Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    قاہرہ: توبنجن یونیورسٹی، جرمنی کے ماہرین نے مصر میں ’أتریب‘ (Athribis) کے مقام سے مٹی کی 18,000 قدیم تختیاں دریافت کی ہیں –

    باغی ٹی وی : ’بطلیموس خاندان‘ کے دورِ حکومت میں أتریب کا شہر مصری ریاست کا دارالحکومت تھا جو دریائے نیل کے کنارے آباد تھا البتہ قدیم مصری حکمرانوں کے اس خاندان میں سب سے زیادہ شہرت ملکہ قلوپطرہ کو حاصل ہوئی جو آج تک مشہور ہے۔

    کھدائی کے دوران جرمن سائنسدانوں نے مصر میں ’أتریب‘ کے مقام سے مٹی کی 18,000 قدیم تختیاں دریافت کی ہیں جو اپنے زمانے میں بچوں کو پڑھانے کے علاوہ روزمرہ کاموں کی تفصیلات لکھنے والی ’ڈائریاں‘ ہوا کرتی تھیں۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت


    قدیم زمانے میں ٹوٹے برتنوں کے ٹکڑوں سے لکھنے کےلیے تختیوں کا کام بھی لیا جاتا تھا کیونکہ وہ بہت کم خرچ ہوتے تھے اور آسانی سے دستیاب ہوجاتے تھے لکھائی کی تختیوں کے طور پر استعمال ہونے والے، مٹی کے ان ٹکڑوں کو ’اوسٹراکون‘ (ostracon) کہا جاتا ہے جس کی جمع ’اوسٹراکا‘ (ostraca) ہے یہ دنیا میں ’اوسٹراکا‘ کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی ہے جو وسطی مصر سے أتریب کے آثارِ قدیمہ سے دریافت ہوا ہے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    مٹی کی ان تختیوں پر پکی روشنائی سے مختلف عبارتیں لکھی ہوئی ہیں جو تیسری صدی قبلِ مسیح سے چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اسی مناسبت سے ان ’اوسٹراکا‘ پر الگ الگ ادوار کی زبانیں بھی لکھی ہوئی ہیں جن میں تصویروں اور الفاظ پر مشتمل مصری، قدیم یونانی زبانیں، قبطی (کوپٹک) اور عربی تک شامل ہیں۔

    البتہ ’ڈومینک‘ (Dominic) زبان میں لکھے گئے ’اوسٹراکا‘ کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو یہ پہلی صدی قبلِ مسیح میں ملکہ قلوپطرہ کے والد (بادشاہ بطلیموس دوازدہم/ 12) کے زمانے میں سرکاری اور انتظامی زبان تھی کئی ’اوسٹراکا‘ پر خریداری کےلیے سامان کی فہرست (شاپنگ لسٹ)، تجارتی حساب کتاب اور ادبی نگارشات درج ہیں جبکہ زیادہ تعداد ایسے ’اوسٹراکا‘ کی ہے جو بچوں نے اپنی پڑھائی کے دوران لکھی تھیں اور جن میں تحریر کے علاوہ تصویریں بھی شامل ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس طرح کی تدریسی ’اوسٹراکا‘ پر بچوں نے مہینوں کے نام، اعداد، حسابی مسائل، گرامر کی مشقیں اور ’پرندہ حرف‘ بھی لکھا ہوا ہے جو غالباً مختلف پرندوں کے ناموں میں سب سے پہلے حرف کو تصویری شکل میں ظاہر کرتا ہے سینکڑوں ’اوسٹراکا‘ پر ایک ہی عبارت لکھی ہے جو بچوں کی تحریری مشقوں کو ظاہر کرتی ہے، جن کے دوران ایک ہی عبارت ان سے بار بار لکھوائی گئی ہوگی۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تدریس کے اس انداز میں جدید اسکولوں کی جھلکیاں بہت واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔ ’اوسٹراکا‘ کا یہ ذخیرہ بھی سائنسدانوں کی اسی ٹیم نے دریافت کا ہے۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

  • ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    تہران: ایران نے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق ایران نے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل ’خیبرشکن ‘ کا تجربہ کیا ہے ایرانی میزائل 1 ہزار450 کلومیٹرفاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کونشانہ بنایا میزائل ’خیبرشکن‘ میزائل شیلڈ سے پارہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اورمیزائل کولانچ کرنے کے لئے سولڈ فیول کا استعمال کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بیلسٹک میزائل ’خیبرشکن‘ مکمل طورپرایران میں تیارکیا گیا ہے۔

    یہ میزائل تجربہ ایران کی جانب سے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر جبو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سےایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا شرو کی گئیں-

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نےایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا دوبارہ شروع کر دیں۔ انہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں نافذ کیا تھا امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے 4 فروری جمعہ کو ایران کی پابندیوں سے استثنیٰ کو بحال کر دیا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی پر بالواسطہ بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب ،یواے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری

    ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2020 میں اس چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس میں روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری مقامات پر عدم پھیلاؤ کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی-

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ یہ چھوٹ ان تکنیکی بات چیت کی اجازت دینے کے لیے ضروری تھی جو مذاکرات کے لیے ضروری ہے اس کا مقصد معاہدے پر واپس جانا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے۔

    تاہم بعد ازاں مریکی صدرجو بائیڈن کے مشرق اوسط میں نامزداعلیٰ فوجی جنرل مائیکل کوریلا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جاتا ہے یا ان میں نرمی کی جاتی ہے تو اس سے وہ خطے میں اپنی آلہ کار تنظیموں کی مالی معاونت کرسکتا ہے اور اس کی جانب سے دہشت گردی کے لیے حمایت کو مہمیز مل سکتی ہے پابندیوں سے نجات کی صورت میں اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران غیرمنجمد کی جانے والی رقوم میں سے کچھ رقم خطے میں اپنے آلہ کاروں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرے گا۔

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    لیفٹیننٹ جنرل مائیکل کوریلا نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اگرانھوں نے ایران پرعاید پابندیوں کاخاتمہ کیا تو اس سے خطے میں ہماری افواج کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

    55 سالہ کوریلا ریاست شمالی کیرولائنا میں واقع فورٹ بریگ میں امریکی فوج کی جوابی فورسزسمیت 18ویں ایئربورن کور کی قیادت کرتے ہیں صدربائیڈن نےان ہی کے زیرقیادت ایئربورن کور کے ارکان کویورپ میں یوکرین کی حمایت میں تعینات کرنے کاحکم دیا ہے اور جنرل کوریلا سینیٹ کی کمیٹی میں سماعت کے بعد اسی سلسلے میں یورپ روانہ ہونے والے تھے۔

    دریں اثناء امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں۔انھوں نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ابوظبی اور سعودی عرب پرحال ہی میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خلیجی ممالک کو امریکا کی فوجی امداد بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

  • کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے لگے،ہیکرز ان اکاؤنٹس سے کیا کام لیتے ہیں ؟چونکا دینے والے انکشاف

    کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے لگے،ہیکرز ان اکاؤنٹس سے کیا کام لیتے ہیں ؟چونکا دینے والے انکشاف

    لاہور: ہیکرز کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے لگے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کرتے رہیں، اگر کم استعمال کریں گے تو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے سائبر فراڈیے ان کے اکاؤنٹس ہیک کر لیں گے، پھر ان اکاؤنٹس کے ذریعے مالی فراڈ کریں گے،غیر اخلاقی وڈیوز شیئر ہو سکتی ہیں۔

    ہندوستان میں حجاب کے نام پر بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے:عالمی برادری نوٹس لے: وزیر خارجہ

    ایف آئی اے سائبر ونگ کے اعداد وشمار کے مطابق سوشل میڈیا ہیکنگ کی وارداتیں پنجاب بھر میں پھیل چکی ہیں، ایف آئی اے سائبر ونگ کو لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں سے ڈھائی ہزار آن لائن ہیکنگ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں فون ریکارڈ نگ ہیکنگ، کمپنیوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گر گئی، بلاول

    ایف آئی اے کے مطابق زیادہ تر لوگوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے ان کو لاکھوں، کروڑوں روپے سے محروم کر دیا گیا، ایف آءی کو ایسی شکایات موصول بھی ہوئیں جن میں فیس بک اور ٹوئٹر، انسٹاگرام کو ہیک کر کے اس پر غیراخلاقی وڈیوز اپ لوڈ کی گئیں اس کیلئے چوری شدہ سافٹ ویئر کا سہارا لیا گیا۔

    الیکشن کمیشن میں اسحاق ڈار نااہلی کیس سماعت کیلئے مقرر

    سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت سے ایسے صارفین جو اپنے فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹوئٹر اکاؤنٹس خود نہیں بنا سکتے، ان کی ساری تفصیلات ان کے پاس ہوتی ہیں جو یہ اکاؤنٹس بناتے ہیں ۔

    کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے ازقلم :غنی محمود قصوری

  • ٹیکنالوجی باعث رحمت ہے یازحمت:تحریر .ارم شہزادی

    جدید ٹیکنالوجی سے پہلے رہن سہن کتنا سادہ تھا، کتنا خوبصورت تھا، لوگ کیسے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ کیسے کھانا، پینا، اوڑھنا، سادہ تھا کوئی بناوٹ نہیں تھی۔کوئی جلن حسد جیسی خرافات عام نہیں تھیں۔رشتوں کا کیسے احترام تھا۔ صبح کا آغاز موبائل فون اور ٹی وی کے بجائے نماز، تلاوت قرآن سے ہوتا تھا۔ناشتہ بریڈ جام، جیسے غیر معیاری اور غیر صحت بخش غذا سے نہیں بلکہ روٹی، دیسی انڈے، مکھن، لسی، دودھ سے ہوتا تھا۔ سارا دن موبائل پر نظر جمانے کے بجائے جسمانی کھیل کود ہوتا تھا۔زمینوں پر کام کرنا پینڈو ہونا باعث شرمندگی نہیں بلکہ باعث فخر ہوتا تھا۔ بھینسیں پالنا قابل فخر تھا کتا پالنا نہیں۔ دودھ، دہی، مکھن گھر کی خوراک تھی۔سبزیاں اپنی زمینوں پر اگائی یجاتی تھیں۔سادہ بیج بغیر کھاد کے بغیر سپرے کے صاف پانی سے بڑھنے والی سبزیاں زائقے میں تو اچھی ہوتی ہی تھیں ساتھ صحت مند بھی ہوتی تھیں۔ ایک گھر اگر سبزی اگاتا تھا تو سارا گاؤں یا تو بغیر پیسوں کے یا بہت تھوڑے سے پیسوں کے عوض خرید لیتا تھا۔ ایک گھر میں اگر کوئی حادثہ ہوجاتا تھا تو سارا گاؤں اکٹھا ہوجاتا تھا۔ جیسے دیوار اینٹ سے جڑی اینٹ کی طرح ہوتی ہے بلکل ویسے جڑے ہوئے تھے۔

    جیسے حدیث مبارکہ ہے کا مفہوم ہے کہ” مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم میں کسی ایک حصہ کی تکلیف سارا بدن محسوس کرتا ہے” گاؤں گنجان آباد تھے۔ شہروں کی آبادی بہت کم تھی دیہاتوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی بہت ہی کم تھی۔ ٹی وی کی نشریات سے پہلے ریڈیو پر پروگرام پورا پورا گاؤں مل کرسنتا تھا کیونکہ ہرگھر میں ریڈیو موجود نہیں تھا۔ پھر وقت میں تھوڑی تبدیلی ہوئی اور ریڈیو کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر اور ٹی وی کی آمد نے جہاں شہروں کی زندگی میں تبدیلی رونما کی وہاں دیہات میں بھی یہ چیز عام ہونے لگی۔ لوگوں کا ویژن بدلا تو جو علاج دیسی جڑی بوٹیوں-سے ہوتا تھا وہ شہروں سے جا کر کروانا شروع کیا۔ دیہاتوں میں ڈسپنسری تو نا تھی لیکن بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافعت ضرور تھی۔ سکول کالج بھی دیہاتوں میں نا تھے لیکن مدارس تھے قران کی تعلیم ہر بچے کے پاس تھی۔ وقت کی تبدیلی نے دیہاتوں میں رہنے والوں کو سوچنے پر مجبور کیا اور وہ بچے پڑھانے کے لیے شہروں کا رخ کرنے لگے کسی حد تک تو یہ درست تھی اور تعلیم ہر بچے کا حق تھا لیکن بدقسمتی سے اس ایک حق نے باقی بہت سے حقوق چھین لیے۔ اگر کوشش، کر کے تمام سہولیات دیہاتوں میں لی جاتیں تو آج دیہات ویران اور شہر گنجان آباد نا ہوتے۔ آبادی کا تناسب قائم رہتا، لمبی چوڑی گھریلو بلڈنگز نا بنتیں تو شہروں کے صفائی کے معاملات اتنے خراب نا ہوتے جتنے ہیں۔ ریڈیو ٹی وی کو ترقی جاننے والی قوم جب لیب ٹاپ اور سمارٹ فونز تک پہنچی تو بلکل ہی بدل چکی تھی یہ نسل ترقی کا یہ سفر انکی پہنچ میں سائنس تو لے آیا لیکن خالق سے دور کردیا۔رزق کے پیچھے دوڑتے دوڑتے صحت تو گنوا بیٹھے لیکن زمینیں بنجر کررہے ہیں۔ رشتے داریاں اب وٹس ایپ سٹیٹس تک رہ گیئں ہیں رشتے نام کے رہ گئے۔باپ کی بہن پھپھو گھر کی رانی سے ڈاکو رانی بنا دی گئی۔ اماں مم بن گئی ابا جی ڈیڈ بن گیا۔ فیشن کے نام پے کپڑے پہلے چھوٹے ہوئے اب پھٹنے لگ گئے۔ سردیوں کی شامیں جو سارا خاندان ایکساتھ مناتا تھا اب الگ الگ کمروں میں بظاہر تنہا گزار دیتا ہے۔ بہت ساری چیزوں کو خود پر حاوی کرکے مہنگائی کا ازھاد اپنے گلے ڈالا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو سمارٹ فونز لے کر دیے ہیں اور انہیں انکی اصل سے الگ کردیا ہے۔

    ترقی یہ نہیں ہوتی کہ آپ اپنا اصل بھول جائیں غیر کا کلچر اپنائیں بلکہ ترقی یہ ہوتی ہے کہ اپنے اصل کو پروموٹ کریں انہیں اگے بڑھائیں۔ دنیا کے اگے لگ جانے کے بجائے اپنی چیزوں کو اگے لائیں۔اپنے دیہات، کھلیان سجائیں، آپنی زمینوں پر نئے نئے تجربات کریں فصلیں اگائیں کسی دفتر میں چند ہزار کی ملازمت سے بہتر اپنے باغات اگائیں ملازم بننے کے بجائے ملازم رکھیں۔ صحت مند سبزیاں اگائیں۔ صحت بخش فروٹس اگائیں۔ دیہاتوں میں صحت کی سہولیات پہنچائیں، سکول کالج بنائیں، اچھےاچھے رروڈز اور سڑکیں بنائیں۔ دیہات آباد کریں۔زمینوں پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی نئی فصلیں اگائیں۔ موجودہ فصلوں کی مقدار بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ تاکہ آبادی کی آباد کاری اور ضروریات کو متناسب کیا جاسکے۔ شہروں پر بڑھتے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ رشتوں میں خود غرضی جو گھل چکی ہے اسے کم کیا جاسکے۔ دلوں کو شہری گھروں اور سڑکوں کی طرح تنگ بنانے کی بجائے دیہاتوں اور کھلیانوں کی طرح کھلا اور کشادہ کریں۔ ٹیکنالوجی کو رحمت بنائیں زحمت نہیں۔۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    واشنگٹن: اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں دفاعی میزائل نظام ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ امریکی صدر نے سال کے آخر میں اسرائیل کے دورے کا عندیہ بھی دیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدرجو بائیڈن اوراسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نےٹیلی فونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ بالخصوص شام، ایران اور افغانستان میں سیکیورٹی معاملات کے علاوہ دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ…

    دونوں رہنماؤں نے 4 سے 70 کلومیٹر فاصلے سے مار کیے جانے والے میزائل اور گولوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دفاعی نظام آئرن ڈوم سسٹم کی تیاری پر اتفاق کیااس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے آئرن ڈوم سسٹم کے لیے امریکی تعاون اور ٹھوس حمایت پر صدر بائیڈن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیراعظم بینیٹ نفتالی کو بتایا کہ وہ اس سال کے آخر میں اسرائیل کا دور ہ کریں گے جب کہ شام میں امریکی فوجی کارروائی میں داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی ہلاکت پر بھی گفتگو کی گئی۔

    علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے دیگر اہم علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کی جس میں خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تجارتی تعلقات کی بحالی بھی شامل ہے۔

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    خیال رہے امریکی ثالثی میں اسرائیل کیساتھ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت 4 عرب ممالک نے سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کرلیے تھے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور روس پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد یوکرائن پر حملہ کرنے والا ہے۔

    روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کے باعث مغربی ممالک سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سرگرم ہو گئے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے بھی تناؤ میں کمی کے لیے کمر کس لی ہےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ فوج کشی کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے جس کے باعث فرانسیسی صدر اپنے روسی ہم منصب سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کا رخ کیا ہے۔

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی…

    یوکرائن کی سرحد کے نزدیک روس نے ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں جس کے جواب میں مغربی ممالک نے نیٹو کے اہلکار یوکرائن بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ روس اور مغربی ممالک اس تناؤ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں ادھر یوکرائن نے مغربی ممالک کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے تاہم روس کے جلد حملہ کرنے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے فرانسیسی صدر نے یوکرائن، روس اور مغربی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یوکرائن کے مسئلے پر امریکی صدر جوبائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے متعدد بار ٹیلی فونک گفتگو کی ہے جس کے بعد آج وہ روسی صدر سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ اگلے روز یوکرائن جائیں گے۔

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    اسی طرح جرمنی کے چانسلر نے یوکرائن میں اہم ملاقاتوں کے بعد امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے اور وہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کے لیے پُرامید بھی ہیں جرمنی نے یوکرائن اور روس تنازع میں امریکی مؤقف کی حمایت کی ہے تاہم جنگ اور اس کے نتیجے میں روس پر اقتصادی پابندی کے باعث توانائی کے بحران کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے جو کورونا سے نبرد آزما دنیا کیلیے ایک اور امتحان ہوگا۔

    واضح رہے کہ روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن چینی ہم منصب سے ملنے بیجنگ کے دورے پر گئے تھے جہاں چین کو گیس فروخت فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ طے پایا تھا جب کہ امریکا نے روس یوکرائن جنگ کے باعث ممکنہ توانائی بحران پر قطر کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے۔

    پیرو میں مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ،ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق

  • وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    سوات: پاکستانی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے وادی سوات کے شہر بریکوٹ میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت کرلی ہے –

    باغی ٹی وی : پریس ریلیز کے مطابق اگرچہ اس علاقے کے دوسرے آثارِ قدیمہ 150 اور 100 سال قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کی یہ عبادت گاہ ان سے بھی زیادہ قدیم ہےان کا خیال ہے کہ یہ تیسری صدی قبلِ مسیح میں چندرگپت موریا کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس خیال کی حتمی تصدیق ریڈیو کاربن تاریخ نگاری کے بعد ممکن ہوگی جس میں کچھ وقت لگے گا۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    بریکوٹ (Barikot) اس زمانے میں علاقہ گندھارا تہذیب کے اہم شہروں میں بھی شامل تھا جسے قدیم یونانی اور اطالوی مؤرخین نے ’’بزیرا‘‘ اور ’’واراستھانا‘‘ بھی لکھا ہے اپنے منفرد ماحول کی بنا پر یہاں سال میں دومرتبہ گندم اور چاول کی فصلیں اگائی جاتی تھیں یہ فصلیں اتنی زیادہ ہوتی تھیں کہ ان کی اضافی پیداوار دوسرے علاقوں میں بھی فروخت کی جاتی تھی۔

    قدیم بدھ مت کے اہم مراکز میں شامل ہونے کے باوجود، اب تک یہ پوری طرح واضح نہیں کہ بریکوٹ میں بدھ مت کی آمد کیسے ہوئی اور وہ کس طرح یہاں مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے قدیم ترین مقبرے سے اس بارے میں جاننے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم جب چوتھی صدی قبلِ مسیح میں ہندوستان پر حملہ کرنے کےلیے یہاں سے گزرا تو زرخیز مقام دیکھ کر اس نے پہلے بریکوٹ پر قبضہ کیا اور اپنی فوج کےلیے وافر مقدار میں گندم اور دیگر اناج جمع کرنے کے بعد آگے بڑھا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    واضح رہے کہ پاکستانی اور اطالوی ماہرین کے وسیع البنیاد اشتراک سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گندھارا تہذیب کے آثارِ قدیمہ پر 1955 سے کام جاری ہے جسے متعدد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی ثقافتی اداروں کی سرپرستی بھی حاصل ہےیہ ایشیا میں آثارِ قدیمہ کا سب سے پرانا عالمی مشن بھی ہے جسے 67 سال ہونے والے ہیں۔ اس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر لیوکا ماریا ہیں جن کا تعلق کفوسکاری یونیورسٹی، وینس سے ہے بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی تلاش کا یہ سلسلہ اس سال بھی جاری رہے گا کیونکہ ماہرین کو یہاں سے مزید دریافتوں کی پوری امید ہے۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    خیال رہے کہ قبل ازیں گزشتہ برس پاکستان میں بدھ مت کے دور کی پینٹنگز دریافت ہوئی تھیں جو ماہرین کے مطابق دو ہزار سال قدیم ہیں یہ پینٹنگز فریسکو آرٹ میں بنائی گئی ہیںریسکو آرٹ کا آغاز کیسے ہوا، اس بارے میں کوئی واضح تحقیق موجود نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ فریسکو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور فریسکو پینٹنگز کا آغاز اٹلی میں تیرھویں صدی عیسوی میں ہوا یعنی آج سے تقریباً سات سو سال قبل ہوا تھا اس بارے میں مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ 3300 قبل عیسوی یعنی زمانہ قدیم میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی پینٹنگز کا ذکر سامنے نہیں آیا۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    پاکستان میں بدھ مت کی مذکورہ دریافت میں ایسے نایاب فن پارے ملے تھے جو تقریباً دو ہزار سال قدیم ہیں۔ اس دریافت کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ کا آغاز اس خطے میں بدھ مت کے دور میں ہو چکا تھا جبکہ مصر میں زمانہ قدیم میں اس فن کے آثار پائے جاتے تھے پاکستان میں خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کے قریب عباس چینہ میں بدھ مت دور کا ایک بڑا کمپلیکس دریافت ہوائے یعنی یہ تخت بھائی کی طرح ایک بڑا علاقہ ہے جہاں پر متعدد ایسے آثار ملے ہیں جو دو ہزار سال قدیم ہیں۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

  • بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    واشنگٹن: خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں قابلِ قدر خدمات اور دریافتوں کے بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو آخرکار 2031 تک سمندر کی سمت پھینکا جائے گا-

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی ویب سائٹ گیجٹس کے مطابق کانگریس نے ناسا کے ماہرین سے کہا تھا کہ وہ اسٹیشن کے قابلِ عمل ہونے کے متعلق بتائیں اور یہ بھی کہ اس کا مستقبل کیا ہوسکتا ہےاس پر ناسا نے کانگریس کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کا مدار مزید نیچے یعنی نچلے ارضی مدار تک کھسکھا کر اسے نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے لیکن آخر کار طے پایا کہ نو برس بعد اس کا رخ زمین ہی ہوگا۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    ناسا نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بعض حصے قابلِ مرمت ہیں لیکن آخرکار اسے ریٹائر کرنا ہی ہے منصوبے کے تحت اسے بحرالکاہل کے ایک مقام ’پوائنٹ نیمو‘ میں گرایا جائے گا جو ایک غیرآباد اور ویران خطہ بھی ہے۔

    ناسا نے کہا کہ پوائنٹ نیمو ایک ایسا علاقہ ہے جو آبادی سے بہت دور ہے اور یہاں 2001 میں روسی خلائی اسٹیشن میر کو بھی پھینکا گیا تھا۔ اس سے قبل بڑے بڑے سیٹلائٹ بھی اس رخ پر مدار بدر یعنی ڈی آربٹ کئے جاتے رہے ہیں اسے ماہریں خلائی اجسام اور سیٹلائٹ کا قبرستان بھی کہتے ہیں۔

    ناسا نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 2030 تک اس کے معمول کے آپریشنز جاری رہیں گے جبکہ اسے بتدریج بند کرکے مکمل خاموش کردیا جائے گا اس کے بعد اسے مدار سے بے دخل کیا جائے گا جو کئی مراحل میں ممکن ہوسکے گا۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…

    1998 سے آئی ایس ایس خلا میں رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔ اسے دنیا کے پانچ خلائی اداروں نے بنایا تھا اور 2000 سے یہاں انسانوں کی آمدورفت جاری ہے اس کی مشہور خردثقلی تجربہ گاہ میں 3000 سے زائد انوکھے اور دلچسپ تجربات کئے گئے جو زمینی ماحول میں ممکن نہ تھے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

  • عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج سے برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کئی صدیوں سے برطانیہ میں کھلنے والے پھول گویا کسی گھڑی کے پابند تھے لیکن اب موسمِ بہار سے قبل ہی یہ پھول کھل چکے ہیں اور ان میں لگ بھگ ایک ماہ کا وقفہ ہوا ہے-

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    ماہرین کے مطابق پھول کھلنے کا دورانیہ دھیرے دھیرے پیچھے ہوا ہے۔ ورنہ 1980 سے قبل پھول اپنے وقت پر کھل رہے تھے اور موسمِ بہار پر رنگ بکھیرتے رہے تھے لیکن اب پھولوں کے کھلنے کا وقت ایک ماہ تک پیچھے آچکا ہے۔

    برطانوی سائنسدانوں نے 1753 سے 2019 تک 406 اقسام کے پھولوں کا جائزہ لیا ہے ڈیٹا کے تجزیئے کے بعد پریشان کن صورتحال سامنے آئی ہے معلوم ہوا کہ 1986 کے مقابلے میں 2019 میں پھول کھلنے کا دورانیہ ایک ماہ پیچھے چلا گیا ہےلیکن تمام اقسام کے پھولوں کے کھلنے کا وقت یکساں نہیں تھا تمام پودے ایک ہی وقت میں نہیں کھلتے۔ جڑی بوٹیاں اور درخت سب سے پہلے پھول ہوتے ہیں، کبھی اپریل کے وسط میں۔ جب کہ جھاڑیوں کو کھلنے میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگتا ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    ماہرین نے اس کی وجہ عالمی تپش اور کلائمٹ چینج کو قرار دیا ہے اور یوں بہار آنے سے پہلے ہی پھول کھلنے لگے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے برفبار، گرمی، بارش اور برف پگھلنے کے معمولات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس طرح بعض فصلوں کی کونپلیں اور پھول وقت سے پہلے ہی کھلنے لگے ہیں۔

    ان میں وہ پھول سرِ فہرست ہیں جن کی زندگی کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے یعنی وہ بدلتے درجہ حرارت کو زیادہ تیزی سے اختیار کررہے ہیں اگر درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہتا ہے تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ پہلے پھول آنے کی تاریخوں میں مزید تبدیلی آئے گی، ممکنہ طور پر مارچ یا اس سے بھی پہلے تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ یہی سلسلہ جاری رہا تو اس سے فصلیں شدید متاثر ہوں گی اور غذائی تحفظ کو دھچکا لگے گا۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    دوسری جانب پھول کھلنے کے بعد مکھیاں اور دیگر جاندار زردانوں کو ایک سے دوسرے مقام تک لے جاکر پھولوں کے فروغ میں اہم اضافہ کرتے ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ پھول کھلے رہ جائیں لیکن اس پر منڈلانے والے بھنورے اور شہد کی مکھیاں غائب ہوں اس عمل سے کئی امراض ، جانوروں کی نقل مکانی اور دیگر مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں –

    دوسری جانب عین اسی طرح کی کیفیت جاپان میں بھی دیکھی گئی ہے جہاں چیری کے پھول وقت سے پہلے کھلنے لگے ہیں۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

  • جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

    تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں بہت عرصے بعد جی میل نے بھی بہت سی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے یہ تبدیلیاں 8 فروری سے جی میل میں نمودار ہونا شروع ہوں گی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گوگل نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اپنے مقبول ای میل کلائنٹ جی میل کے لیے ایک نیا ڈیزائن لائے گی۔ دوبارہ ڈیزائن گوگل ورک اسپیس کے لیے کمپنی کے نئے منصوبوں کا حصہ بننے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو جی میل کو Gmail ونڈو کے اندر گوگل چیٹ، میٹ اور اسپیس کے قریب لے آئے گا۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ انٹیگریٹڈ ویو کے ساتھ نیا جی میل 2022 کی دوسری سہ ماہی تک تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ آپ اس سال جون سے پہلے نیا انٹرفیس دیکھ سکتے ہیں۔

    فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    گوگل ورک اسپیس بلاگ یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ ورک اسپیس کے صارفین 8 فروری سے نئے انٹیگریٹڈ ویو کی جانچ شروع کر سکتے ہیں اس کے بعد اپریل میں یہ ازخود (ڈیفالٹ) شامل ہونے لگیں گی سب سے پہلے اس میں چیٹ، گوگل میٹ اور اسپیسس کو باہم منسلک کیا جائے گا کاروباری اور کام والے جی میل اکاؤنٹس میں ورک اسپیس کو اہمیت دی جائے گی اس طرح اب ای میل میں چھوٹی ونڈوز تیرتی نظرآئیں گی اور بائیں ہاتھ پر لگے بڑے بٹن سے اس کی مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

    نئے جی میل انٹرفیس میں جی میل، میٹ، چیٹ اور اسپیسز کے لیے الگ الگ حصے ہوسکتے ہیں۔ فوٹو بشکریہ گوگل
    اپریل میں تمام صارفین اس نئے لے آؤٹ پرمنتقل ہوسکیں گے نئے لے آؤٹ کے تحت نوٹی فکیشن بلبلوں کے صورت میں نمودار ہوکر آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائیں گے اور جی میل بہت انٹرایکٹو انداز میں پیش کیا جائے گا۔

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ گوگل اپنے ای میل پلیٹ فارم پر بطورِ خاص کاروباری اور دفاتر کے ای میل کے لیے بہتر آپشن پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح آپ بہت تیزی سے ای میل، چیٹ، اسپیس اور دیگرآپشن تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے بہت آسان اور واضح انٹرفیس بنایا گیا ہے۔

    گوگل کے مطابق نئے لے آؤٹ کو اپ ڈیٹ کرنے والے صارفین آج دستیاب میل اور لیبل آپشنز کی وہی فہرست دیکھ سکیں گے۔ ورک اسپیس ٹولز میں تبدیلیوں کا سب سے پہلے اعلان ستمبر 2021 میں کیا گیا تھا۔ اس میں شامل خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ صارفین Google Meet لنک کے بغیر دوسرے Gmail صارفین کے ساتھ ون آن ون کال کر سکتے تھے-

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

  • دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد  انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں درختوں کی تقریباً 73,000 انواع موجود ہیں جن میں سے اب تک ہم 63,800 کے بارے میں جان پائے ہیں-

    باغی ٹی وی : ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی تازہ آن لائن اشاعت میں شائع ہونے والی اس تحقیق کےلیے درختوں اور جنگلات کے بارے میں دو وسیع عالمی ڈیٹابیسز، یعنی ’’گلوبل فارسٹ بایوڈائیورسٹی انیشی ایٹیو‘‘ اور ’’ٹری چینج‘‘ سے استفادہ کیا گیا اس تحقیق میں امریکا ، روس ،بھارت اور آسٹریلیا سمیت درجنوں ممالک کے 100 سے زیادہ سائنسدانوں نے حصہ لیا البتہ ان میں کوئی پاکستانی سائنسداں یا تحقیقی ادارہ شامل نہیں تھا۔

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

    ان میں سے ہر ڈیٹابیس میں ہزاروں درختوں کے قدرتی مسکن ، اوسط اونچائی، تنے کی موٹائی، چھتری کے پھیلاؤ، ان سے پیدا ہونے والے پھلوں اور میوہ جات کی معلومات، دنیا بھر میں ان درختوں کی مجموعی تعداد اور جغرافیائی تقسیم سمیت ساری تفصیلات، کئی عشروں کی محنت کے بعد جمع کی گئی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ : پی این اے ایس
    کس علاقے میں کون کونسی انواع کے کتنے درخت ہیں؟ یہ جاننے کےلیے مذکورہ تمام معلومات کو اسی ترتیب سے دنیا کے نقشے پر 100 کلومیٹر لمبے اور 100 کلومیٹر چوڑے خانوں میں رکھا گیا ساتھ ہی ساتھ ہر علاقے کے ’’بایوم‘‘ یعنی وہاں پائے جانے والے پیڑ پودوں، مٹی، جنگلی جانوروں اور آب و ہوا جیسی کیفیات کے بارے میں معلومات بھی اس تحقیق میں مدنظر رکھی گئیں

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    اس رپورٹ کے مطابق، درختوں کی تقریباً 43 فیصد انواع براعظم جنوبی امریکا میں پائی جاتی ہیں جو کسی بھی دوسرے براعظم کے مقابلے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ 22 فیصد درختوں کے یوریشیا (ساتھ یورپ اور ایشیا) دوسرے نمبر پر، 16 فیصد کے ساتھ افریقہ تیسرے نمبر پر، 15 فیصد کے ساتھ شمالی امریکا چوتھے نمبر پر جبکہ درختوں کی محض 11 فیصد انواع کے ساتھ اوشنیا کا پانچواں نمبر ہے جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت، جنوبی نصف کرے کے کئی چھوٹے چھوٹے ممالک شامل ہیں۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    مختلف علاقوں میں ’’بایومز‘‘ کا محتاط موازنہ کرنے کے بعد ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ درختوں کی تقریباً 9,200 انواع آج بھی نامعلوم ہیں تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی تحقیق ہے جس کے تحت لگائے گئے اندازے محتاط ضرور ہیں مگر اِن کےلیے جو معلومات استعمال کی گئی ہیں انہیں کسی بھی طور پر مکمل نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اب بھی کئی علاقوں کے بارے میں محدود معلومات ہی دستیاب ہیں مطلب یہ کہ مستقبل میں اسی طرح کی دیگر تحقیقات سے بالکل مختلف اندازے بھی سامنے آسکتے ہیں۔

    ناسا نے خلا میں سبز مرچیں اُگا لیں