Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ناسا 20 سال سے زائد عرصہ میں پہلی بار سب سے بڑے چاند گینیمڈ کی انتہائی قریبی تصویر لینے میں کامیاب

    ناسا 20 سال سے زائد عرصہ میں پہلی بار سب سے بڑے چاند گینیمڈ کی انتہائی قریبی تصویر لینے میں کامیاب

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے جونو مشن نے جوپیٹر (مشتری) کے چار چاندوں میں سے ایک گینیمیڈ کی تصاویر بھیجی ہیں۔

    باغی ٹی وی : مشتری نظام شمسی کا سب سے بڑا قدرتی سیارچہ اور سب سے بڑا چاند ہے یہ تصاویر تقریباً ایک ہزار کلو میٹر کے فاصلے سے لی گئی ہیں گذشتہ 20 سال سے زیادہ عرصے کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خلائی جہاز گینیمیڈ کے اتنا قریب پہنچ پایا ہے۔


    جونو مشن کے لیے یہ ایک بہترین موقع تھا اس کے مقاصد میں مشتری پر تحقیق شامل ہےجوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر یا جوس مشتری کے دو گیلیلیئن چاند (كاليستو اور یوروپا) کے قریب سے گزرے گا اس کے بعد یہ گینیمیڈ کے مدار میں داخل ہوجائے گا۔ یہ مشن سنہ 2032 میں متوقع ہے۔

    جونو سے موصول ہونے والی تصاویر میں انتہائی باریکی سے اس بڑے چاند کو دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گینیمیڈ کی سطح پر شگاف ہیں۔

    ان تصاویر کا موازنہ ناسا کے مشن گلیلیو (1995 سے 2003) اور وائجر (1979) کی تصاویر سے کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وقت کے ساتھ گینیمیڈ میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

    سان انٹونیو میں واقع ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے جونو کے مرکزی محقق سکاٹ بولٹن کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ ایک نسل کے دوران یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی خلائی جہاز اس عظیم چاند کے اتنا قریب پہنچا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سائنسی نتائج اخذ کرنے سے قبل اپنا وقت لیں گے۔ لیکن تب تک ہم خلا میں موجود اس چیز پر تعجب کرسکتے ہیں

    گینیمیڈ، کالستو اور یوروپا کے متعلق حیران کُن بات یہ ہے کہ ان سب میں ممکنہ طور پر اپنی برفیلی سطح کے نیچے پانی کے سمندر ہیں۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ وہ جونو کی جانب سے لی گئی گینیمیڈ کی رنگین تصاویر جلد جاری کریں گے۔

  • سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    رومانیہ: سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ آج سے تقریباً ایک کروڑ سال پہلے زمین پرایک اتنی بڑی جھیل بھی تھی جس کا رقبہ موجودہ بحیرہ احمر زیادہ تھا۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق سائنسدان اس جھیل کو ’’پیراٹیتھیس سی میگا لیک‘‘ کے نام سے جانتے ہیں جو غالباً زمین کی تاریخ میں سب سے بڑی جھیل رہی ہوگی۔

    تازہ تحقیق میں برازیل، روس، رومانیہ، ہالینڈ اور جرمنی کے ماہرینِ ارضیات پر مشتمل ایک ٹیم نے پیراٹیتھیس (Paratethys) جھیل میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ارضیاتی شہادتیں یک جا کیں تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جھیل کے رقبے میں کمی بیشی کا اندازہ لگایا جاسکے۔

    دو نئی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ پانی کا قدیم جسم کس طرح شکل پایا اور آس پاس کی تبدیلیوں نے کس طرح ہاتھیوں ، جرافوں اور دیگر بڑے جانروں کو جنم دیا جو آج سیارے میں گھومتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پیراٹیتھیس جھیل کے بارے میں ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ کسی زمانے میں یہ ایک سمندر تھا جو ارضیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث باقی سمندر سے بتدریج الگ ہوگیا اور اس کے ارد گرد خشکی آگئی۔

    رپورٹ کے مطابق مرکزی کیمپس میں ساو پالو یونیورسٹی کے پیالو بحر سائنس دان ڈین پالکو اور ان کے ساتھیوں نے شہادتیں جمع کیے تمام شواہد کی روشنی میں انہیں معلوم ہوا کہ آج سے ایک کروڑ سال پہلے اس جھیل کا رقبہ سب سے زیادہ، یعنی 28 لاکھ مربع کلومیٹر تھا اور یہ (حالیہ زمانے کے) اٹلی میں ایلپس پہاڑی سلسلے سے لے کر وسط ایشیا میں قازقستان تک پھیلی ہوئی تھی۔

    دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    یہ وہ خطہ ہے جو آج کے بحیرہ روم سے بڑا ہے ، وہ اس ہفتے سائنسی رپورٹس میں لکھتے ہیں۔ ان کے تجزیوں میں مزید تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس جھیل میں ایک بار 1.77 ملین مکعب کلومیٹر سے زیادہ پانی موجود تھا ، جو آج کے سب سے تازہ اور نمکین پانی کی جھیلوں کو ملا کر حجم کے 10 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

    لیکن آب و ہوا میں ردوبدل کی وجہ سے اس جھیل نے کم سے کم چار مرتبہ اپنے 5 لاکھ سال کی زندگی میں کم سے کم چار مرتبہ سکڑنا شروع کیا اور اس سے پہلے پانی کی سطح 7 کروڑ 55 لاکھ سے 7.9 ملین سال پہلے کے درمیان 250 میٹر تک خشک گئی تھی نتیجتاً اس سے کئی چھوٹی بڑی جھیلیں بن گئیں جن کے درمیان وسیع اور خشک علاقہ موجود تھا۔ اس طرح پیراٹیتھیس جھیل کا خاتمہ ہوا۔

    اس سب سے بڑے واقعہ کے دوران ، اس جھیل نے اپنے پانی کا ایک تہائی پانی اور اس کی سطح کے دو تہائی حصے سے زیادہ کھو دیا اس نے جھیل کے وسطی طاس میں پانی کی نمکینی تہہ چھوڑی جو آج کے بحیرہ اسود کے خاکہ کو قریب سے مماثلت دیتی ہے ، اس میں تقریبا ایک تہائی نمک موجود ہے ، جو آج کے سمندر میں سمندری پانی کے برابر کی سطح پر ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ بات اس لیے بھی معقول لگتی ہے کیونکہ پیراٹیتھیس جھیل کی جگہ سے کئی طرح کی سمندری جانوروں کے رکازات (فوسلز) ملے ہیں جن میں وہیل بھی شامل ہے بعد ازاں اس کے رقبے میں (ایک جھیل کی حیثیت سے) کمی بیشی ہوتی رہی جو آج سے ایک کروڑ سال پہلے سب سے زیادہ ہوگیا۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    اگر آج زمین پر موجود تمام جھیلوں کا پانی یکجا کرلیا جائے، تب بھی پیراٹیتھیس جھیل کا پانی اس سے بھی دس گنا زیادہ رہا ہوگا-

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر آگئے

    اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر آگئے

    امریکی میڈیا نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مختلف اداروں کے تعاون سے مرتب کی گئی اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں نئی خفیہ رپورٹ کے کچھ حصے عوام کے سامنے پیش کردیئے ہیں یہ رپورٹ رواں ماہ کے اختتام تک امریکی کانگریس میں پیش کی جائے گی۔

    باغیٹی وی :امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے گمنام سرکاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ اُڑن طشتریوں یا خلائی مخلوق کے درست ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے لیکن پھر بھی یہ امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایسی خبریں واقعتاً سچی ہوں آسان الفاظ میں کہا جائے تو یہ رپورٹ ’’بے نتیجہ‘‘ ہے!

    نیویارک ٹائمز نے گمنام سینئر انتظامی عہدیداران کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ 20 سال کے دوران ’نامعلوم اُڑن اشیاء‘یعنی’اُڑن طشتریوں‘ کے ایسے 120 واقعات ریکارڈ پر آچکے ہیں جن کا امریکی فوج کے کسی خفیہ منصوبے یا خفیہ ٹیکنالوجی سے کوئی تعلق نہیں تھا، جبکہ انہیں انتہائی بلندی پر چھوڑے گئے ہیلیئم غبارے بھی قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔

    ان میں بعض مشاہدات کی ویڈیوز امریکی فضائیہ اور بحریہ کے ذمہ داروں نے بھی بنائی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں لکھا کہ ان تمام مشاہدات سے خلائی مخلوق یا اُڑن طشتریوں کا وجود ثابت تو نہیں ہوتا لیکن ان کی تردید بھی نہیں کی جاسکتی-

    اڑن طشتریاں زمین پر، امریکہ نے فوٹیج جاری کر دی، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    ایسا ہی ایک منظر امریکی بحریہ کے پائلٹوں نے بھی ریکارڈ کیا جس میں کچھ نامعلوم اجسام ہائپر سونک (آواز سے کم از کم پانچ گنا زیادہ) رفتار سے پرواز کرتے دیکھے گئے تھے۔ یہ اجسام کسی اُڑتے ہوئے لٹو کی طرح اپنے محور پر گھوم رہے تھے اور پھر وہ غائب ہوگئے۔

    اس طرح کے تقریباً ایک درجن واقعات ریکارڈ پر بتائے گئے ہیں۔

    ان واقعات کے پسِ پشت کسی خلائی مخلوق کا ہونا تقریباً ناممکن ہے، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پر نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ امریکا کے دشمنوں، بالخصوص چین اور روس کے جدید ترین آلات ہوسکتے ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی جاسوسی میں استعمال کیے گئے ہوں گے-

    امریکی میڈیا کی خبروں میں یہ خیال بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک مذکورہ رپورٹ شاید مکمل طور پر عوام کے سامنے پیش نہ کی جائے کیونکہ اس میں بعض نکات ’’انتہائی حساس نوعیت‘‘ کے ہیں۔

    فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کے بارے میں امریکا کی سرکاری رپورٹ میں کیا پیش کیا جائے گا، البتہ ایک بات ضرور یقینی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے نزدیک اُڑن طشتریوں کا دکھائی دینا اب نظر انداز کرنے کے قابل معاملہ نہیں رہا-

    امریکی پائلٹ نے بھی اڑن طشری دیکھ لی

  • برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے دبا خردبینی جرثومہ پھر سے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : روس میں فزیوکیمیکل اینڈ بائیلوجی پرابلمز کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق برف میں ہزاروں سال سے دبا خوردبیبی جرثومہ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    جیسے ہی سائنس دانوں نے مستقل برف (پرمافروسٹ) میں دبے اس کثیرخلوی لیکن خردبینی جان دار کو برف سے الگ کیا تو وہ زندہ ہوگیا اور نسل بڑھانے لگا سائنسدانوں کے مطابق اس سے ہم برف میں خلوی تباہ کاری سے بچنے کی نئی راہ تلاش کرسکتے ہیں اور اس سے ہم انسان بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

    اس ادارے سے وابستہ حیاتیات داں اسٹاس مالاوِن کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق مشکل سے ملنے والا ثبوت پیش کرتی ہے کہ کس طرح کثیرخلوی جاندار سیکڑوں ہزاروں سال برف میں موت جیسی خوابیدگی کے باوجود زندہ رہتے ہیں اور ان میں استحالے (میٹابولزم) کا پورا نظام بھی شروع ہوجاتا ہے۔

    ’روٹیفائر‘ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    اس جاندار کا نام ’روٹیفائر‘ ہے جو پوری دنیا کے تالاب اور جوہڑوں میں عام پائے جاتے ہیں اگرچہ ان کی یہ خاصیت سامنے آچکی تھی لیکن ہزاروں برس تک ان کے زندہ رہنے کے ثبوت پہلی مرتبہ ملے ہیں زیرِ تجربہ جان دار آرکٹک پرمافراسٹ سے ملا ہے جہاں پہلے ہی قدیم خرد نامے مل چکے ہیں، جن میں وائرس، پودے اور زردانے بھی شامل ہیں۔

    جس جگہ سے یہ روٹیفائر ملا ہے وہاں ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جانور کم سے کم 24 ہزار سال قدیم ہے۔ زندہ ہونے کے بعد اس جانور نے غیرجنسی کلوننگ سے اپنی نسل بھی بڑھانی شروع کردی جسے ’پارتھینوجنیسس‘ کہا جاتا ہے۔

  • نوکیا نے سستا ترین موبائل سی 1 پلس متعارف کرادیا

    نوکیا نے سستا ترین موبائل سی 1 پلس متعارف کرادیا

    ایچ ایم ڈی گلوبل نے سستا ترین نیا فون نوکیا سی 1 پلس متعارف کرادیا ہے –

    باغی ٹی وی: ٹیکنالوجی ویب سائٹ ڈاکٹر موبائل کے مطابق یہ فون کمپنی کے اینڈرائیڈ گو ایڈیسن کا حصہ ہے جس میں متعدد بہترین فیچرز جیسے ڈوئل سم سپورٹ اور اوکٹا کور پراسیسر موجود ہیں۔

    فون میں 5.45 انچ کا ڈسپلے ایچ ڈی پلس ریزولوشن کے ساتھ دیا گیا ہے فون کے اندر یونی ایس او سی ایس سی 9863 اے پراسیسر دیا گیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ نوکیا

    سی 1 پلس فون میں ایک جی بی ریم اور 16 جی بی اسٹوریج ہے جس میں مائیکرو ایسس ڈی کارڈ سے 128 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    اینڈرائیڈ گو پروگرام کا حصہ ہونے کی وجہ سے بیشتر ایپس ڈیٹا کا استعمال کم کرتی ہیں اور سست انٹرنیٹ پر بھی ٹھیک کام کرتی ہیں۔

    فون میں فنگرپرنٹ سپورٹ تو نہیں مگر اس کا آپریٹنگ سسٹم چہرے کی شناخت کو سپورٹ کرتا ہے موبائل فون 2 رنگوں بلیو اور سرخ میں پیش کیا گیا ہے-

    سی 1 پلس میں 2500 ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے اور بیٹری لائف کے بارے میں کچھ بتایا تو نہیں گیا مگر نوکیا کے فونز کی بیٹری لائف ہمیشہ ہی بہترین ہوتی ہے۔

    فوٹو بشکریہ نوکیا

    سی 1 پلس میں فرنٹ پر 5 میگا پکسل کیمرا اور ایل ای ڈی فلیش موجود ہے جو کم روشنی میں بھی کافی بہتر تصاویر فراہم کرتی ہے اس کے بیک پر ایک ہی کیمرا ہے جو کہ 5 میگا پکسل کا ہے جس کے ساتھ بھی ایل ای ڈی فلیش موجود ہے۔

    یہ فون سب سے پہلے روس میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے جس کی قیمت 6490 روبل (تقریباً 14 ہزار 270 پاکستانی روپے) رکھی گئی ہے۔

  • ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    واشنگٹن: امریکا میں ایک گیس پائپ لائن کو تاوان کے لیے کمپیوٹر کے ذریعے ہیک کرنے والے ہیکرز سے تاوان کی بٹ کوائنز رقم واپس لے لی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے ہیکرز سے 2.3 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی کی تاوانی رقم واپس حاصل کر لی ہے، یہ رقم کالونیل پائپ لائن نامی کمپنی نے ہیکرز کو ادا کی تھی۔

    ہیکرز نے ایک سائبر اٹیک کے ذریعے گزشتہ ماہ مذکورہ کمپنی کی ایسٹ کوسٹ پائپ لائن کو بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ایسٹ کوسٹ میں گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ، وفاقی قانون نافذ کرنے والے اعلی عہدیداروں نے وضاحت کی کہ یہ رقم حال ہی میں شروع کی جانے والی رینسم ویئر اور ڈیجیٹل ایکسٹوریشن ٹاسک فورس نے حاصل کی ہے ، جو سائبرٹیکس کے اضافے پر حکومت کے ردعمل کے حصے کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کالونیل پائپ لائن پر حملے کو حل کرنے کے لئے ، کمپنی نے 8 مئی کو مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس کے تیل اور گیس پائپ لائنوں کو تاوان کے سامان کے ذریعے معذور کرنے کے بعد اپنے کمپیوٹر سسٹم تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لئے تقریبا$ 4.4 ملین ڈالر ادا کیے۔

    ان حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کو یہ مخصوص ہدایات دی گئیں کہ وہ رقم کب اور کہاں بھیجنی ہے ، لہذا تفتیش کاروں کے لئے بھتہ خوری کے پیچھے مجرمانہ تنظیموں کے ذریعہ قائم کردہ کریپٹوکرنسی اکاؤنٹس ، عام طور پر بٹ کوائن کی ادائیگی کی رقم کا سراغ لگانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ غیر معمولی بات یہ ہے کہ فنڈز کی بازیابی کے لئےان اکاؤنٹس کو غیر مقفل کرنا ہو۔

    کالونیل پائپ لائن کیس میں عدالت کے دستاویزات جاری کی گئیں کہ ایف بی آئی نے بٹ کوائن اکاؤنٹ سے منسلک انکرپشن کی بٹن استعمال کی جس میں تاوان کی رقم فراہم کی گئی تھی۔ تاہم ، عہدیداروں نے یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ انہیں یہ چابی کیسے ملی۔ مجرموں نے بٹ کوائن اور دیگر کریپٹو کارنسیس کو استعمال کرنا پسند کیا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ سارے نظام کی شناخت نہیں ہے ، اسی طرح یہ خیال بھی ہے کہ کسی بھی کریپٹو کرینسی والیٹ میں فنڈز صرف ایک پیچیدہ ڈیجیٹل کلید کے ذریعے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    جارج ٹاؤن لا میں انسٹی ٹیوٹ برائے ٹکنالوجی قانون اور پالیسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپریل فالکن ڈاس نے کہا ، نجی کلید ، ایک ٹیکنالوجی کے نقطہ نظر سے ، وہ چیز ہے جس نے ان فنڈز کو ضبط کرنا ممکن بنایا تھا۔

    تاہم اب امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ انھوں نے پائپ لائن بند کرنے کے بعد تاوان کی صورت میں دی جانے والی رقم واپس حاصل کر لی ہے، ہیکرز کو رقم بٹ کوائن میں دی گئی تھی جسے اب ایف بی آئی نے ایک ورچوئل کرنسی ویلٹ سے ضبط کر لیا ہے۔

    امریکی حکام نے 63.7 بٹ کوائنز واپس لیے ہیں جن کی قیمت 2.3 ملین ڈالرز ہے، یہ رقم پائپ لائن کمپنی نے گزشتہ ماہ سائبر اٹیک کے بعد ہیکرز کو ادا کی تھی، امریکی حکام نے مشتبہ افراد کے ذریعے استعمال شدہ ورچوئل والٹ کی نشان دہی کی تھی۔

    کالونیل پائپ لائن کے مالکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہیک ہوئی پائپ لائن تک دوبارہ رسائی کے لیے ہیکرز کو تقریباً 5 ملین ڈالرز ادا کیے تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے، جو اپریل میں 63 ہزار ڈالر تھی وہ اب 36 ہزار ڈالر ہو چکی ہے۔

    سائبر حملے کا علم ہونے کے بعد کالونیل پائپ لائن نے اپنے سسٹم بند کر دیے تھے تاکہ حملے کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے، کمپنی کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے کچھ سرگرمیاں روکنا پڑیں اور چند آئی ٹی سسٹم متاثر ہوئے۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر…

    ٹیسلا نے ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں بٹ کوائن لینے سے انکار کر دیا

  • گوگل اور ہارورڈ نے انسانی دماغی گوشے کا تفصیلی نقشہ تیار کر لیا

    گوگل اور ہارورڈ نے انسانی دماغی گوشے کا تفصیلی نقشہ تیار کر لیا

    گوگل نے انسانی دماغ کے ایک چھوٹے سے حصے کا اب تک سب سے تفصیلی نقشہ تیار کیا ہے اس میں عصبی خلیات(نیورون) اور ان کے درمیان رابطوں کو انتہائی مفصل انداز میں دیکھا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نقشے میں فی الحال 50 ہزار خلیات کو شامل کیا گیا ہے۔ تمام خلیات کو تھری ڈی انداز میں دیکھا جاسکتا ہے جن پر مکڑی کے جالے کے طرح لاتعداد ابھار ہیں اور مجموعی طور پر 13 کروڑ رابطوں یا تاروں سے منسلک ہیں۔

    واضح رہے کہ صرف 50 ہزار دماغی خلیات کا یہ ڈیٹا 1.4 پیٹابائٹس کے برابر ہے یعنی جدید ترین کمپیوٹرکی گنجائش سے بھی 700 گنا جگہ گھیرتا ہے۔

    اس کا ڈیٹا اتنا بڑا ہے کہ اب تک سائنسدانوں نے اسے تفصیل سے نہیں دیکھا ہے۔ اس کے ماہر ویرن جین کہتے ہیں کہ یہ پہلا قدم ہے اور یہ انسانی جینوم کے مطالعے جیسا ہے جس پر 20 سال بعد اب بھی تحقیق جاری ہے۔ اسی طرح دماغی نقشہ سازی کا یہ سفر بھی جاری رہے گا۔

    ہارورڈ یونیورسٹی کی ماہر کیتھرین ڈیولیک کہتی ہیں کہ ہم پہلی مرتبہ انسانی دماغ کے اتنے بڑے حصے کی اصل ساخت دیکھ رہے ہیں اور یہ جان کر میں بہت جذباتی ہورہی ہوں کہ دماغ کا اتنا تفصیلی نقشہ بنایا گیا ہے۔

    یہ کام ہارورڈ یونیورسٹی کے ہی ایک سائنسداں جیف لٹمان نے اس وقت شروع کیا تھا جب انہوں نے کسی دوا سے ٹھیک نہ ہونے والی لاعلاج 45 سالہ مرگی کی مریضہ کے دماغ کا ایک ٹکڑاحاصل کیا تھا۔ یہ گوشہ ہیپوکیمپس کے بائیں جانب واقع تھا اور یہی سے مرگی پیدا ہورہی تھی۔ اس دوران دماغ کے بعض تندرست خلیات بھی باہر نکالے گئے تھے۔

    دماغ سے نکالے جانے کے فوری بعد مختلف کیمیکل میں دماغی حصے کو محفوظ کیا گیا۔ اس کے بعد اسے بھاری دھات مثلاً اوسمیئم میں ڈبویا گیا۔ اس سے دماغی گوشے کی بیرونی سطح صاف ہوگئی اورالیکٹرون خردبین سے ہر خلیہ واضح اور صاف نظر آنے لگا۔ اس کے بعد ایک طرح کی شفاف گوند میں دماغ کو ڈبوکر اسے سخت کیا گیا۔ اس کے بعد دماغی گوشے کی 30 نینومیٹر پتلے ٹکڑوں (سلائس) میں کاٹا گیا جو انسانی بال سے ہزار درجے باریک ہیں ۔ اس کے بعد ہر گوشے کی تصویر الیکٹران مائیکرواسکوپ سے کھینچی گئی اور اسے مزید بہتر بنایا گیا۔

    اس کے بعد مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت سے اس حصے کا تھری ڈی نقشہ بنایا گیا اور مختلف طرح کے خلیات کی واضح نشاندہی بھی کی گئی۔ دیگر ماہرین نے بھی اس ڈیٹا سیٹ کو ایک بڑا خزانہ قرار دیا ہے ۔ توقع ہے کہ اس کی بدولت مزید کئی دریافتیں ہوسکیں گی۔

  • واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے

    واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے

    جعل سازوں نے واٹس ایپ کے استعمال کنندگان کے اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس ضمن میں واٹس ایپ اپنے صارفین کو او ٹی پی(ون ٹائم پاس ورڈ) کی آڑ میں ہونے والی اس دھوکا دہی سے متعدد بار آگاہ کرچکی ہے۔

    باغی ٹی وی: اگر آپ کو پیغام موصول ہو کہ آپ کو او ٹی پی کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کرنا ضروری ہے، تصدیق نہ کرنے کی صورت میں آپ کے اکاؤنٹ کو ڈی ایکٹیویٹ کردیا جائے گا تو پھر یقیناً آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیکرز کے نشانے پر ہے اور استعمال کنندہ جیسے ہی او ٹی پی ہیکر کو بھیجتا ہے وہ اس کا اکاؤنٹ ہیک کرلیتے ہیں۔

    اس روک تھام کے لیے واٹس ایپ نے گزشتہ ماہ ہی صارفین کے اکاؤنٹ کو مزید محفوظ بنانے کے لیے جلد ہی ایک زبردست فیچر’فلیش کال‘ متعارف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس نئے فیچر کی بدولت صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے 6 عدد پر مشتمل سیکیورٹی کوڈ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ یہ فیچر خود کار طریقے سے صارف کے فون نمبر کی تصدیق کردے گا۔ تاہم اس فیچر کے باضابطہ طور پر آنے میں ابھی وقت درکار ہے۔

    واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    ہیکرز واٹس ایپ اکاؤنٹ کو ہیک کر کے آپ کے دوستوں، رشتے داروں کے فون نمبر، تصاویر، پیغامات تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں عموما وہ واٹس ایپ نمبر کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے دوستوں کو پیغام بھیج کر آپ کے نام سے بھاری رقم بطورقرض مانگ سکتے ہیں۔ آپ کے کونٹیکٹ میں موجود نمبروں کو استعمال کرتے ہوئے ان کے اکاؤنٹ ہیک کر سکتے ہیں۔ جب کہ آپ کے اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کے بعد وہ تمام گروپ چیٹ میں رہتے ہوئے حساس معلومات دیکھ سکتے ہیں۔

    او ٹی پی جعل سازی کے حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ’ اپنے صارفین کی معلومات اور پیغامات کی پرائیویسی اور حفاظت ہمارے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے-

    تاہم کسی بھی جعل سازی سے بچنےکے لیے استعمال کنندہ کو چاہیئے کہ کسی بھی فرد کو چاہے وہ آپ کا دوست یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو،اپنا پاس ورڈ یا ایس ایم ایس پر آنے والا سیکیورٹی کوڈ کبھی نہیں دیں۔

    محتاط رہیں اور اگر کبھی آپ سے میسج میں کوئی رقم کا مطالبہ کرے تو فورا اپنے اِس دوست کو فون کرکے اس بات کی تصدیق کریں کہ آیا کہ وہ اس واٹس ایپ اکاؤنٹ کو استعمال کر رہا ہے یا نہیں۔

    واٹس ایپ انتظامیہ نے 100 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    اگر آپ کو ملنے والے پیغام کی نوعیت اس طرح کی ہوں کہ موصول ہونےوالے پیغام میں گرائمر اور ہجے کی غلطیاں نظر آئیں، کسی لنک پر کلک کرنے کے کہا جا رہا ہوں،آپ کی نجی معلومات( کریڈٹ ، ڈیبٹ کارڈ انفارمیشن، بینک اکاؤنٹ نمبر، تاریخ پیدائش، پاس ورڈ وغیرہ) شیئر کرنے کا کہا جائے ،موصول ہونے والے پیغام کو آگے فارورڈ کرنے کا کہا جائے ،آپ سے کہا جائے کہ ’ نئے فیچر کوفعال ‘ کرنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں تو اسے فوراً رپورٹ کریں۔

    کچھ ہیکرز آپ کو واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے فیس کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم واٹس ایپ ایک مفت ایپلی کیشن ہے جو کسی بھی مرحلے پر آپ سے کسی قسم کے کوئی سروس چارجز نہیں لیتی۔

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنیوالے صارفین کے اکاؤنٹس کیساتھ کیا ہوگا؟

  • درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر دیئے گئے

    درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر دیئے گئے

    دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے مشتبہ اکاؤنٹس کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق فیس بک نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے 40 فیس بک اکاؤنٹ، 25 فیس بک صفحات، چھ فیس بک گروپ اور 28 انسٹاگرام اکاؤنٹ ہٹا دیے گئے ہے-

    ان اکاؤنٹس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک پر ‘منظم اور غیر مصدقہ رویے’ اپنانے جیسی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔


    تین جون کو شائع ہونے والی رپورٹ میں فیس بک نے کہا ہے کہ ہٹائے گئے نیٹ ورک میں ملوث افراد کا تعلق اسلام آباد اور راولپنڈی میں قائم ایک تعلقات عامہ یعنی پبلک ریلیشنز کمپنی ‘الفا پرو’ سے ہے۔

    فیس بک کا اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نیٹ ورک میں سے ’چند کا تعلق اُسی نیٹ ورک سے ہے جن کو فیس بک نے اپریل 2019 میں ہٹایا تھا’ اور اُس وقت الزام عائد کیا تھا کہ ‘ان صفحات اور اکاؤنٹ کا تعلق پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پر آر کے اہلکاروں سے پایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ فیس بک ‘کووآرڈینیٹڈ ان آتھینٹک بیہیوئر'(سی آئی بی) کی اصطلا ح کی تعریف ایسے اکاؤنٹس کے طور پر کرتا ہے جو منظم طریقے سے چلائے جاتے ہیں اور ایک حکمت عملی کے تحت غیر مصدقہ رویے اپنا کر عوامی بحث و مباحثے کا رخ ایک مخصوص بیانیے کی جانب موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق فیس بک نے جن مشتبہ اکاؤنٹس اور پیجز کی نشاندہی کی ہے ان کے درمیان روابط اور کوآرڈینیشن کے واضح اشارے ملے ہیں اور انھوں نے جعلی شناختوں اور عیاری سے صارفین کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔

  • نائجیریا: حکومت نے ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا

    نائجیریا: حکومت نے ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا

    نائیجیریا میں سماجی رابطے کی معروف و مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نائیجیریا کے وزیرِ اطلاعات نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کہ اس پلیٹ فارم کو بار بار ایسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کہ جس سے نائیجیریا کی کارپوریٹ ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ حکومت نےاپنے بیان میں قومی براڈ کاسٹنگ کے نگراں ادارے این بی سی سے کہا ہے کہ وہ تمام او ٹی ٹی سروسز اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کرے۔

    تاہم حکومت نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں کہ ٹوئٹر پر پابندی عملی طور پر کیسے کام کرے گی یا ٹوئٹر کو نائیجیریا کی کارپوریٹ ساکھ خراب کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ٹوئٹرنے یہ اعلان انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے کہا ہے کہ وہ نائیجیریا کی جانب سے پابندی کی تفتیش کی رہی ہے اور مزید معلومات ملنے پر لوگوں کو آگاہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ہی ٹوئٹر نے صدر محمدو بوہاری کی ایک ٹوئٹ کو یہ کہہ کر حذف کر دیا تھا کہ اس ٹوئٹ نے ٹوئٹر کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

    نائیجیریا کی حکومت کے پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کے اعلان میں اس تنازع کا ذکر تو نہیں کیا گیا تاہم ماضی میں ملک کے وزیر اطلاعات لائی محمد نے امریکی سول میڈیا کمپنی پر تنقید کی اور ان پر دوہرے معیار کا الزام لگایا ہے۔

    ٹوئٹر نے یکم جون کو نائیجیریا کے 78 سالہ صدر کی ٹوئٹ ہٹائی تھی اس میں 1967 سے 1970 تک ہونے والی نائیجیرین خانہ جنگی کا حوالہ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جو لوگ آج ٹھیک نہیں ہیں ان سے ایسی زبان میں بات کی جائے جو انھیں سمجھ آئے گی۔

    اس وقت ٹوئٹر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹ ٹوئٹر کے قواعد کے خلاف ہے۔