Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مویشیوں کو ماحول دوست بنانے کے لئے چارے میں تھوڑی سی سمندری گھاس شامل کر دیں   تحقیق

    مویشیوں کو ماحول دوست بنانے کے لئے چارے میں تھوڑی سی سمندری گھاس شامل کر دیں تحقیق

    امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مویشیوں کو ماحول دوست بنانا ہے تو ان کی خوراک میں تھوڑی سی مقدار سمندری گھاس کی شامل کر یں-

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس ون‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ گائے بھینسوں کے چارے میں سمندری گھاس کی تھوڑی سی مقدار شامل کردی جائے تو ان سے میتھین گیس کے اخراج میں 82 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس (یو سی ڈی) میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 21 پالتو گایوں کے روزانہ چارے میں سرخ سمندری گھاس (Asparagopsis taxiformis) کی تھوڑی سی مقدار شامل کی گئی سرخ سمندری گھاس کی یہی قسم پاکستانی ساحلی پٹی پر بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔

    اس کے بعد خصوصی آلات کے ذریعے دن میں چار مرتبہ ان کی ڈکاروں سے خارج ہونے والی میتھین گیس کی مقدار معلوم کی گئی۔

    پانچ ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات سے معلوم ہوا کہ جن گایوں نے معمول کے چارے کے ساتھ روزانہ صرف 80 گرام سرخ سمندری گھاس کھائی تھی، ان کی ڈکاروں سے میتھین کا اخراج 82 فیصد تک کم ہوا تھا جبکہ ان سے حاصل ہونے والے دودھ اور گوشت کے ذائقے اور غذائیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ سرخ سمندری گھاس کے اجزاء، مویشیوں کے معدے میں ان خامروں کو کام کرنے سے روکتے ہیں جو میتھین کے اخراج کی وجہ بنتے ہیں۔

    قبل ازیں یہی تحقیق امریکی اور آسٹریلوی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی تھی تاہم اس کا دورانیہ صرف 15 دن رہا تھا موجودہ تحقیق میں یہ مدت بڑھا کر 5 ماہ کرتے ہوئے سرخ سمندری گھاس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    اگرچہ فضا میں میتھین کا اخراج کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت 25 گنا زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔

    یعنی فضا میں ایک ٹن میتھین سے ماحول کے درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ اتنا ہوتا ہے کہ جیسے 25 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل کردی گئی ہو۔

    بعض تحقیقات میں 20 سالہ اثرات کی بنیاد پر یہاں تک کہا گیا ہے کہ میتھین گیس میں ماحول کو گرمانے کی صلاحیت، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 84 گنا زیادہ ہے۔

    فضائی میتھین کے حالیہ اضافے میں انسانی سرگرمیوں کا کردار سب سے نمایاں ہے جس کا 37 فیصد حصہ پالتو مویشیوں، بالخصوص گائے بھینسوں کی ڈکاروں اور ریاح سے فضا میں شامل ہوتا ہے۔

    یہ تجربات اگرچہ امید افزا ہیں لیکن سرخ سمندری گھاس کی بڑے پیمانے پر کاشت اور دور دراز مقامات تک محفوظ منتقلی جیسے امور پر اب بھی کام ہونا باقی ہے۔ اگلے مرحلے میں ان ہی نکات پر تحقیق کی جائے گی۔

  • فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں   تحقیق

    فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل کمیونی کیشن کی جدید ٹیکنالوجی ’فائیو جی‘ انسانی صحت کےلیے بالکل محفوظ ہے۔

    باغی ٹی وی :’جرنل آف ایکسپوژر سائنس اینڈ اینوائرونمنٹل ایپی ڈیمیولوجی‘ کے تازہ شمارہ جات کے مقالہ جات نمبر 1، نمبر 2 کے مطابق اب تک کی سب سے بڑی اس سائنسی تحقیق میں دو الگ الگ جائزے لیے گئے جن میں 6 گیگاہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں (ملی میٹر ویوز) کی کم مقدار سے انسانی صحت کےلیے ممکنہ خطرات کے حوالے سے 138 سابقہ مطالعات اور 100 سے زائد تجربات کا نئے سرے سے تجزیہ کیا گیا۔

    جائزے کا کام ’آسٹریلین ریڈی ایشن پروٹیکشن اینڈ نیوکلیئر سیفٹی ایجنسی‘ (ARPANSA) اور سوئنبرن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ماہرین کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مطالعہ اب تک فائیو جی ٹیکنالوجی اور انسانی صحت میں تعلق کے حوالے سے کیا گیا سب سے بڑا مطالعہ ہے لیکن اس ضمن میں تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    6 گیگا ہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں کے خلوی تقسیم، خلیوں میں جینیاتی تبدیلیوں، خلیوں کے مابین پیغامات کے تبادلے اور خلوی جھلی کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات کے علاوہ ایسے ہی دوسرے کئی پہلوؤں پر کی گئی سائنسی تحقیقات کا محتاط تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین کو ’ایسی کوئی مصدقہ شہادت نہیں ملی جو یہ ثابت کرتی ہو کہ فائیو جی نیٹ ورک میں استعمال ہونے والی ریڈیو لہریں انسانی صحت کےلیے خطرناک ہیں۔

    واضح رہے کہ فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی کو موبائل کمیونیکیشن کی ’اگلی نسل‘ بھی کہا جاتا ہے جس میں 28 گیگاہرٹز سے 39 گیگاہرٹز فریکوئنسی تک کی ریڈیو لہریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں سے چند سائنسی تحقیقات ایسی ضرور تھیں جن میں فائیو جی فریکوئنسی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے کیے گئے تھے لیکن اوّل تو ان میں کئی طرح کی خامیاں تھیں اور دوسرے یہ کہ ان میں حاصل شدہ نتائج کی کسی بھی دوسرے معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔

  • فیس بک کا سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق اہم اقدام

    فیس بک کا سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق اہم اقدام

    دنیا بھر میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے سائٹ سے تناؤ کو ختم کرنے کے لیے سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فیس بک کے بلاگ پوسٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم پرقواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے سیاسی و سماجی گروپوں کو مہم اور ان کو جوائن کرنے کی پروموشن کو ختم کررہی ہے –

    فیس بک کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد فیس بک کے قواعد وضوابط توڑنے والے گروپوں کی رسائی کو محدود کرنا ہے جبکہ ساتھ ہی ایسےگروپس تک الگورتھم سفارشات کے ذریعے عوام کی رسائی بھی محدود کرنا ہے جوماضی میں فیس بک کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔

    اپنے ایک انٹرویو میں فیس بک انجینئرنگ کے نائب صدر ٹام ایلیسن کا کہنا تھا کہ فیس بک تیزی سے گروپوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور صارفین چاہتے ہیں کہ ہم فیس بک پر موجود سیاسی مواد میں کمی لائیں۔

    انہوں نے کہا کہ اب صارفین کو کسی بھی عنوان پر بنائے جانے والے گروپ کو سفارشات کے حصول کے لیے 21 دن انتظار کرنا پڑے گا تاکہ کمپنی یہ جان سکے کہ گروپ کو آپریٹ کیسے کیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ بھی جنوری میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران عالمی سطح پر سیاسی اور سماجی گروپوں کو دی جانے والی سفارشات کو کم کیے جانے کا مقصد بیان کرچکے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ صارفین فیس بک پر سیاسی مواد کم دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    خیال رہے کہ محققین اور سول رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے فیس بک کو تنبیہ کی جاچکی تھی کہ عوامی دلچسپی میں اضافے سے متعلق بنائے گئے گروپس بھی ماضی میں غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

  • واٹس ایپ نے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 9 کے لیے اپنی سپورٹ بند کر دی

    واٹس ایپ نے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 9 کے لیے اپنی سپورٹ بند کر دی

    دنیا بھر میں مقبول ایپ واٹس ایپ نے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 9 (iOS9) کے لیے اپنی سپورٹ بند کر دی ہے اور اب صرف آئی فون 5 یا اس کے بعد نئے آنے والے ایپل اسمارٹ فونز پر ہی واٹس ایپ چل سکے گا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے حال ہی میں شائع ہونے والے سپورٹ ڈاکومنٹ میں بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ نے آئی او ایس 9 کے لیے اپنی سپورٹ ختم کر دی ہے اور اب صرف 2016 میں ریلیز ہونے والے آئی او ایس 10 پر چلنے والے فونز پر ہی واٹس ایپ چلےگا۔


    خیال رہے کہ اب تک آئی او ایس 9 والے آئی فونز پر بھی واٹس ایپ استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن اب سپورٹ ختم ہونے کا مطلب ہے کہ آئی فون 4s رکھنے والے صارفین کو واٹس ایپ دستیاب نہیں ہو گا۔

    یا اگر آپ آئی فون 5 یا اس کے بعد کا کوئی ماڈل رکھتے ہیں اور اس پر ابھی تک آئی او ایس 9 انسٹال ہے تو فوراً اپ گریڈ کر لیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے یہ پہلی مرتبہ نہیں کیا جا رہا ہے، گزشتہ سال واٹس ایپ نے آئی او ایس 8 پر چلنے والی ڈیوائسز کے لیے بھی سروس بند کردی تھی اس لیے جو صارفین آئی فون 4s استعمال کرتے ہیں تو فوراً اپنی چیٹ کا بیک اپ بنا لیں تاکہ اسے کسی دوسرے فون میں منتقل کر سکیں۔

  • جعلسازی سے بچانے والے وہ خاص لیبل جو دکھائی نہیں دیتے

    جعلسازی سے بچانے والے وہ خاص لیبل جو دکھائی نہیں دیتے

    روس کی آئی ٹی ایم او یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسے لیبل ایجاد کرلیے ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن انہیں ایک خاص اسکینر کی مدد سے دیکھا اور جانچا جاسکتا ہے جعلسازوں کےلیے اس غیرمرئی لیبل کی نقل تیار کرنا بہت مشکل ہوگا-

    باغی ٹی وی :آج کل ’نقالوں سے ہوشیار‘ کرنے والے ہولوگرافک اسٹیکرز اور لیبلز بہت عام ہوچکے ہیں لیکن وہ سب کے سب دکھائی دیتے ہیں لہٰذا کوئی بھی جعلساز انہیں دیکھ کر ان کی ہوبہو نقل تیار کرکے صارفین کو دھوکا دے کر اصل کمپنی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    آن لائن ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ مٹیریلز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع رپورٹ کے مطابق تاہم روس کی آئی ٹی ایم او یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسے لیبل ایجاد کرلیے ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن انہیں ایک خاص اسکینر کی مدد سے دیکھا اور جانچا جاسکتا ہے جعلسازوں کےلیے اس غیرمرئی لیبل کی نقل تیار کرنا بہت مشکل ہوگا’نادیدہ‘ لیبل تیار کرنے کےلیے ماہرین نے سلیکان پر مشتمل انتہائی باریک فلم استعمال کی، جو بالکل شفاف ہوتی ہے۔

    اگلے مرحلے پر اس فلم میں باریک باریک چھید کردیئے گئے جن میں سے چند سوراخوں کے اندر، ایک خاص ترتیب سے، اربیئم نامی ایک نایاب عنصر کے ذرّات بھر دیئے گئے جبکہ باقی سوراخ خالی رکھے گئے۔

    اس لیبل پر ایک مخصوص نظام سے منسلک اسکینر کے ذریعے لیزر ڈالی جاتی ہے جس سے ان سوراخوں میں موجود اربیئم کے ذرّات ایک منفرد رنگ سے روشن ہوجاتے ہیں یوں ایک شناختی نمونہ (پیٹرن) بن جاتا ہے جس کے فوری اور خودکار موازنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا تعلق کس کمپنی سے ہے۔

    لیبل چونکہ غیر مرئی ہوتا ہے اور صرف مخصوص لیزر ڈالنے پر ہی دکھائی دیتا ہے، لہذا جعلسازوں کےلیے بھی اس کی نقل تیار کرنا بہت مشکل ثابت ہوگا۔

  • فنگر پرنٹس میں حساس ترین اعصاب دریافت

    فنگر پرنٹس میں حساس ترین اعصاب دریافت

    ہماری انگلیوں پر نشانات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چیزوں پر گرفت کرنے میں مدد دیتے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ انہی میں ان اعصاب کے سرے بھی دریافت کئے گئے ہیں جو ہمارے لمس کو اتنا حساس بناتے ہیں کہ ہم ہر سرگرمی یعنی گرمی، ٹھنڈک، نرمی اور سختی محسوس کرلیتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق سویڈن کی اومیا یونیورسٹی کی سائنسداں ڈاکٹر اویا جیروکا کہتی ہیں کہ فنگرپرنٹ ہمیں ہروہ معلومات کی تفصیل دیتے ہیں جو چھونے کے عمل سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

    جیروکا نے بتایا کہ اس سے قبل عام تاثر یہی تھا کہ نشاناتِ انگشت کسی شے کو تھامنے کے لیے ارتقائی عمل سے پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً اس کے ابھار اور ڈیزائن ہماری انگلیوں سے قلم پھسلنے سے روکتے ہیں لیکن دیگر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ چھونے کے احساس کو مزید بہتر اور مؤثر بناتے ہیں۔

    جیروکا کہتی ہیں کہ بعض افراد کی انگلیوں کے پوروں میں اعلیٰ درجے کی حساسیت ہوتی ہے اور ان پر کئی تجربات کے باوجود بھی کوئی واضح جواب نہیں مل سکا ہے اسی فکر کے تحت انہوں نے اپنی تحقیق کا آغاز کیا-

    انہوں نے 20 سے 30 سال کی چھ خواتین اور چھ مردوں کو پر ایک تجربہ کیا ان سب کو باری باری دندان ساز کی مخصوص کرسی پر بٹھایا۔ ان کے ہاتھوں کو ایک جگہ سیدھا رکھا گیا۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے ریگ مال جیسا کاغذ لیا جس پر چھوٹے اور ہموار ابھار تھے۔ ہر ابھار نصف ملی میٹر بلند تھا اور اب کاغذ کو مختلف رفتار اور مختلف سمتوں یں انگلیوں کے سروں پر رگڑا گیا۔ اس دوران ہر اعصابی خلیے کی برقی سرگرمی کو نوٹ کیا گیا ۔ یہ ریکارڈنگ ہر شریک کے اوپری بازو پر لگے ٹنگسٹن کے حامل الیکٹروڈ سے نوٹ کی گئی تھی۔

    اس تحقیق سے پورے عمل، معلومات اور ڈیٹا کا ایک نقشہ بنایا گیا۔ آخرکار معلوم ہوا کہ حساس ترین علاقہ فنگر پرنٹس میں ہی موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارا دماغ چھونے کا حساس ترین احساس فنگرپرنٹس سے ہی لیتا ہےاور اسی جگہ اعصابی ریشوں کے سرے بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

    ڈاکٹر اومیا کہتی ہیں کہ اس تحقیق کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نشاناتِ انگشت کے دیگر اور استعمالات نہیں ہیں یہ اشیا کو تھامنے میں مدد دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی حساسیت سے بھی بھرپور ہیں۔

  • سائنسدانوں نے دنیا کی سب بڑی دوربین پانی میں اتار دی

    سائنسدانوں نے دنیا کی سب بڑی دوربین پانی میں اتار دی

    روسی سائنسدانوں نے دنیا کی سب سے بڑی زیرِ آب دروربین پانی میں اتاری ہے سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ سب سے چھوٹے کائناتی ذرات نیوٹرائنو پر تحقیق کرے گی۔

    باغی ٹی وی :روس کی مشہور جھیل بیکل کے پانیوں میں 750 تا 1300 میٹر گہرائی میں کائناتی دوربین ڈبوئی گئی ہے جسے ’بیکل گیگاٹن وولیم ڈٹیکٹر یا جی وی ڈی ‘ کا نام دیا گیا ہے دوربین کو جھیل بیکل کے کنارے سے چار کلومیٹر دور اتاراگیا ہے۔

    یہ دوربین ایک طرح کی آبزرویٹری ہے جو ڈوریوں اور خمیدہ شیشوں اورفولاد سے بنی ہے واضح رہے کہ جھیل منجمند تھی اور اس میں سوراخ کرکے رصدگاہ جھیل میں ڈالی گئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کائناتی ذرات نیوٹرائنو کی شناخت بہت مشکل ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نصف مکعب کلومیٹر پر پھیلی ہوئی دوربین فضائی آلودگی سے دور رہ کر ان ذرات کی شناخت اور تحقیق کرے گی۔

    روس میں جوائنٹ انسٹی ٹیوٹ فار نیوکلیئر ریسرچ کے سائنسداں دمیتری نوموف کہتے ہیں کہ اگلے چند برسوں میں دوربین کو مزید ایک مکعب کلومیٹر تک وسعت دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ جھیل بیکل دنیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی گہری اور شفاف جھیل ہے یہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی لیے نیوٹرائنو رصدگاہ کے لیے ایک شاندار جگہ بھی ہے –

    سانسدانوں کو توقع ہے کہ اس رصدگاہ سے نیوٹرائنو ذرات کو سمجھنے اور ان پر تحقیق میں بہت مدد ملے گی۔

  • فیس بک کاعوامی ویڈیوزکےاعداد و شماراورکاپی رائٹس جیسےمسائل کیلئےآرٹیفیشل ٹیکنالوجی کا ستعمال

    فیس بک کاعوامی ویڈیوزکےاعداد و شماراورکاپی رائٹس جیسےمسائل کیلئےآرٹیفیشل ٹیکنالوجی کا ستعمال

    دنیا بھر میں مقبول ترین سوشل میڈیا ایپ فیس بک نے صارفین کی عوامی ویڈیوز کا جائزہ لینے اور مونیٹائزیشن کے لیے آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کے پروجیکٹ پر کام شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیس بک اب اپنی پروگرامنگ کو صارفین کی عوامی ویڈیوز کے لیے ترتیب دے رہا ہے، جس کے لیے ایک آرٹی فیشل پروجیکٹ پر کام شروع کیا گیا ہے جو ویڈیوز کو سمجھ سکتا ہے اور اسے مختلف طریقوں سے استعمال میں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس حوالے سے فیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشینوں کو ایسی تربیت دینا کہ وہ ویڈیوز کو مکمل طور پر ایک انسان کی طرح دیکھیں قدرے مشکل کام ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا اب ناممکن نہیں رہا۔

    فیس بک کا دعویٰ ہے کہ ہمارا آرٹیفیشل سسٹم نہ صرف ان معاملات کو بہتر بنائے گا بلکہ تیز رفتار حرکت پذیر دنیا سے ہم آہنگ بھی کردے گا جبکہ مختلف ثقافتوں اور خطوں میں موجود باریکی اور نظریاتی اشاروں کو بھی پہچاننے میں مدد ملے گی۔

    خیال رہے کہ آرٹی فیشل ٹیکنالوجی کی ویڈیو سے متعلق اعداد و شمار تک رسائی سب سے بڑے مسابقتی فوائد میں سے ایک ہے جس کی مدد سے لاکھوں صارفین سے متعلق ڈیٹا جمع کرکے فیس بک، گوگل، اور ایمیزون جیسی کمپنیاں مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگئیں۔

    فیس بک کی ویڈیوز پر مونیٹائزیشن کے فیصلے کے بعد دنیا بھر سے سیکڑوں زبانوں میں بنی ہوئی عوامی ویڈیوز کے اعداد و شمار اور کاپی رائٹس جیسے مسائل کو آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

  • وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سینگ والی وہیل کی ایک قسم ناروہیل کا سینگ اپنے اندر بہت سے ماحولیاتی راز رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی :کسی درخت کے دائروں کی مانند، نار وہیل کے سینگ پر ہر سال ایک دائرہ نموپذیر ہوتا ہے اور اس کے جائزے سے نہ صرف اس کی غذا، عادات اور دیگر عوامل کا پتا ملتا ہے بلکہ اطراف کے ماحول کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔

    اس ضمن میں ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی نے دس جانوروں کے سینگ دیکھے ہیں جو شکاریوں کےہاتھوں پہلے ہی مارے جاچکے تھے۔

    وہیل کے سینگوں کی لمبائی 150 سے 240 سینٹی میٹر تھی اور تمام سینگوں کو لمبائی کے لحاظ سے درمیان سے چیرا گیا اور اس کے اندر خدوخال یا دائروں کا جائزہ لیا گیا اس میں ایک جانب پارہ موجود تھا تو دوسری جانب ہردائرے میں کاربن اور نائٹروجن کے اسٹیبل آئسوٹوپس موجود تھے ان سے معلوم ہوا کہ آیا وہیل کھلے سمندر میں تھیں یا برفانی ساحلوں کے قریب ہی کہیں رہ رہی تھیں۔

    سینگوں کے مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ 1990 سے 2000 تک وہیل کو برف کی کمی کا سامنا تھا اور اس تناظر میں اس نے غذائی عادات بھی تبدیل کی تھیں ان تفصیلات پر ماہرین نے کہا ہے کہ وہیل پر اس انوکھی تحقیق سے ان کی خوراک، بقا اور دیگر عادات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسے ہم سینگ قرار دیتے ہیں وہ نر وہیل کا لمبا دانت ہوتا ہے جو سینگ کی صورت میں چہرے سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

  • رائس پیپر سے ماحول دوست ماسک تیار جس سے پودے بھی اگائے جا سکتے ہیں

    رائس پیپر سے ماحول دوست ماسک تیار جس سے پودے بھی اگائے جا سکتے ہیں

    ہالینڈ کی ایک کمپنی نے رائس پیپر سے ماحول دوست ماسک تیار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق رائس پیپراستعمال کے کچھ عرصے بعد نہ صرف خودبخود تحلیل ہوجاتا ہے بلکہ اسے زمین میں دفنا کر پھولوں والے پودے بھی اُگائے جاسکتے ہیں کیونکہ اس کی پرتوں میں مقامی پودوں کے ننھے ننھے بیج سی دیئے گئے ہیں یہ گزشتہ کئی صدیوں سے مشرقی ایشیا میں اشیائے خور و نوش لپیٹ کر رکھنے میں استعمال ہورہے ہیں۔

    ایک ماحول دوست اور حیاتی تنزل پذیر (بایئو ڈیگریڈیبل) ماسک کا خیال ہالینڈ کی ایک ڈیزائنر، ماریان ڈی گروٹ کو گزشتہ سال اس وقت آیا جب انہوں جگہ جگہ بکھرے ہوئے استعمال شدہ فیس ماسک دیکھے جو کوویڈ 19 کی عالمی وبا میں لوگوں نے استعمال کرکے یونہی پھینک دیئے تھے۔

    آج استعمال شدہ فیس ماسک، ماحولیاتی آلودگی میں ایک نیا مسئلہ بنتے جارہے ہیں جس سے چھٹکارا پانے کےلیے مختلف طریقے سوچے جارہے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، ماریان ڈی گروٹ نے یہ ماسک اپنی کمپنی ’پونس اونتورپ‘ کےلیے ڈیزائن کیا ہے جسے ’ماری بی بلوم‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسے بنانے کےلیے رائس پیپر کی مختلف پرتیں، آلو کے نشاستہ سے تیار کردہ گوند سے آپس میں جوڑ دی گئی ہیں تیاری کے دوران ہی ان پرتوں کے بیچ میں ’ڈچ میڈو‘ کہلانے والے ایک پھولدار پودے کے چھوٹے چھوٹے بیج بھی دبا دیئے جاتے ہیں۔

    لہٰذا، استعمال کے بعد اگر اس ماسک کو مناسب حالات کے تحت زمین میں دفنا دیا جائے تو نہ صرف یہ تحلیل ہو کر خودبخود ختم ہوجائے گا بلکہ ان بیجوں میں سے کونپلیں بھی نکل آئیں گی جو مناسب دیکھ بھال کے بعد پھولدار پودوں میں بدل جائیں گی۔

    فی الحال یہ ماسک صرف ہالینڈ، بیلجیئم اور جرمنی میں ہی دستیاب ہے۔البتہ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی دیگر میں بھی اس کی فروخت شروع کردے گی۔

    اسے بنانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماسک محفوظ بھی ہے لیکن ایسی کوئی تحقیق موجود نہیں جو اس ماسک کو الرجی سے پاک اور صحت کےلیے مکمل محفوظ بھی ثابت کرتی ہواس سب کے باوجود ’ماری بی بلوم‘ کو ایک بہتر اور ماحول دوست ماسک ضرور قرار دیا جاسکتا ہے-