بھارت کے معروف گلوکار بادشاہ کے خلاف ان کی نئی میوزک ویڈیو پر اعتراضات کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ ریاست ہریانہ کے شہر پنچکولہ کے رہائشیوں کی جانب سے درج کرایا گیا ہے جنہوں نے گلوکار کے حالیہ ریلیز ہونے والے گانے تاتیری کے الفاظ اور فلم بندی پر اعتراض اٹھایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق شہریوں کا مؤقف ہے کہ گانے کے بعض مناظر اور بول قابل اعتراض ہیں جس کے باعث انہوں نے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق گلوکار کے خلاف سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں بے حیائی سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
Blog
-

بھارتی گلوکار بادشاہ کے خلاف نئی میوزک ویڈیو پر مقدمہ درج
-

ملک ریاض کے قریبی ساتھی کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمان کو سزا سنا دی گئی
اسلام آباد کی ایک عدالت نے مالیاتی جرائم کے ایک اہم مقدمے میں بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو اور ملک ریاض کے قریبی ساتھی کرنل (ر) خلیل الرحمن کو منی لانڈرنگ کے جرم میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔
یہ مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد کی جانب سے درج اور تفتیش کیا گیا تھا۔ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 19/2025 کے تحت انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
عدالت نے 7 مارچ 2026 کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم تقریباً ایک اعشاریہ چھ ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث پایا گیا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے مختلف مالیاتی ذرائع اور تیسرے فریق کے ذریعے رقوم منتقل کر کے ان کی اصل حیثیت کو چھپانے کی کوشش کی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کو 10 سال قید بامشقت، 25 ملین روپے جرمانہ اور منی لانڈرنگ سے حاصل شدہ جائیداد اور اثاثوں کی ضبطگی کی سزا سنائی گئی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق مقدمے کی تفتیش کے دوران مالیاتی شواہد، دستاویزی ریکارڈ اور بینکنگ ٹرانزیکشنز کے ذریعے جرم کو ثابت کیا گیا۔ ادارے نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی دھوکہ دہی کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی۔ -

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود امارات کی خصوصی پروازیں، ایران سے بیک چینل معاہدے کا انکشاف
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ایک ہفتہ گزرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے تقریباً دس ممالک کی فضائی حدود شدید متاثر ہونے کے باعث فلائٹ آپریشنز میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات کو جواز بنا کر متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے بعض ممالک کو نشانہ بنانے کے بعد فضائی سفر مزید پیچیدہ ہو گیا۔ تاہم اس صورتحال کے باوجود متحدہ عرب امارات نے پھنسے ہوئے لاکھوں مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کے لیے سیکڑوں خصوصی پروازیں چلانا شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان پروازوں کے پیچھے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بیک چینل سفارت کاری کا کردار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امارات کی فضائی حدود رسمی طور پر محدود ہونے کے باوجود یہ پروازیں خصوصی انتظامات کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پروازیں معمول کی شیڈول فلائٹس نہیں بلکہ خصوصی پروازیں ہیں جو قطر اور یمن کے راستے قائم کیے گئے مخصوص فضائی راستوں کے ذریعے آپریٹ کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین کسی تیسرے فریق کے ذریعے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اس کے بدلے میں ایران نے ابوظبی اور دبئی سے مخصوص راستوں پر پروازوں کے لیے محفوظ راہداری فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے ان مخصوص فضائی راستوں سے گزرنے والے تجارتی طیاروں کو نشانہ نہ بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ انتظام فی الحال تقریباً 48 گھنٹوں کے لیے کیا گیا ہے تاہم حالات کے مطابق اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے تاکہ دنیا بھر کے مسافر محفوظ طریقے سے اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔ -

اسرائیل میں ایرانی حملوں سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں, بھارتی صحافی
بھارتی صحافی برج موہن سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور اسرائیلی حکومت میڈیا کو مکمل حقائق سامنے لانے سے روک رہی ہے۔
تل ابیب سے واپسی کے بعد جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں برج موہن سنگھ نے کہا کہ اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کے بارے میں جو تاثر پیش کیا جاتا ہے وہ حقیقت سے مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں موجود بم پروف بنکرز اتنے مؤثر نہیں جتنے ظاہر کیے جاتے ہیں اور انہوں نے ایسے بنکرز میں بھی لوگوں کو ہلاک ہوتے دیکھا جو تقریباً سو فٹ گہرے تھے۔
بھارتی صحافی کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے سامنے اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کو مشکلات کا سامنا ہے تاہم اس صورتحال کو میڈیا میں مکمل طور پر دکھایا نہیں جا رہا۔ -

جی ایچ کیو حملہ کیس کے فیصلے پر تحریک انصاف کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو سنائی جانے والی سزاؤں کو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کا تسلسل قرار دیا ہے۔
پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ 9 مئی کے واقعات کو منظم انداز میں پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف استعمال کیا گیا، تحریک انصاف کے مطابق پارٹی بانی عمران خان سمیت قیادت اور کارکنان کو مقدمات میں الجھا کر سیاسی عمل کو محدود کیا جا رہا ہے کیس میں 47 رہنماؤں اور کارکنان کو سزا سنائی گئی ہے اور پارٹی اس فیصلے کے خلاف تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرے گی۔
واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 47 ملزمان کو 10، 10 سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے جن میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما شامل ہیں سزا پانے والے ملزمان میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب، راشد شفیق، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی شامل ہیں۔
اسلام آباد: شہریوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے پر 7 پیٹرول پمپس سیل
پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات
-

اسلام آباد: شہریوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے پر 7 پیٹرول پمپس سیل
اسلام آباد میں شہریوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے پر ضلعی انتظامیہ نے 7 پیٹرول پمپس سیل کر دیے۔
ڈی سی اسلام آباد نے ایکس پوسٹ میں بتایا کہ شہر بھر میں مجموعی طور پر 145 پیٹرول پمپس موجود ہیں، گزشتہ رات رش کے باعث 8 پمپس پر پیٹرول کی قلت جبکہ 5 پمپس پر ڈیزل ختم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت شہر بھر کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول کا مجموعی طور پر 25 لاکھ 90 ہزار 736 لیٹر جبکہ ڈیزل کا 15 لاکھ 83 ہزار 362 لیٹر سٹاک موجود ہے، جو ختم ہونے پر دوبارہ بھر دیا جائے گا،شہریوں کو پیٹرول دینے سے انکار کرنے والے 7 پمپس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کر دیا گیا ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ پیٹرول یا ڈیزل ڈلوانے میں تحمل کا مظاہرہ کریں، کاروائیاں شہریوں کی جانب سے ہیلپ لائن پر شکایات اور سوشل میڈیا پر نشاندہی کے بعد کی گئیں-
-

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کا Saudi Arabia کا دورہ عالمی اور علاقائی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلم دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں شمار کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے خطے کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔
حالیہ کشیدہ حالات میں آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ جنگی ماحول، فضائی راستوں کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس سطح کا دورہ ایک مضبوط سفارتی اور عسکری پیغام سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف Iran پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔
اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مسلم دنیا میں ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کا فعال اور متوازن کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری، متوازن پالیسی اور علاقائی رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام دلا سکتا ہے۔
-

پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات
پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیاہے-
پاکستان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں زیادہ تر معلومات افغان طالبان حکام کے فراہم کردہ مؤقف پر مبنی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث بعض نتائج کی درستگی اور توازن پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں، رپورٹ میں آزاد اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کو خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دیا جا رہا ہے ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں بے شمار معصوم شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔
ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج
پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک کی ثالثی کے ذریعے بھی متعدد سفارتی کوششیں کیں، تاہم اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی افغان طالبان حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتی ہے یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے،پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے تمام انسدادِ دہشت گردی آپریشنز انتہائی درستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں اور ان کی بنیاد مستند اور قابلِ تصدیق انٹیلی جنس معلومات ہوتی ہے-
حکام نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنے آپریشنز کے دوران شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور ممکنہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیاں ایسے دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کی جاتی ہیں جو آبادی سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ حساس علاقوں جیسے کابل کے گرین زون سے بھی دور۔
برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع
پاکستان نے تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کو پناہ اور تحفظ فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث یہ گروہ نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ وہ سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی امن اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہی ہیں۔
آج میرانشاہ میں ہونے والے ایک ہولناک دہشت گرد حملے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی، جس میں معصوم شہریوں اور بچوں کو شدید نقصان پہنچا پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن ایسے واقعات کو بھی اسی سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ رپورٹ کرے گا تاکہ زمینی حقائق کی متوازن اور درست عکاسی ممکن ہو سکے۔
کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ
پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور ذمہ دارانہ اقدامات کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
-

ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج
ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
گل دراز خان ایڈووکیٹ نے سلیمان خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں وفاقی حکومت، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری اوگرا اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ امریکا، اسرائیل، ایران جنگ کی وجہ سے کیا گیا۔
درخواست کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ہے مگر وہاں قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ جن ممالک میں جنگ ہے وہاں بھی ابھی تک اضافہ نہیں کیا گیا، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جو سمجھ سے بالاتر ہے، وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں اضافہ کرکے مہنگائی سے پریشان عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع
درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت کا یہ اقدام عوامی مفاد کے خلاف ہے،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نے تحاشا اضافے کی نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے-
-

سلواڈور آلندے کا زوال: پاکستان جیسے ممالک کے لیے تاریخ کی ایک تنبیہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید
تحریر: میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی امور کے تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا میں عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں۔
11 ستمبر 1973 کو چلی میں جمہوریت جیٹ طیاروں کی گرج اور ٹینکوں کی دھمک تلے دم توڑ گئی۔اس صبح چلی کے صدارتی محل لا مونیدا پیلس کو اسی ملک کی فضائیہ نے بمباری کا نشانہ بنایا۔ اس محل کے اندر ایک ایسا شخص موجود تھا جس نے عوام سے حاصل کردہ اپنے مینڈیٹ کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
صدر سلواڈور آلندے
چند ہی گھنٹوں میں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والا یہ رہنما ہلاک ہو گیا اور لاطینی امریکہ کی ایک نہایت سفاک فوجی آمریت نے جنم لیا۔
پچاس برس سے زیادہ گزرنے کے باوجود آلندے کا زوال اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بیرونی مداخلت، معاشی دباؤ اور خفیہ انٹیلی جنس کارروائیاں کسی ملک کے جمہوری تجربے کو تباہ کر سکتی
ہیں۔پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اسباق آج بھی دردناک حد تک اہم ہیں۔
طاقتور مفادات کو چیلنج کرنے والی حکومتجب سلواڈور آلندے 1970 میں صدر منتخب ہوئے تو یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ وہ مغربی نصف کرے میں جمہوری انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے والے پہلے مارکسی رہنما بنے۔ان کے پروگرام میں زرعی اصلاحات، سماجی فلاح اور اسٹریٹجک صنعتوں کو قومی تحویل میں لینا شامل تھا—خصوصاً چلی کے وسیع تانبے کے ذخائر۔
لیکن ان پالیسیوں نے چلی کے اندر اور باہر موجود طاقتور مفادات کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اہم صنعتوں کو قومیانے سے غیر ملکی کمپنیوں کے مفادات متاثر ہوئے، جن میں امریکی ملٹی نیشنل کمپنی انٹرنیشنل ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف (ITT) بھی شامل تھی۔
سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں واشنگٹن نے لاطینی امریکہ میں ایک سوشلسٹ حکومت کے ابھرنے کو شدید شک کی نگاہ سے دیکھا۔بعد میں منظرِ عام پر آنے والے خفیہ ریکارڈز سے تصدیق ہوئی کہ سی آئی اے کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ چلی کو سوویت بلاک کا ایک اور نظریاتی اتحادی بننے سے روکا جائے۔
خفیہ کارروائیوں کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق تقریباً 80 لاکھ ڈالر اپوزیشن گروپوں، میڈیا مہمات، سیاسی اشتعال انگیزی اور معاشی بدحالی پیدا کرنے کے لیے خرچ کیے گئے تاکہ آلندے کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔
حکمتِ عملی واضح تھی: ایسی شدید عدم استحکام پیدا کیا جائے کہ یا تو حکومت خود ہی گر جائے یا فوج مداخلت پر مجبور ہو جائے۔
جس دن بم برسے
1973 تک چلی شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہو چکا تھا۔ معاشی بحران، ہڑتالیں، احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی ملک کو تباہی کے دہانے تک لے آئی تھیں۔
11 ستمبر کی صبح چلی کی مسلح افواج نے، جنرل آگستو پینوشے کی قیادت میں، ایک مربوط بغاوت شروع کر دی۔
سینتیاگو کے آسمان پر جنگی طیارے گرج رہے تھے۔ ٹینکوں نے صدارتی محل کو گھیر لیا۔
لا مونیدا کے اندر آلندے نے بار بار دی جانے والی استعفیٰ کی پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔
اس کے بجائے انہوں نے قوم سے اپنا آخری ریڈیو خطاب کیا—ایک ایسا خطاب جس میں عزم، مزاحمت اور وقار جھلک رہا تھا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ تاریخ ان لوگوں کا فیصلہ کرے گی جنہوں نے جمہوریت سے غداری کی۔
ان کے سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی ساتھیوں میں سے کئی نے محل کے اندر ان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے آخری لمحے تک مزاحمت کی۔
جب بالآخر محل پر قبضہ کر لیا گیا تو آلندے ہلاک ہو چکے تھے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دی۔ان کی میت کو خاموشی سے دفن کر دیا گیا، اور کئی برسوں تک ان کی موت کی تفصیلات بھی راز میں ڈوبی رہیں۔
خوف میں ڈوبا ہوا ایک ملک
اس فوجی بغاوت نے صرف حکومت تبدیل نہیں کی بلکہ چلی کو خوف کی ریاست میں تبدیل کر دیا۔جنرل آگستو پینوشے کی آمریت کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قتل کر دیا گیا یا وہ لاپتہ ہو گئے۔
سیاسی قیدیوں کو اسٹیڈیمز، فوجی بیرکوں اور خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا۔ بہت سے متاثرین کو مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں سے سمندر یا دور دراز پہاڑوں میں پھینک دیا جاتا تھا تاکہ ان کی ہلاکت کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔
اس دور کی سب سے دل دہلا دینے والی کہانیوں میں سے ایک چلی کے محبوب گلوکار اور کارکن وِکٹر خارا کی ہے۔
بغاوت کے بعد انہیں گرفتار کر کے ایک حراستی مرکز لے جایا گیا جہاں فوجیوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔ ان کے ہاتھ—جو ایک موسیقار کی شناخت تھے—جان بوجھ کر توڑ دیے گئے۔
چند ہی دیر بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں ان کی لاش درجنوں گولیوں کے زخموں کے ساتھ ملی—یہ ہر اس شخص کے لیے خوفناک پیغام تھا جو نئی حکومت کی مخالفت کرنے کی ہمت کرتا۔
تقریباً تین دہائیوں تک چلی جبر کے سائے میں زندہ رہا۔ ہزاروں خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ شخص جس نے چلی پر مطلق العنان حکمرانی کی، آخرکار عالمی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونے کے قریب پہنچ گیا۔
اقتدار چھوڑنے کے برسوں بعد آگستو پینوشے کو 1998 میں لندن میں گرفتار کر لیا گیا، جب اسپین کی عدالتوں نے ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت وارنٹ جاری کیا۔
اگرچہ وہ صحت کے مسائل کا جواز پیش کرتے ہوئے واپس چلی آ گئے اور 2006 میں بغیر کسی حتمی سزا کے وفات پا گئے، لیکن ان کی میراث ہمیشہ تشدد گاہوں، جبری گمشدگیوں اور سیاسی جبر سے جڑی رہے گی۔تاریخ نے ان کا فیصلہ عدالتوں سے کہیں زیادہ سختی سے کیا۔
تاریخ کی تنبیہ
سلواڈور آلندے کا زوال محض لاطینی امریکہ کی ایک تاریخی داستان نہیں ہے۔ یہ اس بات کی طاقتور یاد دہانی ہے کہ جب داخلی تقسیم بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات سے ٹکرا جائے تو کمزور ریاستیں کتنی غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔
سرد جنگ کے دوران دنیا کی خفیہ ایجنسیاں—چاہے سی آئی اے ہوں یا کے جی بی—اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے کئی ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتی رہیں۔
حکومتیں غیر مستحکم کی گئیں۔ معیشتوں کو دباؤ میں لایا گیا۔ سیاسی تحریکوں کو یا تو پیدا کیا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبق واضح ہے۔
قومی خودمختاری صرف فوجی طاقت سے محفوظ نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مضبوط ادارے، سیاسی بلوغت، قومی اتحاد اور ایسا معاشرہ درکار ہوتا ہے جو بیرونی چالوں اور سازشوں کو پہچاننے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
جب اندرونی تقسیم گہری ہو جائے اور ادارے کمزور پڑ جائیں تو بیرونی قوتوں کو کسی ملک کی سمت متعین کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔آخری سبق
لا مونیدا پر بمباری کے پچاس سال بعد بھی وہ منظر—جب سلواڈور آلندے اپنے محل کے اندر کھڑے تھے اور اوپر جنگی طیارے چکر لگا رہے تھے—جدید تاریخ میں سیاسی مزاحمت کی سب سے طاقتور علامتوں میں سے ایک ہے۔
ان کی حکومت ایک ہی دن میں گر گئی۔
مگر چلی کے معاشرے پر پڑنے والے زخم نسلوں تک باقی رہے۔
آج کے ہنگامہ خیز سیاسی دور سے گزرنے والی قوموں کے لیے چلی کے اس المیے کا پیغام بالکل واضح ہے۔
جو قوم اندر سے تقسیم ہو جائے، وہ صرف داخلی زوال ہی نہیں بلکہ پردے کے پیچھے سے واقعات کا رخ موڑنے والی طاقتوں کے لیے بھی آسان شکار بن جاتی ہے۔