Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    فلسطینی مزاحمت کا ایک واقعہ جو دنیا کو بتا گیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایمان اور قربانی میں ہے

    مغربی میڈیا اسرائیلی فوج کو دنیا کی ناقابل شکست قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک ایسی فوج جو ٹیکنالوجی، اسلحے اور تربیت میں بے مثال ہے۔ لیکن فلسطینی سرزمین پر جب حقیقت کھلتی ہے تو یہ تمام دعوے ریت کی دیوار کی طرح گر جاتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیلی فوج کی کمزوریاں نہ صرف نمایاں ہوتی ہیں بلکہ ان کی بزدلی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔

    یہ بات سب سے زیادہ اس وقت آشکار ہوئی جب ایک اکیلا فلسطینی فائٹر اسرائیلی فورس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ یہ نوجوان نہ کسی بکتر بند گاڑی پر سوار تھا، نہ ہی جدید ہتھیاروں سے لیس بلکہ ایک کلاشنکوف جو شاید AMD-65 ہے جو کہ ہنگری کی بنائی ہوئی AKM کی ہی ایک شکل ہے اور شاید ایک AGS-17 گرنیڈ لانچر ہے جو روسی تیار کردہ ہے اور گاڑی وغیرہ پر نصب ہوتا ہے۔ اس کے پاس صرف ایمان، غیرت اور عزم کا سرمایہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے پیدل دستے بار بار اس پر ٹوٹ پڑے، لیکن وہ انہیں ناکام بناتا رہا۔ آخرکار جب فوجی دستے بے بس ہو گئے تو انہوں نے ایک ڈرون کے ذریعے اسے نشانہ بنایا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ اسرائیلی فوج کو دو بدو مقابلے کا حوصلہ نہیں، وہ صرف فاصلے سے وار کر سکتی ہے۔

    اسی مزاحمت کی روح کو فلسطین کے عظیم شاعر محمود درویش نے اپنے کلام میں بیان کیا:
    «أُحِبُّكَ يا وَطَنِي فَإِنَّ مَسْمَعِي وَمَنْظَرِي
    لَوْلَا الدِّمَاءُ لَمَا تَمَّ الطَّهَارَةُ وَالجِدُّ»
    محمود درويش، قصيدة: على هذه الأرض ما يستحق الحياة
    یہی وہ خون ہے جو فلسطینی مزاحمت کی بنیاد ہے۔ اسرائیلی فوج صرف نہتے شہریوں کے خلاف طاقت دکھاتی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینی فضائی بمباری کا نشانہ بنتے ہیں، زمینی لڑائی میں نہیں۔ یہ اعداد و شمار خود ان کے خوف کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج براہِ راست لڑائی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔ اور فلسطینی مزاحمت کار بھی اکثر و بیشتر بلکہ 99 فیصد فضائی کارروائی میں ہی شہید ہوئے ہیں۔
    7 اکتوبر اس بزدلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جب اسرائیلی فوج چھ گھنٹے تک ردعمل نہ دے سکی۔ ان کی حکمتِ عملی محض فضائی حملوں پر مبنی تھی، اور جب زمین پر سامنا کرنا پڑا تو ان کے سپاہی لڑکھڑا گئے اور پسپا ہو گئے۔ طاقتور فوج کا یہ پروپیگنڈا محض ایک فریب ہے جو سرمایہ اور میڈیا کے زور پر دنیا کو دکھایا جاتا ہے۔
    اسی حقیقت کو محمود درویش نے غزہ کے بارے میں کچھ یوں کہا:
    «غَزَّةُ بَعِيدَةٌ عَنْ أَقَارِبِهَا وَقَرِيبَةٌ مِنْ أَعْدَائِهَا
    لِأَنَّهُ مَتَى تَفَجَّرَتْ غَزَّةُ صَارَتْ جَزِيرَةً وَلا تَكْفُّ الانْفِجَارَاتُ»
    — محمود درويش،
    ترجمہ: "غزہ اپنے رشتہ داروں سے دور مگر دشمنوں کے قریب ہے، کیونکہ جب غزہ پھٹتا ہے تو ایک ایسا جزیرہ بن جاتا ہےجس کے دھماکے تھمنے کا نام نہیں لیتے”

    یہ اشعار اس حقیقت کا عکس ہیں کہ فلسطین کی سرزمین پر جب بھی ایک دلیر مجاہد کھڑا ہوتا ہے، تو وہ پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے۔ اس اکیلے مجاہد کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک عہد ہے کہ مزاحمت کبھی ختم نہیں ہو گی۔
    وہ اکیلا مجاہد دراصل پوری قوم کی مزاحمت کا چہرہ ہے۔ اس نے دنیا کو بتا دیا کہ ٹیکنالوجی اور اسلحہ محض کھوکھلے دعوے ہیں، اصل طاقت ایمان، قربانی اور سچائی ہے۔ اسرائیلی فوج جب بھی کسی بہادر اور سچے حریف کا سامنا کرتی ہے تو اس کے مصنوعی دعوے اور پروپیگنڈا ریت کی طرح بکھر جاتے ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جو فلسطین کی ہر گلی، ہر بچہ اور ہر شہید دنیا کو سناتا ہے: ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت کی روشنی اسے آخرکار شکست دے کر رہتی ہے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کی سیاست کے افق پر ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ مشرق و مغرب کی صف بندیاں بدل رہی ہیں، طاقت کے مراکز نئی کروٹیں لے رہے ہیں، اور ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ محض الفاظ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک فولادی ڈھال، ایک روشن مینار اور ایک ایسا پیمان ہے جو دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہے۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے رشتے کوئی معمولی سفارتی تعلقات نہیں، یہ دو دلوں کی دھڑکن، دو روحوں کا امتزاج اور ایمان کی خوشبو میں بسا ہوا وہ تعلق ہے جس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے دن سے ہی لہلہانے لگیں۔ سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کر کے اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ہر کڑے امتحان میں ریاض نے اسلام آباد کا ہاتھ تھاما۔ چاہے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا خون آشام منظرنامہ ہو، یا 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں کا کڑا طوفان، سعودی عرب نے ہمیشہ بھائی بن کر ساتھ دیا ہے۔

    ادھر پاکستان نے بھی ہر لمحہ یہ ثابت کیا کہ حرمین شریفین کی حفاظت اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستانی سپاہی جب مکہ اور مدینہ کے ذکر پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں تو دنیا جان لیتی ہے کہ یہ تعلق سود و زیاں کا نہیں، بلکہ عقیدت ،محبت اور ایمان کا رشتہ ہے۔
    آج جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے عزائم بڑھ رہے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے پنجے گاڑنے کے لیے سرگرم ہیں، ایسے وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ایک تاریخ ساز اعلان ہے۔ یہ صرف عسکری معاہدہ نہیں، بلکہ پوری مسلم امہ کے اجتماعی دفاع کی صدا ہے، ایک ایسی صدا جس کے پیچھے کروڑوں دلوں کی دعائیں اور جذبے شامل ہیں۔
    پاکستان اپنی ناقابلِ تسخیر فوج، ایٹمی قوت اور بے مثال جنگی تجربات کے ساتھ سعودی عرب کے لیے فولاد کا بازو ہے۔ اور سعودی عرب اپنی تیل کی دولت، مالی طاقت اور عالمی اثرورسوخ کے ساتھ پاکستان کے لیے معاشی سہارا اور سفارتی پشت پناہ ہے۔ یہ دو بازو جب ملتے ہیں تو امتِ مسلمہ کا ایک فولادی حصار تشکیل پاتا ہے جسے توڑنا کسی طاقت کے بس میں نہیں۔
    قارئین! ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ (7 مئی تا 10 مئی) میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ صرف دفاع نہیں بلکہ جارح دشمن کو اس کی سرزمین پر جا کر جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی مہارت اور شجاعت سے بھارت کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کامیابی محض عسکری کارنامہ نہیں بلکہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان خطے کی ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔
    اس شاندار فتح کے پیچھے فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی حکمتِ عملی، جرآت مندانہ فیصلے اور آپریشنل ہم آہنگی کارفرما تھی۔ ان کی قیادت نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو ایک لڑی میں پرو دیا اور دشمن کی چالوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ یہی بصیرت سعودی عرب کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کے پس منظر میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
    یہ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ایران، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے کہ آئیں، امتِ مسلمہ ایک مشترکہ سلامتی کے پلیٹ فارم پر جمع ہو۔ اگر ہم نے اس اتحاد کو مضبوط کر لیا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں توڑ نہیں سکتی۔
    گزشتہ برسوں میں دنیا پاکستان کو صرف دہشت گردی کی لپیٹ میں گھرا ہوا اور معاشی بحرانوں کی دلدل میں پھنستا ہوا ملک کے طور پر دیکھتی تھی، مگر آج وہی دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ سب فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی متوازن قیادت کا ثمر ہے جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ صرف عسکری اتحاد نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کا عہد ہے۔ یہ اتحاد معیشت، سیاست اور ٹیکنالوجی میں بھی نئے دروازے کھولے گا۔ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیمی تبادلے امت کے رشتے کو مزید گہرا کریں گے، اور مشترکہ منصوبے دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ مسلم امہ صرف خواب دیکھنے والی قوم نہیں بلکہ خواب کو حقیقت بنانے کی قوت بھی رکھتی ہے۔

    آخر میں، میں اپنے قارئین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ دفاع صرف بارود اور توپ کے گولوں میں نہیں ہوتا۔ اصل دفاع اس اتحاد میں ہے جو دلوں کو جوڑ دے، قوموں کو قریب کر دے اور ایمان کی ڈور میں باندھ دے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ کرن اندھیروں کو چیر کر روشنی لاتی ہے، یہ کرن امت کو پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم ایک ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔
    یقین جانیے، آنے والے دنوں میں یہ اتحاد صرف خطے کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی اور عسکری نقشے کو بدل دے گاان شاء اللہ۔ پاکستان اور سعودی عرب — یہ دو بھائی دراصل ایک ہی بدن کی دو سانسیں ہیں، ایک ہی چراغ کی دو لوئیں ہیں، اور ان کا یہ دفاعی پیمان امتِ مسلمہ کے فولادی حصار کی ضمانت ہے۔

  • مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    دنیا میں بعض شخصیات ایسی بھی آتی ہیں، جن کی زندگی محض ایک فرد کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ اپنے وجود سے ایک عہد، ایک روحانی روشنی اور ایک فکری توازن کی علامت بن جاتی ہیں۔ایسی ہی جلیل القدر شخصیات میں سے ایک مفتی اعظم سعودی عرب، شیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل الشیخ رحمہ اللہ تھے۔آپ نے دین کی خدمت صرف منبر و محراب سے ہی نہیں کی، بلکہ قلم، تقریر اور تدریس کے ذریعے بھی دین اسلام کا پیغام عام کیا۔ ان کے فتاویٰ، خطبات اور بیانات آج بھی مدارس، جامعات اور مساجد میں زیر مطالعہ رہتے ہیں۔ ان کی علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ مشکل بات سادگی سے کہنے کا فن انہیں دیگر علما سے ممتاز کرتا تھا۔ان کی تحریروں اور تقاریر میں اعتدال، بصیرت اور حکمت کی جھلک نمایاں تھی۔ انہوں نے ہمیشہ امت کو افتراق کی بجائے اتحاد کی دعوت دی اور فقہی اختلافات کو ایک فکری وسعت سمجھا، نہ کہ نفرت یا تعصب کا ذریعہ۔

    شیخ عبد العزیز رحمہ اللہ 1943ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی یا انتہاٸی کم ہو گٸ تھی۔عام طور پر یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے لیکن انہوں نے اسے حکم ربی سمجھتے ہوئے قبول کیا اور علم دین کے حصول میں مصروف ہو گئے۔ اللہ تعالی نے انہیں روحانی بصیرت اور ایسا روشن دل و دماغ عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے علماء کے استاد بنے اور لاکھوں لوگوں کو دین کی روشنی سے منور کر دیا۔ان کے بارے ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب وہ 10 برس کے تھے،تو ایک بزرگ عالم دین نے ان کے قرآن مجید حفظ کرنے کے شوق کو دیکھ کر کہا مجھے لگ رہا ہے ”یہ لڑکا اگرچہ نابینا ہے مگر اللہ تعالی نے اس کے دل میں ایسا نور رکھا ہے، جو آنکھوں والوں کو بھی نصیب نہیں“۔

    شیخ رحمہ اللہ نہایت عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ وہ اپنے شاگردوں، مہمانوں، حتیٰ کہ خدام سے بھی محبت و نرمی سے پیش آتے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے فکر مند رہتے، ان کے والد اور دادا بھی دین کے خادمین میں شمار ہوتے تھے۔ جنہوں نے ان کی ابتدائی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا۔شیخ رحمہ اللہ نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سعودی عرب میں تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ خطبہ حج کا فریضہ کئی سالوں تک ان کے سپرد رہا، جسے وہ احسن طریقہ سے ادا کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں وقار، دلیل اور اخلاق کا امتزاج نمایاں ہوتا تھا، جو ہر سننے والے کوبہت متاثر کرتا۔وہ علم کو عبادت اور فتوی کو امانت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی رائے کو صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سنا جاتا تھا۔
    کہتے ہیں ایک مرتبہ ایک نوجوان نے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ شیخ نے اس کو دعا کے ساتھ مختصر جواب میں فرمایااللہ تعالی تمہیں دین کی خدمت کے لیے چنے گا، دل کو ہمیشہ صاف رکھنا۔ کئی سالوں بعد وہی نوجوان ایک معروف عالم دین بن کر ان کے قدموں میں آ بیٹھا اور کہنے لگاشیخ! آپ کی دعا اور تعبیر نے میری زندگی بدل دی ہے۔
    شیخ رحمہ اللہ انتہائی مصروف شخصیت ہونے کے باوجود نماز کو کبھی مؤخر نہیں کرتے تھے۔ ان کے خادموں کا کہنا ہے کہ وہ نماز کے لیے ہر حال میں فوراً کھڑے ہو جاتے، چاہے کتنی ہی اہم میٹنگ یا مہمان موجود ہوتے۔ان کی تلاوت قرآن اور قیام اللیل میں اتنی رقت ہوتی کہ بعض اوقات لوگوں کو ان کے رونے کی آواز مسجد کے باہر تک سنائی دیتی تھی۔

    شیخ رحمہ اللہ اتفاق و اتحاد کے عظیم داعی تھے۔موجودہ دور کی سب سے بڑی آزمائش فرقہ واریت، تعصب اور فکری انتشار ہے۔ ایسے میں انھوں نے ہمیشہ امت کو جوڑنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا”اختلاف رائے فطری ہے، لیکن دلوں کا فاصلہ شیطانی ہے“۔بین المذاہب مکالمہ ہو یا عالمی اسلامی کانفرنس، انہوں نے ہمیشہ عدل، رواداری اور توحید کو مرکز خطاب بنایا۔

    شیخ رحمہ اللہ کے آخری ایام سادگی، عبادت اور خاموشی میں گزرے۔ ان کی صحت کچھ عرصے سے ناساز تھی، مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ آیا۔23 ستمبر 2025ء کو سعودی عرب ریاض شہر میں ان کا انتقال ہوا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی نماز جنازہ مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دنیا بھر کی بڑی مساجد میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اثر و رسوخ صرف ایک ملک تک محدود نہ تھا۔

    شیخ عبد العزیز آل الشیخ رحمہ اللہ کی وفات بلاشبہ ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔وہ چلے گئے، مگر ان کا فہم باقی ہے۔وہ خاموش ہو گئے، مگر ان کی آواز باقی ہے۔وہ مٹی میں جا سوئے، مگر دلوں میں زندہ ہیں،جو ہمیشہ ان کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی حسنات و خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوۓ علمی ورثہ کو امت کے لیے فاٸدہ مند بنا دے۔آمین یارب العالمین

  • سعودی عرب کا قومی دن  ہرچمِ اسلام کی سربلندی کا دن ،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی عرب کا قومی دن ہرچمِ اسلام کی سربلندی کا دن ،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اے اہلِ ایمان! آج کا دن صرف ایک قومی جشن نہیں، بلکہ یہ وہ لمحہ فخرو افتخار ہے جب امتِ مسلمہ نے ایک نئی صبح دیکھی وہ صبح جس کے پہلے چراغِ سفر کو شاہِ صالح، شیرِ صحرا، شاہ عبدالعزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے روشن کیا۔ یہ سرزمین صرف ریت اور چٹانیں نہیں، یہاں ہر ذرے میں کعبہ کی خوشبو، ہر نسیم میں اذان کی صدا بسی ہوئی ہے۔ اس لیے مملکتِ سعودی عرب کا قومی دن دراصل ہر مسلمان کے دل کا دن ہے؛ یہ دن ہے توحید کی دعوت، خدمتِ حرمین کی قسم اور امتِ مسلمہ کی تجدیدِ عہد کا۔
    1902ء جسے تاریخ میں ایک سنہری سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اسی سال شاہ عبدالعزیز نے ریاض کو فتح کر کے نہ صرف ایک شہر بلکہ ایک قوم کو بیدار کیا۔ اس فتح میں جذبہ و حوصلہ اور ولولہ تھا، مگر اس سے زیادہ ایمان کی روشنی اور حرارت تھی ۔ایک بصیرت جس نے خانہ بدوش قبیلوں کو ایک امت میں ڈھالا۔ صحرا کے شیر اور مرد ِ صالح شاہ عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں نجد، الاحساء ، قطیف، مکہ و مدینہ سمیت دیگر علاقوں کو ایک پرچم تلے لا کر جدید سعودی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب شاہ عبدالعزیز نے انقلابِ تعمیر کے ساتھ ساتھ دلوں کی تعمیر بھی کی قرآن و سنت کو عوامی زندگی کا مرکز بنایا اور امتِ مسلمہ کے لئے اتحاد و اشتراک کے دروازے کھولے۔
    شاہ عبدالعزیز نے جب اسلامی دنیا کے بڑے رہنماؤں کو 13 تا 19 مئی 1926ء میں اپنے ہاں مدعو کیا تو انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ ریاست کا سفر سیاسی یا سیاحتی نہیں بلکہ روحانی و فکری سفر ہوگا۔شاہ عبدالعزیزکی دعوت پر بلائی گئی اس کانفرنس میں ہندوستان سمیت دور دراز کے علما و رہنما شریک ہوئے، جس میں بر صغیر کے جید علمائے اہلحدیث سمیت مولانا محمد علی جوہر جیسی عظمتیں بھی موجود تھیں۔ یہ اجتماع امتِ مسلمہ کے لیے ایک تاریخی نقطۂ عروج تھا ایک صدائے اتحاد جو آج بھی صحرا کی ہوا میں گونجتی محسوس ہوتی ہے۔
    صحرا کے شیر اور مرد ِ صالح شاہ عبدالعزیز نے صرف زمینیں ہی فتح نہیں کیں، بلکہ برائیوں کو بھی جڑ سے اکھاڑنے کی جدوجہد کی۔ انہوں نے شراب و بدعنوانی کے مراکز کو ختم کیا، لوٹ مار اور جرائم وڈاکہ زنی کے خلاف سخت اقدام کیے اور خاص طور پر تعلیم کی بنیاد رکھی۔ 1944ء میں مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی جامعہ اسلامیہ نے علومِ اسلامیہ کے فروغ کو نئی جہت دی ایسی جامعہ جس میں عالم اسلام کے طلبہ مفت وظیفوں اور رہائش کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں۔ یہ یونیورسٹی نہ صرف علم کا گہوارہ بنی بلکہ امت کی فکری قوت کا سرچشمہ بھی ہے ۔اس وقت دنیا بھر میں یہ علوم اسلامیہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جس میں پوری دنیا سے تشنگان علوم دینیہ آتے اور علوم سے سیراب اور آراستہ ہوکر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ یونیورسٹی اسلام کے غلبہ واحیاء کی ایک عالمی تحریک ہے ۔
    صحرا کے نیچے تیل کی صورت میں موجود چمکتی نعمت نے سعودی معاشرہ کو بدل ڈالا تیل کی دریافت نے ملک کی تقدیر بدل دی۔ جس معاشی ڈھانچے کا دارومدار کبھی حاجیوں پر عائد ٹیکس تک محدود تھا، وہ جلد ہی عظیم اقتصادی قوت بن گیا۔ تیل کی آمدنی نے نہ صرف انفراسٹرکچر، سڑکیں، پل اور ریلوے لائنیں ممکن بنائیں بلکہ حرمین شریفین کی توسیع، مذہبی و تعلیمی اداروں کی تعمیر اور عالم اسلام میں انسانی خدمات کے پھیلائو کے لیے بے پناہ وسائل فراہم کیے۔ شاہ عبدالعزیز نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک ان وسائل کو عوامی فلاح وبہبود ، حرمین کی خدمت اور قرآن و سنت کی نشر و اشاعت پر خرچ کیا یہی وہ روح ہے جو آج بھی سعودی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
    شاہ عبدالعزیز کے بعد آنے والے سعودی حکمرانوں نے اسی روش کو آگے بڑھایا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جدیدیت اور روایات کے درمیان ایک نادر توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی پر عظیم منصوبے شروع کیے۔ امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کی شاخوں کو ملک کے ہر شہر تک پھیلانے جیسے اقدامات نے علمی فروغ کو تیز کیا۔ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے بے شمار اسکالرشپس، ضرورت مند شہریوں کے لیے گھروں کا انتظام اور طبی سہولیات تک رسائی یہ سب اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جو عوام کے دل جیت رہی ہے۔
    مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع، زمین دوز راستے، سہولیاتِ طواف اور حجاج و عوام کے لیے جدید انتظامات یہ سب اسی عقیدت ومحبت کی عملی تصویریں ہیں جو سعودی حکمرانوں نے قائم کی ہیں ۔ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کیلئے ’’ کنگ فہد ہولی قرآن کمپلیکس ‘‘ اور حدیث پرنٹنگ کمپلیکس جیسی کوششیں دنیا بھر میں قرآن و حدیث کی عام دستیابی کو یقینی بناتی ہیں۔ علم کی یہ دولت جب دنیا کے کونے کونے تک پہنچتی ہے تو یہ مملکت کا حقیقی عہد بنتی ہے ۔ اس سے غیر مسلموں کو اسلام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہیں ۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات تاریخ میں محبت و اعتماد کی مثال ہیں۔ 1951ء کا پہلا باہمی معاہدہ، شاہ فیصل کا پاکستان دورہ، اور شاہ فیصل مسجد کا قیام تعلقات کی قدر و منزلت کے عکاس ہیں۔ 1965ء کی جنگ، 1973ء کے سیلاب یا بعد کے زلزلوں میں سعودی امداد نے ہمیشہ پاکستانی عوام کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں ۔ حالیہ سیلاب کے دوران بھی سعودی امدادی سرگرمیوں اور دس لاکھ ڈالر سے زائد کی فوری مدد نے ثابت کیا کہ سعودی عرب نہ صرف جغرافیائی طور پر برادر ہے بلکہ دل و دماغ سے بھی ہمارا حامی ہے۔
    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جہاں سعودی معاشرے کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا، وہیں فلسطین، یمن اور شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کو اولین ترجیح دی ہے ۔ خاص کر اس وقت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے یہ معاہدہ دراصل امت مسلمہ کے دل کی آواز ہے ۔ اب مسلمان قیادت کا امتحان یہ ہے کہ اس کی قوت صرف داخلی ترقی کے لیے نہ ہو بلکہ عالم اسلام کی فلاح و بہبود کیلئے بھی صرف ہو ۔یہی نقطہ اس قوت کا محور ہو ۔اور یہی جذبہ ہم نے سعودی حکمرانوں میں دیکھا ہے۔
    اے میرے بھائیو! سعودی عرب کا قومی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایمان، تعمیر اور خدمت کی جو روشنی ہوا کرتی ہے، وہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔ یہ روشنی امتِ مسلمہ کے دلوں کو روشن کرتی ہے۔ شاہ عبدالعزیز کی بصیرت، شاہوں کی تسلسلِ خدمت، حرمین کی نگہبانی اور پاکستان جیسے بھائی ملکوں کے ساتھ خلوصِ تعلق نے سعودی عرب کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کا روشن منارہ بنا دیا ہے۔
    آؤ! ہم سب مل کر اس عظیم دن کو خراجِ عقیدت پیش کریں، اور یہ عہد کریں کہ حرمین کی خدمت، امت کی وحدت اور علم و عمل کی ترویج کے اس مقصد کو جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زبانوں اور اعمال سے اس بھائی چارے کو مضبوط رکھیں۔ سعودی بھائیوں کی خوشیوں میں ہمارا دل بھی برابر دھڑکے، اور جب وہ سربلند ہے تو سراپاِ امتِ اسلام بھی فخر محسوس کرتی ہے۔اللہ پاک سعودی عرب کو ترقی و استحکام عطا فرمائے، حرمین کی حفاظت ہو، اور امت مسلمہ کو وہ عزت و عظمت نصیب ہو جس کی وہ حقدار ہے۔ آمین۔

  • میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    گدائے درِ پنجتن پاک علیہم السلام
    sadiaambergilani@gmail.com

    غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم
    نہایت اس کی حُسینؑ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

    روز ء اول سے حق کی سربلندی کے لئیے اللہ رب العزت کے فرمانبردار و برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کے ہر حکم کی تعمیل کرتے رہے ہیں۔ ماہِ محرم الحرام نواسہِ رسول اللہﷺ، جگر گوشہ علیؑ و بتولؑ، برادرِحضرت حسن المجتبیؑ،رکنِ اصحابِ کساءؑ،سید الشہداءؑ، سردارؑ ِ جنت، ریحانۃ النّبیؐ، پیکر ِ صبر و رضا، مثلِ عشق و وفا، سفیر ِ حق، شہنشاہِؑ کربلا سیدنا حضرت حسین ابن علی ؑ سے منسوب ہے۔ اس ماہ کے اوائل ایام سے یومِ عاشور کی شام ڈھلنے تک نبیِ آخر الزمان رحمت اللعالمین ﷺ کے پیارے نواسے امام ء عالی مقام مولا حسین ابن علی علیہ السلام نے دین ء حق کی سر بلندی کے لئیے اپنے صبر و استقامت اور شجاعت سے وہ مثال قائم کی ۔ کہ جو تاقیامت انسانیت کے لئیے ایک مشعل ء راہ بن گئی۔

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علیؑ کی ولادت باسعادت روایات کے مطابق 3 شعبان المعظم 4ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ چمنِ زہراؑ و علیؑ کے دوسرے پھولؑ ہیں۔ آقا سرورِ کائنات ﷺ نے آپؑ کی ولادت باسعادت پہ تشریف لائے، خوشی کا اظہار فرمایا اور داھنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنیؐ زبان مبارک منہ میں دی۔اس طرح رسول اللہﷺ کا مقدس لعاب دھن حسین ؑ کی غذا بنا۔ رسول اللہﷺ بحکمِ ربی نام حسینؑ رکھا۔ اور ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔آپؑ کی کنیت ابا عبداللہ اور لقب سید الشہداءؑ ٹھہرا۔

    حضور سرور ء کائناتﷺ دونوں شہزادوں حسنین کریمیں علیھم السلام سے بے حد محبت فرماتے اور ان سے محبت رکھنے کا حکم رکھنے کا حکم بھی فرماتے۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا؛
    ’’جس نے حسنؑ اور حسینؑ سےمحبت کی ، اس نے مجھؐ سے محبت کی اور جس نے ان سے بعض رکھا اس نے مجھؐ سے بغض رکھا۔
    (سُنن ابن ماجہ :143)

    ترجمہ؛ ”حسنؑ اور حسینؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“۔( جامع الترمزی)

    حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین ؑ کی طرف دیکھ کر فرمایا:”اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔“
    (ترمذی، الجامع الصحیح، 5: 661، ابواب المناقب، رقم: 3782)

    یہ حسنین کریمین علیھم السلام سے محبتِ آقاِ دو جہاں ﷺ ہے۔ کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ سجدہ طویل فرماتے ہیں۔ کہیں اپنے کندھوں مبارک پہ سوار فرماتے ہیں۔ اور کہیں انؑ کے لیے خطبہ روک کے منبر سے تشریف لاتے ہیں۔اور آغوشِ نبوتﷺ میں لے لیتے ہیں۔
    سید الشہداء ؑمولا امام حسین علیہ السلام سے رسول اللہﷺ کی محبت اس فرمان ء عالیشان سے ظاہر ہے۔ فرمایا؛
    ترجمہ:”حسینؑ مجھؐ سے ہے اور میں ؐ حسینؑ سے ہوں، جو حسینؑ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے، حسینؑ میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے۔“(سنن الترمذی، ابواب المناقب، (5/ 658 و659) برقم (3775)، ط/ شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی الحلبی مصر)

    روایات سے ثابت ہے کہ رسولِ خداﷺ نے سیدنا حضرت حسینؑ کی شہادت کی خبر آپؑ کے بچپن میں ہی سنا دی تھی۔ اور غم کا اظہار فرمایا۔ ایک روایت کے مطابق ہے ۔
    عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ابوعبداللہ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے؟ فرمایا: میں ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ! کیا کسی نے آپؐ کو غصہ دلایا، خیر تو ہے کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؟ فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیلؑ اٹھ کر گئے ہیں، وہؑ کہہ رہے تھے کہ حسینؑ کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا، پھر انہوںؑ نے مجھؐ سے کہا کہ اگر آپؐ چاہیں تو میں آپؐ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں؟ میںؐ نے انہیںؑ اثبات میں جواب دیا، تو انہوںؑ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھؐے دے دی، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھےؐ قابو نہیں ہے۔ 
    (مسند احمد: 648)

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پہ نظر ڈالیں۔تو آپؑ نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہﷺ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت مولاعلیؑؑ اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن المجتبیؑ کے ساتھ گزارا۔ آپؑ اصحابِ کساء(ع) میں شامل ہیں۔ اور اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ میں بھی حاضر تھے۔ جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان میں شرکت فرمائی اور حق کا ساتھ دیا۔

    احادیث و روایات سے ثابت ہے ۔ کہ سید الشہداء سیدنا حسینؑ سیرت و صورت میں اپنے نانا جان سرور ء کائنات رسول خداﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔اور جو بھی آپؑ کو دیکھتا اسے رسول خداﷺ یاد آجاتے ۔
    امامِ عالی سیدنا حسینؑ حَلِیمُ الطَّبْع تھے۔ غلاموں سے درگز فرماتے۔ اور ان کو آزاد فرماتے۔ آپؑ ایک نہایت شجاع، عادل، بلند کردار اور پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے۔
    سیدنا حضرت حسینؑ نے فرمایا؛
    "کوئی ایسی بات زبان پر مت لاؤ۔ جو تمہاری قدر و قیمت کو کم کر دے۔”
    (جلاء العیون جلد 2 صفحہ 205)

    امامِ شہداء سیدنا امام حسینؑ کی عظیم شخصیت کی مبارک خصوصیات میں سے ایک روشن خوبی ظلم کو قبول نہ کرنا تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ نواسہِ رسول اللہﷺ نے یزید(لعین) کے ظلم و ناانصافی کو تسلیم کرنے سے صاف انکار فرمایا اور علمِ حق بلند فرمایا۔ آپؑ نے راہِ خدا میں اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنا گھر بار لٹا کے دین حق کی آبیاری فرمائی۔
    واقعہِ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ،ایک درس اور ایک عظیم مقصد کارفرما ہے۔ اور اس میں شخصیت و کردارِ سیدنا امام حسینؑ ایک مکمل درس گاہ نظر آتی ہے۔ واقعہِ کربلا کو سمجھنے کے لیے فلسفہِ حضرت حسینؑ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/ 680 ء میں یزید(لعین) نے اسلامی اقدار اور دین کے احکامات کے منافی ظلم، جبر و استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا اور بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ مدینہ میں بیعت کے لئے سیدنا حسینؑ ابن علی ؑ کو مجبور کیا۔ اور اس سلسلہ میں امامِ عالی مقامؑ پہ سختی کرنے کا حکم جاری کیا۔ سیدنا حسینؑ سے بیعت لینا یزید کی مجبوری تھی۔ کیونکہ امت کی نگاہوں کا مرکز نواسہِ رسول اللہﷺ تھے۔ ظلم و بربریت کے خوف سے اہلِ مدینہ تو خاموش ہو سکتے تھے۔ مگر نواسہ ِ رسول اللہﷺ، ابنِ فاتؑحِ خیبر، سیدنا حسینؑ ابنِ علیؑ کہ جو حق گوئی و حق پرستی کے سائے میں جوان ہوئے ہوں ، جنؑ کی پرورش ہی آغوشِ نبوتﷺ میں ہوئی ہو۔ جنؑ کے سامنے اپنے نانا جان ﷺ کا واضح حکم موجود ہو،
    ترجمہ:”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہء حق کہنا ہے۔“ (ترمذی،أبو داود وابن ماجہٌ)
    جن پر اُس وقت دین خدا کو بچانے کی ذمہ داری عائد ہو رہی ہو، جن پر اُمت کی نگائیں ٹھہری ہوئی ہوں۔خاموش رہ کر ایک بے دین شخص کی بیعت کیسے فرما سکتے تھے۔
    سو سالار ِ شہداءؑ نے اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے حکم پہ عمل فرماتے ہوئے علمِ حق بلند فرمایا اور28 رجب 60ھ کو مدینہ سے مکہ اور پھر 8 ذوالحج 60ھ کو حالات کے تیور دیکھتے ہوئے حرمتِ کعبہ کو بچانے کی خاطر حج کو عمرے میں تبدیل کیا۔ اور مکہ سے کربلا کی طرف سفر فرمایا۔ کہ آپؑ احراموں میں تلواریں چھپائے یزید (لعین) کے بھیجے ہوئے قاتلوں اور ان کے ارادوں کو جان چکے تھے۔ خانوادہِ رسول اللہﷺ سمیت 72 نفوس اکرامؑ نے دینِ حق کی سر بلندی کے لئے قیام فرمایا۔
    شہنشاہِ کربلا سیدنا حسینؑ نے حر بن یزید ریاحی اور اس کے لشکر کے سامنے اپنے خطبے میں فرمایا۔
    "لوگ دنیا کے غلام ہیں ۔ اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے ۔ جب تک دین کے ساتھ ان کا مفاد وابستہ ہے۔ وہ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ اور جب آزمائش کا وقت آتا ہے۔ تو دین دار تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ ”
    (تحف العقول جلد 1 صفحہ 245, تاریخ الطبری جلد 4 صفحہ 300، بحار الأنوار جلد 78 صفحہ 117)

    2 محرم سنہ 61 ھ کو آپؑ اپنے اہل بیتؑ کیساتھ کربلا معلی تشریف فرما ہوئے۔معلوم فرمایا کہ اس جگہ کا کیا نام ہے۔ کربلا معلوم ہونے پر سید الشہداءؑ نے اس جگہ کو خریدا اور یہیں قیام کا فیصلہ فرمایا۔

    اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
    ترجمہ: ”اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔“(153)
    واقعہِ کربلا میں یوم عاشور کی اذانِ شبیہ پیغمبرؑ علیؑ اکبر بن حسینؑ بتاتی ہے۔ کہ اہل بیتؑ اور قرآن ساتھ ساتھ تھے۔ چھ ماہ کے شیر خوار شہید شہزادہ علی اصغرؑ بن حسینؑ سے لے کر 85 سالہ ضعیف صحابیِ رسولؐ حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدیؓ تک،ہر ایک کی قربانی بے مثال و لازوال نظر آتی ہے۔ اگر اہلِ بیت اطہارؑ کی بیبیوں ؑ کا ذکر ہو۔ تو سیدہ زینبؑ بنت علیؑ سے لے معصوم بچی شہزادی سکینہ بنت حسینؑ تک ہر ایک صبر و ہمت کا پیکر تھیں۔

    کربلا دینِ حق کی سربلندی کے لئیے صبر و رضا اور ایثار و شجاعت کی ایک ایسی عظیم و لازوال داستان ہے۔ جہاں ہر کردار سخاوت و جرات میں ایک انمول مثال ہے۔ روایات کے مطابق واقعہِ کربلا میں سیدنا حسینؑ کے چار بھائی جناب حضرت عباسؓ بن علیؑ علمدار ِکربلا، حضرت جعفرؓ بن علیؑ، حضرت عبداللؓہ بن علیؑ اور حضرت عثمانؓ بن علیؑ جو کہ مولا علی المرتضی علیہ السلام اور بی بی جناب ام البنینؓ کے بیٹؓے تھے شہید ہوئے۔ شبیہ پیغمبر روایات کے مطابق مولا امام حسن علیہ السلام کے 4 شہزادےؑ اپنے چچا جان امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ کے ساتھ شریک ِجہاد تھے ۔ جن میں سے تین جناب سیدنا ابوبکرؑ بن حسنؑ، سیدنا قاسمؑ بن حسنؑ، سیدنا عبداللہؑ بن حسنؑ کربلا میں شہید ہوئے۔ اور ایک جناب سیدنا حسنؑ مثنی بن حسنؑ شیدید زخمی اور پھر قید ہوئے ۔

    10 محرم 61ھ/ 680ء یوم عاشور،وہ خون ریز و قیامت خیز دن جو اہل بیت رسول اللہﷺ پہ گزر گیا۔ وہی اہل بیتؑ کہ جوؑ شاملِ درود ہیں۔ جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے امت کو خدا کا خوف دلایا تھا۔ انؑہی کو پیاسا شہید کر دیا گیا۔ خُونِ عترتِ رحمۃ للعالمینﷺ تپتے ریگزار میں بہایا گیا۔ جنؑ کو رسول اللہﷺ چومتے، سونگھتے اور سینہِ اقدس سے لگاتے تھے۔ انہیںؑ سردارِؑ جنت ، نواسہ رسول اللہﷺ ، جگر گوشہِ بتولؑ سیدنا حسین ابن علی ؑ کے گلے پہ خنجر چلایا گیا۔ رسول اللہﷺ کے کندھوں کے سوارؑ کے لاشے پہ گھوڑے دوڑائے گئے۔باپردہ بییبوں ؑ پہ شام غریباں طاری کر دی گئی۔ انؑ کے خیمے جلائے گئے۔ اسیر بنایا گیا۔ بازاروں سے گزارا گیا۔ دربار میں کھڑا گیا کیا گیا۔ قید و بند کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔۔۔ امت کے رونے کے لئیے تو یہی کافی ہے۔ کہ نواسہ رسول اللہﷺ جن کے گھر سے پردے کی ابتدا ہوئی تھی۔ انہیؑ کو ایک شرابی کے دربار میں بحیثیت قیدی کھڑا ہونا پڑا۔
    امت پہ رونا فرض ہے۔ کہ اس دن انؐ پیغمبر رحمت اللعالمینﷺکے گھرانے کو شہید کیا گیا۔ جنہوںؑ نے امت کو کلمہ پڑھنا اور امت بننا سیکھایا۔

    شہادتِ امامِ شہداءؑ پہ غم کرنا سنت رسول اللہﷺ ہے۔ جو واقعہ کربلا سے پہلے بھی ثابت ہے۔ اور بعد میں بھی۔ شہادتِ امامِ عالی مقام وہ غم ہے۔ کہ جس پہ کائنات کی ہر شے اور جن و انس نے اشک بہائے۔
    طبرانی میں درج ہے۔ کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں۔ کہ میں نے حضرت حسین بن علی علیہ السلام پر جنوں کو نوحہ کرتے ہوئے سنا۔

    واقعہِ کربلا انسانی تاریخ کا وہ خونی باب ہے۔ کہ جس پہ تاقیامت نسلِ انسانی آنسو بہاتی رہے گی۔

    حق و باطل کی جنگ شروع سے اور آخر تک رہے گی۔ مگر واقعہِ کربلا سے ہمیں حسینیت کا درس ملتا ہے۔ کہ "امر باالمعروف اور نہی المنکر” کے نفاذ کے لئیے ظالم کے لشکر کے سامنے 72 بھی نکلیں۔ تو کافی ثابت ہوتے ہیں۔

    امام حسینؑ نے انسان میں حق کے لئیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی سوچ کو بیدار فرمایا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے۔ کہ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ نے دامنِ رضائے خداوندی نہ چھوڑا اور نہ ہی ظالم و جابر کے ظلم و جبر کو تسلیم کیا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آج ہر باضمیر خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ سیدنا حسین ابنِ علیؑ کو اپنا رہنما مانتا ہے۔ حسنیت کل بھی ژندہ تھی۔ اور تاقیامت ژندہ رہے گی۔
    لاکھوں کروڑوں سلام ہو حق پرستوں کے بادشاہ سیدنا حسینؑ ابن علیؑ اور آپؑ کے جانثار ساتھیوںؓ پہ۔؎
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی

  • امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد وہ خواب ہے جس کی تعبیر آج تک حاصل نہ ہو سکی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان، جو کبھی "امت واحدہ” کا عملی نمونہ تھے، آج انتشار اور تفریق کا شکار ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود وہ عالمی سطح پر اپنی طاقت اور وقار کھو بیٹھے ہیں۔

    فرقہ واریت امت مسلمہ کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ اسلامی ممالک مختلف فرقوں اور مسالک کے تضادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ شیعہ سنی اختلافات ہوں یا دیگر فقہی تنازعات، یہ تنازعات صرف مساجد اور مدارس تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاست، معیشت، اور سماجی تعلقات میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ ان اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی طاقتوں نے اسلامی دنیا کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔

    علاقائی سیاست اور خودغرضی بھی اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر، افریقہ کے معدنی وسائل، اور ایشیا کے اسٹریٹجک محل وقوع نے اسلامی دنیا کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک میدان جنگ بنا دیا ہے۔ اسلامی ممالک کے رہنما اپنی کرسی اور اقتدار کو بچانے کے لیے بیرونی طاقتوں کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں۔ وہ امت کے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تعلیم اور قیادت کی کمی نے مسلمانوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امت مسلمہ نے اپنی علمی وراثت کو فراموش کر دیا ہے۔ جدید تعلیم اور تحقیق میں پیچھے رہ جانے کے باعث مسلمان نہ تو عالمی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مسائل کو حل کر پاتے ہیں۔ آج اسلامی دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت، تعصب، اور خودغرضی سے بالاتر ہو کر امت کے مشترکہ مفادات کے لیے کام کرے۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
    (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔)
    یہ وہ اصول ہے جو امت کو زوال سے نکال سکتا ہے۔ لیکن اس اصول پر عمل کرنے کے لیے قربانی، ایثار اور خلوصِ نیت کی ضرورت ہے۔

    امت مسلمہ کا اتحاد ممکن ہے، لیکن اس کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان اپنی ترجیحات کو درست نہیں کرتے، فرقہ واریت اور تعصب کو ختم نہیں کرتے، اور عالمی سیاست میں اپنی حیثیت کو مضبوط نہیں کرتے، اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ وقت ہے کہ امت مسلمہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے، ان سے سبق لے، اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرے۔

    یہ چیلنج مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ امت مسلمہ کا اتحاد صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے، جو اگر حاصل ہو جائے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

  • وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    دنیا میں قوموں کی شناخت ان کے اصولوں اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ایک امت کی شکل میں جینے کا درس دیا، اور یہی اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قرآن کہتا ہے:
    "تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی میں نہ پڑو۔”
    مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ اس رسی کو چھوڑ چکی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہماری طاقت منتشر ہو گئی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے، دنیا ان کے قدموں میں جھکتی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے نہ صرف دنیا کو بہترین عدل و انصاف دیا بلکہ علم، حکمت، اور ثقافت کا چراغ بھی روشن کیا۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال ہماری وحدت کے خاتمے کی داستان سناتا ہے، اور آج کی حالت تو یہ ہے کہ ہم قوموں کی صف میں اپنے وقار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    ہماری وحدت کا خاتمہ کیسے ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی اجتماعی ناکامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وطن پرستی نے ہمیں ایک قوم کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اپنی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور اس محدود سوچ نے امت کے تصور کو دھندلا کر دیا ہے۔

    اقبال نے اسی حقیقت کو بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا تھا:
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ ملت کا کفن ہے

    وطن سے محبت فطری ہے، اور اسلام اسے روکتا بھی نہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ محبت ہماری اصل شناخت، یعنی امت مسلمہ، پر غالب آ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک تھے۔ آج ہم ان حدود کے قیدی بن چکے ہیں جو ہم نے خود کھینچی ہیں۔

    ہماری سیاسی قیادت، جو امت کی رہنمائی کی ذمہ دار تھی، اب خود مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمارے اندرونی اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، اور دوسری طرف بیرونی طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں، کیونکہ ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

    اقبال نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایک امت ہونا ہے:
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

    اب سوال یہ ہے کہ اس زوال کا علاج کیا ہے؟ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دے سکتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار ہونے کا مطلب صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں ایک امت بن کر جینے کا درس دیتا ہے؟ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ مدارس اور جامعات میں ایسا نصاب متعارف کرائیں جو امت کے تصور کو زندہ کرے۔ علماء اپنے خطبوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا درس دیں۔ میڈیا، جو آج زیادہ تر نفرت کے بیج بوتا ہے، اسے ایک مثبت پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم کرے کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اس کا کردار اسی وحدت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آج بھی ہم اپنی سمت درست کر لیں اور اللہ کی رسی کو تھام لیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ امت ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی دیواریں گرا دیں اور ایک جسم بن جائیں، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
    "مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔”

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں اور ان نظریاتی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ تب ہی ہم اس امت کی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

  • فلسطین: ڈیڑھ برس کی داستانِ کرب ، انسانیت پر حملہ،تحریر:نور فاطمہ

    فلسطین: ڈیڑھ برس کی داستانِ کرب ، انسانیت پر حملہ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹا سا علاقہ فلسطین آج ایک ایسے کرب سے گزر رہا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں 12 ہزار سے زائد اجتماعی قتل عام، 51 ہزار سے زائد معصوم جانوں کا ضیاع، جن میں 18 ہزار سے زائد بچے اور 12 ہزار سے زیادہ خواتین شامل ہیں یہ اعدادوشمار نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر پر پڑنے والے زخم ہیں۔یہ صرف چند سرخیاں نہیں، یہ ہر اس شخص کی چیخ ہے جو ظلم کا نشانہ بنا۔ یہ صرف فلسطینیوں کی آزمائش نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا امتحان ہے۔ یہ ظلم صرف غزہ پر نہیں، انسانیت پر حملہ ہے۔

    فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کوئی حادثاتی جنگ نہیں بلکہ ایک منظم نسل کشی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں پوری کی پوری نسلیں صفحہ ہستی سے مٹادی گئیں۔20 لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔طبی عملہ، صحافی، طلبا، سیکیورٹی اہلکار اور شہری دفاع کے کارکنان کو بھی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ وہ اقدامات ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ مگر افسوس، عالمی برادری کی خاموشی اس ظلم کی سب سے بڑی پشت پناہی بن چکی ہے۔غزہ کی گلیاں آج بھی شہداء کے خون سے تر ہیں، مائیں اپنے بچوں کو ملبے تلے سے نکال رہی ہیں، بچے اپنے والدین کی لاشیں تھامے بیٹھے ہیں، اور نوجوان اپنی برباد بستیوں میں امید کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔

    ہم فلسطینیوں کے جذبہ قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کے بدلے عزت و وقار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں حضرت حسینؑ کی کربلا یاد دلاتی ہے، کم تعداد، بے سروسامانی، مگر سچائی کے لیے سر کٹانے کا حوصلہ،لیکن سوال یہ ہے کہ …ہم کہاں کھڑے ہیں؟آج سوال فلسطین کا نہیں، سوال ہمارے ایمان، ہماری غیرت اور ہمارے ضمیر کا ہے۔ کیا ہم صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے دعاؤں، مالی امداد، شعور و آگہی پھیلانے اور آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں؟ہمیں یاد رکھنا ہوگا
    "جو ظلم کے خلاف خاموش رہے، وہ بھی ظالم کے ساتھ کھڑا ہے۔”

    ہم اپنے فلسطینی بھائیوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ہم تمہاری قربانیوں کو ضائع نہیں جانے دیں گے۔ہم ہر ممکن پلیٹ فارم پر تمہارے لیے آواز اٹھائیں گے۔ہم دنیا کو بتائیں گے کہ فلسطین کی جنگ، انسانیت کی جنگ ہے۔یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، یہ وقت دنیا کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا ہے۔ ہمیں ان طاقتوں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اس بربریت کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ ہمیں عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اس نسل کشی کو روکے اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دلوائے۔فلسطین کی سرزمین لہو رنگ ہے، وہاں کی فضائیں سسکیوں سے بھری ہوئی ہیں، لیکن وہاں کے لوگوں کا حوصلہ بلند ہے۔ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یقیناً ایک دن فتح ان کا مقدر بنے گی۔ ہم دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب فلسطین آزاد ہو اور وہاں امن و امان قائم ہو۔آئیے مل کر دعا کریں، آئیے مل کر آواز اٹھائیں، آئیے مل کر ان مظلوموں کا ساتھ دیں، یہی انسانیت کا تقاضا ہے۔

  • آخر کب۔۔؟ تحریر :عائشہ اسحاق

    آخر کب۔۔؟ تحریر :عائشہ اسحاق

    اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی وحشت ناک بمباری سے ہونے والی تباہی سے انسانیت کا جذبہ رکھنے والے غیر مسلم بھی سراپا احتجاج ہیں مگر خاموش ہیں تو صرف مسلم ممالک کے حکمران اور افواج جو انتہائی قابل ہیں،امت مسلمہ اور ایٹمی پاکستان کے حکمران عوام کو جوابدہ ہیں کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی فلسطینی مظلوم بہن بھائیوں کی مدد کیوں نہ کی گئی غزہ جل گیا رفحہ جل گیا مگر امت مسلمہ کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی جا رحیت کے خلاف ایک دھمکی آمیز ٹویٹ تک بھی نہ آیا ،یہ وہی خاموشی ہے جس کے متعلق قران کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا” اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں عورتوں اور بچوں کی مدد کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنی طرف سے کوئی حمایتی عطا فرما اور ہمیں اپنی طرف سے مددگار عطا فرما ( سورۃ نساء 75) .اور آج بھی فلسطین کے مظلوم پکار رہے ہیں یہ بات ناقابل فراموش ہے کہ 57 ممالک کی خاموشی ایک طرف اور پاکستان ایک طرف ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اہل غزہ کی مدد کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی جا رہی ہے.

    یوں تو اسرائیلی جارحیت گزشتہ 80 برس سے جاری ہے مگر گزشتہ 18 ماہ سے تباہی دیکھنے میں جو آرہی ہے ان کا بیان کرنا مشکل ہے جن میں سے ایک ایسی ہی رات جس کی ہولناکی الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی، محض ایک رات میں 100 سے زائد بچے شہید کر دیے گئے ایسے بچے بھی دفنائے گئے جن کے سر دھڑ سے الگ تھے ،معصوم پھولوں کے لاشے بم کی شدت سے ہوا میں اڑے اور پھر زمین پر آ گرے، کل بچوں کی تعداد 18 ہزار بتائی جاتی ہے جو اسرائیلی اور امریکی مشترکہ بمباری کا لقمہ اجل بنے، جنگ کے بھی کچھ قوانین ہوا کرتے ہیں مگر اسرائیل تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کھلے عام کر رہا ہے کیا اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ کہاں ہیں اقوام متحدہ کے امن سفیر ؟کہاں ہیں وہ لبرل تنظیمیں جو حقوق برابری کا ڈھونگ رچائے پھرتی ہیں. اسرائیل نے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ سلامتی کونسل ،سارے امریکہ اور اسرائیل کی ذیلی تنظیمیں ہیں. اس لیے ان کی خاموشی پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ،کوئی ملال نہیں ، یہ سب دیکھنے کے بعد خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے شہید مفتی منیر شاکر کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ” تم میں سے کوئی مسلمان نہیں” واقعی سب مسلمانوں کی اصلیت کھل کر سامنے آچکی ہے اور ثابت ہو گیا کہ آج کے مسلمان غیرت ایمانی سے خالی ہیں.

    ڈائریکٹر غزہ ڈاکٹر منیر البریش کا ٹویٹ” غزہ آخری سانسیں لے رہا ہے تمہارا بہت انتظار کیا اللہ حافظ” تمام نام نہاد مسلمانوں کے منہ پرطمانچہ ہے. کیا قدرت اس مجرمانہ خاموشی پر ہمیں معاف کر دے گی یا کسی دن ہمارا بھی یہی حال ہوگا اور باقی سب خاموش رہیں گے، ایسی خاموشی کے متعلق مشہور فلاسفر کا کہنا ہے "اگر کہیں پر ظلم ہو رہا ہو اور مجھے موقع ملے تھوکنے کا تو میں خاموش رہنے والوں کے منہ پر تھوکوں گا ظالموں کے منہ پر نہیں” (چی گویرا) ۔ اسلام بے شک امن کا درس دیتا ہے مگر ہم جہاد سے انکار نہیں کر سکتے. نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم قرار دیا اور فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کا ایک حصہ کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرا اس کو محسوس کرتا ہے یعنی جب جہاں کہیں بھی مسلمانوں‌پر ظلم حد سے تجاوز کر جائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے جید مفتیان کرام کا جہاد کے لئے فتوی دینا خوش آئند ہے مگر ہماری تمام علماء کرام سے گزارش ہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور سپہ سالار جو کہ جدید اسلحہ اور ایٹمی طاقت کے حامل ہیں ان سے اس حوالے سے مشترکہ بیانیہ جاری کرنے کا مطالبہ کریں. اس سب کے علاوہ یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ اکثر سوشل میڈیا کے صارفین جو اپنے اکاؤنٹس بلاک ہو جانے کے ڈر سے خاموش دکھائی دیتے تھے یکدم بیدار ہوئے ہیں اور متواتر مایوسی پھیلا رہے ہیں، یاد رکھیں اہل غزہ نے جس بہادری، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ باعث فخر ہے اور انہوں نے دشمنوں کے آگے سر جھکانے سے انکار کیا اس لیے سوشل میڈیا کے نادان غازی اہل غزہ کے متعلق مایوسی کی فضا قائم کرنے سے گریز کریں کیونکہ مایوسی گناہ ہے اور حالت جنگ میں مایوسی پھیلانا زہر قاتل ہے. فلسطینی صحافی خلیل ابو الیاس ڈاکٹر منیر اور ہماری دیگر فلسطینی بہنوں کے فیس بک اور ٹویٹر پر انے والے بھی ہونے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکے ہیں بلکہ ان کے بیانات کا مقصد یہ ہے کہ شاید اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں غیرت ایمانی جاگ اٹھے۔جیسا کہ ایک فلسطینی بہن نے لکھا "ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی یہ صرف چند دنوں کی بات ہے اور پھر سب ختم ہو جائیں گے اللہ اس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا”. یہ بیان سوئے ہوئے مسلمانوں کی غیرت جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ اس بہن نے کیا لکھا ہے کہ اللہ اس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا اب اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ عام عوام کیا کر رہے ہیں محض دعاؤں پر استفادہ کرنے والے حضرات اور صرف یہ بات کہہ دینے والے لوگ کہ ہم تو عام لوگ ہیں،ہم کیا کر سکتے ہیں یہ تو حکمرانوں کا کام ہے ہم صرف دعا کر سکتے ہیں ایسے چند بہانے بنا کر خود کو بری الزمہ تصور کر لینا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔درحقیقت ہم عام شہری بھی معاشی ضروریات کے پیچھے اس طرح سے لگے ہوئے ہیں کہ روٹی کپڑا اور اعلی آسائشیں ہی ہماری اولین ترجیح ہے آج کے مسلمان کو اپنے سٹیٹس کی فکر لگی رہتی ہے اسی وجہ سے ہم بھی بزدلی کے اعلی مقام تک پہنچ چکے ہیں۔جب کہ ہم عام شہری ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں اس بات کا جواب یہ ہے کہ جو متحد ہو کر اپنے موجودہ حکومت سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آپ فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں جا رہے ہیں ان کی خاموشی پر ہماری خاموشی اور محض یہ کہہ دینا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ہمیں بھی مجرم بنا رہی ہے۔کرنا یہ ہے کہ ہم سب کو یکجا ہو کر آواز اٹھانی ہے اور وزیراعظم سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ تمام تر وسائل کے باوجود پاکستان فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں جا رہا ہے ، ہمیں ذاتی طور پر بھی اسرائیلی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے اور ہمیں حکومت پاکستان سے اس چیز کا بھی پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ اسرائیلی تمام مصنوعات کی خرید و فروخت پر پاکستان میں مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے آخر اسرائیلی مصنوعات جس کی اجازت سے پاکستان میں خریدی اور بیچی جا رہی ہیں اس اسرائیل کے ساتھ تمام کاروباری معاملات ختم کرنے چاہیے اس طرح ہم دشمن کی معیشت کو تباہ کر سکتے ہیں یہ وہ مطالبات ہیں جو ہم عام شہری ہم عام عوام کو متحد ہو کر اپنے موجودہ حکمرانوں سے کرنے چاہیے۔ہم شہری ہیں ہم طاقت نہیں رکھتے ہیں اس بات کی آڑ میں چھپے رہنا نہایت بزدلانا عمل ہے۔

    حضرت ثوہان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قریب ہے کہ قوم تم پر اس طرح ٹوٹ پڑے جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اس وقت مسلمان تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے لیکن سمندر کی جھاگ کی مانند ہو گے، اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا. پوچھا گیا یا رسول اللہ وہن کیا ہے؟ آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا ڈر (سنن ابی داؤد 4297 صحیح). اور یہی حال آج ہمارا ہے، ہمیں اس وقت باقی اسلامی ممالک کا چھوڑ کر خود اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ہم تعداد میں بہت زیادہ ہیں پاکستانی 25 کروڑ عوام اپنے حکمران اور سپہ سالار کو کیوں مجبور نہیں کر سکتی، دعائیں کرنا اپنی جگہ ضروری ہے مگر اس معاملے میں عملی طور پر متحد ہونا زیادہ ضروری ہے . لہذا اس بہانے سے خود کو تسلی دینا بند کریں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، اس چیز کا اسلام میں کوئی تصور نہیں قران پاک میں ذکر ہے "نکل کھڑے ہو خواہ ہلکے ہو یا بھاری اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو (سورت توبہ 41). ہمیں فریضہ جہاد کی علمی، عملی، ذہنی ،بدنی انفرادی اور اجتماعی تربیت کی تیاری کرنی چاہیے، دنیا کی لذتوں میں مد ہوش مسلمان ہوش میں آئیں، یاد رکھیں،موسی کی قوم نے ظالموں سے لڑنے سے انکار کیا کہ وہ بہت طاقتور ہیں تم اور تمہارا خدا ہی جا کر لڑو پھر اللہ نے ان پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی ،غزہ نے عزت، حریت اور شہادت کو ترجیح دی اور ایمان پر ثابت قدم رہے ہم کیا کر رہے ہیں؟اہل غزہ کو ہمارے آنسوؤں کی ضرورت نہیں، ذرا سوچیں روز محشر جب فلسطین کے مظلوم اور شہیدوں کے متعلق باز پرسی ہوگی تو ہم کیا جواب دیں گے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کیسے کریں گے، ابھی بھی وقت ہے غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں ورنہ یاد رکھیں "اللہ کی پکڑ بہت مضبوط ہے” (القران)، یاد رکھیں غزہ ختم نہیں ہوا غزہ ایک تاریخ لکھ چکا ہے جسے وقت کی گردش بھی مٹا نہیں سکتی مگر اس ڈھال کے سائے میں چین کے نیند سونے والوں کو اپنے انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ جب دیوار گر جائے تو جھونپڑیاں زیادہ دیر قائم نہیں رہتی ہیں، مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے متحد ہو کر نکلیں اور پرزور مطالبہ کریں کہ فلسطین کی مدد کے لیے عملی طور پر جلد از جلد حکمت عملی کا اعلان کیا جائے۔ان مطالبات کے ذریعے ہم عام عوام حکومت پاکستان کو فلسطین کی حمایت میں متحرک کر سکتے ہیں تاکہ روز محشر ہم اپنے رب سے کہہ سکیں کہ اے اللہ ہم نے کوشش کی۔

    خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

  • کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا

    کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا

    کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا
    تحریر: میاں محسن اقبال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
    فلسطین کی زمین لہو سے تر ہے، غزہ کی گلیاں معصوم لاشوں سے بھری پڑی ہیں،
    ننھے وجود خاک تلے دبے ہیں،
    اور انسانیت، غیرت، ایمان… سب ماتم کناں ہیں۔

    یہ کیسا دور ہے کہ بچوں کے چیتھڑے اُڑ جائیں، ماں کی گود اجڑ جائے، باپ کی لاش مسجد کے دروازے پر پڑی ہو اور امتِ محمدیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہو۔

    یہ 57 اسلامی ممالک کس مرض کی دوا ہیں؟
    جن کی فوجیں کروڑوں میں ہیں،
    جن کے پاس جدید اسلحہ، ایٹمی طاقتیں اور وسائل کے انبار ہیں… مگر ایک معصوم فلسطینی بچے کے لیے ان کی بندوق نہیں چلتی!
    ان کے جنگی طیارے صرف یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے لیے ہیں؟
    کیا ان کی توپوں کا رُخ صرف اپنے عوام کی طرف ہوتا ہے؟
    کیا ان کا ضمیر صرف تب جاگتا ہے جب اقتدار کو خطرہ لاحق ہو؟

    اور اسلامی دنیا کے سپہ سالارو!
    کس نیند میں ہو تم؟ کس دشمن کے انتظار میں ہو جو تمہیں جگائے؟
    یا تمہاری تلواریں صرف عزت کے نازک پردوں پر چلنے کے لیے بنی ہیں؟

    تمہاری خاموشی… تمہارا بزدل سکوت…
    یہ صرف امت کی نہیں، محمدِ عربیؐ کے دین کی توہین ہے۔

    اور مدارس کے علما!
    جنہوں نے منبر و محراب کو سنبھالا،
    جن کی زبانوں میں فصاحت تھی،
    جن کی تقریروں سے لوگ روتے تھے،
    آج وہ کہاں ہیں؟

    کیوں ان کے خطبوں میں غزہ کا ذکر نہیں؟
    کیوں منبر سے وہ چیخ سنائی نہیں دیتی جو باطل کے ایوانوں کو ہلا دے؟
    کیا ان کے ایمان کی حرارت ختم ہو چکی ہے؟
    کیا آج دین کے محافظ صرف خاموشی کے پیکر بن چکے ہیں؟

    یہ وہ ننھا فلسطینی کر رہا ہے جس کا آدھا جسم بمباری میں ختم ہو چکا ہے،
    وہ ماں کر رہی ہے جو اپنے بیٹے کی کٹی ہوئی ٹانگیں اُٹھا کر دوپٹے میں لپیٹ رہی ہے،
    وہ باپ کر رہا ہے جس نے اپنے چار بچوں کو کفن کے بغیر دفن کیا۔

    امتِ مسلمہ!
    یاد رکھو!
    تمہاری بندوقیں خاموش رہیں، تمہارے علما خاموش رہے، تمہارے بادشاہ، صدر، وزیرِاعظم، جنرل… سب چپ رہے، تو کوئی کرے نہ کرے… ضمیر تو کرے گا!

    سوال کرے گا… پکارے گا… اور تمہاری بے حسی کو بے نقاب کرے گا۔