Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار    دبئی پولیس

    واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار دبئی پولیس

    دبئی: بھکاریوں کے خلاف تازہ کارروائی میں دبئی پولیس نے واٹس ایپ کے ذریعے اپنی دکھ بھری داستان سنا کر بھیک مانگنے والا بھکاری گرفتار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :د بئی پولیس کے مطابق انہوں نے ایک عرب ’سائبر بھکاری‘ گرفتار کیا ہے جو مقامی واٹس ایپ صارفین کے نمبر حاصل کرکے انہیں اپنی دکھ بھری داستان لکھ بھیجتا تھا اور ’اللہ کے نام پر‘ مالی امداد مانگتا تھا۔


    اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں دبئی پولیس نے عوام کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ درد بھری کہانیاں سنانے والے بھکاریوں کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ یہ جعلساز ہوتے ہیں اور ان کا واحد مقصد عام لوگوں کو بے وقوف بنا کر رقم اینٹھنا ہوتا ہے۔

    ٹویٹ میں ’سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بھکاریوں‘ سے متعلق بتایا گیا کہ جو رمضان کے مقدس مہینے میں زکوۃ، صدقات و خیرات سمیٹنے کےلیے سرگرم ہوگئے ہیں اور منظم گروہوں کی شکل میں کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق، وہاں بھیک مانگنے والوں، بھیک منگوانے والوں اور بھیک منگوانے کی غرض سے مقامی یا غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے والوں کےلیے سخت سزا کے علاوہ ان پر ایک لاکھ درہم جرمانہ بھی کیا جا رہا ہے۔

  • فلوباٹ: اینڈروئڈ موبائلز کا انتظام سنبھالنے والا خطرناک سافٹ وئیر

    فلوباٹ: اینڈروئڈ موبائلز کا انتظام سنبھالنے والا خطرناک سافٹ وئیر

    لندن : ماہرین اینڈروئڈ فونز کو نقصان پہنچانے والے ایک ٹیکسٹ میسج کی شکل میں بھیجے گئے پیغام سے خبردار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق پیکج ڈیلیوری کمپنی کی جانب سے بھیجنے کا دعویٰ کرنے والے اس پیغام میں صارفین کو ایک ٹریکنگ ایپ انسٹال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن اصل میں یہ ایک خطرناک قسم کا ‘سپائی ویئر’ ہوتا ہے یہ پورے برطانیہ میں پھیل گیا ہے –

    اسے ‘فلو باٹ’ کا نام دیا جا رہا ہے اور یہ جس فون میں داخل ہوتا ہے اس کا انتظام سنبھالنے کے بعد اس سے خفیہ معلومات اکھٹی کرتا ہے جیسے بینک سے متعلق معلومات وغیرہ۔


    نیٹ ورک آپریٹر ووڈا فون کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے آگاہی کے لیے لاکھوں ٹیکسٹ میسیجز پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں۔

    ووڈا فون کے ایک ترجمان کے مطابق ہمارے اندازے کے مطابق فلوبوٹ کی یہ موجودہ لہر کو بہت جلد بہت زیادہ پذیرائی ملے گی اور یہ ایک ایسی چیز ہے جسے روکنے کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے۔


    انھوں نے کہا کہ صارفین کو اس مخصوص خطرناک سافٹ ویئر سے ہوشیار رہنا ہو گا اور ٹیکسٹ میسیجز پر موصول ہونے والے کسی بھی پیغام میں دیے گئے لنک پر کلک کرنے سے قبل احتیاط برتنی ہو گی۔

    دیگر برطانوی نیٹ ورکس جیسے ‘ای ای’ اور ‘تھری’ نے بھی اس حوالے سے صارفین کو متنبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    برطانیہ کے قومی سائبر سکیورٹی مرکز (این سی ایس سی) نے اس حوالے سے موجود خطرے کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر آپ نے حملہ کرنے والی ایپلیکیشن غلطی سے ڈاؤن لوڈ کر دی ہے تو آپ نے کیا کرنا ہے۔

    این سی ایس سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر صارفین نے غلطی سے لنک پر کلک کر دیا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ ایسے متعدد طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    اس میل ویئر کی یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ متاثرہ صارف کے جاننے والوں کے نمبروں پر بھی یہ پیغام بھیج سکتا ہے۔

    اس حوالے سے ایک واضح خطرہ موجود ہے کہ ایک خطرناک ایپلی کیشن صارف کے سمارٹ فون پر انسٹال کی جا سکتی ہے جو لا تعداد ٹیکسٹ میسیجز بھیجنا شروع کر دے۔

    صارفین کے لیے جو بڑا خطرہ موجود ہے وہ ان کے انتہائی ذاتی ڈیٹا کے لیے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

    جہاں اس ٹیکسٹ میسیج سکیم میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پیکج ڈلیوری کمپنی کی جانب سے بھیجے گئے ہیں ان کی جانب سے فی الحال فشنگ یعنی ذاتی مالی معلومات اور دیگر معلومات کے بارے میں فارم بھروائے جاتے ہیں۔

    یہ نئی لہر اس طرح مختلف ہے کہ یہ خطرناک سافٹ ویئر موبائل میں خود ہی انسٹال ہو جاتا ہے اور کیونکہ اس کے پھیلاؤ کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔

    اگر کوئی اینڈروئڈ فون کا استعمال کرتے ہوئے اس لنک پر کلک کرتا ہے تو انھیں ایک ایسے پیج پر لے جایا جائے گا جو یہ ‘وضاحت’ کرتا ہے کہ آپ پارسل ٹریکنگ ایپ انسٹال کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے اور ایسا اے پی کے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    اے پی کے فائلز دراصل اینڈروئڈ ایپس کو محفوظ گوگل پلے سٹور کے بغیر انسٹال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ عام طور پر ایسی ایپلی کیشنز کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بلاک کر دیا جاتا ہے لیکن اس سلسلے میں یہ پیج دراصل ایسی ہدایات دیتا ہے جس کے ذریعے انسٹالیشن کی جا سکتی ہے۔

    ایپل آئی فون صارفین اس مسئلے سے فی الحال دوچار نہیں ہیں کیونکہ وہ اینڈرائڈ کی اے پی کے فائلز انسٹال نہیں کر سکتے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ‘اس حملے کے کامیاب ہونے کے شرح بہت کم ہو گی’ کیونکہ اس حوالے سے خاصی مشکلات آڑے آ سکتی ہیں۔

    موبائل یو کے نامی ادارے نے کہا ہے کہ صارفین جنھیں یہ خطرناک پیغام موصول ہوتا ہے وہ اسے 7726 پر فارورڈ کر سکتے ہیں تاکہ اس کے حوالے سے مزید تحقیق کی جا سکے، بعد میں بےشک اسے ڈیلیٹ کر دیں۔

  • ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

    ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مریخ پر بھیجے جانے والے مشن پرسیورینس نے 20 اپریل کو پرسیورینس نے مریخ کے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کرکے اسے سانس لینے کے قابل آکسیجن میں تبدیل کردیا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق پرسیورینس میں ایک ایسا انسٹرومنٹ ( مارش آکسیجن) نصب ہے جسے اس تجربے کے لیے استعمال کیا گیا۔

    اس ٹوسٹر سائز ٹول سے اس مشن کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز سے آکسیجن ایٹمز کو الگ کرنا ممکن ہوا، جس کے لیے گیس کو لگ بھگ 1470 ڈگری فارن ہائیٹ پر گرم کرکے کاربن مونوآکسائیڈ کو تیار کیا گیا۔

    انسٹرومنٹ کے پہلے تجربے کے دوران 5 گرام آکسیجن تیار ہوئی، جس سے ایک خلا باز کو 10 منٹ تک انے اسپیس سوٹ میں 10 منٹ تک سانس لے سکتا ہے۔

    ناسا کے مطابق تجربے کی کامیابی سے مستقبل کے مشنز کے لیے ایک نیا ذریعہ کھل گیا ہے بالخصوص ایسے مشنز جن میں انسانوں کو راکٹوں میں مریخ میں بھیجا جائے گا، جہاں انہیں آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔

    مثال کے طور پر مریخ پر 4 انسانوں کو لے جانے والے راکٹ میں 55 ہزار پاؤنڈ آکسیجن بھیجنے کی ضرورت ہوگی، مگر مریخ تک اتنی زیادہ مقدار میں آکسیجن بھیجنا ممکن نہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے مستقبل کے مشنز کے لیے سرخ سیارے کی کھوج زیادہ آسان ہوسکے گی۔

    یہ پہلی بار ہے جب زمین سے باہر کسی جگہ آکسیجن کو تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل مریخ میں زمین سے باہر پہلی بار ایک ہیلی کاپٹر کی پرواز میں کامیابی حاصل کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ ناسا کا یہ پرسیورینس روور روبوٹ سرخ سیارے پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش کا کام کرے گا۔

    مریخ پر لینڈنگ 2.7 ارب ڈالر اور 2 سالہ کوششوں کا خطرناک ترین منصوبہ تھا جس کا بنیادی مقصد ان مائیکروبز کے ممکنہ آثار کو کھود کر تلاش کرنا ہے جو 3 ارب برس قبل مریخ پر موجود تھے، جب نظام شمسی کا چوتھا سیارہ سورج سے زیادہ گرم ، نم اور زندگی کے لیے ممکنہ طور پر سازگار تھا۔

    پرسیورینس کیا ہے؟

    مریخ پر مشن کا ایک اہم مقصد علم نجوم ہے ، جس میں قدیم مائکروبیل زندگی کی نشانیوں کی تلاش بھی شامل ہے۔ یہ روور سیارے کی ارضیات اور ماضی کی آب و ہوا کی خصوصیات بنائے گا ، لال سیارے کی انسانی تلاش کے لئے راہ ہموار کرے گا ، اورٹوٹی ہوئی چٹان اور دھول کو جمع کرنے اور اس میں تجربہ کرنے کا پہلا مشن ہوگا۔

    اس کے نتیجے میں ناسا کے مشنز ، ESA (یورپی اسپیس ایجنسی) کے تعاون سے مریخ پر خلائی جہاز بھیجیں گے تاکہ ان مہر بند نمونوں کو سطح سے جمع کریں اور گہرائی سے تجزیہ کرنے کے لئے انہیں زمین پر واپس بھیجیں مریخ 2020پرسیورینس مشن ناسا کے چاند تا مریخ کی تلاش کے نقطہ نظر کا ایک حصہ ہے –

    سائسدانوں کو امید ہے کہ وہ اس قدیم مقام سے زندگی کے نمونوں کو تلاش کرسکیں گے اور پرسیورینس کو مریخ سے پتھر کھوج نکالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں زمین پر ان کا تجزیہ کیا جاسکے۔

    جو انسانوں کی جانب سے کسی دوسرے سیارے سے پہلی مرتبہ جمع کیے جانے والے پہلے نمونے ہوں گے۔

    جنوبی کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری ، جو کیلیفورنیا کے پاسادینا میں کیلٹیک کے ذریعہ ناسا کے لئے منظم کی گئی ہے ، اور اس نے پرسیورینس روور کی کارروائیوں کا انتظام کیا۔

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

  • واٹس ایپ صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی

    واٹس ایپ صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی

    دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بیٹا ورژن متعارف کروادیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے واٹس ایپ کے نئے ورژن 2.21.9.3. کی اپ ڈیٹ گوگل پلے بیٹا پروگرام کے ذریعے جمع کروادی گئی ہے اس ا پ ڈیٹ کے ذریعے جلد ہی واٹس ایپ ’Self Destructive Photos And Videos feature ‘ فیچر متعارف کروانے جارہا ہے۔


    اس فیچر کے تحت واٹس ایپ صارفین کے پاس یہ آپشن موجود ہوگا کہ وہ ’Self Destructive Message‘ کے اس فیچر کو اِن ایبل کرکے کسی کو بھی تصاویر، ویڈیوز یا جِف بھیجیں گے تو وہ بھیجے جانے والے شخص کے دیکھنے کے بعد ’چیٹ ونڈو‘ سے فوراً خود ہی غائب ہوجائے گی۔

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ اس فیچرپر کام کررہا ہے اور جلد اس فیچر کو متعارف کرادیا جائے گا۔

    فوٹو بشکریہ ویب انفو بیٹا
    واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کے ذریعے صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ اس کے تحت پیغام وصول کرنے والا آپ کی تصاویر یا ویڈیوز کو غائب ہونے سے پہلے تک ہی کھول سکتا ہے یہ فیچر iOS اور Android کے لئے دستیاب ہوگا-

    فوٹو بشکریہ ویب انفو بیٹا
    واٹس ایپ کا مزید کہنا ہے کہ پیغام وصول کرنے والا پیغام بھیجنے والے کی تصاویر محفوظ کرنے کے لیے اسکرین شاٹ بھی لے سکتا ہے تاہم اس کے باوجود انتظامیہ اس قسم کے میڈیا کے لیے اسکرین شاٹ یا ویڈیو کیپشن کوروکنے والا کوئی فیچر متعارف نہیں کروانا چاہتی۔

  • انسٹاگرام پرغیراخلاقی پیغامات کی روک تھام کے لئے نئے فیچر کی آزمائش

    انسٹاگرام پرغیراخلاقی پیغامات کی روک تھام کے لئے نئے فیچر کی آزمائش

    فیس بک کی فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام صارفین کے غیراخلاقی پیغامات کو خود کار طریقے سے فلٹر کرنے کا فیچر متعارف کرائے گا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ نیا ٹول صارفین کو خود کار طریقے سے غیر مہذب پیغامات، جملوں اور ایموجیز کو فلٹر کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

    اس فیچر کو درحقیقت مشہور اور عوامی شخصیات کے لیے متعارف کروایا جائے گا جو بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ناپسندیدہ پیغامات وصول کرتے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے ذریعے انتظامیہ انسٹاگرام پر بھیجے جانے والے نفرت انگیز جملوں اور پیغامات سے نمٹ سکے گی۔

    اعلان میں مزید کہا گیا ہے کمپنی آئندہ ہفتوں میں متعدد ممالک میں اس فیچر کو متعارف کروائے گی تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ فیچر کن ممالک میں متعارف کروایاجائے گا البتہ کمپنی اس فیچر کی دیگر ممالک میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انسٹا گرام نے ’لائیک کاؤنٹ‘ چھپانے والے فیچر کی آزمائش شروع کرنے کا اعلان کیا تھا انسٹاگرام کا کہنا تھا کہ لائیک فیچر جلد متعارف کرایا جائے گا-

    انسٹاگرام اسٹوریز پر ردعمل کے اظہار کے لیے اسٹیکرز کی آزمائش

    اپنے صارفین کو ذہنی دباؤ سے بچانے کے لئے انسٹاگرام کی انوکھے اور حیرت انگیز فیچر…

     

  • رئیل می کی 8 سیریز کا 5 جی اسمارٹ فون متعارف

    رئیل می کی 8 سیریز کا 5 جی اسمارٹ فون متعارف

    رئیل می نے اپنی 8 سیریز میں 8 فائیو جی اسمارٹ فون متعارف کرادیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ رئیل می نے کچھ ماہ پہلے 7 سیریز کے فونز متعارف کرائے تھے اور مارچ 2021 میں اس کی اپ ڈیٹ ورژن 8 سیریز کو پیش کیا گیا مگر اس وقت رئیل می 8 سیریز میں 5 جی سپورٹ فراہم نہیں کی گئی تھی۔

    کمپنی کے مطابق کچھ صارفین نے 5 جی نہ ہونے پر ڈیوائس کو لینے سے انکار کیا تھا یہی وجہ ہے کہ اب رئیل می 8 فائیو جی کو متعارف کرادیا گیا ہے –

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    رئیل می 8 فائیو جی میں سپورٹ فراہم کرنے والا ڈیمینسٹی 700 پراسیسر موجود ہے جو 2.77 جی بی پی ایس اسیڈ تک انٹرنیٹ چلانے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ 4 جی ماڈل میں ہیلیو جی 95 پرایسسر موجود ہے۔

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    رئیل می 8 فائیو جی میں 6.5 انچ کا ایل سی ڈی ڈسپلے 90 ہرٹز ریفریش ریٹ کے ساتھ دیا گیا ہے جبکہ 4 سے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے جس میں مائیکرو ایس ڈی سے ایک ٹی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    فون کے بیک پر 48 میگا پکسل مین کیمرا، 2 میگا پکسل میکرو اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ کیمروں پر مشتمل سیٹ موجود ہے جبکہ فرنٹ پر 16 میگا پکسل کیمرا پنچ ہول ڈیزائن میں چھپا ہوا ہے۔

    فون کے اندر 5000 ایم اے ایچ کی طاقتور بیٹری ہے جو کمپنی کے مطابق 21 گھنٹے مسلسل ویڈیو چلاسکتی ہے یا کئی دن تک میوزک پلے بیک کیا جاسکتا ہے فون کے ساتھ 18 واٹ چارجر دیا گیا ہے جبکہ 4 جی ماڈل کے ساتھ 30 واٹ چارجر دیا جارہا ہے۔

    اس فون کو سب سے پہلے تھائی لینڈ میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے جہاں اس کی قیمت 320 ڈالرز ( 49 ہزار روپے) رکھی گئی ہے۔

  • گوگل کی ویڈیو کانفرنسنگ سروس میں صارفین کے لئے اہم ترین اپ ڈیٹس

    گوگل کی ویڈیو کانفرنسنگ سروس میں صارفین کے لئے اہم ترین اپ ڈیٹس

    حال ہی میں دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنی ویڈیو کانفرنسنگ سروس میٹ میں لامحدود وقت تک مفت کالز کی مدت 30 جون تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا اب گوگل کی جانب سے اس ویڈیو کانفرنسنگ سروس میں اہم ترین اپ ڈیٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹیک کمپنی کا ادارہ گوگل اپنی ویڈیو فراہم کرنے والی ایپ گوگل میٹ کو بہتر بنانے اور حال ہی میں مشہور ایپ زوم کے خلاف مقابلہ کرنے کے لئے نئی خصوصیات متعارف کروا رہا ہے۔

    اس اپ ڈیٹ کے تحت گوگل میٹ کے ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے یوزر انٹرفیس کو بدلا گیا ہے جبکہ نئے فیچرز کا اضافہ بھی کیا گیا ہے زوم اور مائیکرو سافٹ ٹیمز کے مقابلے میں گوگل میٹ کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے یہ اپ ڈیٹس کی گئی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ گوگل
    پچھلے ہفتے کمپنی نے گوگل میٹ میں کچھ نئی خصوصیات پیش کیں اور اب اس نے ایک بار پھر ایپ میں ایک کارآمد خصوصیت شامل کردی ہے۔گوگل نے اینڈروئیڈ اور آئی او ایس دونوں پر اپنی میٹ ایپ پر ڈیفالٹ لو لائٹ ، موڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کم روشنی والی خصوصیت پہلے ہی گوگل ڈو میں دستیاب ہے۔

    فوٹو بشکریہ گوگل
    اس فیچر سے ویب کیم ویڈیو تاریک یا روشن کمرے میں خودکار طور پر روشنی کو ایڈجسٹ کرسکے گا، یہ فیچر بھی آنے والے ہفتوں میں گوگل میٹ کے ویب صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    گوگل ورک پلیس کے پیڈ صارفین کو ایک نئے آٹو زوم فیچر تک بھی رسائی جلد دی جائے گی یہ اے آئی پاور فیچر کمرے میں چلنے پھرنے کے دوران صارف کی پوزیشن کو فالو کرے گا۔

    اگر کوئی صارف اسکرین پر خود کو نہیں دیکھنا چاہتا تو اب میٹ میں صارف کی اپنی ویڈیو فیڈ کو ہائیڈ یا منیمائز کیا جاسکتا ہے اور اگر اپنی آنکھوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو گرڈ میں اپنی فیڈ کو پن کرسکتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ گوگل
    گوگل کے مطابق بہت جلد صارفین کو میٹ کالز کے دوران سیلف فیڈ ٹرن آف کرنے کا آپشن بھی فراہم کیا جائے گا۔

    اسی طرح ایک اور فیچر ملٹی پل فیڈز لائٹ کرنا ہے جس میں کانفرنس میں شامل متعدد افراد کی تصاویر کو پن کیا جاسکتا ہے، یہ فیچر آئندہ چند ماہ میں صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    ایک اور نیا فیچر ویڈیو بیک گراؤنڈ بدلنے کا ہے، اس وقت گوگل میٹ میں 3 اسکرینز کا آپشن ہے جن میں ایک کلاس روم، ایک پارٹی اور ایک فارسٹ ہے-

    فوٹو بشکریہ گوگل
    کمپنی کے مطابق مزید اسکرینز کا اضافہ آنے والے مہینوں میں کیا جائے گا۔

    ایک کارآمد تبدیلی میٹنگز کے نیچے موجود بار میں تمام کنٹرولز کو دینا ہے، یعنی چیٹ، اٹیچمنٹس اور کانفرنس میں شریک افراد کی فہرست، سب آپشن وہاں موجود ہوں گے۔

    گوگل کی جانب سے کال ختم کرنے کا بٹن کیمرا اور مائیکرو فون بٹنز سے دور کیا جارہا ہے تاکہ حادثاتی طور پر کال منقطع نہ ہوسکے۔

    واضح رہے کہ گوگل نے اپریل 2020 میں اپنی ویڈیو کانفرنسنگ سروس میٹ کو تمام صارفین کے لیے مفت کردیا تھا جس کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے دوران باہمی رابطوں میں لوگوں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔

    یہ کانفرنسنگ سروس پہلے صرف جی سیوٹ کے صارفین کے لیے مخصوص اور 6 ڈالر ماہانہ پر ہی دستیاب تھی تاہم اس وبا کی وجہ سے گوگل نے اعلان کیا تھا کہ اس میں مفت ویڈیو کال کا دورانیہ 60 منٹ تک ہوگا مگر اس کا اطلاق 30 ستمبر کے بعد سے ہونا تھا۔

    مگر پھر ستمبر میں اس مدت کو 31 مارچ 2021 تک بڑھا دیا گیا تھا جبکہ ایک گھنٹے کی حد بھی اس موقع پر ختم کردی گئی تھی۔

    بعد ازاں رواں ماہ کمپنی نے پھر اعلان کیا تھا کہ صارفین گوگل میٹ کو 30 جون تک مفت استعمال کرسکیں گے اور اس عرصے میں 24 گھنٹے تک کال جاری رکھ سکیں گے صارفین گوگل میٹ میں 100 افراد کو ویڈیو کانفرنس کا حصہ بناسکتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کے لیے گوگل ورک اسپیس سبسکرپشن خریدنا ہوگ، جس کے بعد ڈھائی سو افراد کو کانفرنس کا حصہ بنایا جاسکے گا۔

    گوگل نے ویڈیو کانفرنسنگ سروس میٹ میں مفت کالز کی مدت میں اضافہ کر دیا

  • پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستان کی ارب پتی شخصیت اور کامیاب انٹرپرینیور آزاد چائے والا نے منفرد ویب سائٹ متعارف کراکر ایک بار پھر سب کو حیران کردیا ہے

    باغی ٹی وی : جی ہاں پاکستانی نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ اور دیگر ہنر فراہم کرنے والی مشہور شخصیت آزاد چائے والا نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی۔

    آزاد چائے والا نے اس بار ایک منفرد اورحیران کن ویب سائٹ سیکنڈ وائف ڈاٹ کام (Secondwife.com) متعارف کروائی گئی ہے، ویب سائٹ مسلمانوں کو ازدواجی خدمات فراہم کرے گی اور اس کے ذریعے مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسری ،تیسری اور چوتھی شادی کرسکیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ متعارف کرانے کا مقصد ایسی خواتین کی مدد کرنا ہے جن کو شوہروں کی تلاش ہے اور انہیں ایسے مردوں سے رابطے میں لانا ہے جو دوسری، تیسری یا چوتھی بیوی کی تلاش میں ہیں۔

    آزاد چائے والا نے مزید کہا کہ ہم نے اس پراجیکٹ پر بہت سا پیسہ اور وقت خرچ کیا ہے اور اس کی کامیابی پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس قبل آزاد چائے والا اپنی ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ وہ شادی کے موضوع پر ایک ویب سائٹ پر کام کر ہے ہیں جس میں gomarry.com انگلش لوگوں کے لئے اور Secondwife.com مسلمانوں کے لئے ہے-

    کروڑ پتی آزاد چائے والا نے بتایا تھا کہ ایک عرصہ آزاد کشمیر میں ٹافیاں بھی بیچی ہیں بارہ سال کی عمر میں انہوں نے بھمبر میں ستاون روپے کی ٹافیاں خریدی اور لوگوں کو بیچی، کچھ عرصہ یہ کام چلا لیکن پھر والد کے کہنے پر انکو یہ کام بند کرنا پڑا انکے مطابق انہوں نے 53 روپے سے شروع ہونے والے کاروبار سے کچھ ہی دنوں میں اپنی والدہ کو تقریباً بائیس سو روپے کما کے دئیے-

    انکا کہنا تھا کہ پندرہ سال کی عمر میں گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے انگلینڈ جانا پڑا وہاں اکیس سال کی عمر تک قریب چھ سال ریڑھی لگائی، بطور سیلز مین کام کیا اور مختلف چھوٹے موٹے کام کئے انکا کہنا تھا کہ اس سارے عرصے میں نے آئی ٹی کا کام جاری رکھا اور پھر بائیس سال کی عمر میں اپنا پہلا گیمنگ پروجیکٹ مکمل کر لیا-

    آزاد نے بتایا کہ گیم بنانا انکی زندگی کا بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھے اسکے بعد میں دبئی چلا گیا اور کئی اور آئی ٹی پروجیکٹ لانچ کئے آزاد نے مزید بتایا کہ آئی ٹی سے کمانے کے بعد میں نے دبئی اور برطانیہ میں ریل اسٹیٹ میں انویسٹ کیا اور آج یہ پراپرٹیز بھی کروڑوں میں ہے-

    آزاد چائے والا نے نو جوانوں کو پیغام دیا کہ ڈگری کریں مگر ہنر سیکھیں، شروع میں نوکری کریں لیکن اپنا چھوٹا موٹا کاروبار ضرور کریں زندگی میں معاشی کامیابی کا گر کاروبار ہی ہے

  • پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    لیاری یونیورسٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ڈیجیٹل اسٹک متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق لیاری یونیورسٹی کے طلباء کی ٹیم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی زیر نگرانی جدید چھڑی صرف تین ہزار روپے کی لاگت سے تیار کی ہے جو موبائل ایپلی کیشن سے منسلک ہے۔

    یہ ایپلی کیشن نابینا افراد کو اردو کے علاوہ انگریزی، سندھی پنجابی میں راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے آواز کے ذریعے آگاہ کرتی ہے اور دیگر کسی بھی زبان کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ بصارت سے محروم افراد اس جادو کی چھڑی کا صرف ایک بٹن دباکر اپنے اہل خانہ یا دوستوں کو اپنی لوکیشن سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

    یہ اسٹک تیار کرنے والے نوجوانوں کی ٹیم میں شہزاد غلام مصطفی، شہزاد منیر اور محمد حمزہ علی شامل ہیں جن کا تعلق مڈل کلاس گھرانوں سے ہے اور انہوں نے اپنے بی ایس آئی ٹی کے فائنل پراجیکٹ کے طور پر یہ چھڑی تیار کی ہے جس کی موبائل ایپلی کیشن بھی خود ڈویلپ کی گئی ہے۔

    اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائےتو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرسکتے ہیں-

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ کرونا کی وبا کے دوران جہاں تعلیمی ادارے بند تھے ہم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی نگرانی میں تین ماہ کی مدت میں یہ ایپلی کیشن اور اسٹک تیار کی جو چار جدید الٹراسانک سینسرز پر مشتمل ہے، اسٹک کو ایک مرتبہ چارجنگ کے بعد ایک ہفتہ تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اسٹک کو کمرشل بنیادوں پر تیار کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم مالی وسائل آڑے آرہے ہیں، اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائے اور کمپونینٹس کی درآمد میں مدد فراہم کی جائے تو وہ بصارت سے محروم افراد کو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرکے دے سکتے ہیں ، یہ اسٹک ایکسپورٹ کرکے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ اس اسٹک کی افادیت کو مزید بڑھانے کے لیے اس کو اپ گریڈ کررہے ہیں جلد ہی اس اسٹک میں کیمرا بھی نصب کیا جائے گا جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے بصارت سے محروم افراد کو ان کے اردگر موجود اشیا یا افراد کی شناخت کرکے آگاہ کریگی کہ سامنے سے ٹرک، کار سائیکل یا کوئی فرد آرہا ہے اسی طرح گوگل میپ کے ذریعے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں بھی رہنمائی فراہم کی جائیگی۔ش

    ہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اگلا ورژن ایک جدید عینک پر مشتمل ہوگا جس میں کیمرا اور سینسرز نصب کیے جائیں گے۔ جادو کی اس چھڑی کو اپ گریڈ کرنے کے لیے الٹراسانک سینسرز کی جگہ جدید لیزر سینسرز استعمال ہوں گے جن کی رینج اور ایکوریسی زیادہ ہوگی-

  • آنرآئندہ ماہ اپنا پہلا فون عالمی سطح پرمتعارف کرانے کے لئے تیار

    آنرآئندہ ماہ اپنا پہلا فون عالمی سطح پرمتعارف کرانے کے لئے تیار

    ہواوے سے الگ ہونے کے بعد آنر اپنا پہلا اسمارٹ فون عالمی سطح پر مئی میں پیش کرنے جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہواوے سے الگ ہونے کے بعد آنر کا پہلا اسمارٹ فون وی 40 فائیو جی چین میں جنوری 2021 میں متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب یہ کمپنی ہواوے سے علیحدگی کے بعد عالمی سطح پر پہلا اسمارٹ فون آنر 50 سیریز کی شکل میں متعارف کرانے والی ہے۔

    فوٹو بشکریہ جی سی ایم ارینا
    فون میں ڈوئل سرکولر ڈیزائن کیمرا سیٹ اپ بیک پر موجود ہوگا یہ کیمرا سیٹ اپ ہواوے کے نئے فلیگ شپ فون پی 50 کی لیک تصاویر سے ملتا جلتا نظر آتا ہے جو جون میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

    فوٹو بشکریہ جی سی ایم ارینا
    تاہم آنر 50 فون میں کیمرا سیٹ اپ کا اوپری سرکل ایک لینس پر مشتمل ہوگا جبکہ نیچے والے سرکل میں 2 کیمرے چھپے ہوں گے جبکہ ایل ای ڈی فلیش دونوں سرکلز کے درمیان ہوگی جبکہ مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل چین میں ہی جنوری میں آنر وی 40 فائیو جی فون میں اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے میجک یو آئی 4.0 سے کیا ہے فون کو چین میں ہی فروخت کے لیے پیش کیا گیا کیونکہ وہاں فون گوگل سروسز کے بغیر ہی دستیاب ہوتے ہیں۔

    تاہم کمپنی اپنا پہلا فون آنر 50 سیریز عالمی سطح پر متعارف کرانے جا رہی ہے اس میں گوگل سروسز اور ایپس موجود ہوں گی یا نہیں یہ ابھی تک واضح نہیں ہے یہ آئندہ ماہ میں ہی پتہ چل سکے گا-

    خیال رہے کہ مئی 2019 کو امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ہواوے اور آنر کے نئے فونز گوگل سروسز سے محروم ہوگئے تھے، جس سے مختلف مارکیٹوں میں ڈیوائسز کی فروخت متاثر ہوئی تھی مگر ہواوے نے 2020 کے آخر میں آنر کو فروخت کردیا تھا۔