وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ برفباری کے باعث پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں ہر سال نقل مکانی کا عمل ہوتا ہے اور تیراہ میں بھی یہی معمول ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے کی تقریباً 65 فیصد آبادی ہر سال اس دوران منتقل ہوتی ہے، یہ کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر دفاع نے کہا کہ 11 دسمبر کو تیراہ میں ایک جرگہ ہوا تھا جس میں صوبائی حکومت اور عمائدین کے درمیان کامیاب مذاکرات کیے گئے اور اس کے بعد نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے فنڈ مختص کیے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جرگے میں یہ بھی طے پایا کہ علاقے میں اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے اور جرگے کے ارکان دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی کے پاس بھی گئے تھے۔
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی اور اپنی ناکامی کا الزام اداروں پر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن جاری رکھے گی اور ہر صورت دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے کئی برسوں میں کے پی میں دہشت گردوں کی حمایت کی گئی ہے یا نہیں۔
Category: سیاست

تیراہ میں نقل مکانی ہر سال ہوتی ہے، پی ٹی آئی غلط صورتحال پیش کر رہی ہے, خواجہ آصف

جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کے خلاف یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے المناک واقعات کے بعد بھی سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بڑے حادثے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان الزام تراشی اور نام نہاد سیاسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ ہمیشہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی کے مسائل کا حل نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبائی اختیارات میں، بلکہ اس کا واحد حل ایک بااختیار اور خودمختار سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے باوجود آگ بجھانے کا مؤثر انتظام موجود نہیں تھا، جو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد متاثرہ افراد اور شہری شدید بے بسی کا شکار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے عوام پر کرپٹ اور نااہل حکمران مسلط کیے گئے ہیں، جو شہر کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “جینے دو کراچی” مارچ کے ذریعے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائی جائے گی اور کراچی کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی اراکین کے درمیان ہاتھا پائی
پی ٹی آئی کے ایم این اے اقبال آفریدی اور خرم شہزاد کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر جھگڑا اور ہاتھا پائی ہوئی۔ اقبال آفریدی کا موقف تھا کہ ان کے حلقے میں جاری آپریشن پر سوال کرنے یا ایوان میں بولنے کی اجازت پی ٹی آئی کے دیگر اراکین نہیں دیتے۔
جھگڑے کے دوران بیرسٹر گوہر صلح کروانے آئے، لیکن اقبال آفریدی ان پر بھی برہم ہو گئے اور کہا کہ سب غلطی بیرسٹر گوہر کی ہے۔ اس واقعے نے پارلیمانی ماحول میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم میں شامل نہیں ہونا شاہیے، فضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قیام کردہ غزہ بورڈ آف پیس پر تنقید کی اور کہا کہ بورڈ میں فلسطینی نمائندگان شامل نہیں ہیں، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو شامل ہیں۔ ان کے بقول، "یہ کیسا امن بورڈ ہے جس میں فساد کی جڑ نیتن یاہو کو شامل کر لیا گیا۔”
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کو حماس اور فلسطینی عوام کے موقف کو مدنظر رکھنا چاہیے اور اس معاملے میں کسی بھی مہم میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ عراق، افغانستان اور لیبیا میں بھی امن کے نام پر آیا تھا، لیکن ان ممالک کو تباہی کے دہانے پر چھوڑ دیا گیا، اور غزہ کے ساتھ بھی یہی خطرہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ طور پر بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کیا، جبکہ انڈونیشیا، اردن اور قطر بھی اس میں شامل ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں۔ بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کے لیے عبوری انتظامی نظام کے طور پر کام کرنا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی عوام کی انسانی ضروریات پوری کرنے میں تعاون جاری رکھے گا اور امن بورڈ کے رکن کے طور پر تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزاحمت کی علامت ایمان مزاری، مگر عدالت کے کٹہرے سے ہچکچاہٹ۔
قانون سب کے لیے ایک سا ہونا چاہیے، مگر حقیقت میں خوف کچھ لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔ مزاحمت کی علامت بننا آسان لگتا ہے، جیسے ایمان مزاری کی شجاعت، مگر جب کٹہرے کا سامنا آتا ہے تو ہچکچاہٹ چھا جاتی ہے۔ مزاحمت کے نعرے بلند کرنے کے ساتھ جینا آسان ہے، لیکن جب انصاف کا تقاضا سامنے آتا ہے، تو حقیقی امتحان شروع ہوتا ہے۔
عدالت کا سامنا کرنا خوفناک لگتا ہے، مگر سرکاری عمارات میں پنا لینا، اپنے موقف کو چھپانا یا سیاسی دباؤ میں آنا سب سے زیادہ عام حقیقت ہے۔ الزام لگانا آسان ہے، لیکن اس الزام کا جواب دینا، حقیقت میں اپنی صفائی پیش کرنا یا قانون کے سامنے کھڑا ہونا سب سے مشکل۔
آج کے دور میں ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر سیاست کرنا، تنقید کرنا، موقف رکھنے اور نعرے لگانا آسان ہوگیا ہے۔ مگر حقیقی زندگی میں سیاست کرنا، عوام کے سامنے جواب دینا، فیصلے کرنا اور ان فیصلوں کی قیمت بھگتنا، وہ سب کچھ آسان نہیں۔ سوشل میڈیا کی جیت فوری ہے، مگر زمین پر سیاست کی قیمت ہمیشہ بھاری۔
یہ تضاد صرف انفرادی مثالوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک عکاسی ہے اس حقیقت کی کہ ہمارے معاشرے میں مزاحمت اور خوف، عمل اور نعرے، بیان اور عمل، سب کے درمیان ایک خلا ہے۔ جہاں بولنا آسان ہے، وہاں کرنا مشکل ہے؛ جہاں الزام لگانا آسان ہے، وہاں اس کا سامنا کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔
میرے پاس مذاکرات کا اختیار نہیں، حکومت سنجیدگی دکھائے، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ان کے پاس حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار موجود نہیں، اگر حکومت بات چیت چاہتی ہے تو اسے خلوص کے ساتھ آگے آنا ہوگا، ایک ہاتھ میں مکا اور دوسرے میں مصافحہ قابل قبول نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں شرائط عائد نہیں کی جاتیں، سیاست دان دشمن نہیں ہوتے بلکہ سیاسی اختلافات کے باوجود مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جاتا ہے، اور یہ اختلافات ہمیشہ رہتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا اختیار قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات کا حل صرف مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی ممکن ہے۔
فلک جاوید کے وکیل کی صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی گواہی ریکارڈ کرنے کی مخالفت
فلک جاوید کے وکیل نے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جانب سے ٹرائل کے اختتام پر گواہی ریکارڈ کرانے کی درخواست کی مخالفت کر دی ہے۔
لاہور کی مقامی عدالت نے عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے میں صوبائی وزیر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ذاتی حیثیت میں کل طلب کر لیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 21 جنوری کو عظمیٰ بخاری عدالت میں پیش ہوں۔ حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ عدم پیشی کی صورت میں وارنٹ یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ اس مقدمے کا ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے، اس لیے ٹرائل کے اختتام پر گواہی ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے اور مدعیہ کو آئندہ سماعت پر ہر صورت پیشی یقینی بنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ عظمیٰ بخاری کی مدعیت میں فلک جاوید اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے۔
بلوچستان اور پاکستان ریلویز کا مشترکہ اجلاس، پیپلز ٹرین سروس ,دیگر منصوبوں پر اتفاق
وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پاکستان ریلویز اور حکومت بلوچستان کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں پیپلز ٹرین سروس سمیت مختلف جوائنٹ وینچر منصوبوں پر اصولی اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلویز کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار صوبائی سطح پر ڈیولوشن کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ مقامی ریلوے سروسز میں تینوں صوبوں نے دلچسپی ظاہر کی اور عملی قیادت بلوچستان نے سنبھالی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریلویز بلوچستان میں جدید اور مؤثر حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے اور پیپلز ٹرین سروس پاکستان ریلویز اور حکومت بلوچستان کے باہمی اشتراک کی شاندار مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر تیز رفتار اور عملی پیش رفت کی ضرورت ہے۔
بلوچستان حکومت نئے ریلوے اسٹیشنز کی تعمیر اور موجودہ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ پیپلز ٹرین سروس کے لیے ایک ارب چالیس کروڑ روپے رواں ہفتے جاری کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سریاب سے کچلاک پیپلز ٹرین سروس کی کامیابی کے بعد مستونگ سے پشین اور دیگر علاقوں تک دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر ریلویز اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ریلویز فٹ بال گراؤنڈ کا دورہ بھی کیا اور کھیلوں کے فروغ کے ساتھ پاکستان ریلویز کی اراضی پر مشترکہ منصوبوں کے آغاز پر اتفاق کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ریلوے سسٹم کی بحالی اور عوام کو سستی اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
عبدالقادر پٹیل کی گل پلازہ سانحے کے بعد ایم کیو ایم پر تنقید
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ہر بار پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل رہی، اس لیے پیپلز پارٹی پر جو ذمہ داری آتی ہے وہ متحدہ پر بھی آتی ہے۔ انہوں نے گل پلازہ منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک منزل کی منظوری تھی، لیکن بانی ایم کیو ایم کے گارڈ نے اسے جبراً بڑھا کر پانچ منزلہ بنا دیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کل ارشد وہرہ نے فائر بریگیڈ کی تعریف کی اور آج امین الحق نے تنقید کی، یہ دونوں الگ باتیں ہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کس کی رائے پر عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے 35 سال میں کراچی کو موجودہ حالت تک پہنچایا ہے، اس لیے یہ درست نہیں کہ گل پلازہ کا ذکر کریں لیکن بلدیہ ٹاؤن کا ذکر نہ کریں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ایم کیو ایم آج بھی اپنے بانی کے فلسفے پر عمل کر رہی ہے اور نفرت کی سیاست سے الگ نہیں ہوئی۔
انہوں نے صوبائی حکومت کو طعنے دینے والوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بانی ایم کیو ایم کے گن مین گوگا نے گل پلازہ کو ایک منزلہ سے پانچ منزلہ بنا دیا، اس لیے کراچی پر بات کرنے سے پہلے تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام پر اربوں روپے خرچ، شہری انفراسٹرکچر کے آڈٹ کی ہدایت, مریم نواز
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تاکہ شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ سڑکوں کی کھدائی کا واضح پلان بنایا جائے اور پی ڈی پی کے تحت نئے مین ہولز لگائے جائیں جبکہ کھلے مین ہولز کو فوری بند کیا جائے۔
مریم نواز نے کہا کہ شہروں میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے اور فائر سسٹم کا مکمل آڈٹ کر کے نئے ایس او پیز تیار کیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ جہاں شارٹ سرکٹ کا خطرہ موجود ہے، وہاں فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔








