آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دو مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جبکہ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد سمیت دیگر افراد کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور معلومات مزید تفتیش کی متقاضی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک مبینہ آڈیو کال منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے حال ہی میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ آڈیو میں مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایسی گفتگو سنائی دیتی ہے جس میں آزاد کشمیر میں بدامنی اور انتشار سے متعلق منصوبہ بندی پر بات کی جا رہی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق آڈیو میں راولاکوٹ میں ممکنہ پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور فرانزک جانچ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
Category: کشمیر
-

جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع
-

مظفرآباد میں مبینہ بھارتی نیٹ ورک بے نقاب، 5 افراد گرفتار
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے مبینہ طور پر منسلک پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں ایک ممکنہ تخریبی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاع پر مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں ایک ہدفی آپریشن کیا گیا، جہاں سے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تلاشی کے دوران ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے، جن کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ایک مشتبہ شخص کی نشاندہی پر اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ سامان میں سات خودکار ہتھیار، متعدد دستی بم اور دیگر جنگی نوعیت کا سازوسامان شامل بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ملزمان کے قبضے سے حساس مقامات اور اہم تنصیبات سے متعلق نقشے، دستاویزات اور مبینہ منصوبہ بندی کا ریکارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان شواہد کو تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں اس نیٹ ورک کے ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور دیگر ممکنہ رابطوں کی نشاندہی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق جدید فرانزک اور ڈیجیٹل تجزیے کی مدد سے نیٹ ورک کے مزید روابط سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث حساس تنصیبات اور عوامی سلامتی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنایا گیا۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ -

حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے
آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ باقی تین مطالبات آئینی ترمیم یا نئی قانون سازی سے مشروط ہونے کے باعث فوری طور پر منظور نہیں کیے جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور کئی مطالبات پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جا چکے تھے۔ تاہم بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
منظور کیے گئے مطالبات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مالی امداد، شہداء کے خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور خصوصی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ اسی طرح شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، میرٹ پر داخلوں اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی، ہر ضلع میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔
انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سڑکوں، سرنگوں اور پلوں کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز، صاف پانی کی فراہمی، دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے، پن بجلی منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی میں اصلاحات، احتسابی اداروں کی تنظیم نو اور شفاف احتسابی نظام کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
مزید برآں کاروباری طبقے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، مقامی حکومتوں کی بحالی، منگلا ڈیم سے متاثرہ اراضی کے مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام جیسے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔ -

بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی، آئینی اور انتظامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مہاجر نشستوں کے معاملے میں حکومتی مؤقف کو درست قرار دیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق 12 مہاجر نشستیں آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور انہیں کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
قیادت نے بتایا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ضروری ہوگی۔ بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج کے بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22(4) کے تحت بروقت انتخابات کا انعقاد ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور کسی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، دباؤ کی سیاست اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنا آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا تیسرا اہم اجلاس تھا، جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی امور، سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ -

آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، عوامی ریلیف اور مطالبات پر عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک اور مکالمے کے بجائے دباؤ اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔
ترجمان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج اور ہڑتالوں پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن سڑکیں بند کرنا، عوامی زندگی کو مفلوج کرنا اور ریاستی نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
حکومت نے واضح کیا کہ عوامی مطالبات کی آڑ میں کسی بھی گروہ کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی قسم کی ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آزاد کشمیر کو مسلسل احتجاج، ہڑتالوں اور محاذ آرائی کی سیاست کے بجائے استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسمبلی اور جمہوری اداروں کے فیصلوں کو سڑکوں پر دباؤ ڈال کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان نے کہا کہ 9 جون کو اعلان کردہ ہڑتال یا انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔ عوام کو بندشوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، آئینی عمل اور جمہوری اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
حکومت آزاد کشمیر کے مطابق مذاکرات کے دروازے آج بھی کھلے ہیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے تصادم اور محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث سیاسی اور سماجی حلقوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ -

کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان
کشمیر دنیا کا ایک خوبصورت خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد، قربانی اور حریت کی علامت بھی ہے۔ قدرت نے کشمیر کو بے مثال حسن سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ جنت نظیر وادی کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا شکار ہے۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ آزادی اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اُن کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال پانچ فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی یہ قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
کشمیر کے عوام نے ظلم، جبر اور پابندیوں کے باوجود کبھی اپنی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں ہونے دیا۔ اُن کے حوصلے، صبر اور استقامت پوری دنیا کے لیے مثال ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، سچ اور حق کی طاقت ہمیشہ غالب آتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں صرف کشمیری عوام کی حمایت کا درس ہی نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں اور کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کھڑے رہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی، حوصلے اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اتحاد، بھائی چارے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی آزادی حاصل کریں گے اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گے۔
-

یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )، کامران ہاشمی
5 فروری کا دن ہمیں یہ یاد اور احساس دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک حقیقت کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں مظلوم کشمیری عوام کےساتھ کھڑے ہونے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے اور ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا دن ہے۔برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی یہ سرزمین کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہی ہے۔ معصوم جانیں قربان ہوئیں، مائیں اجڑیں، مگر کشمیری عوام کے حوصلے نہ ٹوٹے۔ ان کی خاموشی میں صبر ہے اور ان کی نگاہوں میں آزادی کی روشن امید۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کا ہر دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورہراخلاقی،سفارتی اور انسانی فورم پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انشاء اللہ۔ یہ یکجہتی وقتی طور پر نہیں، بلکہ یہ ایک پختہ عزم اور زندہ ضمیر کا اظہار ہے۔آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ حق کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیاں آزادی کی خوشبو سے مہک اٹھیں گی جس طرح جمیل الدین عالی نے نظم ” اے دیس کی ہواؤں ” میں یہ بات کہا ہے کہ تاریخ کہتا ہے کہ ایک دن آپ ضرور آزاد ہونگے ۔آخر میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوم کشمیری عوام کو جلد انصاف، امن اور آزادی عطافرمائےآمین۔
-

یوم یکجہتی کشمیر.تحریر: زونیشاء خاں
یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی
"کشمیر بنے گا پاکستان” یہ صرف ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک ذندہ و تلخ حقیقت ہے۔ کشمیر اور پاکستان کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ یکساں ہے۔ کشمیر کے ساتھ جو ہمارا رشتہ ہے وہ دینی و اسلامی رشتہ ہے۔ ہندوستان سے جب پاکستان علیحدہ ہوا تو کشمیر پاکستان کے حصے میں آیا تھا، لیکن بھارت کی ناانصافی سے یہ اب تک کیلئے نا حل ہونے والا تنازع بن چکا ہے، جسکی اندھیری رات ختم ہونے میں نہیں آرہی ہے۔وطن عزیز پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو "یوم یکجہتی کشمیر” منایا جاتا ہے۔ اس دن حکومت اور عوام کشمیریوں سے اظہار یکجتی کا اعلان کرتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک گزشتہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کر کے جو تاثر قائم کیا گیا تھا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعد کے ایام میں اس کا اثر زائل ہو گیا۔
کشمیر جنت نظیر کی سر زمینِ پر بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی پر مامور ہیں کہ اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ان کی آبادیاں ویران،کھیت کھلیان اور باغات تباہی حال، بہن اور بیٹیوں کی عزتیں پامال اور پوری وادی جنت نظیر آج مقتل کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اب تک بہت سی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاچکے ہیں۔ کشمیر میں ہر طرف ظلم وزیادتی اور بربریت کا منظر ہے۔ آئے روز بھارت کی طرف سے حملے ہورہے ہیں جنکا حساب کوئی نہیں لینے والا ہے۔
کشمیری عوام مختلف تنظیموں کے جھنڈ تلے مصروف جہاد ہے۔ وہاں کا بچہ بچہ اپنی آزادی کیلئے کھڑا نظر آرہا ہے۔ 5 فروری کو پورے پاکستان میں "یوم یکجہتی کشمیر” سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعارے لگائے جاتے ہیں۔ ان شاءاللہ کشمیر اللّٰہ رب العزت کے حکم سے ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ ظالم بھارتیوں نے اہل کشمیر پر زمین تنگ کر دی ہےمگر کشمیری عوام ان شاءاللہ آزادی کی تحریک کو کامیابی سی ہم کنار کر کے دم لیں گی۔
-

وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین
5 فروری کا دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ لہو سے لکھی گئی اس داستانِ عزیمت کی یاد دہانی ہے جو وادیِ کشمیر کے چناروں تلے برسوں سے رقم ہو رہی ہے۔ یہ دن ہمیں ان ماؤں کی ممتا، ان بہنوں کی ردائے عفت اور ان جوانوں کے جذبۂ شوق کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر رکھا ہے۔ بقول شاعر:
ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو
موت بھی آئے اور کفن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہوتاریخ کے جھروکوں میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ "مسئلہ کشمیر” برصغیر پاک و ہند کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جو آج بھی عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہر سال جب 5 فروری کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ اپنے ساتھ ان ہزاروں شہداء کی خوشبو لے کر آتا ہے جنہوں نے غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ تان کر شہادت کا جام پیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری کی خاموشی اس لہو کا مداوا کر پائے گی؟
کشمیر کی تحریکِ آزادی کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نام نہیں، بلکہ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والا وہ جذبہ ہے جسے جبر کی کوئی دیوار قید نہیں کر سکی۔ ان چار دہائیوں میں ہم نے دیکھا کہ کیسے ہزاروں مائیں اپنے جگر گوشوں کے جنازوں کو کندھا دیتی نظر آئیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو ماتھے پر بوسہ دے کر رخصت کیا، اس یقین کے ساتھ کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
جس خاک کے خمیر میں ہو خوںِ شہدا
اس ارضِ مقدس سے بغاوت نہیں ہوتیایک ماں کے لیے جوان بیٹے کا داغ جھیلنا زندگی کی سب سے بڑی اذیت ہے، لیکن کشمیری ماؤں کا حوصلہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ وہاں بہنوں نے اپنے بھائیوں کی کلائیوں پر راکھی کے بجائے آزادی کے عہد باندھے اور جب ان کے بھائی لہو میں لت پت واپس آئے تو انہوں نے بین کرنے کے بجائے "آزادی” کے نعرے بلند کیے۔ یہ وہ قربانی ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور تحریک میں نہیں ملتی۔
کشمیر کے المیے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ درندگی ہے جو خواتین کے ساتھ روا رکھی گئی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ غاصب افواج نے "عصمت دری” کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ کشمیریوں کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ ہزاروں لڑکیاں اور عورتیں جن کی چادریں تار تار کی گئیں، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک آزاد فضا میں سانس لینے کا خواب دیکھتی تھیں۔
نفسیاتی طور پر جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے زخم کبھی نہیں بھرتے، لیکن کشمیری خواتین کی ہمت دیکھیں کہ اس ظلم کے باوجود ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی۔ وہ آج بھی سر اٹھا کر قابض فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زمین کا حق مانگ رہی ہیں۔کچل کے پاؤں سے وہ وادیاں جو آئی ہے
وہ فوج خون کی ندیاں بہا کے لائی ہے
مگر یہ جبر کی دیوار ٹوٹ جائے گی
سحر کی گود سے آزادی مسکرائے گیبرصغیر کی تقسیم کے وقت سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ آج کئی سال گزرنے کے باوجود وہیں کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں دبی دھول چاٹ رہی ہیں۔ استصوابِ رائے کا وعدہ جو عالمی سطح پر کیا گیا تھا، وہ آج ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں معاشی مفادات کی خاطر انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔ کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے عالمی منڈی میں تولا جائے؟ یہ دوہرا معیار ہی اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
کشمیر کے عوام آج بھی اس امید میں بیٹھے ہیں کہ ایک دن آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ وہ سورج جو ان کی وادیوں سے خوف کے سائے مٹا دے گا، جو ان کی ماؤں کے آنسو پونچھے گا اور جو ان کی آنے والی نسلوں کو امن کا گہوارہ دے گا۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں:ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پہ لکھا ہےانسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم آزادی کا فیصلہ کر لیتی ہے، تو دنیا کا کوئی بھی جدید اسلحہ یا فوجی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے ذریعے کشمیر کی شناخت مٹانے کی کوشش کی، لیکن اس نے کشمیریوں کے اندر آزادی کی تڑپ کو مزید جلا بخشی۔
پاکستان کے عوام اور حکومت کے لیے 5 فروری محض اظہارِ یکجہتی کا دن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ مزید موثر انداز میں لڑنا ہوگا۔ ہمیں ان مظلوموں کی آواز بننا ہوگا جن کی آواز کو کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اے ارضِ وطن! تو بھی ہے گواہ ہم بھی ہیں گواہ
اس ظلم کی کالی رات میں ہر آہ ہے گواہاے اللہ! تو ہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔ وادیِ کشمیر میں بہنے والے معصوموں کے خون کے صدقے، اس مٹی کو غاصبوں سے پاک فرما۔ ان ماؤں کے حوصلے بلند رکھ جن کے بیٹے لاپتہ ہیں یا خاکِ وطن کا رزق بن گئے۔ کشمیر کے اس دیرینہ مسئلے کو جلد از جلد انصاف کے مطابق حل فرما اور وہاں کے لوگوں کو وہ حقیقی آزادی نصیب فرما جس کے لیے انہوں نے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔ آمین۔
-

یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام
ایک ایسا خوبصورت سرزمین جس سرزمین کو جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس سرزمین میں کوئی کمی ہے تو وہ کمی سکون کی ہے وہ خوبصورت سرزمین کشمیریوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے لیکن وہاں کے بہادر لوگ اپنے جنت کو دوزخ میں بدلنے میں نہیں چھوڑتے وہ مسلسل اپنے آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ایک مدت سے وہ اس جدوجہد میں مبتلا ہے لیکن انہوں نے کبھی بھی سر جھکا کر غلامی کو تسلیم نہیں کیا ان کے آزادی کی خواہش کبھی نہیں مریں گی، کئی بار کشمیر کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہر بار وہ اپنے جدوجہد کی آواز سے ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ بہادر مسلم تھے اور رہیں گے اور نسل در نسل ان کی بہادری کی داستانیں چلتی رہیں گی ان کے زخم ناقابل فراموش ہے۔اور ہم پاکستان کے لوگ چاہے وہ حکمران ہوں یا عوام ہو ہر پانچ فروری کو کشمیریوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپ کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ صرف ایک دن کے لیے ہم نے اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو فراموش کر دیا ہے ان کو نظر انداز کر دیا ہے اور ہمارے حوصلے دیکھیں ہمیں درد بھی محسوس نہیں ہو رہی بہت ہی افسوس کی بات ہے۔ آئے مل کر اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کو بے گناہ اور اپنے ہی گھر کے اندر قتل کیا جاتا ہے اور ہم تماشائی اور بے بس بن کر کھڑے ہیں۔