Baaghi TV

Category: کشمور

  • کندھ کوٹ: ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

    کندھ کوٹ: ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

    کندھ کوٹ (نامہ نگار) میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ کے ریٹائرڈ ملازمین نے اپنی واجب الادا تنخواہوں، ڈیفرنس اور نئی مقررہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کلب کندھ کوٹ کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور میونسپل انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

    احتجاج کے دوران یعقوب شیخ، سرداران شیخ، مائی منیران شیخ، مائی شانی، نبی بخش شیخ، ماروی شیخ اور غلام شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریٹائر ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے، مگر تاحال نہ تو ان کی بقایاجات تنخواہیں ادا کی گئی ہیں اور نہ ہی ڈیفرنس اور نئی تنخواہیں جاری کی گئی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل میونسپل کمیٹی کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں مگر عملہ ملنے کو تیار نہیں اور کلرک ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے اور بچے بھوک برداشت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ قرض خواہ روزانہ تنگ کر رہے ہیں۔

    مظاہرین نے میونسپل کمیٹی کے چیئرمین میر غلام راشد خان سندرانی، سی ایم او مقصود جتوئی اور دیگر متعلقہ افسران سے فوری طور پر بقایاجات تنخواہیں، ڈیفرنس اور نئی تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

  • کندھ کوٹ میں میونسپل کمیٹی کی نااہلی، وارڈ نمبر 12 بنیادی سہولیات سے محروم

    کندھ کوٹ میں میونسپل کمیٹی کی نااہلی، وارڈ نمبر 12 بنیادی سہولیات سے محروم

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمختیاراحمداعوان)کندھ کوٹ میں میونسپل کمیٹی کی ناقص کارکردگی، مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کے باعث شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ وارڈ نمبر 12 سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ کی نااہلی، ٹاؤن میونسپل آفیسر (ٹی ایم او) کی عدم توجہی اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی پر مامور وائس چیئرمین شیر محمد سھریانی کی مبینہ غفلت کے باعث وارڈ نمبر 12 میں تمام ترقیاتی منصوبے عملی طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 12 کی گلیاں، نالیاں اور آمد و رفت کے روڈز کئی برسوں سے تعمیر اور مرمت سے محروم ہیں۔ ہر سال ترقیاتی بجٹ مختص کیے جانے کے باوجود زمینی سطح پر کسی قسم کا عملی کام نظر نہیں آتا، جبکہ علاقہ مکینوں کا الزام ہے کہ یہ ترقیاتی فنڈز مبینہ طور پر ہڑپ کیے جا رہے ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق موجودہ مالی سال میں بھی ترقیاتی فنڈز صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں اور فیلڈ میں کسی قسم کی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

    شہر کی اہم شاہراہیں بالخصوص گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول روڈ شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں، جہاں جگہ جگہ گڑھے، ٹوٹا ہوا اسفالٹ اور جمع شدہ گندا پانی شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ وارڈ نمبر 12 کی بیشتر گلیاں کیچڑ، گندے پانی اور ٹوٹے پھوٹے راستوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جس کے باعث بزرگوں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث معمولی بارش میں بھی گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے، جس سے ملیریا، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وائس چیئرمین شیر محمد سھریانی کی نگرانی میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں میں یا تو ناقص میٹریل استعمال کیا گیا یا پھر کام سرے سے شروع ہی نہیں کیا گیا، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں منصوبے مکمل ظاہر کر دیے گئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہ صورتحال میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ میں جاری مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کی واضح مثال ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد بلدیاتی نظام سے اٹھتا جا رہا ہے۔

    شہریوں اور سیاسی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ، ٹی ایم او اور وائس چیئرمین کے کردار کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 12 سمیت دیگر علاقوں کے ترقیاتی بجٹ کا مکمل آڈٹ کر کے مبینہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور بلدیاتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔

  • کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی،نامہ نگار)کندھ کوٹ میں واقع بینک اسلامی کی ایک برانچ اور معروف فلاحی ادارے HANDS NGO کے خلاف امدادی رقوم کی ادائیگی کے عمل میں مبینہ رشوت خوری، بدانتظامی اور مستحق افراد کے استحصال سے متعلق نہایت تشویشناک شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امدادی اقساط کے حصول کے لیے بینک آنے والے مستحق خواتین اور مردوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بینک اسلامی کی متعلقہ برانچ کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کے ذریعے رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی ان کی امدادی رقم جاری کی جاتی ہے۔ متاثرین کے مطابق غریب اور نادار افراد صبح سویرے سے شام تک طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں انہیں نہ صرف شدید ذہنی اذیت بلکہ توہین آمیز رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کے حصول کے لیے آنے والے مستحق افراد سے مختلف بہانوں کے تحت پیسے طلب کیے جاتے ہیں، جو فلاحی نظام کی روح کے سراسر منافی اور کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔ شکایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو ادائیگی کے بغیر بار بار واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ رشوت دینے والوں کو فوری سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ اور سنگین شکل اختیار کر گئی جب اس معاملے پر دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی۔ بینک اسلامی کے عملے کا مؤقف ہے کہ بینک کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کا تعلق HANDS NGO سے ہے اور بینک انتظامیہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دوسری جانب HANDS NGO کی انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ افراد بینک انتظامیہ کے مقرر کردہ ہیں اور این جی او کا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔

    دونوں اداروں کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے باعث غریب اور مستحق عوام شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف فلاحی اداروں اور بینکاری نظام کی ساکھ پر سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ مستحق افراد کے بنیادی حق پر کھلا ڈاکا بھی ہے۔

    شہریوں اور متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اعلیٰ حکام اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، بینک اسلامی اور HANDS NGO کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اگر کسی بھی ادارے یا فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ان کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    عوام کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کا مقصد غریب اور مستحق افراد کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات، ذلت اور استحصال کا شکار بنانا۔ اگر ایسے اقدامات کو روکا نہ گیا تو فلاحی نظام سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔

  • کندھ کوٹ : ٹریفک حادثہ، ٹرک کی ٹکر سے دو نوجوان جاں بحق

    کندھ کوٹ : ٹریفک حادثہ، ٹرک کی ٹکر سے دو نوجوان جاں بحق

    کندھ کوٹ(نامہ نگار) انڈس ہائی وے انڑ واہ کے قریب تیز رفتار ٹرک نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں دو نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب انڈس ہائی وے پر ٹرک اور موٹر سائیکل میں شدید تصادم ہوا۔ موٹر سائیکل پر سوار حب علی چاچڑ اور اویس ملک ٹرک کی زد میں آ کر موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    حادثے کے بعد مقامی افراد اور پولیس موقع پر پہنچ گئے، لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے ٹریفک بھی متاثر رہی۔ پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • کشمور:حمید کریم اعوان اور چیئرمین نذیر بھٹو کی اہم ملاقات

    کشمور:حمید کریم اعوان اور چیئرمین نذیر بھٹو کی اہم ملاقات

    کشمور (باغی ٹی وی، وقار احمد اعوان) سماجی و سیاسی شخصیت حمید کریم اعوان نے چیئرمین ابراہیم حیدری ٹاؤن نذیر بھٹو سے ایک اہم اور خوشگوار ملاقات کی، جس میں سابق مشیر وزیرِاعلیٰ سندھ پرویز آرائیں بھی ہمراہ تھے۔

    ملاقات کے دوران ابراہیم حیدری ٹاؤن میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بلدیاتی مسائل اور عوامی سہولیات کی بہتری پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ حمید کریم اعوان نے عوام کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے صاف پانی، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی بہتری، نکاسیٔ آب اور صحت و تعلیم کی سہولیات میں مزید بہتری پر زور دیا۔

    چیئرمین نذیر بھٹو نے کہا کہ عوامی مسائل کا فوری اور مؤثر حل ان کی اولین ترجیح ہے اور بلدیاتی نظام کو مضبوط بنا کر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور تیزی کو یقینی بنانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔

    پرویز آرائیں نے گفتگو میں کہا کہ عوامی نمائندوں اور سماجی شخصیات کے باہمی تعاون سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور مستقبل میں قریبی رابطے اور مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

  • کندھ کوٹ :حافظ علی رضا کی دینی علوم میں نمایاں کامیابی، دستارِ فضیلت سے نوازا گیا

    کندھ کوٹ :حافظ علی رضا کی دینی علوم میں نمایاں کامیابی، دستارِ فضیلت سے نوازا گیا

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمختیاراعوان) شہر کے رہائشی نوجوان عالمِ دین حافظ علی رضا بن مولوی محمد ابراہیم کوسو نے قرآنِ پاک کی حفظ اور دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دستارِ فضیلت حاصل کر لی ہے، جس پر علاقے کے علمی و عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حافظ علی رضا نے اپنی دینی تعلیم مدرسہ جامعہ انوار المدینہ اوستہ محمد بلوچستان میں معروف استاد قاری ساجد علی سکندری سے حاصل کی، جہاں انہوں نے قرآنِ پاک سمیت دیگر دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔ دستارِ فضیلت کی پروقار تقریب مدرسہ جامعہ راشدیہ درگاہ عالیہ پیر جو گوٹھ میں منعقد ہوئی، جس میں جید علمائے کرام، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کے شرکاء اور علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے علمِ دین کی اہمیت اور حافظِ قرآن کے بلند مقام پر تفصیلی روشنی ڈالی، جبکہ نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اس موقع پر علاقے کے معززین نے حافظ علی رضا کو اس عظیم سعادت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی دینِ اسلام کی سربلندی اور اشاعت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

  • کندھ کوٹ :کچے میں راکٹ گولہ پھٹنے سے 4 بچے جاں بحق

    کندھ کوٹ :کچے میں راکٹ گولہ پھٹنے سے 4 بچے جاں بحق

    کندھ کوٹ (نامہ نگار)سندھ کے ضلع کشمور کے علاقے کندھ کوٹ میں انڈس ہائی وے کے قریب کچے کے گاؤں میں زنگ آلود راکٹ لانچر کا گولہ پھٹنے سے چار کم عمر بچے جاں بحق ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ آج 24 نومبر 2025 کی دوپہر پیش آیا، جس نے پورے علاقے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔

    واقعے کے مطابق 8 سے 10 سال کی عمروں کے چار بچے مویشی چرانے کے لیے قریبی جنگل کی جانب گئے ہوئے تھے۔ جنگل کے ایک حصے میں جھاڑیوں کے پاس انہیں ایک زنگ آلود اور پرانا راکٹ گولہ ملا، جسے بچوں نے لاعلمی میں کھلونا سمجھ کر اٹھا لیا اور اس کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد گولہ اچانک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں چاروں بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ دھماکے کی آواز دور دراز تک سنائی دی، جس پر اہل علاقہ جائے وقوعہ کی طرف دوڑ پڑے، مگر بچے جاں بحق ہو چکے تھے۔

    تمام بچے ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جس کے باعث گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ لواحقین اور اہل علاقہ نے انتظامیہ سے کچے میں موجود پرانے اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی مکمل صفائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی کشمور ایاز علی بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے۔ ایس ایس پی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ راکٹ گولہ ممکنہ طور پر ماضی کے کسی پولیس یا فوجی آپریشن، یا جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کے دوران یہاں آ کر پڑا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقے میں اسلحے کی باقیات ملنے کے واقعات افسوسناک طور پر عام ہیں، جس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔

    لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کشمور اور کندھ کوٹ کے علاقوں میں راکٹ شیل اور بارودی مواد پھٹنے کے سنگین واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں 2023 کے سانحے میں آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ مقامی آبادی نے ایک بار پھر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے علاقوں میں غیر پھٹے بارودی مواد کی تلاش اور تلفی کے لیے فوری مہم چلائی جائے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔

  • کندھ کوٹ: مسلح افراد کی فائرنگ سے باپ بیٹا قتل،چولیانی برادری کا انڈس ہائی وے پر دھرنا

    کندھ کوٹ: مسلح افراد کی فائرنگ سے باپ بیٹا قتل،چولیانی برادری کا انڈس ہائی وے پر دھرنا

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)کندھ کوٹ میں ضلع بھر کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی۔ رات گئے نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چولیانی برادری کے باپ بیٹا قتل جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔ زخمی اور جاں بحق افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    واقعے کے بعد ورثا اور برادری کے افراد نے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف انڈس ہائی وے کرمپور کے مقام پر نعشیں رکھ کر دھرنا دے دیا، جس کے باعث شاہراہ مکمل طور پر بلاک ہوگئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ دور دراز سے آنے والے مسافر شدید پریشانی کا شکار رہے۔

    ورثا کا کہنا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو گاڈھی اوگاہی اور بنگلانی کے افراد نے قتل کیا اور پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے، دھرنا جاری رہے گا۔

  • تنگوانی: مجرم نے جرم کی دنیا چھوڑ کرخود کو پولیس کے حوالے کردیا

    تنگوانی: مجرم نے جرم کی دنیا چھوڑ کرخود کو پولیس کے حوالے کردیا

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار: منصور بلوچ)تنگوانی میں ایک مجرم نے جرم کی دنیا کو خیرباد کہہ کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تنگوانی کے قریب گاؤں تھاغمان باجکانی کے رہائشی مرتضیٰ باجکانی نے تنگوانی پولیس کے سامنے پیش ہو کر جرم کی دنیا چھوڑنے کا اعلان کیا۔

    ملزم مرتضیٰ باجکانی کا کہنا تھا کہ اس کے خلاف پولیس میں تقریباً 14 مقدمات درج ہیں، تاہم وہ اب جرم سے توبہ کر کے ایک نیک اور پرامن زندگی گزارنا چاہتا ہے، اسی لیے اس نے اپنی مرضی سے پولیس کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔

    اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ تنگوانی اعجاز احمد کھوسہ نے کہا کہ جن ڈاکوؤں یا ملزمان نے جرم کی زندگی ترک کر کے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام ایس ایس پی کشمور مراد گانگرو کی ہدایت پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔

    ایس ایچ او کے مطابق مرتضیٰ باجکانی پہلا شخص ہے جس نے اس سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے آج خود کو پولیس کے حوالے کیا۔

  • تنگوانی: دھان کے کم نرخوں پر کاشتکاروں سے اظہارِ یکجہتی، راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی الگ الگ احتجاجی ریلیاں

    تنگوانی: دھان کے کم نرخوں پر کاشتکاروں سے اظہارِ یکجہتی، راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی الگ الگ احتجاجی ریلیاں

    تنگوانی(باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) دھان کے کم نرخوں پر کاشتکاروں سے اظہارِ یکجہتی، راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی الگ الگ احتجاجی ریلیاں

    تنگوانی شہر میں کاشتکاروں کو دھان (سری) کے مناسب نرخ نہ ملنے کے خلاف پاکستان راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی جانب سے دو الگ الگ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مقامی بیوپاری اپنی من مانی کرتے ہوئے دھان انتہائی کم داموں میں خرید رہے ہیں، جس سے ان کا بمشکل ہی کاشت کا خرچ پورا ہو رہا ہے۔

    راہِ حق پارٹی کی ریلی کی قیادت مولانا شاہ مور بلوچ، ڈاکٹر محمد قاسم فاروقی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما غلام حسین ڈاہانی، شہری ایکشن کمیٹی کے غلام حسین باجکانی، اعجاز ملک اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ مقررین نے خطاب میں کہا کہ رائس مل مالکان من مانی ریٹ مقرر کر کے آبادگاروں کا معاشی استحصال کر رہے ہیں، جس سے کسان طبقہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت اور ڈی سی کشمور سے مطالبہ کیا کہ دھان کی سرکاری قیمت مقرر کی جائے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ مل سکے۔

    دوسری جانب عوامی تحریک کی احتجاجی ریلی کی قیادت آصف کوسو، صدام حسین کوسو، اللہ بخش نندوانی اور دیگر مقامی رہنماؤں نے کی۔ ریلی بس اسٹینڈ سے جعفرآباد روڈ تک نکالی گئی۔ مقررین نے کہا کہ علاقے کے بیوپاری اور رائس مل مالکان کسانوں کو کم نرخ دے کر ان کا معاشی استحصال کر رہے ہیں، جسے فوراً روکا جائے۔

    رہنماؤں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ دھان کے نرخ فوری طور پر مقرر کر کے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ کاشتکاروں کی محنت ضائع نہ ہو اور ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔