گورنر بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری موصول ہونے کی تصدیق کر دی۔
باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر کے سمری گورنر پنجاب کو ارسال کی تھی جو کہ گورنر ہاؤس میں موصول ہو گئی ہے جس کی تصدیق ٹوئٹر پر گورنر پنجاب نے اپنی ٹوئٹ میں کی ہے-
واضح رہے کہ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں مرکزی قیادت نے اسمبلی فوری تحلیل کرنے کی رائے دی اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں اسمبلی توڑنےکا حتمی فیصلہ کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیئے ہیں، پنجاب اسمبلی تحلیل کی ایڈوائس گورنر پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتے تو 48 گھنٹے میں اسمبلی خود تحلیل ہوجائے گی۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم مسلم لیگ ق، پرویز الہٰی اور مونس الہٰی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، نگران حکومت کے قیام کے لیے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو خط لکھنے جا رہے ہیں اسی طرح سے ہم خیبر پختونخوا اسمبلی کو بھی تحلیل کریں گے، دونوں صوبوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے بل سے باہر آنا چاہیے، اسپیکرکوبھی کہہ رہے ہیں ہمارے استعفےقبول کریں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اور معاون خصوصی بیرسٹر سیف نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کوتحلیل کرنے کے لیے ایڈوائس دودن بعد گورنرکوارسال کی جائے گی پنجاب کی اسمبلی 48 گھنٹوں میں ٹوٹے گی جس کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوامحمود خان , گورنرکواسمبلی تحلیل کے لیے ایڈوائس ارسال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی مسلہ نہیں، ہم پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا انتظارکرینگے، کے پی اسمبلی تحلیل ہونے پر اپوزیشن لیڈراکرم خان درانی کو نگران وزیراعلی کے تقررکے لیے خط لکھا جائے گااب امپورٹڈ حکومت کے پاس نئے انتخابات کرانے کے سواکوئی چارہ نہیں۔
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا ایم کیو ایم کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر دی جانے والی دھمکی پر ردعمل سامنے آیا ہے-
باغی ٹی وی : ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن، سندھ حکومت، حکومت پاکستان اور لاء اینڈ آرڈر، انفورسمنٹ ایجنسیوں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک آئینی و قانونی اور جمہوری عمل کے خلاف ایم کیو ایم کی دھمکی کا نوٹس لیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دھڑے مل کر عوام کو آئینی و جمہوری حق سے محروم کرنے اور شہر کو ایک بار پھر تباہ و برباد کرنے کی سازش کر رہے ہیں اور اس سازش میں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت بھی اندرون خانہ ملی ہو ئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی دہشت اور غنڈہ گردی کا مقابلہ کیا ہے ہم آئندہ بھی میدان ِ عمل میں موجود رہیں گے اور عوام کے جائز و قانونی اور جمہوری حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کی جدو جہد جاری رکھیں گے۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت پُر امن اور شفاف انتخابات کے لیے وزارتِ داخلہ کو لکھے گئے خط کے جواب میں مطلوبہ سیکوریٹی فراہمی سے انکار آئین اور قانون کی واضح خلاف ورزی ہے کیونکہ پولنگ اسٹیشن پر اگر فوج اور رینجرز ہوگی تو ٹھپہ مافیا ماضی کی طرح آزاد ہو جائے گی اس تعیناتی کے لیے ہم نے آرمی چیف، کورکمانڈراور ڈی جی رینجرز کو بھی خط لکھا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے خلاف سازشیں بند اور 15جنوری کو عوام کو ان کی آزاد مرضی سے بلدیاتی امیدواروں کو ووٹ دینے کے لیے پُر امن اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے اور اس کے لیے ہر پولنگ اسٹیشن کے باہر اسٹیٹک پوزیشن پر فوج اور رینجرز کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔
پیرمحل: یہاں ترقیاتی کام تیزی سے نہیں ہو سکے، ہماری کوشش ہے، یہاں ترقیاتی کام کروائیں- عامر ندیم سندھو
باغی ٹی وی : پیرمحل( وقاص شریف نامہ نگار) پیرمحل سندھیلیانوالی وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی کے اعزاز میں عشائیہ، سندھیلیانوالی کے مسائل حل کروائیں گے، معاون خصوصی عامر ندیم سندھو
تفصیلات کے مطابق: سندھیلیانوالی پاکستان مسلم لیگ ق کے سینئر وائس پریزیڈنٹ تحصیل پیرمحل سید محمد حسن شاہ نے وزیر اعلی پنجاب کا مشیر بننے پر عامر ندیم سندھو کے اعزاز میں پیرمحل کے ہوٹل میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا، ایڈوائزر وزیر اعلیٰ پنجاب عامر ندیم سندھو کا ہوٹل میں پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا، پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی ،انہوں نے باغی ٹی وی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا، علاقہ سندھیلیانوالی میں ترقیاتی کام تیزی سے نہیں ہو سکے، ہماری کوشش ہے، یہاں کام کروائیں، ق لیگ، تحریک انصاف سے مل کر الیکشن لڑے گی یا علحیدہ یہ بتانا قبل از وقت ہے، یہ اہم فیصلہ پارٹی قیادت نے کرنا ہے .پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کا شوشہ سیاسی بنیادوں پر چھوڑا جا رہا ہے . پہلے بھی ق لیگ کے دور میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوا، تعلیم، صحت پر توجہ دی گئی، اور اب بھی انہی پر زیادہ کام ہو رہا ہے
سندھیلیانوالی میں ساری قیادت موجود ہے، سید محمد حسن شاہ اچھا کام کر رہے ہیں، ووٹر نے ق لیگ پر پہلے بھی اعتبار کیا تھا، جب ہم عوام کی خدمت کریں گے، یہ اعتبار مذید بڑھے گا، اس عشائیہ میں سابق صدر بار پیرمحل عابد چوہدری، چمن اقبال مارتھ ایڈووکیٹ، عمران ندیم سندھو، ڈپٹی سیکرٹری ق لیگ رائے مظہر اقبال مارتھ اور دیگر موجود تھے
تلہ گنگ: پبلک سیکرٹریٹ تلہ گنگ میں پاکستان تحریک انصاف کے تنظیمی عہدے داران کی مشاورتی میٹنگ کا انعقاد۔ڈی پی او چکوال کو تبدیل نہ کیا گیا تو ہم ڈی پی او آفس کا گھیراؤ کرینگے، رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ
باغی ٹی وی: تلہ گنگ (شوکت علی ملک سے ) تفصیلات کے مطابق پبلک سیکرٹریٹ تلہ گنگ میں پاکستان تحریک انصاف کے تنظیمی عہدے داران کی مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، منعقدہ میٹنگ میں، رکن قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف سردار ذولفقار علی خان دلہہ، رکن قومی اسمبلی محترمہ فوزیہ بہرام، ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف پیر وقار حسین کرولی، سابق ایم پی اے کرنل ر سلطان سرخرو اعوان، حکیم نثار احمد، ملک فدا حسین، میڈم شائستہ اکرام، میڈم خالدہ بلوچ، ملک آفتاب احمد پچنند، نوابزادہ ملک زاہد مبارز، ملک عظمت حیات ٹمن، ملک عابد ڈھرنال سمیت دیگر عہدیداران و کارکنان نے بھرپور شرکت کی، اس موقع پر تنظیمی عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا کہنا تھا کہ 25 مئی آزادی مارچ کے موقع پر ڈی پی او چکوال کی سربراہی میں ہمارے عہدے داران و کارکنان کیساتھ جو ظلم و زیادتیوں کی تاریخ رقم کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، کارکنان کو ہراساں کیا گیا اس کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ڈی پی او چکوال کی سربراہی میں کیا گیا جس پر میں اپنی قیادت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ چکوال میں ہونے والے جلسے سے قبل ہی ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف کا تبادلہ کیا جائے ورنہ کارکنان کی بڑی تعداد لے کر ہم ڈی پی او آفس چکوال کا گھیراؤ کریں گے۔ اس موقع پر دیگر عہدیداران کی جانب سے خطابات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چکوال میں پاکستان تحریک انصاف کا تاریخی جلسہ ہوگا، جس میں تلہ گنگ و لاوہ سے ہزاروں کی تعداد میں کارکنان شرکت کرکے اپنے قائد عمران خان کا تاریخی استقبال کریں گے۔
مجھے شروع سے ناول پڑھنا بے حد پسند تھا کیونکہ میری دلچسپی محض قصہ کہانیوں تک محدود تھی لیکن پھر مجھے کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کتابیں تو ویسے بھی پڑھتی ہیں لیکن آپ کی سوچ صرف فروئی قصہ کہانیوں تک ہی محدود ہے لہذا آپ سیاست کو پڑھیں اسکے جواب میں میں نے انہیں کہا "آپ مجھے کچھ ایسی کتابیں بھجوا سکتے جو کسی دلچسپ اور بہادر انسان کے بارے میں لکھی گئیں ہوں” پس انہوں نے مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں لکھی گئی متعدد کتابیں بھیج دیں، یقین مانیں یہ کتابیں اتنی دلچسپ تھی کہ ان کے سحر میں میں ڈوبتی چلی گئی اور یوں مجھے سیاست کے بارے میں مزید جاننے کی دلچسپی پیدا ہوگئی بہرحال آج میں قارئین کی نظر ذولفقارعلی بھٹو کا ایک دلچسپ واقعہ پیش کرنا چاہتی ہوں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی اور اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی قیوم نظامی اپنی کتاب "جو دیکھا جو سنا” میں الطاف حسین قریشی کی زبانی غریبوں اور بے بس لوگوں سے بھٹو کی محبت کا ایک واقعہ جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے بیان کرتے ہیں.
یہ تقریبا 1975 کے موسم سرما کی بات ہے، جب وفاقی حکومت کے ایک آفیسر الطاف حسین اس وقت کے صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دورہ پر گئے ہوئے تھے۔
جس بنگلے میں الطاف کو ٹھہرایا گیا تھا اس کے ساتھ والا بنگلہ کمشنر ہاؤس تھا، الطاف روزانہ صبح سویرے مختلف علاقوں کے دورے پر نکل جایا کرتے تھے اور شام کو واپس آجاتے لیکن ایک شام جب وہ رہایش گاہ پر واپس آیا اور رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے سے بنگلہ کے گیٹ تک چہل قدمی کر رہے تھے تو رات نو بجے کے قریب ہوٹر کی آواز سنی، چوکیدار سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وزیراعظم بھٹو دورے پر آج ہی آئے ہیں اور وہ کمشنر ہاؤس میں قیام پذیر ہیں لہذا اس وقت وہ کسی سرکاری عشائیہ سے واپس آ رہے ہیں۔ 1044277
الطاف حسین کہتے ہیں کہ: میں گیٹ پر کھڑا ہوگیا اور چند لمحوں میں وزیراعظم کی گاڑی گیٹ کے قریب پہنچ گئی چونکہ گاڑی کو ساتھ والے گیٹ کے اندر جانا تھا اس لیے اس کی رفتار بھی بہت کم تھی لہذا گاڑی جب میرے قریب سے گزری تو میں نے ویسے ہی ہاتھ ہلا دیا حالانکہ یہ جانتے ہوئے کہ اتنا اندھیرا ہے بھلا اس میں وزیراعظم مجھ پر کہاں توجہ دیں گے لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب وہ گاڑی گیٹ پر ہی رک گئی اور ان کا ملٹری سیکرٹری گاڑی سے اتر کر میری طرف قدم اٹھانے لگا۔
الطاف حسین مزید کہتے ہیں کہ: میرے قریب ٹہرے جونیئر افسر یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے اور بھاگ کر اندر چلے گئے بہرحال ملٹری سیکرٹری میرے پاس آئے اور پوچھا "آپ الطاف قریشی ہیں؟” میرے اقرار پر کہنے لگا "آپ کو وزیراعظم صاحب بلا رہے ہیں ” لہذا میں ان کے ساتھ گاڑی کے پاس گیا تو ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھولا اور کہا "آو بیٹھو ” مجھے بھٹو صاحب کی آواز آئی لہذا میں سلام کرکے بیٹھ گیا۔
گاڑی کمشنر ہاوس میں داخل ہوئی بھٹو نیچے اترے اور مجھے ساتھ لے کر کمرے میں چلے گئے، اور بیٹھتے ہی پوچھا "یہاں کیسے؟” میں نے بتایا تو پوچھا "کیا دیکھا؟” میں نے جوابا عرض کیا "غربت، افلاس اور انتظامیہ کی بے حسی ” کچھ لمحے وہ مجھے گھورتے رہے اور پھر سب کو کمرے سے باہر نکال کر مجھے کہنے لگے صبح پونے آٹھ بجے آ جاو اور ہم آٹھ بجے یہاں سے نکلیں گے اور تم جہاں چاہو مجھے لے کر جاؤ اور وہ سب کچھ دکھاؤلیکن کسی سے یہ بات مت کرنا تاکہ کسی کو اس پروگرام کا علم نہ ہو، میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
الطاف قریشی کے مطابق: میں نے بھٹو سے پوچھا اندھیرے میں آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا؟ جبکہ ہمیں ملے ہوئے دو سال ہو گئے تو بھٹو کہنے لگے کہ اوے تو تو مجھے جانتا ہے نا کے میں اپنے ساتھیوں کو قبر کے اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں۔ اور پھر کہا چل اب جاؤ صبح سویر آ جانا اور کسی کو علم نہیں ہونا چاہئے. میں جی سر کہتے ہوئے بھٹو صاحب سے ہاتھ ملا کر باہر آ نا چاہا تو بھٹو صاحب نے ملٹری سیکرٹری سے اس دوران کہا کہ یہ الطاف صبح پونے آٹھ بجے آئے گا اور ہم ناشتہ ایک ساتھ کریں گے۔ میں باہر نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ میں بہت اہم آدمی ہو چکا ہوں کیونکہ ہر کوئی مجھ سے پوچھنے لگا وزیر اعظم سے کیا باتیں ہوئیں؟ نصراللہ خٹک اس وقت وزیر اعلی سرحد تھے وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ بس یونہی میری اور میرے بچوں کی خیر خیریت پوچھ رہے تھے وہ مطمئن نہ ہوئے، لیکن میں جان چھڑا کر ساتھ والی کوٹھی میں آ گیا جہاں میرا قیام تھا۔
الطاف کے مطابق: اگلے دن میں پونے آٹھ بجے کمشنر ہاؤس ڈیرہ پہنچ گیا، وہاں بھٹو نے مجھے اندر بلوایا وہاں وزیر اعلی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دوسرے تمام بڑے بڑے انتظامی افسر موجود تھے، بھٹو نے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کیا ان کا ناشتہ جوس کا ایک گلاس، آدھا انڈہ اور ایک سلائس کے ساتھ کپ چائے تھا۔
سوا آٹھ بجے اٹھے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس وہ ہمیں لے کر باہر نکلے اور ایک بڑی جیپ میں پیچھے بیٹھ گئے۔مجھے ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دیا اور انہوں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ صرف اور صرف میری یعنی الطاف حسین کی ہدایت پر عمل کرے اور اسی طرف جائے جس طرف میں جانے کو کہوں جبکہ سکواڈ کو بھول جائے۔ لہذا میں نے سوچ کر فیصلہ کیا اور یوں ہم ٹانک کی طرف روانہ ہوگئے اب تو مجھے معلوم نہیں لیکن سن 1975 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تقریبا کوئی پانچ یا سات میل دور سڑک کے دونوں طرف ایسے ریتلے میدان جیسے کوئی صحرا ہو ۔
الطاف حسین کہتے ہیں: میں نے دیکھا شہر سے تقریبا پندرہ میل دور داہنے ہاتھ، ریتلے میدان میں ایک جھونپڑی نظردکھائی دی لہذا میں نے گاڑی رکوائی اور پھر ہم سب نیچے اترے اور ریت میں چلتے ہوئے اس جھونپڑی کی طرف روانہ ہوگئے، آگے آگے بھٹو ان سے دو قدم پیچھے میں اور پھر باقی لوگ تھے۔
ہم جھونپڑی کے باہر پہنچے تو وہاں ریت پر لکڑیاں جلائے اوپر ٹین کا بڑا سا توا رکھے ایک بوڑھی خاتون روٹیاں پکا رہی تھی اس نے اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشانی میں چلا اٹھی ، میں نے آگے بڑھ کر اسے بتایا کہ اماں ” وزیراعظم آئے ہیں ” اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے پھر کہا کہ اماں ” بادشاہ بھٹو آئے ہیں "اسے پھر بھی کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے دوبارہ کہا کہ” اماں! بادشاہ بھٹو آئے ہیں”وہ ایک دم کھڑی ہو گئی اور بھٹو صاحب نے آگے بڑھ کر اس میلی کچیلی اماں کو گلے لگا لیا۔
الطاف کہتے ہیں کہ: میں نے وزیر اعظم بھٹو کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، آ میڈا "بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے ” (اردو ترجمہ: آو میرے بادشاہ رب آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے) اس نے ڈیرے وال یا سرائیکی زبان میں کہا۔
بھٹو نے آس پاس دیکھا اور اماں سے سرائیکی زبان میں کہا "اماں بکھ لگی ہے،” روٹی ڈے سیں ؟ ( ماں بھوک لگی ہے، روٹی دوگی؟) اس نے جواب دیا: "ہا میڈا سائیں میڈا پتر ” ( جی ہاں میرا بیٹا) پھر اماں روتے ہوئے بھاگ کر اندر گئی اور میلی کچیلی چٹائی لائی اور وزیر اعظم بھٹو کو ریت پر بیٹھنے کو کہہ کردوبارہ اندر گئی اور ایک کالی سلور کی دیگچی اٹھا لائی اور اسے چولہے پر رکھ دیا، پھر سلور کی ہی پیالی میں ساگ نما چیز ڈالی اور "میڈے کول ایہو کجھ ہے سائیں” (میرے پاس یہی کچھ ہے) کہتے ہوئے چنگیر میں پڑی روٹی اور وہ سالن بھٹو کے آگے رکھ دیا۔
بھٹو نے اماں سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ اور کون رہتا ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو اور بارہ سالہ پوتا رہتا ہے، بیٹا مزدوری کرنے ڈیرے گیا ہوا ہے، بہو پانی لینے چارکوسوں دور گئی ہوئی اور پوتا ایندھن کے لیے لکڑیاں چننے گیا ہوا۔
بھٹو صاحب نے نوالہ منہ میں ڈالا تو ان کے آنسو نکل آئے سرکاری فوٹوگرافر تصویر لینے لگا تو وزیر اعظم نے کہا ” اگر اس روٹی میں ملی ہوئی ریت کی تصویر آ سکتی ہے تو میری تصویر کھینچو”۔ انہوں نے چار پانچ نوالے لیے اور پھر گھور کر نصراللہ خٹک اور دوسرے وزراء سمیت سرکاری افسروں کو انتہائی درشتی سے کہا ” آو ذرا کھا کر دکھاؤ یہ روٹی اور پھر کہا "میرے لوگوں کو روٹی نہیں ملتی اور ملتی ہے تو صرف ریت والی لہذا تم شرم کرو، خدا کا خوف کرو آگے جا کر کیا جواب دو گے؟ ظالموں کچھ تو حیا کرو، جو آتا ہے خود کھا جاتے ہو، ارے کھاؤ لیکن کچھ تو ان کو بھی دو۔
بھٹو صاحب نے اس اماں کوایک بار پھر گلے لگایا، جیب میں جو کچھ تھا نکال کر اسے یہ کہہ کر دے دیا کہ اپنے پوتے کو میری طرف سے دے دینا اور اسے سکول بھیجو تاکہ وہ ایک دن بڑا آدمی بنے، پھر وزیر اعلی کو کچھ ہدایات دیں اور ہم لوگ وہاں سے واپس چل دیئے۔
امید ہے کہ قارئین کو بھٹو کی ایک بوڑھی ماں سے ملاقات کی یہ مختصر کہانی پسند آئی ہوگی لہذا آج بھی ہمیں ایک ایسے رہنماء کی ضرورت ہے جو غریب اور عام عوام سے دکھاوے کی ہمدردی نہ رکھتا ہو بلکہ دل سے صرف اور صرف عام عوام سے مخلص ہو.
پنجاب کے ضمنی انتخابات تمام سیاسی جماعتوں کیلئے سبق آموز ثابت ہوئے ہیں۔اویس لغاری
باغی ٹی وی رپورٹ۔پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب کے جنرل سیکرٹری سردار اویس احمد خان لغاری نے اپنے فیس بک کے آفیشل اکاؤنٹ پر لکھاہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات تمام سیاسی جماعتوں کیلئے سبق آموز ثابت ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کو جیت کا اور مسلم لیگ ن کو شکست کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔
https://web.facebook.com/akleghari
پولنگ کے آخری وقت تک دھاندلی زیادتی کا شور مچانے والی پی ٹی آئی اپنی حیران کن فتح پر ہکا بکا اور پر اعتماد مسلم لیگ ن اپنی غیر متوقع شکست پر ششدر زدہ ہے۔ انہوں نے مزید لکھاکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام نے سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مہنگائی کے خلاف بھرپور ردعمل دیا ہے۔ اور دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ پونے چار سال تک پی ٹی آئی حکومت کے ظلم جبر استحصال اور انتقامی کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے مسلم لیگی کارکنوں نے اپنوں کی بجائے ماضی قریب کے مخالفین کو اپنانے کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور اختلافات کا شکار ہو گئےآئیے سبق سیکھیں اور ازسرنو صف بندی کرتے ہوئے نئ سمت کا تعین کریں۔
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
عمران خان ایک چھوٹی سی کوشش ضرور تھی لیکن عقیدہ نہیں تھا. عقیدہ اللہ رب العزت کی ذات ہے اور وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے. وہ ذات اپنے بندوں کا نہ ساتھ چھوڑتی ہے اور نہ مایوس ہونے دیتی ہے. جہاں تک بات عمران خان کی ہے تو دیگر لوگوں کی طرح مجھے بھی عمران خان سے کئی ایک اختلافات تھے، بیڈگورنس، کمزور پلاننگ اور چلے ہوئے کارتوسوں کے ساتھ میدان میں اتر کر سبھی کو ہی للکار دینا یہ سیاسی خودکشی ہی تھی جو خان نے کی اور اس کا نتیجہ بھی توقعات کے مطابق نکلا.
یار لوگ یا تو اس پورے سسٹم کو سمجھتے نہیں ہیں یا پھر عمران خان کو کچھ زیادہ ہی اوتار سمجھ بیٹھے تو اب رخصت ہوا تو مایوس ہوکر بیٹھ گئے ہیں. ہم نے نہ خان سے زیادہ توقعات باندھی تھی نہ ہم اتنے مایوس ہیں، ہاں دلگرفتہ ضرور ہیں کہ وہ ہوا کا اک تازہ جھونکا ثابت ہوا بھلے افکار سے ہی، اس نے غیرت و قومی حمیت کا درس دیا، سامراج اور یورپ کی ذہنی غلامی سے نکلنے کی ایک کوشش کی جس کا خمیازہ بھگت کر وہ واپس بنی گالا اور اپوزیشن بنچوں پر جاچکا ہے.
پاکستان کا نظام سیاست چند ایک خاندانوں، اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور دیگر کئی فیکٹرز کے چنگل میں اس بری طرح سے جکڑا ہوا ہے کہ جو موجودہ نظام کی بھول بھلیوں سے آکر اس کو بدلنا چاہے گا اس کا حشر عمران خان ہے. آپ اس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں افراد سازی کریں، فقط اپنی ہی مضبوط ٹیم تیار کریں، اپنی پلاننگ اول دن سے زمینی حقائق کی بنیاد پر کریں. اقتدار کے لیے کوئی بھی کندھا استعمال کریں گے تو وہ کندھا وقت آنے پر آپ کو جھٹک دے گا.
ہم امریکہ و روس کے فاتح ضرور ہیں لیکن امریکہ یورپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ہمت و حمیت ہمارے مقتدر لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے بھلے ہی ساری عوام "مرگ بہ امریکہ” کے راگ الاپے. یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکنز ادارے اور لابیز دنیا بھر میں حکومتیں بناتے اور بگاڑتے ہیں اس کے باوجود وہ بھی مات کھاتے ہیں اور کئی بار کھا چکے ہیں.
اپنے مایوس لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ مایوسی سے نکلیں، نہ یہ دھرتی بانجھ ہوئی ہے اور نہ ہی مملکت خداداد پاکستان کو کچھ ہوا ہے. لاکھوں قربانیوں کے بعد رمضان المبارک میں اللہ رب العزت کے اس تحفے کا مستقبل یہ نہیں ہے کہ فقط خان کی ہار پر آپ مایوس ہوکر بیٹھ جائیں. عمران خان ہرگز بھی آخری امید نہیں تھا، وہ پہلا قطرہ تھا جو آئندہ والوں کی راہیں متعین کرگیا ہے کہ دریا میں اگر مگرمچھوں سے بیر پالنا ہے تو آپ کن چیزوں سے لیس ہونے چاہیں.
باقی جہاں تک موجودہ سیاسی گدھ ٹولے کی بات ہے تو ان مفاد پرستوں سے کسی کو کوئی امید نہیں ہے یہ گِدھوں کا وہ گروہ ہے جو مردار کھانے کے لیے جمع ہوا ہے کل تک یہ سب ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹ رہے تھے آج اقتدار کے لیے باہم شیر و شکر ہیں. نہ کل یہ عوام اور ریاست پاکستان کے سگے تھے اور نہ ہی آج ان کے دل میں عوام اور ریاست کا درد ہے.
پاکستان کی قوت آپ سے ہے. قیام پاکستان کی واضح مثال ہمارے سامنے ہے. اس وقت بھی سیاسی وڈیرے، مذہبی وڈیرے اور دیگر عوام بانی پاکستان محمد علی جناح کے خلاف تھے لیکن عام مسلمان جب کھڑا ہوا تھا گوکہ قربانیاں دینی پڑی تھیں لیکن پاکستان ملا تھا کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا.
آج استحکام پاکستان کے لیے بھی آپ کو اٹھنا ہوگا. متحد ہونا ہوگا اور اس گندی سیاست کی بساط لپیٹ کر صاف ستھری انبیاء کرام والی سیاست کو رواج دینا ہوگا. وہ سیاست کہ جس میں خدمت انسانیت ہو، جس میں مظلوم کے ساتھ ظالم کے مقابل کھڑا ہونا ہو، جس میں نیکی کی بنیاد پر تعاون ہو اور جس میں عوام اور ریاست کی خیرخواہی ہو.
اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
18 اگست 2018 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن تھا کہ جب کرکٹ کی دنیا کا نامور کھلاڑی اور 1992 کے ورلڈ کپ کا فاتح کپتان یعنی عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا.یوں اگر دیکھا جاۓ تو وزیراعظم بنانا اتنا اسان تو نہ تھا تقریباً بائیس سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ کہ وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھا سکیں.
حکومت میں آتے ہی عمران خان نے سو دن کی کارکردگی کا حدف اپنی نو منتخب کابینہ کو سونپ دیا۔جس میں مختلف طرح کے حدف مقرر کیے گے۔ جن میں سے کچھ حدف مکمل کرلیے اور بعض رہ گئے. سو روز مکمل ہوتے ہی حکومت کو اپوزیشن نے ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ۔اور ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کو عدالتوں اور نیب کی جانب سے مختلف کیسوں کو سامنا کرنا پڑھ گیا۔ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بیٹی مریم نواز ، بیٹے حسن نواز اور حسین نواز ،بھائی شہباز شریف بھتیجے حمزہ شہباز یوں کہیں تو ن لیگ کی مرکزی قیادت مختلف کیسیز کا شکار ہوگئ
اسی کے ساتھ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی قیادت جن میں سرفہرست سابق صدر پاکستان عاصف علی زرداری کو نیب ریفرنسز کا سامنا کرنا پڑا. خیر وقت کا پہیہ گھماتا رہا اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔
کیونکہ آدھی سے زیادہ اپوزیشن تو جیل میں تھی حکومت کو کچھ سکون کا سانس آیا مگر اسی دوان مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا۔ ڈالر کا ریت آسمان سے باتیں کرنے لگا ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہوتی گئی کبھی آٹا کا بہران اور کبھی چینی کا بہران پیدا ہوجاتا۔ حکومت ایک مشکل سے نکلتی اور دوسری مشکل میں پھنس جاتی۔رہی صحیحی کثر covid-19 نے نکال دی پوری دنیا کو کرونا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا.
پاکستان میں بھی لاک ڈاون لگادیا گا۔حکومت کے لیے مشکل وقت تھا۔ لیکن اس وقت عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی ایک لیڈر ہیں انکو نے سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا جہاں جہاں وبا تشویشناک حد تک پھیل جاتی صرف اسی علاقہ میں 7 سے 14 روز کا لاک ڈاؤن لاگیا جاتا.
اور ساتھ میں ہی احساس پروگرام سے ذرائع پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام چلایا گیا جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے مستحق خاندانوں کو 12 ہزار ہوۓ دیے گئے تاکہ انکے گھر کا نظام چل سکے۔ عمران خان کے انہی فیصلوں کو دنیا بھر میں سہرایا گیا.اور یہی وجہ تھی کے خطہ میں سب سے کم متاثر ہونے والا ملک پاکستان تھا۔
اب بات کرتے ہیں جرنل اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خطاب کی جہاں پہلی دفعہ اسلام و فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی یوں کہیں تو مسلمانوں کے دلوں کی آواز بلند کی گئی۔ کہ ہمیں اپنے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس سے بڑھ کی کوئی چیز عزیر نہیں ہے گستاخانہ خاکوں کو روکا جاۓ۔جرنل اسمبلی میں حقیقی معنوں میں مسلمانوں کے لیے اور ہمارے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس کی خاطر کسی نے آواز اٹھائی ہے تو وہ فرد واحد عمران خان ہیں
اب آتے ہیں موجودہ سیاسی صورتحال کی جانب اس وقت اپوزیشن کی تمام جماعتوں وزیراعظم کے خلاف اتحاد کرلیا ہے۔ اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانا چاہتی ہے موجودہ وزیراعظم کسی نہ کسی طرح اتارنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن حکومتی اتحادیوں اور منحرف تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہے۔
دیکھا جاۓ تو حکومتی جماعت بھی دو واضع گروپ میں تقسیم ہوچکی ایک ترین گروپ اور دوسرا گروپ تحریک انصاف کے منحرف اراکین ھیں۔ترین گروپ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے اگر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اپنی کرسی سے استعفیٰ دیتے ہیں۔ تبھی ترین گروپ وزیراعظم کو عدم اعتماد میں ووٹ دے گا۔دوسری جانب تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی سندھ ہاوس میں قیام کرنے کی خیریں بھی منظر عام پر آگئیں سندھ حکومت کی جانب سے مکمل سہولت منحرف اراکین کو سپورٹ کی جارہی ہے۔ اپوزیشن کی مسلسل کوشش ہے کسی طرح عدم اعتماد کامیاب ہوجاۓ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو صدر اور وزیراعظم کون ہوں گے انکے ناموں کا علان بھی کردیا گیا یے۔ حکومت کے اہم اتحادی "ق لیگ” اور ” ایم کیو ایم ” سے بھی اپوزیشن کے مسلسل رابطے میں ہیں.
عمران خان نے اس صورت حال اور عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا اور فل فور عوامی رابطہ مہم یعنی جلسوں ریلیوں کا آغاز کردیا. کپتان اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ شہر در شہر جارہے ہیں اور دیکھ رہیں اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو کیا عوام ان کے ساتھ ہے کے نہیں ؟؟
کپتان ابھی تک تقریباً دس شہروں میں جلسے کرچکے ہیں یہ ماننا ہوگا کہ عوام اب بھی عمران خان پر اعتماد کرتی ہے۔
اگر دیکھا جاۓ تو پوزیشن نے یہ سوچ کر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لاۓ ہوں گے. کہ وہ عوام میں انکی مقبولیت ختم ہوچکی ہے. مہنگائی آٹا چینی اور کھاد کا بہران ہے اب انکو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانا آسان ہوگا۔میرے تجزیہ کے مطالبق اپوزیشن نے عمران خان کے لیے اگلے الیکشنز میں کامیابی کا رستہ ہموار کردیا ہے۔ کیونکہ اس وقت مہنگائی کا جن بے قابو تھا۔ملک معاشی حالات سے دوچار تھا عمران خان اور انکی حکومت اس وقت ایک گہرے گڑھے میں پھنسل چکے تھے انکے لیے الکیش جیتنا اور دوبارہ حکومت بنانا ناممکن تھا لیکن اپوزیشن اسے ممکن بناتی نظر آرہی ہے۔
کہا جاۓ تو اس وقت عمران خان کو کسی معجزہ کا انتظار تھا کہ وہ کسی طرح عوام میں اپنی قبولیت تو دوبارہ بحال کرلیں جو ہوگیا عمران خان نے فائدہ اٹھایا اور عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا دیکھا جاۓ تو عمران خان دوبارہ اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں اسلام آباد کے کامیاب جلسے نے یہ ثابت کردیا.
ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان
ٹھیک کرے گا سب کپتان
الله پاک اس وطن عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین
کالم نگار: ضیاء عبدالصمد
جی میل: ziaabdulsamad18@gmail.com
ٹویٹر اکاؤنٹ :@ZiaAbdulSamad
ڈھاکا: لاپتہ بنگلا دیشی اداکارہ رائمہ اسلام شمو کی بوری بند لاش برآمد ہوئی ہے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلا دیشی اداکارہ کی بوری بند لاش ڈھاکا کے علاقے کیرانی گنج میں ایک پل کے قریب پائی گئی پولیس کے مطابق پیر کی صبح چند مقامی افراد نے انہیں علی پور پل کے قریب لاش ملنے کی اطلاع دی رائمہ کو شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کے سبب لاش پر زخموں کے بے تحاشا نشانات پائے گئے۔
لاش ملنے کے بعد پولیس نے اداکارہ کے شوہر شخاوت علی نوبل اور اس کے ڈرائیور کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا شخاوت نے اپنی بیوی کی گمشدگی کی رپورٹ کالا بگن پولیس اسٹیشن میں درج کروائی تھی۔
کچھ گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد اداکارہ رائمہ کےشوہر نے اپنی بیوی کے قتل کا اعتراف کرلیا اداکارہ کا شوہر 3 روزہ ریمانڈ پر ہے پولیس نے اداکارہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا پولیس کے مطابق ان کے قتل کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہو سکا پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعدصورت حال واضح ہو گی-
اداکارہ رائمہ بنگلا دیش کی شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات میں شامل تھیں انہوں نے 25 فلموں اور کئی ایک ٹی وی شوز میں فنی خدمات انجام دیں انہوں نے 1998 میں فلم ’’برتامان‘‘ سے ڈیبیو کیا تھا-
لاہور: سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب میں مجھے 50 ہزار ووٹوں کی امید تھی۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان آصف زرداری نے کہا کہ پنجاب میں الیکشن مشکل نہیں ہے، ہماری اپنی کمزوریاں ہیں پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں دیں اور جیلیں کاٹیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے کل ضمنی انتخاب میں اکثریت سے ووٹ حاصل کیے ہیں مجھے 50 ہزار ووٹوں کی امید تھی آر او الیکشن کرا کے ہم سے الیکشن چھینا گیا پورے پاکستان میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں پیپلزپارٹی کا جھنڈا نہ ہو۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ہم پاکستان بچائیں گے اور آگے لے کر جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں این اے 133 پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار دوسرے نمبر پر آئے ہیں جب کہ نشست ن لیگ کی امیدوار شائستہ پرویز ملک نے جیتی ہے این اے 133 لاہور کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔