Baaghi TV

Blog

  • زارا نور عباس اور سجل علی کی دوستی ختم؟

    زارا نور عباس اور سجل علی کی دوستی ختم؟

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ زارا نور عباس نے اداکارہ سجل علی کے ساتھ دوستی ختم ہونے کے حوالے سے خاموشی توڑ دی۔

    زارا نور عباس نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں میزبان احمد علی بٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سجل علی سے اپنے تعلقات کے بارے میں بات کی، میزبان نے سوال کیا کہ سجل کیسی ہیں اور آپ نے ان سے کتنے عرصے سے بات نہیں کی؟ جس پر زارا نے جواب دیا الحمداللہ وہ اچھی ہیں اور ہم نے ابھی بات کی ہے اس پر میزبان نے کہا کہ ’یہ جھوٹ ہے‘۔

    زارا نور عباس نے کہا کہ لوگ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ اگر دو افراد نے ایک دوسرے کو ان فالو کر دیا تو وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے حالانکہ ایسا ضرو ری نہیں،لوگ ہمیشہ میرے بارے میں منفی باتیں کرتے ہیں اور یہاں ہر کوئی ہر کسی کے بارے میں بات کرتا ہے،

    کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    اداکارہ نے کہا کہ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ شاید انہوں نے کچھ کہا ہو گا حالانکہ انڈسٹری میں ہر کوئی ایک دوسرے کے بارے میں بات کرتا ہے اس تجربے سے انہیں یہ سیکھنے کو ملا کہ ہر ہاتھ ملانے والا شخص آپ کا دوست نہیں ہوتا۔ خاص طور پر شوبز انڈسٹری میں جہاں ہر کسی سے ہاتھ ملایا جاتا ہے تو دیکھنا پڑتا ہے کہ میری انگلیاں واپس آئی ہیں یا نہیں-

    زارا نور عباس نے بتایا کہ ان کے دوستوں کے کئی گروپس تھے اور وہ ہر کسی کو دوست سمجھ لیتی تھیں، لیکن اسد مجھے تنبیہ کرتے تھے اب سمجھ آیا کہ اسد ہمیشہ صحیح کہتے تھے-

    سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم نے قانونی نوٹس بھیج دیا

  • کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    سینئر وزیر سندھ صوبائی وزیراطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو جاری رکھنا ایک اہم کام تھا۔ حکومت سندھ خود اس پورے پروجیکٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عید سے پہلے اطراف کی سڑکوں پر موجود مسائل ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔کوشش ہے کہ پورا پروجیکٹ، خاص طور پر یونیورسٹی روڈ والے علاقے کو جلد مکمل کیا جائے۔

    سینئر وزیر نے کہا کہ کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں۔ شارعِ بھٹو پر دی گئی سہولت مارچ کے آخر یا اپریل کے پہلے ہفتے تک قائد آباد تک مکمل ہو جائے گی اور بعد میں اس کو ایم نائن تک بڑھایا جائے گا۔ یہ ٹریفک کے مسائل کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مایوسی پھیلانے یا سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ٹارگٹ یہی ہے کہ ہر حال میں پروجیکٹس مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کی زندگی آسان اور معیاری ہو۔ دیگر اضلاع میں بھی ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور حکومت تمام چیلنجز حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار  کا دعویٰ

    روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے-

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایران جدید کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے ہزاروں میزائل حاصل کرے گا یہ معاہدہ گزشتہ دسمبر میں ماسکو میں طے پایا،روس آئند ہ 3 برس میں 500 ’وربا‘ لانچر یونٹس اور 2,500 ’9 ایم 336‘میزائل ایران کو فراہم کرے گا۔

    اخبار کے مطابق یہ معلومات مبینہ طور پر روسی دستاویزات اور معاہدے سے واقف ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی یہ معاہدہ روس کی سرکاری اسلحہ برآمد کرنے والی کمپنی روس اوبورون ایکسپورٹ اور ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے ماسکو میں نمائندے کے درمیان طے پایا،ایران نے گزشتہ سال جولائی میں باضابطہ طور پر ان نظاموں کی درخواست کی تھی۔

    سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم نے قانونی نوٹس بھیج دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکی افواج نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی اہم جوہری صلاحیت تباہ کر دی گئی ہے،تاہم ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق فضائی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے چند ماہ پیچھے دھکیل دیا گیا۔

    یاد رہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے، تاہم اس میں باہمی دفاع کی شق شامل نہیں، حال ہی میں روسی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خلیج عمان میں ایرانی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں بھی کی ہیں، ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصان پر قابو پا لیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے-

    وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

  • سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم  نے قانونی نوٹس بھیج دیا

    سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم نے قانونی نوٹس بھیج دیا

    پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی قانونی ٹیم نے ان پر عائد الزامات کے حوالے سے باضابطہ مؤقف جاری کر دیا ہے۔

    لیگل ٹیم کے بیان کے مطابق عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے قتل اور جبری اسقاطِ حمل کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دفاع کے لیے تمام متعلقہ ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے، جن میں میڈیکل رپورٹس بھی شامل ہیں بیان کے مطابق یہ میڈیکل شواہد اسقاطِ حمل سے متعلق الزامات کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں۔

    لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ثانیہ اشفاق کو قانونی نوٹس بھی ارسال کر دیا گیا ہے مزید کہا گیا کہ نومبر 2023 میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے کیے گئے فیصلے باہمی رضامندی سے ہوئے لہٰذا ان معاملات میں عماد وسیم کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ، بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ ڈاکٹرز اس مؤقف کی گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔

    لیگل ٹیم کے مطابق دسمبر 2023 میں جبری اسقاطِ حمل کا دعویٰ کیا گیا تاہم نومبر 2023 کے اختتام پر سفر کے ریکارڈ سمیت دیگر شواہد ان الزامات کی تردید کے لیے کافی ہیں مزید بتایا گیا کہ عدالت میں جمع کرانے کے لیے تمام دستاویزی ریکارڈ اور گواہان کے بیانات حاصل کر لیے گئے ہیں، اگر کسی کے پاس اس مؤقف کے برعکس کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالت میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے شادی کے بعد ان کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اپنے بیانات میں ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم پر سنگین دعوے کرتے ہوئے انہیں اپنے بچے کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 میں ان کا زبردستی اسقاطِ حمل کرایا گیا، جس کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں،جب انہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی گئی، ثانیہ اشفاق نے جولائی 2025ء کی واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے جن میں انہوں نے لکھا کہ انہیں اسپتال میں مقررہ وقت سے پہلے داخل کر کے زچگی کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ ذہنی دباؤ بچے پر اثر انداز ہو رہا ہے انہوں نے اپیل کی کہ ذاتی اختلافات ایک طرف رکھے جائیں، چار زندگیاں خطرے میں ہیں لہذا معاملہ ختم کیا جائے۔

    ثانیہ اشفاق نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے وقت عماد وسیم اسپتال میں موجود ہوں تاکہ سب سے پہلے اپنے بیٹے کو گود میں لے سکیں، جو نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ بطور باپ ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معصوم بچے کا کوئی قصور نہیں، اگر آپ آنے کا فیصلہ کریں تو براہِ کرم مجھے آگاہ کر دیں، میرے ساتھ صرف ایک ہی شخص کو اجازت ہوگی اور وہ آپ ہوں گے کوئی اور نہیں، اگر نہیں تو میں اسپتال میں بالکل اکیلی جاؤں گی۔

    اس حوالے سے عماد وسیم نے ثانیہ اشفاق کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے ان کے اہلِخانہ سے دوبارہ رابطہ کیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

    وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج سے قطر کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر وفاقی وزراء بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف دوحہ میں امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے۔ دورے کا مقصد پاک قطر برادرانہ تعلقات اور کثیر جہتی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور معاشی تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں سیاسی روابط، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر تبادلوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا، تجارت، انفراسٹرکچر کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد کے لیے نئے راستے تلاش کیے جائیں گے۔ دونوں رہنما علاقائی اور عالمی سیاسی تبدیلیوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی اعتماد اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

  • پاکستان میں الجزیرہ ٹی وی پر پابندی کی خبریں بے بنیاد قرار

    پاکستان میں الجزیرہ ٹی وی پر پابندی کی خبریں بے بنیاد قرار

    اسلام آباد: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں کہ پاکستان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ پر پابندی عائد کر دی ہے، سرکاری ذرائع کے مطابق بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ حکومتی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں۔

    تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الجزیرہ کے خلاف خاصا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کرنل شہزادہ گلفراز کو شہید کرنے والے عناصر کو "دہشت گرد” کہنے کے بجائے "فائٹرز” (جنگجو) قرار دیا گیا، جس پر پاکستانی عوام کے ایک طبقے نے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا، اس قسم کی اصطلاحات دہشت گردی کے واقعات کی سنگینی کو کم کر کے پیش کرتی ہیں اور شہداء کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری مہم میں بعض صارفین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر ریاستِ قطر کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے گریز کیا جا سکے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کو دہشت گردی جیسے حساس معاملات میں محتاط اور ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔

  • امریکی صدر  کے ریزورٹ میں  گھسنے کی کوشش کرنیوالا مسلح شخص  ہلاک

    امریکی صدر کے ریزورٹ میں گھسنے کی کوشش کرنیوالا مسلح شخص ہلاک

    امریکی صدر ٹرمپ کے ریزورٹ میں گھسنے کی کوشش کرنیوالا مسلح شخص سیکیورٹی کے ہاتھوں مارا گیا-

    امریکا کی سیکیورٹی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ایک مسلح شخص نے’مار‑ا‑لاگو‘ نامی محفوظ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا مار‑ا‑لاگو ریاست فلوریڈا کے پام بیچ میں واقع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رہائشی ریزورٹ اور کلب ہے اس واقعے کے وقت صدر ٹرمپ واشنگٹن ڈی سیمیں موجود تھے۔

    پولیس کے مطابق حملہ آور شمالی کیرولائنا کا رہائشی، 21 سالہ آستن ٹکر مارٹن تھا جسے چند روز پہلے ’گمشدہ‘ بھی قرار دیا گیا تھا اس کے پاس شاٹ گن اور پیٹرو ل/گیس کین تھا وہ رات تقریبا 1:30 بجے شمالی گیٹ کے قریب سیکیور سیکیورٹی بارڈر کے اندر پہنچا، جب ایک گاڑی وہاں سے باہر جا رہی تھی،سیکریٹ سروس کے 2 ایجنٹس اور پام بیچ کے ایک ڈپٹی نے اسے روکنے کی کوشش کی، اس نے گیس کین نیچے رکھا، لیکن شاٹ گن اٹھا لی جس پر سیکیورٹی اہلکارو ں نے اسے فائرنگ کر کے ختم کر دیا، کوئی سیکیورٹی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    راولپنڈی فرنچائز نے اپنے نئے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا

    ایف بی آئی اور سیکریٹ سروس اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حملہ آور نے ایسا کیوں کیا اور اس کا مقصد کیا تھا، سیکیورٹی فورسز نے آس پاس کے رہا ئشیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز فراہم کریں، تاکہ اس واقعے کا مکمل تجزیہ کیا جا سکے۔

    بنگلہ دیشٌ: فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں

  • راولپنڈی فرنچائز نے اپنے نئے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا

    راولپنڈی فرنچائز نے اپنے نئے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا

    پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن سے قبل راولپنڈی فرنچائز نے اپنے نئے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    فرنچائز کو اب ’پنڈیز‘ کا نام دیا گیا ہے،یہ اعلان 25 سیکنڈ کی ایک ویڈیو کے ذریعے کیا گیا پس منظر میں پرجوش موسیقی شامل تھی ویڈیو کے ساتھ پیغام دیا گیا کہ ٹیم بااعتماد، چیلنج قبول کرنے والی اور کھیل کا انداز بدلنے کے لیے تیار ہے، ساتھ ہی فرنچائز نے جلد آفیشل لوگو جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

    فرنچائز کا نام پہلے ملتان سلطانز تھا تاہم سابق مالک علی ترین نے گزشتہ سیزن کے بعد ملکیت کا معاہدہ تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے عارضی طور پر فرنچائز کے معاملات سنبھالے راولپنڈی فرنچائز کو ولی ٹیکنالوجیز نے لاہور کے ایکسپو سینٹر میں ہونے والی نیلامی میں 2 ارب 45 کروڑ روپے میں حاصل کیا تھا اب کمپنی کے مالک احسن طاہر نے فرنچائز کو راولپنڈی سے منسوب کرتے ہوئے نیا نام دینے کا فیصلہ کیا۔

    بنگلہ دیشٌ: فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کا 11واں ایڈیشن 26 مارچ سے 3 مئی تک کھیلا جائے گا، جس میں 8 ٹیمیں حصہ لیں گی اس دوران 2 نئی فرنچائزز بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں ’حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین‘ اور ’سیالکوٹ اسٹالینز‘ شامل ہیں۔

    ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

  • دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بے نقاب ہو گئی

    31جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں میں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل سلیم بلوچ بھی ملوث تھا ،فتنہ الہندوستان اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ،فتنہ الہندوستان کا سرغنہ سلیم بلوچ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے تربت میں جہنم واصل ہوا ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہرنگ لانگو اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دہشتگرد سلیم بلوچ کو لاپتہ قرار دیگر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ،یہ پہلا موقع نہیں جب کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ، ماہ رنگ لانگو اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں،اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں

    مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے تھے.بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمیداور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں جہنم واصل کیا گیا ،2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے ، نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا

    سلیم بلوچ اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کی تصدیق ہے کہ ;نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کر نے کی سازش ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو احساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے،فتنہ الہندوستان ان بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے

    ماہرین کی رائے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سافٹ چہرہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو لاپتہ افراد کے بیانیے سے تحفظ دیتا ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی حاصل ہے، نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے,

  • بنگلہ دیشٌ: فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں

    بنگلہ دیشٌ: فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں

    بنگلہ دیش کی نومنتخب حکومت نے سول اور عسکری انتظامیہ کے اہم عہدوں پر مرحلہ وار ردوبدل کا آغاز کر دیا ہے یہ تبدیلیاں بتدریج کی جائیں گی اور وسیع پیمانے پر اچانک تبادلوں سے گریز کیا جائے گا۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق سول بیوروکریسی کے 2 اعلیٰ ترین عہدوں پر پہلے ہی تبدیلی کی جا چکی ہے، جبکہ اتوار کے روز بنگلہ دیش آرمی کے 8 سینئر عہدوں پر تقرریاں اور تبادلے کیے گئے اسی طرح پولیس کے اعلیٰ عہدوں اور جامعات کے وائس چانسلرز کے حوالے سے بھی آئندہ ہفتوں میں فیصلوں کا امکان ہے۔

    ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق، تبدیلیاں مرحلہ وار کی جائیں گی اور تقرریوں و ترقیوں میں میرٹ، اہلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو بنیاد بنایا جائے گاحکومت کے قیام کے 5 دن کے اندر آرمی ہیڈکوارٹرز نے 8 سینئر عہدوں پر ردوبدل کے احکامات جاری کیے لیفٹیننٹ جنرل مینور رحمان کو چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) مقرر کیا گیا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن، جو آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) تھے، کو وزارتِ خارجہ کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں سفارتی ذمہ داری بطور سفیر سونپی جا سکے میجر جنرل میر مشفق الرحمٰن کو نیا PSO مقرر کیا گیا ہےبریگیڈیئر جنرل قیصر رشید چوہدری کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا جا رہا ہے اور انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا جائے گا۔

    موجودہ ڈی جی ایف آئی سربراہ میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو بھی سفارتی تقرری کے لیے وزارتِ خارجہ بھیجا جا رہا ہےدیگر تقرریوں میں میجر جنرل جے ایم امداد الاسلام کو ایسٹ بنگال رجیمنٹل سینٹر (EBRC) کا کمانڈنٹ اور میجر جنرل فردوس حسن کو 24 انفنٹری ڈویژن کا جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) مقرر کیا گیا ہے اسی طرح نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن میں تعینات دفاعی مشیر بریگیڈیئر جنرل ایم ڈی حفیظ الرحمٰن کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا گیا ہے اور انہیں 55 انفنٹری ڈویژن کا GOC مقرر کیا گیا ہے۔

    سیکریٹریٹ حکام کے مطابق سول انتظامیہ میں اصلاحات حکومت کے متوقع 180 روزہ ایکشن پلان کے تحت کی جائیں گی، جسے آئندہ چند روز میں حتمی شکل دی جائے گی حکومت کی تشکیل سے قبل نئے کابینہ سیکریٹری کی تقرری کی گئی تھی، جبکہ اے بی ایم عبد الستار کو وزیرِاعظم کا پرنسپل سیکریٹری مقرر کیا گیا-

    بنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت میں بھی ردوبدل کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیرِداخلہ صلاح الدین احمد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر جلد تبدیلیاں متوقع ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) بہار العالم، جنہیں عبوری حکومت کے دوران کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا تھا، کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عہدہ خالی ہونے کی صورت میں کئی سینئر افسران زیرِ غور ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگست 2024 کی عوامی تحریک کے بعد فورس اب بھی استحکام کے عمل سے گزر رہی ہے، اس لیے حکومت وسیع پیمانے کی تبدیلیوں کے بجائے کیس ٹو کیس بنیاد پر فیصلے کر سکتی ہے۔

    انتظامی تبدیلیوں کا دائرہ سرکاری جامعات تک بھی پھیل سکتا ہے 2024 میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد متعدد وائس چانسلرز مستعفی ہو گئے تھے اور عبوری دور میں نئی تقرریاں کی گئی تھیں نئی حکومت کے قیام کے بعد بعض موجودہ وائس چانسلرز اپنی مدتِ ملازمت کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

    وزارتِ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اچانک برطرفیوں کے حق میں نہیں، جبکہ ماہرینِ تعلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات کی قیادت سے متعلق فیصلے شفاف اور غیر سیاسی انداز میں کیے جائیں،نئی حکومت کی جانب سے مرحلہ وار اصلاحات کے اس عمل کو ملک میں انتظامی استحکام اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش کی آرمڈ فورسز ڈویژن میں نئے پرنسپل اسٹاف آفیسر نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل میر مشفیق الرحمان نے پرنسپل اسٹاف آفیسر (پی ایس او) کے عہدے کا چارج سنبھال لیا پیر کے روز منعقدہ ایک تقریب میں وزیرِاعظم طارق رحمان نے انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے رینک انسگنیا لگائے تقریب میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل واکر الزمان، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ایم ناظم الحسن اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان بھی موجود تھے۔

    army

    لیفٹیننٹ جنرل میر مشفیق الرحمان 21 جون 1991 کو بنگلہ دیش آرمی کے کور آف انفنٹری میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ اپنے کیریئر کے دوران وہ 24 انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، ملٹری سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل ڈیفنس پرچیز ڈائریکٹوریٹ سمیت کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔