Baaghi TV

Category: کھیل

  • اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

    اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

     قومی کرکٹ ٹیم کے سینیر بلےباز اور سابق کپتان اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق کپتان اظہر علی نے کہا کہ انگلیںڈ کے خلاف کل ہونے والا کراچی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ ہوگا، میں اپنے سینئرز اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چار پانچ سال انجری کا شکار رہا، میری فیملی نے میرے کیرئیر کے لیے بہت قربانیاں دیں، امید ہے اب انہیں کافی ٹائم دے سکوں گا۔ میرے لیے اعلیٰ سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا بہت بڑا اعزاز اور اعزاز ہے، ایسا فیصلہ کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، لیکن گہرائی سے سوچنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ میرے لیے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا صحیح وقت ہے۔

    اظہر علی نے کہا کہ مجھے کچھ بہترین کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جن کے ساتھ میرا مضبوط رشتہ ہے، مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ میں نے کچھ شاندار کوچز کے تحت کھیلا جن کا میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا، بہت سے کرکٹرز اپنے ممالک کی قیادت نہیں کرپاتے لیکن میں پاکستان کی کپتانی کرنے میں کامیاب ہوا، میرے لیے بہت فخر کی بات ہے۔ ٹیسٹ بیٹنگ لائن اپ میں اہم مقام بننے تک میرے پاس اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات تھے جنہیں میں ہمیشہ یاد رکھوں گا،انہوں نے کہا کہ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں،یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کرکیا، مستقبل کے حوالے سے ابھی سوچا نہیں، البتہ اپنی کمٹمنٹس پوری کروں گا۔

    پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے اظہر علی کی پاکستان کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا حوصلہ اور عزم بہت سے نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک تحریک رہا ہے اور وہ آنے والے اور آنے والے کرکٹرز کے لیے ایک رول ماڈل ہیں،اگرچہ یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کے پاس ڈریسنگ روم میں اپنے تجربے کا کوئی کھلاڑی نہیں ہوگا لیکن یہ صرف زندگی کے دائرے کی عکاسی کرتا ہے۔ امید ہے کہ اظہر علی پاکستان کرکٹ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اور ابھرتے ہوئے کرکٹرز کے ساتھ اپنے وسیع علم اور تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے دیکھیں گے۔

    اظہر علی کا کیرئیر؛

    سابق کپتان اور مڈل آرڈر بلےباز اظہر علی پاکستان کے کامیاب ترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں، انہوں نے 96 میچوں میں 42.49 کی اوسط سے 7 ہزار 97 رنز بنائے، وہ ملک کے پانچویں سب سے زیادہ ٹیسٹ زنر اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ اس سے قبل یونس خان (10,099)، جاوید میانداد (8,832)، انضمام الحق (8,829) اور محمد یوسف (7,530) کے ساتھ پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن پر قابض ہیں۔ اظہر علی نے سال 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف انگلینڈ میں اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور اپنے دوسرے ہی میچ میں اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری بنائی، انہوں نے کیرئیر میں 35 نصف سینچریاں جبکہ 19 مواقع پر 100 رنز کا ہندسہ عبور کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ 19 دسمبر تک موخر
    حکومت ملک بھر میں نوجوانوں کو 50 ارب روپے کے قرض دے گی مگر کیسے؟
    16 دسمبر دہشت گردی کے خلاف پورے پاکستان کے ایک آواز ہونے کا دن ہے. وزیراعظم
    ایلون مسک نے سی این این، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کے اکاونٹس معطل کردئیے
    سابق کپتان گلابی گیند کے ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں، یہ کارنامہ انہوں نے سال 2016 میں دبئی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف حاصل کیا تھا۔ اپنے 12 سالہ کیریئر کے دوران اظہر نے دو ڈبل سنچریاں بھی بنائیں، ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف 226 (مئی 2015) اور میلبرن (دسمبر 2016) میں آسٹریلیا کے خلاف 205 ناٹ آؤٹ رہے۔

  • فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قطر میں ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلے میں استعمال ہونے والی فٹبال گیند "الرحالہ” جو عربی زبان کا لفظ ہے اسکے معنی ہیں سفر کے۔

    اس فٹبال کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ پاکستان میں بنی ہے لیکن دراصل یہ مصر میں بنائی گئی ہے۔ البتہ اسے بنانے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور مشینری پاکستان سے منگوائی گئی۔ یہ دعویٰ کہ یہ فٹبال سو فیصد مصر میں بنائی گئی مصر کی کابینہ اور مصری وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفیٰ مدبولی کی طرف سے کیا گیا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ پاکستان پچھلے کئی عالمی مقابلوں کے لئے آفیشل فٹبال تیار کرتا رہا ہے۔

    مصر کی حکومت کی جانب سے یہ بات سامنے آئی کہ فٹبال کھیلوں کی مصنوعات بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ایڈیڈاس کی تیار کردہ ہے جس نے اسے مصری "فارورڈ مصر” کمپنی کی فیکٹری کو گیند بنانے کی منظوری دی اور اس کمپنی کو عالمی مقابلے کے لیے 1500 فٹ بال گیندیں تیار کرنے کا معاہدہ دیا گیا۔

    مگر اس گیند میں کیا خاص بات ہے؟ یہ گیند جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی ہے جسکا مقصد ہوا میں گیند کی اُڑان کو بہتر بنانا اور ساتھ ہی ساتھ گیند میں ایک سنسر کا استعمال ہے۔ یہ سنسر ایک انرشئیل موشن سنسر ہے جو گیند پر لگنے والی بیرونی قوت کو ماپتا ہے اسکے علاوہ یہ پورے کھیل کے دوران گیند کی رفتار، اسکی پوزیشن کو بھی ریکارڈ کرتا ہے۔ اس طرح کے سنسر نیوگیشن سسٹم یا بڑے بحری جہازوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں جو اُڑان جا سفر کے دوران اِنکی جگہ، سمت اور ان پر پڑنے والی قوت سے آگاہ کرتے ہیں۔ ایک بڑا بحری جہاز کیسے یہ جان پاتا ہے کہ وہ اپنے ماس کے مرکز پر پانی میں تیر رہا ہے یا کیا وہ جھکا ہوا ہے، ٹیڑھا یے یا سیدھا ہے وغیرہ وغیرہ، اسی پرح کے انرشیل سنسرز کی بدولت۔

    اسی سنسر کی بدولت پچھکے ہفتے پرتگال اور یوراگوئے کے درمیان میں میچ کے ایک گول کا فیصلہ ہوا۔ بظاہر فٹبال پرتگال اور دنیائے فٹ بال نے صفِ اول کے کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کے سر سے ٹکرا کر گول پوسٹ میں گئی مگر فیدا آفیشلز نے فٹبال میں لگے سینسر کی بدولت یہ جانا کہ گیند رونالڈو کے سر سے نہیں ٹکرائی۔ اسی وجہ سے ورلڈکپ کا یہ گول رونالڈو کے حصے میں نہ آ سکا۔

  • کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے آج پوری دنیا میں کرکٹ فِیور وائرس عام ہے۔

    آج کل جو گلیمر والا کرکٹ ہم دیکھ رہے ہیں اس کے باوِ آدم آسٹریلیا کے مشہور بزنس شوگان(Tycoon) مسٹر کیری پیکر ہیں۔ اپنے یہاں کچھ لوگ انہیں لوڈ کیریر بھرتی والا کہتے ہیں۔ کچھ کیریر پیکر کہتے ہیں، لیکن کچھ صاحب علم کرکٹ کھلاڑی ہی انہیں کیری پیکر کہتے ہیں۔

    کرکٹ کی پہلی واردات انگلینڈ میں ڈالی گئی تھی جب ہر چیز سفید پوش ہوا کرتی تھی؛ کپڑے سفید تھے، کھلاڑی سفید تھے، ٹی وی سیاہ اور سپید تھا، صرف بال براؤن کلر کے تھے۔ اس وقت کرکٹ کی وہ شکل نہیں تھی جو آج ہے۔ ان ایام میں ہر کھلاڑی کفن بر دوش تھا۔

    اس سے قبل کرکٹ میں، صرف ٹیسٹ میچ پہلے 6 دن (ایک دن آرام) کے دورانیے کے ساتھ کھیلے جاتے تھے۔ اوور 8 بالوں کا ہوا کرتا تھا۔ پھر ٹیسٹ 5 روزہ اور 6 گیندوں والے اوور کا ہو گیا۔

    1971 میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا تیسرا ٹیسٹ میچ تین دن تک بارش پر قربان ہو گیا تھا اور منتظمین شائقین کی مایوسی اور پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہونے کے بعد ان کے مالی نقصان سے بہت پریشان تھے۔

    5 جنوری 1971 کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب روایتی پانچ روزہ ٹیسٹ کرکٹ کا اختتام 50 اوورز کی ون ڈے کرکٹ پر ہوا۔

    اس نئے رنگین ODI کرکٹ میچ کے نگران رنگین مزاج کیری پیکر تھے، جن کا مختصر نام کیری پیکر اور پورا نام "Packer Kerry Francis Bullmore” تھا۔ وہ دسمبر 1937 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیدا ہوئے۔

    جب ان کے والد، سر فرینک پیکر کا 1972 میں انتقال ہو گیا، تو انہوں نے ایک کروڑوں کی مضبوط کاروباری ایمپائر سے بطور وراثت چھوڑ دی جسے کیری پیکر نے سنبھالا۔ اس "معمولی ترکہ” میں صرف آسٹریلیا کے 9 ٹیلی ویژن نیٹ ورک تھے۔ گویا میڈیا پر ان کی گرفت کافی مضبوط تھی اور میڈیا ان کی کنیز تھا۔

    1977 میں، کیری پیکر نے کرکٹ کے حلقوں میں ادھم مچا دی جب، آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ساتھ میچوں کو نشر کرنے کے حقوق پر تنازعہ کے بعد، اس نے ورلڈ سیریز کرکٹ کا آغاز کیا، جسے کیری پیکر کرکٹ سیریز یا کیری پیکر کرکٹ سرکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے بہترین کرکٹرز کو بھاری معاوضوں پر کام پر لگا دیا۔

    کیری پیکر کے ساتھ بندر بانٹ کرنے والوں میں ویوین رچرڈز، ڈینس للی، مائیکل ہولڈنگ، ٹونی گریگ، بیری رچرڈز، ظہیر عباس، ماجد خان اور عمران خان سمیت دنیا کے چند بہترین کھلاڑی شامل تھے۔

    کیری پیکر نے ون ڈے کرکٹ کو منظم کرکے ایک نئے نویلے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور پہلی بار کھلاڑیوں نے رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کئے۔ ڈے اینڈ نائٹ کرکٹ کا آغاز بھی کیری پیکر نے کیا، اس طرح کرکٹ کی تاریخ بدل گئی۔

    دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے کیری پیکر کے خلاف خیالی محاذ بنا لیا اور اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ سیریز کھیلنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کھلاڑیوں کی "کفاف” میں اضافہ کرکے کرکٹ بورڈز کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

    بعد ازاں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کیری پیکر سے مفاہمت کی لیکن اس دوران انہوں نے کرکٹ کو جو رنگ دیا وہ اب بھی موجیں مارتا ہے اور یہ مزید نکھر گیا ہے۔

    کرکٹ کا ایک نیا انداز جو برطانیہ میں 2003 میں متعارف کرایا گیا تھا، ٹی 20 تھا۔ اس نئے طرز کی کرکٹ میں دونوں ٹیمیں 20 اوورز کی اننگز کھیلتی ہیں۔ اب پانچ پانچ دن فاقے اور مزدوری نہیں کرنا پڑتی ہے۔

    پہلا T20 کرکٹ ورلڈ کپ 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا تھا جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی تھی۔
    آج اس کلرفل کرکٹ کو دیکھنے والوں کو شاید کیری پیکر یاد نہ ہوں لیکن کیری پیکر اس جدید کرکٹ کے بانی ہیں۔

    17 دسمبر کو پیدا ہونے والے کیری پیکر کا انتقال 26 دسمبر 2005 کو گردوں کی خرابی سے ہوا۔

  • اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    کچھ جملے فیس بک اور یوٹیوب کی دنیا میں ویڈیو ٹائیٹل پر دیکھے تھے فلاں حضرت نے وہابیوں کی چھترول کی دی.. فلاں حضرت نے بریلویوں کی بینڈ بجا دی.. فلاں حضرت نے دیوبندیوں کے پھٹے اکھاڑ دیے.. فلاں حضرت نے شیعوں کی کلاس لگا دی.. حیاتی ممامتی ایک دوسرے پر چڑھ گئے وغیرہ وغیرہ

    وقت گزرنے کے ساتھ اسی مزاج کو اسلام کا مزاج سمجھ لیا گیا لیکن حقیقت میں اس کا اسلام سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ ہمارے ہاں رائج فرقوں کا اسلام سے تعلق ہے

    اسی سلسلے کا ایک جملہ..

    فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا.. مغرب اور لبرلز کے منہ پر طمانچہ..

    یہ جملہ کوئی چھ سو مرتبہ پڑھ چکا ہوں.. سوچ رہا ہوں کہ اس ملائیت زدہ معاشرے کے نزدیک قرآن کی کیا حیثیت ہے؟ ان کے نزدیک قرآن مجید کا مقصد طمانچے لگانا ہے؟

    آئیے قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں

    قرآن کے نزول کا مقصد

    ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ

    یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔

    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ.

    ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘۔

    نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کا مقصد

    وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَٰلَمِينَ
    اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے ۔

    امت مسلمہ کا مقصد

    كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ

    تم بہترین امت ہو جو لوگوں (نفع رسانی) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو

    تبلیغ کا طریقہ

    قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ

    آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے میں اور جو میری اتباع کرنے والے ہیں ـ اللہ کی طرف بلا رہے ہیں بصیرت کے ساتھ ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔

    حکمت اور بصیرت اول ہے اگر قطر میں فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا اور شائقینِ فٹبال لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں تو بہت اچھا ہے یہی حکمت اور بصیرت ہے جس کا مظاہرہ قطر کے عوام اور وہاں کی انتظامیہ کر رہی ہے

    لیکن پاکستانیوں کے اس طمانچے والے رویے سے کتنے ہی لوگ ہیں جو بدظن ہوتے ہیں اور مزید ہٹ دھرمی پر اترتے ہیں ان کی کیلکولیشن بھی کرتے جائیں..

    اپنے رویے کو تبدیل کریں.. انسان سے نفرت کو دل سے نکالیں..

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کے دوران ایک دشمن کو گرایا اس کا سر کاٹنے لگے تو اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر تھوک دیا.. آپ رضی اللہ عنہ اسے وہیں چھوڑ کر واپس چل دیے.. اس نے اٹھ کر پیچھے بھاگ کر روک کر پوچھا کہ مجھے قتل کیوں نہیں کیا؟ فرمایا جب تو نے مجھ پر تھوکا تو مجھے غصہ آ گیا.. میں تجھے اللہ کیلئے قتل کرنا چاہتا تھا لیکن جب میرا ذاتی غصہ شامل ہو گیا تو میں نے تجھے قتل نہیں کیا.. اس شخص نے کہا چلیں پھر یہی بات ہے تو مجھے بھی اس دین میں شامل کر لیں جس کے آپ ماننے والے ہیں..

    جنگ کیلئے آئے شخص کو کلمہ پڑھا دیا.. یہ ہوتی ہے حکمت اور بصیرت..

    وہ نہیں جو ہمارے فیس بک اور یوٹیوب کے مجاہدین لکھتے ہیں قرآن کی تلاوت سے آغاز اور زناٹے دار طمانچہ.. اسلام کی بات کرنے کیلئے الفاظ کا انتخاب درست کریں تاکہ آپ کی باتوں میں اثر پیدا ہو..

  • فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    خیر عرصہ قبل ہم پر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کے فتوے تو لگ ہی چکے تھے البتہ آج نیا اور دلچسپ فتویٰ لگا.. جلن کا فتویٰ..

    کچھ باتیں کلئیر کر دوں کچھ دوست باتوں کی گہرائی کو سمجھے بناء کمینٹ کرتے ہیں اور پھر جواب لیے بناء بلاک کرکے نکل جاتے ہیں جس کی ہمیں قطعاً پرواہ نہیں ہے لیکن باقی دوستوں کیلئے سرِ دست عرض یہ ہے کہ مجھے کسی بھی مسلم ملک کے سسٹم سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ جیسا بھی سسٹم اپنائیں ان کا حق ہے..

    سعودیہ تاریخی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، ترکی عرصہ سو سال سے لبرل ہے، ایران کٹر مسلکی مذہبی ریاست ہے، افغانستان ایک الگ سکول آف تھاٹ کے سسٹم گزر رہا ہے.

    ہر سسٹم کی کچھ مثبت چیزیں ہوتی ہے اور کچھ منفی.. سو فیصد درست کہیں بھی کچھ بھی نہیں ہوتا البتہ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں قطعاً عار نہیں ہے کہ مذکورہ بالا تمام ممالک کا سسٹم ہمارے ملک سے کہیں بہتر ہے وہاں سسٹم خرابیوں کے باوجود اپنی عوام کو کچھ نہ کچھ دے رہا ہے لیکن ہمارے ہاں کا سسٹم عوام کو دینا تو کُجا.. دن بدن عوام سے چھین ہی رہا ہے..

    عوام کی بات کی جائے تو مذکورہ بالا تمام ممالک کے عوام مجموعی طور دینی اقدار میں ہم سے کہیں آگے ہیں انفرادی اعمال میں کہیں بہت زیادہ آگے ہیں اجتماعی معاملات بھی ہم سے کہیں بہتر ہیں.

    حکومتوں کی بات کی جائے تو ان کے ہاں ایک پالیسی ہے جسے ہر حال میں اپلائی کرتے ہیں اور پورے ملک کے سب ادارے اسی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں یعنی کہ ڈسپلن سب پر لاگو ہے..

    2000 سے پہلے قطر کی طرف کوئی دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا لیکن پھر انڈسٹریل انقلاب نے قطر کا رخ کیا اور دنوں میں قطر اس خطے کی معاشی طاقت بن گیا..

    صرف یہ کہ نیک نیتی اور درست پالیسی.. انہوں نے بڑی بڑی کمپنیوں سے معاہدے کیے جنہوں نے انڈسٹری لگائی اور ابتدائی چند سال کی انکم ان کمپنیوں نے لی.. اس کے بعد وہ انڈسٹری ریاست قطر کی ملکیت میں چلی گئی..

    ان لوگوں کی کام سے لگن کا اندازہ اس بات سے لگائیں میں 2016 میں قطر گیا تب وہاں فیس بک پر 2022 کے ورلڈ کپ کے ایڈ دیکھنے کو ملا کرتے تھے.

    پچھلے سال میں قطر ایئرویز کی فلائٹ سے 28 نومبر کو اسلام آباد سے نجف براستہ قطر گیا تو فلیٹ میں دیے گئے کھانے کی پیکنگ پر فیفا ورلڈ کپ 2022 کا اشتہار تھا یہاں تک چاکلیٹ پر بھی چاکلیٹ کے ذریعے ہی لوگو بنایا ہوا تھا جس کی تصویر لگائی ہے.. مطلب کہ جس کمیٹی کے سپرد یہ فیفا کپ 2022 کی ایڈوائزنگ کا کام تھا انہوں نے کوئی راستہ خالی نہیں چھوڑا پوری تندہی سے کام کیا..

    دوسری طرف پاکستان کو 2 لاکھ ملازمین کی خدمات اس موقع پر فراہم کرنے کا کہا گیا تھا جس میں پاکستان اس بیروزگاری کے دور میں صرف 43 ہزار افراد بھیج سکا.. وہ بھی ایسے لوگ جو خود تگ و دو کرکے ایجنٹوں کو پیسے دے کر چلے گئے حکومت نے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں لی…

    یہاں تک ہو گئی ایک بات.. دوسری بات یہ کہ مجھے قطر میں آنے والے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے یا ان کے اسلام قبول کرنے سے یا شراب کے متعلق اقدامات لینے سے کوئی جلن نہیں ہے لیکن اس معاملے کو انتہائی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جس کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں..

    پہلی بات تو یہ کہ قطر اور دیگر عرب ممالک کا رویہ پاکستان کے بارے میں انتہائی دوہری پالیسی پر مبنی ہے.. چیدہ چیدہ بتاؤں تو

    پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو ترجیح دینا، پاکستان کے کرپٹ عناصر سے تعلقات رکھنا انہیں سہولت کاری فراہم کرنا اور لوٹ مار کے بعد نکلنے میں مدد کرنا انہیں اپنے ملکوں میں پناہ دینا.

    پاکستان سے لُوٹا گیا مال سب سے پہلے عرب ممالک میں جاتا ہے جہاں رائل فیملیز کے لوگ ان کرپٹ عناصر کی مدد کرکے بلیک منی کو وائیٹ منی میں تبدیل کرواتے ہیں اور ان کے ساتھ کاروباری شراکت داری کرتے ہیں اس دوران یہ ممالک یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ یہ پیسے پاکستان سے نکلنے کے بعد پاکستان کے مسلمانوں یا دیگر عوام پر کون سی قیامتیں برپا ہوتی ہیں ان کی زندگی کس عذاب میں دھنستی چلی جاتی ہے .

    مطلب کہ جب آپ ریاستی سطح پر غیرمسلم کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ تو آپ کس کیریکٹر اور کس اخلاقی قدر کے ساتھ اسے یہ بات کہہ رہے ہیں؟

    میری دعا ہے کہ جنہوں نے اس موقع پر اسلام قبول کیا ہے اللہ کریم انہیں استقامت عطاء فرمائے اور مزید اہلِ خیر کو مشرف بہ اسلام ہونے کی توفیق عطاء فرمائے .

    لیکن مجموعی طور پر ہم مسلمانوں اور ہماری ریاستوں کا کیریکٹر ایسا ہے سہی کہ ہم انہیں یہ کہہ سکیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ؟ اگر ہمارے کردار درست ہو جائیں تو ہمارا دنیاوی عمل ہی تبلیغ بن جائے اس کیلئے ہمیں الگ سے کسی کو کچھ کہنا ہی نہ پڑے کیونکہ یہ ایک ایسا وقت جا رہا ہے کہ دیگر ادیان کے لوگوں کی اکثریت اپنے ادیان سے مطمئن نہیں ہے یہاں تک کہ ایتھیسٹس کی اکثریت بھی ذہنی تذبذب کا شکار ہے ان کی اکثریت کو الہامی دین کی تلاش ہے اگرچہ اظہار نہ بھی کرتے ہوں .

    اس وقت ہماری ریاستوں کا مجموعی کردار اور ہمارے عمومی اقدار بہتر ہوں گے تو لوگ ہمارے دین کو قبول کریں گے ورنہ یقین کریں کہ یہ ہمارے مسلمان ممالک کی حکومتوں کی بددیانتی پر مبنی پالیسیاں اور ہم مسلمانوں کے اعمال اور بدعنوانیاں ہی اسلام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مثال دیتا ہوں جس طرح کی حرام توپیاں محترمہ انجلینا جولی ہمارے ملک میں آکر دو مرتبہ دیکھ کر گئی ہیں وہ ہمارے اعمال دیکھ کر یا پھر شریف خاندان کی الثانی خاندان کے ساتھ مشترکہ کرپشن دیکھنے کے وہ ان دو حکومتوں کی دعوت پر اسلام قبول کر لیں گی؟

    اس لیے دوستو ت بزرگو.. ٹھنڈے رہا کرو.. ہر معاملے کو مفت کی ہائیپ نہ دیا کرو.. اگر کچھ لوگ مسلمان ہوئے ہیں تو انہیں مسلمان رہ لینے دو ایسا نہ ہو کہ ہمارے کرتوت انہیں پتہ چل جائیں .

    مزید یہ کہ ان کے مسلمان ہونے پر صرف اتنا شور مچاؤ کہ اگلی مرتبہ بھی کپ کی میزبانی کسی مسلمان ملک کو مل سکے.. بات سمجھ رہے ہو؟

    بیشک سب کو اپنی جانب کر لو لیکن پیچھے آنے والوں کے راستے بند مت کرو..

    رہی بات شراب پر پابندی والی.. تو بندۂ ناچیز نے 2016 میں قطر کے دوحا ایئرپورٹ کے مالز پر زندگی میں پہلی مرتبہ شراب کی بوتلیں دیکھیں اور عام مارکیٹ کے شاپنگ پلازوں میں شراب بِکتی دیکھی تھی قطر ایئر ویز میں دوران پرواز اگر کوئی شراب پینا چاہے تو اسے فراہم کی جاتی ہے..

    قطر نے صرف دورانِ میچ اسٹیڈیم میں شراب نوشی پر پابندی عائد کی ہے.. اس کے علاوہ چلے گی اور علاطول چلے گی..

  • نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    "نواز تو میرا میچ ونر ایں مینوں ہمیشہ تیرے سے بھروسہ رئے گا۔۔۔”

    بابر اعظم کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن اس ورلڈکپ میں جتنا نواز کا اعتماد تباہ کیا گیا اسکی مثال نہیں ملتی ہے۔۔۔ نشان دہی ہوتی رہی کہ نواز کا مورال بہت ڈاؤن ہے۔غائب دماغ ہیں۔۔۔بھارت کے خلاف دو بہترین اوورز کے بعد ایک تیز گیند باز کا اوور بنتا تھا۔۔۔لیکن یہ بھی عدم اعتماد ہے کہ بالر کو مار پڑ جائے تو اسے دوبارہ اوور نہ دیا جائے۔۔ بالر کو بیک کرنا چاہیے۔۔۔چوتھا فاسٹ بالر دستیاب نہیں تھا لہذا نواز کو درمیان میں دوبارہ لانا چاہیے تھا۔۔

    پھر آخری اوور میں نواز سے لیفٹ آرام اسپن کی بجائے تیز باؤلنگ کرانے کی کوشش نے لائن اور لینتھ سے ہٹا دیا۔۔یوں چوتھا فاسٹ بالر نہ کھیلانے کا خمیازہ نواز نے بھگتا۔۔

    ۔زمبابوے والا میچ نواز کو فنش کرنا چاہیے تھا لیکن بھارت والے میچ نے انکا اعتماد خراب کیا اور زمبابوے والے میچ کے بعد وہ بالکل تباہ ہو گیا۔۔۔
    شاداب خان نے ناصر حسین کے ساتھ گفتگو میں واضح طور پر بتایا کہ نواز ان دو میچز سے ڈسٹرب ہے۔۔۔۔

    بابر اعظم کی کپتانی پر بہت تنقید ہو رہی ہے۔۔۔ میں نے بابر کی ہمیشہ سپورٹ کی ہے کہ بابر کو بطور کپتان مزید وقت دینا چاہیے کیونکہ ماضی میں ہم نے کپتان بدلنے سے بھی نتائج حاصل نہیں کیے۔۔۔۔۔

    لیکن بابراعظم کو بھی اب نئے جواز تلاشنے ہوں گے۔۔۔ ورلڈکپ اور ایشیا کپ ٹورنمنٹ کے ایک سیمی فائنل اور دو فائنل ہارنے کے بعد "ہم سیکھیں گے” کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔۔۔

    روایتی کپتانی کو چھوڑ کر پروایکٹیو ہونا پڑے گا۔۔۔یہ دیکھے بنا کہ لیفٹ آرام کو مارنے میں جو اینگل استعمال ہوں گے اس طرف باؤنڈی بڑی ہے کی بجائے دفاعی اپروچ کہ دو کھبے بلے باز ہیں تو لیفٹ آرام کو باؤلنگ نہیں دی جائے گی باوجود اس کے کہ آف اسپنر کو جہاں ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے وہ باؤنڈی چھوٹی ہے۔۔۔۔بھارت کے خلاف نواز پر چارج کرنے والے دو "دائیں ہاتھ” کے بلے باز تھے۔۔۔

    بیٹنگ میں نواز کا رول طے نہیں ہے۔۔۔ایک اوور مار پڑ جائے تو مڈل اوورز میں دوبارہ اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آخری اوور جہاں اسپنر رسک ہوتا ہے آواز دی جاتی ہے۔۔۔کھبے بیٹنگ کر رہے ہیں تو بیشک 100 کی پارٹنرشپ لگ جائے ایک اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔

    دھونی بطور کپتان ایک رول ماڈل کی حثیت رکھتے ہیں۔۔رکی پوئنٹگ بہترین کپتان رہے ہیں۔۔۔۔اس کی وجہ دونوں کے آئی سی سی ٹورنمنٹس جیتنا ہے۔۔۔ویرات کوہلی میچز جیتنے کی بہترین شرح رکھنے کے باوجود بڑے کپتانوں کی فہرست سے اسی لیے باہر ہیں کہ کریڈٹ پر کوئی ٹرافی نہیں ہے۔۔۔

  • ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ نکلے

    ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ نکلے

    ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ ہوگئے.
    میلبرن میں ٹی20 ورلڈکپ فائنل کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ نے بھارتی جرنلسٹ وکرانت گپتا کو گھیر لیا۔ ٹی20 ورلڈکپ فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ نے اسٹیڈیم کے باہر بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا گھیر لیا اور کچھ دلچسپ سوالات کیے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحافی وکرانت گپتا شائقین کرکٹ کے سوالات کا جواب دے رہے ہیں جبکہ فائنل میں پاکستانی بالنگ لائن کی بھی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں۔


    انہوں نے کہا کہ ایونٹ میں پاکستانی بالرز نے ٹاپ پرفارمنس دی جس کی وجہ سے قومی ٹیم فائنل میں پہنچ سکی، وکرانت نے بتایا کہ سال 2003 کے ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کو آسٹریلیا سے شکست ہوئی اسکے بعد ٹیم میں تبدیلیاں ہوئیں اور پھر وہی ٹیم 8 سال بعد چیمپیئن بننے میں کامیاب ہوئی۔ بھارتی صحافی نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم ورلڈکپ میں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، جب یہ ٹیم تجربہ حاصل کرے گی تو چیمپیئن بنے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    واضح رہے ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 کا فائنل پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میلبرن میں کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان ہار گیا تھا. جبکہ فائنل ہارنے کے باوجود پاکستان کو 8 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملی. انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 میں شامل ٹیموں کے لئے نقد انعامات کا اعلان کیا تھا۔ آئی سی سی کے مطابق فائنل کی فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر (35 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) ملے۔

  • ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھا گیا. نجم سیٹھی کا دعویٰ

    ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھا گیا. نجم سیٹھی کا دعویٰ

    ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ایک ٹی وی شو میں سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی اور فخرزمان کو انجریز تھیں، فزیو ان کا علاج نہیں کرسکتا، بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ نے لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جاوید مغل کو اسکواڈ کے ساتھ بھیجا،مگر ورلڈکپ میں سینئر کرکٹرز، مینجمنٹ اور فزیو کلف ڈیکن کی ان کے ساتھ نہیں بنی،ڈاکٹر جاوید کو ایک طرف کرکے انجریز کا معاملہ فزیو کے سپرد کردیا گیا۔

    ڈاکٹر نے رمیز راجہ سے شکایت کی کہ میں ڈریسنگ روم میں بھی نہیں آسکتا، یہ ٹینشن ساتھ چل رہی تھی، ڈاکٹر شاید شاہین شاہ آفریدی کو نہ کھلانے کا فیصلہ کرتے،یہ کوئی پیشہ ورانہ رویہ نہیں ہے، اسٹار بولر کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا،اب شاید ان کو فٹ ہونے میں 2 سے 3ماہ لگ جائیں۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ورلڈکپ سے قبل بھی پاکستان نے 3ایونٹس میں شرکت کی مگر مڈل آرڈر کے مسائل حل نہیں ہوئے،یہی شبہات رہتے کہ چلیں گے یا نہیں،تجربے کی کمی تھی،اس لیے صورتحال کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں تھا،اوپنرز فیل ہوئے تو لائن لگ گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیخلاف سیمی فائنل میں بابر اعظم اور محمد رضوان نے اسکور کیا تو آسانی سے جیت گئے، فائنل میں اوپنرزنے پرفارم نہیں کیا تو مڈل آرڈر بھی ناکام ہوئی،کئی پلیئرز کو ساتھ لے کر گئے مگر کھلایا ہی نہیں۔ سابق بورڈ چیئرمین نے کہا کہ لگتا ہے کہ سفارش بھی چل رہی ہے،ٹیم سلیکشن میں مداخلت رہی،لوگوں کے فیورٹس تھے،ہدایات صرف پی سی بی کے اندر سے نہیں باہرسے بھی آرہی تھیں،مسائل کا حل تلاش نہ کیا گیا تو کارکردگی میں تسلسل نہیں آسکے گا۔

  • اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا

    اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا

    اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا ہے

    اسلام ٹین پن بائولنگ ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کھیلی گئی اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن مردوں اور نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا ۔ مردوں کے ایونٹ میں جنید خان اور رانا افضال اختر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح خواتین کے ایونٹ میں روزینہ اور نادیہ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔ چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی طحہ مال راولپنڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک ریاض خان تھے جہنوں نے کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں کیش ایوارڈ، ٹرافیاں اور میڈلز تقسیم کئے۔ مردوں کی کیٹیگری میں اول آنے والے کھلاڑی دنیال الرحمن کو دس ہزار روپے بمعہ ونرٹرافی، دوئم آنے والے کھلاڑی جنید خان کو سات ہزار روپے بمعہ رنر اپ ٹرافی اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی رانا افضال اختر تین ہزار روپے کیش ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس موقع پر پاکستان ٹین پن بائولنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمن کے علاوہ شائقین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی رہائشگاہ پر 90 لاکھ روپے کے بلٹ پروف شیشے لگائے جائیں گے
    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ
    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن
    لیزر سٹی باؤلنگ کلب جناح پارک راولپنڈی میں کھیلے گئے اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں مردوں کے ایونٹ میں دنیال الرحمن نے 421 سکور کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ جنید خان 368 سکور کے ساتھ اور رانا افضال اختر 359 سکور کے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اس سے ایک روز قبل کھیلے گئے خواتین کے فائنل مقابلوں میں نور نے 165 سکور کے ساتھ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا جبکہ روزینہ نے 124 سکور کے ساتھ دوسری اور نادیہ نے 66 سکور کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ایونٹ میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے سو سے زائد کھلاڑیوں نےحصہ لیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی طحہ مال راولپنڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک ریاض خان نے کہاکہ کھلاڑی قوم کا سرمایہ اور اثاثہ ہیں اور کھیل کے میدان میں ان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی کھلاڑی امن کے سفیر ہوتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ آخر پر پاکستان ٹین پن بائولنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمن نے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔

  • ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا

    ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا


    ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا.

    پاکستان اور آئر لینڈ ویمن کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریزکے دوسرے میچ میں پاکستان نے آئرلینڈ کو شکست دے دی۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ آئرلینڈ کی ویمن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    بارش کے باعث میچ کو 17 اوورز تک محدود کردیا گیا تھا۔ پاکستان ویمنز ٹیم نے چاروکٹوں کے نقصان پر ہدف 16 ویں اوور میں حاصل کرلیا۔ ندا ڈار کو بہترین کارکردگی پر پلئیر آف دا میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ سیریز کے پہلے میچ میں آئرلینڈ نے پاکستان کو شکست دی تھی۔ تین میچز کی سیریز اب ایک ایک سے برابر ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں دستیاب نہیں ہوسکیں گے، انہیں کھلانے کا رسک لینے کے بجائے آرام کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حارث رؤف کو ٹیسٹ ڈیبیو کروانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ نسیم شاہ کے ساتھ محمد عباس پاکستان کی پیس بیٹری کا حصہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق فائنل میں انجری کا دوبارہ شکار ہونے والے شاہین شاہ آفریدی کا وطن واپسی پر مکمل میڈیکل اسکین ہوگا۔جن کی رپورٹس کی روشنی میں بائیں ہاتھ کے پیسر کا ری ہیب پلان ترتیب دیا جاسکے گا۔

    ٹیم مینجمنٹ نے شاہین کو بڑی انجری سے بچانے اور فاسٹ بولر کے مستقبل کے پیش نظر انگلینڈ کے خلاف یکم دسمبر سے شیڈول تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انہیں اسکواڈ کا حصہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔