Baaghi TV

Category: کشمور

  • تنگوانی: سندھ پولیس کی بھرتیوں میں مسلسل ناانصافی، ویٹنگ امیدواروں کا احتجاج جاری

    تنگوانی: سندھ پولیس کی بھرتیوں میں مسلسل ناانصافی، ویٹنگ امیدواروں کا احتجاج جاری

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)سندھ پولیس کی بھرتیوں میں مسلسل ناانصافی، ویٹنگ امیدواروں کا احتجاج جاری،وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ ضیاء لنجار سے نوٹس لینے کی اپیل

    سندھ پولیس میں 2019 کی بھرتیوں کے دوران پی ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے والے ویٹنگ امیدوار نوجوانوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی جاری ہے، جس پر امیدواروں کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ تمام مطلوبہ مراحل مکمل کرنے کے باوجود انہیں آج تک پولیس میں بھرتی نہیں کیا گیا۔

    احتجاجی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کانسٹیبل کی آسامیوں کے لیے نہ صرف تحریری بلکہ جسمانی ٹیسٹ بھی کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں اور انہیں "ویٹنگ لسٹ” میں شامل کر لیا گیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے باوجود نہ تو انہیں بھرتی کا کوئی باقاعدہ آرڈر جاری کیا گیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کابینہ اس بھرتی کی منظوری دے چکی ہے، اس کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں مگر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ نوجوانوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

    احتجاجی نوجوانوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ ضیاء لنجار سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بھرتی نہ کی گئی تو وہ اپنا احتجاج صوبائی سطح تک پھیلائیں گے۔

  • تنگوانی: بھلکانی اور قمبرانی قبائل میں خونریز تصادم، فائرنگ سے نوجوان زخمی، پولیس غائب

    تنگوانی: بھلکانی اور قمبرانی قبائل میں خونریز تصادم، فائرنگ سے نوجوان زخمی، پولیس غائب

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی کے نواحی علاقے نیو روڈ اسٹاپ پر بھلکانی اور قمبرانی قبائل کے درمیان خطرناک تصادم ہوا، جس کے دوران دونوں اطراف سے جدید ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جب کہ پولیس مکمل طور پر غائب رہی۔

    عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں قمبرانی قبیلے کا نوجوان نور محمد قمبرانی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    تصادم کی وجہ ایک پرانی دشمنی بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شفیع محمد بھلکانی کے بیٹوں اور اربیلو قمبرانی کے درمیان پہلے ایک خاتون کے زخمی ہونے کے واقعے پر کشیدگی چل رہی تھی، جو آج فائرنگ میں بدل گئی۔

    قبائلی ذرائع کے مطابق قمبرانی قبیلے کے معزز شخص نے الزام لگایا ہے کہ ان کے گاؤں پر بھلکانی قبیلے کے منو گینگ سے وابستہ امتیاز بھلکانی نے بھتہ نہ دینے پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کا نوجوان بری طرح زخمی ہوا۔

    دو گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے باوجود پولیس موقع پر نہ پہنچ سکی، جس پر علاقہ مکینوں نے انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت پولیس پہنچتی تو نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

    علاقے میں تاحال کشیدگی برقرار ہے اور مزید تصادم کا خدشہ ہے۔ عوامی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر علاقے میں رینجرز یا پلیس کی بھاری نفری تعینات کر کے حالات کو قابو میں لایا جائے اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • تنگوانی: مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی: مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی(باغی ٹی وی،نامہ نگارمنصور بلوچ) مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی کے نواحی علاقے سلیم کھوسہ فاٹک کے قریب پولیس چوکی کے سامنے مسلح ڈاکوؤں نے دو نوجوانوں سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وقاص احمد باجکانی اور لالو گولو شدید زخمی ہو گئے۔

    زخمی نوجوانوں کو فوری طور پر کندھ کوٹ سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وقاص احمد باجکانی کی حالت تشویشناک ہونے پر اُسے سکھر کے ہرا اسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی افراد نے پولیس چوکی کے سامنے اس سنگین واردات پر سیکیورٹی کی ناکامی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

  • تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گردونواح میں ڈاکوؤں کا راج برقرار، پولیس رٹ مکمل طور پر کمزور پڑ گئی۔ ایک ہی دن میں پانچ ڈکیتیوں کی وارداتیں رونما ہو گئیں، جن میں بیشتر وارداتیں دن دہاڑے اور بعض پولیس چوکی کے سامنے ہوئیں، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

    پہلی واردات میں ڈاکوؤں نے ہیبت خان باجکانی کے قریب گڈو نہر پر ارشاد احمد باجکانی کا دو بھینسوں سے بھرا ہوا ڈاٹسن اس وقت لوٹ لیا جب وہ ڈرائیور سمیت گھر جا رہا تھا۔ ڈاکو ڈرائیور اور مالک کو رسیوں سے باندھ کر گاڑی اور مویشی لے اُڑے۔

    دوسری واردات مانجھی پل کے قریب غلام یاسین لاشاری کے ساتھ پیش آئی، جہاں ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر اس سے موٹر سائیکل، نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔

    تیسری واردات انتہائی حیران کن اور خوفناک تھی، جب ڈاکو کرم پور کے قریب پولیس چوکی کے عین سامنے لقمان گولو کی مچھلی سے بھری ہوئی ڈاٹسن لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اس واقعے پر مشتعل گولا برادری نے احتجاجاً سڑک بلاک کر دی، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، تاہم تاحال پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا۔

    چوتھی واردات میں سبزل باجکانی کے قریب ایک شہری سے موٹر سائیکل، موبائل اور نقد رقم چھینی گئی، جبکہ پانچویں واردات تھانہ ڈیرہ سرکی کی حدود میں پیش آئی، جہاں ڈاکووں نے دیدہ دلیری سے لوٹ مار کر کے فرار ہو گئے۔

    مسلسل وارداتوں اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاکو سرعام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ پولیس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • تنگوانی: بازار کاروکاری تنازع پر میدانِ جنگ بن گیا، متعدد زخمی، پولیس خاموش

    تنگوانی: بازار کاروکاری تنازع پر میدانِ جنگ بن گیا، متعدد زخمی، پولیس خاموش

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی شہر کا مصروف ترین بازار اس وقت میدانِ جنگ بن گیا جب پرانی کاروکاری کے تنازع پر بھلکانی اور بنگلانی قبائل کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ دونوں جانب سے لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس سے شہری خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق جھگڑا اچانک شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بازار میں بدنظمی پھیل گئی۔ تصادم کے نتیجے میں دونوں فریقین کے پانچ افراد جن میں خادم حسین اور امتیاز حسین شامل ہیں شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال تنگوانی منتقل کیا گیا۔

    واقعے کے بعد بھی تنگوانی پولیس کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بازار میں دن دیہاڑے لاٹھیوں کا کھیل اور پولیس کی خاموشی قابلِ مذمت ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری کارروائی کرے، مقدمات درج کرے، اور شہر میں امن و امان بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ مستقبل میں کوئی قبیلہ یا گروہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کرے۔

  • تنگوانی میں ڈاکو راج، پولیس بے بس

    تنگوانی میں ڈاکو راج، پولیس بے بس

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گرد و نواح میں ڈاکوؤں کا راج قائم ہو چکا ہے۔ ہائی وے اور لنک روڈز پر مسلح ڈاکو کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ پولیس کا کوئی وجود نظر نہیں آ رہا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں لوٹ مار کی پانچ وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، لیکن پولیس تاحال خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    پہلی واردات تنگوانی-کرمپور لنک روڈ پر دنگلہ ہوٹل کے قریب پیش آئی، جہاں کشمور کے رہائشی محمد سلیم گولو سے نقدی اور سامان لوٹ کر ڈاکو فرار ہو گئے۔

    دوسری واردات تھانہ شبیر آباد کی حدود میں علی دیرے کے مقام پر ہوئی جہاں دو سو میرانی کی ڈاٹسن کو روک کر ڈاکوؤں نے ڈرائیور کو یرغمال بنایا اور موبائل، نقد رقم اور قیمتی سامان چھین لیا۔

    تیسری واردات سردار ماڑی پور میں لولئی برادری کے ڈرائیور کو نشانہ بنایا گیا جہاں اس کی پک اپ، موبائل اور نقدی لوٹ لی گئی۔

    چوتھی واردات نئی بائی پاس کے قریب اوگا ہی لاڑو میں ہوئی جہاں ملان جیون گاؤں کے رہائشی صدیق ولد پہلوان گولو سے مال سے بھری ڈاٹسن، نقدی اور سامان چھین کر ڈاکو فرار ہو گئے۔

    پانچویں واردات بروہی موڑ کے پاس ہوئی جہاں عرض محمد جکرانی سے موٹرسائیکل، موبائل اور نقدی چھینی گئی۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس تھانہ شبیر آباد مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے، کسی واردات پر اب تک نہ کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی ڈاکو گرفتار کیے گئے۔ ڈاکوؤں کے خوف سے دیہاتی اور شہری کاروباری سرگرمیاں ترک کر کے گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور علاقے میں پولیس رٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • تنگوانی و گردونواح میں ڈاکو راج، پولیس خاموش تماشائی، شہری غیر محفوظ

    تنگوانی و گردونواح میں ڈاکو راج، پولیس خاموش تماشائی، شہری غیر محفوظ

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور اس کے گردونواح میں ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، پولیس کی خاموشی اور مجرمانہ چشم پوشی سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ ڈاکو سرعام پولیس موبائل اور چوکیوں کے سامنے وارداتیں کر رہے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آج بھی خبر کے لکھے جانے تک کئی وارداتیں ہو چکی تھیں۔ پہلی واردات گاؤں علی شیر سرکی میں پیش آئی، جہاں ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے علاقے میں دہشت پھیلا دی، تاہم پولیس نے حسب روایت کوئی کارروائی نہ کی۔

    دوسری بڑی واردات میں جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصر اللہ چنہ کو غوثپور لنک روڈ پر تنگوانی کی طرف آتے ہوئے ڈاکوؤں نے روکا، ان کی جی ایل آئی گاڑی، موبائل فون، نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔

    تیسری واردات میں انڑ پل کے قریب گل ملک سے اس کی آلٹو کار چھین لی گئی، اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

    چوتھی واردات میں فشر فوک فورم کے مرکزی وائس چیئرمین اسحاق میرانی کے بیٹے اکرام اللہ میرانی سے انڈس ہائی وے، مارکھ بھیو کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے ڈاٹسن پک اپ چھین لی۔ واقعہ کی اطلاع تھانہ غوثپور کو دی گئی، مگر کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی۔

    اسی طرح کی ایک اور واردات میں ہزارو نہر کے قریب محمد شعبان نندوانی کے ڈرائیور سے ڈاکو میسی ٹریکٹر ٹرالی سمیت موبائل، نقدی اور سامان چھین کر فرار ہو گئے۔

    فشر فوک فورم کے رہنما اسحاق میرانی نے اس بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کندھ کوٹ، تنگوانی، غوثپور اور گردونواح میں ڈاکو راج قائم ہو چکا ہے، جس کے باعث شہری خود کو مکمل طور پر غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پولیس اور رینجرز کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے اپنی غفلت ترک نہ کی تو عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔

  • تنگوانی: مسلح افراد کی فائرنگ سے نوجوان قتل، 3 ملزم گرفتار

    تنگوانی: مسلح افراد کی فائرنگ سے نوجوان قتل، 3 ملزم گرفتار

    تنگوانی (باغی ٹی وی – نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی کے نواحی گاؤں باران خان باجکانی میں جدید اسلحے سے لیس مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نوجوان محمد خان بکھرانی کو قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد مقتول کے گھر میں کہرام برپا ہو گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر ڈکیتی کے ارادے سے گزر رہے تھے کہ مقتول نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر ڈاکوؤں نے جدید ہتھیاروں سے اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔

    واقعے کے بعد مقتول کے ورثاء نے جائے وقوعہ کے قریب گاؤں نظیر ڈہانی میں پیروں کے نشانات ڈالے، جس پر پولیس اور مقتول کے لواحقین نے مشترکہ کوشش کے ذریعے تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کو تھانے منتقل کر کے ان کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    درج شدہ مقدمہ میں ملزمان چاکر ڈہانی، نظیر ڈہانی، عبدالکریم ڈہانی اور دو نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
    پولیس کا کہنا ہے کہ باقی مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔

  • تنگوانی: نہر میں نہانے کیلئے جمپ لگانے والا نوجوان گردن ٹوٹنے سے جاں بحق

    تنگوانی: نہر میں نہانے کیلئے جمپ لگانے والا نوجوان گردن ٹوٹنے سے جاں بحق

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی کے قریب واقع بیگاری نہر میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نہر میں نہانے کے دوران نوجوان گردن ٹوٹنے سے جاں بحق ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق متوفی نوجوان وحید شیخ نے نہر کے پل سے نہانے کی غرض سے جمپ لگائی، مگر جمپ کے دوران اس کی گردن بری طرح ٹوٹ گئی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔

    حادثے کے فوراً بعد نوجوان کو انتہائی تشویشناک حالت میں سکھر ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ وحید شیخ کی لاش جب آبائی گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا، علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق بیگاری نہر کے پل پر حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث اس قسم کے واقعات کا خدشہ رہتا ہے۔ اہلِ علاقہ نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں اور پلوں پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

  • تنگوانی: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان قتل، ورثاء کا پولیس اور ایم این اے کے خلاف احتجاج

    تنگوانی: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان قتل، ورثاء کا پولیس اور ایم این اے کے خلاف احتجاج

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان قتل، دو زخمی، لواحقین کا پولیس اور ایم این اے شبیر بجارانی کے خلاف احتجاج

    انڈس ہائی وے تنگوانی کے قریب ڈاکوؤں کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعہ رات 11:30 بجے پیش آیا جب تنگوانی کے رہائشی، کوئٹہ سے واپس آتے ہوئے سول اسپتال کے قریب ڈاکوؤں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی، مگر کار نہ رکنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ سے ابرار لاشاری موقع پر جاں بحق ہو گیا، جبکہ محمد درّ ڈاہانی اور میجر چولیانی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں کہرام مچ گیا، لواحقین اور اہلِ علاقہ کی چیخ و پکار سے فضا سوگوار ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق انڈس ہائی وے پر ڈاکوؤں کا راج قائم ہے، جو روزانہ شہریوں کو لوٹنے، اغواء کرنے اور فائرنگ جیسے جرائم میں ملوث ہیں، جبکہ پولیس مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ واقعے کے بعد زخمیوں اور جاں بحق نوجوان کے ورثاء نے اسپتال میں شدید احتجاج کیا، پولیس اور منتخب ایم این اے شبیر علی بجارانی کے خلاف نعرے بازی کی اور کپڑے پھاڑ کر بددعائیں دیتے رہے۔

    ایک زخمی محمد درّ ڈاہانی نے احتجاجاً علاج کروانے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ "جب تک ایس ایچ او تنگوانی خود یہاں نہیں آتا، میں علاج نہیں کرواؤں گا۔” ورثاء اور اسپتال عملہ اسے منتیں کرتے رہے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔

    ورثاء کا کہنا ہے کہ "ہمارے محافظ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا، ڈاکوؤں نے سرِعام فائرنگ کی اور پولیس کہیں دکھائی نہ دی۔”

    شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے سکھر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں ڈاکو راج کے باعث شہری شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے، نااہل ایس ایچ او تنگوانی اور ایس ایس پی کشمور زبیر نظیر شیخ کو معطل کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    انڈس ہائی وے تنگوانی کے قریب ڈاکوؤں کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعہ رات 11:30 بجے پیش آیا جب تنگوانی کے رہائشی، کوئٹہ سے واپس آتے ہوئے سول اسپتال کے قریب ڈاکوؤں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی، مگر کار نہ رکنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ سے ابرار لاشاری موقع پر جاں بحق ہو گیا، جبکہ محمد درّ ڈاہانی اور میجر چولیانی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں کہرام مچ گیا، لواحقین اور اہلِ علاقہ کی چیخ و پکار سے فضا سوگوار ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق انڈس ہائی وے پر ڈاکوؤں کا راج قائم ہے، جو روزانہ شہریوں کو لوٹنے، اغواء کرنے اور فائرنگ جیسے جرائم میں ملوث ہیں، جبکہ پولیس مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ واقعے کے بعد زخمیوں اور جاں بحق نوجوان کے ورثاء نے اسپتال میں شدید احتجاج کیا، پولیس اور منتخب ایم این اے شبیر علی بجارانی کے خلاف نعرے بازی کی اور کپڑے پھاڑ کر بددعائیں دیتے رہے۔

    ایک زخمی محمد درّ ڈاہانی نے احتجاجاً علاج کروانے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ "جب تک ایس ایچ او تنگوانی خود یہاں نہیں آتا، میں علاج نہیں کرواؤں گا۔” ورثاء اور اسپتال عملہ اسے منتیں کرتے رہے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔

    ورثاء کا کہنا ہے کہ "ہمارے محافظ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا، ڈاکوؤں نے سرِعام فائرنگ کی اور پولیس کہیں دکھائی نہ دی۔”

    شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے سکھر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں ڈاکو راج کے باعث شہری شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے، نااہل ایس ایچ او تنگوانی اور ایس ایس پی کشمور زبیر نظیر شیخ کو معطل کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔