Baaghi TV

Category: کھیل

  • انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    ٹی20 ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں بھارتی ٹیم کو 10 وکٹوں سے بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور ٹیم انڈیا ناک آؤٹ مرحلے سے باہر ہوگئی تھی۔ سماجی رابطوں کی سائٹ پر انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد بھارتی ٹیم کو ’چوکرز‘ کا خطاب ملا، لفظ چوکرز کرکٹ کی اصطلاح میں ان ٹیموں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو آئی سی سی ایونٹس میں ناک آؤٹ مرحلوں سے باہر ہوجاتی ہیں۔

    ویسے کرکٹ کی تاریخ میں لفظ چوکرز جنوبی افریقی ٹیم کیلئے استعمال ہوتا ہے تاہم بھارت بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا ہے، اگر بھارتی ٹیم کی 10 سالہ کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اعداد و شمار کچھ یوں نشاندہی کرتے ہیں۔ سال 2013 میں بھارت نے آخری بار چیمپئن ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوا تھا، جس کے بعد سے آئی سی سی کے بینر تلے ٹیم انڈیا فیورٹ ہونے کے باوجود کوئی ایونٹ نہیں جیت سکی ہے۔ سال 2014 کے ٹی20 ورلڈکپ کے فائنل میں شکست اور پھر سال 2015 ون ڈے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست جبکہ سال 2016 کے ٹی20 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست علاوہ ازیں سال 2017 کی چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں پاکستان سے شکست ہوئی تھی اس کے ساتھ سال 2019 کے ون ڈے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست ہوئی.

    اور پھر سال 2021 آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست اسکے بعد سال 2021 کے ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان سے 10 وکٹوں کی ہار جبکہ ایونٹ کے پہلے مرحلے میں ہی شکست جبکہ سال 2022 کے ٹی20 ورلڈکپ میں بھی سیمی فائنل تک رسائی کے بعد 10 وکٹوں سے انگلینڈ کے ہاتھوں شکست
    قبل ازیں آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو جبکہ انگلینڈ نے بھارت کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست سے دوچار کیا تھا۔

  • کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ اتنا بہترین تھا کہ اب تک اس کو تیسری مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔ کل بہت پیاری جیت ہمارے نام ہوئی تھی مگر بارش کے دوران جب خان صاحب کے حادثے کی خبر سنی تو دل اداس ہو گیا تھا اور پھر جیتنے پر رتی برابر بھی خوشی نا ہوئی۔

    لیکن،

    کل والے میچ نے ہماری سیمی فائنل میں جانے کی امیدیں پھر سے تازہ کر دی ہیں۔ اب فیصلہ کن دن اتوار کا ہی ہوگا۔ اس دن فقط ہماری جیت ہی ضروری نہیں بلکہ دو کیسز ہونا اہم ہے۔

    اگر اتوار کو ہونیوالے پہلے میچ میں ساؤتھ افریقہ اگر نیدرلینڈز سے ہار جائے تو پاکستان آٹومیٹیکلی بنگلہ دیش سے جیت کر آگے جا سکتا ہے۔ مگر نیدرلینڈز ساؤتھ افریقہ کو ہرا پائیں گے؟ یہ سوچنا بھی ناممکن سا لگتا ہے لیکن اپ سیٹ ہو بھی سکتے ہیں۔

    اگر خدانخواستہ ساؤتھ افریقہ جیت جاتا ہے تو دوسرا میچ ہمارا ہے جو کہ ہم جیت جاتے ہیں تو پھر امیدیں زمبابوے سے ہیں۔ اگر پھر زمبابوے بھارت کو ہرا دے گا تو ہمارا رن ریٹ جو کہ بھارت سے بہتر ہے اسکی بنا پہ ہم آگے چلے جائیں گے۔

    وہیں اگر ساؤتھ افریقہ کا میچ کینسل ہو جائے تو تب بھی ہم آگے جا سکتے ہیں۔ اب صرف ہماری قسمت کا کھیل ہے۔ اگر ہماری قسمت ہوئی تو سیمی فائنلز میں جانا کنفرم ہے۔

    وہیں پہ خان صاحب کیساتھ قوم کی وابستگی ان کی سیاست نہیں تھی بلکہ یہی کرکٹ تھی جس کی وجہ سے لوگ ان سے جڑے تھے۔ آپ اندازہ لگائیں وہ قوم جو دو میچ ہار کر دو جیتنے والی ٹیم کو ہیرو بنا چکی ہے وہ عمران خان جو کہ کرکٹر ہونے کے بعد شوکت خانم اور سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا تھا اس کے حق میں کیوں نا کھڑی ہو۔

    دعا ہے کہ یہ اتوار ہمارے لئے خوش نصیبی کا اتوار ثابت ہو اور آسٹریلیا میں موجود کرکٹ ٹیم کیساتھ ساتھ وطن میں موجود کرکٹر تک دونوں کامیاب ہو جائیں اور ملک میں حالات نارمل ہو جائیں۔

  • اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کیا کہتے ہیں. زیدان

    فٹ بال لیجنڈ زین الدین زیدان نے کہا ہے کہ قطر سے متعلق تمام تر تحفظات کے باوجود اب وقت آگیا ہے کہ تنازعات کو بھول جائیں اور فٹ بال ورلڈ کپ پر توجہ دیں۔ فٹ بال کی عالمی جنگ رواں برس 20 نومبر سے خلیجی ملک قطر میں شروع ہورہی ہے۔ 2022 کے فٹبال ورلد کپ کی میزبانی کے لئے فرانس اور قطر آمنے سامنے تھے، فیفا نے فرانس کے بجائے قطر کو میزبانی دی، اس فیصلے کو ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن اس کے باوجود اب تک قطر پر تنقید کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔

    یورپی دنیا میں بنیادی حقوق تصور کئے جانے والے بعض معاملات پر قطر میں موجود قوانین اور وہاں غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ مبینہ غیر انسانی سلوک پر قطر میں ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے اعلان سامنے آرہے ہیں۔ ان تمام تنازعات پر فرانس کے لیجنڈ فٹبالر زین الدین زیدان (Zinedine Zidane) نے اظہار خیال کیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں زین الدین زیدان (Zinedine Zidane) نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فرانس کا ٹورنامنٹ بہت اچھا ہوگا لیکن مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ میں قطر جاؤں گا یا نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ بدھ سے کراچی کو حب کینال سےدو دن پانی کی فراہمی معطل رہے گی
    امریکا کا صحافی ارشد شریف کی موت پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
    شادی سے انکار پر لڑکے نے 22 سالہ کزن کو زندہ جلا دیا،پسند کی شادی نہ ہونے پرلڑکے نے کزن کو قتل کر کے خودکشی کرلی
    زیدان نے کہا کہ تمام تر تنازعات کے باوجود پر فٹبال کے شائقین کی توجہ اب صرف اور صرف کھیل پر ہونی چاہیے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے ہیں، سچ یا صحیح بات کہنا کبھی بھجی کافی نہیں ہوتا۔

  • بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    فرانسیسی فٹ بال میگزین کی طرف سے دیا جانے والا بالن ڈور ایوارڈ 1956 سے فٹ بال کے بہترین کھلاڑیوں کو دیا جارہا ہے۔جس کیلئے دنیا بھر سے 180 صحافی فاتح کیلئے ووٹ کرتے ہیں۔ بالن ڈور ایوارڈ کی سالانہ تقریب کا 66 واں ایڈیشن آج ہوگا جس میں سال کے بہترین فٹ بالر کو ایوارڈ دیا جائے گا۔ فرانسیسی فٹبال حکام نے سال کے بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ کیلئے 30 کھلاڑیوں پر مشتمل نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے۔ جن میں ٹرینٹ الیگزینڈر آرنلڈ، جواؤ کینسلو، کیسمیرو، کیون ڈی بروئن، فیبنہو، ایرلنگ ہالینڈ، سیبسٹین ہالر، ہیری کین، جوشوا کِمِچ، ریاض مہریز، مائیک میگنن، ڈارون نونیز، کرسٹیانو رونالڈو، انتونیو روڈیگر، سون ہیونگ من، ڈسان ولاہووک، کریم بنزیما، ساڈیو مانے، محمد صلح، رابرٹ لیوینڈوسکی، کیلین ایمباپے، ونیسیئس جونیئر، لوکا موڈریک، تھیبوٹ کورٹائس، فل فوڈن، ٹرینٹ الیگزینڈر، آرنلڈ، برنارڈو سلوا، کرسٹوفر نکونکو، لوئس ڈیاز، تھیاگو الکنٹارا، ورجل وین ڈجک، بیٹا ہیونگ من، روڈری، ریاض مہریز اور رافیل لیو شامل ہیں۔

    فرانسیسی فٹ بال حکام نے جن بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے اُس میں لیونل میسی کا نام شامل نہیں ہے۔ میسی نے 7 بار بالن ایوارڈ حاصل کیا ہے، انہوں نے گزشتہ سیزن میں پیرس سینٹ جرمین کی نمائندگی کرتے ہوئے 34 میچز میں صرف 11 گول کیے اور خیال کیا جارہا ہے خراب کارکردگی کی وجہ سے وہ سال کے بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ کی نامزدگیوں میں جگہ نہیں بناسکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مردوں میں 34 سالہ فرانسیسی کھلاڑی کریم بنزیما کو بالن ایوارڈ کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ کہا جارہا ہے، اُن کی پرفارمنس چیمپئنز لیگ میں بہت زیادہ اچھی تھی، جس کی وجہ سے اس سال اُن کے بالن ڈور ایوارڈ جیتنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ کریم بنزیما نے ریال میڈرڈ کو چیمپئنز لیگ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے گزشتہ سیزن میں 44 گولز کیے۔ بنزیما کو اُن کی بہترین کارگردگی کی بنیاد پر عوام کی بڑی تعداد میں حمایت حاصل ہے۔

    بالن ڈور کے فاتح کیلئے کیے گئے ایک آن لائن سروے کے مطابق تقریباََ 63.9 فیصد لوگوں نے ریال میڈرڈ کے کریم بنزیما کو اس ایوارڈ کا اہل قرار دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ مایہ ناز فٹ بالرز نے بھی کریم بنزیما کو اس ایوارڈ کا مستحق کہا ہے جن میں ساڈیو مانے، ایڈن ہیزرڈ اور ونیسیئس جونیئر شامل ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بارسلونا کی الیکسیا پوٹیلس کو خواتین فٹ بالرز میں بالن ڈور ایوارڈ کا حق دار کہا جارہا ہے جنہوں نے بارسلونا کو 30 میچز میں فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے سال بھی الیکسیا پوٹیلس کو بہترین خواتین فٹ بالر کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ بالن ڈور 2022 کی تقریب 17 اکتوبر بروز پیر فرانس میں منعقد ہوگی۔ تقریب پیرس کے تھیٹر ڈو چیٹلیٹ میں شام 7:30 بجے شروع ہوگی۔ جبکہ یہ تقریب ایل ایکوئپ (L’Equipe) یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی جائے گی جبکہ پیراماؤنٹ+ پر بھی یہ تقریب براہ راست نشر ہوگی جو ناظرین آن لائن دیکھ سکتے ہیں.

  • پی سی بی نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا

    پی سی بی نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔

    مہمان اسکواڈ ایک چار روزہ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلنے کے لیے یکم سے 19 نومبر تک پاکستان کا دورہ کرے گی۔ یہ تمام چھ میچز 4 سے 18 نومبر تک اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے جائیں گے، محدود طرز کے میچز 45 اوورز پر مشتمل ہوں گے۔ بنگلہ دیش انڈر 19 نے آخری مرتبہ نومبر 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا واحد چار روزہ میچ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جو ڈرا پر ختم ہوا تھا۔ ٹور میں شامل پانچ میں سے تین ون ڈے میچز بنگلہ دیش نے جیتے تھے۔


    آئی سی سی کے قواعد کے مطابق آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2024 میں شرکت کے لیے کھلاڑی کا 31 اگست 2004 کو یا اس کے بعد پیدا ہونا لازمی ہے۔ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان کا کہنا ہے کہ سال 2022 پاکستان میں بین الاقوامی ٹیموں کی میزبانی کا سال ہے، لہٰذا، وہ نومبر میں بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کا خیر مقدم کرنے کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 15 سالوں میں پاکستان میں پہلی جونیئر بین الاقوامی سیریز ہوگی، ایک چار روزہ اور پانچ محدود طرز کی کرکٹ کے میچز پر مشتمل یہ سیریز دونوں اطراف کے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرے گی۔ سیریز کے لیے قومی انڈر 19 اسکواڈ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کی آمد یکم نومبر کو ہوگی جبکہ 4 تا 7 نومبر چار روزہ میچ کھیلا جائے گا۔ اسکے بعد پہلا ون ڈے 10 نومبر کو، دوسرا ون ڈے 12 نومبر، تیسرا ون ڈے 14 نومبر، چوتھا ون ڈے 16 نومبر اور پانچواں ون ڈے 18 نومبر کو کھیلا جائے گا۔

  • عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار اور پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ بیٹر یونس خان کو پی سی بی ہال آف فیم شامل کرلیا گیا ہے۔ عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بنے ہیں۔ فضل محمود، عبدالقادر، حنیف محمد، ظہیرعباس، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور وقاریونس بھی پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوچکے ہیں۔ قادر خواجہ کے مطابق؛ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا کا کہنا ہے کہ ہال آف فیم کا مقصد اپنے رول ماڈلز کی کامیابیوں کو سراہنا ہے۔ رمیز راجا نے کہا کہ عبدالحفیظ کاردار نے پاکستان کو کرکٹ کا خواب دکھایا تھا اور یونس خان نے ہمیشہ سخت محنت کو اپنا شعار بنایا، یونس خان نے تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کے لیے لاجواب کامیابیاں سمیٹیں۔
    مزیہ یہ بھی پڑھیں؛ ملک کے 11 حلقوں میں ضمنی انتخاب کا دنگل آج سجے گا:کانٹے دارمقابلوں کی توقع
    رانا ثناءاللہ کو عابد شیر علی کی انتخابی مہم چلانے پر آج ہی طلب کرلیا گیا
    برطانوی وزیراعظم لزٹرس کو مشکلات کا سامنا، وزیر خزانہ کا سخت معاشی فیصلوں کا عندیہ
    اس حوالے سے عبدالحفیظ کاردار کے صاحبزادے شاہد کاردار نے کہا کہ ان کے والد نے اپنی شاندار قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی الگ شناخت بنائی، کاردار فیملی کو عبدالحفیظ کاردارکی پی سی بی ہال آف فیم میں شمولیت پر فخر ہے۔ یونس خان نے کہا کہ انہیں پی سی بی کی جانب سے ہال آف فیم میں شمولیت پر فخر ہے، عظیم کھلاڑیوں کی اس فہرست میں آنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ سابق کپتان نے کہا کہ کامیابی کبھی بھی کسی ایک فرد کی بدولت نہیں ملتی، اس اعزاز پر اہل خانہ، ساتھی کھلاڑیوں، کپتانوں اور اسپورٹ اسٹاف کا مشکور ہوں۔

  • غیرملکی مداح کی شاداب کو شادی کی پیشکش جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید

    غیرملکی مداح کی شاداب کو شادی کی پیشکش جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید

    نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی مداح نے پاکستانی کرکٹر شاداب خان کو شادی کی پیشکش کردی ہے۔ جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید صارفین کی تنقید

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی مداحوں کو ان سے ملتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک مداح نے شاداب خان کو شادی کی پیش کش بھی کردی ہے.
    https://twitter.com/mianjunaid631/status/1581197870791004160
    شاداب خان نے کیوی مداح کو شادی کی پیشکش کا تو کوئی جواب نہیں دیا تاہم اپنا ٹراؤزر ضرور گفٹ کردیا ہے۔ شاداب کی مداح لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ شرمیلے ہیں مگر میں نہیں اسی لیے شادی کی پیشکش کی ہے۔ شاداب اچھے کھلاڑی ہیں اور میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں۔ نیوزی لینڈ کی مداح خاتون کا انٹرویو میں بتانا ہے کہ شاداب خان اُنہیں بے حد پسند ہے کیوں کہ وہ ایک بہت اچھا پلیئر ہے اور شاداب خان نے مجھے اپنا ٹراؤزر دیا ہے.

    شاداب خان کی گوری مداح کا مزید کہنا تھا کہ میں نے شاداب خان کو بتایا ہے کہ میں اُن سے پیار کرتی ہوں اور اُن سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ گوری مداح کا شاداب خان کے لیے ویڈیو میں کہنا ہے کہ وہ بہت شرمیلے ہیں مگر میں شرمیلی نہیں ہوں۔ وائرل ویڈیو میں شاداب خان کو خاتون مداح کو اپنا ٹراؤزر دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جبکہ شاداب خان کی شرٹ اُن کے ہاتھ میں ہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
    حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
    اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا
    دوسری جانب اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شاداب خان کو انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے پاکستانی لڑکیوں کے لیے آٹوگراف بھی نہیں اور گوریوں کو شاداب خان اپنا ٹراؤزر دے رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے شاداب خان کے اس رویے کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ شاداب خان کو غیر ملکی مداحوں کے ساتھ ایسا رویہ زیب نہیں دیتا۔

  • کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    دنیائے کرکٹ میں ریکارڈ کے انبار لگانے والے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم آج 28 برس کے ہوگئے۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے میلبرن میں کپتانوں کے فوٹوسیشن کی تقریب اور پریس کانفرنس کے موقع پر آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے بابر اعظم کو سالگرہ کا کیک پیش کیا۔


    اس موقع پر بابر اعظم نے مختلف ٹیموں کے کپتانوں کے ہمراہ کیک کاٹا۔ آئی سی سی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی بابر اعظم کی سالگرہ اور کیک کاٹنے کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ بابر اعظم نے دیگر ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ انتہائی خوشگوار موڈ میں اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا۔

    پاکستان میں ٹوئٹر پر بھی بابر اعظم کی سالگرہ کے حوالے سے ٹرینڈز چل رہے ہیں، جہاں مداح قومی ٹیم کے اسٹار بیٹر کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دیگر پاکستانی کرکٹرز بھی بابراعظم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں۔ دوسری جانب کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پوری امید ہے کہ مڈل آرڈر ورلڈ کپ میں پرفارم کرے گا۔۔نواز، افتخار اور شاداب مڈل آرڈر میں اچھا کھیل رہے ہیں۔

    قومی کر کٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ورلڈ کپ میں بہترین کاکردگی دکھانے کے لیے پر عزم ہیں ۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا میں موجود کپتان بابراعظم کا کہنا ہے کہ کوشش ہوتی ہے اچھی کرکٹ کھیلیں اور 100 فیصدکارکردگی دیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پوری امید ہے کہ مڈل آرڈر ورلڈ کپ میں پرفارم کرے گا۔گزشتہ دو میچزمیں مڈل آرڈر نے اچھی کارکردگی دکھائی۔مڈل آرڈر کو ہم بیک کررہے ہیں۔نواز، افتخار اور شاداب مڈل آرڈر میں اچھا کھیل رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ فینز پاک بھارت میچ کا انتظار کرتے ہیں، ہم گراونڈ میں محظوظ ہوتے ہیں۔فخر زمان کے آنے سے فرق پڑے گا۔نیوزی لینڈ سیریز جیتنے سے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اچھے فاسٹ باولر متعارف کرائے ہیں۔ہمارے پاس اچھے فاسٹ باولر ہیں۔شاہین شاہ آفریدی کے ٹیم میں آنے سے فاسٹ باولر اٹیک اور مضبوط ہوگا۔ واضح رہے کہ کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا کے شہر میلبورن پہنچ چکے ہیں۔

  • تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    ہفتہ پہلے رمیز راجہ نے بہت اچھی بات کہی تھی کہ انڈیا کی فین بیس بہت اچھی ہے وہ ایشیا کپ سے باہر نکل گئے مگر انہوں نے کوہلی کی سینچری کی خوشی منانا شروع کر دی اور یہاں بابر سینچری کر دے تو اگلا سوال ہوتا ہے کہ سٹرائیک ریٹ 130 کی بجائے 140 کیوں نا تھا؟

    پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سکواڈ پر یہی تنقید جاری تھی جو آجکل جاری ہے۔ ایک تجزیہ نگار صاحب تو ٹی وی پر یہ بھی کہہ چکے تھے کہ محمد وسیم کو سلیکشن وغیرہ نہیں آتی ہے ایسی گھٹیا ٹیم میں نے کبھی نہیں دیکھی۔

    خیر وہ تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے سب کو علم ہے۔

    مگر پھر ٹیم نے کر دکھایا۔ ان دنوں حارث رؤف پہ کافی تنقید کی جاتی تھی۔ رن مشین اسکا دوسرا نام تھا، حارث کو کھلانا ایک حماقت سمجھا جا رہا تھا اور اب وہی تجزیہ نگار حارث رؤف کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔

    اسی طرح

    تب رضوان پر تنقید جاری تھی، اے آر وائی پہ آصف کے بارے میں تو ڈیزاسٹر مطلب تباہی کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے کہ یہ ٹیم کو تباہ کرے گا مگر یہ جملہ غلط طریقے سے قبول ہوا اور دوسری ٹیمز تباہ ہو گئیں۔

    ٹیم میں موجود افتخار اور خوشدل کو ہٹانے کی کمپین چلی کہ حیدر اور شان کو لاؤ، افتخار بوڑھا ہو گیا ہے حالانکہ افتخار اور شان دونوں ہم عمر ہی ہیں اسکے علاوہ افتخار کی پرفارمنس شان سے ہزار درجے بہترین رہی ہے مگر مسئلہ چونکہ یہ ہے کہ افتخار کی پکچرز سٹیٹس پہ لگانے سے کول نہیں لگتا اس لئے کوئی پیارا کھلاڑی لانا چاہیے۔

    اب جبکہ حیدر اور شان پچھلے آدھ درجن میچوں میں بیس رنز بھی نہیں کراس کر پا رہے ہیں تو بابر اعظم پہ تنقید شروع ہو گئی ہے کہ یہ اچھا کپتان نہیں ہے اس لئے ایسا ہوا ہے۔ حالانکہ بابر کی کپتانی میں پاکستان بڑے ٹورنامنٹس بلا خوف و تردد کھیل کر جیتنے کے قریب پہنچا ہے۔

    مگر نہیں بابر چونکہ شوخا نہیں ہے تو اسے ہٹانا چاہیے۔

    اسی طرح رضوان جس کی ایوریج کوہلی سے زیادہ ہے ٹیم میں میچ وننگ شراکت زیادہ ہے اس کیخلاف یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ مذہب کا استعمال کرکے مشہور ہو رہا ہے حالانکہ وہ اسکا ذاتی عقیدہ ہے۔ وہیں کوہلی جس کی ایوریج رضوان سے کم ہے مگر چونکہ سٹرائیک ریٹ اسکا زیادہ ہے تو تنقید ہو رہی ہے کہ میچ وننگ شراکت داری کا کیا کریں جب رضوان کا سٹرائیک ریٹ ہی کم ہے۔

    ہندوستانی جو کہ ایسی لن ترانیاں نہیں کرتے ان کے پاس ایک مضبوط مڈل آرڈر موجود ہے۔ مگر یہاں مڈل آرڈر میں کوئی سیٹ ہوتا ہے تو کمپین چلتی ہے کہ فلاں کا سٹرائیک ریٹ دو سو دس ہے اسے موقع دیں اور اس کھیل تماشے کے بعد مڈل آرڈر پھر حیدر اور شان جیسے کھلاڑیوں کے پاس رہ جاتا ہے۔

    خیر اب بھی دعا یہی ہے کہ ٹیم اچھا پرفارم کرے، اور امید بھی ہے کہ کرے گی مگر اتنی بری فین بیس دنیا میں کہیں نہیں ہے جتنی ہم پاکستانیوں کی ہے جو کہ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہو سکتے ہیں۔

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    منیجیمنٹ میں "صحیح آدمی, صحیح کام اور صحیح وقت پر” کو بہت اہمیت حاصل ہے۔۔بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم منیجیمنٹ ہمیشہ اس اہم اصول کو نظر انداز کرتی آئی ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے اہم ٹورنمنٹ سر پر ہوتا ہے اور ٹیم کمبینیشن سردرد بنا ہوتا ہے۔۔۔

    کوچنگ اسٹاف ہو یا کھلاڑیوں کی سلیکشن کوئی منطق نظر نہیں آتی ہے۔۔انٹرنیشنل لیول پر کوچز نہیں مینٹور کی ضرورت ہوتی ہے جو ذہن سازی کرے معمولی خامیاں دور کرے۔۔۔کھلاڑیوں کی کوچنگ ڈومیسٹک لیول پر ہونی چاہیے۔۔اکیڈمیز میں کھلاڑیوں کے نقائص دور ہونے چاہیے۔۔قومی ٹیم میں نقائص سے بھرپور کھلاڑی آنا ڈومیسٹک سسٹم کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔۔

    ایشیا کپ اور حالیہ انگلستان سیریز میں پاکستان ٹیم کی کئی کمزوریاں سامنے آئیں۔۔۔مڈل آرڈر کی ناکامی اس وقت انتہائی تشویش کا باعث ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صحیح مڈل آرڈر بلےباز دستیاب ہیں۔۔

    افتخار احمد اور آصف علی بطور مستند بلے باز مڈل آرڈر میں کھیلتے ہیں۔افتخار ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے بعد قومی ٹیم میں آئے لیکن وہ انڈرپرفارم کر رہے ہیں۔ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے ٹیم منیجیمنٹ انکو نچرل کھیل سے دور رکھے ہے۔۔۔دوسری جانب آصف علی اپنی کارکردگی سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ایک مستند بلے باز کی جگہ روکے محض دو اوورز کے بلے باز ہیں۔۔۔ایسا خطرہ پاکستان میں ہی لیا جاتا ہے کہ ایک مستند مڈل آرڈر بلے باز کی جگہ تین ,چار چھکوں کی آس پر دے رکھی ہے۔۔

    شاداب خان اور نواز کا بیٹنگ لائن میں کردار طے نہیں ہے۔۔دونوں باصلاحیت آلراؤنڈر ہیں جو باآسانی مڈل آرڈر میں عمدہ کردار نبھا سکتے ہیں۔۔

    ٹاپ آرڈر بیٹنگ رضوان اور بابر کی موجودگی میں مستحکم ہے۔۔البتہ ون ڈاؤن پوزیشن پر سوالیہ نشان ضرور ہے۔۔شان مسعود, فخر زمان کی غیر موجودگی کو کیش کرنے میں ناکام رہے اور اطلاعات کے مطابق ٹیم منیجیمنٹ اور کوچ کی خواہش ہے کہ فخر زمان ٹیم میں کھیلیں۔۔۔فخر زمان پندرہ سے زائد ٹی ٹوئینٹی میچز میں ناکام ہونے کے بعد ڈراپ ہونے کی بجائے ون ڈاؤن آئے تھے۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر بھی انکی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔۔لیکن اگر وہ صحتیاب ہیں نیز کپتان انکو پلئینگ الیون کا حصہ چاہتے ہیں تو نیوزی لینڈ سیریز میں رضوان کے ساتھ بطور اوپنر ٹرائی کر لینے میں حرج نہیں ہے۔۔۔کسی بھی ٹورنمنٹ کے دوران کمبینیشن بدلنا درست نہیں ہوتا ہے لہذا جو حتمی تبدیلیاں کرنے ہیں وہ تین ملکی سیریز میں کر لینی چاہیے۔۔۔

    شاہین شاہ آفریدی کی غیر موجودگی میں حارث رؤف نے باؤلنگ کا بوجھ اچھا اٹھایا لیکن کرکٹ ٹیم گیم ہے۔۔ایک کھلاڑی کی اچھی یا بری کارکردگی نتائج پر اثر ڈالتی ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حسنین اور وسیم جونیئر ورلڈکپ اسکوڈ کا حصہ ہیں لیکن تینوں پریشر سچوائیشن میں باؤلنگ کرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔۔تینوں کی ناتجربہ کاری عیاں ہے۔۔۔یہ تین بالر اس وقت ہائی رسک ہیں۔۔ اگر مددگار کنڈیشنز مل گئی تو کارکردگی دیکھا سکتے ہیں۔۔۔اسپن باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ مجموعی طور پر اچھا ہے۔۔۔۔عماد وسیم کا اسکوڈ میں اسے اور مضبوط کر دیتا۔۔۔۔پاکستان پیس اٹیک شاہین, نسیم اور حارث کے ساتھ بہترین نتائج دے سکتا ہے۔۔۔

    بدقسمتی سے اس وقت اسکواڈ میں زیادہ ورائیٹی موجود نہیں ہے۔۔ خوشدل شاہ سے باؤلنگ ہی نہیں کرانی تو انکو بطور آلراؤنڈر منتخب کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔۔وہ بنا باؤلنگ کسی کا متبادل نہیں ہیں۔۔عامر جمال کو بنام انگلستان سات میچز کھیلا کر چیک کیا جا سکتا تھا ٹیم کو اس وقت ایک تیز گیند باز آلراؤنڈر کی ضرورت ہے۔۔۔۔انگلستان کی سیریز ورلڈکپ کی تیاری کے سلسلے میں اہم تھی۔۔نیوزی لینڈ میں شیڈول تین ملکی سیریز میں اس الیون کو اترنا چاہیے تھا جس کے ساتھ ورلڈکپ کھیلا جائے گا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ کونسا کھلاڑی ,کب اور کدھر کھیلے گا۔۔۔۔

    اصولاً ٹی ٹوئینٹی اسکواڈ میں پانچ مستند بلے باز جو کہ ٹاپ اور مڈل آرڈر کے نمبرز پورے کریں, چار آلراؤنڈر تیز و اسپنر,چار مستند تیز گیند باز ,دو وکٹ کیپر بلے باز ہونے چاہیے۔۔

    ٹیم پاکستان ہمیشہ Right Person, Right Job,Right Time کے اصول کے خلاف کھیلی ہے۔۔۔کبھی کبھار ملنی والی کامیابیوں نے اس اصول کو سمجھنے کی طرف کبھی راغب نہیں کیا ہے۔۔عین ممکن ہے کہ اسکواڈ میں موجود کچھ باصلاحیت کھلاڑیوں کی کاوش سے ٹیم ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو جائے لیکن مارڈن ڈے کرکٹ کے اصولوں کو اپنائے بغیر تسلسل لانا مشکل ہے۔۔