Baaghi TV

Blog

  • میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کا طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ 48 منٹ جاری رہا اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ک ہمیں پاکستان اور انڈیا جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور انڈیا ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نے 35 ملین انسانوں کی جانیں بچائیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر کا بڑا حصہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر مرکوز رکھا۔انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال 4جولائی کی تقریبات غیر معمولی ہوں گی، ‘ٹیکساس کے سرحدی قصبوں سے لے کر مشی گن کے دیہات تک اور فلوریڈا کے ساحلوں سے ڈکوٹا کے کھلے میدانوں تک، امریکا کا سنہری دور آ چکا ہے،صدر نے اپنی دوسری حلف برداری کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ‘گولڈن ایج’ کا وعدہ پورا کر دکھایا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کررہے ہیں، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو ایران میں حکومت نے 32 ہزار مظاہرین کو قتل کیا، ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں، ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے گزشتہ برس کی کارروائی ‘آپریشن مڈنائٹ ہیمر’ کا ذکر کیا جس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں نے ملک کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا،ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنارہا، تہران نے یہ واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ‘آمرانہ دور کا خاتمہ’ قرار دیا انہوں نے میکسیکو میں بدنام زمانہ منشیات فروش ایل مینچو کی ہلاکت اور جنوبی امریکا کے ساحلی پانیوں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو بھی سراہا ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکا میں منشیات کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    صدر نے کہا کہ ان کی ‘امن بذریعہ طاقت’ حکمت عملی کے تحت امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنایا جا رہا ہے انہوں نے ریپبلکن ارکان کو دفاعی بجٹ میں اضافے پر سراہا اور نیٹو اتحادیوں پر بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ذکر کیا۔

    صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکاغیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں، فینٹانائل کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور غیر قانونی سرحدی عبور کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

    معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے اسٹاک مارکیٹ نے درجنوں ریکارڈ قائم کیےانہوں نے کہا کہ ‘امریکی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک ایک سال میں ‘تاریخی تبدیلی’ سے گزرا ہے۔

    ٹرمپ نے ‘جرائم کے حامی سیاست دانوں’ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس سے سخت قوانین منظور کرنے کا مطالبہ کیا خطاب کے دوران متعدد ڈیمو کریٹ ارکان نے احتجاج کیاٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ایل گرین کو احتجاجی پلے کارڈ اٹھانے پر ایوان سے باہر لے جایا گیا مینیسوٹا سے کانگریس کی رکن الہان عمر نے بھی نعرے بازی کی،صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ‘دھوکہ دہی کے خلاف جنگ’ کی قیادت سونپنے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے دوران صدر نے واشنگٹن میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نیشنل گارڈ رکن کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زخمی اہلکار کو ‘پرپل ہارٹ’ تمغہ دینے کا اعلان کیاانہوں نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی امریکی مردوں کی ہاکی ٹیم کو بھی متعارف کرایا اور گول کیپر کو صدارتی تمغۂ آزادی دینے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ریاستِ متحدہ مضبوط ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور امریکا دوبارہ جیت رہا ہےملک ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے،صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

  • سعودی کابینہ کی پاکستان کے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کی منظوری

    سعودی کابینہ کی پاکستان کے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کی منظوری

    ریاض:سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے جن میں پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی منظوری بھی شامل ہے۔

    اجلاس میں کابینہ نے سعودی وزارت داخلہ اور پاکستانی وزارت داخلہ کے درمیان سائنسی، تربیتی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے لیے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کی اجازت دے دیااس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے سکیورٹی اور انتظامی شعبوں میں تجربات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    پاک روس تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی،سحرکامران

    کابینہ نے سعودی اور پاکستانی وزارت صحت کے درمیان ریگولیشن، کوآرڈینیشن اور طبی شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے معاہدوں کی منظوری بھی دی جس سے صحت کے نظام، پالیسی سازی اور طبی سہولیات میں مشترکہ پیش رفت کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے اجلاس کے دوران دیگر علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ سعودی کابینہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    بتایا گیا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہے ہیں عمران کو الشفاء منتقل کریں گے،علیمہ خان

  • پاک روس  تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی،سحرکامران

    پاک روس تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی،سحرکامران

    پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما،رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ روس کے یومِ محافظانِ وطن کی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ اعزاز رہی، جہاں انہوں نے روسی سفیر اور اعلیٰ عسکری و سفارتی شخصیات کے ہمراہ شرکت کی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں تصاویر شیئر کرتے ہوئے سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہیں Albert P. Khorev، جو پاکستان میں روس کے سفیر ہیں، کے ساتھ تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی شکیل غضنفر(ڈپٹی چیف آف دی ایئر اسٹاف، پاکستان ایئر فورس) تھے، جبکہ روس کے دفاعی اتاشی Vadim N. Fenchenko اور دیگر معزز شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔اسلام آباد میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر نے فوج اور عوام کے درمیان پائیدار اتحاد پر زور دیا اور روس کی دفاعی تاریخ اور خودمختاری کے تحفظ کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ سحر کامران نے کہا کہ سفیر کے خیالات نے انہیں بے حد متاثر کیا، خاص طور پر قومی سلامتی اور عوامی یکجہتی کے حوالے سے دیے گئے پیغامات نے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تقریب نے پاکستان اور روس کے درمیان جاری سفارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون، علاقائی امن اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔

    سحر کامران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام باہمی احترام اور تعاون کی فضا میں ترقی کی منازل طے کر سکیں۔

    تقریب میں ایران اور ازبکستان کے سفرا سمیت مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں اور سفارتی برادری کے اراکین نے بھی شرکت کی۔روسی سفارتخانے کے دفاعی اتاشی کرنل Vadim N. Fenchenko بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تقریب کی نمایاں جھلک معزز مہمانوں کی جانب سے یادگاری کیک کاٹنے کی تقریب تھی، جو باہمی دوستی اور تعاون کی علامت کے طور پر پیش کی گئی۔

    واضح رہے کہ "ڈیفنڈر آف دی فادر لینڈ ڈے” ہر سال روس میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد موجودہ اور سابق فوجی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ یہ تقریب پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

  • سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویم کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کا یومِ تاسیس بھی ایسا ہی دن ہے جو تقریباً تین صدیوں پر محیط ریاستی تسلسل، قیادت، جدوجہد اور عوامی خدمت کی علامت ہے۔ 22 فروری 1727ء کو درعیہ میں امام محمد بن سعودؒ نے پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی اور یوں ایک ایسے سیاسی و سماجی سفر کا آغاز ہوا جس کے آج 299 سال مکمل ہو چکے ہیں۔

    امام محمد بن سعودؒ کی سیاسی بصیرت اس تاریخی عمل کا مرکزی نقطہ تھی۔ انہوں نے ایک منتشر قبائلی معاشرے کو منظم ریاستی ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ ان کی قیادت محض اقتدار کے حصول تک محدود نہ تھی بلکہ نظم و نسق، استحکام اور اجتماعی مفاد کے قیام پر مبنی تھی۔ درعیہ کو مرکز بنا کر انہوں نے ریاستی اداروں کی بنیاد رکھی اور علاقائی وحدت کو مضبوط کیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے سعودی ریاست کو وقتی اتحاد کے بجائے مستقل سیاسی وجود عطا کیا۔

    اسی دور میں امام محمد بن عبدالوهابؒ کی فکری اور اصلاحی تحریک نے معاشرتی اور دینی سطح پر نئی بیداری پیدا کی۔ اصلاحِ عقیدہ اور سماجی تطہیر کی اس تحریک نے ریاست کو فکری اساس فراہم کی۔ امام محمد بن سعودؒ اور امام محمد بن عبدالوهابؒ کے درمیان اشتراک نے سیاسی قیادت اور فکری رہنمائی کو یکجا کیا، جس کے نتیجے میں پہلی سعودی ریاست کو نظریاتی اور اخلاقی استحکام حاصل ہوا۔ یہی امتزاج سعودی تاریخ کی ایک منفرد خصوصیت بن گیا۔

    سعودی تاریخ تین ادوار سے گزری: پہلی سعودی ریاست (1727–1818ء)، دوسری سعودی ریاست (1824–1891ء) اور تیسری سعودی ریاست، جس نے بالآخر 1932ء میں مملکتِ سعودی عرب کی شکل اختیار کی۔ ان ادوار میں آزمائشیں، جنگیں اور جلاوطنی کے مراحل آئے، مگر آلِ سعود کی قیادت نے ریاستی تصور کو برقرار رکھا۔ یہی استقامت بعد ازاں جدید سعودی عرب کی تشکیل کا سبب بنی۔

    جدید مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعودؒ نے مختلف علاقوں کو متحد کر کے 23 ستمبر 1932ء کو مملکت کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اسی وژن کو آگے بڑھایا۔ شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبداللہ اور موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ادوار میں ریاستی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔

    تیل کی دریافت نے سعودی معیشت کو نئی سمت دی، مگر قیادت نے اس دولت کو محض معاشی استحکام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قومی ترقی، جدید ادارہ سازی اور عالمی کردار کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ آج وژن 2030 کے تحت سعودی عرب معیشت کی تنوع، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سماجی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہے، جو قیادت کی دور اندیشی کا مظہر ہے۔

    سعودی ریاست کی شناخت کا ایک اہم ستون حرمین شریفین کی خدمت ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توسیع، جدید سہولیات اور لاکھوں حجاج و معتمرین کی خدمت آلِ سعود کی اولین ترجیح رہی ہے۔ یہ خدمت نہ صرف مذہبی ذمہ داری بلکہ ریاستی وقار اور عالمی اسلامی قیادت کی علامت بھی ہے۔

    یومِ تاسیس دراصل اسی تاریخی تسلسل کا جشن ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سعودی عرب محض جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ قیادت، نظریہ اور عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔ امام محمد بن سعودؒ سے لے کر آج تک آلِ سعود کی حکومت نے جدوجہد، حکمت اور عوامی خدمت کے ذریعے اس ریاست کو جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    299 سالہ یہ سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مضبوط قیادت اور قومی یکجہتی قوموں کو تاریخ کے نشیب و فراز سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یومِ تاسیس سعودی عرب کے شاندار ماضی کو خراجِ تحسین اور روشن مستقبل کے عزم کا اظہار ہے۔

  • بتایا گیا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہے ہیں عمران  کو الشفاء منتقل کریں گے،علیمہ خان

    بتایا گیا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہے ہیں عمران کو الشفاء منتقل کریں گے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ سرکاری ڈاکٹرنے جو رپورٹ بنائی میری بہن نے کہا یہ ٹھیک نہیں، بتایا گیا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہے ہیں عمران کو الشفاء منتقل کریں گے۔

    عمران خان کی بہنوں نے داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی بھابھی اُن سے ملاقات کرکے آئی ہیں،عمران خان نے بتایا کہ انہیں نظر نہیں آیا، دوسرا عمران خان نے کہا کہ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی دی جائے، اس حوالہ سے عدالت میں درخواست دی جائے،علیمہ خان کے مطابق ہم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو الشفاء لیکرجائیں،ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، پہلے ایازصادق نے کہا کہ 2 ڈاکٹرز کو جیل بھیج دیتے ہیں، پھر بتایا گیا کہ محسن نقوی سے کانفرنس کال ہورہی ہے، بتایا گیا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہے ہیں کہ الشفاء منتقل کریں گے،پی ٹی آئی کی وہ لیڈرشپ جن کو محسن نقوی نے گارنٹی دی تھی وہ لوگ ٹی وی پر آ کر بتائیں کہ محسن نقوی نے ان کو کیا کہا تھا،ہمیں تصدیق کسی سے نہیں ملتی، ٹی وی سے ہی سب پتہ چلتا ہے،محسن نقوی نے جو پریس کانفرنس کی کہ عمران خان کے علاج میں تین دن کی تاخیر ہوئی، علاج تو نہیں ہو رہا تھا وہ تو معائنہ کیا گیا،سرکاری ڈاکٹر نے جو رپورٹ بنائی میری بہن نے کہا یہ رپورٹ ہی ٹھیک نہیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں کیوں رکھا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی کا مکمل معائنہ فیملی اور ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں کیا جائے، جب تک عمران خان اسپتال نہیں پہنچتے، ذاتی معالج ہمیں نہیں بتائیں گے ہم کسی کی بات پریقین نہیں کریں گے،عمران خان کو اب جیل نہیں ہسپتال میں ہونا چاہئے،عمران خان کی یہ حالت کیوں ہوئی ، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ شفا انٹرنیشنل میں عمران کو لے کر جائین وہاں علاج ہو، سپیشلسٹ کی اور عمران خان کی ڈاکٹر کی نگرانی ہو،یہ اتنا جھوٹ بول چکے ہیں کہ کوئی حد نہیں، پمز سرکاری ہسپتال ہے ہم کیسے اعتبار کریں،

    عظمیٰ خان نے کہاکہ جن پر ہمارا اعتبار ہے جب تک وہ نہیں ہوں گے ہمیں تسلی نہیں ہوگی، اگرکوئی بیماری ہے تو اس کو سامنے لیکر آئیں،چھپا کیوں رہے ہیں،بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ میں بیماری کا نام نہیں ہے، علاج تب تک شروع نہیں ہوسکتا جب تک اس کی وجہ کا پتہ نہ ہو۔

  • کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان کا ضلع ننکانہ صاحب کا دورہ

    کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان کا ضلع ننکانہ صاحب کا دورہ

    ننکانہ صاحب باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز
    کمشنر لاہور مریم خان نے سہولت بازار ننکانہ کا دورہ کیا۔انہوں نے گوشت،چینی،پھلوں و سبزیوں کی قیمتوں و کوالٹی کا جائزہ لیا۔کمشنر لاہور نے سہولت بازار میں ریٹ لسٹ آویزگی،صفائی،پارکنگ و دیگرسہولیات کا جائزہ لیا۔انہوں نے گردوارہ جنم استھان و ریلوے روڈ پر صفائی آپریشنز و روڈ واشنگ مہم کا جائزہ لیا۔انہوں نے رمضان کے حوالے سے سجائے گئے چوکوں و چوراہوں کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر لاہورکا نگہبان رمضان کارڈ کیمپ آفس کا دورہ۔حقداران کو کارڈز فراہمی پروسیجر کو چیک کیا۔ننکانہ میں 45 ہزار حقداران کو راشن کارڈ مل رہے ہیں۔30ہزار سے زائد کو وصول کرادئے گئے ہیں، ڈپٹی کمشنر ننکانہ کی کمشنر لاہور کو بریفنگ۔کمشنر لاہور نے ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ رمضان دسترخوان ننکانہ کا دورہ بھی کرکے سہولیات کا جائزہ لیا۔

    کمشنر لاہور مریم خان نے ننکانہ میں سپورٹس اریناو ترقیاتی سکیمز پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا احمد شاہ روڈ پر فیملی پارکس و علامہ اقبال پارک میں تزئین و آرائش کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر لاہورمریم خان نے ڈی ایچ کیو ہسپتال ننکانہ کا خصوصی دورہ کیا۔انہوں نے ہسپتال میں موجود خواتین سے بات چیت کی۔فری ادویات فراہمی کو چیک کیا گیا۔کمشنر لاہور نے ہسپتال میں صفائی۔ڈاکٹرز پیرامیڈیکل سٹاف موجودگی و وارڈز کو چیک کیا۔دوران وزٹ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ماہین فاطمہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد شاہد کھوکھر، اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ ثناء شرافت سمیت دیگر ضلعی افسران بھی کمشنر لاہور ڈویژن کے ہمراہ تھے۔

  • پاک افغان سرحد،طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کا مؤثرجواب

    پاک افغان سرحد،طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کا مؤثرجواب

    ضلع خیبر میں پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیتے ہوئے طالبان کی جارحیت کو خاموش کردیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ افغان طالبان نے طورخم اور تیراہ میں پاک افغان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی،ترجمان وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقے کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور فائرنگ کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ پاک فوج کے تمام جوان محفوظ رہے جبکہ جوابی کارروائی کے دوران افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے طالبان پوسٹ کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کردیا۔افغان فورسز کی یہ مہم ان کے لیے الٹی پڑ گئی اور صورتحال ان کے کنٹرول سے بالکل باہر ہو کر رہ گئی۔ پاک فوج نے ٹی ٹی اے کی ایک اہم پوسٹ سے دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا، جہاں سے وہ شدید مزاحمت کے باوجود نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ نتیجتاً 5 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ ان کی 2 بکتر بند گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو کر راکھ ہو گئیں۔

    وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہےکہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائےگا۔ ان شاء اللہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کو جاری رکھےگا۔

    دوسری جانب بلوچستان میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام؛ 8 سے زائد دہشت گرد ہلاک، 4 زخمی
    سمبازہ سیکٹر میں فتنہ الخوارج کی تشکیل فتح شیرینی سے دم کلی اپنے ٹھکانے جا رہی تھی جب سیکورٹی فورسز نے موثر طریقے سے نشانہ بنا کر اس کا صفایا کر دیا۔

    یہ پیشرفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے افغان صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق 80 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ یہ کارروائی گزشتہ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے بڑی فوجی مہم تھی۔وزارتِ اطلاعات کے مطابق یہ فضائی حملے ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ اور بنوں و باجوڑ میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشتگرد یہ حملے افغان سرزمین پر مقیم قیادت کی ہدایات پر کررہے تھے

  • سیالکوٹ،ماہ رمضان میں 431 گرانفروشوں کو جرمانے،ڈی سی کی بریفنگ

    سیالکوٹ،ماہ رمضان میں 431 گرانفروشوں کو جرمانے،ڈی سی کی بریفنگ

    سیالکوٹ بیورو چیف مدثر رتو سے ،
    صبا اصغر علی، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے رمضان المبارک میں پرائس کنٹرول اور انتظامات کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم رمضان سے اب تک مجموعی طور پر 14 ہزار 797 چھاپے مارے جا چکے ہیں، جبکہ 431 گرانفروشوں کو جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اب تک 11 لاکھ 3 ہزار 500 روپے کے جرمانے کیے گئے اور نو گرانفروشوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ضلع بھر میں 49 پرائس مجسٹریٹس تعینات ہیں جو روزانہ اوسطاً 2 ہزار 500 چھاپے مار رہے ہیں۔
    ڈپٹی کمشنر کے مطابق روزانہ 5 سے 6 ہزار افراد نگہبان دسترخوان سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ اب تک 25 ہزار افراد افطاری کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور ہیلپ لائن 1718 پر موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔
    انہوں نے مزید بتایا کہ تحصیل سیالکوٹ میں سہولت بازار فعال ہو چکا ہے جبکہ دیگر تحصیلوں میں بھی آئندہ رمضان تک سہولت بازار فعال کر دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے فیڈ بیک سے پرائس کنٹرول میں مؤثر مدد مل رہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع میں 26 مقامات کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی دسترخوان لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پورے پنجاب میں نگہبان کارڈ ایپ عارضی طور پر ڈاؤن رہی۔انہوں نے پرائس مجسٹریٹس کو ہدایت کی کہ بڑے اسٹورز کا بھی باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے اور ڈی سی کاؤنٹرز کی چیکنگ یقینی بنائی جائے۔ ضلع بھر میں 600 دکانیں مقرر کی گئی ہیں جہاں سے نگہبان رمضان پروگرام کے تحت رقم نکلوائی جا سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ نگہبان کارڈ سہولت بازار میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے شہری کارڈ کو ضائع نہ کریں کیونکہ آئندہ بھی دیگر سہولیات اسی کارڈ کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل خلاف ورزی کرنے والے گرانفروشوں کی دکانیں سر بمہر کی جا رہی ہیں۔

  • ہماری ترجیحات  صرف پروٹوکول  یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہماری ترجیحات صرف پروٹوکول یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    وقت نے ثابت کر دیا کہ ہماری ترجیحات عوامی نہیں کیونکہ پچھلے 78 سالوں سے ہم بطور پاکستان ایک لیبارٹری کا کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کبھی ہم الف انار سے آگے نہیں بڑھ سکے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے برسر اقتدار لوگوں کو اپنے پروٹوکول سے عرض ہے اور اگر ہم الف انار سے آگے نکل گئے تو الف سے اللہ پڑھ لیا تو لوگوں کے ذہنوں میں اللہ کی محبت جاگنے لگے گی جو کہ پروٹوکول والوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اس لیے الف انار ہی کافی ہے ۔

    پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈی سی، اے سی اور پرائس کنٹرول والے ادارے بے بس نظر آتے دکھائی دیتے ہیں شائد سسٹم میں خرابیاں ہیں جو ہم دور نہیں کرنا چاہتے پکڑ دھکڑ ایف آئی آر حوالات میں بند کرنا جو حل نہیں مسلئہ کی روح کو سمجھنا ضروری ہے جو ہم کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

    بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار سکڑ رہے ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ لیکن اگر ہمارے ریاستی اور انتظامی رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل معیشت، روزگار اور عوامی فلاح نہیں بلکہ پروٹوکول، نمائشی دورے اور عہدوں کی شان و شوکت بن چکے ہیں۔

    آج بھی کسی سرکاری شخصیت کی آمد کی اطلاع ملے تو سڑکیں بند، ٹریفک معطل اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ معمول کی بات ہے۔ مریض ایمبولینس میں انتظار کرتے رہتے ہیں، طلبہ امتحان کے لیے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وقار کا تقاضا عوام کو تکلیف دینا ہے؟ یا اصل وقار عوام کی سہولت اور خدمت میں ہے؟

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول ایک انتظامی ضرورت سے بڑھ کر اختیار اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ لمبے لمبے قافلے، درجنوں گاڑیاں، غیر ضروری سکیورٹی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ایک ایسا کلچر بن چکا ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔دوسری طرف ملک کی معیشت کمزور ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔لاکھوں کی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں جن میں ڈاکٹر انجینئر اور پڑھا لکھا طبقہ دیدارِ غیر کی پرواز کرچکا ہے اور باقی انتظار میں ۔چھوٹے کاروبار مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ صنعتوں کی رفتار سست ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی اولین ترجیح معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور عوامی ریلیف ہونی چاہیے، لیکن عملی طور پر زیادہ توجہ نمائشی سرگرمیوں اور رسمی تقریبات پر دی جا رہی ہیں۔

    یہ پروٹوکول کلچر صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے میں بھی سرائیت کر چکا ہے۔ عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خود کو عام شہری سے مختلف اور برتر سمجھنے لگے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم اور احساسِ محرومی کو بڑھا دیا ہے۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ قانون اور سہولیات سب کے لیے برابر نہیں تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اعلیٰ حکام سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے آتے جاتے ہیں، اور ریاستی وسائل کا ہر ممکن بچاؤ کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کارکردگی کو اہمیت دی جاتی ہے، نمود و نمائش کو نہیں۔جب کہ اسلام بھی اس منع کرتا ہے ۔

    پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے جب کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ غیر ضروری پروٹوکول اور نمائشی اخراجات کو کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا عہدہ اختیار نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری ہے۔مگر یہ اب تک ممکن نہیں ہوسکا بہرحال امید قوی ہے اتنا انتظار مزید کرنے سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے خاص طور پر ضلعی اور مقامی سطح پر بھی اس سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوامی مسائل—ٹوٹے ہوئے روڈ، سیوریج کے مسائل، پینے کے پانی کی کمی، سرکاری اداروں کی کارکردگی—ان پر توجہ دینے کے بجائے اگر سارا زور استقبال، پروٹوکول اور رسمی سرگرمیوں پر ہو تو عوام کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ دونوں مل کر ایک نئی سوچ کو اپنائیں۔ سادگی، خدمت اور کارکردگی کو عزت دی جائے ووٹ والی بات الگ ہے جبکہ نمود و نمائش اور غیر ضروری پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کی جائے۔مگر کون کرے گا جو پروٹوکول کے دلدادہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی طاقت لمبے قافلوں یا بند سڑکوں میں نہیں، بلکہ خوشحال عوام، مضبوط معیشت اور برابر کے نظام میں ہوتی ہے۔جب حکمرانی کا مرکز عوام بن جائیں گے تو ترقی خود راستہ بنا لے گی۔ پہلے قوم بننا ضروری ہے ، آخر کب تک امید کا دامن تھامے رکھو گے ؟

  • اوکاڑہ، مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کیلیے ضلعی انتظامیہ اور گراں فروش عناصر آمنے سامنے

    اوکاڑہ، مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کیلیے ضلعی انتظامیہ اور گراں فروش عناصر آمنے سامنے

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی اور گرانفروشی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور گراں فروش عناصر آمنے سامنے آ گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی ریلیف مشن کے تحت ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر ضلع بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلع بھر میں خصوصی چیکنگ مہم شروع کی گئی، جس کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 4679 انسپکشنز کی گئیں جن میں متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
    ضلعی انتظامیہ کے مطابق مقررہ نرخوں سے زائد قیمتوں پر اشیائے خورونوش فروخت کرنے، سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے پر 8 مقدمات درج کروائے گئے۔ اس کے علاوہ 22 گرانفروش دکانداروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 14 دکانیں سیل کر دی گئیں۔
    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو مجموعی طور پر 11 لاکھ 72 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور گراں فروش عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
    انہوں نے واضح ہدایت کی کہ تمام دکاندار اپنی دکانوں پر سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور اشیائے ضروریہ مقررہ قیمتوں پر فروخت کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح رمضان المبارک کے دوران عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
    دوسری جانب شہری حلقوں نے انتظامیہ کی کارروائیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بڑے ہول سیلرز اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار عناصر کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فیلڈ میں مانیٹرنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ گرانفروشی کی شکایات متعلقہ حکام کو فوری طور پر رپورٹ کریں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔