Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی گونج پوری دنیا کی معیشت میں سنائی دیتی ہے۔ یہ خطہ دنیا کے توانائی کے بڑے ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی منڈیوں میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی کے کندھوں پر ہی آ کر پڑتا ہے۔

    دنیا کے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، صنعت اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کمزور معیشتوں والے ممالک کے لیے عوام کو ریلیف دینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

    خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وہ ممالک جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بحران مزید سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی بجٹ خسارے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے یہ ممالک اگر مہنگی توانائی خریدنے پر مجبور ہوئے تو ان کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑے گا۔ اس کا براہِ راست اثر عوام کی زندگی پر پڑے گا جہاں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طویل عرصے تک کشیدہ رہی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے۔ اس مہنگائی کی سب سے بڑی قیمت وہ عوام ادا کریں گے جو پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنگ چاہے کسی بھی خطے میں لڑی جائے، اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

  • جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    کبھی وقت تھا کہ سوال ذہن میں آتا تو انگلیاں گوگل کی طرف بڑھتی تھیں، اب سوال ابھرتا ہے اور انگلی خود بخود ٹک ٹاک کی اسکرین پر پھسل جاتی ہے،اب سوال صرف یہ نہیں کہ کیا جاننا ہے، سوال یہ ہے کہ کیسے جاننا ہے اور اسی سوال کے جواب میں پاکستانی صارف نے ایک نئے ڈیجیٹل ہم سفر کا انتخاب کیا ہے،ٹک ٹاک،2025 میں ٹک ٹاک پاکستان کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے، پاکستانی ڈیجیٹل مزاج کی ایک گہری تصویر ہے۔

    لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹک ٹاک پاکستان کی جانب سے صحافیوں کے لیے منعقد ہونے والا “سرچ آن ٹک ٹاک” ایونٹ ایک ڈیجیٹل مکالمہ تھا،اس موقع پر ٹک ٹاک کے ہیڈ آف کمیونیکیشن ساؤتھ ایشیا عماد اور جنوبی ایشیا کے لیے کنٹینٹ آپریشنز کے سربراہ عمائس نوید نے اس بدلتی ہوئی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ٹک ٹاک علم، خبر، رہنمائی اور روزمرہ فیصلوں کا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔اسی تقریب میں ٹک ٹاک نے پاکستان میں 2025 کے دوران سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے موضوعات اور رجحانات جاری کی جو پاکستانی معاشرے کی اجتماعی سوچ، دلچسپیوں اور ترجیحات کا آئینہ ہیں۔

    پاکستانی ٹک ٹاکر کا مزاج محض اسکرول کرنے کا نہیں،وہ ویڈیو دیکھتا نہیں بلکہ ویڈیو میں داخل ہو جاتا ہے۔جب وہ “التت قلعہ، ہنزہ” سرچ کرتا ہے تو صرف تاریخ نہیں چاہتا، وہ پتھروں میں بسی خاموشی، پہاڑوں کی ابدی وقار اور شمالی ہوا کی ٹھنڈک کو محسوس کرنا چاہتا ہے۔اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دریائے چناب،یہ مقامات نہیں، شناخت کے استعارے ہیں۔یہ سرچز اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستانی صارف اب اپنے وطن کو نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے، اور ٹک ٹاک اس نظر کا عدسہ بن چکا ہے۔

    پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، جذبات کی زبان ہے،بابر اعظم کی سنچری ہو یا پاکستان بمقابلہ بھارت اور جنوبی افریقہ کے مقابلے ،ٹک ٹاک سرچ بتاتی ہے کہ قوم اب بھی ایک گیند پر خوش اور ایک وکٹ پر خاموش ہو جاتی ہے۔ٹک ٹاک نے کرکٹ کو اسکرین کے کونے میں بند اسکور بورڈ سے نکال کر عوامی مکالمہ بنا دیا ہے جہاں ہر شخص مبصر ہے، ناقد ہے،سیلاب جیسے سانحات ہوں یا وائرل نام جیسے “نادیہ میری سونی سوہنی”یہ سرچز بتاتی ہیں کہ پاکستانی صارف خبر کو تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہتا،وہ خبر کے ساتھ وابستگی چاہتا ہے، تبصرہ چاہتا ہے، ردِعمل چاہتا ہے۔ٹک ٹاک یہاں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ ایک اجتماعی تجربہ فراہم کرتا ہے جہاں دکھ بھی بانٹا جاتا ہے اور امید بھی۔

    2025 کی رپورٹ کا سب سے روشن پہلو علم اور خودی کی تلاش ہے،#StudyTok میں 60 فیصد اور #FitnessTok میں 66 فیصد اضافہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی نوجوان اب خود کو بہتر بنانا چاہتا ہے،مصنوعی ذہانت ، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، پروڈکٹ ریویوز اور مہندی ڈیزائنز،یہ سب اس نئی نسل کے سوالات ہیں، جن کے جواب وہ مختصر، سادہ اور بصری انداز میں چاہتی ہے۔

    2025 کی سرچ رپورٹ: ایک نظر میں

    مقامات،اسلام آباد، التت قلعہ ہنزہ، دریائے چناب، لاہور، کراچی

    خبریں و لمحات:بابر اعظم کی سنچری، پاک بمقابلہ جنوبی افریقہ، پاک بمقابلہ بھارت، نادیہ میری سونی سوہنی، سیلاب

    ٹی وی شوز:ترک ڈرامے، تماشا، میری بہوئیں، میں منٹو نہیں ہوں، ہم ایوارڈز 2025

    کھانے:لاوا برگر، بریانی، آلو، دبئی چاکلیٹ، ماچا ڈرنک

    نمایاں رجحانات،پروڈکٹ ریویوز، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، مہندی ڈیزائنز، بلیوں کی مزاحیہ ویڈیوز، AI

    2025 میں ٹک ٹاک پاکستان محض ایک ایپ نہیں رہا،یہ عہدِ حاضر کا ثقافتی جریدہ بن چکا ہے،یہاں ہر سرچ ایک سوال نہیں،ہر ویڈیو ایک جواب نہیں،بلکہ دونوں کے درمیان پاکستانی زندگی کی مکمل کہانی ہے،اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان تلاش بھی ٹک ٹاک پر کرتا ہے۔

  • ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    کیا کل کے تخت نشیں آج کے مجرم ٹھہرنے والے ہیں؟
    تمہید باندھنا قلم کاری کی روایت ہے۔ اس سے انحراف کی صورت ایک ہی ہے، وہ ہے موضوع کی نوعیت اور اس کی مناسبت سے وقت کا تقاضا۔ آرٹیفیشکل انٹیلیجنس جب پاکستان میں متعارف ہوئی تو عام آدمی تک اس کا علم صرف اتنا تھا کہ اس سے میسج کریں تو خودکار جواب مل جاتا ہے۔ کچھ ماہ میں اس کی مدد سے تصاویر ایڈیٹ کی جانے لگیں۔ ماہ و سال نہیں اب ہفتوں سے بات دنوں پر آ گئی ہے اور عام آدمی کی رسائی تیزی سے اے آئی کے مزید فیچرز تک جا پہنچی ہے۔ پرامٹ کا لفظ کئی نیم خواندہ لوگ بھی استعمال کرتے ہیں، جو اے آئی کے درست استعمال کی بنیاد ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ تو پہلے ہی کیپ کپ اور ٹک ٹاک کی بدولت ہر بندہ کرلیتا تھا۔ اے آئی کی کوڈنگ نے اسے نہ صرف آسان کیا بلکہ جو لوگ رہتے تھے ان کو بھی ویڈیو ایڈیٹر بنا دیا۔ فیک وائس، ڈیپ فیک ویڈیوز، اے آئی جنریٹیڈ پکچرز۔یہ الفاظ اب روزمرہ زبان کے عام الفاظ بن چکے ہیں۔ جب ہم اے آئی سے چیٹ کرکے چیزا لے رہے تھے اور حسب عادت گالیاں لکھ کر مذاق اڑا رہے تھے، عین اسی وقت ترقی یافتہ اقوام نے یہ بات جان لی کہ مستقبل میں علم کا مرکز کیا ہو گا۔ اس وقت چین اے آئی کو ہر سطح پر نصاب تعلیم میں شامل کر چکا ہے۔ دیگر بڑے ممالک میں بھی اس چیز کو سنجیدگی سے اپنایا جا رہا ہے۔ پی ایچ ڈی سکالرز اور ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے تو اے آئی کافی عرصہ سے استعمال میں ہے (کچھ ترقی یافتہ ممالک میں) جبکہ ربوٹکس، مشین آپریٹنگ ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں اے آئی انقلاب مکمل طور پر ٹیک اوور کرنے سے چند مراحل دور ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اخلاقی حدود اور قوانین بنا چکی ہے۔ اب اس بات پر غور جاری ہے کہ کیا انسان کی یہ ایجاد کسی مرحلہ پر انسان کے خلاف ہو سکتی؟ اس تمام پس منظر میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ کہاں کھڑے ہیں؟ ہم مفت اے آئی کورسسز کے اشتہار لگا کر لوگوں کو اپنے اداروں کی طرف لاکر پھر کچھ عرصہ بعد مزید بہتر سکھانے کے لیے رقم کا تقاضا ۔ آن لائن ٹریڈنگ، امیزون ٹریڈنگ، فاریکس ٹریڈنگ ٹرک کی وہ ٹیل لائیٹس ہیں جن کے پیچھے ہر نوجوان گھر سے پیسے لے کر برباد کر رہا ہے۔ ہم چکن گیم کھیل کر جوئے سے کمائی کر رہے ہیں۔ ہم فری فائر اور پب جی، آن لائن لڈو ٹورنامنٹ میں ورلڈ چیمپئن شپ کھیل رہے ہیں۔ ہم اے آئی سے ویڈیوز بنا رہے، تصاویر بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو فخریہ بتا رہے کہ اے آئی کورس کیا ہوتا؟ میں سب جانتا، ایک پرامٹ درست دینا آتی ہو پھر تو سب کام مشین نے کرنا۔ بدقسمتی سے سب کانٹینینٹ کے اسلامک ورژن میں صوفی ازم اور توہم پرستی اتنی ہے کہ ہم کوئی بھی چیز جو سمجھ نہ آئے اسے کرامت قرار دے دیتے ہیں اور جو کام ہاتھ سے کرنا ہو وہ زبان سے کر لیتے ہیں۔ لہذا اے آئی کو ہم نے ڈیجیٹل ولی سمجھ کر پرامٹ کی بیعت کو کافی جانا ہے۔ اب یہ جوتا ہمارے ہی سر پر بجنے کو ہے۔ اس کے لیے ہفتے نہیں دن چاہیں۔ لیکن ہنوز ہم” ۔۔۔۔۔ کا دھوبی ہوں "کہہ کر بچنے کی امید میں ہیں۔ حالانکہ بچا وہ بھی نہیں تھا کیونکہ فرشتے بھی اے آئی ہی سمجھ لیں، ان کو جو پرامٹ اللہ نے دی ہے اس میں من ربک کا ایک ہی آپشن درست ہے، دھوبی والے جواب پر پرامٹ سیٹ ہے، گرز بلا توقف حرکت میں آتا ہے۔

    ویسے ٹاپک سے ہٹ کر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں: فرشتے کو جو کہا جائے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہوں، یہ کلیم زیادہ بڑا اور مضبوط ہے یا ۔۔۔۔۔ کے دھوبی ہونے کا؟ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہونا بہت وزنی کلیم ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا، اے فاطمہ میری بیٹی! میرے مال میں سے جو لینا ہے لے لو، لیکن قیامت کے دن اگر اللہ نے پکڑ لیا تو میں کچھ نہ کر پاؤں گا۔ اے میرے چچا عباس! میرے مال سے جو لینا ہے لے لو لیکن قیامت کے دن میں کچھ کام نہ آؤں گا۔ اور ہم پھر کس حیثیت سے ایسے لطائف سن کر یقین کر لیتے کہ فلاں کا دھوبی، فلاں کا نوکر، اور بخشش؟ یہ تصوف کے ڈیپ فیک ہیومن انٹیلیجنس بیسڈ قصے ہیں۔

    واپس اے آئی پر۔ اگر ہم نے یہی حرکتیں جاری رکھیں تو چند ماہ میں ہمارا برٹش میڈ 1860 کا دم توڑتا نظام تعلیم مکمل طور پر فارغ ہو جانا ہے۔ جس نوعیت کا قابل شیر جوان مملکتِ خداداد میں 16 سال کی تعلیم، ماں کی دعا، باپ کی مار، اساتذہ کی محنت اور موصوف کی ذاتی کاوش سے کی گئی نقل مل کر پیدا کرتی ہے، وہ اے آئی کی کوڈنگ میں 16 دن لگنے اور بن جانا ہے۔ یعنی اس استعداد کی مشین جو ہر وہ بات جانتی ہو جو آپ کا ماسٹرز ڈگری ہولڈر جانتا ہے۔ اس وقت ضرورت نہیں بلکہ لازم ہے کہ ہم اپنا نظام تعلیم ازسرنو وضع کریں۔ اپنی ترجیحات کا تعین کریں۔ اس بات کو مدنظر رکھ کر کہ پیچیدہ ترین ریاضی و سائنس اب اے آئی کی مکمل دسترس میں ہے اور ہمیں اس چیز کو ماننا ہوگا کہ ہماری تمام تر سائنسی مضامین و ریاضی آنے والے دنوں میں اسی طالب علم یا پروفیشنل کو قریب پھٹکنے دیں گے جو اے آئی کا استعمال ایڈوانس لیول پر جانتا ہوگا۔ سوشل سائنسز میں البتہ انسانی عمل دخل زیادہ ہے اور رہے گا کیونکہ انسانی نفسیات و جذبات کی پیچیدہ راہیں اے آئی کے بس سے فی الحال باہر ہیں۔ لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمیں ابتدائی کلاسز سے اے آئی کورس میں شامل کرنا ہوگا اور اپنی تمام کلاسز میں اسے بطور مضمون پڑھانا بھی ہوگا۔ کیونکہ جس قدر تیزی سے اے آئی کا پھیلاؤ جاری ہے اس میں ہمارا نظام تعلیم مکمل فلاپ ہے۔

    اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی آرہی ہے یا نہیں ؟ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو کب اس کے برابر چلائیں گے؟ اس کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم نصاب سے وہ ساری زنگ آلود پرتیں ہٹائیں جو 1860 کے برطانوی ڈھانچے سے چمٹی ہوئی ہیں۔ ہمیں متن، رٹہ اور غیر ضروری رٹے ہوئے سوالات نہیں چاہیے؛ ہمیں وہ بچے چاہیے جو اے آئی سے صحیح سوال پوچھنا جانتے ہوں۔ جو اسے بطور ٹول استعمال کرنا سیکھیں، نہ کہ اس سے ڈر کر بھاگیں یا صرف تصویریں بنا کر خوش ہوں۔

    ہمیں ہر سطح پر اے آئی لٹریسی (AI Literacy) کو بنیادی مضمون بنانا ہوگا۔ پرائمری میں بچوں کو کمپیوٹیشنل سوچ اور روبوٹکس کی بنیاد دی جائے۔ مڈل اور ہائی اسکول میں اے آئی کے استعمال، غلطیوں اور خطرات کو سمجھایا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی میں عملی تربیت، ڈیٹا اینالسس، پرامٹ انجینئرنگ، تحقیق، اور اے آئی ڈویلپمنٹ کے عملی کورسز شامل کیے جائیں۔استاد کی ٹریننگ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ جس استاد کو خود اے آئی کا استعمال نہیں آتا وہ اگلی نسل کو کیا سکھائے گا؟ استاد کو اس سطح پر لانا ہوگا کہ وہ خود اے آئی سے بہتر مواد، مشقیں، اور ٹیسٹ تیار کر سکے اور طلبہ کو وہ صلاحیتیں سکھائے جو مشین نہیں سکھا سکتی۔ تنقیدی سوچ، اخلاقیات، فیصلہ سازی، اور انسانی اقدار۔آخر میں، ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اے آئی لیبز قائم کرنا ہوں گی. جہاں بچے صرف پڑھیں نہیں بلکہ بنا سکیں، تجربہ کر سکیں، ناکامی سے سیکھ سکیں، اور خود کو مستقبل کے لیے تیار کر سکیں۔ اگر ہم نے آج یہ بنیاد رکھ دی تو آنے والا دور ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ اگر نہ رکھا تو تاریخ ہمیں ایک بار پھر پیچھے چھوڑ دے گی، اور ہم اس انقلاب کے تماشائی بن کر رہ جائیں گے، شریک نہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
    مبشر حسن شاہ

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑے چاندکے دلکش سپرنظارے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑے چاندکے دلکش سپرنظارے

    اسلام آباد (باغی ٹی وی ویب ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں بدھ کی رات رواں سال کا سب سے بڑا اور روشن سپر مون "بیور مون” آسمان پر جلوہ افروز ہوا، جس نے کروڑوں افراد کو مسحور کر دیا۔ کراچی، لاہور، ملتان، پشاور، اسلام آباد سمیت ملک بھر کے شہروں میں لوگ کھلے مقامات پر جمع ہو کر چاند کے اس دلکش سپرنظارے کے گواہ بنے اور موبائل کیمروں میں اسے محفوظ کیا۔

    سپارکو کے مطابق چاند زمین سے صرف 356,980 کلومیٹر دور تھا، جس کی وجہ سے وہ معمول سے 7.9 فیصد بڑا اور 16 فیصد زیادہ روشن نظر آیا۔ ماہرین فلکیات نے بتایا کہ سپر مون کا بہترین نظارہ چاند نکلنے کے فوراً بعد افق کے قریب ہوتا ہے۔
    The largest and brightest supermoon of 2025 rose worldwide, dubbed the Beaver Moon, as skies cleared over Australia, India, China and Germany
    یہ 2025 کا دوسرا سپر مون تھا۔ اس سے قبل 7 اکتوبر کو پہلا سپر مون دیکھا گیا تھا، جبکہ سال کا آخری سپر مون 4 دسمبر کو "کولڈ مون” کے نام سے نظر آئے گا۔

    ماہرین کے مطابق جب چاند اپنی بیضوی مدار میں زمین کے سب سے قریب آتا ہے تو اسے سپر مون کہا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں تصاویر و ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں شہریوں نے اس نایاب منظر کو "زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ” قرار دیا۔

  • امریکا میں ایمیزون ویب سروسز کی خرابی، 2 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور ایپس متاثر

    امریکا میں ایمیزون ویب سروسز کی خرابی، 2 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور ایپس متاثر

    امریکا میں ایمیزون ویب سروسز میں اچانک تکنیکی خرابی کے باعث 2 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور ایپس کی سروسز متاثر ہو گئیں، جن میں بینکنگ پلیٹ فارمز، گیمز، اور مشہور موبائل ایپلی کیشنز بھی شامل ہیں۔

    خبر ایجنسی کے مطابق یہ مسئلہ پیر کی صبح پیش آیا، جو ایمیزون ویب سروسز کے سسٹم میں خرابی کے باعث پیدا ہوا۔ ایمیزون کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی کو اس خرابی کا علم ہے اور انجینئرز اس کی وجوہات تلاش کرنے اور نظام بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق امریکا کے مشرقی حصے سے منسلک سرورز کی خرابی کے باعث دنیا بھر میں سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔

    ایمیزون کی اپنی ایپس جیسے پرائم ویڈیو، ایلیکسا، ایمیزون میوزک، اور کینوا سمیت متعدد مشہور ویب سائٹس بند یا سست روی کا شکار ہو گئیں۔
    اس کے علاوہ رابن ہڈ، وینمو، بینک آف اسکاٹ لینڈ، ایپک گیمز اسٹور، فلیکر، فورتنائٹ، زوم، اور ہنگ سمیت درجنوں عالمی پلیٹ فارمز بھی متاثر ہوئے۔برطانیہ کی حکومتی ویب سروسز، جن میں ایچ ایم آر سی (HMRC) اور یونیورسل کریڈٹ کے آن لائن پورٹلز شامل ہیں، عارضی طور پر بند ہو گئ۔

    ایمیزون ویب سروسز کا مؤقف
    ایمیزون نے اپنے اسٹیٹس پیج پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم متعدد سروسز میں خرابی اور تاخیر دیکھ رہے ہیں۔ ہماری ٹیم مسئلے کے حل کے لیے سرگرم ہے اور جلد مکمل اپ ڈیٹ فراہم کرے گی۔ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کاروباری ادارے اپنے خودکار نظام (Automated Workflows) کا جائزہ لیں کیونکہ وہ بھی AWS پر ہوسٹ ہو سکتے ہیں، جبکہ اہم ڈیجیٹل کاموں کو وقتی طور پر معطل رکھنا بہتر ہوگا جب تک کہ نظام مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتا

    بلوچستان میں افغان مہاجرین کے 10 کیمپس بند، 85 ہزار افراد وطن واپس

    تحریک لبیک پاکستان کے سو سودی اکاؤنٹس، 15 کروڑ کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف

    کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کی پہلی کامیابی، مفرور ملزم گرفتار

    اسرائیل نے غزہ میں امدادی گزرگاہیں کھول دیں،رفح گزرگاہ تاحال بند

  • ٹک ٹاک نے پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد ویڈیوز حذف کردیں

    ٹک ٹاک نے پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد ویڈیوز حذف کردیں

    ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے سال 2025 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر 2 کروڑ 54 لاکھ 48 ہزار 992 ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔

    یہ اعداد و شمار ٹک ٹاک کی پیر کے روز جاری کردہ کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق 99.7 فیصد ویڈیوز ازخود (پروایکٹیولی) حذف کی گئیں، جبکہ 96.2 فیصد ویڈیوز پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دی گئیں۔یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کی شکایات کے بعد متعدد مرتبہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ پہلی بار اکتوبر 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی تھی جو کمپنی کی یقین دہانی کے بعد 10 روز میں ختم کر دی گئی تھی۔

    عالمی سطح پر ویڈیوز کا حذف ہونا
    ٹک ٹاک کے مطابق دنیا بھر میں 18 کروڑ 90 لاکھ ویڈیوز کو پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا، جو مجموعی ویڈیوز کا 0.7 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 16 کروڑ 39 لاکھ سے زائد ویڈیوز خودکار نظام کے ذریعے حذف ہوئیں، جبکہ 74 لاکھ 57 ہزار ویڈیوز بعد ازاں نظرثانی کے بعد بحال کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 99.1 فیصد ویڈیوز از خود ہٹائی گئیں، جبکہ 94.4 فیصد ویڈیوز 24 گھنٹوں کے اندر ڈیلیٹ کی گئیں۔

    ٹک ٹاک نے بتایا کہ 7 کروڑ 69 لاکھ 91 ہزار 660 جعلی اکاؤنٹس بند کیے گئے، جبکہ 2 کروڑ 59 لاکھ سے زائد ایسے اکاؤنٹس بھی ختم کیے گئے جن کے صارفین کی عمر 13 سال سے کم ہونے کا شبہ تھا۔رپورٹ کے مطابق 30.6 فیصد حذف شدہ ویڈیوز بالغ یا حساس مواد پر مشتمل تھیں، 14 فیصد نے حفاظتی و اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کی، اور 6.1 فیصد ویڈیوز پرائیویسی و سیکیورٹی اصولوں کے خلاف تھیں۔

    مزید 45 فیصد ویڈیوز جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام میں ہٹائی گئیں، جبکہ 23.8 فیصد ویڈیوز مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ تھیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں پاکستان میں 2 کروڑ 49 لاکھ 54 ہزار 128 ویڈیوز حذف کی گئی تھیں، یعنی اپریل سے جون کے درمیان ہٹائی گئی ویڈیوز کی تعداد میں تقریباً 5 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا

    محمد رضوان برطرف، شاہین شاہ آفریدی پاکستان ون ڈے ٹیم کے نئے کپتان مقرر

    وفاقی وزیرداخلہ کی بلاول بھٹو سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر گفتگو

    جوئے ایپ کی تشہیر کیس: عدالت نے ڈکی کی اہلیہ عروب جتوئی کو طلب کرلیا

  • پاکستان کا خلائی پروگرام ، پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا

    پاکستان کا خلائی پروگرام ، پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا

    پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ (HS-1) کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہو گیا، جس کے ساتھ ہی ملک کا خلائی پروگرام جدید سائنسی دور میں داخل ہو گیا ہے۔

    یہ 2025 میں خلا میں بھیجا جانے والا پاکستان کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، جسے قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ لانچنگ تقریب میں پاکستانی سائنس دان اور انجینئرز بھی شریک تھے، جو پاکستان اور چین کے خلائی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ماہرین کے مطابق ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ زمین کے ماحولیاتی تغیرات، زراعت، آبی ذخائر، جنگلات، قدرتی آفات اور فضائی معیار کی نگرانی میں انقلاب برپا کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ 130 بینڈز پر مشتمل ہے، اور اس نوعیت کی ٹیکنالوجی اس وقت دنیا کے صرف چند ترقی یافتہ ممالک کے پاس موجود ہے۔

    وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق یہ سیٹلائٹ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں جیسی قدرتی آفات کی پیش گوئی میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ گلیشئرز کے پگھلنے اور کھسکنے کے بارے میں قبل از وقت معلومات فراہم کرے گا۔

    زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ سے ملک میں کلائمٹ اسمارٹ زراعت کو فروغ ملے گا، فصلوں کو پانی کی قلت سے ہونے والے نقصان کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے گا، اور زرعی پیداوار میں 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، فصلوں کی صحت اور جنگلات کے تحفظ کے بارے میں بھی حقیقی وقت کی معلومات حاصل کی جا سکیں گی

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان اسٹیل ملز سے چوری ہونے والا 200 کلو کاپر کباڑ گودام سے برآمد

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

  • گوگل کا پاکستانی طلبا کو  مفت جیمینائی اے آئی پرو پلان دینے کا اعلان

    گوگل کا پاکستانی طلبا کو مفت جیمینائی اے آئی پرو پلان دینے کا اعلان

    گوگل نے پاکستانی طلبا کے لیے خصوصی تعلیمی اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طالبعلم ایک سال تک جیمینائی اے آئی پرو پلان مفت حاصل کر سکیں گے۔

    اس کا مقصد طلبا کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کر کے ان کی تعلیم، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔واضح رہے کہ اس پلان کی قیمت پاکستان میں تقریباً 5,600 روپے ماہانہ ہے، تاہم یہ سبسکرپشن اہل طلبا کو بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔

    طلبا کو حاصل ہونے والے فیچرز

    جیمینائی 2.5 ماڈل تک رسائی: ریسرچ، اسائنمنٹس اور پراجیکٹس میں آسانی۔گوگل ایپس میں انٹیگریشن: جی میل، ڈاکس، شیٹس، سلائیڈز اور میٹ میں اے آئی فیچرز۔نوٹ بک ایل ایم: ذاتی تحقیقی اور تحریری ٹول، اضافی آڈیو اوورویوز اور نوٹس کے ساتھ۔ویڈیو تخلیق: ٹیکسٹ اور تصاویر سے جدید ویڈیوز بنانے کی سہولت۔2 ٹی بی کلاؤڈ اسٹوریج: گوگل ڈرائیو، جی میل اور فوٹوز میں وافر اسٹوریج۔ی

    ونیورسٹی کے طلبا اس مفت سبسکرپشن کے لیے سائن اپ کر سکتے ہیں: یہ پیشکش گوگل کے اس عالمی مشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد طلبا کو جدید ترین تعلیمی و تخلیقی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    بھارت کے لیے ویزا قوانین میں نرمی نہیں ہوگی،برطانوی وزیراعظم

    افغان حکومت کی پاکستان میں سرگرم افراد کو بسانے کی پیشکش، 10 ارب روپے طلب

  • اسنیپ چیٹ نے مفت اسٹوریج ختم کرنے کا اعلان، فیس لاگو ہوگی

    اسنیپ چیٹ نے مفت اسٹوریج ختم کرنے کا اعلان، فیس لاگو ہوگی

    انسٹنٹ میسیجنگ ایپ اسنیپ چیٹ نے اعلان کیا ہے کہ اب صارفین پرانی تصاویر اور ویڈیوز محفوظ کرنے کے لیے ادائیگی کریں گے۔

    کمپنی کے مطابق ’میموریز‘ فیچر کے تحت 2016 سے محفوظ تمام تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی تو ممکن ہوگی، لیکن جن صارفین کے پاس 5 جی بی سے زیادہ ڈیٹا ہوگا، انہیں اضافی اسٹوریج کے لیے فیس ادا کرنا پڑے گی۔اسنیپ نے بی بی سی کو برطانیہ میں لاگو ہونے والے اسٹوریج پلانز کی قیمت نہیں بتائی، تاہم کہا کہ یہ تبدیلی بتدریج دنیا بھر میں نافذ کی جائے گی۔26 ستمبر کو کیے گئے اعلان میں کمپنی نے بتایا کہ 2016 کے بعد سے اب تک صارفین نے ایک کھرب سے زیادہ میموریز محفوظ کی ہیں۔

    اسنیپ کے مطابق زیادہ تر صارفین، جن کا ڈیٹا 5 جی بی سے کم ہے، ان پر اس تبدیلی کا اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن جن کے پاس ہزاروں سنیپس محفوظ ہیں، انہیں اسٹوریج اپ گریڈ کرنے کے آپشنز فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی پلانز میں 100 جی بی، 250 جی بی اسنیپ چیٹ+ اور 5 ٹی بی اسنیپ چیٹ پلاٹینم شامل ہیں۔

    کمپنی نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ 5 جی بی اسٹوریج سے زائد محفوظ میموریز کو 12 ماہ کی عارضی اسٹوریج فراہم کی جائے گی تاکہ صارفین فیصلہ کر سکیں کہ وہ انہیں اپ گریڈ کریں یا حذف۔

    سندھ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سخت سزائیں نافذ

    ٹرمپ کی حماس کو سخت وارننگ، وائٹ ہاؤس نے "سرخ لکیر” کھینچ دی

    پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار زخمی

  • میٹا کی برطانیہ میں  اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    میٹا کی برطانیہ میں اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں برطانیہ میں فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف کرا رہی ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت صارفین کے پاس دو آپشن ہوں گے: یا تو وہ ماہانہ فیس ادا کرکے بغیر اشتہارات کے سروس استعمال کریں یا پھر مفت پلیٹ فارمز استعمال کرتے رہیں جن میں ٹارگٹڈ اشتہارات دکھائے جائیں گے۔میٹا نے بتایا کہ سبسکرپشن فیس ویب ورژن کے لیے تقریباً 3 پاؤنڈ اور آئی او ایس و اینڈرائیڈ پر 3.99 پاؤنڈ ماہانہ ہوگی۔ یہ ماڈل یورپی یونین میں متعارف کرائے گئے سبسکرپشن جیسا ہے، جو ڈیٹا پرائیویسی قوانین کی تعمیل کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اشتہارات سے پاک سروسز صارفین کو اپنے آن لائن تجربے پر زیادہ کنٹرول فراہم کریں گی، جبکہ مفت سروسز کو اشتہارات کے ذریعے چلانے کا نظام بھی برقرار رہے گا۔ ادائیگی کرنے والے صارفین کو اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے اور ان کا ذاتی ڈیٹا اشتہارات کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی ریگولیٹرز کی بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے بعد یہ ماڈل مستقبل میں دیگر ممالک میں بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس: اراکین بانی سے شکایات پر آمنے سامنے آگئے

    ٹرمپ کا غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    بانی پی ٹی آئی کی بدتمیزی،رپورٹرز کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران پر پابندیوں کے بعد سفارتی رابطے رکھنے کا اعلان