Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • شمالی کوریا حکومت کی ملک میں کورونا سے 6 ہلاکتوں کی تصدیق

    شمالی کوریا حکومت کی ملک میں کورونا سے 6 ہلاکتوں کی تصدیق

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا نے کورونا کے باعث 6 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے-

    باغی ٹی وی:غیرملکی میڈیا کے مطابق کورونا وبا کی ملک میں موجودگی سے انکارکرنے والی شمالی کوریا کی حکومت نے وائرس سے 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ شمالی کوریا حکام کے مطابق ہلاک افراد میں ایک شخص اومیکرون میں مبتلا تھا جبکہ ساڑھے 3 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہیں۔ ان افراد میں نزلہ، بخار سمیت کورونا کی دیگرعلامات پائی گئی ہیں۔

    شمالی کوریا میں پہلے کورونا کیس کی تصدیق ، ملک میں نشینل ایمرجنسی نافذ

    کورونا سے متاثر افراد مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہی شمالی کوریا نے 12 مئی کوپہلی مرتبہ کورونا وائرس کیسز کی تصدیق کی تھی جس کے بعد شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ملک میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کردی تھی –

    اس سےقبل شمالی کوریا صحت عامہ کے سخت اقدامات کی بدولت کوویڈ 19 کے کیسز کے بڑے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہا ہے شمالی کوریا کی سرحدوں کو جنوری 2020 سے سیل کر دیا گیا تھا تاکہ وائرس کو روکا جا سکے-

    شمالی کوریا کے پاس کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں ہے کیونکہ کم جونگ ان کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت، چین اورروس کی جانب سے کورونا ویکسین کی فراہمی کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔

    دوسری جانب اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئر پورٹس پر آج سے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سےآنےوالےمسافروں کی کوویڈ رپیڈ ٹیسٹنگ شروع کر دی گئی ہے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ سے محدود رینڈم ا سکریننگ کے عمل کاآغاز کیا گیا ہے۔ابتدا میں 10 سے 15 مسافروں کے ٹیسٹ ہونگے۔دوسرے مرحلے میں 15 سے 20 مسافروں کے ٹیسٹ ہوں گے۔

    سی اے اے کے مطابق سول ایوی ایشن اور سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نیشنل انسٹیوٹ آف ہیلتھ کے اقدامات سی ڈی سی کی طرف سے تا حکم ثانی نافذ رہیں گے۔

    قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ رپیڈ ٹیسٹنگ کا فیصلہ اومی کرون کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد کیا گیا فیصلہ وزیر صحت عبد القادر پٹیل کی ہدایت پر کیا گیا۔

  • کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    بیجنگ :کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں،اطلاعات کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس کی وبا سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019 میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اب انکشاف ہوا ہے کہ آغاز میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے 50 فیصد سے زیادہ افراد کو 2 سال بعد بھی بیماری کی کم از کم ایک علامت کا سامنا ہے۔

    یہ انکشاف کووڈ کی اب تک کی سب سے طویل ترین فالو اپ تحقیق میں سامنے آیا۔یہ طبی جریدے دی لانیسٹ ریسیپیٹری میڈیسین میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے 2 سال بعد بھی کورونا وائرس کے متعدد مریضوں کی صحت خراب اور معیار زندگی عام آبادی کے مقابلے میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    چائنا جاپان فرینڈ ہاسپٹل کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر بن کاؤ نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مخصوص افراد 2 سال بعد بھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ابھی تک کووڈ 19 کے طویل المعیاد طبی اثرات کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں ہوسکا اورمختلف تحقیقی ٹیموں کے کام کا دورانیہ ایک سال تک رہا تھا۔

    اس نئی تحقیق کے لیے محققین نے کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر مرتب ہونے والے طویل المعیاد نتائج کی جانچ پڑتال کی اور پھر اس کا موازنہ بیماری سے محفوظ رہنے والے افراد کے ڈیٹا سے کیا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے 7 جنوری سے 29 مئی 2020 کے دوران ووہان کے ہسپتال جن ین ٹان میں کووڈ کے باعث زیرعلاج رہنے والے 1192 مریضوں کی صحت کی جانچ پڑتال کی۔

    ان افراد کی صحت کا معائنہ پہلے 6 ماہ بعد، دوسری بار 12 ماہ بعد اور پھر 2 سال بعد کیا گیا ، جس کے دوران ان کے 6 منٹ کے چہل قدمی کے ٹیسٹ، لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے اور علامات کو جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔ابتدائی بیماری کے 6 ماہ بعد 68 فیصد مریضوں نے لانگ کووڈ کی کم از کم ایک علامت کو رپورٹ کیا ، جبکہ 2 سال بعد بھی 55 فیصد سے زیادہ نے کسی ایک علامت سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔

    تھکاوٹ یا مسلز کی کمزوری سب سے عام علامات رپورٹ ہوئیں جبکہ یہ بھی دریافت ہوا کہ 2 سال بعد بھی 11 فیصد مریض اپنے کام پر واپس نہیں لوٹ سکے تھے۔تحقیق کے مطابق 31 فیصد مریضوں نے تھکاوٹ یا مسلز میں کمزوری اور 31 فیصد نے نیند کے مسائل کو رپورٹ کیا جبکہ کووڈ سے محفوظ رہنے والے افراد میں یہ شرح بالترتیب 5 اور 14 فیصد دریافت ہوئی۔

    کووڈ کے مریضوں کی جانب سے متعدد دیگر علامات بشمول جوڑوں میں تکلیف، دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہونا، سر چکرانا اور سر درد وغیرہ کو بھی رپورٹ کیا گیا۔محققین نے تسلیم کیا کہ ان کی تحقیق محدود ہے اور کسی ایک جگہ کے نتائج کا اطلاق وائرس کی دیگر اقسام سے متاثر مریضوں پر نہیں کیا جاسکتا۔

  • یورپ:کوویڈ سے اموات کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کرگئی

    یورپ:کوویڈ سے اموات کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کرگئی

    لندن :یورپ:وویڈ سے اموات کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کرگئی،اطلاعات کے مطابق ادارہ برائے عالمی صحت کے مطابق خطے میں 218,225,294 رجسٹرڈ کوویڈ کیسوں میں سے 2,002,058 افراد کوویڈ کے سبب مر چکے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ادارہ برائے عالمی صحت کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے وبائی مرض کورونا کا مرکز رہنے والے یورپ میں کوویڈ 19 سے مرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

    واضح رہے، ڈبلیو ایچ او کا یورپی خطہ 53 ممالک اور خطوں پر مشتمل ہے، جن میں کئی وسطی ایشیائی ممالک بھی شامل ہیں۔

    اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ، دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد افراد وباء کے سبب زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

    دریں اثنا، مارچ کے پہلے دو ہفتوں میں دوبارہ سر اٹھانے کے بعد، یورپ میں متاثرین کی تعداد کم ہو رہی ہے۔پچھلے سات دنوں میں نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں 26 کمی آئی ہے۔

    علاوہ ازیں، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عالمی وباء کے اثر سے دنیا مکمل طور پر باہر نہیں نکلی ہے۔ مختلف ویرئینٹ کا آنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وائرس کسی بھی کوئی سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔ تاہم، احتیاط کر کے اس کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

  • شمالی کوریا میں پہلے کورونا کیس کی تصدیق ، ملک میں نشینل ایمرجنسی نافذ

    شمالی کوریا میں پہلے کورونا کیس کی تصدیق ، ملک میں نشینل ایمرجنسی نافذ

    شمالی کوریا کی حکومت نے پہلی مرتبہ ملک میں ایک کورونا کیس کی تصدیق کی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا رپورٹس مطابق شمالی کوریا نے کورونا وبا کے آغازسے اب تک ملک میں کورونا کیسز کی موجودگی سے انکار کیا ہے تاہم اب کورونا کا ایک کیس سامنے آگیا ہے۔

    کرونا کی نئی قسم، وزیراعظم کا این سی او سی بحال کرنے کا حکم

    رپورٹس کے مطابق کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ملک میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کردی ہے اورلاک ڈاؤن لگا دیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ اومیکرون وائرس سے متاثرمتعدد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے انفیکشنز کا پتہ چلا ہے لیکن سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت پیانگ یانگ میں اومیکرون قسم کے کیسز پائے گئے ہیں KCNA نے رپورٹ کیا کہ 8 مئی کو بخار کا سامنا کرنے والے لوگوں کے ایک گروپ سے جمع کیے گئے نمونوں میں انتہائی متعدی اومیکرون قسم کے لیے مثبت تجربہ کیا گیا۔

    کوویڈ 19 کا پھیلنا شمالی کوریا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ملک کے خستہ حال صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کا امکان نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ متعدی بیماری میں مبتلا مریضوں کی ایک بڑی تعداد کا علاج کر سکے۔

    شمالی کوریا نے اس سے قبل کسی بھی کورونا وائرس کے کیسز کو تسلیم نہیں کیا تھا، حالانکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تقریباً 25 ملین افراد پر مشتمل ملک کو ایک وائرس سے بچایا گیا ہے جس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے۔

    پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    KCNA کے مطابق، جمعرات کو، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے تمام شہروں میں لاک ڈاؤن کے اقدامات کا حکم دیا اور طبی سامان کی تقسیم کی ہدایت کی جو پارٹی نے مبینہ طور پر کووِڈ ایمرجنسی کی صورت میں اسٹاک کی تھی۔

    کورونا وبا کو پھیلنے سے متعلق ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کوپھیلنے سے روکنے کے لئے فوری اورموثر اقدامات کئے جائیں گے۔۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    کے سی این اے کے مطابق، پولٹ بیورو نے ملک کے انسداد وبا کے شعبے کو "لاپرواہی، سستی، غیر ذمہ داری اور نااہلی کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ یہ پڑوسی خطوں سمیت دنیا بھر میں کوویڈ 19 کے بڑھتے ہوئے کیسز کے لیے "حساس طریقے سے جواب دینے میں ناکام رہا۔

    کے سی این اے نے رپورٹ کیا کہ کم نے کہا کہ ملک "غیر متوقع کوویڈ 19 پھیلنے” پر قابو پالے گا۔

    آج تک، شمالی کوریا صحت عامہ کے سخت اقدامات کی بدولت کوویڈ 19 کے کیسز کے بڑے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہا ہے شمالی کوریا کی سرحدوں کو جنوری 2020 سے سیل کر دیا گیا تھا تاکہ وائرس کو روکا جا سکے-

    رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے پاس کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں ہے کیونکہ کم جونگ ان کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت، چین اورروس کی جانب سے کورونا ویکسین کی فراہمی کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔

    نیٹو سربراہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

  • نیٹو سربراہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    نیٹو سربراہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ اسٹولٹن برگ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسٹولٹن برگ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ نیٹو سربراہ مکمل ویکسینیشن کرواچکے ہیں، ان کا کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے تاہم اسٹولٹن برگ میں کورونا کی معمولی علامات ہیں اور وہ ٹھیک ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    نیٹو ترجمان کا کہنا ہےکہ اسٹولٹن برگ بیلجیئم کی حکومت کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں گے اور گھر سے ہی تمام امور سرانجام دیں گے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق رواں ہفتے کے آخر میں نیٹو وزرائے خارجہ کی جرمنی میں غیر رسمی ملاقات ہونا ہے جس میں اسٹولٹن برگ بذریعہ ویڈیو کانفرنس شریک ہوں گے۔

    کوورنا قوانین کی خلاف ورزی: دبئی سول ایوی ایشن کا پی آئی اے پر بھاری جرمانہ عائد

    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ وزیرخارجہ انٹونی بلنکن میں کورونا کی معمولی علامات ہیں انٹونی بلنکن نے مکمل ویکسین کے ساتھ بوسٹر شاٹس بھی لگوائے تھے-

    نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ انٹونی بلنکن قرنطینہ میں ہیں اور گھر سے ہی کام سر انجام دیں گے-

    بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

  • کرونا کی نئی قسم، وزیراعظم کا این سی او سی بحال کرنے کا حکم

    کرونا کی نئی قسم، وزیراعظم کا این سی او سی بحال کرنے کا حکم

    کرونا کی نئی قسم، وزیراعظم کا این سی او سی بحال کرنے کا حکم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اومیکرون وائرس کی نئی ساخت کے بڑھتے ہوئے کیسیز کا نوٹس لے لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر این سی او سی کو بحال کیا جائے ، وزیراعطم شہباز شریف نے وزارت قومی صحت سے موجودہ صورتحال کے متعلق رپورٹ طلب کر لی

    پاکستان میں اومیکرون کی نئی قسم سامنے آ گئی ،قومی ادارہ صحت نے اومیکرون کے نئے سب ویرینٹ BA.2.12.1 کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی نئی قسم کے ویرینٹ کی وجہ سے مختلف ممالک میں کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ بہترین احتیاطی تدابیر (ہجوم والی جگہوں پر ماسک پہننے کے علاوہ) COVID-19 ویکسینیشن ہے،شہری اپنی ابتدائی ویکسین مکمل کروائیں اور ویکسینیشن مکمل ہونے کے 6 مہینے کے بعد بوسٹر ڈوز لگوائیں،

    واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیلا،کرونا کی نئی قسمیں بھی سامنے آئیں تا ہم پاکستان میں کرونا کم ہو گیا تھا اور کرونا کے لئے حکومت کی جانب سے بنائے گئے این سی او سی کو ختم کر دیا گیا تھا، کرونا کے لئے پاکستان میں ویکسین لازمی قرار دی گئی ہے

    قبل ازیں عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے رد عمل میں قومی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات تصدیق شدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور اضافی اموات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا قومی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کورونا اموات سے متعلق کسی طرح کا سسٹم اور نظام درست ہو ہی نہیں سکتا، تاہم پاکستان کا نظام قدرے معیاری اور مستند تھا پاکستان میں کورونا سے ہونے والی ہر موت کو پہلے ضلعی، پھر صوبائی سطح پر تصدیق کیا گیا جب کہ قبرستانوں سے بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات حکومت کے بتائے گئے اور تصدیق کیے گئے اعداد و شمار جتنی یا اس کے قریب ترین ہیں، اضافی اموات کا امکان نہیں

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی بھی کرونا کا شکار

    دنیا بھر میں ایک دن میں 18 لاکھ کے قریب افراد کورونا وائرس مبتلا

    این سی او سی نے پی ایس ایل کے شائقین کو بڑی خوشخبری سنا دی

    کورونا پابندیوں کا اعلامیہ جاری،تعلیمی اداروں بارے بھی بڑی خبر

    کرونا کے وار جاری، ایک روز میں 40 اموات

  • پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    اسلام آباد:پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے رد عمل میں قومی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات تصدیق شدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور اضافی اموات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    قومی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کورونا اموات سے متعلق کسی طرح کا سسٹم اور نظام درست ہو ہی نہیں سکتا، تاہم پاکستان کا نظام قدرے معیاری اور مستند تھا۔

    بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی ہر موت کو پہلے ضلعی، پھر صوبائی سطح پر تصدیق کیا گیا جب کہ قبرستانوں سے بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    قومی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات حکومت کے بتائے گئے اور تصدیق کیے گئے اعداد و شمار جتنی یا اس کے قریب ترین ہیں، اضافی اموات کا امکان نہیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا کے دوران پاکستان میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا اور کیسز میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی مگر کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

    بیان کے مطابق پاکستان میں اموات کی رپورٹنگ کے لئے با قاعدہ نگرانی کے متعدد نظام موجود ہیں، معاون ڈیٹا کے ساتھ رپورٹ کردہ ہر نمبر کا موثر اور قابل اعتماد میکانزم کے ساتھ بیک اپ لیا گیا، اس کی ضلعی اور صوبائی سطح سے بھی تصدیق کی گئی۔

    ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا کہ قبرستانوں میں رپورٹ ہونے والی اضافی اموات کورونا سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں تاہم ان کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے مختلف نہیں۔

    وزارت صحت کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان 97 فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ہے، جہاں کورونا کے باعث جاں بحق افراد کی اکثریت کی مخصوص قبرستانوں یا قبروں میں تدفین کی گئی، جس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔

    وزارت صحت کے بیان سے قبل عالمی ادارہ صحت نے 5 مئی کو اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کورونا سے بلواسطہ یا بلاواسطہ 62 لاکھ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ اموات ہوئیں۔

    رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک میں ہونے والی ممکنہ اموات کا ڈیٹا دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ امریکا اور بھارت سمیت کئی ممالک نے کورونا سے ہونے والی اموات کو کم کرکے بتایا۔

    رپورٹ میں کئی ممالک کے حوالے سے اندازوں کے مطابق ڈیٹا فراہم کیا گیا تھا، جس کے مطابق پاکستان میں حکومتی سطح پر تسلیم شدہ اموات سے 8 گنا زیادہ اموات ہوئیں، جنہیں ممکنہ طور پر ظاہر ہی نہیں کیا گیا مگر حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا اموات کی حکومتی تعداد درست ہے۔

    پاکستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے آغاز سے 7 مئی کی شام تک ملک بھر میں اموات کی تعداد 30 ہزار 369 تھی۔

  • بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    نئی دہلی :بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے نئے اعدادو شمار جاری کردیے۔

    عالمی ادارہ صحت کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں اندراج کردہ اموات سے 3 گنا زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے نے جمعرات کو کہا کہ 2021 کے آخر تک کورونا سے ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد اموات ہوئیں جبکہ جنوری 2020 سے دسمبر 2021 کے آخر تک اس عرصے میں کورونا سے ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ کی جانے والی اموات کی سرکاری تعداد تقریباً 54 لاکھ تھی۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کچھ ممالک میں اموات کا صحیح طریقے سے اندراج نہیں کیا گیا۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک جن اموات کو شمار نہیں کیا گیا ان میں سے تقریباً نصف بھارت میں تھیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وبائی امراض کے نتیجے میں بھارت میں 47 لاکھ افراد کی موت ہوئی۔رپورٹ کے مطابق اموات کے اصل اعداد و شمار بھارتی حکومت کے بتائے ہوئے اعداد و شمار سے دس گنا زائد ہے۔

    دوسری جانب بھارتی حکومت نے کورونا سے اموات پر دیے گئے ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار مسترد کردیے۔بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 سے اموات پونے پانچ لاکھ ہوئی ہیں۔

  • امریکی وزیر خارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ وزیرخارجہ انٹونی بلنکن میں کورونا کی معمولی علامات ہیں انٹونی بلنکن نے مکمل ویکسین کے ساتھ بوسٹر شاٹس بھی لگوائے تھے-

    نیڈ پرائس نے بتایا کہ انٹونی بلنکن قرنطینہ میں ہیں اور گھر سے ہی کام سر انجام دیں گے-

    امریکا کی اپنے شہریوں کو چین کے سفر سے متعلق سخت ہدایات جاری

    ترجمان کے مطابق ویک اینڈ پر بلنکن کووائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کے عشایئے اور کئی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس میں فرانسیسی سفیر کی رہائش گاہ پر Paramount-CBS کے بعد کی پارٹی اور پولیٹیکو کے زیر اہتمام اتوار کا برنچ شامل تھا۔

    انہوں نے پیر کے روز آرمینیا کے وزیر خارجہ، منگل کو میکسیکو کے وزیر خارجہ اور بدھ کے اوائل میں سویڈن کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی-

    چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا

  • کوورنا قوانین کی خلاف ورزی:  دبئی سول ایوی ایشن کا پی آئی اے پر بھاری جرمانہ عائد

    کوورنا قوانین کی خلاف ورزی: دبئی سول ایوی ایشن کا پی آئی اے پر بھاری جرمانہ عائد

    اسلام آباد: دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے قومی ایئر لائن پی آئی اےپر کووڈ 19 قوانین کی خلاف ورزی پر تین لاکھ 20 ہزار40 درہم کا جرمانہ عائد کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کو کووڈ 19 قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 3 لاکھ 20 ہزار40 درہم کا جرمانہ عائد کردیا جو کہ پاکستانی روپیوں میں کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد بنتا ہے-

    دادو آتشزدگی واقعہ: وزیر اعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ…

    دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 11 اپریل 2022 کوجرمانے کی ادائیگی کا مراسلہ جاری کیا مراسلے کے مطابق 28 مارچ کے واقعے پرجاری نوٹس کے جواب میں 30 دن کے دوران پی آئی اے کو اپیل کا حق دیا گیا۔

    مراسلے میں بتایا گیا کہ دو مسافروں پر جرمانے کی رقم 3 لاکھ 20 ہزار جبکہ متفق جرمانہ 40 یو اے ای درہم ہے جرمانے کی ادائیگی بذریعہ کیش یا چیک دبئی سی اے اے فنانشل افئیرزسیکشن میں کی جائےپی آئی اے کی جانب سے 28 مارچ 2022 کو کووڈ قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔

    اسکائی ونگزاور ایئر کرافٹ آپریٹرز اینڈ اورنز ایسوسی ایشنز کی خواجہ سعد رفیق کو ہر ممکن تعاون کی یقین…

    مراسلے کے مطابق پی آئی اے کی جانب سےایک سال میں دوسری بار قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ماضی میں بھی ایئرلائن کی جانب سے کئی بار قوانین کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے-

    مریم نوازنے عمرے پر جانے کے لئے عدالت سےرجوع کر لیا