مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی گونج پوری دنیا کی معیشت میں سنائی دیتی ہے۔ یہ خطہ دنیا کے توانائی کے بڑے ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی منڈیوں میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی کے کندھوں پر ہی آ کر پڑتا ہے۔
دنیا کے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، صنعت اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کمزور معیشتوں والے ممالک کے لیے عوام کو ریلیف دینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وہ ممالک جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بحران مزید سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی بجٹ خسارے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے یہ ممالک اگر مہنگی توانائی خریدنے پر مجبور ہوئے تو ان کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑے گا۔ اس کا براہِ راست اثر عوام کی زندگی پر پڑے گا جہاں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طویل عرصے تک کشیدہ رہی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے۔ اس مہنگائی کی سب سے بڑی قیمت وہ عوام ادا کریں گے جو پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنگ چاہے کسی بھی خطے میں لڑی جائے، اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔









