ہاکی ورلڈ کپ 1994 کے ہیرونوید عالم کینسرکی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں، اولمپئن نوید عالم کو بلڈ کینسرکی تشخیص شوکت خانم ہسپتال میں ہوئی ہے، نویدعالم بیجنگ اولمپکس میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہ چکے ہیں.
بیٹی حاجرہ نوید نے بتایا ہے کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرزنےعلاج کیلئے 40 لاکھ روپے کا تخمینہ بتایا ہے، بابا نے پاکستان کو94 کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، علاج میں مدد کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اورصوبائی حکومتوں سے بھی علاج میں مدد کی اپیل کی گئی ہے.
اولمپین چیمپین نوید عالم نے 1994 کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، وہ 2005 سے 2007 تک ہاکی فیڈریشن میں سیکٹری کے عہدے پر تعنیات رہے تھے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خلاف بات کرنے پر فیڈریشن نے انہیں ڈیئریکٹر جنرل کے عہدے برخواست کردیا تھا.
Category: کھیل

قومی ہاکی ورلڈ کپ کے ہیرو بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہوگئے

قومی ویمین کرکٹ ٹیم بدھ سے ویسٹ انڈیز کے مد مقابل ہوگی
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی اگلے سال آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کوالیفائرراؤنڈ اورآئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کی تیاریاں جاری ہیں، اس سلسلے میں بدھ کے روز پاکستان ویمن ٹیم کا مقابلہ ویسٹ انڈیزکی ویمن ٹیم سے ہونے جا رہا ہے، پانچ ایک روزہ میچوں پرمشتمل سیریز کا پہلا میچ انٹیگا کے کولیج کرکٹ گراؤنڈ میں بدھ کے روزکھیلا جا ئے گا، اس سال پاکستان ویمن ٹیم اپنا چوتھا ایک روزہ میچ کھیلنے جا رہی ہے، اس سے قبل پاکستانی ٹیم دورہ جنوبی افریقہ میں تین ایک روزہ میچ کھیل چکی ہے، پہلا ایک روزہ میچ کے علاوہ کولیج کرکٹ گراؤنڈ میں دوسرا اورپانچویں میچ بلترتیب 9 اور18 جولائی کو کھیلا جائے گا.
ندا ڈار نے اس سیریزکے دوران ٹی ٹونی وکٹوں کی سنچری مکمل کی ہے، 19 سالہ فاطمہ ثناء اورڈیانا نے چارچاروکٹیں حاصل کیں ہیں، ندا ڈارکی باؤلنگ نے مخالف ٹیم کے رنزروکنے میں اہم کردارادا کیا ہے.
جویریہ خان نے کہا کہ پاکستان ٹیم نے باؤلنگ کے شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اب ایک روزہ میچوں کی سیریزمیں بھی بہترنتائج حاصل کرنے کے لیے بیٹنگ لائن کوپرفارم کرنا ہو گا، جویریہ خان 2744 رنزبنا کرویمن ٹیم کی ایک روزہ میچوں کی کامیاب ترین بلے باز ہیں، یہ پانچ میچ ہمارے لیے بہت اہم ہیں، ان میچزسے ورلڈ کپ کوالیفائرمرحلے اوراگلے سال ویمن ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں مدد ملے گی، بیٹنگ لائن کے پرفارم کرنے سے اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، ٹی ٹونٹی سیریزسے ہمیں بیٹنگ کنڈیشنزکوسمجھنے میں کافی مدد ملی ہے، ہم ایک روزہ سیریزمیں بہترپرفارم کریں گی، بیٹسمینوں کو مشکل حالات میں خود کو پرسکوں رکھنےکی کوشش کرنا ہوگی، ٹی ٹونی میں شکست پرجویریہ خان کا کہنا تھا، ہم نے میچزجیتنے کے لیےسخت محنت کی تھی، ہم نے بیٹنگ پر بہت کام کیا تھا، بدقسمتی سے ہم ایک یونٹ کی طرح پرفارم کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن ہماری باؤلنگ نے بہت اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا جو کہ ایک خوش آئند عمل ہے، نڈا ڈا اورانعم امین بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں، فاطمہ ثناء ایک نوجوان کے طور پریشرمیں حالات کوبرداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاکستان ویمن اے ٹیم کی تین میچوں پر مشتمل ایک روزہ سیریز کا آغاز ہفتے سے ہوگا، قومی اے ٹیم ہفتہ کو دوبارہ ایکشن میں نظر آئے گی۔ اس سے قبل قومی اے ٹیم تین ٹی ٹونی میچوں پرمشتمل سیریزمیں ویسٹ انڈیز کی اے ٹیم کو شکست دے چکی ہے، قومی اے ٹیم کی اوپنرعائشہ ظفرنے ایک ہاف سنچری کی مدد سے 93 رنز بنائے ہیں، کائنات امتیازنے چاروکٹیں حاصل کیں ہیں، رامین شمیم، ماہم طارق اورایمن انورنے تین تین وکٹیں حاصل کیں ہیں، رامین پاکستان اے ٹیم کی قیادت کا سلسلہ جاری رکھیں گی.
اسکواڈ میں جویریہ خان (کپتان، قومی ٹیم)، رامین شمیم (ون ڈے کپتان، اےٹیم)، سدرہ نواز(ٹی 20 کپتان، اے ٹیم)، عالیہ ریاض، ایمن انور، انعم امین، عائشہ نسیم، عائشہ ظفر، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، ارم جاوید، جویریہ رؤف، کائنات امتیاز، کائنات حفیظ، ماہم طارق، منیبہ علی صدیقی(وکٹ کیپر)، ناہیدہ خان، ناجیہ علوی(وکٹ کیپر)، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، ندا ڈار، عمائمہ سہیل، صبا نذیر، سعدیہ اقبال، سدرہ امین، اورسیدہ عروب شاہ کو شامل کیا گیا ہے.
قومی کرکٹ ٹیم کا ٹریننگ سیشن 7 جولائی سے شروع
دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ میں شامل ٹیسٹ کرکٹرز7 جولائی سے کراچی میں ٹریننگ کا آغاز کریں گے، یہ دس روزہ کیمپ بائیوسیکیورماحول میں لگایا جائے گا، کیمپ مکمل کرنے کے بعد یہ تمام کھلاڑی 21 جولائی کو لاہور کے مقامی ہوٹل میں آئسولیشن کریں گے، قومی ٹیم 26 جولائی کو بارباڈوس روانہ ہوگی، تربیتی کیمپ کی نگرانی ہیڈآف پلیئرز ڈویلمپنٹ ثقلین مشتاق کریں گے، اس دوران نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کے دیگرکوچزمحمدیوسف، مشتاق احمد، عمررشید اورعتیق الزمان بھی ان کی معاونت کریں گے، فزیوتھراپسٹ امتیازاحمد، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ صبوراحمد اورمساجرعمران سلطان بھی کیمپ میں شرکت کریں گے.
اس کیمپ میں گیارہ ٹیسٹ کھلاڑیوں عابد علی، اظہرعلی، فواد عالم،عمران بٹ، محمد عباس، نسیم شاہ، نعمان علی، ساجد خان، شاہنواز دھانی، یاسرشاہ اورزاہد محمود کے علاوہ چھ اضافی کھلاڑیوں کو بھی طلب کیا گیا ہے، ان چھ کھلاڑیوں میں عاکف جاوید، عرفان اللہ شاہ، امیرحمزہ، محمد حسن، محمد عمراورسیف اللہ بنگش شامل ہیں.
کیمپ میں طلب کردہ 25 کھلاڑیوں، کوچزسمیت اورکیمپ میں شامل دیگر پانچ ارکان کی اتوار کے روز کویڈ 19 ٹیسٹنگ کی گئی ہے، جس کے نتائج منفی آئے ہیں، یہ تیس ارکان اب منگل کو کراچی میں اکھٹےہوں گے، جہاں ان کی دوسری کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کی جائے گی۔
حارث سہیل کی انجری ٹھیک نا ہوسکی
مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل ابھی بھی اپنی دائیں ٹانگ میں درد محسوس کررہے ہیں، لہٰذا وہ 5 سے 6 جولائی تک ڈربی میں شیڈول آخری دونوں پریکٹس سیشنز میں شرکت نہیں کریں گے، اسی انجری کی وجہ سے ڈربی میں کھیلے گئے دونوں انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچزمیں بھی شرکت نہیں کی تھی، حارث سہیل کے ری ہیب کا آغاز ہوچکا ہے، تاہم ان کا ایم آرآئی اسکین 6 جولائی کو کارڈف میں ہوگا، جس کا جائزہ لینے کے بعد ہی ان کی انگلینڈ کے خلاف پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں دستیابی کا فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان اورانگلینڈ کےمابین تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچزپرمشتمل سیریز کا آغاز8 جولائی کو کارڈف سے ہوگا، قومی کرکٹ اسکواڈ 6 جولائی کو ڈربی سے کارڈف روانہ ہوگا۔

تمام کٹیگریزکو یکساں میچ فیس دی جائے گی، وسیم خان
گورننگ بورڈ سے آئندہ مالی سال 22-2021 کی منظوری کے ساتھ ہی پی سی بی نے مینز سینٹرل کنٹریکٹ برائے 22-2021 کا اعلان کردیا ہے۔ 20 ایلیٹ کرکٹرز کے لیے اعلان کردہ اس فہرست میں کنٹریکٹ کی تین مختلف کٹیگریز سمیت تین ایمرجنگ کرکٹرزکوبھی شامل کیا گیا ہے.
اس فہرست کو حتمی شکل دینے والےتین رکنی پینل میں ڈائریکٹرانٹرنیشنل ذاکر خان، چیف سلیکٹر محمد وسیم اورڈائریکٹرہائی پرفارمنس ندیم خان شامل تھے، اس دوران پینل نے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اورکپتان بابراعظم سے بھی مشاورت کی ہے، جس کے بعد کنٹریکٹ کی یہ فہرست پہلے چیف ایگزیکٹو وسیم خان اورپھرحتمی منظوری کے لیے چیئرمین پی سی بی کے پاس بھجوائی گئی ہے، 12 ماہ پر مشتمل یہ کنٹریکٹ یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022 تک جاری رہے گا۔
مینز سینٹرل کنٹریکٹ لسٹ میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست میں
کٹیگری اے میں بابراعظم، حسن علی، محمد رضوان اورشاہین شاہ آفریدی شامل ہیں.
کٹیگری بی میں اظہرعلی، فہیم اشرف، فخرزمان، فواد عالم، شاداب خان اوریاسرشاہ شامل ہیں.
کٹیگری سی میں عابد علی، امام الحق، حارث رؤف، محمد حسنین، محمد نواز، نعمان علی اورسرفراز احمد شامل ہیں.
ایمرجنگ کٹیگری میں عمران بٹ، شاہنوازدہانی اورعثمان قادر شامل ہیں.
کنٹریکٹ میں نظر ثانی کی گئی ہے،
کٹیگری اے کے ماہوار وظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، کسی بھی فارمیٹ کی میچ فیس میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے.
کٹیگری بی کے ماہواروظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، ٹیسٹ کی میچ فیس میں 15 فیصد اضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 20 فیصد اورٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 25 فیصد اضافہکیا ہے.
کٹیگری سی کے ماہواروظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، ٹیسٹ کی میچ فیس میں 34 فیصداضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 50 فیصد اورٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 67 فیصد اضافہ کیا ہے.
ایمرجنگ کٹیگری کے ماہوار وظیفے میں 15 فیصد اضافہ۔ٹیسٹ کی میچ فیس میں 34 فیصد اضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 50 فیصد اور ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 67 فیصد اضافہ کیا ہے.
اس کنٹریکٹ کے تحت حسن علی اور محمد رضوان کو کٹیگری اے میں شامل کرلیا گیا ہے، حسن علی گزشتہ سال انجری کی وجہ سے کنٹریکٹ حاصل نہیں کرپائے تھے، تاہم سیزن 21-2020 میں شاندار کارکردگی کی بدولت انہوں نے سیزن 22-2021 کے لیے کنٹریکٹ کی اے کٹیگری حاصل کرلی ہے، محمد رضوان کو مستقل کارکردگی کی بدولت کٹیگری اے میں ترقی دی گئی ہے، فہیم اشرف، فواد عالم، محمد نوازاورنعمان علی کو بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں متاثرکن کارکردگی کی بدولت سینٹرل کنٹریکٹ برائے 22-2021 کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے.
گزشتہ سال ایمرجنگ کٹیگری میں شامل فاسٹ باؤلرزحارث رؤف اورمحمد حسنین کو کٹیگری سی میں ترقی دی گئیئ ہے، شاہنواز دہانی، عثمان قادراورعمران بٹ کو ایمرجنگ کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے۔
اسد شفیق، حیدرعلی، حارث سہیل افتخاراحمد، عماد وسیم، محمدعباس، نسیم شاہ، شان مسعود اورعثمان شنواری کو سیزن 22-2021 کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ پیش نہیں کیا گیا ہے، تاہم یہ تمام کھلاڑی سلیکٹرز کے پلانز کا حصہ ہیں اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرکے آئندہ سال کے لیے کنٹریکٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ معیاری کھلاڑیوں کے بڑے پول میں سے 20 کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، وہ اس موقع پر احسن انداز سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر پینل کا شکریہ ادا کرتے ہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں اس فہرست میں 8 نئے کھلاڑیوں کوکنٹریکٹ دیا گیا اور9 سے واپس لیا گیا ہے، تاہم ان 9 کھلاڑیوں کے لیے دروازے کھلے ہیں اور یہ سلیکٹرز کے پلانز کا حصہ ہیں، ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس سال ایمرجنگ کٹیگری میں شاہنواز دھانی، عمران بٹ اورعثمان قادر کو شامل کیا گیا ہے، ملک کی نمائندگی کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو اب یکساں میچ فیس ملے گی، چاہے وہ کسی بھی طرز کی کرکٹ کھیل رہا ہو یا اس کے پاس سینٹرل کنٹریکٹ ہے یا نہیں، ہم نے معاشی طور پرایک چیلنجنگ سال کے باوجود سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کی آمدن میں اضافہ کیا ہے.
انگلینڈ سے جیتنے کیلئے پر عزم شاداب
قومی وائیٹ بال کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے بہت پر جوش ہوں، جلد از جلد کنڈیشنز سے ہم آہنگی کی کوشش کررہے ہیں، انگلینڈ میں موسم تبدیل ہو جائے تو گیند سیم ہونے لگتا ہے، سورج نکل آئے تو یہاں کا موسم ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے لیے موزوں ہوتا ہے، مثبت سوچ کے ساتھ انگلینڈ آئے ہیں، پہلا ٹریننگ سیشن شاندار رہا ہے، انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ چیمپئن ہے اور وائیٹ بال کرکٹ کی بہت اچھی ٹیم ہے، گزشتہ دورہ انگلینڈ میں اچھی پرفارمنس رہی ہے، اس مرتبہ بھی بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے پہلے انگلینڈ کے خلاف سیریز تیاری کا اچھا موقع ہے، مکمل فٹ ہوچکا ہوں، باؤلنگ پر خاص توجہ دے رہا ہوں، پی ایس ایل میں اچھی باؤلنگ کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا، میری پہلی ترجیح باؤلنگ ہی ہے، کوشش ہے کہ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ آؤٹ کر سکوں، اگلے چند ماہ ہمیں مسلسل کرکٹ کھیلنی ہے اس لیے ٹرینر نے ابھی فٹنس ٹیسٹ کا بھی اہتمام کیا ہے، پریکٹس سیشنز میں فزیکل ٹریننگ پر توجہ مرکوز ہے تاکہ فٹنس ٹیسٹ کی بھی تیاری ہوسکے.

ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب
ندا ڈار ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 30 جون سے ہوگا، سر ویون رچرڈز اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ان میچز میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز ندا ڈار ہوں گی، جنہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف ایک وکٹ درکار ہے، گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ کرکٹر پہلی پاکستانی اور دنیا کی پانچویں خاتون کرکٹر ہوں گی جو یہ اعزاز کریں گی، اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی انیسہ محمد (120)، آسٹریلیا کی ایلیسا پیری (115)، جنوبی افریقہ کی شبنم اسماعیل (110) اور انگلینڈ کی آنیا شرب سول (102)، ہی یہ سنگ میل عبور کرسکی ہیں، ٹی ٹونٹی کرکٹ میں پاکستان کی سب سے کامیاب باؤلر ندا ڈار اب تک 18.35 رنز فی وکٹ کے اعتبار سے 99 وکٹیں حاصل کرچکی ہیں، ندا ڈار مینز یا ویمنز دونوں قسم کی کرکٹ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر ہوں گی.
ندا ڈار کا کہنا ہے کہ کرکٹ ایک دلچسپ کھیل ہے، جو آپ کو اچھے اور برے دونوں طرح کی دن دکھاتا ہے، مگر اس سے وابستگی کبھی ختم نہیں ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ یقیناََ 100 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل وکٹوں کاسنگ میل عبور کرنا ان کے لیے خوشی کا باعث ہوگا تاہم اگر اس روز میچ میں ان کی پرفارمنس سے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو فائدہ ہوگا تو یہ خوشی دوبالا ہوجائے گی، ایک سینئر کھلاڑی اور آلراؤنڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ دایاں بخوبی جانتی ہیں اور کوشش کروں گی کہ اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کی فتوحات میں اضافہ کرسکوں.
ندا ڈار نے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2010 میں سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا، گو کہ اس سنسنی خیز میچ میں سری لنکا نے ایک رن سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم ندا ڈار نے اس میچ میں محض 10 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کی تھیں، آلراؤنڈر اپنے ٹی ٹونٹی کرکٹ کیرئیر میں 1152 رنز بناچکی ہیں، وہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی پاکستان کی تیسری بہترین بیٹسمین بھی ہیں، اب تک پاکستان کے لیے 105 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہیں، ان 110 میں سے 43 میچز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے ان 43 میچز میں 52 وکٹیں حاصل کیں ہیں.
کنٹریکٹ خواتین کھلاڑیوں کا اعلان کردیا گیا
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 کا اعلان کردیا گیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں 12 خواتین کرکٹرزکو شامل کیا گیا ہے، تمام کٹیگریز کے ماہوار وظیفے میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جویریہ خان اور بسمہ معروف اے کٹیگری میں برقرار ہیں، ندا ڈار کی بی کٹیگری میں ترقی کی گئ ہے، پی سی بی ویمنز کرکٹر آف دی ایئر 2020 فاطمہ ثناء کو کٹیگری سی میں جگہ مل گئی ہے، کائنات امتیاز نشرہ سندھو، انعم امین، فاطمہ ثنا، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان، عمیمہ سہیل اور سدرہ نوازبھی کٹیگری سی کا حصہ بن گئی ہے، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کرکٹرز رواں سال بھی ایمرجنگ کٹیگری میں شامل ہیں، رواں سال 12 خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ سے نوازا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، ان تمام کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ کنٹریکٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے، ان 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی اے، بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایمرجنگ کنٹریکٹ کی لسٹ میں بھی 8 کھلاڑی شامل ہیں،ایمرجنگ ویمنز کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 میں عائشہ نسیم، کائنات حفیظ، منیبہ علی صدیقی، نجیہہ علوی،رامین شمیم، صباء نذیر ،سعدیہ اقبال اور سیدہ عروب شاہ شامل ہیں، انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں گزشتہ ایک سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دئیے گئے ہیں، اس سلسلے میں آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ اور مستقبل میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی مصروفیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے، قومی خواتین کرکٹ کودورہ ویسٹ انڈیز کے بعد اب 2 ٹی ٹونٹی اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے لیے اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو دسمبر میں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے، آئندہ سال پاکستان کو آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوری 2021 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا، جہاں سےاسکواڈ زمبابوے روانہ ہوا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث وہ دورہ مکمل نہ کیا جاسکا تھا،علاوہ ازیں، سیزن 21-2020 میں پی سی بی نے قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی ویمنز چیمپئن شپ کا بھی انعقاد کیا تھا، جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز میں دو نصف سنچریاں اسکور کرنے والی واحد کرکٹر ندا ڈار کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری سی سے بی میں ترقی دی گئی ہے، وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری کھلاڑی تھیں،
گذشتہ سال پی سی بی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والی فاطمہ ثنا ءکو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے، وہ اس سے قبل ایمرجنگ کٹیگری کا حصہ تھیں، 19 سالہ کرکٹر نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے تین میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، اس دوران انہوں نے تین اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 95 رنز بھی بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار پانے والی کائنات امتیاز کو بھی موجودہ کنٹریکٹ کی سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی چار اننگز میں 111 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی پویلین کی راہ دکھائی تھی، نشرہ سندھو کو بھی کٹیگری سی کا کنٹریکٹ پیش کیا گیا ہے، انہوں نےڈیانا بیگ (9 وکٹیں ) کے بعد گزشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ (6 وکٹیں) حاصل کی تھیں، جنوبی افریقہ میں پاکستان کی قیادت کرنے والی جویریہ خان ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 جون سے شروع ہونے والی سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی، تین ٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈےانٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی جویریہ خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ٹاپ(اے) کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، ان کے ساتھ بسمہ معروف بھی اسی کٹیگری کا حصہ ہیں، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کھلاڑیوں کو اس کٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، اُدھر وکٹ کیپر سدرہ نواز کی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی ہوگئی ہے.
چیئرآف نیشنل ویمنز سلیکشن کمیٹی عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ سیزن 22-2021 کے لیے ویمنز کنٹریکٹ پانے والی تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں، رواں سال 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، عمدہ کارکردگی کی بدولت فاطمہ ثناء کو ایمرجنگ سے ترقی دے کر سی کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے، تاہم ایمرجنگ کٹیگری میں شامل باقی آٹھوں کھلاڑیوں کو رواں سال بھی ایمرجنگ کنٹریکٹ دیا گیا ہے، وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ سال دنیا کے لیے ایک چیلنج تھا مگر پی سی بی نےاس دوران بھی خواتین کرکٹرز کے لیے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اہتمام کیے رکھا ہے، ندا ڈار نے جنوبی افریقہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث انہیں سی سے بی کٹیگری میں ترقی دی گئی ہے، وہ پرامید ہیں کہ ندا ڈار ایک سینئر ممبر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں گی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو میچز جتوانے کی کوشش کرتی رہیں گی، وہ کائنات امتیاز اور نشرہ سندھو کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں کہ جو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جہاں ہم نے چند کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ میں ترقی دی ہے تو وہیں ہم نے غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سدرہ نوازکی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی کردی ہے،
سلیکشن کمیٹی چھ ماہ بعد کنٹریکٹ کی اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اس پر نظرثانی بھی کی جائے گی تاہم ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام کھلاڑی ہمارے اعتماد پر پورا اتریں گی.
فاسٹ بولر نے کیا اپنے آبائی گھر کا رخ
قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہنواز ڈاہانی کی اپنے آبائی گاؤں لاڑکانہ میں آمد ہوئی ہے، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن ضلع لاڑکانہ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالغفار ملانو کی پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سٹی لاڑکانہ کے عہدیداران کے ہمراہ قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہنواز ڈاہانی سے ملاقات کی ہے،ملاقات کے دوران پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سٹی لاڑکانہ کے سیکریٹری اطلاعات منیر احمد ملغانی، نائب صدر صدام حسین لاشاری، نائب صدر غلام مصطفیٰ گوپانگ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری وزيرعلی تونیو، ریکارڈ اینڈ ایونٹ سیکریٹری عرفان علی جتوئی بھی عبدالغفار ملانو کے ہمراہ موجود تھے، عہدیداران نے شاہنواز ڈاہانی کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دیگئ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، عہدیداران نے شاہنواز ڈاہانی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے.

سندھ رینجرز کی محمڈن فٹبال گراؤنڈ پنجاب کالونی میں ٹورنامنٹ
سندھ رینجرز کی محمڈن فٹبال گراؤنڈ پنجاب کالونی میں ٹورنامنٹ ، 32ٹیموں نے حصہ لیا-
باغی ٹی وی : ترجمان رینجرز کے مطابق شاہد آفریدی، معین خان، جاوید شیخ اورڈی آئی جی ساؤتھ تقریب کے مہمان خصوصی تھے، ڈی جی رینجرز جنرل افتخار حسن چودھری کی ٹورنا منٹ کے فائنل مقابلے میں شرکت کی-
ترجمان رینجرز کا کہنا تھا کہ فٹبال گراؤنڈعرصہ دراز سے ایک کوڑے دان کی شکل اختیار کرچکا تھا-فروری کو بحال کر کے اسپورٹس کمیونٹی کے حوالے کر دیا گیا تھا-
شاہد آفریدی نے گراؤنڈ کے ایک حصے میں کر کٹ نیٹس تیار کرنے کا اعلان کیا-
اس حوالے سے ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ شہر کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں =









