Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ائیر فون کو نہایت کارآًمد اور طبی سینسر میں بدلنے والی چپ ایجاد

    ائیر فون کو نہایت کارآًمد اور طبی سینسر میں بدلنے والی چپ ایجاد

    دنیا بھر میں استعمال ہونے والے ہیڈ فون اور ایئرفون میں ایک چپ کا اضافہ کرکے انہیں نہایت کارآمد سینسر میں بدلا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق رٹگرز یونیورسٹی کے انجینیئروں نے انتہائی کم خرچ اور آسان چِپ بنائی ہے جو ہیڈفون کو سینسر بنادیتی ہےاور اس کی ریڈنگ اسمارٹ فون پر آسکتی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ سینسر بڑا ہے لیکن اسے مزید حساس اور چھوٹا بنایا جاسکتا ہے جس پر کام جاری ہے۔ اس ایجاد کو ’ہیڈفائی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    ہیڈ فونز میں صرف ایک چپ کے اضافے سے ہیڈفون دل کی دھڑکن ناپنے، جائرواسکوپ، اسراع پیما (ایسیلرومیٹر) ، مائیکروفون اور دیگرآلات کا کام کرسکتے ہیں۔

    اس ایجاد کے تحت تین ڈالر سے لے کر 15 ہزار ڈالر تک کے ہیڈفون استعمال کئے گئے اس کے بعد ہیڈفائی نے 97 سے 99.5 تک درستگی سے یوزر کو شناخت کیا۔ 96 سے 99 فیصد صحت سے دل کی دھڑکن گننے اور 99 فیصد ہی حرکات و سکنات کو کامیابی سے نوٹ کیا تاہم یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے-

  • 20 سال قبل دریافت کیا گیا رواں سال کا سب سے بڑا سیارچہ 21 مارچ کو زمین کے پاس سے گزرے گا   ناسا

    20 سال قبل دریافت کیا گیا رواں سال کا سب سے بڑا سیارچہ 21 مارچ کو زمین کے پاس سے گزرے گا ناسا

    امریکی خلائی تحقیقاتی کے ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ 21 مارچ بروز اتوار رواں برس کا سب سے بڑا سیارچہ زمین سے 20 لاکھ کلو میٹر کی دوری سے گزرے گا جس کا سائز915 میٹر قطر ہے-

    باغی ٹی وی:عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیارچہ ’’2001 FO32‘‘ اتوار کو زمین کے نزدیک سے گزرے گا جسے خلا باز قریب سے دیکھ سکیں گے۔ یہ سال کا سب سے بڑا سیارچہ ہوگا جو زمین سے صرف 20 لاکھ کلو میٹر کی دوری سے گزرے گا۔

    ناسا کے اعلیٰ عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سیارچے کو 20 کی جسامت کے برابر یا اس سے بڑے 95 فیصد سیارچوں کی فہرست تیار کی جا چکی ہے اور اگلی صدی تک ان میں سے کسی کا بھی زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    ناسا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ 1 لاکھ 24 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرے گا جو رفتار زمین کے نزدیک سے گزرنے والے سیارچوں کی عمومی رفتار سے زیادہ ہے۔ اس سیارچے کو 20 سال قبل دریافت کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب زمین کے نزدیک سے گزرنے والی خلائی اجزا کے مطالعے کے ادارے کے ڈائریکٹر پاؤل چوڈاز کا کہنا ہے کہ جب یہ گزر رہا ہو گا تو آسمان پر موجود تمام اجزا سے زیادہ روشن نظر آئے گا۔ گو زمین اور سیارچے کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوگا تاہم اسے خطرناک قرار دیا جا سکتا ہے۔

    ناسا کے لانس بینر نے بتایا کہ اس قدر قریب سے گزرنے سے سیارچے کی سطح سے سورج کی کرنوں کے عکس سے ہمیں اس سیارچے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا موقع ملے گا کیوں کہ فی الوقت ہمارے پاس اس کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں-

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

  • گوگل کوصارفین کا مبینہ ڈیٹا اکٹھا کرنے پر5 بلین ڈالر کے ہرجانے کا سامنا ہونے کا امکان

    گوگل کوصارفین کا مبینہ ڈیٹا اکٹھا کرنے پر5 بلین ڈالر کے ہرجانے کا سامنا ہونے کا امکان

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کو ’’انکوگنیٹو موڈ‘‘ یعنی پوشیدہ رہ کر سرچنگ کے آپشن کا فائدہ اُٹھا کر سرفنگ کرنے والے صارفین کو ٹریک کرنے پر 5 بلین ڈالر کے ہرجانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں تین صارفین نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ گوگل انہیں اُس وقت بھی خفیہ طور پر ٹریک کرتا ہے اور ڈیٹا جمع کرتا ہے جب وہ پوشیدہ رک کر سرچنگ کا آپشن استعمال کر رہے ہوتے ہیں یا صارفین کے اپنے طور پر پرائیویسی سیٹ کرنے کے باوجود گوگل ٹریکنگ جاری رکھتا ہے۔

    صارفین نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ گوگل کا پرائیوٹ ڈیٹا ٹریکنگ بزنس ہے جو صارفین کی جانب سے پرائیویسی سیٹنگ سخت کرنے یا کروم میں پوشیدگی کا طریقہ استعمال کرنے کے باوجود نجی معلومات اور دیگر براؤزرز تک رسائی حاصل کرکے ڈیٹا جمع کرتا رہتا ہے۔

    امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ضلعی جج نے اس مقدمے کے فیصلے میں لکھا کہ گوگل نے صارفین کو پیشگی مطلع نہیں کیا تھا کہ وہ انگوگنیٹو موڈ میں بھی صارفین کا مبینہ ڈیٹا اکٹھا کرنے میں ملوث ہے جس پر گوگل کو سخت قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو کہ 5 بلین ڈالر تک کے ہرجانے کا بھی ہوسکتا ہے۔

    دوسری جانب گوگل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انکوگنیٹو کا مطلب پوشیدہ نہیں ہے اور موڈ کے استعمال کے ساتھ بھی صارف کی سرگرمیاں اُن ویب سائٹس پر بھی نظر آسکتی ہے جو وہ دیکھتے ہیں جب کہ کسی بھی تیسرے فریق کے تجزیات یا اشتہارات کی خدمات وزٹ کردہ ویب سائٹ استعمال کرتی ہیں۔

    واضح رہے کہ گوگل نے رواں سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ تیسری پارٹی سے باخبر رہنے والے کوکیز کو مرحلہ وار بنا رہے ہیں اور وہ کوکیز کو کسی ایسی جگہ سے تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جو ناگوار ہوسکتا ہے حالانکہ اس سے کمپنی کے اشتہاری کاروبار پر اثر پڑے گا-

  • ہزاروں ای میل سرور خطرناک حملوں کی زد میں ہیں    مائیکرو سوفٹ

    ہزاروں ای میل سرور خطرناک حملوں کی زد میں ہیں مائیکرو سوفٹ

    مائیکروسافٹ نے خبردار کیا ہے کہ ہیکروں کا ایک گروہ ’ایکسچینج ای میل سرورز‘ پر حملہ کرکے وائرس یعنی میل ویئر پھیلارہے ہیں جس وجہ سے ہزاروں ای میل سرور خطرناک حملوں کی زد میں ہیں۔

    باغی ٹی وی :مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ ہیکروں کا ایک گروہ ’ایکسچینج ای میل سرورز‘ پر حملہ کرکے وائرس یعنی میل ویئر پھیلارہے ہیں جن میں عام وائرس، ٹروجن ہارس، اسپائی ویئر اور تاوان لینے والے رینسم ویئر تک شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو مائیکروسافٹ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اس میل ویئر کو ڈیئرکرائے یا ڈوجہ کرِپٹ کا نام دیا گیا ہے اور چینی ہیکرز کا ایک گروہ جس کا نام ’ہیفنیئم‘ ہے وہ ان سرور کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھارہا ہے۔

    کمپنی کے مطابق ہیفنیئم وہ بنیادی گروہ ہے جونظام میں موجود بنیادی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس کے باوجود دو مزید گروہ ایسے ہیں جو ایکسچینج سرورز کو نشانہ بنارہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق رینسم ویئر کے ماہر مائیکل جیلسپائی کہتے ہیں کہ امریکا، کینیڈا اورآسٹریلیا کے کئی سرور ڈیئرکرائےوائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے مائیکروسافٹ کو انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی ’گِٹ ہب‘ میں ہیکرز کی چھیڑ چھاڑ محسوس ہوئی اور اس کی رپورٹ بھی شائع کرائی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک اور کمپنی نے 82 ہزار سرورز میں ایسی کمزوریاں اور زدپذیری کو نوٹ کیا ہے جو معاملے کو مزید مشکل بنارہی ہیں۔ اس کے علاوہ بینکوں اور صحت کے نظام سے وابستہ سینکڑوں ویب سائٹس اور سرورز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    تاہم ڈیٹا چراکر یا کسی اور طریقے سے تاوان مانگنے کا کوئی واقعہ اب تک سامنے نہیں آیا۔

  • نیٹ فلکس کا پاسورڈ شئیر کرنے والوں کے خلاف بڑا فیصلہ

    نیٹ فلکس کا پاسورڈ شئیر کرنے والوں کے خلاف بڑا فیصلہ

    دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ ویب سائٹ نیٹ فلکس نے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ پاس ورڈ شیئر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس کے کچھ صارفین کو اسکرین پر میسجز موصول ہوئے ہیں جس میں کہا گیا ہے اگر یہ اکاؤنٹ آپ کا ذاتی نہیں ہے تو آپ کو ویڈیوز دیکھنے کے لیے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کی ضرورت ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہیہ ٹیسٹ اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جاسکے کہ آیا وہ شخص یہ اکاؤنٹ استعمال کرنے کا مجاز ہےتاہم ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کیا کمپنی اس ڈیزائن کو اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنائے گی۔

    میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا گیا ہےکہ نیٹ فلکس اپنے پلیٹ فارم پر غیر مجاز افراد کے خلاف کاروائی کی کوشش کررہا ہے تاہم اب تک یہ غیر واضح ہے کہ کتنے لوگ نیٹ فلکس کے شرائط و ضوابط کے تحت اسے استعمال کررہے ہیں۔

    نیٹ فلکس کی آزمائش کے دوران صارف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انہیں اُس کوڈ کے ذریعے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل ہے جو کمپنی کی جانب سے انہیں میسج یا ای میل کے ذریعے بھیجا جاتا ہے-

    دوسری جانب انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنی رپورٹ میں تحقیقاتی کمپنی ’میگڈ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ35 فیصد ملینیئلز (1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہونے نوجوانوں) نے سٹریمنگ سروسز کے اپنے پاس ورڈ شیئر کیے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جنریشن ایکس (اڈھیر عمر) کے 19 فیصد جبکہ 13 فیصد بے بی بومرز (ضعیف العمر) افراد نے ایسا کیا۔

    ’میگڈ‘ کے مطابق مجموعی طور پر نو فیصد صارفین پاس ورڈ شیئر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ تناسب پہلی نظر میں زیادہ نہیں لگتا لیکن یہ عمل لاکھوں ڈالر تک نقصان کا باعث بن سکتا ہے-

    رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس کے چیف پروڈکٹ آفیسر گریگ پیٹرز کا کہنا ہےکہ ہم اس کی نگرانی کرتے رہتے ہیں تاکہ صورت حال ہماری نظر میں ہو۔ ہم صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا حل تلاش کر لیں گے۔‘

    تاہم پیٹرز کا کہنا تھا کہ فوری طور پر کمپنی کے پاس اس حوالے سے اعلان کرنے کے لیے کوئی بڑا منصوبہ نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ نیٹ فلکس ویڈیو سٹریمنگ کی ایک امریکی بین الاقوامی کمپنی ہے جس کے صارفین ماہانہ معاوضہ ادا کرنے کے بعد لاتعداد فلمیں اور ٹی وی شوز دیکھ سکتے ہیں-

  • یوٹیوب نےکورونا ویکسین  اور وائرس سے متعلق ہزاروں گمراہ کن ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں

    یوٹیوب نےکورونا ویکسین اور وائرس سے متعلق ہزاروں گمراہ کن ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں

    دنیا بھر کی مقبول سوشل میڈیا ایپ یوٹیوب نے گزشتہ 5 ماہ کے دوران کورونا ویکسین سے متعلق 3000 جھوٹی معلومات پھیلانے والی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ویڈیوز کا موادعالمی ادارہ صحت اور صحت کے حکام مثلاً این سی ایچ کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے برعکس ہے۔

    یوٹیوب ترجمان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 8 لاکھ سے زائد غلط معلومات فراہم کرنے والی ویڈیو ز کو یوٹیوب سے ڈیلیٹ کیا جاچکا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ڈیلیٹ کی جانے والی ویڈیوزمیں ویکسین سے لوگوں کی ہلاکت ، بانجھ پن میں اضافے کا سبب یا پھر ویکسین میں خفیہ مائیکروچپ جیسے دعوے کیے جانے جیسا مواد شامل تھا۔

    ترجمان نے بتایا کہ ان اعداد وشمار میں ڈیلیٹ کی جانے والی ویڈیوز کا مواد صرف ویکسین سے متعلق نہیں تھا بلکہ ویڈیوز میں وائرس کے حوالے سے بڑے پیمانے پر طبی لحاظ سے گمراہ کن دعوے بھی کیے گئے تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویکسینز سے متعلق کیے جانے والے غلط دعوؤں اور گمراہ کن معلومات کو روکنے کے لیے یوٹیوب سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی ایسے مواد کی تلاش اور انہیں حذف کیے جانے سے متعلق سرگرم عمل ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اکتوبر میں کمپنی کی جانب سے ویکسین کی افادیت کو کم کرنے سے متعلق بنائی جانے والی ویڈیوز پر بھی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

  • ٹوئٹر کی صارفین کیلئے دو نئے فیچرز کی آزمائش

    ٹوئٹر کی صارفین کیلئے دو نئے فیچرز کی آزمائش

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اپنے اینڈرائیڈ اور آئی اوایس صارفین کے لیے دو نئے فیچرز کی آزمائش کررہی ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹر سپورٹ نامی ٹوئٹر ہینڈل کی جانب سے بتایا گیا کہ ٹوئٹر دو نئے فیچرز کی آزمائش کر رہی ہےجس کے تحت صارفین اپنے ٹوئٹر ٹائم لائن پر اب آدھی کے بجائے مکمل تصویر دیکھ سکیں گے جب کہ دوسرا فیچر 4k امیج بھی سپورٹ کرسکے گا۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1369680651860008963?s=20
    گزشتہ روز ٹوئٹر سپورٹ نامی ٹوئٹر ہینڈل نے اپنےٹوئٹ میں کہا کہ کہ ٹوئٹر اگلے چند ہفتوں کے دوران ان نئے فیچرز کی آزمائش کرنے جارہا ہے جس کے بعد ٹوئٹر ٹائم لائن پر تصویروں کا آدھے کے بجائے مکمل ویو نظر آئے گا۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1369680651860008963?s=20
    ٹوئٹر استعمال کرنے والے صارفین کو ابھی کسی بھی تصویر کا مکمل ویو دیکھنے کے لیے ٹوئٹ پر ٹیپ کرنا ہوتا ہے لیکن اس فیچر تک رسائی کے بعد صارفین ٹوئٹر ٹائم لائن پر تصویروں کا مکمل ویو دیکھ سکیں گے۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1369680674672807940?s=20
    ٹوئٹر کی جانب سے زیر غور دوسرےفیچر کے ذریعے صارفین ہائی کوالٹی کی تصاویر یعنی 4k امیج کو بھی ٹوئٹر پر اپ لوڈ کرسکیں گے جب کہ اس فیچر تک رسائی بھی اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے ہی ہوگی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطا بق یہ فیچر سیٹنگ مینو میں موجود ڈیٹا یوزیج میں فراہم کیا جائے گا یہاں صارف کو ’ہائی کوالٹی امیج ‘ کو منتخب کرنا ہوگا اور پھر موبائل ڈیٹا، وائی فائی یا صرف وائی فائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرناہوگا۔

    ٹوئٹر نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنا دی

  • چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    کرہ ارض پر خود زمین سے بھی پرانا ایک شہابیہ ملا ہے اس کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال بتائی گئی ہے یعنی یہ زمینی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نایاب ترین پتھر کو الجزائر کے ریگستان سے تلاش کیا گیا ہے یہ اپنی فطرت میں آتش فشانی پتھر ہےجو باقاعدہ صحارا ریگستان کا ایک حصہ ہے۔ 2020 میں جاپانی اور فرانسیسی ماہرین نے اسے دریافت کیا تھا اور اگلے ہی دن اس پر غوروفکر شروع کردیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پتھرنظامِ شمسی بننے کے صرف 20 لاکھ سال بعد وجود پذیر ہوا ہےاس کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کے ماضی سے آگاہ کرے گا اور ہم زمین کے ارتقا کو بھی جان سکیں گے۔

    اس شہابیے کو ایرگ چیک 002 کا نام دیا گیا ہے اور مختصراً اسے ای سی 002 پکارا جارہا ہے کے بارے میں فرانس فرانس کی یونیورسٹی آف ڈی بریٹاگین آسیڈینڈل کے ماہر جین ایلکس بیرے نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے شہابیوں پر تحقیق کررہے ہیں اور یہ ان کی زندگی کی سب سے حیرت انگیز دریافت ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اس طرح کے پتھر اینڈیسائٹ کہلاتے ہیں جو ارضیاتی سبڈکشن زون میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر زمین کی قدرتی ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے نبردآزما رہتی ہیں لیکن اب تک جو پتھریلے شہابئے ملے ہیں وہ بیسالٹ سے بنے ہیں۔

    ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پگھلے ہوئے مادے سے بنا ہے اور اپنی فطرت میں آتش فشانی ہے۔ پھر چار ارب ساٹھ کروڑ سال قبل یہ جم کر ٹھوس شکل اختیار کرگیا تھا۔

    خیال ہے کہ یہ شہابی پتھر کسی ایسے ناکام سیارے یا پروٹوپلانیٹ کا حصہ رہا ہے جو سیارہ تو نہ بن سکا لیکن ٹوٹ پھوٹ کر کہیں بکھر گیاتاہم ابھی اس پر تحقیق جاری ہے-

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

  • جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    اگر آپ بھی چاند پر جانے کے خواہشمند ہیں تو اب آپ کی یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے جی ہاں جاپان سے تعلق رکھنے والے ارب پتی یوزاکامیزاوا چاند پر جانے والی ایلن مسک اسپیس فلائٹ کے لیے کسی گروپ کی تلاش میں ہیں جو انہیں جوائن کرسکے۔

    باغی ٹی وی :کچھ دن قبل یوزاکا کی جانب سے ٹوئٹ کے ذریعے چاند پر جانے کے خواہشمند افراد کو خوشخبری سنائی گئی اور فری ٹکٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

    یوزاکا نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ میں آپ کو چاند پر جانے والے مشن میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، دنیا بھر میں سے 8 افراد اس مشن کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔


    یوزاکا کی ویڈیو کے مطابق ڈیئر مون نامی مشن کا آغاز 2023 میں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر پس منظر کے لوگ اس میں شامل ہوں۔

    یوزاکا کی جانب سے اپنی پوسٹ میں درخواست جمع کروانے والوں کے لیے لنک بھی شیئر کیا گیا ہے، انہوں نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ انہوں نے تمام سیٹیں خرید لی ہیں لہٰذا یہ نجی سواری ہوگی۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق درخواست دینے والے کو دو معیاروں پر پورا اترنا ہوگا درخواست دہندگان کو کسی بھی قسم کی سرگرمی، دوسرے لوگوں کی مدد،معاشرے کی بہتری اور ان جیسی خواہشات رکھنے والے افراد کی مدد کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

  • سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے زمین کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی سے باہر پتھریلی چٹانوں والے دیگر سیاروں پر موجود ماحول کو سمجھنے کے لیے بہترین جگہ ہو سکتی ہے س نئی دنیا کو ’گلیز 486b ‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے مگر اسے سپر ارتھ بھی کہا جا رہا کیونکہ یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

    سپر ارتھ کے نام کے باوجود یہ کئی لحاظ سے ہماری زمین سے مختلف ہے۔یہ سیارہ ہماری زمین سے 30 فیصد بڑا اور تقریباً تین گنا زیادہ بھاری ہے یہ اتنا گرم ہے کہ اس کی سطح پر سیسہ پگھل سکتا ہے اور وہاں لاوا کے دریا اس کی سطح پر بہتے ہیں۔

    ایک ستارے کے گرد گھومنے والا یہ سیارہ صرف 26 نوری سال دوری پر ہے جو کائنات میں ہمارا سب سے قریبی پڑوسی ہے گلیز 486b مدار میں گردش کرتے ہوئے اور ایک سرخ چھوٹے ستارے سے قربت کی وجہ سے محققین کی نظر میں آیا۔

    اس کی ایک حیرت انگیز وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک ’منتقل‘ ہونے والا سیارہ ہے اور جب یہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو سائنس دان اس کا اچھے طرح سے نظارہ کر سکتے ہیں اور اس کے ماحول کی جانچ کرسکتے ہیں یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اسے دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک تو اسے ستاروں کو عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور دوسرا ڈوپلر ریڈیل ویلاسٹی کے ذریعے بھی اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں طریقوں کو ملا کر اس سیارے اور اس کے ماحول کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو

    اس کا ماحول خاص طور سائنس دانوں کو زیادہ پر پُرجوش بناتا ہے کیوں کہ یہ اتنا گرم ہے کہ اس کے ماحول کے پھیلتے ہوئے درجہ حرارت کی ماہر فلکیات پیمائش کر سکتے ہیں۔

    دوسرے سیاروں کے ماحول کو جاننے کا ایک کلیدی طریقہ ہے کہ آیا وہاں زندگی کے لیے کیا امکانات ہیں۔ اگر اس کا امکان کم ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس کا ستارہ غیر مستحکم ہے جو اسے کبھی بھی مٹا سکتا ہے۔

    شاید اسی وجہ سے یہاں زندگی کے امکانات کم ہیں زیادہ ترقی یافتہ ماحول یہ تجویز کرے گا کہ یہ زندگی کے لیے بہتر جگہ ہو سکتی ہے۔ گلیز 486b کی سطح کا درجہ حرارت 430 ڈگری سیلسیئس ہے اور اس طرح یہاں ہماری جیسی زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔

    لیکن سائنس دان امید کرتے ہیں کہ وہ اس ماحول کی مزید جانچ کر یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ آیا اسی طرح کے سیارے انسانوں کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں اور وہاں زندگی کا کتنا امکان ہو سکتا ہے۔

    اس مطالعے کے شریک مصنف بین مونٹیٹ نے ایک بیان میں کہا یہ وہ سیارہ ہے جسے دریافت کرنے کا ہم کئی دہائیوں سے خواب دیکھ رہے ہیں-

    ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ قریبی ستاروں کے آس پاس چٹانوں والے سیارے یا سپر ارتھز کا وجود ضرور ہے لیکن ہمارے پاس ابھی تک ان کی تلاش کے لیے ٹیکنالوجی نہیں۔‘

    ’یہ دریافت کرہ ارض کے ماحول کے بارے میں ہمارے خیالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘ سائنس دانوں کو اب امید ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں جدید ترین دوربینوں کی مدد سے اس کا مزید باریک بینی سے مطالعہ کرسکیں گے۔

    ڈاکٹر مونٹیٹ کا کہنا ہے’گلیز 486b سیارے کی ایک قسم ہے جس کے بارے میں ہم اگلے 20 سالوں میں مزید مطالعہ کریں گے۔ یہ بات نوٹ کرتے ہوئے کہ اگرچہ کائنات میں سپر ارتھز شاذ و نادر نہیں ہیں لیکن کائنات میں ہمارے اپنے پڑوس میں ان کا ملنا غیر معمولی ہے۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ