Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    میٹا نے کینیڈا میں صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے مطابق اس بارے میں میٹا نے پہلے آگاہ کیا تھا کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ رواں سال جون میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کینیڈا کے صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    میٹا کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کمپنیوں کے حوالے سے بنائے گئے نئے ’ آن لائن ایکٹ ’ کے نفاذ سے قبل کینیڈا کے صارفین کیلئے فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کردی جائے گی۔ اور وہ اس سے محروم ہوجائیں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    جبکہ خیال رہے کہ کینیڈا کی پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والا آن لائن نیوز ایکٹ گوگل پیرنٹ الفابیٹ اور میٹا جیسے پلیٹ فارمز کو کینیڈا کے نیوز پبلشرز کے ساتھ ان کے مواد کے لیے تجارتی معاہدوں پر بات چیت کرنے پر مجبور کرے گا۔

    کینیڈا میں میٹا کی پبلک پالیسی کی سربراہ ریچل کرن نے کہا ہے کہ نیوز آؤٹ لیٹس رضاکارانہ طور پر فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد شیئر کرتے ہیں تاکہ اپنے سامعین کو بڑھا سکیں اور ان کی نچلی لائن میں مدد کریں، اس کے برعکس ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پلیٹ فارم استعمال کرنے والے لوگ ہمارے پاس خبروں کے لیے نہیں آتے ہیں۔

  • واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے آڈیو کی طرح اب 60 سکینڈ تک ویڈیو میسج بھیجنے کا فیچر بھی متعارف کرا دیا ہے جس میں اگر آپ چیٹ کرتے ہوئے اچانک 60 سیکنڈ کی ویڈیو بھیجنا چاہتے تو وہ ظاہر ہوجائے گی اور خاموشی سے چلنے لگے گی اور جیسے ہی آپ ٹچ کریں گے اس کی آواز بھی کھل جائے گی۔

    مذکورہ عمل کو عین وائس ریکارڈنگ کی طرح آسان اور عام انداز میں بنایا گیا ہے اور وائس میسج آئیکون دبا کر رکھئے اور اس سے قبل فون پر ایپ کو ویڈیو موڈ میں لے جائیں تو ویڈیو ریکارڈ ہونے لگے گی۔ لہذا یوں وائس کی طرح اسے بھی لاک کیا جاسکتا ہے تاکہ ہاتھوں کو استعمال نہ کرنا پڑے اور یوں ہینڈزفری ویڈیو میسج ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    خیال رہے کہ پرائیویٹ میسجنگ اور کالنگ کی مدد سے آپ اپنی شخصیت کا اظہار کر سکتے ہیں، بلا تکلف باتیں کر سکتے ہیں اور اپنے لیے اہم لوگوں سے قریب ہونے کا احساس محسوس کر سکتے ہیں خواہ وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔ لہذا اب واٹس ایپ دن بدن نئی چیزیں لا رہا ہے کہ تاکہ وہ اپنے صارفین کو

  • گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے نئی پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیفشل اینٹیلجنس سے بنائے گئے ریویوز گوگل کی پالیسیوں کے خلاف ہیں لہذا انکی اجازت نہیں ہے اور ان کو اسپیم تصور کیا جائے گا۔ جبکہ گوگل کے مطابق صارفین ایسا کونٹینٹ دیکھیں تواپنی فیڈ میں موجود is_spam نامی فیچر کی مدد سے اس کی نشان دہی بطور اسپیم کریں۔

    گوگل کی طرف سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق آٹو میٹڈ کنٹینٹ کے بارے میں کہا گیاہے کہ کمپنی آٹومیٹڈ پروگرام یا آرٹیفشل اینٹیلجنس سےلکھے گئے ریویوز کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ہے، اگر کسی صارف کو ایسا کنٹینٹ دکھائی دے تو is_spam فیچرکا استعمال کرکے اسپیم مارک کردیا جائے، علاوہ ازیں گوگل کی پالیسی شر انگیز، نازیبا اور توہین آمیز مواد کے استعمال سے روکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    خیال رہے کہ گوگل کی جانب سے نئی اَپ ڈیٹ کی گئی پالیسی میں غیر قانونی کنٹینٹ، نقصان دہ لنک یا وہ لنک جو میلویئر، وائرس یا نقصان دہ سافٹ ویئر جیسے ہوں وہ سختی سے منع کئے گئے ہیں، مصنوعی ذہانت اور آٹو میٹڈ کنٹینٹ کی پروڈکٹ ریٹنگ پالیسیز 28 اگست 2023ء سے نافذ العمل ہوگی۔

  • تھریڈز انسٹاگرام ایپ میں فالوونگ فیڈ فیچر متحرک کردیا گیا

    تھریڈز انسٹاگرام ایپ میں فالوونگ فیڈ فیچر متحرک کردیا گیا

    میٹا نے تھریڈز ایپ کے لیے وہ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کا صارفین کی جانب سے سب سے زیادہ مطالبہ کیا جا رہا تھا جبکہ میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے اعلان کیا ہے کہ تھریڈز میں فالوونگ فیڈ کے فیچر کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس فیڈ میں صرف ان افراد کی پوسٹس نظر آئیں گی جن کو صارف فالو کر رہے ہوں گے۔

    اس تبدیلی کے بعد اب تھریڈز میں ٹوئٹر کی طرح 2 فیڈز فار یو اور فالوونگ نظر آئیں گی۔ فار یو فیڈ میں الگورتھم سسٹم صارف کی ممکنہ دلچسپیوں کو مدنظر رکھ کر مواد دکھانے کا کام کرے گا۔ کمپنی کے مطابق صارفین فار یو اور فالوونگ فیڈز کو تھریڈز آئیکون پر کلک کرکے ہائیڈ بھی کر سکتے ہیں۔

    آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کی تھریڈز ایپ میں یہ اضافہ بتدریج کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ مزید چند فیچرز بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ تھریڈز میں ٹرانسلیشنز فیچر کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جس کے ذریعے مختلف زبانوں کی پوسٹس کا ترجمہ دیکھنا ممکن ہوگا۔ تاہم خیال رہے کہ تھریڈز کو 5 جولائی کو متعارف کرایا گیا تھا اور 5 دن میں اس کے صارفین کی تعداد 10 کروڑ تک پہنچ گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ اسکریبل چیمپئن شپ: پاکستان کے عنایت اللہ نے لیٹ برڈ ٹورنامنٹ جیت لیا
    بحیرہ روم کے نو ممالک میں آگ بھڑک اٹھی
    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور
    پشاور،محرم الحرام کے موقع پر تمام ہسپتالوں میں طبی عملہ چوکس
    مگر ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹوئٹر کے مقابلے پر پیش کی جانے والی اس ایپ میں لوگوں کی دلچسپی میں کمی آرہی ہے۔ گزشتہ دنوں تھریڈز کو روزانہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو 7 جولائی کے مقابلے میں 70 فیصد کم ہے۔

  • انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ تیار

    انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ تیار

    انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ تیار

    دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہےکہ آئی فون کے بعد انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ اگلے ہفتے سے لانچ کی جارہی ہے۔ جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پرایک پیغام میں کمپنی کی جانب سےچیٹ جی پی ٹی ایپ کی لانچنگ کی اطلاع دیتے ہوئے کہا گیاکہ یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر موجود ہے ،لیکن ابھی اسے ڈاؤن لوڈ نہیں کیا جاسکتا ۔
    اوپن اے آئی نے بتایا کہ ایپ کے نیچے پری رجسٹر بٹن کو دبا کر آپ اپنی دلچسپی ظاہر کی جاسکتی جس کے بعد اس کے دستیاب ہونے پر آپ کو الرٹ مل جائے گا۔ کمپنی کے مطابق ایپ سے متعلق تفصیلات اس وقت مختلف کے مراحل میں ہیں لیکن ایپ کے اسکرین شاٹس اور تفصیل سے یہ اصل سافٹ ویئر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار
    تحفے میں ملنے والے جوتوں کی رقم سے زیادہ ٹیکس
    باربی فلم کی پنجاب میں پابندی کی خبروں کی تردید

    تاہم آپ ایپ کو مفت یا ادائیگی کرکے پلس چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹس کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب انسانی اندازوں سے زیادہ خطرناک سمجھی جانے والی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے جس سے متعلق ہزار سے زائد ٹیکنالوجی کے ماہرین مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

    یہاں تک کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اداروں سے کہا ہےکہ وہ زیادہ جدید اے آئی سسٹمز کی تیاری کو عارضی طور پر روک دیں۔ ایلون مسک نے یہ مطالبہ ایک کھلے خط میں کیا جو ان کے ساتھ ساتھ اے آئی ٹیکنالوجی کے ماہرین اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے افراد نے تحریر کیا۔

    خط میں کہا گیا کہ انسانی ذہانت کا مقابلہ کرنے والے اے آئی سسٹمز معاشرے اور انسانیت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں کینیڈین فلم ڈائریکٹر جیمز کیمرون کی، جنہوں نے مقبول فلم ‘دی ٹرمینیٹر’ 1984 (39 سال قبل) میں بنائی تھی، جس میں معروف اداکار آرنلڈ شوارتزنگر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔

    اب جیمز نے مصنوعی ذہانت کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ‘ٹرمینیٹر’ بنا کر آپ لوگوں کو تنبیہ کی تھی لیکن کسی نے دھیان نہ دیا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں جیمز کیمرون نے کہا کہ 1984 میں سائنس فکشن فلم ‘ٹرمینیٹر’ بنائی تھی اسے وارننگ کے طور پر لینا چاہیے تھا لیکن آپ لوگوں نے سنا نہیں،اگر مصنوعی ذہانت پر مشتمل ہتھیار بنائے گئے تو اس کے تباہ کن نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہم اسی طرح کی جنگ میں ہوں گے جیسے کہ آج کل جوہری ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اگر ہم مصنوعی ذہانت پر تخلیق روک دیں گے تو دوسرے لوگ اسے ضرور تخلیق کریں گے لہٰذا اب اس دوڑ میں اضافہ ہی ہوگا۔

    جیمز کیمرون کا کہنا تھا کہ جنگ کے میدان میں مصنوعی ذہانت اس قدر برق رفتاری سے کام کرے گی کہ انسان مداخلت کرنے کے لائق ہی نہیں رہیں گے جس سے کسی بھی قسم کے امن مذاکرات اور جنگ بندی کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر نے طنزیہ کہا کہ آئیے 20 سال انتظار کرتے ہیں اور اگر کوئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس بہترین اسکرین پلے کا آسکر جیتتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ تب ہم اسے سنجیدگی سے لیں گے۔ تاہم یاد رہے کہ فلم دی ٹرمینیٹر ایک ایسے سائبر قاتل پر بنائی گئی تھی جسے کمپیوٹر نے تیار کیا تھا ۔

  • پاکستانی سائنسدانوں نےلمبے چاولوں کی نئی قسم پیدا کرلی

    پاکستانی سائنسدانوں نےلمبے چاولوں کی نئی قسم پیدا کرلی

    اسلام آباد،باغی ٹی وی (ویب نیوز) پاکستانی سائنسدان سب سے لمبے چاولوں کی نئی قسم سونا سپر باسمتی پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، نئی قسم کے چاول کے دانے کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے۔
    رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کالا شاہ کاکو کے سائنسدانوں نے یہ کامیابی حاصل کر کے اپنے ہی ادارے کے تیار کردہ رائس ورائٹی PK 2021 کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جس کا دانہ 8.26 ملی میٹر لمبا تھا۔چیف سائنسداں سید سلطان علی اور ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو کی تیار کردہ چاولوں کی دو اقسام کو PARC میں منعقدہ ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی میں عام کاشت کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق چاولوں کی ایک قسم سونا سپر باسمتی ہے جو کہ اب تک کا سب سے لمبا باسمتی اناج ہے جس کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے جب کہ اسی ادارے کی تیار کردہ دوسری ورائٹی وائٹل سپر باسمتی کہلاتی ہے جو آئرن اور زنک کی زیادہ مقدار کی حامل ملک کی پہلی مضبوط ورائٹی ہے۔
    علاوہ ازیں RRI کالا شاہ کاکو نے موٹے چاولوں کی ملک میں پہلی نئی ہائبرڈ قسم KSK 2023 بھی متعارف کرائی ہے جس کی فی ایکڑ پیداوار 110 من حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاولوں کی یہ ہائبرڈ قسم 109 دن میں تیار ہوجاتی ہے۔

  • پہلے کیا آیا مرغی  یا انڈہ؟ماہرین نے نئی تحقیق میں جواب جان لیا

    پہلے کیا آیا مرغی یا انڈہ؟ماہرین نے نئی تحقیق میں جواب جان لیا

    ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ موجودہ عہد کے رینگے والے جانور (چھپکلی، سانپ اور دیگر)، پرندے اور ممالیہ جانداروں کے آباؤ اجداد انڈے دینے کی بجائے بچے کو جنم دیتے تھے۔

    باغی ٹی وی :دی گارڈین کے مطابق انڈا پہلے آیا یا مرغی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے یونانیوں کے بعد سے فلسفیوں کو پریشان کیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ہمارے پاس اس آسان سوال کا جواب ہے،یہ اطمینان بخش نتیجہ ایک ماہر پینل کیجانب سے کی گئی تحقیق تھی جس میں ایک فلسفی، ماہر جینیات اور چکن فارمر شامل تھے۔

    جرنل نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع بلاگ کے مطابق سائنسدانوں نے یہ جواب ایمفیبین (خشکی اور پانی میں رہنے والے جاندار جیسے مینڈک) اور lizards پر کی جانے والی ایک تحقیق میں دریافت کیاجس میں بتایا گیا کہ موجودہ عہد کے رینگے والے جانور (چھپکلی، سانپ اور دیگر)، پرندے اور ممالیہ جانداروں کے آباؤ اجداد انڈے دینے کی بجائے بچے کو جنم دیتے تھے۔

    پاکستان کےخودکار چیک کلیئرنگ سسٹم نِفٹ پر سائبر حملہ

    کنگز کالج لندن میں پینل کے رکن اور سائنس کے فلسفی ڈیوڈ پاپیناؤ نے کہا، "چکن کے انڈے مرغیوں سے پہلے تھے، یہ مرغی کے انڈوں کی نوعیت پر منحصر ہے میں بحث کروں گا کہ یہ مرغی کا انڈا ہے اگر اس میں مرغی ہے۔ اگر کینگرو ایک انڈا دے جس سے شتر مرغ نکلے تو وہ یقیناً شتر مرغ کا انڈا ہوگا، کینگرو کا انڈا نہیں اس استدلال سپہلا چکن واقعی مرغی کے انڈے سے آیا تھاحالانکہ وہ انڈا مرغیوں سے نہیں آیا تھا۔

    51 قدیم جانداروں اور 29 زندہ جانوروں پر تحقیق میں بتایا گیا کہ ممالیہ اور رینگے والے جانوروں کے ساتھ ساتھ پرندوں کے اجداد بھی بچوں کو اپنے بطن میں زیادہ وقت تک رکھتے تھے اب پرندے اور رینگنے والے جاندار انڈے دیتے ہیں مگر زمانہ قدیم میں ان کے ہاں بچوں کی پیدائش ممالیہ جانوروں کی طرح ہی ہوتی تھی۔

    طویل عرصے تک سائنسدان سخت چھلکوں والے انڈوں کو ارتقا کی ایک بہترین مثال تصور کرتے رہے ہیں مگر اس نئی تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ طویل عرصے تک بچوں کو بطن میں رکھنے والے جانوروں کو زیادہ تحفظ ملتا تھا۔

    محققین نے بتایا کہ لگ بھگ 32 کروڑ سال پہلے ایسے جانور ابھرنا شروع ہوئے جن کی جِلد واٹر پروف تھی اور وہ موسم کے مطابق خود کو ڈھالنے لگے اور پھر ان کے بچے انڈوں کے ذریعے پیدا ہونے لگے۔

    سعودی وزیر خارجہ کی تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات

    زمانہ قدیم کے فوسلز کے تجزیے سے انکشاف ہوا کہ اب انڈے دینے والے جاندار اس زمانے میں بچوں کو جنم دیتے تھے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ بتدریج انڈے دینے لگے تھے محققین کے مطابق بتدریج ان جانداروں کے تولیدی نظام میں تبدیلی آئی تاکہ وہ اپنے بچوں کو ماحول سے تحفظ فراہم کر سکیں۔

    تو اگر آپ سے پوچھا جائے کہ پہلے مرغی آئی یا انڈہ، تو اس نئی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے مرغی زیادہ بہتر انتخاب ہے۔

    واضح رہے کہ بچگانہ معمہ کا سب سے قدیم ریکارڈ شدہ حوالہ یونانی مورخ میسٹریس پلوٹارکس کے مضامین اور مباحثوں کے مجموعے سے ملتا ہے، جو 46AD میں پیدا ہوا تھا۔ مرغی یا انڈا پہلے آیا کے عنوان سے ایک حصے میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہ سوال پہلے سے ہی قائم ہے: "انڈے اور مرغی کے بارے میں مسئلہ، ان میں سے کون پہلے آیا، اس پہیلی کو عام بھی استعمال کیا جانے لگا-

    آیا پینل نے اس بحث کو حل کیا ہے، یہ واضح نہیں ہے، لیکن وہ چکن/انڈے کے درست آرڈر پر متفق تھےجان بروک فیلڈ، نوٹنگھم یونیورسٹی کے ایک ارتقائی جینیاتی ماہر نے کہا کہ اس حل میں قیاس آرائی کے واقعہ کو ایک ساتھ جوڑنا شامل ہےجس میں مرغیوں نےپہلی بار ارتقاء کیا تھا۔

    اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ،بچوں سمیت 40 افراد ہلاک

    وہ تصور کرتے ہیں کہ دو غیر مرغی کے والدین اکٹھے ہو رہے ہیں اور جینیاتی تغیر کی وجہ سے ایک نئی نسل کے پہلے فرد کو جنم دے رہے ہیں۔ پروفیسر بروک فیلڈ نے کہا کہ "پہلا مرغ اپنے والدین سے کسی جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے مختلف ہوا ہو گا، شاید یہ ایک بہت ہی لطیف تھا، لیکن ایک ایسا پرندہ جس کی وجہ سے یہ پرندہ واقعی مرغی ہونے کے لیے ہمارے معیار پر پورا اترنے والا پہلا تھا-

    انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح انڈے کے چھلکے کے اندر رہنے والے جاندار کا ڈی این اے وہی ہوتا جو مرغی میں ہوتا ہے، اور اس طرح وہ خود مرغی کی نسل کا ایک رکن بن جاتا ہے-

  • موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    سول: سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک پر موجود برف اندازہ لگائے گئے وقت سے 10 سال پہلے ہی مکمل طور پر پگھل سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ آنےوالی دہائیوں میں ستمبر کے مہینے سے شروع ہونے والے موسمِ گرما میں آرکٹک سمندر کی برف مکمل طور پرپگھل سکتی ہےاگر دنیا آج سے ہی زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کو بڑے پیمانے پر کم کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت 2050 کی دہائی تک جا سکتا ہے۔

    روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    محققین نے 1979 سے 2019 تک اس خطے میں برف میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لیا اور مختلف سیٹلائیٹ ڈیٹا اور کلائیمٹ ماڈلز کا موازنہ کیاتاکہ آرکٹک سمندر کی برف میں آنےوالی تبدیلی کا معائنہ کیا جائزے میں ان کو معلوم ہوا کہ سمندری برف کےکم ہونےکی بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جبکہ ماضی کے ماڈلز نے برف کے پگھلنے کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔

    ماہرین نے طویل عرصے سے 2050 تک آرکٹک کی برف کے تیرنے کے کم از کم ،کم سےکم سطح تک کم ہونےکاخدشہ ظاہر کیا ہے، جس کا خطرہ زیادہ ہے کیونکہ انسان زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتے ہیں۔ نئی تحقیق اگرچہ، یہ بتاتی ہے کہ کافی کم اخراج والے منظر نامے میں بھی جو کرہ ارض کی گرمی کو 2 ڈگری سیلسیس سے کم رکھتا ہے، 2050 کی دہائی میں موسم گرما میں آرکٹک سمندری برف کے بغیر باقاعدہ سال ہو سکتے ہیں۔

    ایمازون کے جنگلات میں طیارہ حادثہ،4 بچے معجزاتی طور پر 40 دنوں بعد زندہ مل …

    اخراج کی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی یہ رجحان بدتر ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بدترین صورت حال میں، اس بات کا امکان ہے کہ آرکٹک میں 2030 کی دہائی کے ساتھ ہی ستمبر میں برف نہ ہو، پچھلی تحقیق سے ایک دہائی پہلے اشارہ کیا گیا تھا۔

    جنوبی کوریا کی پوہینگ یونیورسٹی کے پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ مصنف سی انگ-کی مِن کے مطابق سائنس دان یہ جان کر حیران تھے کہ موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا باوجود اس کے کہ (کاربن) اخراج میں کمی کے لیے کتنی ہی کوشش کر لی جائے۔

    آرکٹک کی برف موسمِ سرما میں بڑھتی ہے اور پھر موسمِ گرما میں پگھل جاتی ہے اور یہ سائیکل دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ستمبر میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جاتی ہے۔

    پچاس کلو چاندی لوٹنے کے واقعہ میں پولیس ہی ملوث نکلی

    سی انگ-کی مِن کا کہنا تھا کہ ایک بار آرکٹک کی برف موسمِ گرما میں مکمل طور پر پگھل جائے، سمندری برف کا سردی کے موسم میں دوبارہ بڑھنا مزید سست ہوجائے گا۔ جتنی زیادہ گرمی بڑھے گی، یہ خطہ اتنا زیادہ موسمِ سرما میں بغیر برف کے رہے گا۔

  • جانوروں کی بائیومیٹرک؛ پاکستانی سافٹ ویئر انجنیئرز نے ناممکن کوممکن بنادیا

    جانوروں کی بائیومیٹرک؛ پاکستانی سافٹ ویئر انجنیئرز نے ناممکن کوممکن بنادیا

    کراچی میں اردو یونیورسٹی کے طالب علموں نے ایسا انوکھا سوفٹ ویئر بنایا ہے کہ اب جانوروں کی نہ صرف شناخت ہوگی بلکہ رجسٹریشن بھی ہو سکے گی جبکہ عموماً جانوروں کی شناخت کیلئے بچپن سے انکے کانوں میں سوراخ کر کے ٹیگ لگایا جاتا ہے جو کہ باعثِ تکلیف بھی ہے اور قابل اعتماد بھی نہیں تاہم پاکستانی سافٹ ویئر انجنیئرز کی جانب سے تیارکردہ ایپلیکیشن سے جانوروں کی نہ صرف شناخت بلکہ اس سے جانوروں کی تصدیق اور ڈیٹا بھی جمع کیا جا سکے گا۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والے سافٹ وئیرانجینئرسید عمید کہتے ہیں کہ ہم ایسے بلکل ایک پاسپورٹ کی طرز پر تیار کر رہے ہیں کیونکہ جس طرح دنیا میں ہر نفس کی ایک مختلف شناخت ہے اسی طرح ہم ہر جانور کو ایک الگ شناخت دینا چاہتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں سید عمید کا کہنا تھا کہ انسانوں کے فنگرپرنٹ کی طرح جانوروں کی ناک پرنٹ ہوتے ہیں تاہم اس حوالے سے ہم نے پانچ ہزارجانوروں پرتجربہ کیا اور سب کے نتائج سوفیصد حاصل ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    اس غیر معمولی ٹیکنالوجی کے استعمال سے لاپتہ جانوروں کو ڈھونڈنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ اس ریسرچ کے تحت جانوروں کو چوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑی سپورٹ مل جائے تو ملک سے باہرسروس دے کربھی بھاری زرمبادلہ کماسکتے ہیں۔ اس تحقیق کا احاطہ اس قدر وسیع ہے کہ اسے دیگر جانوروں مثلاً گھوڑوں، کتوں اور دیگر جانوروں پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایپلیکیشن کاباقاعدہ افتتاح عید سے 10 دن قبل یعنی چاند نکلنے پر کیا جائے گا جس کے زریعے سستے اور مہنگے جانوروں سے لیکر ہر قسم کے اعلیٰ نسل کے جانوروں کی شناخت کی جا سکتی ہے۔

  • فیس بک نےازخود دوستی کی درخواست بھیجے جانےکا مسئلہ حل کردیا

    فیس بک نےازخود دوستی کی درخواست بھیجے جانےکا مسئلہ حل کردیا

    فیس بک نےازخود دوستی کی درخواست بھیجے جانےکا مسئلہ حل کردیا

    میٹا کمپنی نے اپنی دنیا کی معروف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بعض صارفین کی جانب سے گزشتہ دنوں کی جانے والی شکایات کا ازالہ کردیا ہے ، جن میں کہا گیا تھاکہ ہم نے جن افراد کی فیس بک پروفائل وزٹ کی ،ان کوہماری طرف سے ازخود فرینڈ ریکویسٹ چلی گئی ۔

    غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک صارفین کی جانب سے ٹوئٹر پراس حوالے سے کئی ٹوئٹس بھی سامنے آئی تھیں، جس میں اسکرین شاٹس اورویڈیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ان کے اکاؤنٹس سے ازخود ان اکاؤنٹس پرفرینڈ ریکویسٹ چلی گئی ہے، جنہیں انہوں نے حال ہی میں وزٹ کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    میڈیا رپورٹس کے مطابق ان شکایات کے بعد میٹا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خرابی پر معذرت خواہ ہے، کمپنی نے فوری طور پر اس خرابی کا نوٹس لیا اور اب اس خرابی کو ٹھیک کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فیس بک صارفین اس مسئلے کے سبب اپنی پرائیویسی سے متعلق فکر مند تھے،اصل میں یہ ایک بگ تھا ،اوربگ کی شکایت پاکستان ، بنگلا دیش، فلپائن اورسری لنکا کے صارفین نے دی تھی۔