Baaghi TV

Category: معاشرہ وثقافت

  • موسیقار  کلیان جی؛ سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    موسیقار کلیان جی؛ سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے

    سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    برصغیر کے ممتاز موسیقار کلیان جی 30 جون 1928 میں گجرات ہندوستان میں پیدا ہوئے کلیان جی اور آنند جی یہ دونوں بھائی تھے اور دونوں موسیقار تھے یہ ایک ہندو تاجر ویر شاہ کے بیٹے تھے ۔ ہندوستان کی فلمی صنعت میں ان موسیقار بھائیوں کی جوڑی کلیان جی آنند جی کے نام سے مشہور ہے ۔

    انہوں نے بہت خوب صورت موسیقی دی ہے یہی وجہ ہے کہ محمد رفیع ، لتا منگیشکر ، مکیش ، کشور کمار و دیگر گلوکاروں نے ان کی موسیقی میں گانا بہت پسند کیا ہے رفیع صاحب سے ان بھائیوں کو بہت پیار تھا رفیع کی وفات کے بعد یہ لوگ ان کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے ۔

    محمد رفیع نے 188 گیت کلیان جی آنند کی موسیقی میں گائے ہیں ۔ گلوکارہ الکا یاگنک ، ادت نارائن ، ، سیندھی چوہان اور شریا گوشال کو متعارف کرانے والے یہی موسیقار جوڑی تھی انہوں نے مجموعی طور پر 250 سے زائد فلمی گیت ان کی موسیقی میں گائے گئے ہیں ۔ 24 اگست 2000 کو ممبئی میں کلیان جی کا انتقال ہوا۔ ان کے 5 بیٹے وجو شاہ، رمیش شاہ، راجیش شاہ، دنیش شاہ اور چندر کانت شاہ ہیں وجو شاہ بھی میوزک ڈائریکٹر ہیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    ہمبنٹوٹا،پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ اپنے نام کر دی
    کلیان جی آنند جی کی موسیقی میں گائے گئے چند مشہو گیت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے

    پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

    سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    تیرا ساتھ ہے کتنا پیارا کم لگتا ہے جیون سارا

    مجھ کو اس رات کی تنہائی میں آواز نہ دو

    زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی

    یونہی تم مجھ سے پیار کرتی ہو

    زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر

    میں پیاسا تم ساون میں دل تم میری دھڑکن

  • تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    ”یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔
    حب الوطنی یعنی وطن سے دلوں جان سے محبت کے ہیں۔ انسان کا یہ فطری عمل ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اس جگہ سے انسیت لگاؤ ہو ہی جاتا ہے۔ جس جگہ ساری زندگی رہا ہو آب وہوا، لوگ حتی کہ وہاں کی چیزوں سے محبت کرنا اس کے فطرت میں شامل ہوتا جاتا ہے. ہم جس جگہ پیدا ہوئے ہوں پھلے پھولے ہوں جوان ہوئے ہوں اس جگہ اس مقام کا عادی ہو جاتا ہے اور اس سے اتنی محبت ہو جاتی ہے دنیا میں کہیں بھی جائےگا اپنا وطن اس کی پہچان بنے گا.. اور ہم کتنا بھی دنیا میں گھوم آئیں جو اپنے وطن اپنی کی اپنی مٹی اپنے گھر کا سکون ہے وہ کہیں بھی نہیں ہے..
    انسان اپنے وطن سے دور ہوتا ہے تو تب ہی اس کو وطن سے محبت کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے
    وہ اپنے وطن کیی محبت میں ذاتی اغراض ومقاصد کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں

    وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے.

    وطن سے محبت ہے تو اس کا ثبوت بھی دیں۔ ملک سے رشوت، سفارش، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی،جیسے نظام کو مل کر ختم کریں ۔ یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہےاور بے شک عمل کرنا مشکل ہے. ۔ خود کو بدل لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بیداری عام کرنی ہے ہم سب کو بدلنا ہو گا.

    پاکستان جس کو دنیا کے نقشے میں ابھرے صرف 74 برس ہی ہوئے ہیں اس کا مقابلہ ان ممالک سے کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے. 237سال پہلے دریافت ہوا بھلاکیونکر درست ہو سکتا ہے۔ خدارا اپنی خودی کو پہچانیں ۔ بس ایک ہی التجا ہے موجودہ دور کی افراتفری کو خود پر حاوی مت کریں ۔

    پاکستان کلمہِٕ طیبہ”لا الہ اللہُ محمدُ الرسول اللّٰہ“ کی بنیاد پر وجود میں آیا، اس آزاد وطن کے حصول کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے مذہبی نظریات، عقاٸد، عبادات کا بھر پور تحفظ اور آزادی تھا۔ تاکہ آزاد وطن میں رہتے ہوٸے ہر مسلمان اپنے مذہب کا دفاع کرسکے.. امن، انصاف، احساس، ہمدردی، اور دوسروں پر احسان کرنے کو ترجیع دیں ، دوسروں کو ترقی کرتے دیکھ کر دلی مسرت محسوس کریں اللّہ ہم سب کو منافقت کینہ بغض جیسی گندی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح معاشرہ تشکیل دے سکیں. اللّہ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • معاشرے کا انسان ننگا کیوں؟ تحریر: محمد اسامہ

    معاشرے کا انسان ننگا کیوں؟ تحریر: محمد اسامہ

    پاکستان میں جنسی استحصال کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے. یہاں تک کہ 6 سال کے بچوں جنسی زیادتی کی جارہی ہے. جنسی استحصال کی شدت میں کئ عوامل پائے جاتے ہیں.
    کچھ دن پہلے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتی زیادتیوں کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ
    مرد کوئی روبوٹ نہیں، عورت کے مختصر لباس سے مرد کے جذبات بھڑک جاتے ہیں.
    اس بیان کو لے ملک کے سوشل میڈیا اور الکٹرانک میڈیا پر ردعمل دیکھنے کو ملا ہے. لوگوں میں مختلف رائے پائ جاتی ہے. کچھ لوگ اس بیان کی حمایت کرتے ہیں. کچھ لوگ اس بیان کی مخالفت کرتے ہیں. مزے کی بات یہ ہے کہ حمایت کرنے والے بھی کلمہ گو ہیں اور اختلاف کرنے والے بھی کلمہ گو ہیں. پاکستان کی قوم کا ایک مسئلہ ہے کہ ان کے زیر بحث کوئی موضوع آنا چاہیے، پھر وہ دھڑا دھڑ اپنی آراء دیتے چلے جاتے ہیں. ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے کیا نتائج اخذ کیے جائیں گے! بس اختلاف رائے کی آڑ میں اپنی رائے کو مقدم بنا لیتے ہیں. اپنے نظریہ، مقصد زندگی کو پست پشت ڈال دیتے ہیں. یہاں تک کہ اسلامی احکامات کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے.
    پاکستان جیسے اسلامی ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتی زیادتیوں کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے. حیرانی اس بات کی ہے کہ 6 سال کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے. یہ ایسے دل دہلا دینے واقعات ہیں جن پر بات کرتے ہوئے جسم کانپ جاتا ہے، ان واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے.
    ہمارے معاشرے میں شعور اور تربیت کا معیار ناپید ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں بے حسی اور بے روا روی پیدا ہوچکی ہے. بچوں کے ساتھ ایسا تشدد کیا جا رہا ہے جو ایک بھیڑیا چرواہے کے ریوڑ کے ایک چھوٹے میمنہ کے ساتھ کرتا ہے.
    تربیت کا آغاز والدین کی گود سے ہوتا ہے. والدین کے ذمہ داری میں اخلاقی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ جنسی تربیت کی بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے. ہمارے معاشرے کے والدین اپنی اولاد کو جنسیت کے بارے میں کچھ نہیں سمجھاتے ہیں بلکہ بچوں کو اپنے دوستوں سے سیکھنے کو ملتا ہے. بچوں کو اسکا شعور نہیں ہوتا ہے، جنسی لزت میں ایسے لگ جاتے ہیں کہ واپسی تقریباً نا ممکن ہوجاتی ہے. ایک درمیانے طبقے کے گھر میں بچپن سے بچوں کو اپنے مقابل جنس سے دور رہنے کا کہا جاتا ہے، اس سے دور رہنے کی وجہ نہیں بتلائ جاتی ہے، تجسس میں مبتلا کر بچے کو کنفیوز دیا جاتا ہے. دوسرا ایلیٹ کلاس طبقے کے گھروں کا آزادانہ ہوتا ہے، ان گھروں میں برابری کے نام پر جنس کا فرق ہی نہیں کیا جاتا ہے، دونوں جنس ایک دوسرے کا ساتھ آزادی اظہار کیلئے آزاد ہوتے ہیں. یہاں تک تو غلطی والدین کی ہوتی ہے.
    تعلیمی عمر کے دوران بھی بچوں کو اپنی عزت بچانا مشکل ہوجاتا ہے. مدرسے جن میں احکام الٰہی پڑھاۓ اور سکھاۓ جاتے ہیں وہاں بھی بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں، دین کا علم دینے والا استاد اپنے ہی معصوم شاگرد سے جنسی لزت کو پورا کرتا ہے. اس معاشرے کا مستقبل کیسا ہوگا جہاں دین کا علم دینے والے ہی احکام الٰہی کی مخالفت کرتے ہوں! اسی طرح دنیاوی تعلیم دینے والے اداروں میں جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے. استاد کا اپنے شاگرد سے افئیر چلتا ہے، کلاس کے طالب علم آپس میں افئیر چلاتے ہیں. یہ افسوس ناک منظر ہماری تربیت گاہوں کا ہے. ان کمزوریوں سے لوگوں آپس میں لڑوانے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، اپنے آپ کو نیوٹرل سمجھنے والا ان لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے.
    آخر بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے! جب سے دنیا بنی ہے خواتین سے زیادتی کے واقعات تو ملتے ہیں، بچوں کی حد تک جانا یہ عمل تشویشناک ہے.
    قدرت نے جسم میں پیدا ہونے والی جنسی خواہش کو پیٹ میں لگنے والی بھوک سے مشابہت دی ہے. جنس کی بھوک کھانے کی بھوک سے بہت خطرناک ہے. جب جسم کو جنسی بھوک کی طلب ہوتی ہے تو وہ کہیں نا کہیں سے اپنی خوراک حاصل کرلیتا ہے، اسی لیے اسلام نے بالغ ہوتے ہی بچوں کو نکاح کے بندھن میں باندھنے کا کہا ہے. مغرب کی بات کی جائے تو وہاں جنس کی بھوک کو دور کرنا مشکل نہیں ہوتا کیونکہ وہاں حلال، حرام کا کوئی تصور نہیں ہے. اسلامی معاشرے میں حلال، حرام کا تصور پایا جاتا ہے تو پھر معاشرے کے لوگوں کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو اس بھوک میں پڑنے ہی نا دے، جیسے والدین اپنی اولاد کیلئے وقت پر خوراک کا بندوبست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے ہی اپنی اولاد کیلئے انکی جنس کی ضرورت کو بروقت پورا کرنے کیلئے انکا نکاح کریں. یہ فطرت ہے کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے.
    معاشرے میں ضد بازی اور انا پرستی عروج پر پائ جاتی ہے، معاشرے میں اکثر معاملات ضد اور انا پرستی کی وجہ سے حل کی طرف نہیں جاتے ہیں. جیسا کہ مولوی حضرات نے صرف ایک پہلو کو سامنے رکھا ہوا ہے. ان کا صرف یہی کام رہ گیا ہے کہ کلمہ گو لوگوں کو جہنمی قرار دیا جائے، زنا جیسے کبیرہ گناہ ہر ہونے والی سزائیں بتائ جاتی ہیں مگر اس گناہ سے بچنے کا کوئی حل نہیں بتایا جاتا، نکاح کو عام کرنے کی بات کرتے ہیں، مگر مولوی حضرات کے گھروں میں بھی دنیا داری کی شرائط پر رشتہ طے کیا جاتا ہے، اسلامی تقاضوں کو دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے. دوسری طرف ہمارے معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ جو خود کو صرف مسلمان سمجھتا ہے وہاں تو نکاح کا تصور ہی کم ہوتا جا رہا ہے. بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ تک محدود ہوتے جا رہے ہیں. وہ مولوی کو صرف مسجد کا امام تک ہی محدود سمجھتے ہیں. باقی احکامات کے فیصلے خود ہی کرلیتے ہیں. معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طبقوں کے لوگوں نے صرف کنفیوژن ہی پھیلائ ہے.
    ان دونوں طبقوں میں علم کی زیادتی اور شعور کی کمی پائ جاتی ہے. علم تو اپنی اپنی جگہ بھرپور ہے، شعور نام کی کوئی چیز نہیں ہے. دونوں طبقوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق ایک دوسرے کی طرف انگلی اٹھائ ہے. کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں. ایک دوسرے کو نیچا کرنے اور مرد الزام ٹھہرانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے. یہ نہیں سوچتے کہ جن لوگوں کیلئے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائ جا رہی ہیں، ان کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ مزید مشکل میں پھنس جاتے ہیں. سیدھے الفاظ میں ہمارے معاشرے کا ہر فرد کنفیوز زندگی گزار رہا ہے، دین دار گھرانہ دین پر چل رہا ہے اور دنیا دار گھرانے دنیا کے معاملات کو سامنے رکھ اپنی زندگی گزارتے ہیں. رہی سہی کسر عورت مارچ والوں نے نکال دی ہے. عورتوں کے حقوق کے محافظ سمجھنے والی عورت مارچ کی تنظیم کا بھی ذکر کرلیا جائے، وہ خود کو عورتوں کے حقوق کے علمبردار سمجھتے ہیں، انہوں نے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے کے سواۓ لوگوں کو مزید کنفیوز کردیا ہے . عورتوں پر یہ کوئی ظلم نہیں ہے کہ وہ گھر میں بچوں کو سنبھالتی ہے، کھانا بناتی ہے گھر والوں کے نخرے برداشت کرتی ہے. بلکہ عورتوں پر ظلم تو یہ ہے کہ ان سے پوچھے بغیر انکی شادی کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے، چھوٹی سی بات پر طلاق یافتہ کی مہر لگا دی جاتی ہے، معمولی سی بات پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے، جہیز جیسی لعنت نا ہونے پر نکاح مشکل بنا دیا ہے. مگر آپ کا نکاح سے کیا تعلق آپ تو عورتوں کے تحفظ کی آڑ میں نکاح کے خاتمے کا باعث بن رہے ہیں. آپ واقعتاً عورتوں کے حقوق کا بیڑا اٹھانا چاہتے ہیں تو پہلے عورتوں پر ہونے والے مظالم کا واضح فرق تلاش کریں.
    جنسی زیادتی جیسے گھناؤنے جرم کو روکنے کیلئے دونوں طبقوں کے لوگوں کو دینی اور دنیاوی شعور حاصل کرنا ہوگا.
    ضد اور انا پرستی کو چھوڑ کر معاشرے کیلئے سوچنا ہوگا. مولوی کو چاہیے وہ صرف دینی علم پر اکتفا نا کرے بلکہ دنیاوی تعلیم بھی حاصل کرے، اسی طرح دنیا دار طبقے کو بھی چاہیے کہ صرف دنیاوی علم پر اکتفا نا کرے بلکہ دین کے علم کو بھی سمجھیں.
    وزیر اعظم کے بیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم اسلامی معاشرے کے باشندے ہیں ہمیں اسلام نے حدود میں رہنے کا حکم دیا ہے، عورت کو الله نے بڑا دلکش بنایا ہے. جس کو دیکھتے ہی مرد کے جذبات بھڑک جاتے ہیں.
    میرے نزدیک جنسی زیادتی جیسے گھناؤنے جرم کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے نکاح کو آسان اور عام کیا گیا جائے یا پھر معاشرے میں جنس کی کنفیوژن کو ختم کر دیا جائے.

    @its_usamaislam

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ اور ہم سب مسلمان ہیں ۔ حج کرنے ، عمرہ کرنے ، خیرات دینے میں پاکستانیوں کا دنیا میں اور کوٸی ثانی نہیں اور الحَمْدُ ِلله ہمیں اس بات پر فخر ہے ۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر انسان پریشانیوں ، دکھوں ، اور تکیلفوں میں کیوں گھرا ہوا ہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک اللہ کو ماننے والے ، سارے اختیارات کا مالک صرف اللہ پاک کو ماننے والے ، حاجت روا صرف ایک اللہ کو ماننے والے ، ہم لوگ آخر بے چینیوں اور تکلیفوں کا شکار ہیں کیوں ؟

    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاٸیں اور اپنی معاشرتی زندگی پر غور کریں تو ہمیں اپنے اردگرد جھوٹ ، بددیانتی ، بد لحاظی ، منافقت ، نفرت ، فساد ، رشتوں سے الجھاٶ ہر جگہ کثرت سے نظر آٸے گا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اسلام کو ماننے والے ، ایک اللہ کو قادر مطلق سمجھنے والے ، خود کو مسلمان کہنے والے اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں کہ ہم جھوٹ بولنا حق سمجھتے ہیں ،ڈاکہ زنی لوٹ مار ، کسی مسلمان کا حق کھانا ، ناپ تول میں کمی کرنا ، والدین کی گستاخی کرنا ، کسی مسلمان کی چغلی اور غیبت کرنا ، کسی بھولے بھالے مسلمان پر بہتان لگانا ، الزام تراشی کرنا معیوب نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ ہمیں ہمارا اسلام ان سب باتوں سے سختی سے منع کرتا ہے ۔ اسلام میں چغل خور کو شیطان کا بھاٸی کہا گیا ہے تو کہیں غیبت کو اپنے مردہ بھاٸی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔ کہیں دکھاوے کی مذمت کی گٸی ہے تو کہیں مسلمان کا راز فاش کرنے والے کو یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان کے کسی راز کو فاش کرے گا تو اللہ بھی اسے ذلیل و رسوا کر دے گا ، کہیں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے تو کہیں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے واقعات بتا کر عبرت حاصل کرنے کی تنبیہ کی گٸی ہے ۔ کہیں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا رکھی گٸی ہے تو کہیں زنا اور شراب پر حد مقرر کی گٸی ہے ۔ اور بات مختصرا یہ کہہ دی گٸی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا ۔ قصور وار کون ؟ کیا ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجہ ہم خود تو نہیں ؟ کیا ہم صرف نام کے مسلمان تو نہیں ؟ کیا ہم نے اسلام کا صرف نام سنا ہے یا اسلام کو پڑھا بھی ہے کہ اسلام کہتا کیا ہے ؟ اگر ہم ان چند سوالوں پر غور کریں توبات سامنے یہ آتی ہے کہ ہم صرف پیداٸشی مسلمان ہیں جنہوں نے اسلام کا صرف نام ہی سن رکھا ہے ۔ اگر ہم نے اسلام پڑھا ہوتا تو ہمیں پتہ ہوتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اور اللہ نے ہمیں چغلی ، غیبت ، بے حیاٸی ، شراب جوٸے ،چوری ، جھوٹ ، بہتان سے نا صرف منع کیا ہے بلکہ اس پر سخت وعیدیں بھی آٸی ہیں ۔ ہم لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ہمارے کیا حقوق ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا کہ ہمارے فراٸض کیا ہیں ۔ والدین اولاد کا حق دینے کو تیار نہیں تو اولاد والدین کو بوجھ سمجھ رہی ہے ، سسرالی رشتوں کے ساتھ جو ہمارا رویہ ہوتا ہے وہ تو اللہ کی پناہ ۔ ساس یہ تو چاہتی ہے کہ بہو بیٹی بنے لیکن خود بہو کو بیٹی سمجنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح بہو یہ تو چاہتی ہے کہ ساس سسر اپنی بیٹی سے زیادہ بہو کا خیال رکھیں لیکن بہو خود اپنے ساس سسر کو والدین کا درجہ دینے کو تیار نہیں ، عورتیں صرف اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے دلوں میں ان کی دادی ، پھوپھو ، چچا جیسے مقدس رشتوں کے لیے نفرت ڈال رہی ہیں جبکہ مرد اپنے بچوں کے سامنے اپنے بچوں کی امی ، اس کے والدین اور بہن بھاٸیوں کو برا بھلا کہتے ہیں جس کی وجہ سے اولاد کے دل میں ماں کے مقدس رشتوں کے لیے بغض اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس طرح جب مرد اور عورت اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے لڑاٸی جھگڑا کرتے ہیں تو بچے بھی والدین کی عزت و احترام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ جب والدین بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں تو بچے بھی ایسی ہی تربیت پاتے ہیں ۔ ہم اپنی خود غرضی اور لالچ کی بنا پر اپنے خون پسینے کی کماٸی کو جھوٹی قسم اٹھا کر ، ناپ تول میں کمی کر کے ، اپنے ڈیوٹی کے گھنٹوں میں کمی بیشی کر کے حلال سے حرام میں بدل دیتے ہیں ۔ اور جب ہمارا کھاناپینا حرام ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے گھروں میں نااتفاقی ، ناچاکی اور نفرتیں جنم لیتی ہیں ۔ بیوی کو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ جس ساس کے خلاف وہ اپنے شوہر کے کان بھر رہی ہے وہ اس کے شوہر کی جنت ہے ایسی عورتیں اپنے ہم سفر اپنے مزاجی خدا کی جنت خود اپنے ہاتھوں برباد کر رہی ہوتی ہیں ۔ استاد اپنے فراٸض بھول کر بس اپنی تنخواہ کے چکروں میں پڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے آج کے طالب علم کے پاس علم کا تو ذخیرہ ہوگا لیکن وہ تربیت سے بالکل خالی ہوگا ۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں اعلی مقام حاصل کر سکیں ۔ اپنے غموں اور پریشانیوں کا خاتمہ کر سکیںتو ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کا مطالعہ کر کے سچے پکے مسلمان بنیں اور پھر اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کریں ۔ ہماری مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پر عمل سے ہی ممکن ہے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے پہلے اسلامی تعلیمات کو جاننا ضروری ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔
    آمین

  • دبئی میں ہر روز چار سو افراد کو مفت کھانا کھلانے والا پاکستانی کون ہے ؟

    دبئی میں ہر روز چار سو افراد کو مفت کھانا کھلانے والا پاکستانی کون ہے ؟

    دبئی کے علاقے ستوا کی گلی الدیافہ میں ایک ایسے پاکستانی نژاد کینیڈین شخص قیام پزیر ہیں جو ہر روز شام سات بجے 400 سے زائد مستحق افراد کو مفت کھانا کھلاتے ہیں اور ڈھیروں دعائیں سمیٹتے ہیں ،
    اس پاکستانی نژاد کا نام شاہد محمود ہے اور دبئی میں ارباب کے نام سے جانے جاتے ہیں، پاکستان میں پیدا ہوئے اور بعد میں کینیڈا چلے گئے ، کاروبار کیا پیسہ کمایا اور اپنی بقیہ زندگی گزارنے کیلئے دبئی آ گئے، شاہد محمود کیمطابق ایک دن وہ ایک سٹور سے آ آ آئسکریم خرید رہے تھے اور ایک عورت حسرت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی ، مجھے خیال آیا کہ یہ ضرور بھوکی ہے میں نے ایک آئسکریم اس کیلئے بھی خریدی اور اسے کھانے کیلئے پیش کی تو اس کی خوشی دیدنی تھی ، اور اس کو خوش دیکھ مجھے جس قدر سکون و اطمینان نصیب ہوا وہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ،
    اس کے بعد میں اپنی خوشی کو بڑھانے کیلئے غریبوں میں خوشیاں بانٹنا شروع کر دیں، غریبوں کو کھانا کھلانے کا کام شاہد نے آج سے تین سال پہلے شروع کیا ، اور آج دبئی کے علاقے ستوا میں ہر شام سات بجے ہر عمر کے افراد کھانا لینے کیلئے لائنوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، شاہد ہفتے کے تین دن لوگوں میں پیزا سلائسز بانٹتے ہیں اور باقی دن چاول ، چکن اور دوسری غزائیں تقسیم کرتے ہیں ،
    شاہد کا کہنا ہے کہ وہ ہر روز لوگوں کو کھانا کھلانے کیلئے 1500 درہم خرچ کرتے ہیں لیکن اس کام کے نتیجے سے ملنے والی خوشی کا تعین کرنا ممکن نہیں کیونکہ بھوکے کو کھانا کھلا کر ڈھیروں دعائیں سمیٹی جا سکتی ہیں ،

  • "لاہور سے پانچ من مینڈک پکڑے جانے والی خبر میں کتنی صداقت ہے” تحریر:  محمد عبداللہ

    "لاہور سے پانچ من مینڈک پکڑے جانے والی خبر میں کتنی صداقت ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    نیوز چینلز کے مطابق راوی کے پل سے پانچ من مینڈک کے ساتھ ملزمان کو مجاہد اسکوڈ نے پکڑا اور تھانہ شاہدرہ کے حوالے کردیا جبکہ تھانہ شاہدرہ میں کال کرنے پر وہاں کے ذمہ داران نے مجھے بتایا کہ ہمارے پاس ایسے کوئی مجرم نہیں لائے گے. پولیس کے دیگر ذرائع سے دریافت کرنے پر وہ مینڈک والی خبر کی تردید کرچکے ہیں کہ ہمارے علم میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی. اسی طرح پنجاب فوڈ اتھارٹی کی انتظامیہ سے بھی ابھی میری بات ہوئی ہے اور وہ بھی لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہی یہ نیوز سنی ہے. اور اس خبر کو تیسرا دن ہونے کو آیا ہے لیکن تاحال مبینہ ملزمان کو کسی کورٹ وغیرہ میں پیش نہیں کیا گیا کیونکہ ملزم کو لازمی طور پر چوبیس گھنٹے کے اندر اندر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے. لیکن سوشل میڈیا پر اس اسٹوری اور نیوز کو لے کر طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے. اس فیک نیوز سے سینکڑوں کہانیاں بنائی جاچکی ہیں. کتنے ہی لوگ جو چکن سے فاسٹ فوڈ تیار کرتے ہیں وہ ان نیوز کو لے کر اپنے کاروبار کے لیے بہت فکر مند ہیں.اسی طرح بار بار مختلف فضول قسم کی پوسٹس پڑھنے اور دیکھنے کے بعد لوگوں کے لیے کچھ بھی کھانا ناپسندیدہ بنتا جا رہا ہے.
    دوستو اسلام ہمیں اسی لیے یہ بات بڑی واضح طور پر بتاتا ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی خبر پہنچے تو اس کی کنفرمیشن کتنی ضروری ہے. میڈیا اور نیوز سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ کوئی بھی ٹیبل اسٹوری یا فیک نیوز گھڑ کر کسی نیوز ایجنسی کے ذریعے تمام چینلز اور اخبارات تک پھیلا دینا کتنا آسان ہوتا ہے اور آگے نیوز چینلز اور اخبارات بھی ریٹنگ کے چکر میں اس طرح کی نیوز کو مرچ مصالحہ لگا کر صحیح اچھالتے ہیں. اپنے سوشل میڈیا کے دوستوں سے بھی کہنا چاہوں گا کہ کوئی بھی نیوز ملنے کے بعد اس کو دیکھ لیا کریں اور اس کے مضمرات کا بھی جائزہ لے لیا کریں. نعمان علی ہاشم کی یہ بات بالکل درست لگتی ہے کہ ہمیں حرام چیزوں سے زیادہ جو باتوں کا چسکہ لگ چکا ہے وہ زیادہ خطرناک ہے.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔

    سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔

    میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔

    کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔

    اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔

    نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین

  • پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    انسانی زندگی کا انتہاٸی لازمی جزو پانی جس کے بغیر کوٸی بھی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا ۔ انسانی زندگی میں پانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کھانا بنانے سے لے کر اپنے نہانے ، کپڑے دھونے ، برتن دھونے ، گھر کی صفاٸی ، اپنی ذات کی جسمانی صفاٸی کے لیے بھی پانی کا طلب گار ہے ۔ پانی کی اس اہمیت کے باوجود انسان اس قدرتی نعمت کی بے قدری کر کے اپنے لیے مختلف مساٸل پیدا کر رہا ہے ۔ پاکستان میں قدرتی آبی وساٸل کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پانی کے ذخاٸر میں دن بدن کمی آرہی ہے ۔ اگر پانی کی قلت میں اس طرح اضافہ ہوتا رہا تو خدشہ ہے کہ ایک دن انسان کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوگا اور اس قلت کی وجہ سے انسانوں اور دیگر جانداروں کا وجود خطرے میں پڑ جاٸے گا ۔پانی کی مسلسل کمی کی کچھ وجوہات درج ذیل ہیں ۔

    پانی کا غیر ضروری استعمال بڑھ رہا ہے ۔ جن علاقوں میں پانی کی صورتحال ٹھیک ہے وہاں لوگوں کی بڑی تعداد پانی کا بے دریغ استعمال کرتی ہے ۔ پانی کا نل کھلا چھوڑ دینا ، آٸے دن کپڑوں اور گھروں کا دھونا اور اس معاملے میں پانی کا ضیاع عام سی بات ہے ۔

    آبادی میں اضافہ کی وجہ سے بھی پانی کی ضرورت میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آبادی تو مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن پانی کے ذیادہ استعمال کی وجہ سے پانی مسلسل کم ہوتا جارہا ہے ۔

    پاکستان میں ڈیمز اور پانی کے دیگر ذخاٸر کا خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتیں اس طرف توجہ دے رہی ہیں ۔ جب کہ ہمارے دو ہمساٸیہ ممالک بھارت اور چین پانی کے ذخاٸر کے لیے آٸے دن ڈیمز تعمیر کر رہے ہیں ۔ تاکہ انہیں پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ جب کہ پاکستان میں جو بھی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے وہ عوامی مساٸل کی بجاٸے اپنے اقتدار کو قاٸم رکھنے کی طرف توجہ دیتی ہے ۔

    پانی کے مساٸل کے حل کے لیے بناٸی گٸی ناقص پالیسیوں اور پھر ان پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

    پانی کی ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنیں بھی پانی کے ضیاع کا اہم سبب ہیں

    موسمیاتی تبدیلیاں بھی پانی کی قلت کی وجہ بن رہی ہیں ۔گرمی میں دن بدن اضافہ کی وجہ سے پانی کا استعمال ذیادہ بڑھ رہا ہے ۔

    پاکستان دنیا میں پانی کے استعمال کی وجہ سے چوتھے نمبر پر ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان گورنمنٹ سے لے کر عام آدمی تک سب کے سب اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پانی کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کریں ۔ جو پانی کثیر تعداد میں سیلاب کی صورت ہمارا جانی و مالی نقصان کرتا ہے اسے محفوظ کرنے کے منصوبے بناٸیں جاٸیں ۔ ذیادہ سے ذیادہ درخت لگاٸیں جاٸیں تاکہ گرمی کی شدت میں کمی لاٸی جاسکے ۔ پانی کے ذخاٸر کے لیے ڈیمز بناٸے جاٸیں ۔ پانی کا استعمال اسلامی تعلیمات کے مطابق کیا جاٸے ۔ حکومت کوچاہیے کہ پانی کے ذخاٸر کے حوالے سے اعلی سطحی پالیسیاں بناٸے اور ان پالیسیوں پر عمل در آمد کرواٸے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھ کر پالیسیاں بناٸے نہ کہ صرف اقتدار کی ہوس پوری کرے ۔ ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنوں کی مرمت کی جاٸے تاکہ پانی ضاٸع ہونے سے بچ سکے ۔ فیکٹریوں کا گندہ پانی دریاٶں اور ندی نالوں میں داخل ہونے سے روکا جاٸے تاکہ جو پانی دستیاب ہے وہ تو قابل استعمال ہی رہے ۔

    ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم لوگوں نے شاید کبھی اپنے وطن کو اپنا گھر ہی نہیں سمجھا ۔ جو قوم اپنی موٹر ساٸیکل سے پیٹرول ختم ہونے کے بعد موٹر ساٸیکل کو بیچ سڑک لٹا کر چلانے کے قابل بنا لیتی ہے ، جو قوم اپنے پرانے کپڑے ضاٸع کرنے کی بجاٸے انہیں سلیپنگ ڈریس بنا لیتی ہے وہ قوم اپنے پیارے وطن کے قدرتی وساٸل کا اس طرح بے دریغ استعمال کرتی ہے جیسے لوٹ سیل لگی ہوٸی ہو ، یا پھر ہم کسی دشمن ملک پر حملہ آور ہیں کہ اسے تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران ۔ پھر ایسی عوام پر حکمران بھی ایسے مسلط کر دٸیے جاتے ہیں جیسے عذاب الہی کا نزول ہوں ۔ پھر یہی حکمران کبھی ڈیمز کے نام پر بھاری بجٹ مختص کر کے ہڑپ جاتے ہیں تو کبھی قوم سے ڈیمز کے نام پر چندہ اکٹھا کر کے ساری دنیا کے سامنے کشکول پھیلا کر پھر وہی پیسہ صرف اشتہارات پر لگا کر ختم کر دیتے ہیں ۔ اللہ پاک ہمیں عقل سلیم عطا فرماٸے تاکہ ہم اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھ کر اس کا خیال رکھیں ، اس کے وساٸل کو تحفظ دیں اور ہم ایسے حکمران منتخب کر سکیں جو وطن پاکستان کے ساتھ مخلص ہوں ۔ آمین

  • انڈیا میں دو مینڈکوں کی طلاق کیوں کروائی گئی ؟

    انڈیا میں دو مینڈکوں کی طلاق کیوں کروائی گئی ؟

    پاکستان کے پڑوس ملک بھارت سے بت پرستی کے عجیب و غریب واقعات کی خبریں اکثر اوقات آتی رہتی ہیں ، جن میں ایسے واقعات بھی شامل ہوتے ہیں جو کہ انسانی عقل ماننے سے انکار کر دیتی ہے ، اسی طرح کا ایک واقع بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا ہے جہاں دو مینڈکوں کی طلاق کروا دی گئی جن کی شادی دو ماہ پہلے ہوئی تھی،
    تفصیلات کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں آج سے دو ماہ پہلے بارشیں نہ ہونے کے سبب شدید قحط کی صورتحال برپا تھی،جس سے چھٹکارا پانے کیلئے دو مینڈکوں کی شادی کروا دی گئی، یہ عمل ہندو مذہب کے بارشوں کے خدا اندرا کو خوش کرنے کیلئے کیا گیا تھا ، لیکن بھوپال کی حالیہ صورتحال ایسی ہے کہ شدید بارشوں سے جل تھل ایک ہو گیا ہے اور اب بارشوں سے چھٹکارا پانے کیلئے ہندو پنڈتوں نے ان دونوں مینڈکوں کی طلاق کروا دی گئی