Baaghi TV

Category: باغی ٹی وی الیکشن سیل

باغی ٹی وی کی طرف سے عام انتخابات 2024 کے لیے خصوصی کوریج

  • سابق کمشنر کے الزامات کی تحقیقات،راولپنڈی ڈویژن کے ڈی آر او طلب

    سابق کمشنر کے الزامات کی تحقیقات،راولپنڈی ڈویژن کے ڈی آر او طلب

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی انکوائری کمیٹی نے راولپنڈی ڈویژن کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کو طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی: سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے الزامات کی تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن کی انکوائری کمیٹی کا پہلا اجلاس سینئر ممبر نثار درانی کی زیر صدارت ہوا،ذرائع کے مطابق اجلاس میں راولپنڈی ڈویژن کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کو طلب کر لیا گیا، اس ضمن میں راولپنڈی ڈویژن کے تمام ڈی آر اوز اور ریٹرننگ افسران کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈی آر اوز اور ریٹرننگ افسران کل سے انکوائری کمیٹی کے سامنے بیان قلمبند کروائیں گے، انکوائری کمیٹی اگلے 3 دن روزانہ کی بنیاد پر ڈی آر اوز اور ریٹرننگ افسران کے بیانات قلمبند کرے گی اور 3 دن میں اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کرے گی۔

    پی ٹی آئی آزاد ارکان قومی اسمبلی کے پاس سیاسی جماعت میں شمولیت کیلئے …

    واضح رہے کہ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد کمشنر راولپنڈی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی اور قانونی چارہ جوئی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

    ایکس پاکستان بھر میں تاحال ڈاؤن، لاکھوں صارفین کو مشکلات کا سامنا

    ایران نے نئے میزائل اور فضائی دفاعی نظام متعارف کرا دئیے

  • پی ٹی آئی آزاد ارکان قومی اسمبلی  کے پاس سیاسی جماعت میں شمولیت کیلئے صرف 24 گھنٹے

    پی ٹی آئی آزاد ارکان قومی اسمبلی کے پاس سیاسی جماعت میں شمولیت کیلئے صرف 24 گھنٹے

    پشاور: تحریک انصاف کے نامزد کامیاب آزاد ارکان قومی اسمبلی کے پاس سیاسی جماعت میں شمولیت کیلئے صرف 24 گھنٹے رہ گئے۔

    باغی ٹی وی:الیکشن کمیشن کیجانب سے 8 فروری کے انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، اعلامیہ کے مطابق آزاد امیدواروں کو آرٹیکل 106 کے تحت تین روز میں کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہوگا ،قومی اسمبلی کے ارکان کا گزٹ نوٹیفکیشن ہفتے کو جاری کیا گیا ہے اور نومنتخب ایم این ایز کو پیر کے روز تک کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیا ر کرنی ہوگی۔

    ارکان صوبائی اسمبلی کا اعلامیہ اتوار کو جاری کیا گیا ہے اس لیے ارکان صوبائی اسمبلی کو منگل تک کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کا اعلان کرنا ہوگا تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کے لیے دو روز میں فیصلہ کرنا ہوگا جبکہ ارکان قومی اسمبلی کے پاس صرف 24 گھنٹے کا وقت ہے-

  • سابق کمشنر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتا ہوں،نوتعینات کمشنر راولپنڈی

    سابق کمشنر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتا ہوں،نوتعینات کمشنر راولپنڈی

    راولپنڈی: نو تعینات کمشنر راولپنڈی ڈویژن سیف انور جپہ نے ڈی آر اوز کے ہمراہ پریس کانفرنس کی،جس میں ڈی آر او ز راولپنڈی نے سابق کمشنر لیاقت علی چٹھہ کے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق سنگین الزامات کی تردید کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نو تعینات کمشنر راولپنڈی ڈویژن سیف انور جپہ اور ڈی آر اوز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میں نے آج کمشنر راولپنڈی کا چارج آج لیا ہےحالیہ انتخابات میں کمشنر کا کوآرڈی نیشن کے علاوہ کوئی تعلق نہیں،سابق کمشنر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتا ہوں،حالیہ انتخابات نہایت شفاف اور درست انداز میں ہوئے۔

    ڈی آر او چکوال قرۃ العین کا کہنا تھا کہ انتخابات میں کوئی دباؤ نہیں تھا سابق کمشنر کے الزامات کی تردید کرتے ہیں،ڈی آر او تلہ گنگ خاور بشیر نے کہا کہ ہم نے انتخابات ایمانداری اور الیکشن ایکٹ کے تحت کرائےالیکشن کمیشن کو الزامات کی انکوائری کرکے حقائق سامنے لانے چاہئیں،ڈی آر او راولپنڈی حسن وقار چیمہ کا کہنا تھا کہ ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا ہم نے الیکشن پوری ایمانداری کے ساتھ کرائے۔

    کمشنر کے تانے بانے پی ٹی آئی سے مل رہے ہیں،رہنما پیپلز پارٹی

    کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    قوم نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دئیے،ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے،علی محمد خان

  • الیکشن کے معاملات میں کمشنرز   کا کوئی ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کردار نہیں;کمشنر ڈی جی خان

    الیکشن کے معاملات میں کمشنرز کا کوئی ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کردار نہیں;کمشنر ڈی جی خان

    ڈیرہ غازیخان .الیکشن کے معاملات میں کمشنرز کا کوئی ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کردار نہیں;کمشنر ڈی جی خان ڈاکٹر ناصر محمود بشیر

    کمشنر ڈی جی خان ڈویژن ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے کمشنر راولپنڈی کی پریس کانفرنس کے معاملہ پرپریس ریلیزجاری کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کے معاملات میں کمشنرز کا کوئی ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کردار نہیں،‏ کمشنر نہ تو ڈی آر او، آر او یا پریذائیڈنگ آفیسر ہوتا ہے اور نہ ہی الیکشن کے کنڈکٹ میں اس کا کوئی براہ راست کردار ہوتا ہے

    کمشنرز روزمرہ کے انتظامی امور نبھاتے ہیں،الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی انتخابات کرائے جاتے ہیں،ریجنل اور ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ڈپٹی کمشنرز نے بطور ڈی آر او اور دیگر افسران نے بطور آر او ذمہ داری نبھائی

    ڈی آر اوز،آر اوز اور پریذائیڈنگ افسران سمیت انتخابی عملہ نے قانون اور ضابطہ کے مطابق آزادانہ فرائض انجام دئیے

  • سیالکوٹ:پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کا احتجاجی مظاہرہ

    سیالکوٹ:پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کا احتجاجی مظاہرہ

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (شاہدریاض کی رپورٹ ) کچہری چوک میں انتخابات میں برترین دھاندلی کے خلاف پُرامن احتجاج مظاہرہ کیا گیا ،پاکستان تحریک انصاف کی این اے 71 سے امیدوار ریحانہ ڈار ، این اے 70 سے امیدوار صاحبزداہ حامد رضا ،پی پی 47 مہر کاشف ، پی پی 48 روبا ڈار ، پی پی 44 سعید احمد بھلی ،پی پی 45 عمر جاوید گھمن کی جانب سے عظیم الشان ریلی نکالی گئی اور کچہری چوک میں پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔سیالکوٹ کی عوام پارٹی کارکنان اور آئی ایل ایف کے وکلاء کی بڑی تعداد میں شرکت ۔

    پاکستان تحریک انصاف کی این اے 71 سے امیدوار ریحانہ ڈار صاحبہ این اے 70 سے امیدوار صاحبزداہ حامد رضا پی پی 47 مہر کاشف ، پی پی 48 روبا ڈار ، پی پی 44 سعید احمد بھلی پی پی 45 عمر جاوید گھمن کی جانب سے عظیم الشان ریلی نکالی گئی اور کچہری چوک میں پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔
    سیالکوٹ کی عوام پارٹی کارکنان اور آئی ایل ایف کے وکلاء کی بڑی تعداد میں شرکت ۔

    بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر ملک بھر کی طرح سمبڑیال میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کا قومی انتحابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ،حلقہ این اے 74 سے نومنتحب ایم این اے برگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا گیا.

    بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی احتجاجی کال پر ملک بھر کی طرح سمبڑیال میں بھی پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں ، کارکنان نے قومی انتحابات میں دھاندلی کے خلاف تحصیل کمپلیکس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس موقع پر الیکشن کے دوران حلقہ پی پی 52 اور حلقہ پی پی 53 میں دھاندلی کے خلاف متعلقہ آر او کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرہ بازی کی۔

    احتجاجی مظاہرہ میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دونوں حلقوں سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں فاخر نشاط گھمن اور بیرسٹر جمشید غیاث سمیت سابق صدر بار ایسوسی ایشن سمبڑیال صابر عالم بھٹی ایڈوکیٹ ، زبیر چیمہ ایڈوکیٹ و دیگر کا کہنا تھا کہ حلقہ پی پی 52 اور پی پی 53 میں ہماری جیت کو دھاندلی سے شکست میں تبدیل کیا گیا ،

    الیکشن کمیشن ہماری جیتی دونوں سیٹیں ہمیں واپس کرے ، احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پورے ملک سے 186 سیٹوں پر اکثریت سے جیتی ہوئی ہے جبکہ منصوبہ بندی کے تحت ہمارا ووٹ چوری کرکے ہرایا گیا ہے ، ہمارا لیڈر کل بھی عمران خان تھا اور آج بھی ہے ، ہمارا الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ ہماری دونوں صوبائی حلقوں سے جیتی سیٹیں ہمیں واپس کی جائیں ۔

    مظاہرین نے اس موقع پر حلقہ این اے 74 سے نومنتحب ایم این اے برگیڈیئر (ر) محمد اسلم گھمن کے گزشتہ دنوں اغواء کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری بازیابی کا مطالبہ بھی کیا۔

  • ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    کمشنر راولپنڈی نے عام انتخابات کے ہونے والی دھاندلی کو بے نقاب کر دیا

    کمشنر راولپنڈی نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے اور عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا ، کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ مجھے اور چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کو کچہری چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے ،میں نے آج صبح فجر کی نماز کی بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی،پھر سوچا کیوں‌نہ چیزیں عوام کے سامنے رکھوں، میں کرب سے گزر رہا ہوں، بیورو کریسی سے گزارش ہے کہ سیاسی لوگ جو شیروانیاں سلوا کر غلط کام کر رہے ہیں انکے کے لئے کوئی غلط کام نہ کریں،میں نے پوری قوم کے ساتھ ظلم کیا ہے،میں اپنے ریٹرننگ افسران سے معافی مانگتا ہوں ،جو لوگ رات ہار رہے تھے ان کو ہم نے صبح جتوا دیا, میں تمام بیوروکریٹ کو کہتا ہوں کہ کوئی بھی غلط کام نہ کریں,میں غلط کام کرنے پر اپنے اپکو پولیس کے حوالے کرتا ہوں, ہم نے 13 امیدواروں کو غیر قانونی طور پر جتوایا ہے, مجھے الیکشن کروانے کے لیے تعینات کیا گیا لیکن میں شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہا، میں نے لوگوں کو 70 ہزار ووٹوں سے جتوایا، مجھے جینے کا کوئی حق نہیں،اس وقت بھی راولپنڈی میں جعلی مہریں لگائی جارہی ہیں،مجھے غلط کام کرنے کے لیے شدید دباو ڈالا گیا، میں قوم سے معافی مانگتا ہوں،مجھے راولپنڈی کے کچہری چوک میں سزائے موت دی جائے،میرے ساتھ الیکشن کمشنر اور دیگر کو بھی سزائیں دی جائیں،میں غلط کام کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتا ہوں، چیف الیکشن کمشنر اس میں ملوث ہے، میں اس ملک کو توڑنے میں حصہ نہیں بن سکتا،

    کمشنر راولپنڈی کا مزید کہنا تھا کہ میں نے پنڈی کے لئے چودہ چودہ سولہ سولہ گھنٹے کام کیا، رنگ روڈ بنایا، ڈیم بنائے، ہولی فیملی بنائی، معذوروں کے لئے سنٹر بنائےملک کی بہتری کے لئے کام کرتا رہا ہوں لیکن آخر میں جو ملک کے پیٹ میں چھرا گھونپا ہے وہ سونے نہیں دیتا، جو ظلم کیا اسکی سزا ملنی چاہئے

    کمشنر راولپنڈی آر او تھے نہ ڈی آر او، جنرل ریٹائرڈ فیض سےقریبی تعلق،اہم انکشاف
    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے بارے میں انکشافات پر سینئر صحافی حسن ایوب خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر راولپنڈی نہ تو آر او تھے اور نہ ہی ڈی آر او،سات مارچ کو انکی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے،جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہیں

    hassan ayoub

    صحافی غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ کمشنر راولپنڈی نے مبینہ دھاندلی پر استعفی دینے کے ساتھ ساتھ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان پر بھی دھاندلی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا،معاملہ کچھ تو گڑبڑ لگتا ہے۔۔۔۔ اور شدید۔۔۔اس معاملے کو صرف میڈیا کی زینت بننے کی جائے مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور پورا سچ قوم کے سامنے آنا چاہئیے۔۔۔

    ایک اور ٹویٹ میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ، تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ایم این اے احمد چٹھہ کے کزن ہیں۔

    کمشنر راولپنڈی اور ملک ریاض کی بھی قربت سامنے آ گئی،بہو کی برطانوی شہریت،بیٹا ہاؤسنگ سوسائٹیز کا مالک
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر آر اے شہزا د نے کمشنر راولپنڈی بارے اہم انکشافات کیے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ملک ریاض پانچ سو ارب کے لیے ایکٹو ہے ،کمشنر راولپنڈی بارے کچھ حقائق جاننے بہت ضروری ہیں ،لیاقت علی چھٹہ دس دن میں ریٹارڈ ہونے والا ہے اسے ملک ریاض کی قربت کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور شہباز دور میں زرداری کی سفارش پر ہاوسنگ سوسائٹیز کو کنٹرول کرنے کے لیے لایا گیا تھا اس سے سگے بھائی کو اس نے فیصل آباد میں دو ہاوسنگ سوسائٹیز بنا کر دی ہیں غور کیجئے اس نے چیف جسٹس کا نام لیا ہے،اب آپ سوچ لیں یہ سارا ڈرامہ کہاں سے ڈائریکٹ ہوا

    ایک اور ٹویٹ میں آر اے شہزاد کا کہنا تھا کہ یہ چند دن پہلے سرگودھا تھا جہاں ٹھہرا جو باتیں کئیں سب کا ریکارڈر میرے پاس موجود ہے اس کے بھائی کی فیصل آباد میں دو ہاوسنگ سوسائٹیز ان کی تحقیقات کرا لو نشاندہی میں نے کر دی مگر بڑا سوال ،یہ پودے شہباز شریف کی حکومت کے لگائے ہیں ،لیاقت چھٹہ کی بہو برطانوی شہری اور تحریک انصاف کے لندن مظاہروں میں شریک ہوتی رہی ہے گزشہ ہفتے لیاقت چٹھہ نے اپنے لندن پلٹ بیٹے کی لاہور میں برطانیہ کی شہری لڑکی سے دھوم دھام سے شادی کی، باضمیر افسر نے شادی پر کروڑوں روپے خرچ کیا، الرحمان ہاؤسنگ کا مالک میاں مشتاق اور تحریک انصاف کا میاں اسلم اقبال شادی کے اخراجات ادا کرنے والوں میں پیش پیش تھے، تب ضمیر کہاں تھا؟لیاقت چٹھہ کا بیٹا عمار چٹھہ درجن بھر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا مالک ہے، گوجرانوالہ میں بطور ڈی جی ڈویلپمنٹ اتھارٹی بیٹے کی غیر قانونی سوسائٹیوں کی منظوری دی، بیٹا الرحمان ڈویلپرز لاہور والوں کا بھی پارٹنر ہے، کیا کوئی پوچھے گا کہ تحصیلدار بھرتی ہونے والے ایک کرپٹ افسر کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے؟

    تحقیقات ہوں گی کہ اس شخص کا دماغی توازن درست ہے یا نہیں،کمشنر کے عہدے تک کیسے پہنچا،نگران وزیر اطلاعات پنجاب
    نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر کہاہے کہ کمشنر راولپنڈی علی چٹھہ نے جو باتیں کی ہیں وہ نہ تو اعتراف ہے اور نہ ہی انکشاف ہے ، یہ دعویٰ اور الزام ہے جس کا مقصد الیکشن اور حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے ، سب سے پہلے تحقیقات ہوں گی کہ اس شخص کا دماغی توازن درست ہے یا نہیں ، اس کیفیت کا شخص کمشنر کے عہدے تک کیسے پہنچا۔میں بطور ترجمان پنجاب حکومت ان الزامات کی تردید کرتاہوں ، ،انہوں نے صرف الزام لگائے کوئی ثبوت پیش نہیں کئے ، ایک شخص جو خود کشی کی بات کررہاہے وہ دماغی طور پر مفلوج ہو سکتا ہے ، یہ کسی جنونی کی گفتگو ہے ، یہ 13 مارچ کو ریٹائر ہونے جارہاہے ، اس سے چند ہفتے پہلے ایک سیاسی سٹنٹ کھڑا کر رہے ہیں اور سیاسی کیریئر کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ، اگر کوئی رو رہا تھا تو میڈیا نے اسے روتے ہوئے نہیں دیکھا، یہ جوباتیں کر رہے ہیں وہ کوئی نارمل آدمی نہیں کر سکتا، وہ کمشنرکے عہدے پر تعینات ہیں ، اگر یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو انہوں نے استعفیٰ دینا تھا ، ان کو کسی نے مجبور کیا تھا تو الیکشن والے دن کیوں نہیں باہر آ گئے اور کہتے کہ میں اس دھاندلی کا حصہ نہیں بن سکتا، یہ دس دن بعد کیوں یاد آیا، اگر انہوں نے کسی سے الیکشن جتوانے کے وعدے کیئے تھے ، اگر ان کی اپنی سیاسی وابستگی یا عزائم تھے جو کہ پروان نہیں چڑھ سکے ،تو یہ آج اس کا غصہ الزامات لگا کر نکال رہاہے ،حکومت اور الیکشن کی ساکھ متاٖثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحقیقات ہوں گی، جو بندہ کہہ رہاہے کہ مجھے راولپنڈی کے کچہری چوک میں سزائے موت دی جائے، خود کشی کرنے کی بھی کوشش کی، یہ الزامات ایسے ہی ہیں جیسے مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے ۔

    الیکشن کمیشن انکوائری کرائے گا، کمشنر ڈی آر او، آر او یا پریذائیڈنگ آفیسر نہیں ہوتا ،الیکشن کمیشن
    کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر الیکشن کمیشن کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سےکہا گیا ہے کہ کسی بھی ڈویژن کا کمشنر ڈی آر او، آر او یا پریذائیڈنگ آفیسر نہیں ہوتا اور نہ ہی کمشنر کا الیکشن کے کنڈکٹ میں کوئی براہ راست کردار ہوتا ہے ، الیکشن کمیشن کے کسی عہدیدار نے الیکشن نتائج کی تبدیلی کیلئے کمشنر راولپنڈی کو کبھی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں ،الیکشن کمیشن اس معاملے کی جلد از جلد انکوائری کرائے گا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ جو ڈی آر او کی فہرست تھی اس میں راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کا نام حسن وقار چیمہ ہے ،

    کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کو گرفتار نہیں کیا، پولیس کی تردید
    دوسری جانب کمشنر راولپنڈی کے انکشافات و الزامات کے بعد پولیس نے کاروائی کی ہے،سی پی او راولپنڈی نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کو گرفتار کرلیا ہے،کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کو گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، تاہم بعد ازاں راولپنڈی پولیس نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کو گرفتار کرنے کی تردید کردی ہے،ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کو گرفتار نہیں کیا گیا، ان کی گرفتاری سے متعلق خبر کی تردید کرتے ہیں۔

    کمشنر راولپنڈی کے الزامات، نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم
    کمشنر راولپنڈی کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات،وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نےسخت نوٹس، لے لیا،الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا،وزیراعلی محسن نقوی نے الزامات کی انکوائری کے لئے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ الزامات کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے گی۔کمشنر راولپنڈی کے الزامات کے حوالے سے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • اسلام آباد کی تین نشستوں کے لئے الیکشن ٹربیونل قائم

    اسلام آباد کی تین نشستوں کے لئے الیکشن ٹربیونل قائم

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی تینوں نشستوں سے متعلق کیسز کی سماعت کے لیے الیکشن ٹریبونل قائم کردیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمور جہانگیری کو الیکشن ٹربیونل نامزد کر دیا گیا،اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن ٹریبونل کی نامزدگی کی منظور دے دی،رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے نامزدگی الیکشن کمیشن کو بھجوا دی

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نےاسلام آباد کے تین حلقوں کے انتخابی نتائج کے خلاف درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن میں درخواستیں زیرالتواء ہوتے ہوئے ہائیکورٹ کی مداخلت مناسب نہیں، درخواست گزاروں نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن واپس لینے کی استدعا کی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن درخواستوں پر فیصلہ کریگا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ فیصلے کے مطابق قانون اپنا راستہ خود بنائے گا،مناسب رہے گا کہ الیکشن کمیشن درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ کرے،الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس سے پہلے درخواستوں پر فیصلہ کرے،درخواستیں منظور ہونے کی صورت میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفیکیشنز واپس لیے جائیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ: سلمان اکرم راجہ کی عون چوہدری کے کامیابی کے نوٹیفکیشن کے قبل از وقت اجراء کیخلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق فارم 49، 13 فروری کو جاری ہوا جبکہ عون چوہدری کی جیت کا نوٹیفکیشن 12 فروری کو ہی جاری کر دیا گیا، الیکشن کمیشن لا افسر کی جانب سے اپنی غلطی تسلیم کرلی گئی،الیکشن کمیشن کے لا افسر نے موقف اپنایا کہ عون چوہدری کی جیت کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا،لا افسر نے بتایا کہ سلمان اکرم راجہ کی دیگر دو درخواستیں بھی الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہیں، لا افسر کے مطابق سلمان اکرم راجہ کی دیگر درخواستوں پر بھی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا، لا افسر الیکشن کمیشن کے بیان پر درخواست گزار سلمان اکرم راجہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، عدالت سلمان اکرم راجہ کی درخواست کو نمٹاتی ہے

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عون چودھری نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی لیکن اس کا مستقبل کیا ہے، اگر سیٹ نہیں ملتی تو مخدوش مستقبل ہے، یہ الیکشن کافی لوگوں کی سیاست کا آخری الیکشن ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس وقت سنگل لارجسٹ پارٹی ہے، اس میں کوئی شک نہیں،دھاندلی کے الزامات بڑے مضبوط ہیں، لوگ ان کی بات پر یقین کر رہے ہیں،امریکہ، اقوام متحدہ بھی کہہ رہے ہیں، گارڈین نے بھی لکھا،پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیا کو دھاندلی بارے ویڈیو دکھائی گئیں،میں مانتا ہوں کچھ میں شاید ہوا ہو، میں سمجھتا ہوں ن لیگ کو بھی چاہئے ،باقیوں کو بھی چاہئے کہ پی ٹی آئی حکومت بنائے ووٹ دے دیں گے تاکہ افراتفری کی جو صورتحال آئی ہوئی ہے وہ ختم ہو، لوگوں‌کو پتہ چلے کہ کوئی جان بوجھ کر مارنے کی کوشش نہیں کر رہا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جو مرضی کہیں، شاندانہ گلزار کو میں نہیں جانتا، وہ کہتے ہیں کہ 55 سیٹیں پنجاب سے چھینی گئیں، اس طرح تو ہر ایک سے مینڈیٹ چوری ہوا، 36 ملین ووٹ ملے یا نہیں یہ کاؤنٹ کر کے بتا سکتاہوں ،یہ ایک کلیم ہے،اب انہو ں نے دوبارہ لابنگ فرمز کو متحرک کیا ہے کہ میڈیا پر یہ سب کچھ آئے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا کے بیان کی تردید ہوئی ہے، باجوہ صاحب کہتے ہیں کہ مولانا صاحب کو حقائق درست کرنے چاہئے، کیونکہ فیض اسوقت ڈی جی آئی نہیں تھے، جے یو آئی کہتی ہے کہ دو بار مولانا کی ملاقات ہوئی، اب مولانا کہتے ہیں کہ میرے کل کے بیان کو اگنور کر دیا جائے، کیسے اگنور کر دیں، آپ اتنے بڑے لیڈر ہیں، اب پنڈورا باکس کھل گیا،پی ٹی آئی نے اس انٹرویو سے بہت کھیلا ہے،کل میں نے ایک بات کہی تھی کہ بہت سے سوالات اٹھتے ہیں جو اسوقت اینکر کو مولانا سے پوچھنے چاہئے تھے لیکن نہیں پوچھے، میں ہوتا تو وہیں سوال پوچھتا اور ایک کلیرٹی آ جاتی، اب زبان کا پھسلنا، یہ بیکا ر باتیں ہیں، انہوں نے ایک انٹرویو میں نہیں دو انٹرویو میں باتیں کیں، اس کے بعد وہ پی ٹی آئی والوں سے ملے ، وہ انٹرویو کرنے والے کمزور تھے اگر کوئی تگڑا منصور علی خان، شاہزیب خانزادہ ،مہر بخاری،کاشف عباسی یا میں ہوتے تو ان سے سوال کرتے، اس بات سےنکلنے نہ دیتے، اب مولانا کے بیانات کی تحقیقات کیا ہونی ہیں، جب وہ بیان سے ہی پھر گئے ہیں

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی سپیکر قومی اسمبلی، سلیم مانڈوری والا چیئرمین سینیٹ اور آصف زرداری صدر ہوں گے، راجہ پرویز اشرف بھی سپیکر کے امیدوار ہیں تا ہم فوقیت یوسف رضا گیلانی کو ملے گی.

  • محسن داوڑ کا این اے 40 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا مطالبہ

    محسن داوڑ کا این اے 40 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا مطالبہ

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 40 کے امیدوار محسن داوڑ نے الیکشن کمیشن میں اپنےحلقے کے انتخابات کالعدم قرار دیکر دوبارہ انتخاب کروانے کی درخواست جمع کروادی

    الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی درخواست میں محسن داوڑ نے مؤقف اپنایا کہ این اے 40 سے کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا جائے، 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران ان کے حلقے کے کچھ پولنگ اسٹیشنوں سے عسکریت پسندوں نے پولنگ مواد چھینا، شرپسندوں نے 2 پولنگ اسٹیشنوں کو پولنگ کے دن بم سے اڑا دیا، 14 پولنگ اسٹیشنوں پر الیکشن عملے سے پولنگ مواد چھینا گیا اور ان افراد نے فارم 45 پر صفر ووٹ لکھ دیا جبکہ کچھ مقامات پر شرپسندوں نے پولنگ مواد کو آگ بھی لگا دی تھی

    محسن داوڑ نے این اے 40 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا ہے

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

  • مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل سے پاکستان کی سیاست نے بہت بڑی قلا بازی کھائی ہے، اس وقت پاکستان کا مستقبل کمزور نظر آ رہا ہے، لوگ طعنے دیتے ہیں کل بھی ایک صاحب سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے جب میں نے جواب دیا تو کہنے لگے اللہ بہتر کرے گا، اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے،کہ فیصلے خود کرنے ہیں ہم اپنی ناکامیوں‌کو اللہ پر نہیں ڈال سکتے وہ ہمارے ہی کئے ہوئے فیصلے ہیں جب ہم قدرت کے نظام سے اکڑ دکھاتے ہیں تو پھر جو ہمارے ساتھ جو ہوتا ہے وہ ہوتا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل مولانا فضل الرحمان ایک دم بھڑک اٹھے، دو ایسے انٹرویو دیئے جو ابھی تک کسی کو سمجھ نہیں آ رہے،میں بیک گراؤنڈ بتاتا ہوں اس میں نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ، کچھ ججز بھی شامل ہیں، مولانا نے یہ انٹرویو دینے کے لئے بہت لمبا انتظار کیا، میں مولانا کو ملا ہوا ہوں،وہ بہت ہی زیرک سیاستدان ہیں، ٹھنڈے مزاج کے ہیں، کبھی گالم گلوچ نہیں سنی ہو گی، بڑی سے بڑی بات میں بھی انکی دھمکی شائستہ زبان میں ہوتی ہے، وہ محاورتا جملے استعمال کرتے ہیں لیکن ایسی کی تیسی یا خواتین پر گھٹیا کلمات استعمال نہیں کرتے، اب وہ شخص جس پر ہمیشہ سے لیبل رہا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے وہ جب اتنا پھٹ جائے اور ہر کشتی جلا دے، انہوں نے کہا کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں، اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں، یہ طویل کہانی ہے، دو سال پہلے شروع ہوئی، اسکا انجام بہت بدترین صورتحال میں ہو گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری اشرافیہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جن کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں،اور وہ ہر شعبے میں ہیں، اور انکا جو مخالف شعبہ ہے، 99 فیصد وہ احساس محرومی کا شکار ہے، مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کو اب امید کی کرن نہیں نظر آ رہی، مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کے خلاف مہم چلائی، بقول انکے وہ مہم کسی کے کہنے پر چلائی، مولانا عمران خان کے اختلاف پہلے دن سے ہی ہیں، مولانا یہودی ایجنٹ کہتے رہے تو عمران خان کرپٹ مولانا کہتے رہے، میری مولانا، عمران خان دونوں سے ملاقات ہوتی رہی، دونوں سے بات ہوئی، اب حالات ایسے ہو گئے کہ دونوں ساتھ بیٹھ رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے مطابق نواز شریف نے آنے سے پہلے بڑی شرائط منوائیں، کل کھل کر بات کی، ورنہ نواز شریف آنے کو تیار نہیں تھے، چار سال وہ باہر تھے اور ایک رات بھی ہسپتال میں نہیں رہے، ڈاکٹر عدنان ٹویٹر پر صرف انکی صحت بارے بتاتے پھر وہ غائب ہو گئے، میاں صاحب کے گارنٹر شہباز تھے کسی عدالت نے بلا کر نہیں پوچھا کہ مجرم کہاں ہے، چار سال بعد ڈیل ہوئی تو واپسی پر فقیدالمثال استقبال کیا گیا، اگلے ہی دن انکے کیسز ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں عدالتوں سے ریلیف مل جاتا ہے،مولانا کا خیال ہے کہ یہ سب اسلئے ممکن ہوا کہ پی ڈی ایم کی سربراہی وہ کر رہے تھے اور انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور میاں صاحب کے اختلافات ختم کرنے میں کردار ادا کیا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میں خلاف تھے ، مولانا سب کو ٹھنڈا کر کے رکھتے تھے، مولانا سے بھی بڑے وعدے ہوئے، صدر کے لئے بھی وعدہ کیا گیا کہ صدر پاکستان بنائیں گے، پھر ہوا یہ کہ نواز شریف نے دو لسٹیں دیں، میں نے وی لاگ میں رپورٹ کیا تھا،نواز شریف نے ایک لسٹ ان لوگوں کو دی جن کو ہر حال میں جتوانا ہے، ایک جن کو ہر حال میں ہروانا ہے، اس لسٹ میں سرفہرست مولانا کا نام تھا ، جب پی ڈی ایم کی حکومت تھی تو طے تھا کہ مل جل کر الیکشن لڑیں گے تا کہ پی ڈی ایم کے زیادہ لوگ اوپر آ سکیں، لیکن الیکشن کے وقت پر مولانا کو جھنڈی دکھا دی گئی، نواز شریف انکو ملنے بھی نہیں گئے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ، جے یو آئی الائنس میں چلے گئے تو انکو مخصوص سیٹیں بھی مل جائیں گی، مولانا صدر کے امیدوار بھی ہوں گے، پی ٹی آئی کے پاس سوشل میڈیا فورس مولانا کے پاس ورک فورس، انہوں نے سوچ لیا کہ حکومت کو چلنے نہیں دیا، کمزور حکومت قرضے کیسے دے گی؟ سب کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے الیکشن صحیح نہیں ہوئے، سب کو تشویش ہوئی، اگر افرا تفری بڑھ گئی تو گیس کے بل ابھی نہیں دیئے جا رہے، بجلی کےبل بھی اگلے مہینے بڑھ جائیں گے،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری