Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا

    واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا

    دنیا بھر میں مقبول تریں میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لیے نئے فیچر پر کام شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہےکہ واٹس ایپ اپنےصارفین کی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئےاور فرمائشوں پر آئے دن نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے اور اب اس بار ایپلی کیشن ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کے لیے کام کررہی ہے۔

    واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اب صارف واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ پر بھی میسج کو ‘رپورٹ’ کرسکیں گے۔

    اس سے قبل گزشتہ برس رپورٹ کا آپشن واٹس ایپ اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت صارفین نامناسب میسجز کو رپورٹ یعنی واٹس ایپ کو شکایت کرسکتے ہیں۔

    تاہم اب یہ سہولت ڈیسک ٹاپ ورژن کے لیے جلد متعارف کرائی جائے گی، فی الحال ایپ اس پر کام کررہی ہے۔

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    اس سے قبل واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لئے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون (Delete for everyone)’ کے فیچر میں بڑی تبدیلی کی ہے جس کے تحت چیٹ میں بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب میسجز ڈیلیٹ کرنے کی وقت کی حد 2 دن اور 12 گھنٹے ہوگی، یعنی دو دن بعد بھی آپ بھیجے گئے میسجز ڈیلیٹ کرسکیں گے جبکہ اپ ڈیٹ سے قبل واٹس ایپ کے میسجز میں ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی حد 1 گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تھی –

    یہ اپ ڈیٹ فی الحال کچھ بِیٹا صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے، جب کہ آہستہ آہستہ اس فیچر تک تمام صارفین کی رسائی ممکن ہوگی۔

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

  • اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟
    کسی موبائل ایپ کو اپنے فون میں انسٹال کرتے وقت کچھ system approvals دینا لازم ہوجاتے ہیں جن کے بغیر ایپ کام نہیں کرتی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آپ اپنا ڈیٹا کسی بھی انجان شخص یا کمپنی کے سپرد کر دیتے ہیں۔

    آپکے MailBox میں ہزاروں emails ایسے آتے ہیں جن میں کسی بھی ویب سائٹ کے لنکس دئیے گئے ہوتے ہیں، جن پر کلک کے بعد آپکی موبائل فون یا کمپیوٹر کسی سرور سے لنکڈ ہوجاتا ہے اور آپکا ڈیٹا ٹرانسفر ہوسکتا ہے۔

    ایسے ہی کئی طریقے آپکے ڈیٹا کو ہیکرز کا آسان شکار بنا دیتے ہیں اور آپ انجانے میں اپنی حساس معلومات تک کھو دیتے ہیں۔موبائل فون پرائیویسی کے متعلق بڑھتے خدشات کے باعث تمام صارفین سیکورٹی کے بارے میں کافی محتاط رہتے ہیں تاہم موبائل فون انٹرنیٹ سے connected ہوتے ہی ایسے تمام حملوں کا شکار بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنے موبائل کو ایسے حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟
    بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے پیش نظر حکومتی اداروں اور سافٹ وئیر کمپنیوں نے اپنی پالیسیوں کو گاہے بگاہے تبدیل کیا ہے اور پہلے سے زیادہ محفوظ بنایا ہے تاہم ہر صارف کیلئے اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

    1۔ ہمیشہ پلے سٹور اور ایپ سٹور کی ویریفائڈ ایپس ہی انسٹال کریں۔

    2۔ ای۔ میل، ٹیکسٹ میسج یا سوشل میڈیا پر کسی بھی لنک کو کھولنے سے پہلے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ یہ لنک آپکو محفوظ سائٹ تک ہی لے کر جائے گا۔

    3۔ موبائل فون کا سیکورٹی ساوفٹ وئیر آپ ڈیٹ رکھیں۔

    4۔ موبائل پورٹس استعمال کے بعد کھلے نہ رکھیں، موبائل پورٹس میں وائی فائی، بلو ٹوتھ، NFC، شامل ہیں۔ ان کا استعمال کے بغیر آن رہنا ہیکرز کے حملے کو مزید آسان بنا دیتا ہے۔

    5۔ کسی بھی ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر اپنا ڈیٹا دیتے وقت اس بات کی تصدیق کر لیں کہ یہ ایک مستند ویب سائٹ ہے اور آپکا ڈیٹا محفوظ رہے گا۔

    6۔ کریڈٹ کارڈ اور دیگر حساس معلومات استعمال کے بعد ڈیلٹ کر دیں۔

  • واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لئے مزید نئے فیچر پر کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کی سہلوت اور فرمائشوں پر آئے دن نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے اور اب اس بار ایپلیکیشن نے اپنے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون (Delete for everyone)’ کے فیچر میں بڑی تبدیلی کردی ہے۔


    واٹس ایپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب چیٹ میں بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب میسجز ڈیلیٹ کرنے کی وقت کی حد 2 دن اور 12 گھنٹے ہوگی، یعنی دو دن بعد بھی آپ بھیجے گئے میسجز ڈیلیٹ کرسکیں گے جبکہ اپ ڈیٹ سے قبل واٹس ایپ کے میسجز میں ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی حد 1 گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تھی –

    رپورٹ کے مطابق یہ اپ ڈیٹ فی الحال کچھ بِیٹا صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے، جب کہ آہستہ آہستہ اس فیچر تک تمام صارفین کی رسائی ممکن ہوگی۔


    اس کے علاوہ واٹس ایپ ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی مزید بہتری کے لیے بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں تو مستقبل میں گروپس میں کسی بھی پیغام کو حذف کرنے کے اہل ہوں گے۔

    قبل ازیں واٹس ایپ میں گروپس چیٹ کے حوالے سے چند نئے فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے ان فیچرز سے واٹس ایپ میں کسی گروپ کال کے حوالے سے صارف کو زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے ان فیچرز کی تفصیلات ایک ٹوئٹ میں شیئر کیں انہوں نے بتایا تھا کہ اب گروپ کال کے دوران اگر کوئی فرد اپنا مائیک میوٹ کرنا بھول جائے تو ہوسٹ یا کال میں شامل کوئی بھی فرد اسے میوٹ کرسکے گا تاکہ بات چیت متاثر نہ ہو۔


    اسی طرح گروپ کال میں اگر کوئی نیا فرد شامل ہوگا تو واٹس ایپ کی جانب سے الرٹ بھیجا جائے گا تاکہ ہر ایک کو اس کا علم ہوسکے ایک گروپ کال میں 32 افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے اسی طرح کال کے دوران مخصوص افراد کو میسجز بھیجنا بھی اب ممکن ہوگا۔

    ان نئے فیچرز سے واٹس ایپ زوم، گوگل میٹ اور مائیکرو سافٹ ٹیمز کا ایک اچھا متبادل ثابت ہوگا جبکہ قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ اراکین کی تعداد کو 256 سے بڑھا کر 512 کر دیا تھا۔

  • ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    شکاگو: سائنس دانوں نے90 فیصد درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی سائنس” کے مطابق امریکا کی شیکاگو یونیورسٹی کے محققین نے یہ ماڈل ماضی کے جرم کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 1000 مربع فٹ کے رقبے میں جرائم کی پیش گوئی کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی امریکا کے آٹھ بڑے شہروں میں آزمائی گئی جن میں شیکاگو، لاس اینجلس اور فلیڈیلفیا شامل ہیں۔

    چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت میں پیشرفت نے حکومتوں کی دلچسپی کو جنم دیا ہے جو جرائم کی روک تھام کے لیے پیشین گوئی کرنے والی پولیسنگ کے لیے ان ٹولز کو استعمال کرنا چاہیں گی۔ جرم کی پیشن گوئی کی ابتدائی کوششیں متنازعہ رہی ہیں، تاہم، کیونکہ وہ پولیس کے نفاذ میں نظامی تعصبات اور جرائم اور معاشرے کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

    شکاگو یونیورسٹی کے ڈیٹا اور سماجی سائنسدانوں نے ایک نیا الگورتھم تیار کیا ہے جو پرتشدد اور املاک کے جرائم پر عوامی ڈیٹا سے وقت اور جغرافیائی مقامات کے نمونوں کو سیکھ کر جرائم کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ماڈل تقریباً 90% درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے مستقبل کے جرائم کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    ایک الگ ماڈل میں، تحقیقاتی ٹیم نے واقعات کے بعد گرفتاریوں کی تعداد کا تجزیہ کرکے اور مختلف سماجی اقتصادی حیثیت کے ساتھ محلوں کے درمیان ان شرحوں کا موازنہ کرکے جرائم کے خلاف پولیس کے ردعمل کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ امیر علاقوں میں جرائم کے نتیجے میں زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ پسماندہ علاقوں میں گرفتاریاں کم ہوئیں۔ غریب محلوں میں جرم زیادہ گرفتاریوں کا باعث نہیں بنتا، تاہم، پولیس کے ردعمل اور نفاذ میں تعصب کی نشاندہی کرتا ہے۔

    یونیورسٹی آف شیکاگو کے پروفیسر اِشانو کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے شہری ماحول کا ایک ڈیجیٹل جڑواں بنایا ہے۔ اگر اس میں ماضی میں ہونے والے وقوعات کا ڈیٹا ڈالا جائے تو یہ آپ کو بتادے گا کہ مستبقل میں کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ جادوئی نہیں ہے، اس کی حدود ہیں تاہم سائنس دانوں نے اس کی تصدیق کردی ہے۔

    یہ آلہ 2002 کی فل مائناریٹی رپورٹ میں دِکھائی گئی ایک ٹکنالوجی کی یاد تازہ کرتا ہے، ایسی ہی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی جاپان میں شہریوں کو ان علاقوں کے متعلق بتانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے جہاں جرائم کا تناسب زیادہ ہے۔

    تازہ ترین تحقیق کی تفصیلات سائنسی جرنل نیچر ہیومن بیہیویئر میں شائع کی گئیں ہیں۔

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

  • گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل نےہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے صارفین کو پیغام دیا ہے کہ وہ گوگل چیٹ پرمنتقل ہوجائیں –

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ہینگ آؤٹس سروس کو نومبر میں ریٹائر کردیا جائے گا ہینگ آؤٹس موبائل ایپ استعمال کرنے والے افراد سے چیٹ ایپ پر سوئچ کرنے کا کہا جائے گا۔

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    کمپنی نے بتایا کہ اسی طرح ویب براؤزر پر جی میل کے ذریعے ہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے افراد کو جولائی میں چیٹ پر اپ گریڈ کردیا جائے گا صارفین کا چیٹ ڈیٹا خودکار طور پر ہینگ آؤٹس سے گوگل چیٹ پر منتقل ہوجائے گا۔

    کمپنی نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیٹا ایکسپورٹ ٹول گوگل ٹیک آؤٹ کو استعمال کرکے ہینگ آؤٹس سے اپنا ڈیٹا نومبر سے قبل ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

    واضح رہے کہ گوگل ہینگ آؤٹس کو 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا جو اس وقت گوگل پلس کے اندر چیٹ پلیٹ فارم تھا بعد ازاں گوگل نے اس پلیٹ فارم کو دیگر سروسز جیسے جی میل کا حصہ بنا دیا تھا۔

    2017 میں گوگل چیٹ کو متعارف کرایا گیا جو کاروباری صارفین کے لیے میسجنگ ٹول تھا گوگل کی جانب سے ہینگ آؤٹس سے چیٹ پر لوگوں کو منتقل کرنے کی وجہ سکیورٹی کے ساتھ ساتھ مختلف قوانین بھی ہیں۔

    امریکا اور یورپی یونین قوانین کے مطابق گوگل چیٹ میں صارفین کو نقصان دہ لنکس سے زیادہ ٹھوس تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ 2 کی بجائے ایک سروس پر کام کرنا بھی زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    اردن کی عقبہ بندرگاہ میں زہریلی گیس کا سلنڈرپھٹنے سے 13 افراد ہلاک ،200 سے زائد زخمی

  • بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    یروشلم: سدابہار جوانی کا راز ڈھونڈنے کے لئے انسان صدیوں سے کوشاں تھا اور اکیسویں صدی میں آ کر میڈیکل سائنس پہلی بار اس میدان میں ایک غیر معمولی پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے تاریخ میں پہلی بار سائنسدان بڑھتی ہوئی عمر کا پہیہ پیچھےکی جانب گھمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں ایک اہم پیشرفت 20 برس کی مسلسل تحقیق کے بعد اسرائیل سے سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی شہر حائفہ میں واقع ریمبام ہیلتھ کیئرکیمپس اور ٹیکنیون اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے مسلسل دو عشروں تک غور و تحقیق کے بعد انسانوں کو کم ازکم بیرونی طور پر جوان رکھنے کا سائنسی طریقہ دریافت کیا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    اس ضمن میں چوہوں پر تجربات کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں جو انسانوں پر بھی قابلِ اطلاق ہیں تاہم مستقبل میں ان سےانسانی اعضا کو بھی جوان رکھنا ممکن ہوسکے گااس تحقیق میں کئی بین الاقوامی ماہرین بھی شامل ہیں جن کے کام کی تفصیلات سائنس ایڈوانسِس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں بوڑھے چوہے کی جلد کا ایک ٹکڑا لیا گیا اور اس کی تمام پرتوں کی سالماتی (مالیکیولر) ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے۔

    جوان چوہوں کو لیا گیا جو’سیویئر کمبائنڈ امیونوڈیفشنسی ڈیزیز‘ (ایس سی آئی ڈی) کے شکار تھے۔ اس کیفیت میں بی اور ٹی لمفوسائٹس بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان چوہوں میں بوڑھے انسانوں کے خلیات شامل کیے گئے کیونکہ اہم ہدف انسانی جلد ہی تھی۔ ماہرین کی مسلسل کوشش سے نہ صرف جلد میں خون کی نئی رگیں بنیں بلکہ جگہ جگہ سے بدلی رنگت ٹھیک ہونے لگی اور عمر رسیدگی کے بایومارکر بھی کم ہوئے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    ماہرین کے مطابق اس ضمن میں جلد ایک بہترین تحقیقی مقام تھی کیونکہ دنیا بھر میں جلد کو جوان رکھنے پر کام ہو رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار سب سے پہلے جلد پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

    اسی ٹیم نے پہلے بھی ایس سی آئی ڈی کے شکار جوان چوہوں میں بوڑھے افراد کی جلد شامل کی تھی اور افادیت ناپنے کے لیے ویسکولر اینڈوتھیلیئل گروتھ فیکٹر اے (وی ای جی ایف اے) کو ناپا تھا۔ یہ ایک طبی پیمانہ ہے جو تجربہ گاہ میں انسانی اعضا کی جوانی اور تازگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی جلد کے بوڑھے خلیات اور جلد میں جوانی کے آثار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل درست سمت میں ایک قدم ہے اور کم ازکم ہم ایک تھراپی کے تحت انسانی جلد کو بڑھاپے کے اثرات سے بچاتے ہوئے دوبارہ جوان کرسکتے ہیں۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو انسانی آنکھ سے بغیر مائیکروسکوپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس عجیب و غریب بیکٹیریا کی لمبائی تقریبا 1 سینٹی میٹر ہے جو اس سے پہلے دریافت شدہ بڑے بیکٹیریوں سے 50 گنا ہے سفید لمبے دھاگے کے مانند یہ بیکٹریا سمندر کی طے میں موجود بوسیدہ مینگرو کے پتوں کی سطح پر پایا گیا۔

    لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی سائنسدان جین میری وولنڈ نے اس دریافت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہے کہ جیسے ہم ایک ایسے انسان کے سامنے کھڑے ہوں جس کا قد ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر ہویہ جاندار سمندری حیاتیات کے پروفیسر اولیویر گروس نے مینگروو ماحولیاتی نظام میں ہم آہنگی کے بیکٹیریا کی تلاش کے دوران دریافت کیا تھا۔

    گروس نے کہا کہ جب میں نے انہیں دیکھا تو میں حیران رہ گیا، میں نے اس کو مائیکروسکوپک تجربات کئے تاکہ معلوم ہو کہ یہ ایک ہی خلیہ ہے۔

    دوسری جانب سائنس دانوں نے ایک مچھلی نما روبوٹ تیار کیا ہے جو پانی میں تیر کر مائیکرو پلاسٹک کو تیزی سے اکٹھا کرسکتا ہے یہ چھوٹا سا مچھلی نما روبوٹ اپنے جسم اور دم کو ہلا کر پانی میں حرکت کرتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے سمندروں سے پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اس کی لمبائی آدھا انچ کے برابر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی سی دراڑوں اور ایسی جگہوں سے پلاسٹک کو اکٹھا کر سکتا ہے جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی چین کی سِچوان یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی جانب سے بنائے جانے والے اس روبوٹ کی توانائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ نیئر انفراریڈ کی جھلکیوں سے حرکت کرتا ہے۔ ہمارے اطراف موجود روشنی نیئر انفراریڈ کا سب سے چھوٹا حصہ ہے۔

    جب اس روبوٹ کی دم پر روشنی پڑتی ہے تو یہ پانی کی سطح سے نیچے کی جانب مڑ جاتی ہے اور جب روشنی پڑنا بند ہوتی ہے تو واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے، اس طرح روبوٹ پانی میں تیرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے یہ روبوٹ اپنے سائز سے تین گُنا زیادہ کا فاصلہ ایک سیکنڈ میں طے کرسکتا ہے جو ایک سافٹ بحری روبوٹ کے لیے ریکارڈ ہے۔

    جب یہ تیرتا ہے تو پولیسٹائرین مائیکرو پلاسٹکس اس کی سطح سے چپک جاتے ہیں اور یہ انہیں دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے۔ یہ روبوٹ مستقبل میں سمندر سے اندازاً 24 ہزار ارب مائیکرو پلاسٹک کے ٹکڑوں کو نکالنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    نیروبی: محققین نے 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانے والے دیو ہیکل مگرمچھوں کی دو نئی اقسام دریافت کیں ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکا کی یونیورسٹی آف آئیووا کے سائنس دان 2007 سے نیروبی میں میوزیم آف کینیا میں متعدد قدیم مگرمچھوں کی اقسام کا معائنہ کر رہے ہیں رواں مای کے شروع میں جرنل انیٹمِکل میں شائع کردہ مقالے کے مطابق تحقیق کے مصنف پروفیسر کرسٹوفر بروشو کا کہنا تھا کہ یہ وہ بڑے شکاری جانور ہیں جن سامنا ہمارے آبا و اجداد نے کیا۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    پروفیسر بروشو نے بتایا کہ دریافت ہونے والی اقسام آج کے مگرمچھوں کی طرح موقع پرست شکاری تھی۔ قدیم انسانوں کے لیے دریا میں جھک کر پانی پینا انتہائی خطرناک ہوگا ان کے جبڑے سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بڑی مسکراہٹ رکھتے ہیں لیکن اگر انہیں موقع ملتا تو آپ کا پورا چہرہ نوچ ڈالتے۔

    محققین کے مطابق موجودہ مگرمچھ کی قسم بمشکل چار سے پانچ فِٹ لمبی ہوتی ہے لیکن دریافت ہونے مگرمچھوں کی اقسام کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی لمبائی 12 فِٹ تک تھی۔

    کِن یینگ قسم مشرقی افریقا کے وادی کے علاقے میں ابتدائی سے وسطی مائیوسین دور میں آباد ہوگی۔ یہ علاقہ آج کے دور کا کینیا ہے۔

    قبل ازیں محققین نے سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت کی تھیں محققین کو بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    قبل ازیں امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے تھے محققین کا کہنا تھا کہ اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

    نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

    طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے-

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

  • خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    جرنل برین میں شائع ہونےوالی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین مردوں سے زیادہ گرم دماغ ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دماغ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

    تحقیق کے مطابق دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس تحقیق کے لئے محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔

    صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔

    مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    جبکہ سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

    کیمبرج یونیورسٹی کے گروپ لیڈر ڈاکٹر جان او نیل نے کہا کہ میرے لیے ہمارے مطالعے سے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صحت مند انسانی دماغ اس درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہےجس کی تشخیص جسم میں کسی اور جگہ بخار کے طور پر کی جائے گی ماضی میں دماغی چوٹوں والے لوگوں میں اس طرح کے اعلی درجہ حرارت کی پیمائش کی گئی ہے، لیکن یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ چوٹ کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ یہ روزانہ کی تبدیلی طویل مدتی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے – ایسی چیز جس کی ہم آگے تحقیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔

    امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو