Baaghi TV

Category: جنگ و امن

  • افغاستان میں طاقت کے زور پر اقتدار میں آنیوالی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جائے گا     امریکا

    افغاستان میں طاقت کے زور پر اقتدار میں آنیوالی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جائے گا امریکا

    امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے طالبان کوکہا کہ طاقت کے زور پر کابل حاصل کرنے کے بعد اس بات کی ضمانت ہے کہ انہیں اچھوتوں کے طور پر دیکھا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق افغانستان امن عمل کے لیے امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد دوحہ پہنچے اور طالبان کو بتایا کہ میدان جنگ میں فتح حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ طاقت کے زور پر کابل حاصل کرنے کے بعد اس بات کی ضمانت ہے کہ انہیں اچھوتوں کے طور پر دیکھا جائے گا۔

    انہوں نے اور دیگر نے امید ظاہر کی کہ وہ طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے راضی کر لیں گے۔

    طالبان ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ملک کے 34 میں سے سات صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔

    مزار شریف میں بھی بھارتی قونصل خانہ بند، قونصل جنرل کی بھارتی شہریوں کوعلاقہ چھوڑنے کی ہدایت

    امریکی محکمہ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ زلمے خلیل زاد کا قطر میں مشن افغانستان کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر مسترکہ بین الاقوامی ردعمل مرتب کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے زلمے خلیل، طالبان پر عسکری جارحیت روکنے اور سیاسی تصفیے کے لیے مذاکرات کرنے پر زور دیں گے، سیاسی تصفیہ ہی افغانستان میں استحکام و ترقی کا راستہ ہے۔

    دوسری جانب طالبان کے ملٹری چیف کی جانب سے اپنے جنگجوؤں کو جاری آڈیو پیغام میں زیر قبضہ علاقوں میں افغان فورسز اور حکومتی عہدیداران کو کوئی نقصان نہ پہنچانے کا حکم دیا گیا۔

    یہ ریکارڈنگ طالبان کے دوحہ میں ترجمان محمد نعیم نے ٹوئٹر پر شیئر کی تقریباً 5 منٹ کی آڈیو میں طالبان کے سابق امیر ملا محمد عمر کے بیٹے محمد یعقوب نے جنگجوؤں کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ حکومت اور فرار سیکیورٹی عہدیداران کے لاوارث گھروں سے دور رہیں، بازار کھلے رہنے دیں اور بینکوں سمیت تجارتی مراکز کی حفاظت کریں۔

    طالبان کی پیش قدمی کے بعد فرار ہونے والے چند شہریوں نے کہا کہ جنگجوؤں نے خواتین پر جابرانہ پابندیاں عائد کردی ہیں اور اسکول نذر آتش کر دیے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں پھانسی دیے جانے اور طاقت کے استعمال، زیر قبضہ علاقوں میں گھروں، اسکولوں اور کلینکس کو تباہ کرنے کی رپورٹس ملی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے يونيسف نے بھی افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغان مسلح گروہ لڑائی ميں بچوں کو شامل کر رہے ہيں اورگزشتہ 3 روز کی لڑائی ميں 27 بچے ہلاک اور ايک سو 26 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

    افغانستان کے عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہوگا امریکی صدر

    ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر کہا کہ افغانستان کا دفاع کرنا افغان افواج کی ذمہ داری ہے 31 اگست کو افغانستان میں ہمارا فوجی مشن ختم ہوجائے گا اس کے بعد افغانستان کی مستقبل کا فیصلہ خود افغان عوام کو کرنا ہے میں امریکیوں کی ایک اور نسل کو 20 سالہ جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔

    پينٹاگون کے ترجمان جان کربی نے بھی افغان فوج کی مدد سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جاری صورتحال سے امریکا کو بہت تشویش لاحق ہے افغان فوج کے پاس طالبان سے جنگ کرنے کی پوری صلاحیت ہے یہ ان کی اپنی فوج ہے یہ ان کے اپنے صوبائی دارالحکومت ہیں، یہ ان کے اپنے لوگ ہیں جن کا دفاع کرنا ہے اور یہ سب ان کی قیادت پر آ جاتا ہے کہ وہ اس موقع پر کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں ہمارے کمانڈر انچيف نے ہميں نيا مشن سونپا ہے اور وہ يہ کہ ہم اس مہينے کے آخر تک افغانستان سے نکل جائيں گے۔

    پاکستان کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیاب: کل سے چمن اسپین بولدک بارڈر کھول دیا…

  • افغان حکومت کی90 فیصد علاقے پرطالبان کےقبضےکی تردید

    افغان حکومت کی90 فیصد علاقے پرطالبان کےقبضےکی تردید

    کابل: افغان حکومت کا کہنا ہے کہ 90 فیصد علاقے پر طالبان کے قبضے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترجمان افغان وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے کہا ہے کہ ملک کے 90 فیصد علاقے پر طالبان کے قبضے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے جبکہ اب بھی افغانستان کے بیشتر علاقے ہمارے کنٹرول میں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں پر افغان سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے اور طالبان کا دعویٰ پروپیگنڈا ہے دوسری جانب جھڑپوں کے دوران افغان فورسز نے مزید 152 طالبان مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    جبکہ پییٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ملک کے تقریباً نصف یعنی 4 سو اضلاع طالبان کے قبضے میں ہیں جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی 90 فیصد سرحد پر طالبان کا کنٹرول ہے، جس میں تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ایران کے ساتھ سرحدی علاقے شامل ہیں۔

    افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی فضائی حملوں کے ذریعے افغان فورسز کی مدد کی جا رہی ہے تاہم امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ وہ فضائی حملوں کے حوالے سے تفصیلات نہیں مہیا کر سکتے۔

  • 11 دن کی خونریزی کے بعد اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی ہو گئی

    11 دن کی خونریزی کے بعد اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی ہو گئی

    فلسطین میں 11 دن کے حملوں ، اور خونریزی کے بعد اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی ہو گئی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق آج صبح 4 بجے پا کستانی وقت کے مطابق جنگ بندی پر عملدرآمد کا آغا ز ہوگیا اور اب تک کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

    مصری وفود جنگ بندی پرعملدرآمد کی نگرانی کریں گے اور مصر کے دو وفود کو تل ابیب اورفلسطینی علاقوں میں روانہ کیاجائےگا۔

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے امریکہ کی طرف سے شدید دباؤ کے بعد جنگ بندی کا فیصلہ کیا جبکہ اسرئیل کی سکیورٹی کابینہ نے غیرمشروط جنگ بندی کی منظوری دی تھی۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ 11 روز کے دوران اسے غزہ میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں ۔

    دوسری جانب حماس نے جنگ بندی کے بعد جیت کا اعلان کیا ہے جبکہ غزہ میں ہزاروں افراد نے جیت کا جشن بھی منایا۔

    واضح رہےکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگ میں اب تک 240 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں شہداء میں 65 بچے اور 39 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 1900 افراد زخمی ہیں1 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

    جبکہ حماس کے حملوں میں 12 اسرائیلی بھی مارے گئے۔

    اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ اجتماعی اقدام کی طاقت ہے دعا ہے کہ جنگ بندی فلسطین میں امن کی جانب پہلا قدم ہو۔

  • اسرائیلی فضائی حملے کی جوابی کاروائی: حماس کا’تل ابیب اور اسکے مضافاتی علاقوں پر 130 میزائلوں سے حملہ

    اسرائیلی فضائی حملے کی جوابی کاروائی: حماس کا’تل ابیب اور اسکے مضافاتی علاقوں پر 130 میزائلوں سے حملہ

    حماس کی جوابی کارروائی میں تل ابیب کی طرف 130 راکٹ فائر

    باغی ٹی وی : حماس کے مطابق غزہ میں ایک 12 منزلہ عمارت کو تباہ کرنے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے کی جوابی کارروائی کرتے ہوئے آج شب روز اسرائیلی شہر تل ابیب کی طرف انہوں نے 130 راکٹ فائر کیے ہیں۔

    حماس کے مسلح ونگ ، قاسم بریگیڈ نے خبردار کیا تھا کہ وہ غزہ کے ساحل کے قریب ٹاور پر حملے کی جوابی کارروائی کرے گا۔

    تصدیقی بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس نے ’تل ابیب اور اس کے مضافاتی علاقوں پر 130 میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔‘

    مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملوں کے بعد سے کئی دنوں سے بیت المقدس میں کشیدگی جاری ہے اور اسرائیل نے غزہ میں حماس کے اہداف پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اپنے فوجیوں کے رویے کا دفاع کرتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ انہوں نے پر تشدد مظاہرین کے ساتھ مناسب اقدامات سے نمٹا۔

    ‏غزہ سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر فائر کیے جانے والے راکٹ

  • یر وشلم :سیکیورٹی فورسزاور فلسطینیوں میں تصادم اسرئیل نے فلسطینیوں کے لئے دمشق گیٹ کھول دیا

    یر وشلم :سیکیورٹی فورسزاور فلسطینیوں میں تصادم اسرئیل نے فلسطینیوں کے لئے دمشق گیٹ کھول دیا

    اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں رمضان کے روایتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق اسرائیلی پولیس نے یروشلم میں فلسطینیوں کو دمشق گیٹ کے باہر جمع ہونے اور رمضان میں عبادت کرنے پر پابندی لگا دی تھی مشرقی یروشلم میں دمشق گیٹ کے باہر واقع پلازہ وہی حصہ ہے جس پر اسرائیل نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے میں ضم کر لیا ہے۔ تاہم فلسطینی بہت پہلے سے رمضان کے مقدس مہینے میں روایتی طور پر یہاں افطار اور عبادت کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں۔

    اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس بار فلسطینیوں کے اس علاقے میں اجتماعات پر پابندی عائد کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں اسی لیے رمضان کے شروع ہوتے ہی رات کے دوران سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ دمشق گیٹ کے باہر پلازہ کے پاس لوگوں کے اجتماع پر پابندی سے زبردست کشیدگی پائی گئی تھی۔

    اس کی وجہ سے مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں میں زبردست غصہ تھا۔ اس کے خلاف پہلے احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جس میں بڑی تعداد میں فلسطینی اور بعض پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد میں غزہ کے علاقے سے اسرائیل پر راکٹ داغے گئے جس کے خلاف اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کی۔

    اس سلسلے میں سب سے زیادہ تشدد جمعرات کے روز ہوا جب تقریباً 100 فلسطینی نوجوان زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیلی پولیس نے 50 سے زیادہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔ کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب اس مقبوضہ علاقے میں آباد سینکڑوں سخت گیر قوم پرست یہودی مرکزی یروشلم سے مارچ کرتے ہوئے ”عربوں کی موت ہو” کے نعرے کے ساتھ گیٹ کی جانب نکل پڑے۔

    اس دوران شرکا نے فلسطینیوں کو ہراساں کیا اور "عربوں کی موت” کے نعرے لگائے اور کچھ بینرز پر یہ نعرہ لگایا: "دہشت گردوں کی ہلاکت”ان جھڑپوں کی وجہ سے اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے مابین برسوں بعد بدترین قسم کا تشدد دیکھنے کو ملا تاہم سنیچر کے روز جب کچھ مظاہرین نے ایک امن ریلی نکالی۔ اس کے بعد اتوار کو حکام نے رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ رکاوٹیں ہٹائے جانے کا حکم، مذہبی حکام، مقامی لیڈروں اور دکانداروں سے مشاورت کے بعد دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یروشلیم میں سب کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔

    کشیدگی کم کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی اپیلوں کے بعد یہ اقدامات اٹھائے گئے۔ یروشلم، اسرائیلی اور فلسطینی تنازعے کا مرکز ہے، اس لئے عالمی سطح پر یہ خدشات موجود تھے کہ یہ تصادم کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے۔

    اس حالیہ تنازعے کی وجہ اسرائیلی پولیس کا دمشق گیٹ کے باہر فلسطینیوں کے ہجوم کو اکٹھا ہونے سے روکنے کا فیصلہ تھا، جس سے فلسطینیوں میں اشتعال پھیل گیا۔ دمشق گیٹ ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    اسی دوران، اسرائیلیوں کے اشتعال کی وجہ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وہ ویڈیوز تھیں جن میں فلسطینی نوجوانوں کو شہر میں موجود انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو مارتے پیٹتے دکھایا گیا ہے، جس پر دائیں بازو کے شدت پسند خیالات رکھنے والے سیاستدانوں نے پولیس کی جانب سے سخت اقدامات اٹھائے جانے کے مطالبات کئے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرکے اور ان کی جگہ یہودی آباد کاروں کو تبدیل کرکے مشرقی یروشلم میں یہودی کی موجودگی کو بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے مشرقی یروشلم پر سن 1967 سے قبضہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بے دخلیاں اور مکانات انہدام غیر قانونی ہیں۔

    فلسطین میں صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ اسرائیل کی شدید ناکہ بندی کے ذریعے غزہ پہلے ہی باقی دنیا سے الگ تھلگ ہے نتیجہ کے طور پر: اب غزنوں کا 80٪ انسانی امداد پر انحصار کرتا ہے اور پانی کا صرف 4٪ حصہ انسانی استعمال کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    تاہم اسلامی ریلیف برطانیہ کے ساتھ مل کر غزہ میں پانی کے بحران سے لڑ رہے ہیں اور غزہ کے غریب ترین خاندانوں کے لئے پانی کی ٹینکیں لگائے جا رہے ہیں۔ عطیہ کرنے کے لئے لنک

  • کار پر فائرنگ سے ٹک ٹاکر لڑکی سمیت 4 افراد جاں بحق

    کار پر فائرنگ سے ٹک ٹاکر لڑکی سمیت 4 افراد جاں بحق

    کار پر فائرنگ سے ٹک ٹاکر لڑکی سمیت 4 افراد جاں بحق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی کے علاقے گارڈن میں کار پر فائرنگ سے ٹک ٹاکر لڑکی سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،پولیس کے مطابق ملزمان نے گاڑی کا تعاقب کر کے اسے روکا اور چاروں افراد کو باہر نکال کر فائرنگ کا نشانہ بنایا جس سے لڑکی موقع پرجاں بحق جبکہ تین لڑکے ہسپتال میں دم توڑ گئے،

    کار پر فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالی لڑکی کی مسکان کے نام سے شناخت ہوئی ہے جس کی فائرنگ واقعہ سے پہلے بنائی گئی ٹک ٹاک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے،پولیس کے مطابق واقعہ میں نائن ایم ایم پستول کا استعمال کیا گیا، پولیس نے شواہد جمع کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق رحمان عرف شاہ جی نامی شخص نے مقتولین پر5ماہ قبل فائرنگ بھی کی تھی،

    گارڈن انکل سریا کے قریب فائرنگ سے4 افراد کی ہلاکت کا واقعہ،واقعے سے متعلق تفتیش جاری، اہم معلومات سامنے آگئیں ،تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ہی مقتولہ نے عامر کو کال کی،عامر نے اپنےدوست سے گاڑی لی ، 2 دیگر دوست اور مقتولہ ساتھ گھومتے رہے، 4مبینہ دوستوں نے4 گھنٹے کا وقت ساتھ گزارا،ممکنہ طور پر لڑکی کے کسی واقف کار نے گاڑی پر فائرنگ کی، فائرنگ کرنے والے شخص کا پہلا ٹارگٹ لڑکی ہی تھی،مقتولین کے موبائل فونز کا سی ڈی آر نکلوایا جارہا ہے،

  • سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سال 2020-21 کا بجٹ آج پیش کر دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاک ڈاون نے دنیا بھر کی معیشتوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ظاہر ہے اسکے اثرات پاکستان پر بھی ہیں۔ پہلے سے کمزور و ناتواں معاشی حالت کی ابتری میں یقیناً مزید اضافہ ہوا ہے، جہاں ریاست کے فنڈز میں کمی ہوئی وہیں عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوا، بھوک نے ڈیرے ڈالے، سفید پوش طبقہ پاکستان کا سب سے بڑا طبقہ ہے جسکے لیے بھوک سے مرنا ہاتھ پھیلانے سے زیادہ آسان ہے، ایسے میں پاکستان کے مخیر حضرات نے بے لوث خرچ کر کے ہم وطنوں کی مدد میں انتہا کر دی، وہیں ریاست پاکستان کے احساس پروگرام نے بھی ملک بھر میں حقداروں کو اربوں روپے کی امداد دی۔ ان حالات میں موجودہ بجٹ پیش کیا گیا ہے. جس میں پہلی بار کسی قسم کے نئے ٹیکس کا اضافہ نہیں ہوا ، اوپر بیان کئے گئے حالات کے باوجود ٹیکس کا اضافہ نا ہونا یقیناً قابل تحسین عمل اور عام آدمی کیلئے راحت کا باعث ہوگا۔ اسی طرح اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا جسے میں تو خوش آئند ہی کہوں گا کیونکہ یہ وہ طبقہ جسے بہرحال ہر ماہ ایک لگی بندھی رقم گزر بسر کیلئے مل جاتی ہے گزشتہ تین ماہ لاک ڈاؤن کی سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروباری یعنی دکاندار طبقہ تھا، ایسے میں تنخواہوں میں اضافہ نا کرنا بھی یقیناً ریاست و عوام کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

    حسب سابق اس بار پھر ایک مخصوص طبقے کی جانب سے دفاعی بجٹ کا تعلیم و صحت سے موازنہ اور تنقید جاری ہے اس پر یہی گزارش کروں گا کہ یہ بارہ اعشاریہ نو تقریباً تیرہ کھرب کا دفاعی بجٹ جو اکہتر کھرب کے کل بجٹ کا تقریباً اٹھارہ فیصد بنتا ہے ، دشمن ریاست کے کل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں سات گنا کم ہے، آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کے رواں سال بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے سات کھرب زیادہ یعنی اٹھہتر کھرب ہے ۔ یہ اعداد و شمار پبلک ہیں کوئی بھی انہیں چیک کر سکتا ہے، بھارت کی پاکستان دشمنی ساری دنیا کے سامنے ہے وہ شروع دن سے پاکستان کو مٹانے کے درپے ہے اور حالیہ دنوں بھارتی حکومت تو اکھنڈ بھارت کے نظریے پر کارفرما ہے، چین سے مار کھانے کے باوجود دو دن قبل انہوں نے کراچی کی طرف شرارت کی کوشش کی، بالاکوٹ ائر سٹرائک بھی پرانی بات نہیں، بلوچستان میں جاری شورش بھی آپ جانتے ہیں، جبکہ کشمیر و ایل او سی پر لاک ڈاؤن و جارحیت اور مسلسل شہادتیں جنکی تعداد رواں سال ہی سینکڑوں میں جا چکی ہے ، ایسے سات گنا بڑے ، گھٹیا اور چالاک دشمن کے مقابلے یہ بجٹ محض گزارہ ہی ہے۔

    جہاں تک بات تعلیم و صحت کی ہے تو عرض یہ ہے کہ یقیناً سیکورٹی سٹیٹس میں یہ چیزیں کمپرومائز ہوتی ہیں لیکن یہ دونوں شعبہ جات صوبوں میں بھی بجٹ کا ایک مناسب حصہ رکھتے ہیں جو جاری بحث میں اگنور کیا جاتا ہے جبکہ دفاع کا بجٹ محض وفاق کے حصے میں آتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں کرپشن سے پاک ، مخلص و صالح قیادت عطا کرے جو دشمنوں کے مقابلے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں بھی کرپشن کا خاتمہ کر ایک فلاحی ریاست کے قیام کا سبب بنے ۔ آمین

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    سوشل میڈیا پر ایک عام بات جو دیکھنے میں نظر آٸی ہے اور جسے مجھ سمیت اور بھی بہت سارے لوگوں نے محسوس کیا ہے اور تجربے سے سیکھا بھی ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا پر موجود بہن بھاٸی صرف اور صرف اپنے آپ کو یا پھر اپنے چند مختصر دوستوں کے بارے خیال رکھتے ہیں کہ یہی چند لوگ ہیں بس جن کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں ، یہی ہیں وہ چند لوگ جو اپنے پیارے پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور اپنے پیارے وطن پاکستان کی خاطر اپنی جان و دل صرف یہی لوگ قربان کر سکتے ہیں ، ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ صرف یہی لوگ ہیں جنہیں افواج پاکستان سے محبت ہے ، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خون میں پاکستان اور افواج پاکستان سے وفا شامل ہے ۔ ایسے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ان کے علاوہ باقی سب غدار ، بزدل اور پاک فوج اور پاکستان کے دشمن ہیں ۔ ایسے لوگ کوٸی اور نہیں صرف اور صرف سیاسی کارکنان ہیں جن کے نزدیک ان کے علاوہ باقی سب ملک دشمن اور غدار وطن ہیں ۔ ایسے لوگ پاکستان کے عام عوام کو تو گالیاں دینے اور غدار کہنے فورا آجاٸیں گے نہ صرف خود آٸیں گے بلکہ اپنے اپنے گروپس کے لوگوں کو بھی دعوت عام دیں گے کہ آٶ اس انسان کو گالیاں دو ، اس کا منہ توڑ کے رکھ دو ، اس کو غدار ثابت کرنے میں زرا سی کسر نہ چھوڑو کیوں کہ ایسے جہلا کو لگتا ہے کہ بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہے جس کی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ ان کا لیڈر ہی پاکستان ہے ، ان کا لیڈر ہی افواج پاکستان ہے ، بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہوٸی ہے اس لیے یہ اپنے مخالف نظریہ رکھنے والے کو عام طور پر حرامی کہہ کر لکھیں اور پکاریں گے ۔ کیوں کہ ان سے مخالف نظریہ رکھنے والا انسان پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہے ۔ غدار کیوں ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے نزدیک پاکستان ،افواج پاکستان بلکہ ان کا دین ایمان ہی ان کا لیڈر ہوتا ہے ۔ جس کی پالیسی سے اگر خدانخواستہ آپ نے اختلاف کیا تو آپ ایسے لوگوں کے نزدیک داٸرہ اسلام سے ہی خارج ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے مخالف کا دین و ایمان چیک کرنے والی مشین ان کے مخالف کے خلاف بول رہی ہوتی ہے ۔ اسے لوگ اپنے ہم وطنوں کو تو گالیاں دینے اور غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے گروپس کی شکل میں آٸیں گے لیکن جب عالم کفر اور وطن و اسلام دشمنوں کو جواب دینے کی بات آٸے گی تو گونگے ، بہرے اور اندھے ہوجاٸیں گے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے.

    واہ رے منافقت

    حقیقت تو یہ ہے کہ جب حکومت پی پٕی کی ہوتو بات اگر پی پی کارکنان کے لیڈر کے خلاف ہوتو انہیں لگتا ہے کہ باقی سب ملک دشمن ہیں ۔ اسی طرح جب حکومت نواز شریف کی تھی تو بات اگر نواز پالیسی کے خلاف ہوتی تو ن لیگ کے کارکنان کو لگتا تھا کہ ہمارا مخالف پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہے ۔ اور اب اگر یہی بات عمران خاں کی پالیسی کے خلاف ہوتو pti کارکنان کو لگتا ہے کہ عمران خاں کی پالیسی سے اختلاف کرنے والا معاذ اللہ پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہونے کے ساتھ ساتھ شاید دین اسلام کا بھی دشمن ہے ۔ آج کل تو حالات کچھ یوں چل رہے ہیں کہ کوٸی انسان یہ کہہ دے کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیوں کیا ، کشمیر کے لیے انڈیا کو فضاٸی حدود بند کرو تو کچھ لوگ غداری کا سرٹیفکیٹ دینے آجاتے ہیں کہ تم نے فوج کے خلاف بات کی ہے کیونکہ ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر کو وہ کرنا چاہیے جواس نے نہیں کیا کشمیر کی خاطر ۔ بس پھر کیا دوسروں کو وطن سے غداری کا سرٹیفکیٹ دے کر اپنے دل کی تسلی کی ناکام کوشش کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی کارکنان جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اپنے اپنے لیڈروں کے ساتھ مل کر افواج پاکستان پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے ہیں اور اپنی سب سے مضبوط خفیہ ایجنسی پر تنقید کرتے نہیں تھکتے ۔ اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے اصل محب اور وفادار وہی ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوٸی تعلق نہیں ، جو ہر حکمران کی اچھاٸی کو اچھا اور براٸی کو غلط کہتے ہیں ۔ ہاں یہی ہیں وہ غیر سیاسی لوگ جو ہر حال میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو چند پوسٹ اور تحریروں کے بدلے معاوضہ نہیں لیتے اور پاکستان سے وفا نبھارہے ہوتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے سپاہی بھرتی کرواتے ہیں اور پھر جوان بیٹوں کی لاشیں وصول کرتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے شہید کروا کر بھی بارڈر پر سینہ تان کر کھڑا ہونے کے لیے دوسرے بیٹے بھیج دیتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے دو کوڑی کے غدار اور بزدل لیڈروں کی خاطر اپنی افواج پاکستان پر انگلیاں نہیں اٹھاتے ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو سڑک سے گزرنے والے سپاہیوں کو سلوٹ کرتے ہیں ، انہیں سلام پیش کرتے ہیں ، ان پر پھول نچھاور کرتے ہیں ، یہی تو اصل محبت ہے ۔

    ۔ اپنے لیڈر کو افواج پاکستان اور پاکستان سمجھنے والے تو آج ادھر ہیں تو کل دوسری طرف ہیں ۔ آج ادھر سے پیسہ ملا تو یہ لیڈر ، کل وہاں سے پیسہ ملے گا تو ادھر کی ڈیوٹی نبھاٸیں گے ۔

    ہمیں فخر ہے کہ ہماری رگوں میں پاکستان سے وفا کرنے والا خون ہے ، افواج پاکستان پر فخر کرنے والا خون ہے ، اپنے وطن پر جان قربان کرنے والا خون ہے ۔ ہم نے نا تو پیسہ لے کر وفاداریاں بدلی نا کبھی فوج پر انگلی اٹھاٸی ۔ ہاں جب جب کوٸی حکمران میرے کشمیر ، میرے وطن پاکستان ، میرے دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ، بزدلی دکھاٸے گا وہاں ہم ضرور اس حکمران پر انگلی اٹھاٸیں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جاٸدادیں باہر ، بچے باہر ، رشتے داریاں باہر ۔ ہم ضرور ایسے حکمرانوں پر تنقید کریں گے کیونکہ ہم نے اسی وطن میں رہنا ہے انہیں افواج کے ساتھ ، لیڈروں کا کیا ہے آج یہاں تو کل انگلیڈ ، امریکہ ، برطانیہ یا کہیں اور ۔

    ہمیں پاکستان سے محبت ہے تبھی ہم اپنی جان سے زیادہ عزیز فوج کے سربراہان سے پوچھتے ہیں اور پوچھیں گے بھی کہ آخر آپ نے اپنی شہہ رگ کے لیے کیا کیا ہے ۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہی گلے شکوے بھی ہوتے ہیں ، جہاں محبت ہوتی ہے وہی سوال جواب بھی ہوتے ہیں ، جن پر مان ہوتا ہے انہی سے اپنے مساٸل کا حل بھی پوچھا جاتا ہے ۔ اور اگر کسی کو لگے کہ اس کے لیڈر کی پالیسی سے اختلاف پاکستان اور افواج پاکستان یا اسلام سے غداری ہے تو پھر وہ لوگوں کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے کی بجاٸے اپنے ایمان ، ضمیر ، اور حب الوطنی کا جاٸزہ لے اور شخصیت پرستی کا علاج کرواٸیں۔

    اللہ پاک میرے وطن اور تمام افواج پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

  • ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے…

    لیکن جب معاہدے کیے ہوں تو معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے

    اور دشمن کو بھی یہ موقع دینا ضروری ہے کہ وہ اپنا چہرہ بے نقاب کر سکے کہ وہ کسی معاہدے کو ماننے اور سننے والا نہیں

    جب دشمن کا چہرہ مکمل طور پر دنیا کے سامنے آ جائے گا تو ہم وہ کرنے کا حق رکھتے ہوں گے جو نہ کرنے پر آج احتجاجی آوازیں آٹھ رہی ہیں

    اور اگر ہم نے وہ سب پہلے کر لیا… تو نہ تو دشمن کا اتنا نقصان ہو گا اور نہ ہی ہمیں کوئی فائدہ ملے گا.

    قوموں کے درمیان رہنا ہے تو بین الاقوامی قوانین کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے. اپنا آپ بچانا پڑتا ہے… دشمن کو سامنے لانا پڑتا ہے ورنہ اچھی بھلی جیتی جنگ کے ہارنے کا خدشہ رہتا ہے.

    جن لوگوں نے کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خموش کروایا ہے…وہ اس خاموشی کے نقصانات بھی جانتے ہیں اور اب وادی نیلم سے سیالکوٹ تک کے بارڈر پر ان کے فوجی جذبہ شہادت سے سرشار کھڑے ہیں.
    جہاں جہاں وہ مناسب سمجھ رہے ہیں جواب بھی دے رہے ہیں.

    بیشک پاک فوج کی خاموشی وحشت ناک ہے لیکن وقت اور جگہ کا تعین بھی تو پاک فوج ہمیشہ سے خود ہی کرتی آئی ہے اس لیے گزارش ہے کہ میڈیا کی خاموشی کو عسکری محاذ پر خاموشی نہ سمجھا جائے. بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور 26 فروری جیسے کسی سرپرائز کا انتظار کیا جائے.