Baaghi TV

Category: کھیل

  • نسیم شاہ پنڈی ٹیسٹ کے لیے قومی اسکواڈ کا حصہ بن گئے:کرکٹ شائقین مقابلے دیکھنے لیے بے تاب

    نسیم شاہ پنڈی ٹیسٹ کے لیے قومی اسکواڈ کا حصہ بن گئے:کرکٹ شائقین مقابلے دیکھنے لیے بے تاب

    راولپنڈی :نسیم شاہ پنڈی ٹیسٹ کے لیے قومی اسکواڈ کا حصہ بن گئے:کرکٹ شائقین مقابلے دیکھنے لیے بے تاب ،اطلاعات کے مطابق نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کو حارث رؤف کی جگہ آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس سے قبل وہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لئے اعلان کردہ ٹریولنگ ریزرو کا حصہ تھے۔

    حارث رؤف کے آج کئے گئے کورونا ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آیا ہے۔ لہٰذا وہ چار مارچ سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔ وہ اب پانچ روز تک آئیسولیشن میں رہیں گے، جس کے اختتام پر ان کا دوبارہ کورونا ٹیسٹ کیا جائے گا۔

    حارث رؤف کا ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل تمام ارکان کی ری ٹیسٹنگ کی گئی۔ ان تمام ارکان کی ری ٹیسٹنگ کے نتائج منفی آئے ہیں۔

    قومی ٹیسٹ اسکواڈ برائے پنڈی ٹیسٹ: بابر اعظم (کپتان) (سنٹرل پنجاب)، محمد رضوان (نائب کپتان) (خیبر پختونخوا)، عبداللہ شفیق (سنٹرل پنجاب)، اظہر علی (سنٹرل پنجاب)، فواد عالم (سندھ)، افتخار احمد (خیبرپختونخوا)، امام الحق (بلوچستان)، محمد وسیم جونیئر (خیبر پختونخوا)، نسیم شاہ (سینٹرل پنجاب)، نعمان علی (ناردرن)، ساجد خان (خیبر پختونخوا)، سعود شکیل (سندھ)، شاہین شاہ آفریدی (خیبرپختونخوا)، شان مسعود (بلوچستان) اور زاہد محمود (سندھ)

    ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ آسٹریلیا نےمشترکہ طور پربینو قادر ٹرافی متعارف کروادی ۔

    پاکستان کے کپتان بابراعظم اور مہمان ٹیسٹ اسکواڈ کے قائد پیٹ کمنز نے بدھ کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں بینو قادر ٹرافی کی رونمائی کی۔

    ٹرافی کی رونمائی کا مقصد کیا ہے؟
    پاکستان اور آسٹریلیا کے 2 لیجنڈری لیگ اسپنرز سے منسوب اس ٹرافی کو متعارف کروانے کا مقصد آسٹریلیا کے 24 سال بعد دورہ پاکستان کا جشن منانا ہے۔مستقبل میں بھی دونوں ٹیموں کے مابین کھیلی جانے والی اب ہر ٹیسٹ سیریز کے اختتام پرفاتح سائیڈ کو اسی ٹائٹل کی ٹرافی دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ آسٹریلیا نے 1959 میں رچی بینوکی قیادت میں پاکستان کاپہلا مکمل دورہ کیا تھا، مہمان سائیڈ نے یہ سیریز 2-0 سے جیتی تھی۔

    عبدالقادر نے آسٹریلیا کے خلاف 11 ٹیسٹ میچز میں 45 وکٹیں حاصل کی تھیں، اس دوران انہوں نے سال 1982 اور 1988 میں کھیلے گئے دو تین ٹیسٹ میچزکی سیریز میں 33 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

     

    رچی بینو نے 1952 سے 1964 پر مشتمل اپنے کیرئیر کے دوران 63 ٹیسٹ میچز میں 248 وکٹیں حاصل کیں۔ عبدالقادر نے 1977 سے 1990 پر مشتمل اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 67 ٹیسٹ میچز میں236 وکٹیں حاصل کیں۔

    چیف ایگزیکٹو پی سی بی فیصل حسنین نے کہا کہ بینو قادر ٹرافی کو پاکستان میں ایک مرتبہ پھر پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ٹیسٹ سیریز کی بحالی کے موقع پر متعارف کروایا گیا ہے، یہ دونوں عظیم لیگ اسپنرز دنیائے کرکٹ کی نوجوان نسل کے لیے متاثرکن شخصیات تھیں۔

    فیصل حسنین نے کہا کہ تاریخی طور پر پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین کانٹے دار مقابلے ہوتے ہیں تاہم بینو قادرٹرافی کو متعارف کروانے سے دونوں ٹیموں کے مابین اب ٹیسٹ سیریز میں مقابلہ مزید بڑھ جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ بینو قادر ٹرافی کی لانچ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ آسٹریلیا کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، رچی بینو اور عبدالقادر مرحوم کے اہلخانہ کا مشکور ہوں جنہوں نے خوشدلی سے ٹرافی کو ان کا نام دینے کی حامی بھری۔

  • پاکستان آسٹریلیا سیریز :شائقین کرکٹ کیلئے این سی او سی نے خوشخبری سنا دی

    پاکستان آسٹریلیا سیریز :شائقین کرکٹ کیلئے این سی او سی نے خوشخبری سنا دی

    این سی او سی نے پاکستان آسٹریلیا سیریز کے لیے 100 فیصد تماشائیوں کی اجازت دے دی۔ پی سی بی کے مطابق راولپنڈی میں 4 مارچ سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں 100 فیصد تماشائی انٹرنیشنل کرکٹ سے لطف اندوز ہو سکے گے، جبکہ لاہور اور کراچی میں ہونے والے میچزمیں بھی اسٹیڈیم فل ہوں گے۔

    پی سی بی نے این سی او سی کے فیصلے سے پہلے 50 فیصد تماشائیوں کے لیے ٹکٹیں فروخت کے لیے رکھی تھیں، این سی او سی کے فیصلے کے بعد پی سی بی نے بقایا 50 فیصد تماشائیوں کے لیے ٹکٹ کی بکنگ کھول دی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق 12 سے زائد عمر کے تمام لوگوں کو مکمل ویکسینیشن کے ساتھ میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی۔ 12 سال سے کم عمر لوگ ویکسینیشن کے بغیر اسٹیڈیم میں میچ دیکھ سکیں گے۔

    آسٹریلیا اور پاکستان کرکٹ ٹیموں کے مابین 3 ٹیسٹ، 3 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز راولپنڈی سے ہو گا۔ آسٹریلیا کرکٹ ٹیم 4 سے 8 مارچ تک راولپنڈی میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔

    سیریز میں شامل چاروں وائٹ بال میچز بھی راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے جبکہ آسٹریلیا کرکٹ ٹیم 5 مارچ کو راولپنڈی میں آخری ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ کھیلے گی اور 5 مارچ کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائے گی۔

    سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 12 سے 16 مارچ تک کراچی میں ہو گا اور تیسرا ٹیسٹ میچ 21 سے 25 مارچ تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔

  • فاسٹ باولر حارث روف کوکورونا ہوگیا

    فاسٹ باولر حارث روف کوکورونا ہوگیا

    لاہور:فاسٹ باولر حارث روف کوکورونا ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر حارث روف کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کےمطابق حارث روف کا راولپنڈی بائیو سکیور ببل شفٹ ہونے پرکوویڈ ٹیسٹ کیا گیا جو کہ مثبت آیا۔

    قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے بقیہ کھلاڑیوں کا کوویڈ تیسٹ منفی آیا ہے۔

    حارث روف آج قومی اسکواڈ کے ہمراہ راولپنڈی اسٹیڈیم میں پریکٹس کررہے تھے۔ آج صبح ہونے والےکوویڈ ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت رپورٹ آنے پر ٹیم ڈاکٹر نے حارث روف کو گراؤنڈ سے باہر بلوا کر آئیسولیشن میں منتقل کیا۔

    قومی اسکواڈ کے تمام کھلاڑیوں کا دوبارہ کوویڈ ٹیسٹ ہوٹل پہنچنے کے بعد کیا گیا۔

    ٹیسٹ اسکواڈ
    کپتان بابراعظم، نائب کپتان محمد رضوان، عبداللہ شفیق، اظہر علی، فہیم اشرف، فواد عالم، حارث رؤف، حسن علی، امام الحق، محمد نواز، نعمان علی، ساجد خان، سعود شکیل، شاھین شاہ آفریدی، شان مسعود، زاہد محود۔

    ریزرو پلیئرز
    سرفراز احمد، نسیم شاہ، محمد عباس، یاسر شاہ، کامران غلام

    یاد رہے کہ چند دن پہلے لاہور قلندرز کے فاسٹ باولر نے 153.8 میل فی گھنٹا کی رفتار سے گیند کروا کر سب سے تیز گیند کروانے کا اپنا ہی پرانا ریکارڈ توڑ ڈالاحارث روف نے دنیائے کرکٹ کے تیز ترین فاسٹ باولر بننے کی ٹھان لی۔

    حارث روف نے موجودہ دور میں دنیائے کرکٹ کے تیز ترین فاسٹ باولر بننے کی ٹھان لی، لاہور قلندرز کے فاسٹ باولر نے پی ایس ایل کی 7 سالہ تاریخ میں سب سے تیز گیند کروانے کا اپنا ہی پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے پی ای ایس 7 کے میچ میں لاہور قلندرز کے حارث روف نے اہم اعزاز اپنے نام کر لیا۔

  • غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    لاہور: غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ سیزن 7 کی ٹیم ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے اپنے غصے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

    پاکستان کرکٹ کی شان ،خوش طبعیت کے مالک محمد رضوان نے مزید کیا کہا سنتے ہیں ان کی زبانی ،پی ایس ایل 7 کے دوران محمد رضوان اپنے ٹھنڈے مزاج اور ہر وقت مسکراتے رہنے کے سبب خاصے مقبول ہوئے جس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی نظر آئیں۔

    پی ایس ایل کے فائنل میں لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے رضوان کا کہنا تھا کہ خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    رضوان نے کہا میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی پر غصہ نہ کروں کیوں کہ ہم سب انسان ہیں اسی لیے ہر انسان سے غلطی ہوتی رہتی ہے لیکن پھر بھی اگر کوئی ایسی چیز نظر آئے جس سے ٹیم یا قوم کا نقصان ہوتا دیکھوں تو غصہ بھی کرتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ سامنےوالا بھی میری طرح انسان ہے لہٰذا کوشش کرتا ہوں خود کو ٹھنڈا رکھوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس ایل میں جتنے بھی کپتان آئے ان کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ایونٹ کے انعقاد سے ہر کھلاڑی کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل مقابلے میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔

  • محمد رضوان پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 قرار

    محمد رضوان پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 قرار

    لاہور :ملتان سلطانز کے کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا قرار دیا گیا ہے۔پی سی بی ایوارڈز میں سب سے قیمتی کرکٹر اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والے محمد رضوان کو ٹورنامنٹ کے 13 میچز میں 546 رنز بنانے پر پلیئر آف دا ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے47 چوکے اور 9 چھکے جڑنےسمیت 7 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ اس دوران انہوں نے وکٹوں کے پیچھے بھی 9 شکار کیے۔

    لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو بالترتیب ٹورنامنٹ کا بہترین بیٹر اور بہترین باؤلر قرار دیا گیا ہے۔ فخر زمان نے ٹورنامنٹ میں 153 کے اسٹرائیک ریٹ سے 588 رنز اسکور کیے۔ شادب خان نے 6.47 کے اکانومی ریٹ سے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 19 وکٹیں حاصل کیں۔

    خوشدل شاہ کو ٹورنامنٹ کا بہترین آلراؤنڈراوربہترین فیلڈر قرار دیا گیا۔ انہوں نے ایونٹ میں 153 رنز اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ 16 وکٹیں بھی حاصل کیں۔لاہور قلندرز کے زمان خان کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا ایمرجنگ کرکٹر قرار دیا گیا ۔ پہلی مرتبہ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شرکت کرنے والے زمان خان نے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 18 وکٹیں حاصل کیں۔

    اس دوران امپائر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا ایوارڈ راشد ریاض جبکہ اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ ملتان سلطانز کو دیا گیا۔امپائر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل کے علاوہ تمام ایوارڈز کمنٹری پینل میں شامل ارکان کی جانب سے دئیے گئے ہیں۔

    ایوارڈز:
    پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– محمد رضوان (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    پارک ویو سٹی امپائرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل7– راشد ریاض (3.5 ملین روپے)
    ٹک ٹاک بیٹرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7- فخر زمان (لاہور قلندرز) (3.5 ملین روپے)
    جے ڈاٹ باؤلرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل – شاداب خان (اسلام آباد یونائیٹڈ) (3.5 ملین روپے)
    جوبلی انشورنس وکٹ کیپرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– محمد رضوان (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    اوساکا بیٹریز فیلڈرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– خوشدل شاہ (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    برائٹو پینٹس آل راؤنڈرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– خوشدل شاہ (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    زیک آئل ایمرجنگ کرکٹر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 – زمان خان (لاہور قلندرز) (3.5 ملین روپے)
    گولوٹلو سپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ – ملتان سلطانز (3.5 ملین روپے)

  • لاہور قلندرز کی کامیابی  کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا

    لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا

    لاہور:لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا ،اطلاعات کے مطاابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار لاہور قلندرز کی فتح پر بہت خوش دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔

    اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پاکستان سپر لیگ سیون فائنل جیتنے پر لاہور قلندرز کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرکے فتح اپنے نام کی، محمد حفیظ، بروک اور ویزے نے شاندار بلے بازی کرکے لاہور قلندرز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی کی زبردست کپتانی اورعمدہ باولنگ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔عثمان بزدار نے کہا کہ لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، شائقین کرکٹ نے فائنل کو خوب انجوائے کیا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا کامیاب انعقاد انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ آج پر امن اور کھیلوں سے محبت کرنے والے پاکستان کی فتح ہوئی ہے،لاہورمیں ہونے والے پی ایس ایل کے فائنل کو یادگار میچ کے طو رپر یاد رکھاجائے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل مقابلے میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

    لاہور قلندرز کے 181 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ملتان سلطانز کی ٹیم 20 ویں اوور میں 138 رنزبناکر آؤٹ ہوگئی، خوشدل شاہ 32 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    قلندرز نے محمد حفیظ کی ذمہ درانہ اور اختتامی اوورز میں بروک اور ویزے کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں پر 180 رنز بنائے، حفیظ 46 گیندوں پر 69 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    لاہور قلندرز کی اننگز

    لاہور قلندرز کی اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا صرف 25 رنز کے مجموعی اسکور پر ٹاپ 3 بیٹرز پویلین لوٹ گئے، ان فارم فخر زمان3، عبداللہ شفیق 14 اور ذیشان اشرف 7 رنز بناسکے۔

    3 وکٹیں گرنے کے بعد حفیظ اور کامران غلام کے درمیان 54 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی تاہم 79 رنز کے مجموعی اسکور پر کامران 15 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے تاہم دوسری جانب سے حفیظ نے ذمہ درانہ اننگز کھیلی لیکن وہ بھی 46 گیندوں پر 69 رنز بناسکے۔

    اس کے علاوہ اختتامی اوورز میں ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزا کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت قلندرز نے مقررہ اوورز میں180 رنز بنائے۔

    ہیری بروک نے22 گیندوں پر41 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ڈیوڈ ویزا نے8 گیندوں پر 28 رنز بنائے۔

    سلطانز کی جانب سے آصف آفریدی نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ڈیوڈ ولی اور شاہنواز دھانی نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    ملتان سلطانز کی اننگز

    181 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سلطانز کے بیٹرز جم کر نہ کھیل سکے اور یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے گئے۔اوپنرز شان مسعود اور کپتان رضوان اس بار اپنی ٹیم کو کامیابی نہ دلواسکے،شان 19 جبکہ رضوان 14 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    اس کے علاوہ رائیلی روسو 15، امیر عظمت6 اور آصف آفریدی ایک رنز بناکر پویلین لوٹے،ایک وقت پر ٹم ڈیوڈ اور خوشدل کے درمیان51 رنزکی شراکت داری قائم ہوئی لیکن وہ بھی سلطانز کو کامیابی نہ دلواسکی۔

    ٹم ڈیوڈ 27 جبکہ خوشدل شاہ 32 رنز بناکر آؤٹ ہوئے یوں پوری ٹیم 20 ویں اوور میں 138 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    قلندرز کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ محمد حفیظ اور زمان خان نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

    ٹاس سے قبل قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس میں چیئر مین پی سی بی رمیز راجا نے ایونٹ کے بہترین انعقاد پر سکیورٹی اداروں سمیت تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

  • پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    لاہور:پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام ،اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز کا کہنا ہے کہ خود کو پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ محسوس کر رہا ہوں۔

    آسٹریلیا کی ٹیم 24 سال کے طویل عرصے بعد آج صبح اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچی تھی جہاں سے ٹیم کو سخت سکیورٹی میں ہوٹل لے جایا گیا۔آسٹریلوی کھلاڑی دو روز تک بائیو سکیور ببل میں رہیں گے اور پھر تمام کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ ہوں گے جس کے بعد کورونا ٹیسٹ منفی آنے والے کھلاڑی پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں میں حصہ لے سکیں گے۔

    آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز نے پاکستان پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں کو سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات تھے لیکن کرکٹ آسٹریلیا نے یقین دلایا کہ انہیں بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    پیٹ کمنز کا مزید کہنا تھا کہ میں خود کو پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ محسوس کر رہا ہوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہمارا بہت اچھا خیال رکھا جا رہا ہے، جب ہم پہنچے تو بہت زیادہ سکیورٹی موجود تھی، ہمیں جہاز سے اتارنے کے بعد سیدھا ہوٹل پہنچایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بہترین سکیورٹی انتظامات کے باعث ہمیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور تمام کھلاڑیوں کی پوری توجہ کرکٹ پر ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان پہنچنے والے کھلاڑیوں میں کپتان پیٹ کمنز کے علاوہ اسٹیو اسمتھ، مارنس لبوشین، جوش ہیزل ووڈ، مچل مارش، عثمان خواجہ، ناتھن لیون، مچل اسٹارک اور دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔

    آسٹریلین ٹیم دو روز بائیو سکیور ببل میں رہے گی اور دو روز بعد کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ ہوں گے۔

    کورونا ٹیسٹ منفی آنے والے کھلاڑی پریکٹس سیشن میں حصہ لیں گے اور دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 4 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور صرف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائے گا

  • سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:     پتے لگ جان گے

    سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا: پتے لگ جان گے

    لاہور: سلطانز یا قلندرز: پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:پتے لگ جان گے ،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کا چیمپئن کون ہو گا، فیصلے کا دن آ گیا۔ ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کی ٹیمیں ٹائٹل مقابلے میں آج مدمقابل ہوں گی، کپتان محمد رضوان اور شاہین آفریدی نے جیت پر نظریں جما لیں۔

    زندہ دلان کے شہر میں کرکٹ کی زندہ دلی کا آج فیصلہ کن دن ہے، دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز آمنے سامنے ہو رہے ہیں، ٹائٹل کی جنگ قذافی سٹیڈیم کے تاریخی میدان میں شام ساڑھے سات بجے شروع ہو گی۔ فاتح ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے، رنر اپ کو تین کروڑ بیس لاکھ روپے انعامی رقم دی جائے گی.

    گذشتہ روز آرام کے دن بھی ٹیمیں فُل ایکشن میں رہیں، نیٹ پریکٹس، بیٹنگ، بولنگ کے سیشن کئے گئے۔ چھوٹے فارمیٹ کے بڑے مقابلے میں زورکا جوڑ ہو گا، رش بھی کھڑکی توڑ ہو گا۔

    چھکے چوکے اور وکٹیں دیکھنے کے لیے پرستار، انتظار میں بے قرار ہیں۔ لاہور قلندرز کو میزبان ہونے کا مان ہے تو ملتان سلطانز بھی گذشتہ سال کی چمپئن ہے۔ رواں سیزن میں دونوں ٹیمیں تین بار آمنے سامنے آئیں، لاہور کی ٹیم ایک بار فاتح رہی، آخری پانچ میچز میں سے چار بار ملتان سلطانز ہی جیتے۔ آج فتح پانے کے لیے کپتان رضوان اور شاہین خان پرعزم ہیں تو پرستار بھی پرجوش ہیں ۔

    یاد رہے کہ آج فائنل میں جیتنے والے کو ملنے والے انعام پر بھی بحث چل پڑی ہے اور کہا جارہاہے کہ جو پی ایس ایل کے پچھلے 6 ایڈیشنز تک لیگ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کو 5 کروڑ روپے کی انعامی رقم دی جاتی رہی ہے۔

    تاہم اس بار انعامی رقم میں 3 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس بار جیتنے والی ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے جب کہ رنرز اپ ٹیم کو 3کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

  • فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے

    فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے

    لاہور:فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے ,اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ کے پہلے سپر اسٹار، فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بن گئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو پی سی بی فیصل حسنین نے ہال آف فیم کی اعزازی ٹوپی فضل محمود مرحوم کی صاحبزادی شائشہ محمود اور اور اعزازی پلاک ان کے صاحبزادے شہزاد محمود کو دی۔یہ تقریب 25 فروری بروز جمعہ کو شیڈول ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے دوسرے ایلیمینٹر سے قبل قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوئی۔

    فضل محمود پاکستان کے وہ پہلے کرکٹر تھے جنہیں 1955 میں وزڈن کے فائیو کرکٹرز آف دی ایئرز میں شامل کیا گیا ہے۔اس سے قبل انہوں نے 1954 میں دورہ انگلینڈ میں چار ٹیسٹ میچز میں 20 وکٹیں حاصل کی تھیں۔سال 1952 میں بھی ان کی شاندار باؤلنگ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے بھارت کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر شکست سے دوچار کیا تھا۔

    پاکستان کی جانب سے 34 ٹیسٹ میچز میں 139 وکٹیں حاصل کرنے والے فضل محمود کوحسن کارکردگی پر 1958 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا ،یہ پاکستان کا سب سے بڑا قومی اعزاز ہے ۔ 2012 میں انہیں ہلال امتیاز (پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سول ایوارڈ) دیا گیا۔

    فیصل حسنین، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل حسنین نے کہا کہ وہ فضل محمود کو باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فضل محمود مرحوم کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کا کوئی جوڑ نہیں۔ انہوں نے تقسیم ہند کے بعد بھارت کی نمائندگی سے دستبردار ہوکر پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کو ترجیح دی۔

    فیصل حسنین نے کہا کہ فضل محمود نےبڑی ٹیموں کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے پاکستان کو دنیائے کرکٹ کے افق پر ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ فضل محمود کی شخصیت نے پاکستان کی ایک بڑی نسل کو کرکٹ کی طرف راغب کیا، بعدازاں ان نوجوانوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑی کامیابیاں سمیٹیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فضل محمود کو ہمیشہ ایک عظیم کھلاڑی کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔

    شہزاد محمود، صاحبزادہ فضل محمود:

    فضل محمود مرحوم کے صاحبزادے شہزاد محمود کاکہناہے کہ ان کے والد، فضل محمود پاکستان کرکٹ کے پہلے ہیرو اور حقیقی روشن ستارے تھے۔انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرنے پر ہمیشہ فخر محسوس کیا اوروہ اکثر اپنے کرکٹ کیرئیر کے دنوں کی حسین یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔

    شہزاد محمود کا کہنا ہے کہ فضل محمود نے ریٹائرمنٹ کے بعدبھی پاکستان کرکٹ سے بھرپور وابستگی رکھی۔اپنے اہلخانہ کی طرف سے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشکور ہیں جنہوں نے فضل محمود کو پی سی بی ہال آف فیم میں شامل کیا۔

  • اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی جہاں پر ان کا مقابلہ ملتان سلطانز کے ساتھ ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز کی کپتانی شاہین شاہ آفریدی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی شاداب خان کر رہے تھے۔ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے دوسرے ایلیمینٹر میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 6 رنزسے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔ آخری اوور میں 27 رنز اسکور کرنے والے ڈیوڈ ویزے نے اسلام آباد کی اننگزکے آخری اوور میں 8 رنز کا کامیابی سے دفاع کرکے اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    فاتح ٹیم 27 فروری کو ایونٹ کے فائنل میں ملتان سلطانز کے مدمقابل آئے گی۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی پوری ٹیم 19.4 اوورز میں 162 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے ابتدائی چار بیٹرزشاہین شاہ آفریدی اور زمان خان کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے بے بس نظر آئے اور محض 46 کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ پال اسٹرلنگ 13، ول جیکس صفر، شاداب خان 14 اور لیام ڈاسن 12 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    تاہم اعظم خان نے ایلکس ہیلز کے ہمراہ ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتےہوئے 79 رنز کی شراکت قائم کرکے اسلام آبادیونائیٹڈ کی دم توڑتی امیدوں کو روشنی بخشی۔ اعظم خان 28 گیندوں پر 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ایلکس ہیلز 38 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 2 چوکے شامل تھے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے آخری 6 گیندوں پر 8 رنز درکار تھے۔پہلی دو گیندوں پر کوئی رن نہ بنانے والے محمد وسیم جونیئر تیسری گیند پر ڈبل لینے کی کوشش کے دوران رن آؤٹ ہوکر پویلین واپس لوٹے تو میچ دلچسپ ہوگیا۔نئے آنے والے بیٹر وقاص مقصود بھی پہلی ہی گیندپرمڈ وکٹ باؤنڈری پر عبداللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ دے بیٹھے۔

    حارث رؤف، زمان خان اور شاہین آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ ڈیوڈ ویزے نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    اس سے قبل لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے ان فارم بیٹر فخر زمان ایک کے انفرادی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ دوسرے اوپنر فل سالٹ بھی دو اسکور بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    ایسے میں نوجوان بیٹر عبداللہ شفیق نے لاہور قلندرز کی کمان سنبھالی اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 28 گیندوں پر 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو میچ میں واپس لے آئے۔انہوں نے کامران غلام کے ہمراہ 73 رنز کی شراکت قائم کی۔ کامران غلام 30 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    مڈل آرڈر بیٹر محمد حفیظ نے 28 اور سمت پٹیل نے بھی 21 رنزبناکر بیٹنگ لائن کو سہارا دیاتاہم ڈیوڈ ویزے نے اننگز کے آخری اوور میں وقاص مقصود کو ایک چوکا اور 3 چھکے لگا کر ٹیم کا مجموعہ 168 تک پہنچایا۔ وہ 8 گیندوں پر 28 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لیام ڈاسن اور محمد وسیم نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ شاداب خان اور وقاص مقصود نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    لاہور قلندرز سکواڈ:

    فخر زمان، عبد اللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، ہیری بروک، فل سالٹ، سمٹ پٹیل، ڈیوڈ ویزے، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، زمان خان

    اسلام آباد یونایئٹڈ سکواڈ:

    ایلکس ہیلز، وِل جیک، سٹرلنگ، شاداب خان، آصف علی، اعظم خان، محمد وسیم، لیام ڈاؤسن، حسن علی، اطہر محمود، وقاص مقصود