اسپین کی حکومت نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے جس کی تصدیق بدھ کو شائع ہونے والے سرکاری گزٹ میں کی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسپین کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں قائم اسپین کا سفارت خانہ اب ناظم الامور کی سربراہی میں کام کرے گا۔
اس اقدام کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اسپین نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
Blog
-

اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا
-

ایران کی دھمکی، بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو خطے کی تمام بندرگاہیں نشانے پر ہوں گی
ایران کی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے کی دیگر بندرگاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی اور انہیں بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں اور ڈاکس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو خطے کی تمام بندرگاہیں اور سمندری تنصیبات ایران کے لیے جائز اہداف بن جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر کارروائی کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی سمندری تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
ترجمان نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی افواج کو نکال دیں کیونکہ ان کی موجودگی کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے قریب موجود سویلین بندرگاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق اگر کسی سویلین بندرگاہ کو فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے تو بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ ہدف بن سکتی ہے۔ -

ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان
ایران نے امریکا میں ہونے والے فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی وزیر کھیل احمد دنیا مالی نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے امریکا میں جا کر ورلڈکپ کھیلنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کے بعد ایران اس ملک میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر سکتا۔
ایرانی وزیر کھیل نے کہا کہ ایسے حالات میں ورلڈکپ میں شرکت کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ ایرانی شہریوں اور کھلاڑیوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے لیے عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے ماحول سازگار نہیں رہا۔
واضح رہے کہ فیفا ورلڈکپ 2026 امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا۔ -

ایران کا اسرائیل اور خلیج میں گوگل، مائيکرو سافٹ اور اوریکل جیسی ٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
ایران نے گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت کئی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ممکنہ حملوں کے لیے جائز ہدف قرار دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں موجود ان کے دفاتر اور ڈیٹا سینٹرز کی فہرست جاری کر دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران دشمن کے ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹیلیگرام پر جاری ایک پوسٹ میں قطر، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ان کمپنیوں کے 29 دفاتر، ڈیٹا سینٹرز اور تحقیقی مراکز کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں امریکی ٹیک کمپنیوں اینویڈیا، پلنٹیر، آئی بی ایم اور اوریکل کے مراکز بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق خطے میں جاری جنگ جیسے جیسے انفراسٹرکچر کی جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے ویسے ویسے ایران کے ممکنہ اہداف کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ -

تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، ایرانی فوج کا انتباہ
ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کا دارومدار خطے کی سلامتی پر ہے اور امریکا کی پالیسیوں نے علاقائی استحکام کو متاثر کیا ہے۔
تہران میں ایک بینک پر حملے کے ردعمل میں ایران نے دھمکی دی ہے کہ اب ان مالیاتی اداروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو امریکا یا اسرائیل کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایک امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اسرائیل کو ایرانی تیل تنصیبات پر حملوں سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ واشنگٹن نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے اپنے حملوں کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا اور حالیہ دنوں میں کئی تیل ڈپوؤں پر حملے کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں تہران میں شدید آلودگی پیدا ہو گئی، جہاں زہریلے سیاہ دھوئیں اور تیزابی بارش کی اطلاعات سامنے آئیں جس سے شہریوں کی صحت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ -

پاکستان کی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور لبنان و ایران میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عثمان جدون نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ -

عمان کی صلالہ بندرگاہ پر آئل اسٹوریج تنصیبات ڈرون حملے میں نشانہ
عمان کی صلالہ بندرگاہ پر موجود تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبری کے مطابق بندرگاہ میں موجود آئل اسٹوریج تنصیبات پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایندھن کے ٹینک متاثر ہوئے۔
عمانی سرکاری ٹی وی نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صلالہ بندرگاہ میں موجود ایندھن کے ذخائر کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ایمبری کے مطابق اس واقعے کے دوران کسی تجارتی جہاز کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ -

ایرانی دھمکیوں کے بعد دبئی اور قطر میں بینکوں کے دفاتر خالی، عملے کو گھر سے کام کی ہدایت
ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ معاشی اور بینکاری اداروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد دبئی اور قطر میں کئی بین الاقوامی بینکوں نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی مالیاتی ادارے سٹی گروپ نے دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور دیگر دفاتر سے عملے کو نکال کر گھر سے کام کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ بینک کی جانب سے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگلے احکامات تک ریموٹ ورک جاری رکھا جائے۔
اسی طرح برطانوی بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے بھی احتیاطی اقدامات کے تحت اپنے عملے کے لیے حفاظتی انتظامات بڑھا دیے ہیں۔ دبئی اس وقت عالمی بینکاری اداروں کے لیے ایک اہم مالیاتی مرکز بن چکا ہے جہاں جے پی مورگن اور ایچ ایس بی سی سمیت کئی بڑے بینک موجود ہیں۔
دوسری جانب ایچ ایس بی سی نے بھی قطر میں اپنی تمام برانچز عارضی طور پر بند کر دی ہیں اور کہا ہے کہ یہ اقدام عملے اور صارفین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے جب ایرانی فوجی قیادت نے اعلان کیا کہ خطے میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ معاشی اور بینکاری مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث کئی بین الاقوامی کمپنیوں اور اداروں نے بھی اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری جنگ نے دبئی کی بطور محفوظ مالیاتی مرکز حیثیت پر بھی اثر ڈالا ہے اور کچھ کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ -

عمان کا جنگ میں شامل نہ ہونے اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہ لانے کا اعلان
عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ خطے میں جاری جنگ کا مقصد صرف ایران نہیں بلکہ پورے خطے کو کمزور کرنا اور اس کی نئی تشکیل کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے اور خطے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ عمان کسی جنگی اتحاد یا کونسل کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلطنت عمان مسلسل اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ جنگ کو روکا جائے اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے کیونکہ جاری تنازع عمان اور پورے خطے کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔
سید بدر البوسعیدی نے مزید کہا کہ عمان نے اس جنگ یا کسی بھی جنگ میں کسی قسم کی مدد فراہم کرنے سے انکار کیا ہے اور خطے میں جاری بڑی تبدیلیوں کے باوجود عمان اپنی خارجہ پالیسی کے اصولوں پر قائم رہے گا۔ -

دبئی ایئرپورٹ کے قریب ایرانی ڈرون حملہ، 4 افراد زخمی، کئی پروازیں منسوخ
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دو ایرانی ڈرون گرنے کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث کئی بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل اور فضائی سفر بھی متاثر ہو رہا ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
نیدرلینڈز کی ایئرلائن کے ایل ایم نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث دبئی کے لیے تمام پروازیں 28 مارچ تک معطل کر دی گئی ہیں۔
ایئرلائن کے مطابق دبئی میں پھنسے مسافروں کو واپس اپنے ممالک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے جو نیدرلینڈز کی وزارت خارجہ کے تعاون سے انجام دیے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے خلیج فارس میں متعدد تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جبکہ دبئی ایئرپورٹ کو ہدف بنانے کے واقعے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔