Baaghi TV

Category: کھیل

  • کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی

    نوبال کرکٹ کے کھیل میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

    کرکٹ میں نوبال کا بڑا حصہ ہوتا ہے کئی دفعہ نوبال کی وجہ سے میچ کا پاسا پلٹ جاتا ہے اور صرف نوبال کی وجہ سے ہار رہی ٹیم جیت جاتی ہے اور جیت رہی ٹیم ہار جاتی ہے اور یہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہوتا ہے۔

    پہلے نو بال کروانے پر بیٹنک کرنے والی ٹیم کو ایک اضافی ڈلیوری دی جاتی تھی اور ایک اضافی رن دیا جاتا تھا لیکن آج کے دور میں اس کے ساتھ (فری ہٹ) بھی دی جاتی ہے جس میں بلے باز کے آوٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا جوکہ گیند باز کے لیے سخت سزا ہے۔

    کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے بہت سی نوبال کرائیں لیکن کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے اپنے پورے کیریر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی یہ وہ کھلاڑی ہیں جو میدان میں بالنگ کے لیے آتے تو بڑے بڑے بلے بازوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے اور ان گیند بازوں کی فہرست درج زیل ہے

    1- عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا شمار بھی ایسے ہی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کرکٹ کے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبل نہیں کروائی وہ ایسے آل راؤنڈر تھے جن کے میدان میں اترتے ہیں مدمقابل کھلاڑی محتاط ہو جاتا تھا انہوں نے ہمیشہ اپنے کھیل سے قوم کا سر بلند کیا اور بطور آل راؤنڈر اپنی ٹیم کو جتوا کر پاکستان کی عزت بڑھائی آل راؤنڈر کے طور پر حیران کن پرفارمنس دی۔ 1971 میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنی قوم کو ورلڈ کپ کا تحفہ دے کر آپ نے کرکٹ کیریئر کا اختتام کیا۔

    عمران خان نے اپنے 21 سالہ کیریئر میں 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے کھیلنے اور ٹیسٹ کیریئر میں 362 اور ون ڈے میں 182 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے اور ٹیسٹ میں 3807 اور ون ڈے میں 3709 رنز بنائے جو کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 270000 گیندیں کروائیں جن میں سے ایک بھی نوبال نہیں ہوئی جو کہ ایک شاندار کار نامہ ہے۔ عمران خان پاکستان کے عظیم کپتانوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جنہوں نے ٹیم کو ساتھ لے کر محنت کی اور کامیابی حاصل کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسی حکمت عملی نے انہیں سیاست کے میدان میں بھی کامیاب کیا

    2- لانس گبز

    لانس گبز ویسٹ انڈیز کے وہ مایا ناز کھلاڑی تھے جنہوں نے عالمی کرکٹ میں بہت سے ریکارڈ اپنے نام کیے وہ 300 وکٹیں لینے والے دنیا کے دوسرے بالر تھے جبکہ جبکہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے اسپنر بھی تھے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1958 میں کیا اور 1976 تک کھیلتے رہے۔
    گبز نے 79 ٹیسٹ اور تین ون ڈے کھیلے اور انہوں نے ٹیسٹ میں 309 اور ون ڈے میں 2 وکٹیں حاصل کیں۔ لانس گز نے بھارت کے خلاف 38 رنز کے بدلے 8 وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو فتح سے ہمکنار کیا
    انہوں نے اپنے کیرئیر میں 27000 بالز کروائیں لیکن کوئی بھی نوبال نہیں دی اور کرکٹ کی تاریخ میں لانگ گبز پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے پورے کیریئر میں نو بال نہ کروانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا اس سے پہلے کوئی بھی یہ ریکارڈ نہ بنا سکا جس نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہ کروائی ہو۔

    3- آئن بوتھم

    آئن بوتھم کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران بہت سے غیر معمولی ریکارڈ قائم کیے 1976 میں انہوں نے اپبین الاقوامی سطح پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنے کیریئر کا اختتام کیا ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔

    آئن بوتھم نے 102 ٹیسٹ اور 116 ون ڈے کھیلے ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 5200 اور ون ڈے میں 2113 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے

    آئن بوتھم نے ٹیسٹ میں 338 اور ون ڈے میں 145 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریبا 28000 گیندے کروائی جن میں ایک بھی نو بال نہیں کروائی جوکہ کرکٹ کی تاریخ میں انکا ایک ریکارڈ ہے۔

    4- ڈینس للی

    ڈینس للی آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بالر تھے جنہوں نے 70 کی دہائی میں تہلکہ مچایا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بن کر 1984 میں ریٹائرڈ ہوئے
    ڈینس للی کا جیف تھامسن کے ساتھ بہترین کیریئر تھا جو آسٹریلوی کرکٹ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    انہوں نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں 70 ٹیسٹ اور 63 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں 355 اور ون ڈے میں 103 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈینس للی کی جارحانہ پرفارمنس ہمیشہ تماشائیوں کو حیران کر دیتی تھی اور آسٹریلوی شائقین یہ جان کر بہت خوش ہوں گے کہ انہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائ۔

    5- باب ولس

    باب ولس انگلینڈ کے عظیم گیند بازوں میں سے ایک تھے 1971 میں انہوں نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا 1978 میں انہوں نے ون ڈے (کرکٹر آف دی ائیر) ایوارڈ حاصل کیا۔1984 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹار اسپورٹس کے ساتھ بھی کام کیا۔
    باب ولس نے 90 ٹیسٹ اور 64 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں انہوں نے 325 اور ون ڈے میں 80 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریباً 21000 بالز کروائیں لیکن ایک بھی نو بال نہیں کروائی۔

    2019 میں "باب ولس” 70 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے

  • کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں اوورسیز واریئرز نے باغ اسٹالینز کو 5 وکٹ سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی: مظفر آباد میں کھیلے گئے اس میچ میں باغ اسٹالینز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اوورسیز واریئرز کو جیت کے لیے 187 رنز کا ہدف دیا تھا۔

    اوور سیز واریئرز نے 187 رنز کا ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر 19.2 اوورز میں حاصل کرلیا اوور سیز واریئرزکے حیدر علی نے 57 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔کامران غلام 41 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور ناصر نواز نے 31 رنز بنائے۔

    باغ اسٹالینز کی جانب سے عامر یامین نے اوورسیز واریئرز کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    باغ اسٹالینز کھلاڑی: شان مسعود ، ذیشان ملک ، روحیل نذیر ، اسد شفیع ، افتخار احمد ، عامر یامین ، عمید آصف ، محمد الیاس ، فرقان شفیق ، عامر سہیل ، ایم عمران جے آر ہیں:

    اوورسیز وارئیرز:ناصر نواز ، عثمان علی خان ، حیدر علی ، اعظم خان ، عماد وسیم ، کامران غلام ، آغا سلمان ، سہیل خان ، محمد موسیٰ ، ایم عباس آفریدی ، فیضان سلیم-

    واضح رہے کہ مظفرآباد ٹائیگرز کے اوپنر ذیشان اشرف نے کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ایونٹ کی پہلی سنچری بنا ئی تھی ذیشان اشرف نے اپنی ٹیم مظفرآباد ٹائیگرز کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا

    انھوں نے 196 رنز کے ہدف کے تعاقب میں عمدہ و تاریخی باری کھیلتے ہوئے 58 گیندوں پر ایک چھکے اور 17 شاندار چوکوں کی مدد سے سنچری بنائی یہ کشمیر پریمیئر لیگ میں کسی بھی بیٹسمین کی پہلی سنچری ہے۔

  • لیونل میسی نے پی ایس جی میں شمولیت اختیار کر لی

    لیونل میسی نے پی ایس جی میں شمولیت اختیار کر لی

    ارجنٹائن کے فٹ بال سٹار لیونل میسی نے فرانسیسی کلب پیرس سینٹ جرمین میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی: سکائے اسپورٹس کےمطابق پی ایس جی کی جانب سے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں میسی کی موجودگی میں ممکنہ طورپر معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا میسی منگل کی سہ پہر بارسلونا سے پیرس روانہ ہوئے اور انہوں نے پی ایس جی کی شرٹ بھی پہن رکھی تھی

    فٹبالر کاپی ایس جی کے ساتھ معاہدہ دو سال کا ہے اور تیسرے سال کیلئے دوبارہ مشاورت کی جائے گی میسی کو ایک سیزن کے لیےلگ بھگ5ارب روپے ملیں گے۔

    خیال رہے کہ میسی نے گزشتہ مشہور ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونا کو 21 سال بعد چھوڑ دیا تھا میسی بارسلونا کلب کو چھوڑنے کی الوداعی پریس کانفرنس میں آبدیدہ ہوگئے تھے نہوں نے بارسلونا کلب 16 اکتوبر 2004 میں جوائن کیا تھا۔ میسی نے بارسلونا کی طرف سے 778 میچوں میں حصہ لیا اور کل 672 گول کیے۔

    بارسلونا فٹبال کلب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق میسی اور کلب دونوں ہی اس بات پر تیار تھے کہ میسی کلب کے لیے کھیل جاری رکھیں مگر ہسپانوی فٹبال لیگ کے قواعد میسی سے ہونے والے نئے معاہدے کے خدوخال کے آڑے آگئے۔

  • کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ:مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی ذیشان اشرف کو بہترین بیٹنگ پرفارمنس پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق مظفر آباد ٹائیگرز نے 196رنز کا ہدف 19 ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ مظفر آباد ٹائیگرز نے 196 رنز کے تعاقب میں اننگز کا جارحانہ آغاز کیا مگر اوپننگ بلے باز تیمور سلطان چار رنز بناکر آؤٹ ہوگئے-

    تاہم ان کے ساتھ اوپننگ کے لیے آئے ذیشان اشرف نے ٹورنارمنٹ کی پہلی سینچری سکور کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا ذیشان اشرف نے 62 گیندوں پر 107 رنز بنائے جس میں 18 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا کوٹلی لائنز کی جانب سے عاکف جاوید 2 وکٹیں لے کر نمایاں رہے جبکہ خرم شہزاد اور عرفان اللہ شاہ نے ایک ایک وکٹ لی۔

    دوسری جانب کوٹلی لائنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 195 رنز بنائے تھے کوٹلی لائنز کے آصف علی 67، سید عبداللہ رافع 35، سیف بدر 28 اور کپتان کامران اکمل 27 رنز بنا کر نمایاں رہے مظفرآباد کی جانب سے سہیل تنویر، ارشد اقبال، محمد حفیظ اور عثمان یوسف نے ایک، ایک وکٹ لی۔

  • پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے حالات وواقعات تحریر:سمیع نیازی

    پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے حالات وواقعات تحریر:سمیع نیازی

    السلام عليكم قارئين میں آپ کی خدمت میں اپنا پہلا ارٹیکل لے کر حاضر ہوا ہوں جہاں ہم بات پاکستان کرکٹ کی کریں گے جس ُملک میں میری طرح کروڑوں شائقین کرکٹ ہے دل و جان سے کرکٹ کو فالو کرتے ہے جس میں ہماری ٹیم ہیمں بہت مایوس کر دیتی ہے ایسی ٹیموں سے ہارنا جس سے بندہ توقع ہی نہیں کر سکتا جس کی ہال ہی میں بڑی مثال زمبابوے سے ہارنا ہے اور انگلینڈ کے مین کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں ان کی بی ٹیم سے ہارنا اور یہی ٹیم بعض و اوقات ایسے کارنامے سر انجام دیتی ہے بندہ حیران و پرشیان ہو جاتا ہے یہ ٹیم ایسا بھی کر سکتی ہے جس کی بڑی مثال چئمینز ٹرافی 2017 ہیں جو ٹیم ِاس ٹورنامنٹ کے شروع ہونے سے پہلے دگ و دو میں تھی کہ کس طرح اس ٹورنامنٹ کےلیے کولیفائی کرے جیسے تیسے ہم نے کولیفائی تو کرلیا لیکن میرے سمیت سب کا یہی خیال تھا یہ ٹیم جائيں گی انگلینڈ گھوم کے واپس آ جائیں گی اس ٹیم کا ٹورنامنٹ کیا ایک میچ بھی جیتنا مشکل ہے اور پھر ِاس بات پہ مُہر اس وقت ثابت ہوئی جب ہم اپنا پہلا میچ انڈیا سے ہار گئے اس ہارنے کے بعد پھر تو جیسے پاکستانی ٹیم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہ رہی اور ناقدین نے ہر طرف سے تنقیِد نشتر چلا دیے کہ اِس کو ہٹاؤ اس کو لاؤ اِس کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی ُاس کی نہیں بنتی یہ پرچی وہ سفارشی یہ سب سننے اور سہنے کے بعد تو جیسے پاکستان ٹیم زخمی شیر بن گئ پھر اس نے نہ تاؤ دیکھا نہ بھاؤ جو ٹیم سامنے آتی گئ اُسی کو رگڑتی گئ جنوبی افریقہ جیسی نمبر ون ٹیم ہو یا آپنی جیسی سرلنکا (یہ بات یاد کراتا چلوں اگر اس میچ می عامر اور کپتان سرفراز نہ ہوتے تو ہم نے میچ ہار جانا تھا ہم نے آسانی والا میچ بھی ٹف بنا دیا تھا) پھر اِن کو ہرانے کے بعد ٹورنامنٹ کی سب سے فیورٹ خطرناک اور ہوم ٹیم انگلینڈ کو انھی کے گراؤنڈ میں سیمی فائنل میں شکست دی اور آخر میں ہمارا ٹاکرا ایک بار پھر فائنل میں بھارت سے ہو گیا جہاں ہم ان سے پہلے میچ میں بُری طرح ہار چکے تھے اور ہمارے پڑوسی اس بات پر جشن منا رہے تھے کہ ہمارا مقابلہ پھر اُس کمزور ٹیم سے ہو رہا ہے جس کو وہ پہلے ہی ہرا چکے ہے آسانی سے وہ بھول چکے تھے یہ ٹیم بلکل بدل چکی ہے اور پھر دنیا نے دیکھا اِس ٹیم نے دنیا کی خطرناک ٹیم کو بُری طرح شکست سے دو چار کیا اور پہلی دفعہ چمیئنز ٹرافی کا چمپینز بنا جس ٹیم کو کولیفائی کے لیے لالے پڑے ہوئے اس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ "we are unprdctable” انگلینڈ کے سابقہ کرکٹر اور موجودہ مشہور کمنٹیٹر ناصر حیسن نے کیا خوب کہا تھا کہ
    Pakistan Cricket Is The Best One Minute Down
    Next Minute Up
    اس کے بعد تو پاکستان کرکٹ ٹیم ون ڈے اور ٹیسٹ تو مرجھا گئ لیکن ٹی ٹونٹی میں تو وہ دو سال چھائی رہی اور لگاتار گیارہ سیریز جیتنے والی ٹیم بن گئ اور دو سال ائی سی سی کی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں نمبر ون رہی اسی اثنا میں وقت گزرتا گیا اور 2019 کا میگا ایونٹ آن پنچہا اور حسب توقع ہماری کارگردگی اونچ نیچ ہی رہی جس میں ہم پہلا اور دوسرا میچ ویسٹ انڈیز اور انڈیا سے بُری طرح ہار گئے اور تیسرے میچ میں اسٹریلیاں نے ہمیں شکست دے دی ان شکستوں کے بعد پاکستان نے انگلیڈ نیوزیلینڈ جنوبی افریقہ بنگادیش اور افغانستان کو شکست دی اور ہما را سری لنکا والا میچ بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا ہم پہلے دو میچ ُبری طرح ہارنے کی وجہ سے پاکستان ٹیم کا رن ریٹ اچھا نہ ہو سکا اور ہم ٹورنامنٹ کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہو گئے اور اس کے بعد پھر رونا دھونا شروع ہو گیا کہ کپتان کو ہٹا دو کوچ کو ہٹا دو اسی رونے دھونے میں پاکستان ٹیم کے کپتان مکی ارتھر کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ناتجربے کار کوچ مصباح الحق کو لگا دیا گا اور ان کا ساتھ بولنگ کوچ وقار یونس نے دیا جن کو پہلے بھی دو تین دفعہ خراب کارکردگی پر فارغ کیا جا چکا تھا کوچنگ سٹاف کو تبدیل کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ جس گروانڈ کے ہم لوگ شیر تھے جہاں ہم نے بڑی بڑی ٹیموں کو شکست دی ہوئی UAE میں آکر سری لنکا نے دو ٹیسٹ میچوں میں شکست دے دی اور یہی نہیں اُسی سریلنکا ٹیم نے آکر پاکستان میں پاکستان کو ٹی ٹونٹی میں وائٹ واش کیا اور ان شکستوں کے پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا جس کی قیادت میں پاکستان ٹیم ملسل دو سال نمبر ون ٹیم رہی کوئی ٹیم اسے شکست نہ دے سکی اسے ایک بُر سیریز کے بعد کپتانی سے ہٹا دیا گیا ُاس کے بعد سے سرفراز ٹیم کے ساتھ تو ہوتے ہے لیکن پلنگ الیون جگہ نہیں بنا پاتے سرفراز کے بعد کپتانی کا سہرا بابراعظم کے سر سجایا گیا جس کے بعد ان کی زاتی کارکردگی تو اچھی ہے لیکن ٹیم اچھی گارکردگی مظاہرہ نہیں کر پا رہی اگر 2019-20 کے بعد جائزہ لیا جائے تو تو پاکستانی باہر جا کر اچھا پرفارم نہیں کر پائی اگر کہیں جیتی بھی ہے تو وہ محالف ُملک کی بی ٹیم سے جس کا سہرا مصباح الحق اور وقار یونس کے سر جاتا ہے مصباح الحق کو کرکٹ سے ِرٹائرمنٹ کے بعد پاکستان ٹیم کا ہیڈ کوچ لگا دیا گیا ان کا کوچنگ میں کوئی تجربہ نہیں تھا وہ صرف ایک دفعہ پاکستان سُپر لیگ میں ِاسلام آباد یونائٹڈ کی کوچنگ کی تھی جس میں ِان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخر میں تھی جو کہ یہی ٹیم PSL کے دو سیزن جیت چکی تھی اس لیے میں کہتا ہوں پاکستان کا بیرا غرق مصباح نے کیا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں وہ ایک بہت ہی زبردست کرکٹر اور کپتان تھے لیکن یہ بات اپنی جگہ صیح ہے کہ ایک اچھا کرکٹر ایک اچھا کوچ نہیں بن سکتا اور مصباح نے آپنے کیس میں یہ ثابت کر کے دیکھایا ہے اب بات کرتے ہے بولنگ کوچ وقار یونس کی جو آپنے دور میں بہترین فاسٹ بولر تھے جن سے دنیا کے بڑے بڑے بٹسمین ڈرتے تھے وقار یونس اور وسیم اکرم کی جوڑی مشہور تھی یہ دونوں W تن تنہا میچ جتوا دیتے تھے یہ بات لازمی نہیں کہ ایک اچھا کھلاڑی ایک اچھا کوچ ثابت ہو وقار یونس کے مامعلے میں تو بالکل ہی ایسا ہے جن کوچنگ کرئیر داغ دار رہا جیسا کہ 2011 کے ورلڈ کپ میں پاکستان بہت اچھا کھیل رہا تھا اپنے راؤنڈ میچوں میں صرف ایک میچ ہارا تھا جس کے بعد پاکستان سمی فائنل گیا جہاں ُان کا مقبالہ بھارت سے تھا جب ٹاس ہوا تو حیرانگی طور پر ٹیم شعب اختر موجود نہیں تھے جو کہ راؤنڈ میچوں میں بہت سے میچ اپنی بولنگ سے جتوا چکے تھے لیکن وہ سیمی فائنل میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے یہ میچ پاکستان بھارت سے ہار گیا تھا جب بعد میں شیعب اختر سے پوچھا گیا تو انھوں جواب دیا وہ مکمل فٹ تھے لیکن وقار یونس نے ان کو جان بوجھ کر نہیں کھلایا 2015 کے ورلڈ کپ میں کوچ وقار یونس تھے جن کو بُری پرمارمنس کی وجہ سے ٹیم سے جدا کر دیا گیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد ان کو پھر کوچ لگا دیا گیا اور 2016 کے ٹی ٹوںنٹی ورلڈ کپ میں کوچ تھے اور ُاس ٹورنامنٹ میں پاکستان بہت ُبرا کھیلا جس کے بعد ان کو میڈیا عوام نے بہت کوسا جس سے انھوں نے تنگ آکر استعفا دے دیا اور جناب آج کل پھر پاکستان ٹیم کے کوچ ہے اور دو ماہ بعد ایک بار پھر ٹی ٹو ئنٹی ورلڈ کپ آ رہا ہے اور ُامید ہے جناب اس بار آپنی روایتی کارکردگی نہیں دیکھائے بلکہ کچھ اچھا ہی کریں ورنہ شاید مصباح اور وقار ٹیم کے ساتھ رہے
    امید کرتا ہوں آپ کو یہ میرا پہلا ار
    ٹیکل بہت پسند آیا ہو گا آج سالگرہ بھی ہے تو وش کر دیجے گا انشاالللہ اگلے ارٹیکل میں پھر ملاقات ہوتی ہے تب تک کے لیے الللہ حافظ

    Twitter id : SamiNia19670549

  • کے پی ایل: آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا

    کے پی ایل: آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا

    کشمیر پریمئر لیگ (کے پی ایل) کے تیسرے روز باغ اسٹالینز نے میرپور رائلز کو 15 رنز سے شکست دے دی ہے جبکہ آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا-

    باغی ٹی وی : مظفر آباد اسٹیڈیم میں کے پی ایل کے چوتھے میچ میں باغ اسٹالینز نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹ پر 211 رنز بنائے شان مسعود نے 78 رنز کی کیپٹن اننگز کھیلی، کپتان شان مسعود کی بہترین فارمنس پر انہیں مین آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔

    کے پی ایل کا دوسرا میچ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان:کوٹلی لائنزکا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا…

    اسد شفیق نے ٹوٹل میں 54 رنز کا اضافہ کیا، جواب میں شعیب ملک کی ٹیم میرپور مقررہ 20 اوور میں 8 وکٹ پر 196 رنز بنا سکی سلو اوور ریٹ پر میرپور رائلز کے کھلاڑیوں کو میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا-

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    جبکہ ایونٹ کے تیسرے روز دوسرا میچ بارش کی نذر ہو گیا، ٹاس بھی نہ ہو سکا بارش کے باعث راولا کوٹ ہاکس اور کوٹلی لائنز کا میچ بغیر کھیلے ختم کر دیا گیا۔

    کشمیر پریمئر لیگ میں آج بھی دو میچ شیڈول ہیں اوور سیز وارئرز بمقابلہ میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا۔

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں، ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

  • پاکستان کا29 سال کا انتظار مزيد طويل تحریر:سلطان محمود خان

    پاکستان کا29 سال کا انتظار مزيد طويل تحریر:سلطان محمود خان

    پاکستاني ايتھليٹ ارشد نديم ميڈل تو نہ جيت سکے مگر پوري قوم کے دل جيت لئے۔ جيولن تھرو کے فائنل ميں ارشد نديم نے پانچويں پوزيشن حاصل کي۔ جس کے بعد مياں چنوں کا سپوت فخر پاکستان بن گيا ۔ مستري کے بيٹے ارشد نديم کے پاس اسپورٹس کي بہترين سہوليات تو نہ تھيں ليکن اس کا جذبہ آسمان سے بلند تھا ۔۔ اس نے مسلسل محنت اورلگن سے قوم کو اميد دلائي اور کروڑوں لوگوں کے دل جيت لئے۔ پاکستان میں جیولن تھرو نامی کھیل کو کوئی نہیں جانتا تھا ليکن اس کھیل کی پہنچان "ارشد ندیم” بنے اور اب نئے نوجوان کھلاڑي ارشد نديم کي وجہ سے جيولن تھرو ميں آئيں گے۔

    ٹوکيو اولمپکس تک ارشد نديم کے سفر کي بات کريں تو اس کے پاس نہ جديد سہوليات تھي نہ ٹريننگ کيلئے غير ملکي کوچ، اس کے باوجود ارشد نديم نے وہ کردکھايا جو شايد کسي نے سوچا بھي نہ تھا۔ ارشد نديم نے دل ضرور جيتے مگر وہ 29 سال بعد پاکستان کو اولمپکس ميں ميڈل نہ جتواسکے۔ اب سوال يہ ہے کہ کيا ہم کسي بھي مقابلے ميں دل جيتنے جاتے ہيں؟؟ ٹھيک ہے کہ ہمارے پاس سہولتيں نہيں، جديد ٹريننگ کا سامان نہيں، غير ملکي کوچز نہيں ليکن جذبہ تو ہے کيا جيت کيلئے صرف جذبہ کافي نہيں ہوتا ؟ تو اس کا جواب ہے نہيں۔ سوال يہ ہے کہ پاکستان کيوں 29 سال سے اولمپکس ميں کانسي کا تمغہ بھي نہيں جيت سکا؟ اور بھارت کے نيرج چوپڑا نے گولڈ ميڈل کيسے جيت ليا؟؟ تو اس کا جواب ہے سہولتيں، آسائشيں، ٹريننگ کيلئے جديد سازو سامان، جيولن تھرو ميں بھارتي ٹيم کے کوچ تھے ورلڈ ريکارڈ ہولڈر جرمن ليجنڈ "او ہون” مگر نيرج چوپڑا نے صرف جرمن کوچ پر انحصار نہ کيا۔ جنوبي افريقہ ميں بائيو ميکينکس ايکسپرٹ کے ساتھ ٹريننگ کي۔ جب کہ پاکستان کے ارشد نديم کو غير ملکي کوچ کا ساتھ نہ مل سکا۔ ٹوکيو اولمپکس سے قبل بھارتي ايتھليٹ ٹريننگ کے لئے يورپ گئے جہاں انھيں جديد سہولتيں ملي مگر پاکستاني ايتھليٹ ان سب سے محروم رہے۔ ويٹ لفٹنگ مقابلے ميں پانچويں پوزيشن لينے والے طلحہ طالب بھي جديد سہوليات اور بہترين کوچز سے محروم رہے تھے۔

    پاکستان کے 10 ايتھليٹس نے ٹوکيو اولمپکس ميں حصہ ليا اور تمام کے تمام ناکام ہوئے۔ جيولن تھرو ميں ارشد نديم اور ويٹ لفٹنگ ميں طلحہ طالب نے بہترين پرفارمنس دکھائي مگر وہ بھي پاکستان کا ميڈل جيتنے کا انتظار ختم نہ کرواسکے۔ پاکستان نے آخري بار 1992 کے بارسلونا اولمپکس ميں ہاکي ايونٹ ميں کانسي کا تمغہ جيتا تھا اب 29 سال گذر جانے کے بعد بھي پاکستان ميڈل سے محروم ہے۔ کھليوں کے عالمي مقابلوں ميں کاميابي کے ليے جہاں کھلاڑيوں کو وسائل فراہم کرنے ہوں گے وہيں جديد ترين سہوليات سے آراستہ ہائي پرفارمنس سينٹرز وقت کي ضرورت ہيں

  • پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جواب دے تحریر:  ماریہ ملک

    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جواب دے تحریر: ماریہ ملک

    پاکستان کے حالیہ ہیرو ایتھلیٹ “ارشد ندیم” کے ایک انٹرویو میں کہے گئے کلمات نے دل کو جیسے چھلنی کر دیا ہو۔ اُس متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے محنتی اور حب الوطنی کے جزبے سے سرشار کھلاڑی نے ایک ہی جملے سے بلخصوص پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور بالعموم پاکستان حکومت سے اپنے گِلے کا اظہار تو کیا لیکن اس کے ساتھ میں سمجھتی ہوں کہ سب کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اُٹھا دیے ہیں

    ارشد ندیم نے کہا:

    کہ انہیں "شرم” محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے تمغہ نہیں جیتا ، لیکن افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اس وقت کھلاڑیوں کے لیے جو تربیتی سہولیات اور سرکاری امداد دستیاب ہے۔ اس کی موجودگی میں "دل جیتنا تو ممکن ہے ، تمغے نہیں”

    ارشد ندیم پاکستان کا وہ ہیرو ہے جس نے کروڑوں پاکستانیوں کو ایک امید، ایک خواب اور گھٹن کے ماحول میں تازگی کا احساس دیا۔
    سیمی فائنل میں بہترین کارکردگی کے باعث نہ صرف ہر پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے کھیلوں کا شغف رکھنے والے ہر ناظر کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ پاکستانیوں کو ایک امید دی کہ 1988 کے بعد شائد ایک بار پھر یہ خواب حقیقت کا روپ دھار لے اور پاکستان کو اولیمپک کھیلوں میں کوئی سونے کا تمغہ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہو جائے۔
    لیکن فائنل میں پاکستان یہ اعزاز حاصل کرنے سے محروم رہا۔
    گو ارشد ندیم یہ اعزاز تو حاصل نہ کر سکا لیکن اپنی بھرپور کوشش اور محنت سے پاکستانیوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ ہر پاکستانی نے ارشد ندیم کو وہ محبت اور عزت دی جس کا وہ حقدار ہے۔

    ایک اہم سوال جو اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ جب حکومت ہر سال کروڑوں روپے مختلف کھیلوں کے فروغ پر خرچ کر رہی ہے۔ کھیلوں کے مختلف ادارے قائم ہیں اور ہر ادارے میں لاکھوں کی تنخواہ لینے والے افسران سالوں سے اپنے عہدوں پر براجمان ہیں لیکن جب بات اِن کی کاردگی کی ہو تو وہ نہایت ناقص ہے۔ ہر بار کھیلوں کے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اُٹھتے ہیں لیکن اُن میں کسی قسم کی بہتری نظر نہی آتی۔

    اولمپکس میں کسی بھی ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والے تاریخ کے پہلے پاکستانی ارشد ندیم کا مقصد 1988 کے بعد اپنی قوم کے لیے انفرادی تمغہ جیتنے والا پہلا اولمپین بننا تھا۔
    اس مقابلے کے تیسرے دن 85.16 میٹر کے بہترین تھرو کے زریعے فائنل میں پہنچنے والا ارشد ہفتہ کو پانچویں نمبر پر رہا جبکہ نیرج چوپڑا نے 87.58 میٹر کا بہترین تھرو جیت کر ہندوستان کے لیے تاریخی پہلا اولمپک ایتھلیٹکس گولڈ میڈلسٹ بننا تھا
    ایسا بار ہا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جیسے پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیل ترجیحی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی تمام حکومتوں کو کرکٹ کا جنون رہا ہے۔ پاکستان میں کسی بھی میدان کے لئے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن اُن دیگر کھیلوں کے سرپرست اداروں کی طرف سے دی گئی سہولیات کی کمی، عدم دلچسپی، افسران اور اداروں کے سرپرستوں کا سفارش یا سیاسی پشت پناہی کے بل بوتے پر سالہاسال سے عہدوں سے چمٹے رہنا اس ناکامی کی اصل وجہ ہے۔
    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو ہی لے لیجئیے! اس ادارے کے سرپرست ریٹایرڈ سید عارف حسن پچھلے چودہ سالوں سے اس ادارے کی سرپرستی کر رہے ہیں لیکن کارکردگی صفر ہے۔
    حکومت کی جانب سے جب بھی اِن سے کارکردگی پر بات کی جاتی ہے تو موصوف کا یہ جواب اِن کی شخصیت اور انا پرستی کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ایک آزاد ادارہ ہے اور اگر حکومت نے زیادہ دخل اندازی کی تو ہم ورلڈ اولمپک سے کہہ کر پاکستان پر اولمپک میں حصہ لینے پر بین کروا دیں گے۔
    اگر اسی بیان ہی کو دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج تک پاکستان اولمپک گیمز سے کوئی میڈل کیوں نہی جیت سکا۔
    نہ صرف ارشد نے بلکہ اُن کے کوچ نے بھی ادارے کی طرف سے دی گئی سہولیات کی کمی اور عدم توجہ کی شکایت کی ہے۔
    ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ریٹایرڈ سید عارف حسن فی الفور اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور حکومت پوری توجہ سے اس ادارے کو از سرِنو ترتیب دے تاکہ دوبارہ کوئی ارشد ندیم اس طرح دلبرداشتہ اور انتہائی ٹیلنٹڈ ہونے کے باوجود اس طرح اعزاز سے محروم نہ ہو۔
    ایتھلیٹ ارشد ندیم نے انٹرویو میں حکومت پر زور دیا کہ وہ سہولیات کو بہتر بنائے ، فنڈنگ ​​میں اضافہ کرے اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری کرے: "میں اس بار اولمپکس میں پانچویں نمبر پر آیا۔ اگر سہولیات کو بہتر بنایا گیا تو میں 2024 اولمپکس میں پاکستان کے لئے بڑا اعزاز حاصل کر سکتا ہوں۔

    ندیم کے فزیوتھیراپسٹ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ "جو لوگ چار یا پانچ نمبر پر آتے ہیں وہی ہیں جن پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔”
    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے میڈیکل کمیشن کے سیکرٹری ڈاکٹر اسد عباس شاہ نے عرب نیوز کو بتایا ، "ارشد ندیم فائنل میں پریشانی میں مبتلا تھے اور ایسی چیزیں اس وقت ہوتی ہیں جب کوئی انتہائی شائستہ پس منظر سے ہو۔”
    قارئین کیا آپ نے ہندوستانی ایتھلیٹ کے ساتھ ٹوکیو میں حاضر دستہ دیکھا؟
    وہ اپنے ساتھ ایک آسٹیو پیتھ ، فزیوتھیراپسٹ ، اسپورٹس سائیکالوجسٹ ، ڈاکٹر ، آرتھوپیڈک سرجن اور حتیٰ کہ نیورولوجسٹ لے کر آئے تھے۔ ان کے پاس ایک آرکسٹرا ہے۔ ہمارے پاس کیا ہے؟
    اور بقول فہمیدہ راجہ ہماری اولمپک ایسوسی ایشن نے کھلاڑیوں کے ساتھ باقاعدہ پروفیشنل کوچز روانہ کرنے کے بجائے اپنے ادارے کے افسران کو سیر کرنے بھیج دیا۔ جب اس طرح اقربا پروری اور زاتی مفادات کو فوقیت دی جائے گی تو پھر اسی طرح ہی کی کارکردگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔

    “ہم کہہ سکتے ہیں کہ تمغہ ہمارے ہاتھ سے پھسل گیا۔”

    اور اس کی ساری کی ساری زمہ داری پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سرپرست اور دیگر عہدا داران کی ہے جنہوں نے کئی سالوں سے اس ادارے کو کمزور سے کمزور تر کرنے کے ساتھ ساتھ زاتی مفادات کے حصول کا زریعہ بنا دیا ہے۔

    تحریر: ماریہ ملک
    ‏@No1Mariya

  • کرکٹ اور ناکام بھارت  تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ اور ناکام بھارت تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے لیکن بھارت جو اس وقت آر ایس ایس کی آڈیالوجی کے تحت ہٹلر مودی کے قبضے میں ہے اس کھیل کو بھی اپنے ناپاک عزائم سے بگاڑنا چاہتا ہے ۔
    کشمیر میں سجے اس کرکٹ کے میلے کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا اس بھارت نے ۔کھلاڑیوں کو دھمکیاں دیں ۔آئی سی سی کو دھمکیاں اور بھی بہت کچھ لیکن ایک دفعہ پھر اس کو منہ کی کھانا پڑی ۔اج کرکٹ جیت گئی،عوام جیت گئی مودی ہار گیا ۔

    بھارت ناکام ہو گیا ۔ کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں کرکٹ کا میلہ سج گیا ۔
    کشمیر پریمیئر لیگ پر بھارتیوں کی چیخیں پاکستان کی فتح کا ثبوت ہیں ۔۔۔ ۔۔

    کشمیر لیگ منقعد کرانے پر گورنمنٹ کو پورا کریڈٹ دینا چاہیے۔۔۔مجھے معلوم ہے میرے کچھ ہم وطن کہیں گے کہ گورنمنٹ نے کشمیر بیچ دیا,اس لیگ سے کیا ہو گا۔۔
    جو شور بھارت میں مچا ہوا وہ بتا رہا کیا ہو گا ۔
    ایونٹ کو ختم کرانے کیلیے بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، غیرملکی پلیئرز کو شرکت سے روکنے کی سرتوڑ کوشش ہوئی، اس مقصد کیلیے متعلقہ بورڈز پر دباؤ بھی ڈالا گیا،

    ایونٹ کو رکوانے کیلیے آئی سی سی کا دروازہ تک کھٹکھٹایا گیا، تاہم وہاں پر بھی اسے منہ کی کھانا پڑی، بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کا پہلا میچ منعقد ہونے کو تیار ہے۔

    جس طرح ہمیشہ بھارت کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس دفعہ بھی یہی حال ہوا اور رہتی دنیا تک یہی حال رہے گا ۔۔ انشا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹوکیو اولمپکس :دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا کینیڈین فٹبالر نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ بنا دی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹوکیو اولمپکس میں گزشتہ روز خواتین کا فائنل فٹبال میچ سویڈن اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں خواجہ سرا کوئین نے گول کر کے اپنے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا اور تاریخ رقم کر دی۔

    رپورٹس کے مطابق خواتین کا فٹبال میچ کینیڈا اور سوئیڈن کے درمیان برابر ہو گیا تھا تاہم میچ کا فیصلہ پینلتی ککس پر ہوا اور خواجہ سرا کوئین نے گول کر کے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔

    ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    خیال رہے کہ 25 سالہ کینیڈین خواجہ سرا فٹبالر کوئین نے 2014 میں کینیڈین ٹیم میں ڈیبیو کیا تھا اور 2016 کے ریو گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا تاہم گزشتہ سال خواجہ سرا کے طور پر سامنے آئے-

    دوسری جانب آج پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے یولین تھرو کے مقابلے میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کا بھارت کے تھرور نیرج چوپڑا کے ساتھ سخت مقابلہ متوقع ہے جیولین تھرو(نیزہ بازی) کے فائنل مقابلے آج پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بجے شروع ہوں گے۔