Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    اسلام آباد :ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن اور چائنا موبائل پاکستان(Zong) کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں کے لئے MOU پر دستخطوں کی تقریب منعقد ہوئی گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں ایس سی او سب سے بڑی اور نمایاں ترین ٹیلی کام سروسز مہیا کرنے والی کمپنی ہے۔

    تقریب میں ایس سی او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شاہد صدیق ،زونگ کے سی ای او وانگ ہوا، زونگ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر لو جیان ہوئی اور ایس سی او اور زونگ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    نادرا نے ڈیٹا ہیکنگ سے متعلق ریمارکس پر ایف آئی اے عہدیدار سے وضاحت طلب کر لی

    معاہدے کے تحت زونگ اپنی سٹریٹجک سرگرمیوں کے ذریعے ایس سی او کے تعاون سے کام کرے گی کیونکہ SCO آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں پہلے سے ہی بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔ ایسے ہی SCO بھی وسیع البنیادرول آﺅٹ پلان کے لئے زونگ کو بیک ہال کنیکٹوٹی کی فراہمی کرے گی۔

    دونوں اداروں کو پہلے سے ہی مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے جس کا آغاز 2008 میں ہوا تھا 2011میں دونوں اداروں کے درمیان رومنگ کے منصوبے پر بھی عملدرآمد ہوا تھا۔

    حتساب عدالت اسلام آباد کے ایک اور جج نے چیئرمین نیب کو خط لکھ دیا

    اس موقع پر میجر جنرل شاہد صدیق نے کہا کہ آج ہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے اشتراک عمل کو بڑھا رہے ہیں تاکہ ہم مل کر گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو رابطوں کی خوب سے خوب تر سہولتیں فراہم کر سکیں اور ہماری خواہش ہے کہ دوسری سیلولر کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہم گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو جدید دور کی وہی سہولتیں فراہم کر سکیں جو پاکستان کے بڑے شہروں کو حاصل ہیں۔

    پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ

  • موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    گزشتہ چند سالوں میں موبائل فونز نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ہر انسان وہ چاہے دنیا کا امیر ترین شخص ہو یا غریب ریڑھی والا، کوئی ملٹی نیشنل فرم میں کام کرنے والی خاتون ہو یا پھر گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ، ستر سال سے زائد عمر کا بوڑھا انسان ہو یا کوئی بچہ ہو آپ کو ہر ایک سمارٹ فون استعمال کرتا ضرور نظر آئے گا۔ یہاں تک کہ اب یہ انسانوں کی ضرورت سے زیادہ ایک عادت بن گیا ہے کہ ہر انسان نے اس کو تمام وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے آخری کام یہی ہوتا ہے کہ فون پر آئے تمام نوٹیفکیشنز کولازمی چیک کرنا ہے اسی طرح صبح اٹھ کر بھی سب سے پہلے موبائل چیک کرنا ہے کہ کہیں کوئی ضروری میسج تو نہیں آیا۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون یا سمارٹ فون کی جگہ اب کوئی نیا Gadget ہو جو یہ تمام کام کرے جو سمارٹ فون کرتا ہے۔ اب ایسے Gadget کا ہمیں انتظار نہیں کرنا کہ وہ کب ایجاد ہو گا اور کب ہم تک پہنچے گا بلکہ وہ Gadget بن بھی چکا ہے اور وہ مارکیٹ میں دستیاب بھی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جیسے سمارٹ فون رکھنا اب انسانوں کی مجبوری بن چکا ہے تو کیا یہ نیا Gadgetبھی اسی طرح ہماری زندگیوں میں اپنی جگہ بنا سکے گا یا نہیں۔۔۔سمارٹ فون ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کے ساتھ ہم اپنے دن کا زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور جس کے ہمارے استعمال میں آنے کے بعد بہت سی ایسی ڈیوائسز ہیں جو کہ ہم نے اب استعمال کرنا چھوڑ دی ہیں۔ جیسے Wrist watches،Cameras،Alarm clock اور چارج لائٹ وغیرہ۔۔۔ اب دنیا بھر میں کروڑوں لوگ الارم کلاک کی بجائے موبائل الارم استعمال کرتے ہیں جو وقت دیکھنے کے لئے گھڑی کا استعمال نہیں کرتے بلکہ فون پر وقت دیکھ لیتے ہیں بلکہ کلینڈر بھی فون پر ہی کھول کر دیکھا جاتا ہے۔ کیمروں کی جگہ بھی موبائل فون کا کیمرہ ہی استعمال ہوتا ہے اب کیمرے صرف پروفیشنل لوگ خریدتے ہیں ورنہ ہر ایک کے ہاتھ میں آپ کو سمارٹ فون کا کیمرہ ہی نظر آئے گا۔ اب کوئی بھی ٹارچ لائٹ الگ سے اپنے پاس نہیں رکھتا بلکہ موبائل میں موجود ٹارچ سے کام چلایا جاتا ہے۔ سٹاپ واچ اور آڈیو ریکارڈر بھی موبائل میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ آج کل کے بچوں نے ہو سکتا ہے کہ کاغذوں پربنے ہوئے نقشے کبھی دیکھے ہی نہ ہوں لیکن ان کو سمارٹ فون میں موجود گوگل میپ کا ضرور پتہ ہے کہ وہ کیسے استعمال کرنا ہے۔ خواتین نے الگ سے اپنے ہینڈ بیگز میں شیشہ رکھنا چھوڑ دیا ہے شیشے کا کام بھی سمارٹ فون کی ڈسپلے سکرین یا پھر فرنٹ کیمرے سے لیا جاتا ہے۔ I-pod اور ریڈیو کا کام بھی سمارٹ فونز نے ہی سنبھال لیا ہے۔ یہاں تک بہت سے ایسے کام جو ہم پہلے صرف کمپیوٹرز پر کرتے تھے ان کے لئے بھی اب ہم سمارٹ فون ہی استعمال کرتے ہیں جیسے ای میلز کے لئے، آن لائن شاپنگ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسمارٹ فونز نے ہمارا تصور ہی بدل دیا ہے کہ فون ہوتا کیا ہے اور اب وہ صرف کال کرنے والی سادہ ڈیوائس نہیں، درحقیقت ایک اسمارٹ فون مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا منی کمپیوٹر ہے جسے ہم اپنی زندگیوں میں بہت سارے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن اب فیس بک نے ایک ایسی ایجاد کی ہے جو کہ بہت ہی حیران کن ہے۔ جس طرح پہلے بہت سارے Gadgetsکے فنکشنز سمٹ کر ایک سمارٹ فون میں آگئے تھے ویسے ہی اب فیس بک نے گلاسز بنانے والی بہت ہی مشہور کمپنی Ray Banکے ساتھ مل کر ایسے گلاسز تیار کئے ہیں جس میں وہ سب فنکشنز ایڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ہم اپنے سمارٹ فونز سے کرتے ہیں۔

    فیس بک کے ان اسمارٹ گلاسز کا نام Ray ban storiesہے۔ یہ اسمارٹ گلاسز دیکھنے میں عام چشمے جیسے ہی نظر آتے ہیں مگر ان سے اسمارٹ فونز جیسے کافی کام کیے جاسکتے ہیں۔
    ان اسمارٹ گلاسز میں پانچ پانچ میگا پکسل کے دو کیمرے موجود ہیں جن سے ہاتھ کا اشارہ کرکے تصاویر کھینچی جاسکتی ہیں اور ویڈیو بھی ریکارڈ کی جاسکتی ہیں۔ ساتھ ہی دونوں کیمروں کی مدد سے یوزر 3D effectsکو تصویروں اور ویڈیوز ایپ میں اپ لوڈ کرکے ایڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور ان تصویروں اور ویڈیوز کو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام پر شیئر بھی کیا جا سکتا ہے۔ لائیو اسٹریم اور فیس بک پاور اے آئی سے اور بھی بہت سے کام کئے جا سکتے ہیں۔ اسمارٹ گلاسز میں کیمرے کے ساتھ ساتھ سپیکر اور مائیکروفون بھی ہے جس سے ہم گلاسز کے ذریعے فون کال بھی سن سکیں گے اور اس پر اپنی پسند کا میوزک بھی سنا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی ان گلاسز کے یہ تمام فنکشنز استعمال کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کو کسی آئی او ایس یا اینڈرائیڈ ڈیوائس سے کنکٹ کیا جائے اور فیس بک کی نئی View appکی مدد سے رے بین گلاسز سے کھینچی جانے والی تصاویر یا ویڈیوز یا میڈیا فائلز کو فونز میں ٹرانسفربھی کیا جاسکتا ہے۔اور استعمال میں یہ سمارٹ گلاسز اتنی ہلکی ہیں کہ ان کا وزن پچاس گرام سے بھی کم ہے اور یہ Leather Hard shell charging caseکے ساتھ ملتے ہیں اور کمپنی کا دعوی ہے کہ سمارٹ گلاسز کی بیٹری پورا دن کام کرتی ہے۔

    گلاسز میں 2 بٹن بھی ہے جن میں سے ایک میڈیا ریکارڈ کرنے کا کام کرتا ہے اور دوسرا آن آف سوئچ ہے۔گلاسز کی رائٹ سائیڈ میں ایک ٹچ پیڈ ہے جس سے مختلف کام جیسے Volume adjustmentیا فون کال ریسیو کی جا سکتی ہے۔گلاسز میں کمیرے کے ساتھ وائٹ ایل ای ڈی لائٹ ہوتی ہے جو ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے آن ہو جاتی ہے جس سے آس پاس موجود لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ویڈیو ریکارڈ کی جارہی ہے۔یہ اسمارٹ گلاسز ابھی واٹر پروف نہیں ہیں توان کو استعمال کے دوران پانی سے بچانا ہوگا۔یہ اسمارٹ گلاسز رے بین کے 3 کلاسیک اسٹائلز میں دستیاب ہیں اور مختلف رنگوں اور lens کے ساتھ خریدے جاسکتے ہیں۔ اور ان گلاسز کو نظر کے چشمے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔2020میں فیس بک کی آمدنی86 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی جس کے بعد کمپنی اپنا زیادہ ترسرمایہVirtual and augmented realityپر لگا رہی ہے۔Virtual realityدراصل ایک ایسا تجربہ ہے جو انسانوں کو ڈیجیٹل چیزوں کو حقیقت سے قریب تر دکھانے کے ساتھ انہیں محسوس بھی کرواتا ہے۔اس کے علاوہ اسمارٹ گلاسز میں Virtual assistantکی خصوصیت بھی ہے جس کے ذریعے ہاتھ کا اشارہ کیے بغیراستعمال کرنے والا صرف اپنی آواز کی مدد سے ہی تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتا ہے۔لیکن ان سمارٹ فونز کی طرح ان گلاسز کو ہم ہر جگہ استعمال نہیں کر سکتے اس کے حوالے سے فیس بک نے ایک مکمل گائیڈ لائن بھی جاری کی ہے جس کے مطابق ان گلاسز کو نجی مقامات مثلا باتھ روم وغیرہ میں استعمال کرنا منع ہے اس کے علاوہ اسے غیر قانونی عمل جیسے ہراساں کرنا یا حساس معلومات یعنی پن کوڈز وغیرہ کے حصول کے لیے استعمال کرنا بھی منع ہے۔بہت سے فنکشنز تو ابھی بھی ان گلاسز میں ایڈ ہیں لیکن آنے والے دنوں میں یہ سپر گلاسز یاداشت کو بڑھانے، غیر ملکی زبانوں کا فوری ترجمہ، ارگرد ہونے والی بات چیت یا آوازوں کو کانوں میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایک نظر میں انسان کے جسمانی درجہ حرارت کے بارے میں بھی بتانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔Facial recognationکی ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ اسمارٹ گلاسز ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کی بنیاد پر سامنے والے شخص کو نہ صرف پہچان سکیں گے بلکہ اس کی دیگر معلومات تک رسائی بھی حاصل کر سکیں گے۔جس کی وجہ سے ان سمارٹ گلاسز پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ دوسروں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے انھیں تنگ کر سکیں۔ لیکن فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی ایشو سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اور ان کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کے لئے جو ضروری اقدام ہوں گے وہ لازمی کئے جائیں گے۔ان سمارٹ گلاسز کو بنانے والے سائنسدانوں کے مطابق اے آر ٹیکنالوجی پر مبنی یہ گلاسز بہت جلد اسمارٹ فون کی جگہ لے لیں گے اور روزمرہ کی کمپیوٹنگ ڈیوائس بن جائیں گے۔ خاص طور پر دس سے پندرہ سال کے اندر لوگ اب فونز کی جگہ یہ اسٹائلش چشمے ہی پہننا پسند کریں گے۔جس کے بعد ہم کہہ سکیں گے کہ جیسے سمارٹ فون نے دوسرے Gadgetsکو نگل لیا تھا اور ان کی ضرورت ختم کر دی تھی اسی طرح اب آنے والے سالوں میں انسانوں کی صرف سمارٹ فونز پر Dependenceختم ہو جائے گی۔ اور ابھی تو صرف گلاسز ایجاد ہوئے ہیں جبکہ چانسز تو یہ بھی ہیں کہ آنے والے سالوں میں اور بھی Smart gadget ایجاد ہو جائیں جو کہ سمارٹ فون پر ہمارا انحصار بالکل ختم ہی کر دیں۔

  • اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    اٹلی نے ایمیزون اور ایپل پرغیرمسابقتی رویہ اپنانے کے الزام میں 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "اے پی” کے مطابق اٹلی کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی واچ ڈاگ نے امریکی ٹیک کمپنیوں ایپل اورایمیزون کو ایپل اور بیٹس کی مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی مخالف تعاون کے الزام میں مجموعی طور پر 200 ملین یورو($ 225 ملین) سے زیادہ کا جرمانہ کیا ہے۔

    اطالوی مسابقتی اتھارٹی نے منگل کو کہا کہ ایک تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ایمیزون اور ایپل کے درمیان 2018 میں ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت دونوں کمپنیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مصنوعات کی فروخت میں مقابلہ نہ کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔

    جس کی وجہ سے اٹلی میں ایمیزون کی ویب سائٹ پر صرف مخصوص ری سیلرز کو اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ اطالوی حکام کے مطابق، اس عمل سے مارکیٹ میں غیرمسابقتی روحجان کو فروغ ملا ہے۔

    واچ ڈاگ نے کہا کہ کمپنیوں کے درمیان معاہدے تحت صرف منتخب بیچنے والوں کو ہی ایمازون کی ویب سائٹ پر ایپل اور بیٹس کی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور قیمتوں پر مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔

    واچ ڈاگ نے ایپل پر 134.5 ملین یورو ($151.32 ملین) جرمانہ اور ایمیزون پر 68.7 ملین یورو ($77.29 ملین) جرمانہ عائد کیا اس نے انہیں پابندیاں ختم کرنے اور ری سیلرز کو "غیر امتیازی انداز” میں رسائی دینے کا بھی حکم دیا۔

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    دوسری جانب ایپل اور ایمیزون دونوں نے کہا کہ وہ اپیل کریں گے۔

    ایمیزون نے کہا کہ "مجوزہ جرمانہ غیر متناسب اور بلاجواز ہے۔” "ہم ICA کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں کہ ہمارے اسٹور سے فروخت کنندگان کو چھوڑ کر ایمیزون کو فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ ہمارا کاروباری ماڈل ان کی کامیابی پر انحصار کرتا ہے۔

    ایپل کمپنی نے کہا کہ وہ اطالوی مسابقتی اتھارٹی کا احترام کرتی ہے "لیکن یقین ہے کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔”

    ایپل نے کہا کہ منتخب ری سیلرز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے صارفین کی حفاظت میں مدد ملتی ہے کیونکہ یہ یقینی بناتا ہے کہ مصنوعات حقیقی ہیں۔

    ایپل نے کہا، "غیر حقیقی مصنوعات کمتر تجربہ فراہم کرتی ہیں اور اکثر خطرناک ہو سکتی ہیں۔” "ہمارے صارفین حقیقی مصنوعات کی خریداری کو یقینی بنانے کے لیے، ہم اپنے ری سیلر پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ہمارے پاس دنیا بھر کے ماہرین کی ٹیمیں ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں، کسٹمز اور تاجروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہیں کہ ایپل کی صرف حقیقی مصنوعات ہی فروخت کی جائیں۔”

  • ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    امریکی کمپنی ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا خطاب چھین لیا-

    باغی ٹی وی : شیاؤمی کو عالی سطح پر چیپس کی قلت کا سامنا اور دوسری کمپنیوں سے سخت مقابلے سے اس کی رینکنگ پر اثر پڑا چینی کمپنی نے اپریل سے جون کے دوران ہی امریکی کمپنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری بڑی اسمارٹ فون کی کمپنی ہونے کا تاج چھینا تھا۔

    کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ اور کینالیز کے مطابق اسمارٹ فون بزنس کو سپلائی چین کے ساتھ سیمی کنڈکٹرز کی قلت کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جو اگلی آدھی شماہی تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔

    شیاؤمی کی جانب سے 23 نومبر کو جاری سہ ماہی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ اس کا اسمارٹ فون بزنس سیمی کنڈکٹرز کی قلت کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوا ہے ایسی توقع کی جارہی ہے کہ چپس کا بحران 2022 کی اولین ششماہی کے دوران بھی برقرار رہ سکتا ہے۔

    شیاؤمی کے صدر وانگ شیانگ نے سہ ماہی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر بتایا کہ رواں سال خصوصی بیک گراؤنڈ کا حامل ہے اور عالمی سطح پر پرزہ جات کی کمی بھی ہے جو کہ ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے۔

    چینی کمپنی شیاؤمی نے 2021 کی تیسری سہ ماہی میں 4 کروڑ 39 لاکھ اسمارٹ فونز دنیا بھر میں فروخت کیے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد کم ہیں یاد رہے شیاومی 2024 میں الیکٹرک گاڑیوں کی پروڈکشن بھی شروع کرنے والی ہے۔

    جون کے بعد سے شیاؤمی کو سپلائی چین کے مسائل کا سامنا ہوا اور کاؤنٹر پوائنٹ کے ریسرچ ڈائریکٹر ترون پاٹھک نے بتایا کہ اگرچہ اس قلت نے تمام کمپنیوں کو متاثر کیا مگر شیاؤمی کے لیے یہ زیادہ بڑا درد سر ہے جس کی وجہ اس کے متعدد ماڈلز ہیں۔

    تیسری سہ ماہی کے دوران کمپنی نے 50 سے زیادہ مختلف اسمارٹ فون ماڈلز مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیے، جس کی وجہ سے اسے بہت زیادہ تعداد میں پرزہ جات کی ضرورت پوتی ہے۔

    دوسری طرف ایپل کو اپنے مخصوص ماڈلز کی وجہ سے زیادہ مسئلے کا سامنا نہیں ہوا اور وہ تیسری سہ ماہی میں دوبارہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ایپل کو آئی فون 13 سے بھی فائدہ ہوا اور اس نے تیسری سہ ماہی کے دوران اس کا عالمی مارکیٹ شیئر 15 فیصد رہا جو شیاؤمی سے ایک فیصد زیادہ ہے۔

    تاہم شیاؤمی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے حل کے بعد وہ دوبارہ ایپل کو پیچھے چھوڑ کر اپنی پوزیشن واپس لے گا جبکہ ان کا مقصد اور حدف سام سنگ کو پیچھے چھوڑنا ہے، جس کے بعد وہ دنیا کی پہلی اسمارٹ فون کمپنی بن جائے گی۔

  • روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پر مل کر کام کرنے کے لیے تیار ، مشترکہ خلائی مشن سیارہ زہرہ پر بھیجا جائے گا جس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : روس نومبر 2029 میں مشن سیارہ وینس پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے مشن کو ابتدائی طور پر امریکہ اور روس کے مشترکہ مشن کے طور پر ہی پلان کیا گیا تھا لیکن گزشتہ سال روس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیاتھا کہ اب یہ صرف روس کا قومی مشن ہےاور کوئی بین الاقوامی اشراک اس میں شامل نہیں ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    اب ایک بار پھر روسی خلائی تحقیقی ادارے روسکوسموس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کر وینس کی جانب ایک خلائی مشن بھیجا جائے گا۔

    اس ادارے کے سربراہ کے مطابق اس طرح معاشی کے علاوہ تیکنیکی حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنا بھی آسان ہو جائے گا سیارہ وینس کے ماحول کا مطالعہ کرنے اور مٹی کے نمونے جمع کرنے لیے ایک مشن 2031 اور ایک اور مشن 2034 میں بھیجے گا وینس نظام شمسی میں ہمارے نزدیک ترین سیارہ ہے اور اس کا سائز بھی ہماری زمین کے قریب برابر ہی ہے تاہم اس کی سطح کا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

  • رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    دنیا کی مہنگی ترین اور پر تعیش کاریں بنانے والی امریکی کمپنی رولز رائس نے اب دنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 387.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار رکھنے والے کے طیارے کو کمپنی نے اسپرٹ آف انوویشن کا نام دیا ہے، کمپنی کے مطابق 16 نومبر کو ٹیسٹ پرواز کے دوران طیارے نے مجموعی طور پر 3 ریکارڈز بنائے ہیں۔یہ دنیا کی تیز ترین الیکٹرک سواری ہے۔

    کمپنی نے بتایا کہ 16 نومبر کو ٹیسٹ پرواز کے دوران اس طیارے نے مجموعی طور پر 3 ریکارڈز بنائے جس میں 345.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 1.86 میل کا راستہ طے کرنا ہے اس طیارے نے 300 میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار پر برطانوی وزارت دفاع کی فوجی ٹیسٹنگ سائٹ پر 9.32 میل کا سفر کیا، جو سابقہ ریکارڈ سے 182 میل فی گھنٹہ زیادہ ہے۔

    ان اعدادوشمار کو عالمی گورننگ باڈی فیڈریشن ایروناٹیکل انٹرنیشنل (ایف آئی اے) کے پاس تصدیق کے لیے جمع کرایا گیا ہےیہ طیارہ 400 کلوواٹ الیکٹرک پاور ٹرین کی مدد سے پرواز کرتا ہے جبکہ سب سے بہترین پاور بیٹری پیک کو بھی اس کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    رولز رائس کے فلائٹ آپریشن ڈائریکٹر نے طیارے کو ٹیسٹ پرواز پر اڑایا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے کیرئیر کا اہم ترین لمحہ تھا۔کمپنی کے سی ای او وارن ایسٹ نے کہا کہ دنیا کے تیز ترین الیکٹرک طیارے کا ریکارڈز ایک زبردست کامیابی ہے۔

    برطانیہ کے بزنس سیکرٹری کواسی کوارٹنگ نے کہا کہ یہ طیارہ برقی پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایسی ٹیکنالوجیز کو ان لاک کرنے میں مدد کرے گا جن کو ہم روزمرہ کی زندگی کا حصہ بناسکیں گے۔

  • مراکش:انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت

    مراکش:انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت

    شمالی افریقی ملک مراکش کے ساحل سے انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت ہوئے ہیں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ زیورات ڈیڑھ لاکھ سال پرانے ہیں یہ دریافت رباط میں مراکشی آثار قدیمہ ادارے، ایریزونا یونیورسٹی اور یورپ افریقا کی بحیرۂ روم کی لیبارٹری پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مراکش میں محققین نے جمعرات کو ایک لاکھ 42 ہزار سال اور ایک لاکھ پچاس ہزار سال کے درمیان قدیم ترین زیورات کی نقاب کشائی کی، یہ زیورات ملک کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ساحلی شہر الصویرہ کے بیزمون غاروں میں دریافت ہوئے۔

    مراکشی ماہر آثار قدیمہ عبدالجلیل بوزوگرکے مطابق یہ دریافت سوراخ شدہ اور سیاہی والے 30 سمندری خولوں پر مشتمل ہے، یعنی انسانوں نے ان خولوں پر آئرن آکسائیڈ سے بھرپور سرخ مادہ لگایا تھا سرخ مٹی کے رنگ سے رنگے ہوئے چھوٹے سوراخوں والی سیپیوں سے بنے کئی ہار اور کنگن ملے ہیں، جو چند ہفتے قبل الصویرہ کے قریب بیزمون غار میں پائے گئے تھے –

    انہوں نے کہا کہ یہ سیپیاں ڈیڑھ لاکھ سال پرانی ہیں، فی الحال اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا میں سب سے قدیم ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں نے ان سیپیوں کو آپس میں یا دوسرے لوگوں کے گروہوں کے ساتھ بات چیت کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مراکش اور انسانیت کے لیے ایک بڑی دریافت ہے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دریافت ہونے والے ہاروں میں سے کچھ کو قدیم زمانے میں مواصلات کی ایک شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

    محققین کے مطابق مراکش میں دنیا کے قدیم ہومو سیپیئنز (ارتقا کے دوران بالکل ابتدائی انسان) سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی باقیات دریافت ہوئی تھیں، جو 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے تھے، انھیں 2017 میں فرانسیسی محقق ژاں ژاک ہوبلن کی ٹیم نے جبل الرحود میں دریافت کیا تھا۔

  • چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل    تحقیق

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

    جارجیا: چٹکی بجاتے ہی مسئلہ حل ہونے کا محاورہ ہم اکثر سنتے ہیں لیکن سائنسی تحقیق کی رو سے چٹکی بجانا سب سے تیز رفتار عمل بھی ہے۔

    باغی ٹی وی :جارجیا ٹیک کے طالب علموں نے یہ تحقیق کی ہے جسے رائل سوسائٹی انٹرفیس کے جرنل میں شائع کیا گیا اس تحقیق میں جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے چٹکی بجانے کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس کی طبیعیات کو نئے سرے سے کھوجا ہے۔

    سائنس دانوں نے انتہائی تیزعکس نگاری، خودکار امیج پروسیسنگ، ڈائنامک فورس سینسر اور دیگر ٹیکنالوجی سے چٹکی بجانے کے عمل کو دیکھا اور سمجھا۔ اس کے علاوہ انگلیوں کی رگڑ کو سمجھنے کے لیے ان پر پلاسٹک اور دھات وغیرہ بھی لگائی گئی۔

    جہاز میں دوران سفر مسائل ،حادثات کی نشاندہی اور فوری رپورٹ کے لئے ایپ متعارف

    تحقیق کے مطابق چٹکی بجانے کے عمل کو یوں سمجھیے کہ اس کا اسراع (ایسلریشن) اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ چٹکی کا انگوٹھا صرف سات ملی سیکنڈ میں ہتھیلی کو چھولیتا ہے جو پلک جھپکانے سے بھی تیزعمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق انگلی اور انگوٹھے کے بیرونی جلد کی درمیانے درجے کی رگڑ (فرکشن) سے چٹکی کی آواز پیدا ہوتی ہے لیکن اس عمل میں گھماؤ کا اسراع خود بیس بال بلے باز سے بھی زیادہ ہوتا ہے اس مشاہدے سے مصنوعی ہاتھوں اور بازؤں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اس طرح وہ انسانی ہاتھوں سے مزید قریب ہوسکیں گے۔

    ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    ماہرین نے نوٹ کیا کہ عام حالات میں چٹکی بجانے کے عمل میں روٹیشنل ولاسٹی 7800 ڈگری فی سیکنڈ اور روٹیشنل ایسلریشن 16 لاکھ ڈگری فی مربع سیکنڈ ہوتا ہے یعنی صرف سات ملی سیکنڈ میں ان انگوٹھا پھسل کر ہتھیلی پر جالگتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس عمل سے مزید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی راہ ہموار ہوگی۔

    تحقیق میں شامل سائنس داں سعد بھملا نے بتایا کہ یہ تحقیق روزمرہ کی سائنس اور انسانی تجسس کو بھی ظاہر کرتی ہے جس سے دریافت کے نئے راستے کھلتے ہیں۔

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

  • 580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا

    580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا

    19 نومبر کو مختلف ممالک میں رواں صدی کا طویل ترین ‘جزوی’ چاند گرہن ہوگا۔

    باغی ٹی وی : درحقیقت یہ 580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین جزوی چاند گرہن ہوگا مگر پاکستان میں اس کا نظارہ ممکن نہیں ہوگا جزوی چاند گرہن لگ بھگ مکمل چاند گرہن جیسا ہی ہوگا یعنی چاند کا 97 فیصد حصہ زمین کے سائے کی زد میں ہوگا۔

    یہ جزوی چاند گرہن 6 گھنٹوں سے کچھ زیادہ وقت برقرار رہے گا اور چاند 3 گھنٹے 28 منٹ 24 سیکنڈ زمین کے سائے کے تاریک ترین حصے سے گزرے گا، جس کی وجہ سے یہ 1441 کے بعد سے اب تک کا جزوی چاند گرہن ہوگا اور اس صدی کا بھی طویل ترین گرہن ہوگا۔

    یہ جزوی چاند گرہن شمالی امریکا، روس، جنوبی امریکا آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ حصوں میں آج یعنی 19 نومبر کی شب نظر آئے گا گرہن کا یہ عمل پاکستانی وقت کے مطابق جمعے کی دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر شروع ہوگا اور سہ پہر 3 بج کر 47 منٹ تک عروج پر ہوگا۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت چاند اپنے مدار میں زمین سے سب سے دور ہوگا جس کی وجہ سے اس کی گردش کی رفتار ہمارے سیارے کے سائے سے گزرتے ہوئے سب سے کم ہوگی مثال کے طور پر مئی 2021 میں چاند گرہن کا دورانیہ 5 گھنٹے 2 منٹ تھا جس کے دوران مکمل چاند گرہن یا زمین کے سائے سے چاند کے گزرنے میں 2 گھنٹے 53 منٹ لگے۔

    گرہن کے دوران چاند سورج کی طرح مکمل تاریک نہیں ہوتا بلکہ سورج کی کچھ روشنی زمین کے ماحول سے گزرتی ہے جس کے باعث چاند سرخی مائل نظر آتا ہےاس سرخ رنگ کی وجہ سے اسے بلڈ مون بھی کہا جاتا ہے۔

  • جہاز میں دوران سفر مسائل ،حادثات کی نشاندہی اور فوری رپورٹ کے لئے ایپ متعارف

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے جہاز میں دوران سفر مسائل، حادثات رپورٹ کرنے کیلئے ایپ متعارف کرا دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پی سی اے اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ‘ولنٹیئری ہیزارڈ/ انسیڈنٹ رپورٹنگ سسٹم’ کے نام سے اینڈرائیڈ ایپ گوگل پلے اسٹور میں دستیاب ہوگی ایپ رپورٹنگ کے لیے وسیع پہلووں کا احاطہ کرے گی، جس میں ‘خطرات، واقعات، حادثات، نقصان، کمی، خلاف ورزی، ناکامی اور سروسز’ شامل ہیں۔

    پی سی اے اے نے کہا کہ اس ایپ کا مقصد عوام، ایوی ایشن سے منسلک افراد کے لیے آسان اور دوستانہ وسائل فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مسائل، خطرات اور سیفٹی مسائل فوری رپورٹ کرپائیں اس ایپ کو جہاز اور ایئرپورٹس میں کسی بھی ممکنہ خطرے یا واقعے سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے واقعات یا خطرات کی رپورٹنگ کرنے والا فرد فائل، تصاویر اور دیگر متعلقہ دستاویزات بھی اپ لوڈ کرسکتا ہے جو واقعے کے ثبوت کے طور پر پیش ہوسکتےہیں رپورٹ کرنے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنا ان کی اپنی صوابدید ہوگی۔

    ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ کر دیا

    بیان میں بتایا گیا کہ یہ اقدام اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے عام لوگوں، پروازوں کے مسافروں اور ایوی ایشن سےمنسلک لوگوں کو ایوی ایشن کے سیفٹی ماحول کا حصہ بنانے کی کوششوں میں شامل ایک قدم ہے پی سی اے اے کا ماننا ہے کہ ایوی ایشن سیفٹی ہر ایک کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے سیفٹی مسائل کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی اور اپنی کارکردگی اور معیار بہتر کرنے کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں خطرات کی رپورٹنگ کے لیے پی سی اے اے کی ویب سائٹ پر ایک فارم بھی دستیاب ہے۔

    میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے،معروف کمپنی کا پاکستان میں…