسیم موجود ہے۔ جو ووٹر خود کو “میگا” یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں ان میں تقریباً دس میں سے نو افراد جنگ کے حامی ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن جو خود کو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھتے ان میں حمایت کم اور مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

    امریکی پوڈکاسٹر جو روگن نے اس جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیا ہے، اسی طرح سابق رکنِ کانگریس میجوری ٹیلر گرین نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    کانگریس کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے ذریعے کانگریس کو جنگ پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا، تاہم یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی، اب تک جنگ سے متعلق واقعات میں کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عراق میں طیارہ حادثے میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

  • اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے، اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے عالمی برادری نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانونی تحفظ مضبوط بنائے، اظہارِ رائے کی آزادی نفرت پھیلانے کےلیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے، دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

    صدر پاکستان کا کہنا تھا کرائسٹ چرچ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ تھا، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے، بیرون ملک پاکستانی، معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مسلمانوں کے خلاف تعصب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد نیشنل کمیشن قائم کیا جا رہا ہے،عالمی برادری تعصب کے خاتمے اور مکالمے کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے، مذہبی عقائد کا احترام اور مساوی قانونی تحفظ عالمی ذمہ داری ہے۔

  • کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    اسلام آباد:کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں، سابق گورنر سندھ عمرے کے بعد لندن میں قیام ا ور اہم ’’دوستوں‘‘ سے ملاقاتیں کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ کے سابق گورنر کامران ٹیسوری ان دنوں عمرے کی ادائیگی کے لئے حجازمقدس میں ہیں جہاں سے وہ عیدالفطر کے لگ بھگ برطانیہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ کئی دنوں تک لندن میں قیام کرینگے ا ور اہم ’’دوستوں‘‘ سے ملاقاتیں بھی کریں گے کامران کی گورنر کے منصب سے برطرفی پر ان کے قریبی رفقا جن میں سابق وفاقی وز یر اور میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار سرفہرست ہیں صدماتی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

    ان کے قریبی ذرائع نے ہفتے کی شام میڈیا سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ایسے ماحول میں جب وہ سندھ کے شہری علاقوں باالخصوص کراچی کے مسائل اور مطالبات کے لئے زوردار آواز بن چکے تھے صوبائی حکمران پیپلزپارٹی ان کے اس کردار سے نالاں تھی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے ایم کیو ایم پاکستان کے موقف کو ضعف پہنچا ہے اپنے گورنر کی برطرفی پر ایم کیوایم پاکستان کا دوسرا دھڑا بھی دم بخود ہے تاہم وہ اسے حکومت سے راہیں جدا کرنے کے لئے معقول وجہ قرا دینے سے اتفاق نہیں کرتا۔

    اسرائیلی فوجی ایرانی کلسٹر بموں سے خوف زدہ ہیں، بلوم برگ

    معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اپنے سرکردہ ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ اسی ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے اور ان کی وزیراعظم شہباز شریف سمیت اہم وفاقی وزر اء اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ خان سے ملاقاتیں ہوں گی، جن میں وہ گورنر کی علیحدگی سے زیادہ کراچی کے مسائل کا مقدمہ پیش کریں گے۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

  • اسرائیلی فوجی ایرانی کلسٹر بموں سے خوف زدہ ہیں، بلوم برگ

    اسرائیلی فوجی ایرانی کلسٹر بموں سے خوف زدہ ہیں، بلوم برگ

    اسرائیلی فوج کو ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کلسٹر وار ہیڈ میزائلوں کے باعث نئی سکیورٹی تشویش کا سامنا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کو ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کلسٹر وار ہیڈ میزائلوں کے باعث نئی سکیورٹی تشویش کا سامنا ہے ایران کے بعض بیلسٹک میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے درجنوں چھوٹے دھماکا خیز مواد بکھیر دیتے ہیں جس سے نقصان کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے اور ایک بڑے علاقے کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق ایسے میزائل فضا میں بلند مقام تک پہنچنے کے بعد اپنے وار ہیڈ سے متعدد چھوٹے بم الگ کر دیتے ہیں جو مختلف سمتوں میں پھیل جاتے ہیں اور زمین پر گر کر دھماکے کرتے ہیں،یہ چھوٹے بم رات کے آسمان میں نارنجی چمک دار ذرات کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور مختلف مقامات پر گرنے سے بیک وقت کئی دھماکے ہو سکتے ہیں۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے فائر کیے گئے تقریباً نصف بیلسٹک میزائل کلسٹر میونیشنز سے لیس ہو سکتے ہیں، ایک میزائل سے درجنوں چھوٹے دھماکا خیز مواد گرنے کے باعث جانی نقصان کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں اور ان کو روکنا دفاعی نظام کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا سائز نسبتاً چھوٹا اور رفتار زیادہ ہوتی ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی اس حکمت عملی کا مقصد نہ صرف اسرائیل کے دفاعی نظام کو مصروف رکھنا ہے بلکہ مہنگے میزائل انٹرسیپٹرز کے زیادہ استعمال کو بھی مجبور کرنا ہو سکتا ہے، اس طرح اسرائیل پر مالی اور نفسیاتی دباؤ بڑھنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے، ایران کے بعض بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھو ٹے بم لے جا سکتے ہیں جبکہ طاقتور خرمشہر میزائل میں اس سے کہیں زیادہ سب میونیشنز نصب کیے جا سکتے ہیں، ہر چھوٹے بم میں کئی پاؤنڈ دھماکا خیز مواد مو جود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید دھماکے کا سبب بن سکتا ہے۔

    سعودی عرب کا ریاض اور مشرقی علاقوں میں 10 ڈرونز تباہ کرنے کادعویٰ

    دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل پہلے بھی اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش ظاہر کر چکی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر بم اپنی نوعیت کے باعث غیر امتیازی ہتھیار سمجھے جاتے ہیں اور شہری آبادی والے علاقوں میں ان کے استعمال پر بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت پابندی عائد ہے۔

    اس صورتحال کے پیش نظر اسرائیلی فوج نے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ میزائل حملے کے دوران سائرن بجنے پر فوری طور پر پناہ گاہوں میں جائیں اور سائرن بند ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک وہیں رہیں کیونکہ بعض چھوٹے بم کچھ دیر بعد بھی زمین پر گر سکتے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران میزائل حملوں کے مختلف طریقوں کے استعمال نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

  • کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی تحصیل لاچی میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مشترکہ آپریشن کے دوران مقابلے میں 6 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ ملزمان کے قبضے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کوہاٹ شہباز الہی کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر تھانہ لاچی کی حدود میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کیا، کارروائی کے دوران موجود دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد فورسز نے بھرپور جوابی کار ر وائی کی جس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔

    حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور تخریب کاری کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے علاقے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی ٹیموں کا مشترکہ سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے،اس کے علاوہ علاقے میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی تلاش کے لیے بھی کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔

    سعودی عرب کا ریاض اور مشرقی علاقوں میں 10 ڈرونز تباہ کرنے کادعویٰ

    امریکی محکمہ دفاع نےعراق میں طیارے حادثے میں ہلاک ہونیوالے 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

  • سعودی عرب کا ریاض اور مشرقی علاقوں میں 10 ڈرونز تباہ کرنے کادعویٰ

    سعودی عرب کا ریاض اور مشرقی علاقوں میں 10 ڈرونز تباہ کرنے کادعویٰ

    سعودی عرب نے مشرق میں 10 ڈرون تباہ کر دیئے۔

    سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض اور مشرقی علاقوں میں 10 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا ہے یہ بیان ملک کے مشرق میں دو دیگر ڈرونز کو تباہ کرنے کے اعلان کے ایک گھنٹے بعد آیا ہے۔

    قبل ازیں وزارت نے کہا تھا کہ اس نے ریاض اور مشرقی علاقوں میں سات ڈرون تباہ کیے ہیں،وزارت دفاع کے ترجمان نےجمعے کے روز ایکس پر ریاض کے مشرقی علاقے میں 3ڈرونز کا راستہ روک کر انہیں تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے”اس سے قبل سعودی وزارت دفاع نے جمعہ ہی کے روز ریاض کے ضلع الخرج کی طرف داغے گئے چار ایرانی میزائلوں اور ایک ڈرون کو روک کر تباہ کیا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع نےعراق میں طیارے حادثے میں ہلاک ہونیوالے 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    واضح رہے کہ رواں ماہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور انہیں علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

    کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا، اجلاس میں مشکل وقت میں سعودی عرب کی حمایت کرنے والے برادر اور دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

  • امریکی محکمہ دفاع نےعراق  میں طیارے حادثے میں ہلاک  ہونیوالے  6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نےعراق میں طیارے حادثے میں ہلاک ہونیوالے 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نے ان 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو 12 مارچ کو عراق میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    بی بی سی کے مطابق ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں:جان اے کلنر، آریانا جی ساوینو، ایشلے بی پروئٹ، سیٹھ آر کووَل، کرٹس جے اینگسٹ، اور ٹائلر ایچ سمنز،یہ سب کے سی 135 طیارے کے عملے میں شامل تھے یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

    پینٹاگون نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ طیارہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا اور نہ ہی دوست فوج کی فائرنگ اس حادثے کا باعث بنی۔

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

    اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید

    پاکستان امت میں اتحاد اور امن کی علامت بن کر ابھر رہا ہے ،خالد مسعود سندھو

  • ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر، سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش، ایف 35 اور ایف 16طیاروں کے تربیتی مراکز نشانہ

    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ 51 لہر کا نام ‘یا علی بن موسی الرضا’ رکھا گیا، یہ حملہ شہید ابو القاسم بابائیان اور ان کی زوجہ کی یاد میں کیا گیا، ایرانی حملوں میں تیزی کی لہر آ گئی، اسرائیل کے پاس میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کمی پڑ گئی جبکہ ایران نے خارگ جزیرے پر امریکی حملہ امارات سے ہونےکا دعویٰ کیا جس کو یو اے ای نے الزام مسترد کردیا-

    امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہےامریکی حکام کے مطابق اسرائیل کئی ماہ سے اپنی محدود دفاعی صلاحیت کے بارے میں امریکا کو آگاہ کر رہا تھا، اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز امریکا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے، جس کے باعث اسرائیل کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیاکہ امریکا نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر مکمل شکست دے دی، خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا، ممکن ہےکہ خارگ جزیرے پر صرف تفریح کے لیے چند بار اور حملہ کریں،ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔

    پی ایس ایل 11: حیدرآباد کے مختصر دورے کے بعد ٹرافی کراچی پہنچ گئی

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل لینے والے ممالک اس راستے کی سکیورٹی خود یقینی بنائیں، امریکا ان ممالک کے ساتھ بحری گزرگاہ کے تحفظ کیلئے تعاون کرےگا، یہ ہمیشہ ٹیم ورک ہونا چاہیے، اب دنیا امن اور استحکام کی طرف بڑھےگی،امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران تنازع ختم کر نے کیلئے ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی تک ایران کی پیش کردہ شرائط اچھی نہیں۔

    یو اے ای کے فجیرہ پورٹ پر ڈرون انٹرسیپٹ، اردنی شہری زخمی

    یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر کہا تھا کہ اُن کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے فوجی اہداف اور خارگ جزیرہ پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملےکیےصدر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنےکا حکم نہیں دیا تاہم صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں مداخلت کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔

    اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید

  • پی ایس ایل 11:  حیدرآباد کے مختصر دورے کے بعد ٹرافی  کراچی پہنچ گئی

    پی ایس ایل 11: حیدرآباد کے مختصر دورے کے بعد ٹرافی کراچی پہنچ گئی

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کی ٹرافی کا ٹور جاری ہے، حیدرآباد کے مختصر دورے کے بعد ٹرافی پھر کراچی لائی گئی۔

    کراچی میں ٹرافی کو لیاری، سی وی اور میری ویدر ٹاور لے جایا گیا جہاں پر ٹرافی کا فوٹو شوٹ کیا گیا،پاکستان کرکٹ بورڈ نے سوشل میڈیا پر ٹرافی ٹور کی تصاویر جاری کردی،ٹرافی کو پی ایس ایل اینتھم کی ویڈیو شوٹ کے بعد دیگر شہروں میں بھی لے کر جایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن کی چمچماتی ٹرافی کی رونمائی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوئی تھی،پاکستان سپر لیگ کا آغاز 26 مارچ سے ہوگا، ایونٹ کا فائنل 3 مئی کو کھیلا جائے گا، پہلی بار ٹورنامنٹ میں 8 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔