Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    دور حاضر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر متحرک ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے مثبت اثرات ہیں وہیں پر ایک تعداد اپنی منفی سوچ اور عوامل سے سوشل میڈیا سے منسلک لوگوں کے لئے تکلیف اور منفیت کا بھی باعث ہے۔
    ذاتی حیثیت میں کوئی بھی چیز بُری نہی ہوتی جبتک اُس میں منفی عوامل کی آمیزش نہ کر دی جائے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ایک مضبوط اور وسیع پلیٹفارم مہیا کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کُچھ منفی سوچ کے حامل لوگوں کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی برائی کے اثرات سے بچ نہ پایا۔
    سوشل میڈیا پر مرد و زن اپنی صلاحیات کو بروئےکار لانے میں یکساں طور پر متحرک اور اپنی قابلیت کی نکھار میں مصروفِ عمل ہیں۔
    لیکن ایک بڑی تعداد اُن خواتین کی بھی ہے جو سوشل میڈیا پر موجود اوباش نوجوانوں کے منفی عوامل کی شکار نظر آتی ہیں اور بعظ اوقات انہی ہراسانی کیوجہ سے کنارہ کشی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دنیا کے بائیس مختلف ممالک کی لڑکیوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹفارمز میں سے فیس بُک پر سب سے سے زیادہ خواتین کو بدسلوکی کاسامنا نوٹ کیا گیا ہے۔

    ایک عالمی سروے کے مطابق آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے لڑکیاں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنےپر مجبور ہورہی ہیں۔ اس سروے میں شامل 58 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کے مطابق انہیں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسٹاگرام، واہٹس ایپ اور سنیپ چیٹ کا نمبر ہے۔
    پلان انٹرنیشنل نامی تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں 22 ممالک میں 15 سے 22 برس کی عمر کی 14000 لڑکیوں سے بات کی گئی۔ اس میں امریکا، برازیل، یورپین ممالک اور بھارت کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔  ادارے کے مطابق ان لڑکیوں سے تفصیلی گفتگو کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بدسلوکی کا یہ سلسلہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی بدولت نوجوان اور ٹیلینٹڈ لڑکیوں کی بڑی تعداد خود یا اپنی فیملی کی وجہ سے سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوئیں

    فیس بُک
     سوشل میڈیا پر خواتین پر بد سلوکی اور ہراسانی ایک عام بات تصور کی جاتی ہے۔ فیس بک پر یہ حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔  39 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق انسٹا گرام پر 23 فیصد، واہٹس ایپ پر 14 فیصد، اسنیپ چیٹ پر 10 فیصد، ٹوئٹر پر 9فیصد اور ٹک ٹاک پر6 فیصد لڑکیوں کو  ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کا رجحان پایا گیا ہے۔ جو بتدریج بڑھ رہا ہے

    کوئی سوشل میڈیا محفوظ ہے؟
    سروے سے اندازہ ہوا کہ بدسلوکی یا ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک لڑکی نے سوشل میڈیا کا استعمال یا تو بند کردیا یا اسے بہت حد محدود کردیا۔ سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد ہر دس میں سے ایک لڑکی کے اپنی رائے کے اظہار کے طریقہ میں بھی تبدیلی آئی۔
    سروے میں شامل 22 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ یا ان کی سہیلیوں نے ہراسانی کے خوف کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
    سروے میں شامل 59 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرحملے کا سب سے عمومی طریقہ توہین آمیز، غیر مہذب اور نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال تھا۔  41 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ارداتاً شرمندہ کرنے کے اقدامات سے متاثر ہو کر کنارہ کش ہوئیں، حتیٰ کہ باڈی شیمنگ‘ اور جنسی تشدد کے خطرات کے خوف نے اُنہیں مجبور کر دیا۔ اسی طرح 39 فیصد نسلی اقلیتوں پر حملے، نسلی بدسلوکی کی شکار ہوئیں۔

    خود اعتمادی کو زوال
    پلان انٹرنیشنل کی سی ای او اینی بریگیٹ البریکسٹن کا کہنا تھا کہ ”اس طرح کے حملے جسمانی نہیں ہوتے لیکن وہ لڑکیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور سوشل ایکٹیویٹی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ان کے اعتماد محدود کردیتے ہیں۔

    اینی بریگیٹ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو آن لائن تشدد کا خود ہی مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    فیس بک اور انسٹا گرام انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بدسلوکی سے متعلق رپورٹوں کی نگرانی کرتے ہیں اور دھمکی آمیز مواد کا پتہ لگانے کے لیے آرٹیفیشل یا فہمی انٹلی جینس کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
    ٹوئٹر کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایسی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جو توہین آمیز مواد کی نشاندہی کرسکے اور اسے روک سکے۔
    سوشل میڈیا مینجمنٹ کے اِن اقدامات کے باوجود مذکورہ بالا سروے  سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے والی تکنیک اب تک اُس طرح سے موثر نہیں رہی۔
    چنانچہ مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اِس اخلاقی اور قانونی جُرم کی روک تھام کی جا سکے۔
    اس کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں کے اعتماد اور ہمت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ ہر آنے والے چیلنج کے ساتھ کامیابی سے نمٹ سکیں۔ شکریہ

  • سائبرحملہ:نیشنل بینک کی ملک بھر میں خدمات روک دی گئیں

    سائبرحملہ:نیشنل بینک کی ملک بھر میں خدمات روک دی گئیں

    کراچی: سائبر حملے کے بعد نیشنل بینک کی ملک بھر میں خدمات روک دی گئیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدر نیشنل بینک عارف عثمانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہیکرز نے کل رات کو حملہ کیا تھا اور ہیکرز نے نیشنل بینک کے مائیکرو سافٹ والے سسٹم کو ہیک کر لیا۔

    یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    انہوں نے کہا کہ ہیکرز نیشنل بینک کے مین سرور میں گھسنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور نیشنل بینک کے تمام کمپیوٹر نظام کو ماہرین ڈس انفیکٹ کر رہے ہیں۔

    عارف عثمانی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، این بی پی اور نجی کمپنیز کے آئی ٹی ماہرین نظام بحال کر رہے ہیں اور وہ گزشتہ رات سے مسلسل کام کر رہے ہیں امید ہے پیر تک کامیاب ہوجائیں گے-

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار نئے ٹریڈنگ سسٹم پر منتقل

    انہوں نے کہا کہ پیر تک کامیابی نہ ملی تو آئسولیٹ کر کے سسٹم اور بینک سروسز جاری رکھیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ماہر نے کہا کہ نیشنل بینک پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جیسا سائبر اٹیک ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) پر ہیکرز کے حملے کے نتیجے میں ایف بی آر کی طرف سے آپریٹ کی جانے والے تمام سرکاری ویب سائٹس بند ہوگئیں تھیں ایف بی آر کے ڈیٹا بیس میں کھربوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور شہریوں کے اثاثوں، آمدنی و اخراجات کی حساس تفصیلات موجود تھیں-

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

  • چین: سمندر سے 43 کروڑ 50 لاکھ  سال قدیم دیو قامت بچھو کی باقیات دریافت

    چین: سمندر سے 43 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم دیو قامت بچھو کی باقیات دریافت

    شنگھائی: سائنسدانوں نے جنوب مشرقی چین کے علاقے ’’شیوشان فارمیشن‘‘ سے 43 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم سمندری بچھو کے فوسلز دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنس بلیٹن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ بچھو شاید اپنے زمانے کا ایک خونخوار سمندری درندہ بھی تھا ماہرین کے مطابق چین کا یہ علاقہ آج سے 43 کروڑ سال پہلے سمندری تہہ میں، قطب جنوبی سے کچھ دوری پر واقع تھا جو آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہوا اپنی موجودہ حالت تک پہنچ گیا۔

    شیوشان فارمیشن سے دریافت ہونے والے اس قدیم و معدوم بچھو کا نام ’’مکسوپٹیرڈ یورپٹیرڈ‘‘ (mixopterid eurypterid) رکھا گیا ہے جو ایک میٹر (39 سینٹی میٹر) سے بھی زیادہ لمبا ہوا کرتا تھا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    یہاں سے مکسوپٹیرڈ بچھو کے کئی فوسلز مل چکے ہیں جن کے تفصیلی معائنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کروڑوں سال قدیم جانور غیرمعمولی طور پر آج کے بچھو جیسا تھا، لیکن جسامت میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔

    اس کے دیگر جسمانی خدوخال کی بنیاد پر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سمندر میں رہنے والا ایک بے رحم شکاری تھا جو چھوٹے سمندری جانوروں کو اس طرح جکڑ لیتا تھا کہ جیسے انہیں کسی ٹوکری میں بند کردیا گیا ہو۔

    اس سے قبل ایک تحقیق میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ہئیت میں ہونے والی اس تبدیلی سے جانوروں کو بقا حاصل ہو بھی رہی ہے یا نہیں لہٰذا اس تبدیلی کو مثبت نہیں بلکہ خطرے کی گھنٹی سمجھنا چاہیے، کہ موسمیاتی تبدیلی اتنے مختصر عرصے میں جانوروں کو جسمانی تبدیلی پر مجبور کررہی ہے۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • جاپانی فیکٹری میں لفٹ کے ہزار بٹنوں والی دیوار تیار

    جاپانی فیکٹری میں لفٹ کے ہزار بٹنوں والی دیوار تیار

    جاپان کی ایک معروف لفٹ بٹن فیکٹری نے اپنے تمام بٹن ایک دیوار پر لگا دیئے ہیں جنہیں وہ آرڈر پر بناتی رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق دیوار پر تقریباً ایک ہزار بٹن لگائے گئے ہیں بٹنوں کا یہ سیٹ کمپنی کی تاریخ اور ترتیب کو ظاہر کرتا ہے، جو 1933 میں قائم ہوئی تھی۔ کمپنی کے اندر نصب ایک بہت بڑے پینل میں ایک ہزار سے زیادہ بٹن لگے ہوئے ہیں انہیں دیکھنے آنے والے شائقین انہیں دبا کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

    پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    اس کمپنی کا نام شیماڈا ڈانکی سیساکوشو ہے جو 88 سال سے لفٹ کے بٹن بنا رہی ہے اور ان کے بنائے گئے تمام بٹنوں کی مکمل تاریخ اس بورڈ پر دیکھی جا سکتی ہےان بٹنوں کو دیکھنے کے لیے آنے والے بچے دھاتی پینل پر ان بٹنوں کو دبا کر دیکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں ۔ بٹن دبانے کے ساتھ ہی یہ روشن ہو جاتا ہے جیسے یہ لفٹ کا اصل پینل ہو دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بٹنوں کی دیوار کو دیکھنے کے لیے اس قدر رش ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ درخواست دینے پڑتی ہے ۔

    سعودی کمپنی آرامکو کی مالی قدر میں اضافہ، امریکی کمپنی ایپل کو دباؤ کا سامنا

    کمپنی کا کہنا ہے کہ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ بٹن پریسنگ مقابلہ بھی کروائے گی جسے بٹن پریسنگ میراتھن کا نام دیا جائے گا جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کمپنی کے دورے کی درخواست کی ہے اور اب کمپنی کے پاس اگلے سال جون تک کی تاریخ نہیں ہے۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

  • ائیر موٹر بائیک کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ائیر موٹر بائیک کی کامیاب آزمائشی پرواز

    اڑنے والی کار کے بعد اڑنے والی موٹربائیک کی آزمائشی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :یہ تجربہ ٹوکیو میں قائم ڈرونز کا کاروبار کرنے والی کمپنی اے ایل آئی ٹیکنالوجیز نے کیا ،یہ موٹرسائیکل 60 میل فی گھنٹہ(100 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے 40 منٹ تک سفر کر سکتی ہے اور اسے آئندہ سال فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا۔

    اڑنے والی اس موٹربائیک کی ابتدائی قیمت 6 لاکھ82 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے اور اس پر ایک فرد بیٹھ سکتا ہے کمپنی فی الحال صرف 200 موٹر سائیکل بنائے گی جو2022 کے پہلے چھ ماہ میں فروخت کیے جائیں گے۔ ایک موٹرسائیکل کا وزن300 کلوگرام ہے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=zblqct6bPvQ
    تجرباتی پرواز کے دوران موٹر سائیکل زمین سے کئی فٹ اوپراور تقریباً ڈیڑھ منٹ تک پرواز کرتا رہا اس کے پہیوں کی جگہ ہیلی کاپٹر کی طرز کے اسٹینڈ لگائے گئے ہیں یہ موٹرسائیکل اڑنے والی ان چند گاڑیوں میں سے ہے جو اس وقت مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

    ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ یہ موٹر سائیکل سمندر میں حادثات سے لوگوں کو بچانے میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھنے کی خوبی ہے وہیں اس میں ایک خامی یہ ہے کہ پرواز کے وقت شور بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پرواز کا مشاہدہ کرنے والوں کو ایئرپلگ دیئے گئے تھے۔

    اے ایل آئی ٹیکنالوجیز کے مطابق موٹرسائیکل میں ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو پرواز کے دوران اس کا توازن برقرار رکھتی ہے۔

    جولائی 2021 میں کیلیفورنیا میں بھی اڑنے والی اسپیڈر سائیکل کی کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی تھی، جو15ہزار فٹ کی اونچائی تک پہنچ سکتی ہے اور فی الحال اس کی قیمت3 لاکھ 80 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے۔ کمپنی اس سائیکل کو 2023 میں ڈیلیور کرنے کے لیے آرڈر بھی بک کر رہی ہے۔

    جبکہ جولائی میں ہی لوواکیا میں مقیم کمپنی کلین ویژن کی اُڑنے والی گاڑی یا فلائنگ کار کے ایک آزمائشی کامیاب تجربہ کیا تھا نیترا اور براٹیسلاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان ایک گھنٹہ 35 منٹ کی پرواز کامیابی سے مکمل کی تھی –

    اس کےموجد پروفیسر سٹیفن کلین نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کار ایک ہزار کلومیٹر اور 8200 فٹ کی بلندی پر اُڑ سکتی ہے اسے کار کی خصوصیات سے ہوائی جہاز کی خصوصیات حاصل کرنے میں صرف دو منٹ 15 سیکنڈ لگتے ہیں-

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

  • موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    معروف ایپ واٹس ایپ نے یکم نومبر سے مخصوص آپریٹنگ سسٹم کے آئی فونز اور اینڈرائیڈ کے لیے اپنی سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ سب سے زیادہ مقبول انسٹنٹ میسجنگ ایپ میں سے ایک ہے۔ بہت سے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین اپنے دوستوں اور فیملی ممبرز کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن، اگر آپ آپریٹنگ سسٹم کے پرانے ورژن پر چلنے والا اینڈرائیڈ یا آئی او ایس اسمارٹ فون استعمال کررہے ہیں، تو آپ اگلے ماہ سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گےواٹس ایپ نے ان ڈیوائسز کی فہرست شیئر کی ہے جو یکم نومبر 2021 سے واٹس ایپ میسجنگ ایپ کو مزید سپورٹ نہیں کریں گی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یکم نومبر سے واٹس ایپ کی سروسز سے محروم ہونے والوں 53 موبائل فونز میں آئی فون، سیم سانگ، ایل جی، سونی، ذیڈ ٹی اے اور دیگر شامل ہیں واٹس ایپ انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد آئی او ایس 9 اور اینڈرائیڈ 4.04 سے پہلے کے آپریٹننگ سسٹم پر واٹس ایپ نہیں چلے گا۔

    رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے ہدایت کی ہے کہ اگر صارفین واٹس ایپ کی سروسسز اور ڈیٹا سے محروم نہیں ہونا چاہتے تو ورژن اپ ڈیٹ کرلیں اگر آپ کا فون اینڈرائیڈ اپ گریڈ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور آپ نے ایسا نہیں کیا ہے تو یہ الگ مسئلہ ہے۔ اس صورت میں، صرف سیٹنگز مینو پر جائیں اور "فون کے بارے میں چیک کریں کہ کون سا اینڈرائیڈ ورژن چل رہا ہے۔ اگر اپ ڈیٹ کا کوئی آپشن دستیاب ہے تو واٹس ایپ کا استعمال جاری رکھنے کے لیے اسے دبائیں۔

    آئی فون صارفین کے لیے واٹس ایپ صرف iOS 10 یا اس سے اوپر کے ورژن پر کام کرے گا اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کی فہرست جو واٹس ایپ سپورٹ سے جاری کی گئی ہے اس میں ایپل، سام سنگ، ایل جی، زیڈ ٹی ای، ہواوے، سونی اور الکاٹیل جیسے برانڈز کے اسمارٹ فونز شامل ہیں۔

    واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل موبائل فونز پر یکم نومبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

    موبائل فونز کی فہرست:

    Apple Phones : iPhone SE, iPhone 6S, and iPhone 6S Plus

    Samsung Phones: Samsung Galaxy Trend Lite, Galaxy Trend II, Galaxy SII, Galaxy S3 mini, Galaxy Xcover 2, Galaxy Core and Galaxy Ace 2

    LG Phones: Lucid 2, LG Optimus F7, LG Optimus F5, Optimus L3 II Dual, Optimus L5, Optimus L5 II, Optimus L5 Dual, Optimus L3 II, Optimus L7, Optimus L7 II Dual, Optimus L7 II, Optimus F6, Enact, Optimus L4 II Dual, Optimus F3, Optimus L4 II, Optimus L2 II, Optimus Nitro HD, 4X HD and Optimus F3Q

    ZTE Phones: ZTE Grand S Flex, ZTE V956, Grand X Quad V987 and ZTE Grand Memo

    Sony Phones: Xperia Miro, Sony Xperia Neo L and Xperia Arc S

    Huawei Phones: Ascend G740, Ascend Mate, Ascend D Quad XL, Ascend D1 Quad XL, Ascend P1 S, and Ascend D2

    Alcatel،Archos 53 Platinum،HTC Desire 500،Caterpillar Cat B15،Wiko Cink Five،Wiko Darknight،Lenovo A820:Other UMi Run
    THL W8،F1،X2،smartphones،

  • فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا استعمال، والدین کی اجازت ضروری

    فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا استعمال، والدین کی اجازت ضروری

    آسٹریلیا : مجوزہ قانون کے تحت16 سال سے کم عمر بچوں کو فیس بک اور انسٹاگرام میں لاگ ان ہونے کیلئے اپنے والدین کی اجازت ضروری ہوگی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا میں اس قانون کا اطلاق فیس بک، انسٹاگرام، ریڈٹ، اونلی فینز، بومبل، واٹس ایپ اور زوم پر ہوگا ان تمام کمپنیوں کو صا رفین کی عمر کا درست تعین کرنے اور والدین کی اجازت کو یقینی بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

    آسٹریلیا میں اب بھی فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کرنے کیلئے13 سال سے زائد عمر ہونا ضروری ہے اورعمر کا صحیح تعین کرنے کیلئے مذکورہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔

    واٹس ایپ کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

    رپورٹس کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سوشل میڈیا کمپنیوں پر آسٹریلیا میں20 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور اب جرمانے کو بڑھا کر ایک کروڑ ڈالر کیا جا رہا ہے نئے قانون کا مقصد رضامندی کے بغیر بچوں کی معلومات دینے کو روکنا ہے۔

    مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز کے رازداری کے موجودہ طریقے بچوں اور کمزور افراد کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، بشمول اشتہاری مقاصد کے لیے ڈیٹا شیئر کرنا یا نقصان دہ ٹریکنگ، پروفائلنگ یا ٹارگٹڈ مارکیٹنگ۔

    مواصلات کے وزیر پال فلیچر نے آج پارلیمنٹ کو بتایا کہ آن لائن پرائیویسی کوڈ ‘بچوں اور دیگر صارفین کے تحفظ کو مضبوط کرے گا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی توثیق کرنے کے لیے تمام معقول اقدامات کرنے ہوں گے۔

    فیس بُک نے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو خوشخبری سنا دی

    پال فلیچر نےکہا کہ اس قانون کے تحت دیگر بڑے آن لائن آپریٹرز جیساکہ ایمازون، گوگل اور ایپل کے لیے بھی نئے اصول بنائے جائیں گے، جن کے 25 لاکھ سے زیادہ آسٹریلوی صارفین ہیں۔

    بل میں کہا گیا کہ قانون کے تحت صارفین کمپنی سے اپنی ذاتی معلومات حاصل کرسکیں گے اور کسی کمپنی کو روک سکیں گے کہ وہ اس کی معلومات تیسرے فریق کو نہ دے۔ تاہم، قانون صارفین کو یہ حق نہیں دے گا کہ وہ کمپنی سے اپنی معلومات کو ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کریں۔

    ان مجوزہ قوانین کے تحت، ای سیفٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ آن لائن پوسٹ کیے گئے ہتک آمیز مواد کے دعووں کی چھان بین کرے اور سروس فراہم کرنے والوں کو نوٹس جاری کرےاگر نوٹس جاری ہونے کے 48 گھنٹوں کے دوران پوسٹس کو نہیں ہٹایا گیا تو مواد پوسٹ کرنے والے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ہتک عزت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

    بل میں کہا گیا کہ قانون سازی سے آزادی اظہار رائے کا حق محدود ہونے کا امکان ہے، لیکن یہ صارفین کو آن لائن ہراسانی اور بدسلوکی سے بچانے کیلئے ضروری ہے۔

    انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار نئے ٹریڈنگ سسٹم پر منتقل

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار نئے ٹریڈنگ سسٹم پر منتقل

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا کاروبار نئے ٹریڈنگ سسٹم پر منتقل ہوگیا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق جدید نظام کی بدولت مارکیٹ کا کاروباری دورانیہ آدھا گھنٹہ بڑھ گیا ہے نئے ٹریڈنگ سسٹم کا نام ڈی ٹی ایس ہے، جسے چین کے شینجن اسٹاک ایکسچینج سے خریدا گیا ہے۔

    ایبٹ آباد:نجی ہسپتال میں بیک وقت پیدا ہونے والے سات بچوں میں سے چھ انتقال کر گئے

    ڈی ٹی ایس میں بلٹ ان رسک مینجمنٹ سسٹم ہے اور یہ پورے دن کے کاروبار کا حساب کتاب ایک منٹ سے کم وقت میں کردے گا مارکیٹ کا پرانا سسٹم کیٹس یہ کام 30 منٹ میں مکمل کرتا تھا۔

    دبئی میں مقیم پاکستانی ارب پتی بن گیا

    تاہم اب اس نئے سسٹم سے وقت کی بچت کے سبب آج سے کاروبار کا دورانیہ 30 منٹ اضافی ہوگا نئے ٹریڈنگ سسٹم کو تقریباً 10 مہینوں سے ٹیسٹ کیا جارہا تھا۔

    ٹی 20 ورلڈکپ، پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان کی جیت:بھارتی چینل سٹار سپورٹس نے نیا اشتہار "موقع موقع” جاری…

    لاہور:مبینہ طورپرپولیس اہلکاروں نے تاجر کو لوٹ لیا

    کالعدم تنظیم اپنے وعدے پورے کرے تو حکومت بھی پور ے کرے گی ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور

    وزیراعظم سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا "سوشل ٹروتھ” لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کا "سوشل ٹروتھ” لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سوشل میڈیا نیٹ ورک لانے کا اعلان کیا جو لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا۔

    باغی ٹی وی :ڈونلڈ ٹرمپ نومبر 2016 سے جنوری 2021 تک امریکا کے 45 ویں صدر رہے تاہم ان کی صدارت کے بعد ان کی نفرت انگیز اور غلط معلومات کی پوسٹس کی وجہ سے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب نے ان کے اکاؤنٹس بند کردیے تھے۔

    ٹوئٹر نے 9 جنوری 2021 کو ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بند کرکے ان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی جب کہ فیس بک نے 7 جنوری 2021 کو ان کے اکاؤنٹس بند کردیئے تھے جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” سوشل ٹروتھ” متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جو لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا ہے-

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے ’ٹروتھ سوشل‘ کو ہیک کرکے اس پر ’سوئر‘ کی تصویر شیئر کرنے کے بعد ڈونلڈ جے ٹرمپ بھی لکھا اخبار کے مطابق نا معلوم ہیکرز کی جانب سے یہ اقدام نفرت کے خلاف آن لائن جنگ کا حصہ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا

    ہیکرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا نیٹ ورک کی ویب سائٹس کے متعدد اکاؤنٹس کو بھی ہیک کیا، جس میں سابق نائب صدر مائیک پینس بھی شامل ہیں۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اکتوبر کا نیا سوشل میڈیا نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ نئی سوشل میڈیا کمپنی اس شعبے میں ٹوئٹر اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر دے گی۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئی سوشل ایپلی کیشن شروع کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایسی دنیامیں رہ رہے ہیں جہاں طالبان کے بڑی تعداد میں ٹوئٹر اکاﺅنٹ موجود ہیں لیکن آپ کے پسندیدہ امریکی صدر کو خاموش رکھا گیا ہےمجھے خوشی ہے کہ جلد ہی میں ٹروتھ سوشل پر اپنا پہلا سچ شیئر کروں گا۔ ٹی ایم ٹی جی کی بنیاد اس مشن کے ساتھ رکھی گئی ہے کہ سب کی آواز کو جگہ دی جائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکوں گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے مطابق ’ٹروتھ سوشل‘ کا آزمائشی ورژن نومبر کے اختتام تک امریکی صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا جب کہ اسے مکمل طور پر 2022 کی پہلی سہ ماہی میں متعارف کرایا جائے گا۔

    دوسری طرف تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نئی سوشل میڈیا کمپنی قائم کرکے دراصل 2024ءمیں ہونے والے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں-

  • کرپٹو کرنسی اور معیشت تحریر محمّد عثمان

    کرپٹو کرنسی اور معیشت تحریر محمّد عثمان

    کرپٹو کرنسی ہمیشہ سے ہی لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنی رہی ہے ۔ اور بٹ کوائن کے بارے میں ایلون مسک کے ٹویٹس کے بعد  تو دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ساتھ بٹ کوائن کی قیمت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔

    بٹ کوائن جو کبھی صرف ٹیکنالوجی سیکھنے والوں کے لیے ایک چیز تھی اب غیر تکنیکی لوگوں کے لیے بھی عام علم ہے۔ کرپٹو کرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں دنیا کے کئی ممالک کا نقطہ نظر بدل گیا ہے۔ 

    جب کرپٹو کرنسی کی پہلی کوائن بٹ کوائن متعارف کروائی گئی تھی تو لوگ مشکل سے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو سمجھتے تھے۔ لیکن اب، ہر عام شخص کرپٹو کرنسی کے بارے میں جانتا ہے- 

    ٹیکنالوجی کی کی دوڑ میں پاکستان دنیا سے بہت پیچھے پایا جاتا ہے دل کے حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن وقار زقا وہ واحد شخص تھا جس نے پاکستانی عوام کو کرپٹو کرنسی کے بارے میں بتایا اور سکھایا  پاکستان میں بغیر کسی وجہ کے کرپٹو کرنسی پر پابندی کے خلاف اکیلا لڑا اور اس وقت پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو لے کر پاکستانی عوام میں کافی دلچسپی اور روشن مستقبل کی امید پائی جاتی ہے کہ کرپٹو کرنسی ان کی تقدیر بدل دے گی مگر اب بھی ایسے جاہل لوگ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو جائے گی-

    اب تو یہ کہاوت بھی پُرانی لگتی کہ دنیا چاند پر پہنچھ گئی ہے لیکن ہم لوگ ہیں کہ ٹیکنالوجی پر پابندی لگا رہے ہماری حکومت میں بیٹھے لوگوں کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ چیز انہیں ہرگز نہیں بھاتی جو ان کی عقل سے بہت وسیع ہو جسے یہ لوگ سمجھنے سے قاصر ہوں-

    جہاں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کا تھنک ٹینک کریپٹو کرنسی کو لے کر کافی پُر امید ہے کہ کرپٹو کرنسی سے معیشت میں مثبت تبدیلی آئےگی اور ہماری حکومت کرپٹو کرنسی پر پابندی کی طرف جارہی ہے-

    بھارت 2012 سے اپنی ڈیجیٹل کرپٹوکرنسی پر کام کر رہا ہے جن میں Zebpay, Coindelta, BTCXIndia, Laxmicoin, OM, CoinDCX شامل ہیں-

    جن میں سے بیشتر کرپٹو کوائن بھارت میں لاؤنچ بھی ہو چکی ہیں اور پاکستانی حکومت ابھی تک اسی کشمکش میں ہے کہ  پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی TENUP کا کیا کیا جائے؟ ایک طرف حکومتی زرائع سے کرپٹو کرنسی پر پاکستان میں پابندی لگانے کی خبریں آرہی ہیں اور دوسری طرف TENUP کی لاؤنچنگ کی بات  ہو رہی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کرپٹو کرنسی مائن کرنے پر بھی پابندی لگائے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    خدارا کچھ تو چھوڑ دیں اس بےروزگار عوام کے لیے

    مہنگائی پر تو اس حکومت پر قابو پایا نہیں جا رہا ۔ روزگار فراہم کرنے کی زمینداری حکومت کی ہوتی ہے یہ بات بھول کر بس مہنگائی کیے جارہی ہے بس یہی ایک کام پوری ایمانداری سے کر رہی ہے ۔ 

    پاکستان کی پریشان حال عوام پر رحم کیجئے عمران خان صاحب اگر آپ اس عوام کو روزگار دے نہیں سکتے تو چھینے بھی مت کرپٹو کرنسی نارمل investment سے نارمل income کا بہترین زریعہ ہے ۔ مانا شروعات میں جب لوگ پاکستانی روپیہ بیچ کر ڈالر خریدے گے اس وقت پاکستانی روپے کی قدر میں کمی آئےگی لیکن مستقبل میں روپے کی قدر بڑھ جائے گی جس وقت لوگ ڈالر بیچ کر روپیہ خریدے گے 

    مارکیٹ کا اصول ہے کہ اپنی کوئی چیز دے کر آپ دوسرے سے کوئی چیز لی جاتی ہے-

    جس سے اس چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے اور وہ چیز مہنگی ہوجاتی ہے 

    خریدی جانے والی چیز ہمیشہ valueable ہوتی ہے

    خرید کے بدلے دی جانے والی چیز devalue ہو جاتی ہے. 

    کرپٹو کرنسی روپے کی قدر میں بے پناہ اضافہ لائے گی

    صرف آپ نے تھوڑا سا انتظار کرنا ہے اس وقت کا جب لوگ ڈالر کو روپے میں ایکسچینج کرینگے

    اور وہ وقت جلدی آئے گا جب لوگ ڈالر کو روپے میں ایکسچینج کرنے کے باد کسی دکان سے چینی لینے جائے گے پاکستانی دکاندار ڈالر نہیں پاکستانی روپیہ لیتے ہیں۔

     

    Twitter @UsmanKbol

    Email @Usmankbol3@gmail.com