Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • بوسٹن:پالک کے پتوں میں مصنوعی گوشت ’اگانے ‘ کی تیاری

    بوسٹن:پالک کے پتوں میں مصنوعی گوشت ’اگانے ‘ کی تیاری

    امریکی سائنسدانوں نے پالک کے پتے استعمال کرتے ہوئے مصنوعی گوشت بنانے کی ایک نئی ٹیکنالوجی پیش کی ہے

    باغی ٹی وی :بوسٹن کالج کے سائنسدانوں نے پالک کے پتّوں میں مصنوعی گوشت ‘اگانے ’ کے کامیاب تجربات کئے ہیں واضح رہے کہ مصنوعی گوشت پر گزشتہ 70 سال سے تحقیق ہورہی ہے جبکہ اس وقت بھی دنیا بھر میں درجن بھر سے زیادہ تجربہ گاہیں اور اسٹارٹ اپ کمپنیاں مصنوعی گوشت کی پیداوار و معیار کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    مزید برآں گوشت میں کئی طرح کی پروٹین وافر پائی جاتی ہے جو اسے انسانی غذا کےلیے اہم ترین بناتی ہے۔ اسی بناء پر ’’متوازن غذا‘‘ میں گوشت بھی لازماً شامل رکھا جاتا ہے۔

    تاہم گوشت کے حصول کےلیے زیادہ جانور پالنے سے ماحول بھی زیادہ آلودہ ہورہا ہے جبکہ ان پالتو جانوروں کی اپنی غذائی ضروریات بھی ایک الگ مسئلہ بنتی جارہی ہیں۔

    یہ اور اسی طرح کے متعدد مسائل حل کرنے کےلیے تجربہ گاہوں میں مصنوعی گوشت تیار کیا جارہا ہے۔ لیکن اب تک ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں جو مصنوعی گوشت کی بڑے پیمانے پر، اور ماحول دوست انداز میں تیاری کو ممکن بنا سکے۔

    دوسری جانب مصنوعی گوشت کے ذائقے اور ظاہری شکل و صورت کو اصل ’’قدرتی گوشت‘‘ جیسا رکھنا بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔

    اس سلسلے میں بوسٹن کالج کے سائنسدانوں نے پالک کے پتّوں میں مصنوعی گوشت ’اگانے‘ کے کامیاب تجربات کیے ہیں۔

    تجربات کے دوران انہوں نے تین مختلف اقسام کی گایوں سے گوشت بنانے والے خلیات علیحدہ کرکے ان کی افزائش پیٹری ڈش میں کی۔

    ساتھ ہی ساتھ پالک کے پتوں کو اندرونی طور پر خلیوں سے خالی کردیا گیا، جس کے بعد ان میں صرف جھلی اور کھوکھلی رگیں باقی رہ گئیں۔

    اگلے مرحلے میں گایوں کے خلیات کو پالک کے ’’کھوکھلے پتوں‘‘ میں داخل کرکے سازگار حالات فراہم کیے گئے۔

    14 دن گزرنے کے بعد گایوں کے خلیات نے تقسیم در تقسیم ہو کر اپنی تعداد بڑھانی شروع کردی؛ اور چند دن بعد پالک کے کھوکھلے پتے، مصنوعی گوشت سے بھر چکے تھے۔

    آن لائن ریسرچ جرنل ’’فوڈ بایوسائنسز‘‘ کے تازہ شمارے میں بوسٹن یونیورسٹی کے گلین گاڈت اور ان کے ساتھیوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے حالیہ تجربات کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ پالک کے پتوں میں مصنوعی گوشت کی افزائش ممکن ہے۔

    آئندہ تجربات میں وہ اس عمل کو تیز رفتار بنا کر مصنوعی گوشت کی پیداوار بڑھانے کے علاوہ دیگر جانوروں کے خلیات اور دوسری سبزیوں کے پتّوں کو آزمانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

  • واٹس ایپ نے صارفین کے لئے ای کرنسی کی سروس دوبارہ بحال کر دی

    واٹس ایپ نے صارفین کے لئے ای کرنسی کی سروس دوبارہ بحال کر دی

    گزشتہ سال جون میں واٹس ایپ نے ایک بہترین فیچر ’ گراؤنڈ بریکنگ ‘متعارف کروایا تھا جس کے تحت واٹس ایپ صارفین عزیز واقارب اوردوستوں کو پیغامات کے علاوہ پیسے بھیج سکتے تھے جبکہ برازیل میں چھوٹے کاروبار کا لین دین واٹس ایپ کے ذریعے کرنے کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اس فیچر کو متعارف کروانے کےکچھ دنوں بعد ہی معطل کردیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے اس نئے فیچر کو صارفین میں مقبولیت ملی تھی جس کی وجہ سے اب اس فیچر نے دوبارہ کام کرنا شروع کردیا ہے۔

    ابتدا میں اس فیچر کو برازیل کے لیے متعارف کروایا گیا تھا جبکہ کمپنی کا کہنا تھا کہ اسے دیگر ممالک میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔

    اس طریقہ کار کو شروع کرنے والی کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم چھوٹے کاروباروں کو بھی واٹس ایپ میں ہی فروخت کرنے کے قابل بنارہے ہیں۔ ایسا کرنے کے لئے ، ہم فیس بک پر کام کررہے ہیں ، جو ہمارے ایپس میں ادائیگی کرنے کا ایک محفوظ اور مستقل طریقہ فراہم کرتا ہے۔ میں اپنے تمام شراکت داروں کو یہ ممکن بنانے کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

    اس اعلان کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے کے دوران برازیل میں مسابقتی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سروس کو معطل کردیا گیا تھا۔

    حال میں شائع ہونےو الی فوربز کی رپورٹ کے مطابق برازیل کے بینکوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ فیچر برازیل کے بینکوں ،فنانشل ٹیکنالوجیز کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے جب کہ کہا جارہا تھا کہ اس فیچر میں پرائیویسی معاملات بھی پیش آسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ واٹس ایپ کی اس سروس نے دوبارہ کام کرنا شروع کردیا ہے جس کے بعد واٹس ایپ صارفین ویزا اور ماسٹرکارڈ کے ذریعے اس سروس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رقم منتقل کرسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ایپل کے پاس ایک ایسی ہی سروس موجود ہے لیکن یہ سروس صرف ایپل ڈیوائسز کے درمیان ہی قابل استعمال ہے جبکہ واٹس ایپ کی سروس اینڈرائڈ اور آئی فون دونوں صارفین کے لیے عام ہے۔

    واٹس ایپ نے ای کرنسی کا فیچر متعارف کروا دیا جس میں صارف خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی خود کر سکے گا

    ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

  • فیس بک نے نیوز فیڈ سے متعلق نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    فیس بک نے نیوز فیڈ سے متعلق نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    سوشل میڈیا ایپ فیس بک نے نیوز فیڈ کو مزید کنٹرول کرنے والے نئے فیچرز متعارف کروادیئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : فیس بک کے نئے فیچرز کے ذریعے صارف اپنی فیڈز کی الگورتھم رینکنگ کو بند کرسکتے ہیں اور نیوز فیڈ پر اپنی پسند کا مواد دیکھ سکتے ہیں۔


    کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے فیچرز کے ذریعے صارف کمنٹ آڈینس کو کنٹرول کرسکتا ہے لیکن اس فیچر کے ذریعے صرف اسی آڈینس کو کنٹرول کیا جاسکے گا جنہیں مینو میں سے منتخب کیا گیا ہو۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے فیچرز کے ذریعے نیوز فیڈ کو ترتیب دینے اور براؤز کرنے میں آسانی ہو گی ساتھ ہی صارف نیوز فیڈ پر اپنی مرضی کا مواد دیکھ سکتا ہے۔

    اس فیچر کے استعمال سے سوشل میڈیا پر تنقید سے بچا جا سکتا ہے تاہم مذکورہ فیچر فوری طور پر بڑی کمپنیز کے پیجز، مواد تیار کرنے والے اداروں، معروف شخصیات اور برانڈز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

    مذکورہ فیچر کے تحت شخصیات، اداروں اور برانڈز کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ چاہیں تو اپنی پوسٹس پر کمنٹس کا سیکشن بند کردیں یا پھر محدود کردیں۔

    یعنی پوسٹ کرنے کے بعد انہیں کمنٹس کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی آپشن دیا گیا ہے اور نئے فیچر کے تحت فیس بک شخصیات، اداروں اور برانڈز سے پوچھے گا کہ وہ چاہیں تو اپنے خاص دوستوں یا پیجز کو ہی کمنٹس کرنے کی اجازت دیں، چاہیں تو کمنٹس کا سیکشن ہی بند کریں۔

    حال ہی میں فیس بک نے ’ فیورٹس‘ نامی فیچر متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے صارفین اپنے دوستوں اور منتخب پیجز کے مواد کو ترجیحی بنیاد پر دیکھ سکتے ہیں۔

    فیورٹس ٹول کے ذریعے کوئی بھی صارف 30 دوستوں اور پیجز کو منتخب کرسکتا ہے جس کے بعد انہی دوستوں یا صفحات کی پوسٹس نیوز فیڈ پر سب سے پہلے نظرآئیں گی۔

    صارفین نیوز فیڈ میں سب سے اوپر موجود نئے مینو "فیڈ فلٹر بار” کے ذریعے فیورٹ ٹول تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اینڈرائڈ صارفین نیوز فیڈ کو اسکرول کرنے کے بعد اس آپشن تک پہنچ سکتے ہیں جب کہ آئندہ چند ہفتوں میں آئی او ایس صارفین کو بھی یہ سہولت فراہم کر دی جائے گی۔

  • پاکستان میں پہلی بار ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی سے بچھڑوں کی پیدائش

    پاکستان میں پہلی بار ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی سے بچھڑوں کی پیدائش

    پاکستان میں پہلی بار ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی سے بچھڑوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پہلی بار ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی سے بچھڑوں کی پیدائش ہوئی ہے محکمہ لائیواسٹاک پنجاب کے ماہرین نے کامیاب ایمبریو ٹرانسفر سے بچھڑے حاصل کیے۔

    رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے سیکرٹری لائیو اسٹاک ثاقب ظفرکا کہنا ہے کہ مقامی نسلوں کے تحفظ اور پیداواری بہتری کیلئے ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی والی کامیابی خوش آئند ہے۔

    انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک تحقیقی ادارے اوکاڑہ اور ویٹرنری یونیورسٹی لاہور کے ماہرین مبارکباد کے مستحق ہیں، یہ کامیابی وزیر اعظم کے غذائی خود کفالت پروگرام کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔

  • ہواوے وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے تیار

    چینی ٹیکنالوجی فرم ہواوے نے ایک لمبی رینج ٹرانسمیشن والے وائرلیس چارجنگ سسٹم متعارف کرانے کی تیار کرلی ہے جس کے لیے کمپنی نے سیمپل بھی فائل کیا ہے

    باغی ٹی وی :وائرلیس چارجنگ سسٹم جدید ترین ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور متعدد ٹیکنالوجی کمپنیاں اس پر کام کررہی ہیں تاہم اب ہواوے نے ‘وائرلیس چارجنگ سسٹم’ کی نئی ٹیکنالوجی کے لیے پیٹنٹ کی درخواست دی ہے جو وسیع ٹرانسمیشن کی رینج کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پبلیکیشن نمبر CN112564295A کا پیٹنٹ وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی سے متعلق ہے۔

    ہواوے کے مطابق اس وائرلیس ٹیکنالوجی کے لیے دو ایسی کوائل کی ضرورت ہوگی جنہیں ایک دوسرے کےمخالف سمت رکھا جائے گا اور دونوں کے مابین فاصلہ ٹرانسمیشن پاور کے انتہائی قریب ہوگا۔

    اس پیٹنٹ وائرلیس سسٹم کے ذریعے ہواوے چارجنگ کے فاصلے کو بڑھا سکتا ہے جو بالخصوص پہنی جانے والی ڈیوائسز جیسا کہ اسمارٹ بریسلیٹس اور واچز کے لیے زیادہ موزوں ہوگا۔

    حال ہی میں ہواوے نے اعلان کیا ہے کہ وہ موبائل فون بنانے والی کمپنیز سے فائیو جی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا معاوضہ وصول کرے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس چین کی مقبول ترین ٹیکنالوجی کمپنی شیاؤمی بھی 40 واٹ کی تیز ترین رفتار سے چارج کرنے والا وائرلیس چارجر متعارف کرواچکی ہے۔

  • چینی کمپنی شیاؤمی نے پہلا فولڈایبل اسمارٹ فون لانچ کر دیا

    چینی کمپنی شیاؤمی نے پہلا فولڈایبل اسمارٹ فون لانچ کر دیا

    چین کی اسمارٹ موبائل فون کمپنی شیاؤمی نے شیاؤمی میگا لانچ میں اپنا پہلا فولڈایبل اسمارٹ فون می مکس فولڈ پیش کردیا کمپنی کا پہلا فولڈیبل فون جو جدید خصوصیات سے بھر پور ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق می مکس فولڈ گزشتہ چند سالوں میں شیاؤمی کی جانب سے پیش کیا جانے والا اب تک سب سے منفرد اور مہنگے ترین اسمارٹ فونز میں سے ایک ہےشیاؤمی کے اس ہینڈ سیٹ میں فولڈنگ ڈسپلے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی جدید اور نیکسٹ جنریشن فیچرز موجود ہیں۔

    شیاؤمی کے اس فولڈنگ اسمارٹ فون کی مین اسکرین دراصل 8.01 انچ کا او ایل ای ڈی پینل، جس کی ریزولیشن 1440 پکسلز ہیں لیکن اس میں کوئی پنچ ہولز یا نوچز موجود نہیں ہیں۔

    می مکس فولڈ بہترین کلر ڈسپلے کے لیے ڈی سی آئی پی تھری گیمٹ کے ساتھ ساتھ ایچ ڈی آر 10 پلس اور ڈولبی وژن کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔

    اس کی بیرونی اسکرین AMOLED ڈسپلے سے لیس ہے جو 6.52 انچ کی ہے اور اس کا ریزولیشن 840*2,520 ہے اور اس پر ایک پنچ ہول سیلفی کیمرا بھی موجود ہے جبکہ سیلفیز کے لیے مین کیمرا بھی استعمال کا جاسکتا ہے۔

    می مکس فولڈ کواڈ-اسپیکر سسٹم سے لیس ہے جو بہترین آواز کے لیے ہارمن کارڈین ہارڈویئر کا استعمال کرتا ہے شیاؤمی نے اس ضمن میں تھری ڈی ساؤنڈ کے لیے اپنا تھری ڈی آڈیو الگورتھم بھی تیار کیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ شیاؤمی
    می مکس فولڈ فلیگ شپ اسنیپ ڈریگن 888 چیپ سے لیس ہے اور یہ دو مختلف میموریز 12GB/256GB اور 12GB/512GB میں دستیاب ہے-

    فوٹو بشکریہ: شیاؤمی
    می مکس فولڈ کے مین کیمرا مین 108 میگا پکسل کا سام سنگ جی این 2 سینسر ہے جس کے ساتھ ہی 13 میگا پکسل کا الٹرا وائیڈ کیمرا، ایک 8میگا پکسل ٹیلی فوٹو 30x زوم لینز بھی موجود ہے جو 3 سینٹی میٹر تک زومنگ کرسکتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ شیاؤمی
    اس کے ساتھ ساتھ ان میں شیاؤمی کی نئی لیکویڈ لینز ٹیکنالوجی بھی شامل ہے جو می 11 الٹرا بھی موجود ہے یہ تمام کیمرے شیاؤمی کے اِن ہاوس امیج پروسیس، سرج سی ون سے لیس ہیں جو بہتر امیج کوالٹی اور آٹو فوکس کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ان دونوں میموریز میں سپورٹ کے لیے یو ایف ایس 3.1 اور بہترین پرفارمنس کے لیے ایل پی ڈی ڈی آر 5 ریم موجود ہےکمپنی کے مطابق اس کا فولڈنگ ہنج پائیدار ہے اور اس سے ملتے جلتے فولڈنگ فولز کے مقابلے میں 27 فیصد کم وزنی ہے۔

    علاوہ ازیں می مکس فولڈ میں ایک کولنگ میکنزم بھی موجود ہے جس میں 5 جی انٹیناز، پروسیسر اور چارجنگ میکنزم کے ذریعے ہیٹ کو کم کیا جائے گا۔

    فوؤٹ بشکریہ شیاؤمی
    علاوہ ازیں 5020 ایم اے ایچ بیٹری کے لیے 67 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ بھی موجود ہے جو اس وقت کسی بھی فولڈنگ فون کے مقابلے میں سب سے زیادہ تیز ترین ہے۔

    می مکس فولڈ 12GB/256GB کو چین میں 1520 ڈالر (2 لاکھ 34 ہزار) میں پیش کیا گیا ہے جو دیگر فلیگ شپ فونز کے مقابلے میں کافی کم ہے جبکہ 12GB/512GB کو 1670 ڈالر (2 لاکھ 57 ہزار) میں پیش کیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس کی قیمتیں زیادہ ہوں گی-

    چینی اسمارٹ موبائل فون کمپنی شیاؤمی کی ذیلی کمپنی بلیک شارک نے گیمنگ فونز متعارف…

    لینووو لیگیون ٹو پرو گیمنگ اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لئے تیار

  • تین ماہ میں ختم ہو جانے والا  لکڑی کے برادے سے بنا بائیو پلاسٹک

    تین ماہ میں ختم ہو جانے والا لکڑی کے برادے سے بنا بائیو پلاسٹک

    لکڑی کے برادے سے ایسا بائیو پلاسٹک تیار کیا گیا ہے جو تین ماہ کے اندر گھل کر ختم ہوجاتا ہے-

    باغی ٹی وی :پلاسٹک اس وقت ماحول، انسانی صحت اور جنگلی حیات کے اولین دشمنوں میں شامل ہیں اور آلودگی کا بڑا ذریعہ ہے ان کے باریک ٹکڑے اب ہمارے جسم میں پہنچ رہے ہیں۔

    دوسری جانب سمندروں اور دریاؤں کو یہ آلودہ کرکے جنگلی حیات کو ہلاک کررہے ہیں اور صاف مٹی کو آلودہ بنارہے ہیں اسی لیے پوری دنیا میں کئی تجربہ گاہیں ماحول دوست پلاسٹک پر کام کررہی ہیں جس میں اب جزوی کامیابی ملی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکہ کی مشہور ییل یونیورسٹی میں لکڑی کے کارخانوں میں بننے والے سفوف نما بُرادے کو نامیاتی پالیمر اور سیلیولوز کے ملاپ سے ایک گاڑھے محلول میں بدل کر اسے ہائیڈروجن بانڈنگ سے گزار کر اسے میں نینوپیمانےکے ریشوں کو آپس میں ملا کربائیوپلاسٹک بنا جسے روایتی پلاسٹک کے سامنے آزمایا گیا ہے۔

    یہ پلاسٹک مضبوط بھی ہے اور لچکدار بھی جب اسے مٹی میں دفنایا گیاتو دو ہفتے بعد چٹخنے لگا اور تین ماہ میں مکمل طور پر غائب ہوگیا اس میں بھاری مائع بھرا گیا اور سامان اٹھانے کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا۔

    جبکہ اس سے قبل جو بھی بائیوپلاسٹک بنائے گئے وہ نہایت کمزور اور غیرلچکدار تھے اسی بنا پر لکڑی کے چورے سے بنا یہ نیا سبزپلاسٹک بہت اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔

    دوسری جانب اسے بنانے کا طریقہ بہت سادہ اور کم خرچ بھی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ گھلنے کے عمل کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب پلاسٹک مائع بننے لگتا ہے اور دوبارہ شروعات کی طرح گاڑھے محلول میں ڈھل جاتا ہے۔ اس لمحے اسے دوبارہ صاف کرکے پلاسٹک میں بدلا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایک جانب یہ حیاتیاتی طور پر تلف ہوتا ہے اورری سائیکل بھی کیا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انڈے کے خول، پودوں اور بعض دیگر اجزا سے باییو پلاسٹک بنائے گئے ہیں لیکن تجارتی پیمانے پر ان کی تیاری کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

  • فائیو جی نظام سے بجلی تیار کرنے والا کارڈ

    فائیو جی نظام سے بجلی تیار کرنے والا کارڈ

    جارجیا ٹیک کے سانسدانوں نے فائیو جی نظام سے بجلی تیار کرنے والا کارڈ بنا لیا-

    باغی ٹی وی :یہ عام انک جیٹ پرنٹر سے چھاپہ گیا تاش کے پتے جیسا دکھائی دینے والا کارڈ فائیوجی ٹاور سے خارج ہونے والی ریڈی ایشن سے براہِ راست بجلی بناسکتا ہے۔ یہ کارڈ فائیو جی ٹاور سے 180 میٹر یا 600 فٹ کی دوری پر 6 مائیکروواٹ بجلی تو کھینچ ہی لیتا ہے۔

    جارجیا ٹیک کی ٹیم نے یہ تحقیق سائنٹفک رپورٹس میں شائع کروائی ہے رپورٹ کے مطابق یہ دنیا کا پہلا تھری ڈی، کارڈ نما ریکٹیفائنگ اینٹینا ہے جو فائیوجی ٹاور سے بجلی کشید کرسکتا ہے نظری طور پر وائرلیس مواصلاتی نظاموں میں بہت توانائی پیدا ہوتی ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مستقبل کے اسمارٹ فون وائرلیس نیٹ ورک سے اپنی 30 فیصد بجلی تو حاصل کرسکیں گے۔

    سائنسدانوں نے ملی میٹر ریڈیائی امواج پر تحقیق کی ہے اور اس سے بجلی کشید کرنے کی ٹیکنالوجی وضع کی ہے۔ لیکن زیادہ توانائی کے لیے بڑی جسامت والے ریکٹیفائنگ اینٹینا درکار ہوتے ہیں۔ پھر اینٹیاؤں کا رخ بھی اس جانب کرنا ہوتا ہے جہاں سے ریڈی ایشن پھوٹ رہی ہوتی ہیں۔

    تاہم اس ایجاد سے کروڑوں اسمارٹ فون اور چھوٹے آلات میں بیٹریاں نکال کر انہیں اسمارٹ سٹی یا اسمارٹ زراعت میں استعمال کیا جاسکے گا۔ تاہم بہت سے مسائل کو حل کرنے کے لیے کارڈ کے عین درمیان ایک قسم کا پرزہ لگایا گیا ہے جسے روٹمین لینس کا نام دیا گیا ہے۔ لینس ملی میٹر موج کو ہائی گین، وسیع اور تنگ زاویئے والے اشعاع میں تقسیم کردیتا ہے انہی کی بدولت ریڈار کا رخ بدلے بغیر ہرجگہ سے سگنل وصول کئے جاتے ہیں۔

    روٹمین لینس کے ساتھ ساتھ کارڈ کو اتنا لچکدار بنایا گیا ہے کہ اسے موڑا جاسکتا ہے اور پرنٹر سے پورا سرکٹ بھی چھاپہ جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ کارڈ بجلی کی معمولی مقدار ہی بناتا ہے لیکن چھوٹے سینسر، اشیا کے انٹرنیٹ (آئی او ٹی) اور دیگر چھوٹے آلات اس سے چلائے جاسکتے ہیں۔

    جارجیا ٹیک کے ماہرین پر امید ہیں کہ ان کی یہ ایجاد وائرلیس ٹیکنالوجی اور انرجی میں انقلابی تبدیلی کی وجہ بن سکے گی۔

  • پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں    ترجمان فیس بک

    پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں ترجمان فیس بک

    دنیا کی سب سے بڑی سماجی ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : فیس بک نے اگرچہ دنیا بھر میں ویڈیوز اور دیگر مواد کے عوض مواد تیار کرنے والوں کو پیسے دینا شروع کر دیئے ہیں تاہم پاکستان میں تاحال عام کانٹنیٹ کریئٹرز کے لیے ایسی سہولیات شروع نہیں کی گئیں مگر حکومت کی خواہش ہے کہ ایسی سہولیات یہاں بھی شروع ہوں۔

    فیس بک کے علاوہ یوٹیوب اور گوگل اشتہارات اور مونیٹائزیشن یعنی مواد کے ذریعے پیسے کمانے کے منصوبے کے تحت مواد تیار کرنے والوں کو رقم فراہم کرتا ہے۔

    حال ہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کے سائنس و ٹیکنالوجی کے مشیر ضیاءاللہ بنگش نے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک جلد پاکستان میں ویڈیوز کے عوض پیسے دینے کا سلسلہ شروع کردے گا۔

    ضیاء اللہ بنگش نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا تھا کہ کہ انہوں نے فیس بک کی سنگاپور میں موجود ٹیم سے رابطہ کیا ہے اور وہ پاکستان میں مختلف منصوبے شروع کرنے کو تیار ہیں۔


    ضیاء اللہ بنگش کے مطابق انہوں نے سنگاپور میں فیس بک کے نمائندوں سے طویل مذاکرات کیے، جس دوران فیس بک عہدیداروں نے پاکستان میں چند منصوبے شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

    وزیر اعلیٰ کے مشیر کے مطابق فیس بک پاکستان میں مواد کے عوض پیسے دینے کا سلسلہ شروع کرنے سمیت دیگر منصوبے بھی شروع کرے گا جب کہ فیس بک پاکستان میں دفتر بھی کھولے گا۔


    ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ انہوں نے فیس بک کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو بھی آگاہ کیا ہے اور انہوں نے بھی فیس بک سمیت گوگل اور یوٹیوب کے لیے پاکستان میں بہتر کام کرنے کے حوالے سے قانون سازی کرنے کی یقین دہانی کروائی۔


    وزیر اعلیٰ کے مشیر کا کہنا تھا کہ جلد وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اسد قیصر کی سربراہی میں فیس بک اور یوٹیوب سمیت دیگر بڑی ویب سائٹس سے مذاکرات شروع ہوں گے اور جلد ہی پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع کھلیں گے۔


    تاہم ضیاء اللہ بنگش کے دعووں کے بعد فیس بک انتظامیہ نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کا فوری طور پر پاکستان میں دفتر کھولنے کا ارادہ نہیں۔

    فیس بک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فیس بک دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے مگر کمپنی کا فوری طور پر پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ فیس بک نے پاکستان میں فوری طور پر ویڈیوز کے عوض پیسے دینے کے سلسلے شروع کیے جانے سے متعلق بھی کوئی جواب نہیں دیا تاہم کہا کہ پاکستانی کانٹینٹ کریئٹرز کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری برادری بین الاقوامی ہے اور ہم دنیا کے بہت سے ممالک میں بغیر کسی دفتر کے کام کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کے دنیا کے درجنوں ممالک میں دفاتر نہیں ہیں تاہم فیس بک کے بڑی مارکیٹوں میں شمار ہونے والے ممالک میں دفاتر موجود ہیں فیس بک کے زیادہ تر دفاتر یورپ و امریکی ممالک میں ہیں تام افریقہ اور ایشیا میں بھی فیس بک کے دفاتر موجود ہیں۔

    فیس بک کے براعظم ایشیا میں مجموعی طور پر 18 دفاتر ہیں، جو نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان، انڈونیشیا، سنگاپور، فلپائن، چین، تائیوان، ملائیشیا، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور بھارت میں موجود ہیں حیران کن طور پر فیس بک کے پڑوسی ملک بھارت میں 5 دفاتر ہیں جو کہ ممبئی، دہلی، بنگلورو، حیدرآباد اور گڑگاؤں میں موجود ہیں۔

  • شرمین عبید چنائے نے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروادیا

    شرمین عبید چنائے نے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروادیا

    آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروادیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شرمین عبید چنائے نے پاکستان مذہبی اقلیتوں کے لیے خصوصی ویب سائٹ لاؤنچ کردی انہوں نے اپنے اس پلیٹ فارم کا نام ’پرچم میں سفید‘ رکھا ہے۔

    اس پر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہری آزادانہ طور پر اپنے جذبات اور تجربے کو شیئر کرسکتے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اس حوالے سے شرمین عبید چنائے نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی چند تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ”جبری طور پر تبادلوں ، اغواء ، اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے مابین ، پاکستان کی اقلیتوں کو ابھی تک ایک مکمل جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ’پرچم میں سفید‘ ویب سائٹ کے ساتھ ، ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی امتیاز کا سامنا کرنے والے شہری ان معاملات پر اپنی آواز سننے کے قابل ہوں ، جو ان کے لئے اہم ہیں ، ان کے حقوق کی حفاظت اور ان کے فروغ ، ان کے خیالات اور خواہشات پر حقیقی طور پر غور کیا جائے –

    شرمین نے لکھا کہ مذکورہ ویب سائٹ ایک انٹرایکٹو ویب سائٹ ہے جس کا مقصد طلباء ، کارکنوں ، اور قانون سازوں کے لئے ایک پلیٹ فارم کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ہے اوراس سے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مختلف مسائل کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل. یہ پلیٹ فارم دلچسپی رکھنے والوں کے لئے مفصل معلومات کا ذریعہ ہوگا اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی پھیلانے کا امکان ہوگا۔