Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    لاہور، پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت، ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ حال ہی میں "پہچان پاکستان” کے زیر اہتمام ایک شاندار ادبی میلہ منعقد کیا گیا جس نے پورے ملک کے ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔ یہ تقریب الحمرا ہال میں منعقد ہوئی، جہاں ادب سے محبت کرنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ادبی میلے میں جہاں شاعری اور نثر کی محفلیں سجائی گئیں، وہیں لکھاریوں اور شاعروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انعامات بھی دیئے گئے۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے ممتاز ادیبوں اور لکھاریوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا، جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ادب کی ترویج کو مزید تقویت ملی۔”پہچان پاکستان” کے روحِ رواں اور چیف ایڈیٹر ذکیر احمد بھٹی نے اس شاندار تقریب کا انعقاد کر کے ادیبوں کے دل جیت لیے۔ ان کی انتھک محنت اور ادب دوستی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مہمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنے خیالات اور تخلیقات کو دوسروں تک پہنچا سکیں۔ ان کی کوششوں کو حاضرین نے بے حد سراہا اور ان کے کام کو خراج تحسین پیش کیا۔

    پروگرام کے آغاز پر ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظورنے پہچان پاکستان کا تعارف حاضرین کے سامنے رکھا،تقریب کے منتظمین اور معاونین میں آمنہ عذرا، غزالہ سلطانہ،عظمیٰ وفا سید، سلمٰی رانی،شازیہ یاسین، عبد الحفیظ شاہد،عذرا انصاری اور دیگر شامل تھے ،تقریب کے دوران معروف شاعر اور ادیب علی زریون کو ان کی شاندار ادبی خدمات کے اعتراف میں پہچانِ پاکستان ادبی ایوارڈ 2025 کے دوران تاج پوشی کی گئی۔ یہ اعزاز ان کے بے مثال کلام، منفرد اسلوب اور ادب کے فروغ میں ان کی انتھک محنت کا مظہر ہے۔علی زریون اردو ادب میں ایک ایسا نام ہے جو اپنے مخصوص انداز اور جدید طرزِ بیان کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے، جہاں الفاظ جذبات کی گہرائی میں ڈوب کر قاری کے دل پر اثر کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک عمدہ شاعر ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک تحریک بھی ہیں، جو اپنے کلام میں محبت، درد، سماجی مسائل اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

    تقریب میں ایک خاص لمحہ اس وقت آیا جب ایک ہونہار بچی نے تلاوتِ قرآن پاک کی، جس پر حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ اس بچی کی خوبصورت قرأت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی چوہدری شفقت محمود نے اس کے لیے عمرہ ٹکٹ کا اعلان کیا۔ یہ لمحہ نہ صرف بچی اور اس کے والدین کے لیے خوشی کا باعث بنا بلکہ تمام حاضرین کے لیے بھی ایک جذباتی منظر تھا۔

    "پہچان پاکستان” کی یہ کاوش پاکستان میں ادب اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ ایسے ادبی میلوں کا انعقاد نہ صرف ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی ادب کی طرف راغب کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ادب کا مستقبل روشن ہے اور "پہچان پاکستان” جیسے ادارے اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے مزید ادبی پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ ادب اور ثقافت کی ترقی کا یہ سفر جاری رہےگا.

  • 8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔

    اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔

    کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

    جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
    صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔

    اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔

    یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    رپورٹ ۔۔
    صدف بنت اظہار ۔
    مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔

  • دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    پچھلے مہینے دبستان بولان اپنے سہ روزہ کل پاکستان ادبی میلے سے بہ حسن خوبی سبکدوش ہو کر نومبر سے پھر اپنے ماہانہ مشاعروں کا حسب معمول آغاز کر دیا ہے۔

    اب کے دس نومبر کو ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ایک طویل غیر حاضری کے بعد سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے بھی شرکت کی جس کی عدم موجودگی کو دبستان بولان مسلسل محسوس کر رہا تھا اس غیر حاضری کی وجہ ان کی بیرون کوئٹہ منصبی ذمہ داریاں ہیں گویا وہ اس وقت شہر بدری کے عرصے میں زندگی گزار رہے ہیں بقول محسن بھوپالی:
    تادیر ہم بہ دیدۂ تر دیکھتے رہے
    یادیں تھیں جس میں دفن وہ گھر دیکھتے رہے
    ان کے علاوہ فارسی اور اردو کے معروف بزرگ شاعر سید جواد موسوی بھی کافی مدت کے بعد تشریف لائے تھے گویا مشاعرہ گاہ ایک ملاقات گاہ میں تبدل ہوا بقول امیر مینائی:
    امیر جمع ہیں احباب درد_دل کہہ لے
    پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے
    بہر حال مشاعرے کا آغاز تلاوت آیات پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب قاری صادق علی نے حاصل کی جن کی دل موہ لینے والی تلاوت نے ایک وجدانی کیفیت پیدا کردی پھر انہوں نوجوانوں سے خطاب کے عنوان سے ایک خوبصورت فارسی نظم بہت خوبصورتی ترنم سے پیش کی آپ بھی بڑی مدت کے بعد رونق محفل بنے۔
    مشاعرہ کی صدارت سید جود موسوی نے کی جبکہ مہمان خاص سرجن ذاکر اعظم بنگلزئی تھے۔ نظامت کے فرائض حسب معمول دبستان کے اسٹیج سکریٹری پروفیسر اکبر ساسولی نے انجام دئیے۔ان کے علاوہ پروفیسر صدف چنگیزی، جناب شفقت عاصمی، جناب جرات علی رضی اور جناب عرفان عابد شریک مشاعرہ تھے۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں 03030204604

  • 31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    تمہیں جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش

    سارہ شگفتہ کا شمار اردو کی جدید شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ 31؍اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں معتد بہ نظمیں تخلیق کیں۔ نظمیہ شاعری کے لیے انھوں نے نثری نظم کا پیرایہ اختیار کیا۔ غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی مکمل نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں نے انھیں سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ نتیجتاً انھیں دماغی امراض کے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انھوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔ خود کشی کی یہ کوشش مختلف موقعوں پر چار بار دہرائی گئی۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعے ’آنکھیں‘ اور’نیند کا رنگ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
    04؍جون 1984ء کو انھوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کے مطالعے کو ایک نئی جہت عطا کی۔ وفات کے بعد ان کی شخصیت پر پنجابی کی مشہور شاعرہ اور ناول نگار امرتا پرتیم نے ’ایک تھی سارہ‘ اور انور سن رائے نے ’ذلتوں کے اسیر‘ کے نام سے کتاب تحریر کی اور پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کیا جس کا نام ’آسمان تک دیوار‘ تھا۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    منتخب شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں
    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
    اور اپنا اپنا بین ہوئے
    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
    میں نے موت کے بال کھولے
    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی
    شام دوغلے رنگ سہتی رہی
    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے
    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں
    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
    سجدوں سے سر اٹھا لو
    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
    جب میرے سفید بال
    تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا
    میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
    جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
    ان کھیتوں میں
    میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
    بس پہلی بار ڈری بیٹی
    میں کتنی بار ڈری بیٹی
    ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی
    میرا جنم تو ہے بیٹی
    اور تیرا جنم تیری بیٹی
    تجھے نہلانے کی خواہش میں
    میری پوریں خون تھوکتی ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے
    مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو
    خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے
    میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو
    آگ کا ذائقہ چراغ ہے
    اور نیند کا ذائقہ انسان
    مجھے پتھروں جتنا کس دو
    کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو
    میں خدا کی زبان منہ میں رکھے
    کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا
    زنجیروں کی رہائی دو
    کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے
    مجھے تنہا مرنا ہے
    سو یہ آنکھیں یہ دل
    کسی خالی انسان کو دے دینا

  • ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    یہ نہیں اسلام کا پیغام، ہم شرمندہ ہیں
    اے نجاشی! لائقِ اکرام، ہم شرمندہ ہیں

    تاجدارِ حبش! فخرِ عیسیٰ و عیسائیت
    خیر خواہِ بانئ اسلام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے دامن میں ملی اسلام کو جائے اماں
    یہ نہیں احسان کا انعام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے ہم مذہب بہت ہیں محترم اپنے لئے
    کیا دیا ہم نے مگر پیغام، ہم شرمندہ ہیں

    درد کا چارہ تھا واجب درد کے ہنگام میں
    ہم ہوئے لیکن سدا ناکام ہم شرمندہ ہیں

    جاں گنوا کر بھی حفاظت چاہئے سب کی مگر
    کر نہ پائے ہم کوئی اقدام، ہم شرمندہ ہیں

    ابنِ مریم بھی رسولِ حق ہیں اپنے دین میں
    کچھ نہیں اس بات میں ابہام، ہم شرمندہ ہیں

    اے خداوندانِ نفرت! اب رہے گا حشر تک
    اپنے سر اس بات کا الزام، ہم شرمندہ ہیں

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

  • خواہشِ زیست، محمد نعیم شہزاد

    خواہشِ زیست، محمد نعیم شہزاد

    خواہشِ زیست (غزل)
    محمد نعیم شہزاد

    ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
    میرے مہرباں دیکھ کیا چاہتا ہوں

    مشقت، ریاضت جو برسوں سے کاٹی
    الٰہی! صبر کا مزہ چاہتا ہوں

    تھکایا بہت ہے زمانے نے مجھ کو
    میں شورش سے تیری پناہ چاہتا ہوں

    بھری بزم میں حال دل کہہ سنایا
    دو عالم میں بس میں تجھے چاہتا ہوں

    مریض عشق ہوں اے ساقی سنو تو
    میں زخمی جگر کی دوا چاہتا ہوں

    ہجر کا نہ ہو شائبہ کوئی جس میں
    مری جاں میں ایسا نبھا چاہتا ہوں

    طرحی مشاعرہ کیا ہے؟

    یہ ایک شعری اصطلاح ہے جس سے مراد گرانا، دور کرنا، بنیاد ڈالنا، طرح دینا (ٹالنا) اور اصطلاحاً ’’گفتگو میں مدد دینا‘‘ ہے۔
    طرح، مصرعۂ طرح اور طرحی نشست سب مشاعرے کی روایت سے متعلق اصطلاحیں ہیں۔ کسی محفلِ مشاعرہ میں شعرا کو خاص زمین میں شعر گوئی کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔ اسے طرح، مصرعۂ طرح یا طرحی مصرعہ کہتے ہیں۔ گویا اس مشاعرے میں شعرا اپنی آزادی سے زمین (ردیف، قافیہ، بحر) کا انتخاب نہیں کرسکتے۔ وہ پہلے سے دیے گئے مصرعے کے نظامِ ردیف و قافیہ بحر کے مطابق غزلیں لکھیں گے۔ مثلاً یہ کہ
    دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
    غالبؔ کا مصرعہ، طرح کے طور پر دیا جائے، تو شعرا پر یہ پابندی ہوگی کہ وہ ’’ہُوا‘‘ کو قافیہ اور ’’کیا ہے‘‘ کو ردیف بنا کر شعر گوئی کریں اور اسی مصرعے کی بحر کو بنیاد بنائیں۔ مشاعرہ، جس میں مصرعہ طرح دیا جائے، اسے طرحی مشاعرہ یا طرحی نشست کہتے ہیں۔
    (پروفیسر انور جمال کی تصنیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘ مطبوعہ ’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن‘‘، صفحہ نمبر 127 سے انتخاب)

    @UstaadGe

  • چراغ امید   تحریر: ثناءاللہ محسود

    چراغ امید  تحریر: ثناءاللہ محسود

    لفظ امید کہنے کو ایک بہت چھوٹا سا لفظ ہے۔ جو ہم کبھی خود کو دلاسا دینے کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ 

    مگر حقیقت میں زندگی کا انحصار امید پر ہی ہے۔ یہ زندگی جو دکھوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آماجگاہ ہے۔ جہاں قدم قدم پر کوئی نئی آزمائش، ناکامی ہماری منتظر ہوتی ہے۔

    ایسی صورتحال میں اگر ہم امید کا دامن نہ تھامیں تو زندگی ہمارے لئے مشکل ہو جائے گی۔ 

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لفظ انسان کی ساری زندگی کا خاصہ ہے ۔امید ہر دم انسان کے اندر ایک نیا جذبہ پھونکے رکھتی ہے کہ کل یہ ہو گا پرسوں یہ ہو گا۔ امید یہ ہے کہ انسان رات کو سوتا ہے تو کہتا ہے کل فلاں نے آنا ہے میں نے فلاں سے ملنے جانا ہے۔ امید یہ ہے جو ہر فرد کو ایک ایسے خواب میں رکھتی ہے۔  جو زندگی کی معمولی ٹھوکروں سے ٹوٹ جاتا ہے ۔

    امید ایک لاحاصل خواب ہے۔ جو حقیقت کی پردو پوشی کرتا ہے۔ اور زندگی کی تلخیوں کو میٹھا رکھتا ہے۔

    اگر کوئی بیمار ہے تو تندرستی کی امید ، غریب ہے تو دولت ملنے کی امید اور برے دنوں میں اچھے دنوں کی امید لگائے رکھتا ہے ۔

    مگر اکثر لوگ ذرا سی پریشانی آنے پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ اور مایوسی کی حالت میں  خود کشی جیسے حرام فعل کا ارتکاب بھی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے انسان کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس طرح وہ اپنی دنیا کہ ساتھ ساتھ آخرت بھی برباد کر لیتا ہے۔ اسی لئے تو احادیث مبارکہ میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ انسان سے اس کا اچھا گمان چھین کر مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا!

    "اور میری رحمت سے نا امید نہ ہونا”

    سورت الزمر 53

    اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو فرما دیا کہ حالات جیسے بھی تلخ ہوں انسان کو اللہ کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے۔

    ہماری مایوسی کی بڑی وجہ دین سے دوری ہے۔ ہم لوگ اللہ پر توکل کرنے کی بجائے خود ہی  زندگی کے جھمیلوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں ان مصائب سے گھبرا کر فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جو سراسر خسارے کا راستہ ہے۔

    اسی طرح آج کے مشکل وقت میں ہم مہنگائی اور بے روزگاری جیسے وسائل سے پریشان ہو کر غیر قانونی ذرائع سے روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس حرام رزق سے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچے بھی والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برائی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ 

    اس کے بجائے اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتے جو رازق ہے ۔ تو ہمیں آسان اور حلال طریقے سے بھی رزق مل سکتا تھا۔ مگر ہم نے امید کا دامن چھوڑ کر مایوسی کو چنا۔ تو اس سے ہمیں کوئی فایدہ حاصل نہ ہوا۔

    اسی طرح جب ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں۔ اور اگر ہماری دعاؤں کی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو ہم اکثر مایوسی کا شکار ہو کر اللہ سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ 

    جبکہ اللہ تو کن فیکون کا مالک ہے۔ وہ جو چاہے ہو سکتا ہے۔ مگر ہم لوگ اچھا گمان رکھنے کی بجائے نا امید ہو جاتے ہیں۔ ہمیں مضبوط شخصیت بننے کے لئے اپنے اندر چراغ امید کو جلائے رکھنا ہو گا ۔ تا کہ زندگی سہل رہے۔

    @SanaullahMahsod

  • جمعرات بھری مراد تحریر:م۔م۔مغلؔ

    چھ ہزار سال قبل کا ایک غیر ارادی عمل جس نے چار کروڑ انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، دروغ برگردنِ راوی کے مصداق ہمارا ذاتی طور پراس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کہتے ہیں ایک شخص راستہ بھٹک کر جنگل کی سمت نکل گیا، ابتدا میں تو اسے کسی شے کا خوف نہ تھا مگر چلتے چلتے جوں جوں جنگل گھنا اور مہیب ہوتا گیا اس کے اعصاب پر عجیب خوف سا طاری ہوتا گیا، جنگلی جانوروں کی آوازیں اور پرندوں کی چہکار فضا میں پرکیف نغمے گھول رہے تھے، اچانک بندروں کی ایک ٹولی نے اپنے ہم شکل کو دیکھا تو جوق در جوق زیارت کو جمع ہونے لگے اور خوخیا کر باقی ماندہ برادری کو دعوتِ نظارہ دینے لگے، بیچارہ بھٹکا ہوا شہر باسی ان بن باسیوں کی جانب سے پڑنے والی اس اچانک افتاد پر گھبرا کر بیٹھ گیا، بندروں نے سہمے ڈرے شخص کی گھبراہٹ کا فائدہ فیض کے ضرب المثل مصرع کی گردان کرتے ہوئے خوب اٹھایا، ۔۔۔۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

    اب کیا تھا کبھی ایک بندر شاخوں پر جھولتا ہوا نیچے اترا اور بیچارے کے سر پر دھول جما کر یہ جا اور وہ جا تو کبھی دوسرا، باقی بندروں کو تو جیسے کورونا کے لاک ڈاؤن کی فراغت کے ایام جیسا ایک مشغلہ سا مل گیا، باری باری بندر جھولتے لپکتے اور دھول جما کر پھدکتے ناچتے خوخیاتے۔۔ اس بساطِ دھماچوکٹری میں ایک نوجوان بندر نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور بھٹکے ہوئے شخص کا سامان اٹھا لیا اور چھلانگ مار کر درخت کی اونچی شاخ پر جا براجمان ہوا، مفلوک الحال شخص نےاس ناگہانی پر گھبرا کر جوتا اتارا اور نوجوان بندر کو دے مارا، شومئی قسمت جوتا درخت کی شاخ میں الجھ گیا، نوجوان بندر نے اس حرکت کا بھی خوب فائدہ لیا اور شاخ پر ہی رقص کرنا منھ چڑانا شروع کردیا، طیش میں آکر راہ سے گم کردہ شخص نےجذبات سے مغلوب ہوکر دوسرا جوتا بھی کھینچ مارا، جو نوجوان بندر کے رخسار کا بوسہ لینے کے بعد اسی شاخ پر جا مصلوب ہوا، اب ایک کو پڑی تو باقی بندروں کے ہوش ٹھکانے آئے یوں بندروں کی ٹولی خوخیاتے ہوئے فرار ہوگئی، راہ گم کردہ ضعیف شخص وہیں درخت کے نیچے تھک ہار کر سو رہا۔۔۔شنید ہے پھٹے کپڑوں میں ملبوس بھوک کے ہاتھوں مجبور مکان سے بے نیاز وہ شخص وہیں پڑے پڑے دنیا سے رخصت ہوگیا، موسموں نے اس کی لاش پر پتے گرائے ، وقت نے دھول اوڑھائی یوں مفلوک الحالی کی قدرتی قبر زمین کے سینے پر نقش ہوگئی، بعد ازں بھٹک بھٹک کر جنگل آنے والے اسی راستے سے گزرتے تو درخت پر لٹکے جوتے دیکھ کر ٹوٹکے کے طور پر اپنے جوتے بھی درخت کی شاخوں پر آویزاں کرنے لگے کہ کسی مراد کی شاخ کو پھل لگ جائے، ایک وقت وہ آیا کہ درخت پرپتوں کی بجائے جوتے ہی نظر آنے لگے ، کرتے کرتے جنگل شہر میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔۔۔ کہتے ہیں مفلوک الحال شخص کی قبر پر حاضری دینےکے بعد جنگل کے ٹمبر مافیا اور اس کی اولاد بعد ازاں سیاسیات کے کارزار کی جانب چل پڑی، قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ وہی جنگل ہے جس پر ٹمبر مافیا کی نسلیں راج کرتی ہیں، چھ ہزر سال قدیم تہذیب کا چسکا ایسا لگا کہ اب اس شخص کی اولادیں اس جنگل نمابھٹوستان یا بھوتستان صوبے کی حکومت کوجوتوں والا شجر سمجھ بیٹھی ہیں اب اس جنگل میں مفلوک الحال شخص کی قبر کی بجائے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان خاندان کے جدِ امجد کی قبر موجود ہے۔۔۔

    قصہ کوتاہ انسان کے بنائے ہوئے جراثیمی ہتھیار نے جہاں اقوامِ عالم کو پریشانی سے دوچار کیا ہے وہیں ایشیا کے ملک پاکستان میں شامل سندھ کی حکومت کی موج مستی اور عیاشی کا سامان ہوگیا، بالخصوص پاکستان کے سب سے بڑے اور دنیا کے تیرہویں بڑے شہر کراچی پر نام نہاد جمہوری عفریت نے اپنے دانت ایسے گاڑ رکھے ہیں جیسے ڈریکولا فلموں کے کردار سندھ کا رخ کرچکے ہوں۔۔۔ ۲۰۱۸ کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دے کر جو گناہ کراچی کے عوام نے کمایا ہے اس کی پاداش میں اس نام نہاد جمہوری بھوت نے شہر کو آسیب زدہ بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر گزشتہ مسلسل تیرہ برس سے مسلط سندھ سرکار عوام الناس سے روٹی کپڑا مکان نہ صرف چھین رکھا ہے بلکہ پانی بجلی صحت صفائی کے معاملات سے لا تعلق ہوکر اپنی جیبیں بھرنے پر زور دیا ہوا ہے، اقتدار کی روشنیاں صرف ذوالفقار علی بھٹو کے مزار اورمزار کے احاطے تک محدود ہیں، صوبے بھر میں حقیقی طور پر دیکھا جائے تو کتوں کا راج ہے جو جب چاہے کسی کو بھی کاٹ کھاتے ہیں بچوں کو بھنبھوڑ لیتے ہیں، ۔۔۔امن امان کی صورتحال کے بارے میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ صوبہ بدامنی چوری ڈکیتی قتل کی اس نہج پر ہے جہاں قانون صرف کھسیانی ہی ہنسی ہنس کر رہ جاتا ہے۔۔۔ کورونا وبا کے نام پر سندھ کے باقی شہروں سے بڑھ کر پورے کراچی بالخصوص ضلع وسطی میں بسنے والوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے کی روش شہر میں لسانی عصبیت کا شاخسانہ ہے، بغور مشاہدہ ہے کہٍ اندرون سندھ میں اور کراچی میں افغان کوئٹہ وال ہوٹلوں اور چائے خانوں کے لیے نرمی جبکہ دیگر قومیتوں والے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی نفری زیادہ تعینات ہے، وہ پولیس جسے کسی ہنگامی صورت میں مددگار پر کال کی جائے تو حیلے بہانے پیٹرول ڈیزل نہ ہونا یا موبائلوں کی کمی یا پھر نفری کی کمی کا رونا ہوتا ہے وہی پولیس فلمی انداز سے مخصوص علاقوں میں تھوک پرچون چھابڑی والوں پر پل پڑتی ہے، جیب گرم کرنا تو خیر ضمنی سی بات ہے وہ توا ٓپ سب جانتے ہی ہیں۔۔۔

    کورونا اور اس کی ویکسین پر سوال شکوک و شبہات تو اول روز سے ہی جاری ہیں مگر یہ بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے کسی ایک سوال کا جواب نہیں سکے، ایسا نہیں کہ یہ سوالات صرف پاکستان میں اٹھائے جاتے ہیں، دنیا بھر میں کورونا نامی وبا اور اس کے مخصوص ایجنڈے کے تحت معیشت تباہ کرنے کا جو سلسلہ جاری ہے، کورونا اگر تو ایک وبا ہے تو وبا کے سدِ باب کے لیے علمائے کرام کو کیوں آگاہی پروگرام میں استعمال نہیں کیا گیا، پھر یہ کہ یہ وبا ایک مخصوص فرقے کے لیے کیوں تباہ کن نہیں ہے۔۔۔ ہر دوسرے شہری کے لب پر یہی شکوہ ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریتی مذہبی عقیدرت رکھنے والوں اور ان کے مذہبی تہواروں پر کورونا کی اچانک لہر آجاتی ہے مگر جیسے ہی مؤخر الذکر مذہبی عقیدہ رکھنے والوں کے تہوار آتے ہیں اچانک لاک ڈاؤن ختم کردیا جاتا ہے اور کورونا نامی مہلک وبا اپنا مال اسباب سمیٹ کر رخصت ہوجاتی ہے، ریاست یا صوبے پر حکمران طبقے کو اس دوہرے رویے پر وضاحت دینا ضروری ہے، وگرنہ یہ سلسلہ یوں ہی جارہی رہے گا اور کورونا سے بچنے کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہی رہے گا، سب سے معاشی گڑھ کراچی پر تیس سال سے محرومی کا عفریت قابض ہے، کبھی ہڑتالیں کبھی قتل و غارت گری کے نام پر نچوڑا گیا، اب رہی سہی کسر کورونا کی وبا کے نام پر لاک ڈاؤن لگا کر پوری کی جارہی ہے، مراد علیشاہ کسی دن اچانک خوابِ گرانی سے جاگتے ہیں اور لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیتے ہیں،پیشگی کوئی حکمت عملی ہوتی ہی نہیں، سندھ سرکار نے نہ تو خاطر خواہ ویکسینیشن سینٹرز بنائے اور نہ ہی عملہ متعین کیا، عوام دشمن فیصلے کرتے ہوئے سندھ سرکا ر نے ایک لمحے کو نہ سوچا کہ وفاق کے تحت قائم ویکسینیشن سینٹر پر اچانک عوام الناس دھاوا بول دیں گے تو عملے کے اعتبارعددی ونفری اکثریت کم پڑ جائے گی، اور وہی ہوا کہ سب سے بڑے ویکسینیشن کے مرکز ایکسپو سینٹر میں چھ چھ گھنٹے قطاروں کی کھڑے گرمی کے مارے بھوکے پیاسے عوام ٹوٹ پر پڑتے نتیجہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور عملہ نے ویکسینیشن کا عمل روکا دیا، میڈیا میں خبریں آنے پر سندھ سرکار نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک اور پریس کانفرنس کی اور لاک ڈاؤن میں نام نہاد نرمی کا اعلان کردیا، بہر کیف پولیس کی کمائی کا سلسلہ نہ رک سکا اور کھانے پینے کے مراکز کو استثنا ہونے کے باوجود جبراً بند کیا جاتا رہا،۔۔۔۔ نو روز کے غیر اعلانیہ کرفیو کی صورتحال نے صرف کراچی کو ۴۵۰ ارب کا نقصان پہنچایا، عام دیہاڑی دار طبقہ اور اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں بے بہا اضافہ اور اس کے ردِ عمل میں ہونے والے نقصانات کا تو تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔۔ کورونا کے خلاف ایکشن تو سندھ حکومت نے کیا لینا تھا ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک ہزار کروڑ روپے کی خردبرد کا معاملہ سامنے آیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔۔ یہ تو رہی صرف کورونا کی باتیں جو دیگ کے ایک چاول سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی، آڈٹ رپورٹ کے مطابق ۱۶ کروڑ روپے مالیت کی گندم ذخیرہ کرنےکا محض کرایہ ایک ارب بتیس کروڑ روپے ہے۔۔ نچلی سطح پر دیکھا جائے تو بلدیہ نے اپنے نائب قاصد کو دفتری کام کے لیے ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے مالیت کی سائیکل دلا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش کی ہے یاد رہے یہ عام سی سائیکل صوبے بھر کی کسی بھی دکان سے نو ہزار روپے میں باآسانی مل جاتی ہے۔۔۔۔

    سندھ سرکار جس کا حالیہ مسلسل حکومت کا دورانیہ تیرہ سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے کی کارکردگی دیکھی جائے اور معزز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دیکھا جائے تو سندھ پر مطلقا کتوں کا راج ہے آئے دن آوارہ کتے بچوں اور بڑوں کو کاٹ کھاتے ہیں کسی ہسپتال میں سگ گزیدگی سے بچاؤ کے انجیکشن موجود نہیں، نجی ہسپتالوں میں موجود ہیں مگر وہی بات کہ کتے نے مفت کاٹا اور ڈاکٹر پیسے لے کر کاٹے گا، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پینےکا صاف پانی تک دستیاب نہیں ہے، عیدِ قرباں کے جانوروں کی آلائشیں تا حال جابجا موجو د ہیں تعفن انسانی دماغوں کر مزاج پوچھتا پھرتا ہے،۔۔۔اٹھارہویں ترمیم ( جس کا مقصد اختیارات کو صوبوں کے حوالے کرکے وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم تھا )کی باڑ قائم کرنے کے بعد صوبے کے عوام کے جان و مال کی حفاظت، صحت صفائی ستھرائی، کاروبار کے لیے موافق ماحول فراہم کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر صرف نعرے لگانے اور اپنا تسلط قائم رکھنے کے علاوہ سندھ سرکار نے کچھ نہیں کیا، کراچی کے ووٹرز سے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی اور وفاق میں قائم حکومت کے نمائندوں کو ووٹ دے کر ایوان میں پہنچایا، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لے کر بارش کے بعد ہونے والی سیلابی صورتحال کسی شعبہ میں بھی سندھ حکومت کا حصہ صفر ہے، وفاق نے انسانی ہمددری اور اپنے ووٹروں کی لاج رکھنے کے لیے وفاقی صوابدیدی فنڈز کا اجرا کیا جس سے دہائیوں سے نظر انداز تباہ حال شہرمیں آٹے میں نمک برابر ہی کام ہوسکا ہے، قارئینِ کرام کسی بھی ملک کسی بھی ریاست کسی بھی حکومت نے جب جب کوئی قانون بنایا اور اس پر عمل درآمد کیا اس کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہوتی ہے، جبکہ سندھ میں مقتدر نمائندے جمعرات بھری مراد کے نعرے لگاتے خیر و عافیت سے قانون کوعوام کی زندگیاں اجیرن کرنے کے استعمال کرتےہیں،سندھ بالخصوص کراچی کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتی چلی جارہی ہے، عام آدمی کو اس بات کے قطعا غرض نہیں ہے کہ کوئی اٹھارہوئیں انیسویں یا بیسویں ترمیم کی ان کے بنیادی انسانی شہری حقوق کے سروں پر لٹک رہی ہے، عوام حالیہ حکومتی دورانیہ کا ستر فیصد عرصہ قید و بند کی صعوبتوں کی طرح جھیل چکی ہے اور وفاق سے متقاضی ہے کہ سندھ کے عوام کو نامرادی کے عفریت سے بچایا جائے۔۔۔ الخ

  • حالات حاضرہ اور افضل سراج صاحب کی شاعری تحریر: مجاہد حسین

    خبر: تبدیلی کے تین سال، غریب عوام کے لئے ظلم کی تین صدیاں، شہباز شریف۔
    تبصرہ: اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن کیا جناب بتانا پسند کریں گے کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
    کیا آپ نے اپنے تیس سالہ عہد سلطانی میں کوئی ایک ادارہ ایسا چھوڑا جو منافع دے رہا ہو؟ کیا کبھی آپ نے اتنا ٹیکس اکٹھا کیا جتنا خود کے لئے پیسے اور کک بیکس؟ میٹرو بس اور اونج ٹرین جیسے ذہر بھرے لقمے حکومت کے گلے میں ڈال کے چلے گئے جو نہ نگلے جا رہے ہیں نہ تھوکے جا رہے ہیں اور حکومت ہر سال اربوں روپے ڈال کے خالی بسیں بھی چلا رہی ہے اور ان کا قرض بھی دے رہی ہے۔ آپ لوگوں کے لئے ہوئے قرض چکانے کے لئے حکومت کے پاس مہنگائی اور ٹیکس لگانے کے علاوہ کیا راستہ تھا؟؟
    لیکن آپ کو احساس پروگرام، کامیاب جوان پروگرام، بلین ٹری سونامی، کوئی بھوکا نہ سوئے، پناہ گاہیں اور لنگر خانے نظر نہیں آئیں گے جو غریب کا پیٹ پھرتے ہیں۔ تف ہے آپ کی سوچ پر۔

    خبر: جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر بن گئے، اخباری ذرائع
    تبصرہ: آپ کو بتاتے چلیں کہ موصوف پر اوقات (آمدن) سے زائد اثاثے بنانے کا کیس اور منی ٹریل پیش نہ کر سکنے کا ٹرائل سپریم جوڈیشل کونسل میں ہی چل رہا تھا، اب جبکہ موصوف خود بھی اس کونسل کا حصہ بن بیٹھے ہیں تو بھولی عوام کا اس ملک کے عدالتی نظام پہ اور بھی یقین مضبوط ہو گیا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ جیسی بلی کو دودھ کی رکھوالی سونپ دی گئی ہو۔ سب کہیں سبحان اللہ

    خبر: ججوں اور بیوروکریٹس کو قرعہ اندازی سے ملنے والے پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
    تبصرہ: یقین نہیں آ رہا کہ ایسا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ سے سامنے آ رہا ہے اور اتنے حیران کن ریمارکس سن کے طبیعت حیران پریشان ہو گئی ہے۔ جج صاحب فرماتے ہیں کہ اس تقسیم میں "کرپشن اور جرائم” میں سزا پانے والے ججوں کو بھی پلاٹ ملے۔ چلیں آج اتنا تو سمجھ میں آیا کہ اس ملک کے منصف بھی راشی اور جرائم پیشہ ہیں۔ پھر یہاں انصاف کی امید لگانا کہاں کی دانشمندی ہوئی؟

    خبر: سعودی عرب میں سکیورٹی اہلکار کے قاتل کا سر قلم، اخباری ذرائع
    تبصرہ: جرائم کی روک تھام تب تک ممکن نہیں جب تک جزا و سزا کا نظام پوری طرح کاآمد نہ ہو۔ جب یہ خبر پڑھی تو میرے ذہن میں پاکستانی نظام انصاف گھعمنے لگا جہاں سینکڑوں لوگوں کے قتل میں ملوث عزیر بلوچ عدم ثبوت کی بنا پر رہائی پاتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک سیاستدان دن دیہاڑے ڈیوٹی دیتے ایک سرکاری پولیس والے کو نشے کی حاکت میں اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیتا ہے لیکن عدالت اسے بھی ضمانت پہ رہا کر دیتی ہے۔ ایک امریکی دن دیاڑے تین پاکستانیوں کو گولی سے بھون دیتا ہے لیکن ہم "قوم کے وسیع تر مفاد میں” اسے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ جہاں چند سیاستدان ملک کی جڑیں کھوکھلی کر ڈالتے لیکن عدالتیں انہیں چھٹی کے دن بھی ضمانتیں دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
    جناب من! جب تک بنیادی انصاف کا نظام بہتر نہیں ہوگا، آپ ایسے ہی ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    اور اب افضل سراج صاحب کی ایک غزل:

    ‏اِدھر ہے آنکھ چوکهٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر
    لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پر

    ترے آنے سے پہلے ہی، تجهے پہچان لیتا ہے
    مہکنے خود ہی لگتا ہے، مرا دالان آہٹ پر

    اسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بهی خبر لے لے
    جہاں وہ بهول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پر

    ‏بہت مانوس ہیں تم سے، مرے گهر کی سبھی چیزیں
    چہک اٹهتے ہیں پردے، کهڑکیاں، گلدان آہٹ پر

    بڑی حسرت سے تکتے ہیں تمهاری راہ دن بهر یہ
    لگے رہتے ہیں دروازے، دریچے، لان آہٹ پر

    بنا سلوٹ کے بستر پر پڑی بے جان آنکهوں میں
    چمک اٹهتے ہیں پل بهر میں کئی ارمان آہٹ پر

    ‏ڈیوڑهی، صحن، خلوت خانہ، پائیں باغ، بیٹھک تک
    چہکتی پهرتی ہے گهر بهر میں اک مسکان آہٹ پر

    کشن، فٹ میٹ، ٹیبل، کرسیاں، قالین، ترپائی
    امڈ آتی ہے ہر شے میں انوکهی شان آہٹ پر

    ہمہ تن گوش ہیں کمرے، سراپا شوق دروازے
    کوئی دیکهے کہ ملتا ہے انبہیں کیا مان آہٹ پر

    ‏یہی ہے وقت آنے کا، بڑی بےتاب دهڑکن ہے
    "نکلتی جا رہی ہے لمحہ لمحہ جان آہٹ پر”

    ٹهٹهرتا رات دن افضل میں سُونے گهر میں رہتا ہوں
    بهڑک اٹهتا ہے سینے میں اک آتش دان آہٹ پر

    آخر میں آج کا شعر:

    وہ مجھے روز بلاتا ہے تماشے کے لئے
    روز میں خاک اڑاتا ہوا آ جاتا ہوں

    @Being_Faani

  • محبت مسلسل   تحریر:  فرزانہ شریف

    محبت مسلسل تحریر: فرزانہ شریف

    جب ہم ہوش سنبھالتے ہیں سب سے پہلے جو ہماری ماں ہمیں سبق سکھاتی ہے اللہ سے پیار کرنا اس کے بندوں سے پیار کرنا بڑوں کی عزت کرنا اور پھر جیسےجیسے ہم بڑے ہورہے ہوتے ہیں ان لیسنز میں اضافہ ہوتا جاتا "بیٹا کسی کا حق نہ مارنا”
    "کسی سے نفرت نہ کرنا”..
    "جی امی جی بہتر”..
    "کسی کا دل نہ دکھانا”….
    "جو حکم امی جی اپکا”…..
    پھرساری عمر ان باتوں کا خیال رکھتے رکھتے ہم بھول جاتے ہیں ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے کوئی ہرٹ کرتا ہے تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے
    تھپڑ کے بدلے تھپڑ نہ مارو چلو…. مگر اٹھ کر ہاتھ تو پکڑا جا سکتا..
    کوئی ایک دفعہ اعتبار توڑے کبھی دوبارہ اس پر اعتماد نہ کریں "کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جاتا "جو دل دکھائے غیر محسوس طور پر اس سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیں ۔
    بچپن سے لیکر بڑے ہونے تک ہمارے والدین ہمیں تمیز کا سبق اتنا رٹا دیتے ہیں کہ پھر کوئی جتنی مرضی ذیادتی کرے ہم سوچتے ہیں کوئی نہیں خیر ہے بڑے ہیں کچھ کہہ بھی دیا ہے تو جانے دو ۔پھر اس "جانے دو” کی فہرست اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ بہت وقت لگ جاتا ہے یہ سمجھنے میں کہ ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے
    اکثر سوچتی ہوں روز قیامت جب جسم کا ایک ایک حصہ گواہی دے گا،، ہر گناہ کا بتائے گا، اچھے برے استعمال کی تفصیل خدا کے سامنے رکھے گا تو مجھے لگتا ہے مینٹل ہیلتھ بھی آ کر اللہ کو بتائے گی….. کہ ہم نے اسکا خیال رکھا یا نہیں….
    اپنے ساتھ انصاف کریں….. اپنی روح بار بار زخمی نہ ہونے دیں…. بدتمیزی کا جواب اگرچہ بدتمیزی نہیں ہوتا، سانپ کاٹ لے تو اسے ڈسا نہیں جاتا مگر "سوراخ” تو بند کیے جا سکتے ہیں….. کیا ہم اتنے بھی قوی نہیں کہ ایسے "سوراخ” بند کر دیں
    ‏ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس دنیا میں آپ کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ پیسہ واپس آجاتا ہے لیکن وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اسلئے کوئی برا بھلا بولے اور آپ جواب دینے لگیں تو پہلے یہ ضرور سوچیں کہ کیا یہ بندہ میرے قیمتی وقت سے 1 یا 2 منٹ کا بھی حقدار ہے یا نہیں؟ ایسے لوگ عموما حقدار نہیں ہوتے۔خود سے پیار کریں اپنی ذندگی کا ایک ایک پل انجوائے کریں ۔ذندگی اللہ کا دیا ہوا سب سے پیارا تحفہ ہے اپنے ان پیاروں کا خیال رکھیں جن کو آپ کے دنیا سے جانے کا سب سے ذیادہ فرق پڑے گا ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں جن کی نظر میں آپ کچھ بھی نہیں ۔ان کا خیال رکھنے والے ان کے اپنے بہت۔۔
    اکثر سوچتی ہوں وقت انسان کو بدلتا ہے، حالات یا رشتے؟؟؟؟
    ایک وقت تھا جب کوئی تھوڑا سا ناراض ہو جان پہ بن جاتی تھی منتیں ترلے واسطے سب ہی تو ہوتا تھا_
    اور اب ایک عرصہ لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے ایک ہی سبق ملا جو جتنا کم لوگوں سے میل جول رکھتا ہے کم کسی کی پرسنل لائف میں انٹرفئیر کرتا ہے اتنا زیادہ پرسکون رہتا ہے_ میں ‘خوش’ نہیں کہہ رہی ‘سکون’ کی بات کر رہی ہوں اور اب مجھے لگتا ہے خوشی سے زیادہ سکون ضروری ہے-
    Actually
    ہمیں سہاروں کی عادت ہو جاتی ہے لوگوں کا اتنا ضروری سمجھ لیتے ہیں جیسے کوئی بنیادی ضرورت ہو.
    ہاں ٹھیک ہے زندگی گزارنے کے لیے کسی نا کسی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کسی کو اتنا ضروری نا کر لو کہ اپنی شناخت ہی گنوا بیٹھو _
    آپ کی خوشیاں کسی شخص کی محتاج نہیں ہونی چاہیے آپ اپنے لیے بہترین دوست بہترین ساتھی اور مسیحا ہیں اپنے آپ سے محبت کریں
    جو جانا چاہتا ہے جانے دیں جو آنا چاہتا ہے ویلکم کریں
    یہی زندگی ہے جب ہر چیز ہی فانی ہے تو ہم کسی رشتے کے ابدی ساتھ کا کیوں سوچتے ہیں……..!

    Take care of yourself….
    Its not selfishness… Its a form of Gratitude..♥️