Baaghi TV

Category: کھیل

  • پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ   تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    حال ہی میں پاکستان کی انگلینڈ کے ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز اختتام پذیر ہوئی ہے. ون ڈے سیریز میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ پرفارمنس کی بدولت کچھ امید کی کرن نظر آئی جو فی الوقتی ثابت ہوئی اور بقیہ دو میچز میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی طرف سے پچھلی ون ڈے والی ناقص کارکردگی کو دہرایا گیا. اب ٹیم ویسٹ انڈیز پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جانی ہے. جو کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جائے والی پاکستان کی آخری سیریز ہے. یہ پاکستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متوقع الیون بنانے کا آخری موقع ہے.
    انگلینڈ کے ساتھ ہونے والی حالیہ سیریز میں مڈل آرڈر بیٹنگ اور باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ ہوئی. یہ بات یقینی نظر آئی کہ بابر اعظم جس میچ میں رنز بنائے گا پاکستان کے وہ ہی میچ جیتنے کے چانسز ہیں بابر اعظم اور محمد رضوان کے علاوہ کسی بیٹسمین کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھائی نہیں دی. مڈل آرڈر میں کوئی بھی بیٹسمین زمہ داری قبول کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا. اس وقت شعیب ملک صرف واحد بیٹسمین ہے جو پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کو سہارا دے سکتا ہے. اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شعیب ملک کی شمولیت اشد ضروری ہے.
    اسی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی باؤلنگ کا بھی یہی حال نظر آیا انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کی باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ دکھائی دی. تمام باؤلرز وکٹیں نہ لینے کے ساتھ رنز کو روکنے میں بھی مکمل ناکام نظر آئے. حسن علی کے علاوہ کوئی بھی باؤلر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا. ون ڈے میں 331 رنز بنانے کے باوجود پاکستانی باؤلرز ٹارگٹ کا دفاع نہ کر سکے جبکہ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھی ریکارڈ 232 رنز بنانے کے باوجود بڑی مشکل سے میچ جیت پائے. جبکہ پاکستان کی باؤلنگ ہمیشہ سے دنیا کی بہترین باؤلنگ لائن میں شمار ہوتی آئی ہے. پاکستان اگر ٹی ٹوئنٹی میں 160 پلس سکور کر دیتا تو مخالف ٹیم کے لیے ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا تھا. مگر حالیہ سیریز میں 200 پلس کا سکور بچانا بھی مشکل نظر آیا.
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل دیگر ٹیمز کے مقابلے کے لیے پاکستانی باؤلنگ کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جو کے محمد عامر اور وہاب ریاض کی قومی سکواڈ میں شمولیت سے ہی ممکن ہو سکتی ہے. ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی حالیہ سیریز میں پاکستان کو چاہیے کے سکواڈ میں موجود تمام پلئیرز کو مواقع فراہم کئے جائیں اور ورلڈ کپ کے لئے متوازن سکواڈ کا انتخاب کیا جائے. مصباح الحق اور وقار یونس کو چاہیے کہ آنکھوں سے انا کی پٹی اتار کر شعیب ملک، محمد عامر اور وہاب ریاض کو ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کر کے ایک متوازن ٹیم ورلڈ کپ میں بھیجیں نہیں تو ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی کارکردگی انگلینڈ سیریز سے مختلف نہیں ہو گی.

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا  تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ آج کے دور کا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا طرز ہے- ٹی ٹونٹی کرکٹ کی شروعات سال دوہزارتین میں انگلش کاؤنٹی سے ہوئی اورآہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس نئے طرز پرکرکٹ کھیلی جانے لگی- مختلف ممالک میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دیکھنے کا رجحان بڑھنے لگا- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا آغاز سال دو هزار پانچ میں اے-بی-این امرو ٹی ٹوئنٹی کپ کے نام سے ہوا اور اس باہمی کھیل کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقد کیا گیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے گیارہ ٹیموں نے حصہ لیا – شائقین کرکٹ نے بھرپور شرکت کرکے اس ٹورنامنٹ کو کامیاب کیا اور پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبولیت روز بروز بڑھنے لگی جس کے بعد یہ سالانہ ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ بن گیا- پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی کھیل کی فتح حاصل کرنے کا اعزاز فیصل آباد ٹیم کے حصے میں آیا جبکہ سیالکوٹ چھ ,لاہور تین , پشاور دو اور کراچی ایک بار چیمپیئن بنے-
    دنیا میں پہلا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ستمبرسال دو ہزار سات میں کھیلا گیا جس کی میزبانی ساؤتھ افریقہ نے کی, محض تیرہ دن کے اس ورلڈ کپ میں مختلف ممالک کی بارہ ٹیموں نے حصہ لیا – اب تک چھ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلے جا چکے ہیں جبکہ سال دو ہزارنو کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ کارکردگی کے باعث چیمپین شپ کا تاج پاکستان کے سر پر سجا جو ایک اعزاز کی بات ہے- حال ہی میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سال دوہزاربیس آسٹریلیا میں منعقد ہونا تھا اور بہت سے شائقین کرکٹ کوبڑی بے تابی سے اس کا انتظار تھا لیکن کرونا وائرس کے پیش نظراس ورلڈ کپ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا- کرونا وائرس جیسی جان لیوا وبائی بیماری کے باعث تقریبا پوری دنیا لاک ڈاؤن کی طرف چلی گئی جس سے کرکٹ کے میدان بھی ویرانے کا منظرپیش کرنے لگے اوردوسرے کھیل بھی اس سے شدید متاثر ہوئے البتہ چند روز پہلے آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس کے ٹیم گروپس کا اعلان کیا ورلڈ کپ کی میزبانی بی سی سی آئی کرے گی جس کے میچز یو اے ای اور عمان میں کھیلے جائیں گے- سترہ اکتوبر سے اس باہمی کھیل کا آغاز ہوگا اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ گروپ کی بات کی جائے تو اس کو دومختلف زُمرہ میں تقسیم کیا گیا ہے سپر بارہ میں آٹھ بڑی ٹیمیں رکھی گئی ہیں جس میں افغانستان کی ٹیم کا نام بھی شامل ہے جو ایک حیران کن اور قابل تعریف بات ہے "انتھک محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے” جبکہ راونڈ ایک میں بھی آٹھ چھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کا نام سر فہرست ہے- نوے کی دہائی میں دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیموں میں سری لنکن ٹیم کا شمار ہوتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ آج کل خراب کارکردگی کے باعث مشکلات سے دوچارہے اورامید کی جاتی ہے کہ ورلڈ کپ سال دوهزارو کیس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سپر بارہ میں بڑی ٹیموں کےمدمقابل ہوگی – راؤنڈ نمبرایک کودو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے, گروپ اے اور گروپ بی- گروپ اے میں چارچھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سے دو بہتر کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کا سپربارہ کے لیے انتخاب کیا جائے گا جبکہ گروپ بی میں بھی جو دوٹیمیں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کریگی وہ سوپر بارہ کے لیے کوالیفائی کر جائیں گی- پاکستان کو سپر بارہ کے گروپ نمبر دو میں رکھا گیا ہے اوراس کے ساتھ بھارت نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیمیں بھی شامل ہیں جبکہ سپر بارہ کے گروپ نمبرایک میں انگلینڈ, آسٹریلیا , ساؤتھ افریقہ اورویسٹ انڈیز شامل ہیں-
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس شائقین کرکٹ کے لیے انبساط کی بات ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دوہزاراکیس سے کرکٹ میدانوں کی رونقیں دوباره بحال ہوں گی اورایک اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی- اور اس کے ساتھ یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس میں عمده کارکردگی دکھائے گی اور ایک با پھر فتح یاب هوکر پاکستان کا پرچم بلند کرے گی-

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • سال گرہ مبارک چیتے . تحریر : ساجد عثمانی

    فاسٹ بولنگ کے حوالے سے اکثر یہ نوحہ پڑھا جاتا ہے کہ یہ فن رفتہ رفتہ ناپید ہو رہا ہے۔ تاہم اب بھی کچھ ایسے بندے موجود ہیں جو اس شان دار ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ایک بھائی ٹرینٹ بولٹ عرف بولٹی ہے۔

    سنہ 1989 میں آج ہی کے دن پیدا ہونے والے ٹرینٹ بولٹ نے نیوزی لینڈ کے لیے پہلا انٹرنیشنل میچ 2011 میں کھیلا تو ٹم ساؤدی کو ایک عمدہ ساتھی نصیب ہوا۔ تب سے لے کر آج تک بولٹ نے کیویز کے لیے تینوں فارمیٹس میں عمدہ کارکردگیاں دکھائی ہیں۔ ٹرینٹ بولٹ آج نیوزی لینڈ پیس اٹیک کا سپیئرہیڈ مانا جاتا ہے۔ فارمیٹ کوئی بھی ہو، یو نیڈ آ وکٹ، یو گو ٹو ٹرینٹ بولٹ۔ بولٹ کی خاص بات بہت تیز رفتار سے گیند کرتے ہوئے گیند کو دونوں جانب گھمانا ہے، گو کہ اب آئے پی ایل کھیلنے کی وجہ سے بولٹ کی رفتار متاثر ہوئی جس کی وجہ سے اس بندے پر غصہ بھی ہے۔ ورلڈ کپ 2019 کا آخری اووراور پھر سپر اوور بولٹ اتنا عمدہ نہ کر سکا، جتنی ضرورت تھی، مگر اس کے باوجود بولٹ آج دنیا کے بہترین پیسرز میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ آج ٹرینٹ بولٹ 500 سے زائد بین الاقوامی وکٹیں لے چکا ہے۔ سب سے عمدہ بات یہ کہ ساؤدی کی طرح یہ بندہ بھی فیلڈر کمال کا ہے۔ آؤٹ فیلڈنگ میں اس کا کوئی جواب نہیں۔

    ایک اورعمدہ بات یہ ہے کہ اس بندے کی لائن کے اندر گیند کرنے کی صلاحیت بہت عمدہ ہے۔ اووردا وکٹ گیند کرتے ہوئے بہت کم دیکھا ہے کہ اس کی گیند لیگ سائیڈ سے باہر پچ ہوئی ہو۔ اس چیزکا اچھا مظاہرہ دیکھنا ہو تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی پہلی اننگز میں پجارا کی وکٹ دیکھ لیں۔

    زیرِ نظرتصویر ورلڈ کپ 2019 کے سیمی فائنل کی ہے جہاں بولٹ کوہلی کو ایل بی ڈبلیو کر کے انڈیا کی امیدوں پر پانی پھرنے پر خوش ہے۔ یہ وکٹ بھی اس نے اسی انداز میں لی تھی جیسے پجارا کی لی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں موقعوں پر امپائر النگ ورتھ تھے۔ یہ وہی صاحب ہیں جنہیں عمران خان نے 1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں آؤٹ کر کے پاکستان کے لیے فتح سمیٹی تھی (معاف کیجیے گا، میں بلاوجہ ذرا ادھر ادھر نکل جاتا ہوں)۔

    @sajidusmani01

  • پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ مکمل کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز روانہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ مکمل کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز روانہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ مکمل کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز روانہ-

    باغی ٹی وی: قومی اسکواڈ مانچسٹر سے بذریعہ پرواز بارباڈوس کے لیے روانہ ہوئی تھی قومی اسکواڈ کی گزشتہ روز مانچسٹر میں کی گئی کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کے رزلٹ منفی آئے تھے-

    قومی اسکواڈ مقامی وقت کے مطابق آج سہ پہر تین بجے بارباڈوس پہنچے گا بارباڈوس پہنچنے پر اسکواڈ کی آرائیول ٹیسٹنگ کی جائے گی قومی اسکواڈ میں شامل تمام ارکان بارباڈوس میں ایک روز آئسولیشن میں رہے گا-

    کورونا ٹیسٹ کے رزلٹ منفی آنے پر کھلاڑی کل سے ٹریننگ سیشنز کا آغاز کریں گے۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 5 ٹی ٹوئنٹی اور 2 ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے، پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ 27 جولائی کو کھیلا جائے گا۔

  • مصباح بطور کوچ اور پاکستان کرکٹ. تحریر: جام محمد ماجد

    مصباح بطور کوچ اور پاکستان کرکٹ. تحریر: جام محمد ماجد

    مصباح الحق کو کوچنگ سے ہٹانے کا شور تو مچ رہا ہے لیکن مصباح الحق کو کوچ بنایا کس اہلیت پہ گیا تھا یہ سوال کون اٹھائے گا ؟؟؟

    ایک کھلاڑی جو ابھی تک لیگز میں بطورِ کھلاڑی میچز کھیل رہا تھا اور جسے کوچنگ کا نہ کوئی تجربہ تھا نہ اس نے کوچنگ کی کوئی تربیت لی تھی۔ اسے ڈائریکٹ قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ کیسے مقرر کر لیا گیا ؟ یہ انتہا درجے کا گھٹیا فیصلہ تھا اور اس گھٹیا فیصلے کو مزید گھٹیا بنانے کے لیے اسے چیف سیلیکٹر بھی بنا دیا گیا۔
    ان عہدوں کے لیے جو مطلوبہ اہلیت اور تجربہ چاہیے تھا اس کو مکمل طور پہ نظر انداز کیا گیا۔

    یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ایسا ہوا کیوں ؟
    اس کے لیے کون جواب دہ ہو گا؟

    اگرمصباح کو اس عہدے تک لانا ہی تھا تو پہلے اسے کوچنگ کورسز کروائے جاتے ، ڈومیسٹک ٹیموں کا کوچ بنا کر تربیت لینے کا موقع دیا جاتا، اس کے بعد یہ عہدہ سونپا جاتا۔
    لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور جب اتنے بونگے فیصلے کیے جائیں تو ایسے ہی ثمرات آتے ہیں۔

    مصباح کی بطورِ کھلاڑی خدمات کا اعتراف اور ان کی قدر اپنی جگہ لیکن مصباح کو بطورِ چیف سیلیکٹر اور ہیڈ کوچ کس بنیاد پہ چنا گیا تھا؟

    اس سب میں مصباح کی نسبت اسے چننے والوں کا زیادہ قصور ہے۔ کیوں کہ اپنی اہلیت سے بڑا عہدہ ملنے پہ انکار کرنے کا ظرف بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ مصباح بھی اتنی اعلیٰ ظرفی نہیں دکھا سکا کہ انکار کرتا۔ اب بھی وہ پیچھے ہٹنے اور اپنی کم اہلی کو قبول کرنے پہ تیار نظر نہیں آتا۔

    افسوس کہ اس نے بطورِ کھلاڑی جو عزت کمائی تھی ، وہ کوچ بن کر دن بہ دن گنواتا جا رہا ہے۔

    @Majidjampti

  • کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992

    ایک تاریخ ساز لمحہ جسے دوہرانے کا خواب ہم ہر چار سال بعد دیکھتے ہیں مگر نامراد لوٹتے ہیں۔ 1992 کا عالمی کپ جیتنا بے شک پاکستانی تاریخ کے چند عظیم ترین اور قابل فخر کارناموں میں سے ایک ہے۔

    بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کا تکا لگا یہ بالکل غلط بات ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈکپ سے قبل پاکستانی ٹیم شدید انجری مسائل سے دو چار ہوئی دو ورلڈ کلاس کرکٹرز اور میچ ونرز سعید انور اور وقار یونس انجرڈ ہو کر ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے عمران خان کو کندھے کا مسلہ تھا اور وہ باؤلنگ نہیں کروا پا رہا تھا۔ وسیم اکرم فارم میں نہیں تھا سلیم ملک بھی آؤٹ آف فارم تھا جاوید میانداد بھی کافی عرصے بعد ون ڈے ٹیم میں واپس آیا تھا۔

    یہ صورتحال یقینی طور پر انتہائی تشویشناک اور خطرناک تھی مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ تھا کہ پچھلے تین سال میں پاکستانی ٹیم دنیا کی دوسری کامیاب ترین ٹیم چل رہی تھی۔ اس عرصے میں صرف آسٹریلیا کا ریکارڈ پاکستان سے بہتر رہا تھا۔

    تو ایک انتہائی تگڑی اور شاندار مگر ٹوٹی اور بکھری ٹیم کو بس واپس جوڑنا تھا اعتماد دینا تھا اور یہ فریضہ عمران خان نے بخوبی سر انجام دیا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب جانتے ہیں

    تحریر: انس حفیظ

  • مرد مجاہد .  تحریر: سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد . تحریر: سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے 5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اورپہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈربن کر ابھرے عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندارکپتانی کیریئرکا آغازہوا

    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کوانڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کوانگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے
    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اورعمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پرزوردرخواست پرعمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور؛کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انوراور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اورپاکستان فائنل میں پہنچ گیا فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغازہواعمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اورفاتحانہ اننگ کھیلی. میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امرہوگئے.

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھرمیں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین

    @Patriot_Mani

  • امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسٹیڈیم کے باہر فائرنگ، 4 افراد زخمی

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسٹیڈیم کے باہر فائرنگ، 4 افراد زخمی

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع بیس بال اسٹیڈیم کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے وقت بیس بال اسٹیڈیم میں میچ جاری تھا جہاں شائقین کی بڑی تعداد میچ دیکھ رہی تھی فائرنگ ہوتے ہی شائقین میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اسٹیڈیم سے تیزی بھاگتے ہوئے نکلنے لگے جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی۔

    شائقین کے مطابق ان میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ فائرنگ کا واقعہ اسٹیڈیم میں ہوا ہے یا اس کے باہر ہوا ہےاس صورتِ حال کے باعث بیس بال اسٹیڈیم میں جاری میچ روک دیا گیا-

    دوسری جانب امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے چاروں زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے صورتِ حال قابو میں ہے، واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ڈی سی پولیس نے اطلاع دی کہ فائرنگ اسٹیڈیم کے بائیں فیلڈ کونے سے باہر ، ن اسٹریٹ اور جنوبی کیپٹل اسٹریٹ جنوب مشرق میں ہوئی۔ فائرنگ کے کچھ ہی لمحوں بعد ، اعلان میں شائقین سے بال پارک میں رہنے کی اپیل کی گئی-

  • ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف 3-0 سے ہارنے کی وجہ سے دل ابھی تک صدمے سے باہر نہیں آیا تب سے یہی سوچ رہا ہوں آخر کیا محرکات ہیں جو ہماری کرکٹ اتنی زوال کا شکار ہے
    ایک وقت تھا کہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا یہاں کی مٹی کرکٹر اگلتی ہے اس مٹی نے کیسے کیسے ہیرے پیدا کیے عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، عبدالرزاق،
    شاہد خان آفریدی، سعید انور، عامر سہیل، عبدالقادر، عاقب جاوہد.
    لیکن اب تو لگتا ہے قومی کرکٹ ٹیم کو پسند ناپسند کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے کیسے کیسے ہیرے ضائع کر دیے جیسا کہ عمران نذیر، عبدالرزاق، حسن رضا، محمد آصف، محمد عامر، عمر گل، وہاب ریاض، محمد شبیر، سعید اجمل.
    اسی طرح بہت سے کرکٹر سفارش، یا پیسا نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہیں آ پاتے۔

    ایسے ہی ایک کرکٹر عبید اللہ جنکا تعلق پشاور سے اور (پدائش 4 جون 1992) ہیں

    انہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز اکتوبر 2016 کو قائد اعظم ٹرافی میں پاکستان ایئر لائنز کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا
    انہوں نے 19 نومبر 2017-18 کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پشاور کی طرف سے نمائندگی کی۔ انیس نومبر، 2017 کو راولپنڈی میں کراچی کے مخالف جبکہ پشاور کی نمائندگی کرتے ہوے 72 سکور کیا اور 23 نومبر 2017 کو راولپنڈی میں پشاور کی نمائندگی کرتے ہوئے فیصل آباد کے خلاف سینچری پلس 114 سکور کیا.

    سٹرائیک ریٹ 92.30 رہا جبکہ ایوریج 18.00 رہی. اگر پی سی بی نے اس پسند ناپسند کے نظام کو نہ بدلا تو آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حال انگلینڈ کے خلاف سیریز سے بھی برا ہوگا
    اس لیے پی سی بی کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کا میرٹ پر انتخاب کریں نہ کہ ذاتی پسند کی بنیاد پر.
    سوشل ٹویٹر اکاؤنٹ
    ‎@ObaidVirk_717

  • ‏پاک بھارت ٹاکرا ایک بار پھر سے . تحریر: محمد وقاص عمر

    ‏پاک بھارت ٹاکرا ایک بار پھر سے . تحریر: محمد وقاص عمر

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا میلہ سجنے جا رہا ہے ۔ترجمان آئی سی سی کے مطابق سپربارہ ٹیموں کے گروپ ٹو میں پاکستان اورانڈیا کے ساتھ افغانستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بھی شرکت کریں گی۔ سپر12 کے گروپ ون میں ساؤتھ افریقاآسٹریلیا، انگلینڈ، آسٹریلیااورویسٹ انڈیزکی ٹیمیںمد مقابل ہوں گی۔گروپ ون اورٹو میں مزید دوکوالیفائرٹیمیں بھی ہوں گی۔ اسی کے ساتھ راؤنڈ ون کے گروپ اے میں سری لنکا آئرلینڈ، نیدرلینڈزاورنمیبیا کھیلیں گی۔ راونڈ ون کے گروپ بی میں بنگلہ دیش، اسکاٹ لینڈ، پاپوا نیوگنی اورعمان جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021کے گروپس کا اعلان کردیا گیا۔ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ ٹو میں شامل کیا گیا ہے۔ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 17 اکتوبرسے عمان اور یو اے ای شروع ہوگا۔آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی میزبانی انڈیا کر گا۔پہلے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ انڈیا میں ہی شیڈیول تھا مگر بھارت میں کرونا کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسے یو اے ای اور عمان میں شفٹ کر دیا گیا۔

    پاک بھارت مقابلہ دیکھنے کے لیے دونوں ملکوں بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی سریز نے ہونے ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ موقع صرف بڑے ایونٹس میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔پچھلی بار جب دونوں حریف ٹیمیں مدمقابل ہوئی تھیں تو پاکستان نے انڈیا کو چمپین ٹرافی کے فائنل میں شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا تھا۔

    ایک اندازے کے مطابق جب پاکستان اور انڈیا کا چمپین ٹرافی کے فائنل میں جوڑ پڑا تو تقریبا 400 ملین افراد نے اس مقابلے کو دیکھا۔اس بات سے آپ اندازا لگا سکتے ہیں پاک بھارت ٹاکرا دیکھنے کے لیے شائقین کرکٹ کتنے بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔خیر اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں کیونکہ 17 اکتوبر سے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ شروع ہونے جا رہے ہے اور پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔