Baaghi TV

Category: کھیل

  • سارو گنگولی آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چئیرمین مقرر

    سارو گنگولی آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چئیرمین مقرر

    سابق بھارتی کرکٹر سارو گنگولی کو آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا کے صدر سارو گنگولی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں گےاس سے قبل یہ ذمہ داری انیل کمبلے کے پاس تھی۔

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی…

    انیل کمبلے کو 2012 میں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جب انہوں نے ویسٹ انڈیز سے کلائیو لائیڈ کی جگہ لی تھی کمبلے کو آئی سی سی نے2016 میں ایک اور مدت کے لیے دوبارہ تعینات کیا تھا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    انہیں مارچ 2019 میں اپنی تیسری اور آخری تین سالہ مدت کے لیے دوبارہ منتخب کیا گیا تھا نو سال کی مدت تک کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے بعد اب گنگولی ان کی جگہ لیں گے گنگولی کو ایک مبصر سے چیئرمین بنا کر ترقی دی گئی ہے آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے کام میں کھیل کے قواعد و ضوابط کا خیال رکھنا شامل ہے۔

    پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر شوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا

    پاک بھارت میچ ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 انٹرنیشنل بن گیا

  • ہردیک پانڈیا کی ایئرپورٹ کسٹمز کے ذریعہ ‘5 کروڑ روپے کی گھڑی ضبط کرنے’ پر وضاحت

    ہردیک پانڈیا کی ایئرپورٹ کسٹمز کے ذریعہ ‘5 کروڑ روپے کی گھڑی ضبط کرنے’ پر وضاحت

    کرکٹر ہردیک پانڈیا نے منگل کے روز ان خبروں کی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دبئی سے واپسی پر ممبئی ائیر پورٹ پر ان کے پاس سے 5 کروڑ مالیت کی دو رسٹ واچ ضبط کی گئیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق منگل کو خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اتوار کی رات کو کسٹم ڈپارٹمنٹ نے دو گھڑیاں ضبط کیں کیونکہ مسٹر پانڈیا کے پاس مبینہ طور پر ان کا بل نہیں تھا۔


    ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے، مسٹر پانڈیا نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ "میں رضاکارانہ طور پر ممبئی ائیر پورٹ کے کسٹم کاؤنٹر پر اپنے ذریعہ لائے گئے سامان کو چیک کروانے اور مطلوبہ کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے گیا تھا ممبئی ائیر پورٹ پر کسٹم کے سامنے میری چیکنگ کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلط تاثرات پھیل رہے ہیں اور میں اس کے بارے میں وضاحت کرنا چاہوں گا کہ کیا ہوا۔”

    بھارتی کرکٹر نے کہا کہ "میں نے رضاکارانہ طور پر ان تمام اشیاء کا اعلان کیا تھا جو میں نے دبئی سے قانونی طور پر خریدی تھیں اور جو بھی ڈیوٹی ادا کرنے کی ضرورت تھی وہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں ڈیوٹی کے لیے مناسب تشخیص کر رہا ہوں جس کی ادائیگی کی میں نے پہلے ہی تصدیق کر دی ہے-

    ہردیک پانڈیا نے مزید کہا کہ "سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے مطابق گھڑی کی قیمت تقریباً 1.5 کروڑ روپے ہے نہ کہ 5 کروڑ روپے۔ میں ملک کا ایک قانون پسند شہری ہوں اور میں تمام سرکاری اداروں کا احترام کرتا ہوں۔ ممبئی کے کسٹم ڈپارٹمنٹ سے تعاون اور میں نے انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے اور اس معاملے کو کلیئر کرانے کے لیے جو بھی جائز دستاویزات درکار ہوں وہ انہیں فراہم کروں گا۔ میرے خلاف قانونی حدود کو پار کرنے کے تمام الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔”

    واضح رہے کہ ہردیک پانڈیا ٹی 20 ورلڈ کپ سے فارغ ہونے کے بعد دبئی سے بھارت واپس آرہے تھے اے این آئی کے مطابق، ہردیک پانڈیا کے بھائی، کرکٹر کرونل پانڈیا کو بھی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گزشتہ سال نامعلوم سونا اور دیگر قیمتی اشیاء رکھنے کے شبہ میں روکا گیا تھا۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی  پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بعد آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کپتان ایرون فنچ بھی دیئے گئے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے۔

    باغی ٹی وی : شعیب اختر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز ڈیوڈ وارنر کو ملنے کے خلاف سامنے آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا جائے گا لیکن بابر اعظم کو یہ ایوارڈ نہ ملنے پر مایوسی ہوئی –

    یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بابر اعظم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ 303 رنز بنائے تھے۔

    تاہم اب آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کپتان نے ورلڈکپ جیتے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ ایڈم زمپا کو ملنا چاہیے تھا جو ٹورنامنٹ میں 13 وکٹیں لینے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میرے مطابق پلیر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ ڈیوڈ وارنر کے بجائے ایڈم زمپا کو ملنا چاہیے تھا ایڈم زمپا نے میچ کو کنٹرول کیا اور زیادہ وکٹیں لیں وہ ایک بہترین کھلاڑی ہیں۔

  • شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی

    شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی


    9 /11 کے بعد  دنیا کرکٹ نے پاکستان میں  دہشت گردی کی آڑ میں چھپ کر  سیکورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کرکٹ فین کے لئے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں تھی ۔ لیکن اسی عرصہ میں پاکستانی کرکٹ اسٹارز دیار غیر  میں کھیل کر سبز ہلالی پرچم بلند کرتے رہے ۔ گزشتہ 21 سال سے پاکستان گراونڈ ویران پڑے ہیں ۔کرکٹ کے متوالے اپنے اسٹارز کو اپنے ہوم گروانڈ پر حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ترس گئے ہیں  ۔میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے کھیل کے سفیروں کو جنہوں نے  اس کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے میدان میں ڈٹے رہے ۔کبھی مصباح الحق کی صورت میں کبھی یونس خان کبھی آفریدی کی شکل میں، پاکستانی ٹیم نے گزشتہ ان 21 سالوں  میں ہوم  گراونڈ  خشک ہونے کے  باوجود بڑے بڑے ایونٹ جیتے بھی ہیں اور بڑی بڑی ٹیمز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست بھی  دی ہے ۔ 2007 کے پہلے ایڈیشن کا فائنل کھیلا ۔پھر 2009 کے دوسرے  ایڈیشن میں یونس خان کی قیادت میں ۔ٹرافی فضا میں بلند کی ،وقت گزرتا گیا پاکستان نے اپنا سفر جاری رکھا ۔2017 میں انگلینڈ میں مایوس قوم کو توقعات کے برعکس پاکستان نے فائنل میں سرفراز کی قیادت میں بھارت کو شکست فاش دیکر بڑے بڑے کرکٹ کے پنڈتوں کو حیران کر دیا،  وہ چمپیئن ٹرافی کسی اکیلے کھلاڑی نے نہیں جیتی تھی بلکہ سب نے جیت میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔اس میں ایک نام حسن علی کا بھی تھا۔

    حسن علی کسی تعارف کے محتاج نہیں  گلی کوچوں میں کرکٹ کھیل کر دنیا کرکٹ کے افق پر نمودار ہوئے ۔2جولائی 1994 میں منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہونے والے نوجوان  تیز گیند بازی سے بڑے بڑے بلے بازوں  کے پاوں اکھاڑ کر رکھ دئیے ۔حسن علی کا وکٹ لینے کے بعد جشن میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور تماشائیوں نے بھر پور داد دی ،انہیں مسٹر جنریٹر بھی کہا جاتا ہے ۔سیلیکٹر نے 2017کے چمپیئن ٹرافی کے اسکواڈ میں جگہ دی ۔حسن علی نے اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھایا ۔اپنی سلیکشن کو 13 وکٹ لیکر ثابت کردیا پاکستان میں ٹیلنٹ کی  کوئی کمی نہیں ہے کمی ہے صرف بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی ۔حسن علی نے چمپیئن ٹرافی میں 5میچ کھیل کر  13 وکٹ لیئے ۔چمپیئن ٹرافی کا بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔ یہ پاکستان کےلئے حسن علی کےلئے  اور پاکستانی قوم کےلئے ایک اعزاز بات ہے ۔وقت  ایک جیسا نہیں رہتا دوبئی میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں  شکست کے بعد کچھ لوگوں نے   ساری ذمہ داری حسن علی  پر ڈال رہے ہیں ۔صرف ایک کیچ نے حسن علی کو ہیرو سے زیرو بنا دیا ۔افسوس مجھ سمیت پوری قوم کو ہے "کاش”حسن علی وہ کیچ پکڑ لیتے  نتیجہ کچھ اور ہوتا ،گرین شرٹس اس ٹورنامنٹ میں چمپئن کی طرح کھیلے اور مجھے فخر ہے گرین شرٹس کی پرفارمنس پر اور ہمیں ہونا چاہیے ۔ٹاس ہارنے کے بعد بابر اعظم اور رضوان نے بہت اچھا آغاز فراہم کیا ایک بڑا اسکور کھڑا کیا جا سکتا تھا بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا رضوان اور فخر زمان کی نصف سنچری کی بدولت 176 رنز بنائے آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف  ایک اورقبل5وکٹ  پر مکمل کر لیا ۔
    آسٹریلیا بڑی ٹیم ہے ۔پریشر میں اچھا کھیل گئے شکست کے بعد گرین شرٹس کا سفر تمام ہوا
    شکست کے بعد  حسن علی پر تنقید کے نشتر چلائے گئے ،انہیں برا بھلا کہا گیا بہت سی گالیوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔مجھے  اس وقت حیرت ہوئی جب  حقیقت ٹی وی نے بہت غلیظ زبان استعمال کی اپنے ہیروز کی تذلیل کی۔ کیا حسن علی نے ایسا جان بوجھ کر کیا ؟۔ہر گز نہیں۔اس کی آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کوشش کے باوجود وہ پاکستان کےلئے کچھ نہ کرسکا ۔کیا ہم جیت میں اپنے ہیروز کو سپورٹ کریں گے ہار میں کیوں نہیں،  زندہ قومیں اپنے ہیروز کی تذلیل نہیں بلکہ ہار میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ، ہمیں بطور قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،   جس طرح جیت میں ان کے ساتھ تھے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اس  صدمہ سے باہر نکل سکیں تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں   ۔پاکستان زندہ باد

  • حسن علی کو لے کر انڈین پروپگینڈا تحریر عبدالوحید

     السلام علیکم ناظرین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سترہ اکتوبر کو دبئی میں شروع ہوا ۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیم کو گروپ بی میں رکھا گیا گروپ بی کا پہلا میچ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان چوبیس اکتوبر کو شروع ہوا ۔ میچ سے پہلے انڈین اور انڈین میڈیا اپنی ٹیم کی ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہی تھی جیسا کوئی آسمان سے اتری ہوئی ٹیم ہو ۔ جب پہلا میچ کھیلا گیا تو پاکستان نے بہت بری طرح سے انڈیا کو شکست دی ۔ ایسی شکست جس کی تواقعات کسی انڈین کی وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین محمد رضوان اور بابر اعظم جم کر انڈین بولروں کی دھلائی کی۔ انڈین ٹیم کوئی بھی ایسا بولر نہیں تھا جو پاکستانی اوپنرز کو پویلین بھیج سکے۔ پاکستانی بیٹسمینوں نے تاریخ رقم کردی۔ اس کے بعد پاکستان نے مسلسل نیوزیلینڈ ، افغانستان، نیمبیا اور سکاٹلینڈ کو شکست دی ۔ پاکستانی ٹیم ایسی ٹیم بن کر ابھری جس کی تواقع کوئی نہیں کررہا تھا۔ پاکستانی اوپنرز ، مڈل آرڈر بیٹسمین سب اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ انڈیا اپنے پہلا میچ ہارا اس کے ساتھ دوسرے میچ میں بھی بری طرح شکست ہوئی ۔ اس کے بعد ان کا جو تیسرا میچ ہوا افغانستان کے ساتھ وہاں کے میچ میں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ میچ فکس ہو۔ جب نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دی تو نیوزیلینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور انڈیا ٹورنا منٹ سے باہر ہوگیا ۔  دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تھا ۔ جب دوسرا سیمی فائنل میچ کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان کو کانٹے دار مقابلے کے بعد شکست ہوئی۔ اس دوسرے سیمی فائنل میں جب پاکستان فیلڈنگ کررہے تھا تو آخری اورر میں شاہین شاہ آفریدی کے تیسرے گیند پر جب حسن علی نے کیچ چھوڑا ۔ اس کے بعد میتھین ویڈ نے آخری تین بالوں پر تین چھکے لگا دیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ہوئی ۔ اس تنقید کو بڑھاوا دینے کے لیے انڈین کا ایک پینل میدان میں اتر آیا ۔ اور  مذہب کا سہارا لے کر پاکستان میں شیا سنی فسادات کو بڑھانے کی ناکام کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پراپیگنڈا کیا کہ حسن علی پر اس لیے تنقید کی جارہی ہے وہ شیا ہے ۔ حالانکہ حقائق بلکل مختلف تھے۔حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ضرور ہوئی

      لیکن وہ اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ شیا ہے اور سنی نہیں ہے ۔ یہ تنقید ان کی اصلاح کے لیے تھی۔ میچ میں کیچ چھوڑنے کی وجہ سے ہوئی تنقید۔ انڈیا کے وہ لوگ جو ہمیشہ چاہیے ہیں کہ وہ پراپیگنڈا کے ذریعے پاکستان میں سنی شیا فسادات کو پروان چڑھایا جائے ۔ اس سے پہلے انڈین کا ایک سابق میجر گورو آریا تھا وہ بھی اس قسم کے پلان کرتا رہا کہ کسی نا کسی طرح اس قسم کے فسادات کو بڑھایا جائے تاکہ پاکستان میں امن کا ماحول خراب ہو اور خانہ جنگی پیدا ہوا ۔ انڈین جو ہمیشہ چاہتے ہیں پاکستان میں اس طرح کے حالات پیدا کیے جائیں جس سے خون خرابا ہو۔ پاکستانیوں کو اب انڈین کے چالوں کو سمجھنا چاہیے۔ ایسے پراپیگنڈا سے بچنا چاہیے جو پاکستان میں امن کے ماحول کو خراب 

     کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔ حسن علی بھی  انسان ہے  اگرچہ اس سے یہ کیچ چھوٹا ہے تو اس میں کون سی  مذہب والی بات آگئی۔ یہ لوگ جو نفرت کو پاکستان میں اپلائی کرنا چاہتے ہیں ہمیں ایسے لوگوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔

    ہم سب پاکستانی ہیں ہمیں کسی پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھائیں گے تو دشمن ایسی طرح ہم پہ وار کریں کہ لہذا ہم ایک پاکستانی ایک قوم کی طرح رہنا چاہیے اور دشمن کے ہر چال کو ناکام بنانا چاہیے ۔پاکستان زندہ باد

  • محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

    محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

     وہ دو دن سے اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارٹ  میں   زیرعلاج تھا، ان کے منہ سے باربار ایک ہی لفظ نکل رہاتھاکہ مجھے اپنے فرض پر واپس جاناہے ، قوم نے مجھ پرایک فرض عائد کیاہے  میں   وہ فرض پوراکروں  گا، بھلا میں   اپنے فرض سے کیسے غافل ہوسکتاہوں ، ڈاکٹر اصرار کرتے رہے وہ انکار کرتے رہے ، ٹی وی اسکرینز پر سرخیاں  چلتی رہی آج ایک اہم رکن قومی فرائض پورا کرنے سے قاصر رہیں  گے لیکن اللہ کاکرنا ایساہوا وہ دو دن مکمل ہوتے ہی مکمل ٹھیک ہوگئے، اور ڈاکٹرزنے انہیں  اپنے فرض پر واپس جانے کی اجازت دے دی، وہ خوشی سے پھولاجا رہاتھاکیونکہ انہیں  ایک بار پھر قوم کی خدمت کاموقع ہاتھ آگیا تھا، انہوں  نے رب کاشکر ادا کیا اور فرض شناسی کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے راہ کی جانب ایساگامزن ہوگیا کہ رہتی دنیا کیلئے مثال بن گیا، اور ہر جگہ سے واہ واہ کی صدائیں  بلند ہونے لگی، یہ نوجوان کوئی اور نہیں  پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے بار محمد رضوان ہے، محمد رضوان کا تعلق کے پی کے شہر پشاور سے ہیں ، یہ یکم جون 1992کو پیدا ہوئے ، بچپن سے ہی کرکٹ کا جنون سرپر سوار تھا، 140لسٹ اے میچز اور 161ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے بعد 17اپریل  2015کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے جبکہ 24اپریل کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز کیا، یہ آگے پچھلے مڑے بغیر اپنی پرفارمنس پر توجہ مرکوزرکھنے کی پوری کوشش کرتے رہے، پاکستان کرکٹ ٹیم  میں   مقابلہ سخت تھا، ہر نئے آنے والاکھلاڑی اپنی ردھم  میں   واپس آکر ٹیم  میں   جگہ بنانے کاخواہاں  تھا،انہیں  کئی بارمایوسی کاشکار اس لیے ہوناپڑاکیوں  کہ وہ فارم سے بالکل آوٹ ہوچکے تھے، یوں  ٹیم سے باہر کی ہوا بھی کھانی پڑی، یہ محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والاکھلاڑی ہے، مسلسل محنت کرتے رہے یوں  2019 میں   ٹیم  میں   واپس آگیا، اسی اثنا میں   وکٹ کیپر بلے باز سرفرازاحمد کی تنزلی کا آغاز ہوگیا،محمدرضوان مسلسل پرفارم کرتے رہے گیارہ فروری 2021کو لاہور  میں   ساوتھ آفریقہ کے خلاف 104رنز کی نایاب اننگز کھیل کر اپنی جگہ مزید مستحکم کر دیا، یہ یوں  قوم کی خاطر کھیلتے رہے ، 24اکتوبر کو پاکستان کا انڈیاکے خلاف ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی  میں   میچ طے تھا، شائقین کرکٹ سالوں  سے پٹاخے پھوڑنے کا انتظارکررہے تھے، شائقین کوامید تھی کہ اس بار یہ ٹیم وہ کام کردیکھائے گی جو  اب تک نہیں  ہوگا، پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ  میں   انڈیاکو کبھی ورلڈ کپ  میں   شکست سے دوچار نہیں  کیاتھا، لیکن یہ کارنامہ 24اکتوبر کی شام کو شاہینوں  نے کردیکھایا، انڈیاکی پوری ٹیم 151کی مجموعی اسکور پر ڈھیر ہوگی، ٹیم پاکستان نے سترہویں  آور میں  بغیر کسی وکٹ کے تقصان کے ہدف پوری کرکے تاریخ رقم کرلی،اس  میں   محمد رضوان نے 79رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، یہ وہ مرحلہ تھا پاکستان کاسر فخر سے بلندہوگیا، ٹیم نے پچھلے مڑ کرنہیں  دیکھی، بددستور  نیوزی لینڈ،افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا، سیمی فائنل  میں   آسٹریلیا کے ساتھ 11اکتوبر کو پنچہ آزمانی کرنی تھی، لیکن میچ سے دو دن قبل ٹی وی اسکرینز پر خبریں  چلنے لگی، محمدرضوان اور شعیب ملک بیماری کی وجہ سے آسڑیلیاکے خلاف میچ نہیں  کھیل پائیں گے، میڈیاکو بھی معلوم نہیں  تھا کہ کیا ہورہاہے، 9اکتوبر کو محمد رضوان کی طبعیت اچانک بگڑ گئی وہ دبئی کے میڈیور اسپتال کے آئی سی یو میں   داخل ہوگئے، انہیں  اپنی بیماری سے زیادہ قوم کی فکر تھی انہیں  قوم نے ایک مشن پہ بھیجا تھا وہ ذمہ داری کو کسی صورت چھوڑنے کیلئے تیار ہی نہیں تھا، ڈاکٹر علاج کرتے اصرار کرتے رہے یہ انکار کرتے رہے کہ مجھے ٹیم  میں  واپس جاکر آسڑیلیا کے خلاف میچ کھیلناہے ، یہ باتیں  اس وقت عیاں  ہوئی جب آسڑیلیا کے خلاف میچ کے بعد محمدرضوان کاعلاج کرنے والاڈاکٹر سہیر سین العابدین سے رضوان کے بارے  میں   پوچھاکیا، ڈاکٹر سہیرسین العابدین نے کہا  میں   رضوان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا کہیں  انہیں  ہارٹ اٹیک تو نہیں  آیا،جب انہیں  اسپتال لایاگیا توان کی حالت بہت خراب تھی ، ان کے سینے  میں درد تھا، گلہ سکھ گیا تھا، بیماری کے انتہائی درجے پر پہنچ چکاتھا لیکن ان کا حوصلہ آسمانوں  سے باتیں  کررہاتھا انہیں  صرف اور صرف وطن کی فکر تھی، وطن کی لت نے انہیں  بستر بیمار پر بھی رہنے نہیں  دے رہاتھا، مسلسل 36گھنٹے آئی سی یو  میں   رکھنے کے بعد جب انہیں  واپس بھیجا جارہاتھا تو وہ ایک دم صحت یاب ہوچکے تھے  ۔  ڈاکٹر سہیر بھی ان کے اس حالت کو دیکھ کر حیران رہ گیا، محمدرضوان آئی سی یو سے نکل کرکٹ کے میدان  میں   آن پہنچا آسٹریلیا کے خلاف مسلسل سترہ آورز پچ کر براجماں  رہے اور 79رنز کی نمایاں  اننگر کھیلی، دوران میچ آسڑیلیا کے باولر مچل اسٹاک کی باونسرکی وجہ سے چہرے پر داغ بھی لگا، لیکن وہ باونسر بھی ان کی راہ میں   حائل نہ ہوسکے،میچ  میں   آسڑیلیا نے پاکستان کو شکست تو دے دی لیکن رضوان کی کارکردگی اور وطن سے محبت نے دنیا ئے کرکٹ کے ستاروں  سمیت شائقین کو حیران کردیا،
    آپ نے کئی بار ایسی ویڈیو کلپ یا تصویر دیکھی ہوگی جس  میں   محمدرضوان میچ کے دوران نماز پڑھتے دیکھائی دیتاہے، چاہیے وہ بھارت کے خلاف میچ ہو یا پریکٹس سیشن ، دین سے قربت اور وطن سے محبت کی اس عمدہ مثال کیوجہ سے محمدرضوان دنیاجہاں   میں   آمر کرگیا، انہیں  دنیائے کرکٹ کی تاریخ  میں   آئی سی یوسے نکل کر مردمیدان بننے والے کھلاڑی کے نام سے یاد کیاجائے گا، اسی فرض شناسی اور اپنے شعبے سے محبت نے دنیاجہاں  کو جھومنے اور واہ واہ کرنے پر مجبور کردیا، پاکستان ورلڈ کپ تونہیں  جیت سکا لیکن ورلڈ کپ سے بڑا کارنامہ انجام دے کر عالم انسانیت کی محبتیں  سمیٹ لیں  ۔  
     آپ ایک دن پورے ملک  میں   موجود اداروں  کا ڈینانکال کر دیکھ لیں  ، جہاں  کام کرنے والے کتنے افراد فرض شناسی کے ساتھ اپناکام سر انجام دیتے ہیں  ، آپ یقین کرلیں  بیس فیصد ایسے لوگ ہوں  گے جو اپنے فرض کو پورا کرتے ہوئے تنخواہ حلال کرنے کی سعی کرتاہے،ہم  میں   سے ہرایک اپنے فرض سے غافل ہے، جب بھی فرصت ملے اپنا فرض چھوڑ دیتے ہیں  ، اس ضمن  میں   سب سے زیادہ افراد گورنمنٹ سیکٹر  میں   کام کرنے والے ملازمین کی ہے ، انہیں  نہ خوف خداہوتاہے نہ خوف انسان ، انہیں  معلوم ہے ہماری نوکری لگ گئی اب کوئی بھی یہ نہیں  چھین سکتا، ایساکیوں  ہے، کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان صرف نام کامسلمان رہ گیا ہے، ہمیں   اپنے فرائض معلوم ہی نہیں  ، ہم صرف گورنمنٹ کو کرپٹ کہنے  میں   مصروف ہے، دراصل ہم  میں   سے ہرایک کرپٹ ہے ہمیں   بس موقع ملنے کی دیر ہے،ہم کرپشن کی داستانیں  بناکردم لیں  گے ۔  جس دن اس ملک کا ہر فرد اپنے اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے محمدرضوان بن جائے گا اس دن یقین جانیں  ملک ترقی کی راہوں  پر داخل ہوگا اور پوری دنیا  میں  ہماری واہ وہ ہوں  گے  

  • جیت کا جشن: آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جوتے میں مشروب پینے کی ویڈیو وائرل

    جیت کا جشن: آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جوتے میں مشروب پینے کی ویڈیو وائرل

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں فتح کے بعد آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ڈریسنگ روم میں منفرد انداز میں جشن منانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو یک طرفہ مقابلے کے بعد با آسانی شکست دے کر پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔


    کینگروز نے اپنی فتح کے بعد جہاں میدان میں اور ڈھول کی تھاپ پر خوب جشن منایا وہیں ڈریسنگ روم میں انوکھے انداز میں جشن منانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ڈریسنگ روم میں جشن منانے کی ویڈیو آئی سی سی کی جانب سے شیئر کی گئی جس میں اپنی فتح پر انتہائی خوش میتھیو ویڈ نے ایک عجیب انداز اپنایا اور اپنا جوتا اتار کر اس میں مشروب پیا۔

    میتھیو ویڈ کے اس انداز پر ان کے کچھ ساتھی کرکٹرز بھی ان کے ساتھ ہولیے اور ان ہی کے جوتے میں مشروب پیا آسٹریلوی کھلاڑیوں کی اس عجیب اندازمیں جشن منانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

  • پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    لاہور: پی ایس ایل سیزن 2022 کے لیے تیاریوں کا ابھی سے آغاز کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس بار پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب 26 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مجوزہ ہے، دوسری جانب قذافی اسٹیڈیم سے متصل ایل سی سی اے گراونڈ کے ایک کونے پر صفائی کرواکر فینز کی دلچسپی کے لیے بہت بڑا بیٹ اور وکٹیں نصب کی گئی ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کے کلب کے بالکل سامنے 20 فٹ لمبا اور 3 فٹ چوڑا فائبر کا بیٹ تیار کیا گیا ہے، اس کے ساتھ 12 فٹ اونچی اور 6 فٹ چوڑی بیلز کے ساتھ وکٹیں بھی لگائی گئی ہے، ان کی تزئین و آرائش کا کام بھی ہورہا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈکپ میں اپنا سفر ختم کرنے کے بعد 3 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے لیے دبئی سے بنگلہ دیش پہنچ گئی ہے تاہم ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور آل راؤنڈر شعیب ملک 16 نومبر کو ڈھاکا میں اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔

    جبکہ آج دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج دبئی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا فائنل میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے ٹی 20 کا نیا چیمپئن کون ہو گا اس کا فیصلہ آج ہو گا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہو گا۔

    پاکستان نےناقابل یقین حد تک اچھی کرکٹ کھیلی :حسین…

    آسٹریلیا پاکستان کو اور نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچا ہے دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کرنے والی انگلش ٹیم جبکہ نیوزی لینڈ نے ناقابلِ شکست پاکستانی ٹیم کوہرایا ہے۔

    نعمان نیاز اور شعیب اختر میں صلح ہوگئی:اب تبصرے ، تجزیئے اورپراپیگنڈہ بند ہوجانا…

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج دبئی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فائنل میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے ٹی 20 کا نیا چیمپئن کون ہو گا اس کا فیصلہ آج ہو گا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہو گا۔

    آسٹریلیا پاکستان کو اور نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچا ہے دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کرنے والی انگلش ٹیم جبکہ نیوزی لینڈ نے ناقابلِ شکست پاکستانی ٹیم کوہرایا ہے۔

    فائنل سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب ان کے ان فارم وکٹ کیپر بیٹر ڈیون کونوے زخمی ہونے کی وجہ سے فائنل سے باہر ہو گئے ہیں

    تاہم نیوزی لینڈ کے بالرز ٹرینٹ بولٹ اور ایش سودھی آخری میچ میں آسٹریلیا کو قابو کرنے کے لیے تیاری کرلی ہے جبکہ آسٹریلیا کے اسٹارک اور زیمپا بھی کافی پرجوش نظر آرہے ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 138 ون ڈے میچز کھیلے گئے جس میں آسٹریلیا نے 92، نیوزی لینڈ نے 39 جیتے اور 7 میچ بے نتیجہ رہے۔

  • سیمی فائنل لائن اپ مکمل  تحریر غلام مرتضی

    عرب امارات میں جاری ساتواں t20عالمی کپ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ سپر 12 مرحلے کے اختتام پر  4 ٹیمز نے   سیمی فائنل کےلئے جگہ بنا لی ہے ۔گروپ Aسے انگلینڈ اور آسٹریلیا  جبکہ گروپ Bسے پاکستان اور نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کےلئے کوالیفائی کرلیا ہے ۔ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پہلا سیمی فائنل انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان 10نومبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا ۔انگلینڈ اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہا ۔انگلینڈ کو اپنے آخری گروپ میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں   شکست ہوئی تھی  دوسری طرف نیوزی لینڈ 8 پوائنٹس کے ساتھ گروپ بی میں دوسرے نمبر پر رہا ،نیوزی لینڈ کو  پاکستان کیخلاف شکست نصیب ہوئی تھی ۔

    دونوں ٹیمیں  t20عالمی میں پانچ بار پنجا آزما ہوئیں، 3 بار انگلینڈ اور 2بار فتح نیوزی لینڈ کا مقدر بنی
    دونوں ٹیمیں t20 میں مجموعی طور پر  20 بار آمنا سامنا ہوا 13 میچز میں انگلینڈ اور 7میچز میں نیوزی لینڈ  کامیاب رہا۔ نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل 467 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں جبکہ انگلش کپتان مورگن 424 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ اس ایڈیشن میں جوز بٹلر 100بنانے  والے واحد بلے باز ہیں

    دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے  درمیان 11نومبر  کو دوبئی میں کھیلا جائے گا ۔آسٹریلیا اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمر پر رہا جبکہ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پاکستان اور آسٹریلیا t20 عالمی کپ میں  6بار  پنجا آزما ہوئے۔ دونوں ٹیمز  نے 3،3میچز  جیتے ہیں
    2010 کے ایڈیشن میں بھی دونوں ٹیمیں  سیمی فائنل میں  ٹکرا چکی ہیں  اس میچ میں مائک ہسی نے  آخری اور میں سعید اجمل کو 4چھکے لگا کر  پاکستانیوں کی ہنسی  چھین  لی تھی
    دونوں ٹیمیں t20  میں 22مرتبہ پنجا آزما ہوئیں  13 مرتبہ فتح پاکستان کے حصہ میں  آئی جبکہ 9 بار جیت آسٹریلیا کا مقدر بنی ۔

    آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، کپتان ارون فنچ، سٹیو سمتھ لمبی باری کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔گلین میگزویل اس  ٹورنامنٹ میں آوٹ آف فارم ہیں  ۔ آسٹریلیا کے پاس زبردست باولنگ اٹیک ہے جو کسی بھی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا سکتی ہے ۔ جوش ہیزلے وڈ،پیٹ کمنز،مچل سٹارک ،ایڈم  زمپا باولنگ کے شعبے میں زبردست پرفارم کررہے ہیں اور فیلڈرز بھرپور ساتھ دے رہے ہیں

    دوسری طرف پاکستانی ٹیم نے ہر شعبے میں  نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔بابر اعظم اور رضوان نے اسی عالمی کپ میں  بھارت کے خلاف 152 رنز کی اوپننگ  شراکت داری قائم کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، پاکستانی کپتان بابر اعظم زبردست فارم میں ہیں  اسی عالمی کپ میں 4بار 50 رنز  یا اس ذیادہ  بنا کر میتھیو ہیڈن اور ویراٹ کوہلی  کا ریکارڈ  برابر کردیا ہے۔  بابر اعظم اس وقت t20پر راج کررہے ہیں  اس وقت دنیائے کرکٹ کے نمبر 1بلے باز ہیں  ۔دوسری طرف وکٹ کیپر بلے بھی زبردست فارم میں ہیں  مڈل آرڈر  میں  تجربہ کار   محمد حفیظ، شعیب ملک، بھر پور  فارم میں ہیں شعیب ملک نے اسکاٹ لینڈ کے 18 گیندوں پر 54رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی  ۔شعیب ملک نے  اس عالمی کپ میں تیز ترین 50 رنز بنانے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے ۔جارحانہ مزاج سے بیٹنگ کرنے والے آصف علی  ایک ہی اور میں میچ کا نقشہ تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں  ۔اس کا عملی مظاہرہ پہلے نیوزی لینڈ  پھر افغانستان کے خلاف  ایک ہی اور میں 4چھکے لگا کر فتح افغانستان کے جبڑے سے چھین لی تھی ، فخر زمان کو بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے پاس  زبردست  گیندباز موجود ہیں جوکہ    مضبوط ترین بیٹنگ لائن کے پر خچے  اڑا سکتے ہیں  شاہین آفریدی، حارث راوف، حسن علی، عماد وسیم ،شاداب خان اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔

    بابر اعظم پانچ کھیل 264 کے ساتھ سرفہرست ہیں  انگلیڈ کے وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر 240 کے ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں محمد رضوان 214 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں
    سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو ہرانے کیلئے پاکستان کو کھیل کے تینوں شعبوں میں  اعلی  کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔پوری قوم کی دعائیں ٹیم پاکستان کے ساتھ ہیں
    گرین شرٹس  میدان میں سرخرو ہونگے  پاکستانی شاہینز کینگروز کا شکار کرنے کےلئے بالکل تیار ہیں

    @__GHulamMurtaza