Baaghi TV

Category: کھیل

  • میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے    بابر اعظم

    میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے بابر اعظم

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    باغی ٹی وی : اسکاٹ لینڈ سے میچ میں فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    کپتان نے کہا کہ پہلے محمد حفیظ نے میرا اچھا ساتھ نبھایا اور بولرز کی کمزور گیندوں کا بھرپورفائدہ اٹھایا، اس کے بعد شعیب ملک نے اپنے تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کی ضرورت کے مطابق اننگز کا بہترین انداز میں اختتام کیا،سینئر آل راؤنڈر ایسی ہی پرفارمنس کیلیے مشہور ہیں۔

    پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    انہوں نے کہا کہ بطور کپتان میرے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش بات ٹیم کا ایک یونٹ بن کر کھیلنا ہے،سب ایک دوسرے کی صلاحیت کو جانتے اور اس پر اعتماد کرتے ہیں، ہر میچ میں کوئی نہ کھلاڑی چیلنج قبول کرتے ہوئے اچھی پرفارمنس میں کامیاب ہورہا ہے-

    بابر اعظم نے کہا کہ کارکردگی میں تسلسل کی وجہ بھی یہی ہے، ابھی تک معیاری کرکٹ کھیلنے سے ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،آسٹریلیا کیخلاف سیمی فائنل میں بھی اسی کارکردگی کو دہرانے کیلیے پْرعزم ہیں۔

    کپتان نے کہا کہ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کا ماحول شاندار ہے،سارا کراؤڈ جب آپ کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہا ہو تو پرفارمنس کیلئے جوش و خروش اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔


    بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بابر اعظم نے قومی ٹیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آگے بڑھتے رہیں، ایک وقت میں ایک قدم آگے-


    شعیب ملک نے گذشتہ روز میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پوری ٹیم کے نام کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میں آج کا "مین آف دی میچ” پاکستان اسکواڈ کے تمام ٹیم ممبران کو وقف کرتا ہوں، چلو لڑکوں، ہم یہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ!


    شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان زندہ باد کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ خواب کو زندہ رکھنے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہم سے جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے-


    آصف علی نے کہا کہ مجھے اس ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر ہے، اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

  • ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے      ویرات کوہلی

    ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے ویرات کوہلی

    ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی سے بھارت کا سفر ختم ہو گیا ہے پہلے ہی دو میچوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنے والے بھارتی ٹیم سیمی فائنل میں اپنی جگہ نہ بنا سکی، اور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز نمیبیا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد بھی بھارتی ٹیم افسردہ نظر آئی، جس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے پہلی ٹوئٹ کی۔


    انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں بھارتی ٹیم کی تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ ہم ایک ساتھ مل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن بدقسمتی سے پیچھے رہ گئے اور ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے۔

    بھارتی شائقین کو مخاطب کرتے ہوئےبھارتی کپتان نے لکھا کہ آپ نےہمارا بھر پور ساتھ دیا اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ آخر میں انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ ہم سب کا اب یہی مقصد ہیں کہ ہم مضبوطی سے واپس آئیں گے۔

    اس سے قبل بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا تھا کہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے سامنے رکھنا ہو گا ، یہ میرے لیے اپنا ورک لوڈ کم کرنے کا صحیح وقت ہے چھ سات سال سے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہا ہوں ،جب بھی آپ کھیلنے کے لیے میدان میں جاتے ہیں تو یہ آپ کے اندر سے بہت کچھ نکال لیتا ہے ہم اس ورلڈ کپ میں آگے نہیں جا سکے لیکن ہم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت میچ جیتے ہیں اور ایک ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پہلے دو میچوں میں صرف دو اوور اپنی توقعات کے مطابق کھیل لیتے تو چیزیں مختلف ہوتیں جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں ، ہم اتنی بہادری سے نہیں کھیلے،ہم وہ ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کا بہانہ بنائیں-

    یاد رہے ٹی 20 ورلڈ کے پہلے ہی میچ میں بھارت کو پاکستان سے 10 وکٹوں سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد بھارت کو سنبھلنے میں اتنا وقت لگا کہ ٹورنامنٹ ہاتھ سے نکل گیا-

  • ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے سامنے رکھنا ہو گا ، یہ میرے لیے اپنا ورک لوڈ کم کرنے کا صحیح وقت ہے ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق بھارتی سابق کہتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ چھ سات سال سے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہا ہوں ،جب بھی آپ کھیلنے کے لیے میدان میں جاتے ہیں تو یہ آپ کے اندر سے بہت کچھ نکال لیتا ہے۔

    ورلڈ کپ میں نمیبیا سے جیت کے بعد ویرات کوہلی نے کہا کہ یہ بہت زبردست تھا اور میرے لیے اعزاز کی بات ہے ،ہم ایک ٹیم کے طرح بہت اچھا کھیلے ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس ورلڈ کپ میں آگے نہیں جا سکے لیکن ہم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت میچ جیتے ہیں اور ایک ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پہلے دو میچوں میں صرف دو اوور اپنی توقعات کے مطابق کھیل لیتے تو چیزیں مختلف ہوتیں ۔

    ویرات کوہلی نے کہا کہ جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں ، ہم اتنی بہادری سے نہیں کھیلے،ہم وہ ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کا بہانہ بنائیں ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انڈین چینل سٹار سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے روی شاستری نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے انڈین ٹیم بائیو سکیور ببل میں ہے، پورا سٹاف اور ٹیم ذہنی طور پر تھکاوٹ کا شکار ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کے درمیان زیادہ لمبا وقفہ ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع مل سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل اور ورلڈ کپ میں وقفہ کوئی بہانہ نہیں ہے، ہماری ٹیم ہارنے سے خوفزدہ نہیں ہے، جیت کی کوشش میں آپ یقیناً ہارتے بھی ہیں زند گی میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا کامیابیاں حاصل کیں بلکہ کبھی یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے کن خامیوں پر قابو پایا۔

    خیال رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف جیتا ہے تاہم پھر بھی بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

  • ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا    وقار یونس

    ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا وقار یونس

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ وقار یونس نے انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کو انڈیا کیلئے بہترین سفیر قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اے سپورٹس کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا، اس کی پرفارمنس کا تو کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی نے ٹورنامنٹ سے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی کپتانی چھوڑ دیں گے، انہوں نے ایسا کرکے ایک اچھی روایت قائم کی ہے، "اسے خود محسوس ہوا کہ اگر وہ ابھی نہیں جائے گا تو نیا کپتان کیسے آئے گا؟ –

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

    وقار یونس نے مزید کہا کہ ویرات کی جتنی فٹنس ہے اتنی کسی کی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے عروج پر کپتانی چھوڑی ، لوگ اسے اس کی خدمات کیلئے یاد رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیل رہی ہے لیکن اس میچ میں فتح یا شکست سے قطع نظر بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

  • پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت بابر اعظم کریں گے جب کہ شاداب خان ان کے نائب ہوں گے۔ اس کے علاوہ آصف علی ، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی اور افتخار احمد کو بھی سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

    عماد وسیم، خوش دل شاہ، محمد نواز ، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شاہ نواز دھانی اور عثمان قادر بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔


    سینئر کھلاڑی شعیب ملک کو بھی بنگلہ دیش کے خلاف سکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے تاہم ان کی فٹنس اور پرفارمنس دیکھ کر یوں ہی لگتا ہے کہ وہ مزید بھی کھیلیں گے۔

    دوسری جانب کرکٹر محمد حفیظ نے خود ہی معذرت کرلی تھی جس کے باعث انہیں سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

  • پہلا ون ڈے: ویسٹ انڈیزویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 45 رنز سے شکست دے دی

    پہلا ون ڈے: ویسٹ انڈیزویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 45 رنز سے شکست دے دی

    ویسٹ انڈیز کی ویمن کرکٹ ٹیم نے پاکستان کی ویمن ٹیم کو پہلے ون ڈے میچ میں 45 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کراچی میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈین ویمن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 253 رنز بنائے جس کے جواب میں گرین شرٹس نو وکٹوں کے نقصان پر صرف 208 رنز ہی بنا پائیں۔

    ویسٹ انڈیز ویمن کرکٹ ٹیم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اوپنر آنے والی ڈینڈرا ڈاٹن نے 132 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ آل راؤنڈر ہیلی میتھیوز نے 57 رنز بنائے، انہوں نے تین وکٹیں بھی لیں۔

    پاکستان کی طرف سے انعم امین نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹس لیں اس کے علاوہ فاطمہ ثنا نے دو اور نشرح سندھو نے ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    پاکستان کی طرف سے عالیہ جاوید 46 اور ارم جاوید 40 رنز سکور کرکے نمایاں رہیں اس کے علاوہ اوپننگ بیٹر منیبہ علی نے 28، کائنات امتیاز نے 24 اور سدرہ نواز نے 23 رنز بنائے-

    ویسٹ انڈیز کی طرف سے ہیلی میتھیوز سب سے کامیاب باؤلر رہیں جنہوں نے 10 اوورز میں 31 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اس کے علاوہ شکیرا سلمان نے دو، انیسہ محمد اور کیانا جوزف نے ایک ایک بیٹر کو پویلین کی راہ دکھائی۔

  • ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

    دبئی: انڈین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ روی شاستری کا کہنا ہے کہ مسلسل کھیلنے کی وجہ سے انڈین ٹیم ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انڈین چینل سٹار سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے روی شاستری نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے انڈین ٹیم بائیو سکیور ببل میں ہے، پورا سٹاف اور ٹیم ذہنی طور پر تھکاوٹ کا شکار ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کے درمیان زیادہ لمبا وقفہ ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع مل سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل اور ورلڈ کپ میں وقفہ کوئی بہانہ نہیں ہے، ہماری ٹیم ہارنے سے خوفزدہ نہیں ہے، جیت کی کوشش میں آپ یقیناً ہارتے بھی ہیں زند گی میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا کامیابیاں حاصل کیں بلکہ کبھی یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے کن خامیوں پر قابو پایا۔

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

    اپنی کوچنگ کے حوالےسے روی شاستری کا کہنا تھا کہ ان کا یہ تجربہ شاندار رہا، جب انہوں نے کوچنگ کیلئے حامی بھری تو اپنے ذہن میں کہا کہ وہ فرق پیدا کریں گے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فرق ڈالا ہے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ٹیم انڈیا نے جو کچھ حاصل کیا ، جس طرح انہوں نے تمام فارمیٹس میں پوری دنیا میں پرفارمنس دکھائی ہے ، یقیناً یہ سب اسے دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین ٹیم بنا دے گا۔

    خیال رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیل رہی ہے لیکن اس میچ میں فتح یا شکست سے قطع نظر بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں شکست خوردہ بھارتی ٹیم کی مرمت کے لیے”گندے انڈے…

    پاکستان نے بھارت کو پہلے میچ میں 10 وکٹوں سے شکست دی اور پھر اگلے میچ میں نیوزی لینڈ نے بھی بھارتی ٹیم کو 8 وکٹوں سے مات دے کر ایونٹ کے اگلے مرحلے تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی تھی بھارت کو اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے افغانستان کی مدد درکار تھی لیکن نیوزی لینڈ نے افغان ٹیم کو شکست دے کر سیمی فائنل میں خود جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ارمانوں پر بھی پانی پھیر دیا بھارت کے ورلڈ کپ سے اخراج پر عوام اور سابق کرکٹرز کے غم و غصے کے ساتھ ساتھ شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔

  • ریٹائرمنٹ سے متعلق خبروں پر کرس گیل کا بیان سامنے آ گیا

    ریٹائرمنٹ سے متعلق خبروں پر کرس گیل کا بیان سامنے آ گیا

    ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے اپنی ریٹائرمنٹ کے سے متعلق معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ایک غیر معمولی کیریئر تھا ، میں نے ابھی تک ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر آئی سی سی کے ساتھ لائیو چیٹ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے اپنی ریٹائرمنٹ کے سے متعلق کہا ہے کہ میں نے ابھی تک ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن اگر وہ مجھے میرے ہوم کراوڈ ’ جمیکا‘ میں میچ دیتے ہیں تو پھر میں یہ کہہ سکتا ہوں ’آپ کا بہت بہت شکریہ دوستو‘۔

    کرس گیل کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ، اگر نہیں تو پھر میں اس کا اعلان طویل عرصہ سے کروں گا ، پھر میں بیک اینڈ پر براوو کو جوائن کروں گا اور ہر کسی کا شکریہ ادا کروں گا ، لیکن میں ابھی یہ کچھ کہہ نہیں سکتا ۔جو کچھ ہوااسے ایک طرف رکھ کر میں آج مزہ کر رہا تھا ، میں سٹینڈ میں موجود اپنے فینز کے ساتھ بات چیت کررہا تھا اور محظوظ ہو رہا تھا ، مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہے ، میں ایک اور ورلڈ کپ کھیلنا چاہتاہوں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کی اجازت ملے گی ۔

    کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرنا میرے لیے باعث اعزاز ہے ، میں اپنے ملک کیلئے بہت جذباتی ہوں ، جب ہم میچ ہارتے ہیں تو مجھے بہت تکلیف پہنچتی ہے ، میرے لیے میرے فینز بہت اہم ہیں کیونکہ میں ایک تفریح کار ہوں جب مجھے ان کو محظوظ کرنے کا موقع نہیں ملتا تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ، آپ کو ممکنہ طور پر وہ جذبات بظاہر مجھ میں نظر نہیں آئیں گے میں انہیں ظاہر بھی نہیں کرتا ، لیکن اندر سے مجھے بہت دکھ پہنچتا ہے ، خصوصی طور پر ورلڈ کپ میں ۔

    کرس گیل نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ ورلڈ کپ کے پہلے میچ والے دن سے میرے والد کی طبیعت کافی خراب ہے اس لیے مجھے آج رات ہی جمیکا کیلئے واپس نکلنا ہو گا ، دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں ۔

    کرس گیل نے اپنے والد کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھی بیٹنگ کر رہے ہیں ، ان کی عمر 91 برس ہے ، لیکن تھوڑی بہت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ، مجھے واپس گھر جانا ہو گا ۔

    ٹی 20 ورلڈکپ کے اہم میچ سے قبل بھارت کے معروف کرکٹ کوچ چل بسے :بھارت پریشان

  • کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل اور آل راؤنڈر ڈیوائن براؤ نے آسٹریلیا کے خلاف اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل کر کرکٹ کے میدانوں کو الوداع کہہ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جہاں دنیائے کرکٹ کے معروف بلے باز کرس گیل کو دنیا بھر سے ان کے مداح انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں وہیں سابق پاکستانی کپتان پاکستانی سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی باز کرس گیل کو ریٹائرمنٹ پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔


    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئےشاہد آفریدی نے ویسٹ انڈیز کے سٹار بلے باز کرس گیل کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    شاہد آفریدی نے کرس گیل کو شاندار کریئر پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے پوری دنیا میں نئی نسل کے کھلاڑیوں کو بہت متاثر کیا علاوہ ازیں اپنی ٹوئٹ میں شاہد آفریدی نے کرس گیل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔


    واضح رہے کرس گیل اور ڈیوائن براؤ نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آخری میچ میں آسٹریلیا کےخلاف کھیلا۔

  • قومی ہیرو کے ساتھ رویہ کیسا !  تحریر :  احسن ننکانوی

    قوم حیران ہے کہ نعمان نیاز نے قومی ہیرو شعیب اختر کے ساتھ کیا کردیا، اور میں حیران ہوں کہ قومی ہیرو کی بات کرنے والے لوگ حقیقت سے اتنے لاعلم کیوں ہیں؟ پاکستان میں قومی ہیرو اسے سمجھاتا جاتاہے جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہواورغلاموں کی توہین کرکے اپنی رعونت کی تسکین کرتاہو۔میں پی۔ٹی۔وی نہیں دیکھتا، اس لیے مجھے علم نہیں تھا کہ نعمان نیاز کیا چیز ہے۔ شعیب اختر سے مگر ہر وہ شخص واقف ہے جو کرکٹ کی معمولی سی شد بد رکھتا ہے کیونکہ پوری دنیا میں اس کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں جسے سومیل یا ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےگیند بازی کرنے کا منفرد ترین اعزاز حاصل ہے ۔ وہ اس فن کا ”اکلوتا” فنکار ہے اور اس کی شناخت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ نعمان نیاز کو اتنا منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے شاید سات جنم بھی کافی نہ ہوں۔ مجھے لکھنا نہیں چاہیے مگر لکھنا پڑ رہا ہے شعیب اختر کے ساتھ نعمان نیاز کا نام لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں”چہ پدی چہ پدی کا شوربہ” والی کہاوت یاد آرہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دونوں کے درمیان ہونے والے افسوس ناک واقعہ کی گونج سنائی دی تو میں نے بھی ”گیم آن ہے” نامی پروگرام کا کلپ دیکھا۔ مجھے شدید حیرانی ہے کہ شعیب اختر میں اتنی قوت برداشت کہاں سے آگئی؟ اس کا رویہ مگر قوت برداشت نہیں، انتہا درجے کی اعلیٰ ظرفی کا مظہر تھا۔ نعمان نیاز کی فرعونیت اور کمینگی کا واحد جواب ایک زوردار تھپڑ ہونا چاہیے تھا جو اس کی اصل اوقات یاد دلا دیتا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ہم آج تک ایک قوم کی صورت متحد نہیں ہوسکے۔ ہم ایک منتشر گروہ ہیں اور قومی غیرت کے تقاضے نبھانے کے عادی بن ہی نہیں سکے۔ جو شخص قومی ہیرو کی توہین کرتا ہے، وہ پوری قوم کی توہین کرتا ہے کیونکہ ہیرو دراصل قوم کی تاریخ، ثقافت اور غیرت کی نمائندگی کرتا ہے۔قوم بہت دور کی بات ہے، ہم اپنے ساتھیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے سے بھی کتراتے ہیں۔ اس پروگرام میں شعیب اختر کے ساتھ پاکستان کے دوسرے کرکٹرز بھی موجود تھے، انھوں نے کس دل گردے سے نعمان اعجاز کی فرعونیت برداشت کی؟ کس معاوضے نے انھیں شعیب اختر کا ساتھ دینے سے روکا۔ شعیب اختر نے معذرت چاہتے ہوئے پروگرام چھوڑ کر اٹھنے اور استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو نعمان نیاز نے ایک ثانیے کے لیے بھی توجہ دینا گوارا نہیں کیا اور انتہائی بے نیازانہ انداز میں اپنا سکرپٹ جاری رکھا۔ اس کے نزدیک شعیب کا اٹھ جانا کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا تھا۔ میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ کلپ دیکھ کر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز سرکاری ٹی۔وی کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکے ہوں گے۔ ایسے اقدامات کے لیے مگر قومیت کا عنصر ضروری ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس عنصر کا فقدان ہے۔ ہم اگر قوم ہوتے تو اس سانحے کے فوراً بعد نعمان نیاز کو اپنا بستر گول کرنا پڑتا۔اُسے مگر علم ہے کہ پاکستان کے اصل ہیرو اہل اقتدار ہیں، اور وہ ان کی نمائندگی کررہا ہے۔ اس کی پشت پر یقیناً کوئی طاقتور شخصیت ہوگی، لہٰذا قومی ہیرو کی بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سنا ہے کہ قومی حکومت نے انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔ کس چیز کی انکوائری؟ کیا پی۔ٹی۔وی انتظامیہ اندھی اور بہری ہے؟ جو کچھ ہوا آن ایئر ہوا، سب نے دیکھا، سب نے سنا، کمیٹی کس چیز کی تحقیق کرے گی۔ کیا نعمان نیاز کی زبان سے الفاظ اس کے ہمزاد نے ادا کیے تھے؟ یا یہ اس کی بدروح کی کارستانی تھی؟ اس نے شعیب اختر کے جس بیانیے پر اتنے مذموم رویے کا اظہار کیا، وہ کیا اس پروگرام کا حصہ نہیں ہے، اسے سننے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے۔ کچھ بزرجمہر پی۔ٹی۔وی اور شعیب اختر کے اختلافات کی بات کررہے ہیں، کچھ پردے کے پیچھے ہونے والی گفتگو کا رشتہ اس واقعے سے جوڑ رہے ہیں، معتبر صرف وہ ہے جو آن لائن نشر ہوا، اور سب نے دیکھا۔کسی ایک کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے پروگرام کی ریکارڈنگ کافی سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایک سوال کافی ہے۔ کیا کسی ٹی وی اینکر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مہمان کو اختلاف رائے یا اندازِ گفتگو کی بنیاد پر پروگرام چھوڑنے کا حکم دے دے؟ انکوائری کے مثبت بتیجے کی توقع رکھنے والے مگر احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ قومی ہیرو صرف عوام کے دل میں رہتے ہیں، اور اہل اقتدار عوام کے دلوں کو کانچ کا کھلونا سمجھتے ہیں، جب تک چاہا ل بہلایا، جب چاہا تب توڑ دیا۔ ارباب اقتدار اگر شعیب اختر کی تذلیل کو انکوائری کی بھینٹ چڑھا کر پی جاتے ہیں تو شعب اختر کی حیثیت متاثر نہیں ہوگی، پی۔ٹی۔وی اور وزارت اطلاعات کا قد کاٹھ ضرور سکڑ جائے گا جسے دیکھنے کے لیے پہلے ہی خوردبین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے..