سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس میں اسلام آباد کی عدالت نے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا بھی باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق ملزم کی مسلسل عدم پیشی کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا۔
ذرائع کے مطابق عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے، جبکہ آئندہ سماعت پر اشتہاری قرار دینے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیکس سے متعلق کیس زیر سماعت ہے، جس میں ان پر قانونی کارروائی جاری ہے۔
Category: سیاست

علی امین گنڈاپور آڈیو لیک کیس میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

شیر افضل مروت کا خیبرپختونخوا حکومت پر حالات نہ سنبھالنے پر تنقید
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے حالات ان کے قابو میں نہیں ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ میرے حلقے کے لوگ اب دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی خود لڑ رہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صرف اپنی سیاست بچانے میں مصروف ہے اور حقیقت میں کچھ نہیں کر رہی، اور یہ فیصلے بند کمروں تک محدود نہیں بلکہ ان کے اپنے ذاتی فیصلے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے یہ موقف اختیار کر رہی ہے۔
امریکی صدر کی پاکستان کو فلسطین بورڈ میں دعوت عظیم کامیابی، طاہر اشرفی
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کو فلسطین کے مجوزہ بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دینا ایک عظیم کامیابی ہے۔
صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت دی ہے۔
طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دعوت پاکستان کے عالمی وقار اور کردار کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتی ہے اور اہل فلسطین کے لیے پاکستان کی کوششوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فلسطینی عوام کی ترجمانی جس انداز سے کی، وہ قابل فخر ہے۔
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ وزیراعظم اس دعوت کو قبول کرکے پاکستان کے اہل فلسطین کے لیے کردار کو مزید آگے بڑھائیں۔
بیٹے کی شادی پر مریم نواز کی تیاری توجہ کا مرکز، شرمیلا فاروقی اور بختاور بھٹو زرداری کی تعریف
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کے موقع پر اپنی تیاری اور دیدہ زیب لباس کے باعث خصوصی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
جنید صفدر کی شادی گزشتہ روز لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں منعقد ہوئی، جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ مریم نواز، اہلِ خانہ کے علاوہ وفاقی و صوبائی وزرا اور ملکی و غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔
تقریب میں مریم نواز کی تیاری کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا گیا۔ بختاور بھٹو زرداری نے بھی ان کے انداز اور لباس کی تعریف کی۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ وہ بھی اپنے بیٹے کی شادی پر اسی طرح خوبصورت نظر آنا چاہیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف 4 روزہ دورے پر سوئٹزرلینڈ روانہ
وزیراعظم شہباز شریف آج سے سوئٹزرلینڈ کے لیے چار روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق رواں ماہ سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کا 56واں سالانہ اجلاس منعقد ہوگا، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم خود کریں گے۔ اجلاس 19 سے 23 جنوری تک جاری رہے گا، جبکہ وزیراعظم 18 جنوری کو دورے کے لیے روانہ ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے دوران دیگر عالمی رہنماؤں سے اہم سائیڈ لائن ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں دو طرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی ملاقات
ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین کی ملاقات میں اوورسیز پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
ملاقات میں وفاقی سیکریٹری اوورسیز ندیم اسلم چوہدری، آصف جمال، طارق حسن اور عمر مشتاق شریک تھے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ وزیر محنت سعید غنی اور چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ موجود رہے۔ اجلاس میں ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈز کی صوبوں کو منتقلی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈز کی ڈی وولوشن سے مزدوروں کو بڑا فائدہ ہوگا، تاہم قانونی تنازعات کی وجہ سے فنڈز نہ وفاق کو مل رہے ہیں اور نہ صوبوں کو۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مسئلے کا حل باہمی مشاورت سے نکالا جائے گا۔
دونوں فریقین نے وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، اور فیصلہ ہوا کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر سعید غنی اپنی ٹیموں کے ساتھ مزید اجلاس کریں گے۔ ورکرز کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر سے متعلق اصلاحات پر مشترکہ حکمت عملی، اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کو وفاق و صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا گیا۔
اجلاس میں لیبر ویلفیئر کے معاملات کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا افتتاح
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے مفت علاج کے لیے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے۔ علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کا سہارا بنے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں وفاقی وزرا، اراکین قومی اسمبلی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2016 میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے یہ پروگرام شروع کیا تھا، جو صوبوں میں تیزی سے پھیلا اور لاکھوں خاندان مستفید ہوئے۔ صحت زندگی کی سب سے قیمتی چیز ہے؛ صحت ہو تو تعلیم، کھیل اور ہر شعبے میں سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ صحت کی سہولیات حکومت کی اولین ترجیح ہیں، اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور ان کی ٹیم کو اس کامیابی پر مبارکباد۔
انہوں نے کہا کہ اشرافیہ تو بیرون ملک مہنگا علاج کرا لیتی ہے، مگر غریب اور مزدور طبقے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صحت ہوگی تو انسان باوقار روزگار کما سکے گا، نوجوان کھیلوں میں نام روشن کریں گے اور ہر میدان میں کامیابی ملے گی۔ پروگرام کو شفاف بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی استعمال کی جائے، اور سندھ میں بھی اسے نافذ کرنے کی تجویز قابل غور ہے—وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرکے حل نکالیں گے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں بھی صحت پروگرام کامیاب ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ 2016 سے چل رہا یہ پروگرام ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو مفت علاج دے گا۔ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 70 ہسپتال شامل ہیں، جبکہ سندھ واحد صوبہ ہے جو اسے استعمال نہیں کر رہا۔ کراچی میں 16 ہسپتال مختص کیے گئے ہیں۔
پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ یہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد لوگ صحت اخراجات سے خط غربت کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ 600 سے زائد پبلک و پرائیویٹ ہسپتالوں میں کیش لیس علاج ملے گا—شناختی کارڈ یا بے نمبر کو استعمال کیا جا سکے گا۔ گلگت کے پہاڑوں سے گوادر تک ہر ایک کو سہولت ملے گی، اور یہ وبائی امراض میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے صحت کارڈز تقسیم بھی کیے۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لے لیا
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لے لیا ہے۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے 10 جنوری کو اسلام آباد کے لیے بلدیاتی حکومت ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت شہر میں مقامی حکومت کا ڈھانچہ تبدیل کیا گیا۔ اس تبدیلی کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے شیڈول کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ پہلے الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو کرانے کا اعلان کیا تھا، تاہم نئی صورت حال کے باعث شیڈول منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جعلی آواز بنا کر پیسے بٹورنے کی کوشش کا انکشاف
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ کسی نے ان کی جعلی آواز بنا کر پیسے بٹورنے کی کوشش کی۔
ایاز صادق نے بتایا کہ کسی شخص نے ان کی آواز کی نقل بنا کر کسی سے پیسے مانگے، اور جب اس نے خود رابطہ کیا تو کہا کہ میں نے کبھی ایسے پیسے نہیں مانگے۔
اجلاس کے دوران ایم این اے اعجاز الحق نے بتایا کہ ان کے پاس 19 چالان آئے ہیں اور ایک چالان کل بھی موصول ہوا۔ ایم این اے عالیہ کامران نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کس اکاؤنٹ میں جاتی ہے اور کتنے اکاؤنٹس کا پتا لگایا گیا۔
طلال چوہدری نے جواب دیا کہ یہاں رینٹ اے اکاؤنٹس چل رہے ہیں اور اس حوالے سے تمام افراد کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ اختیار بیگ نے بتایا کہ اس معاملے میں اسٹیٹ بینک کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔
عمران خان نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا, شاہ محمود قریشی
پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پارٹی سربراہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور دیگر رہنما جیلوں میں موجود ہیں اور معلومات کم پہنچ رہی ہیں، اس لیے محمود خان اچکزئی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔
شاہ محمود نے فواد چودھری کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا ساتھ دینے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ وہ اسپتال میں تھے اور فواد چودھری عیادت کے لیے آئے، تاہم وہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین ہیں اور پارٹی پالیسی سے نہیں ہٹ سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوچنا یہ ہوگا کہ مسئلے کا حل کیا ہے، کیونکہ مزاحمت کے بعد بھی مفاہمت ہی ہوتی ہے اور ملک کی ترقی صرف گفتگو کے ذریعے ممکن ہے۔








