Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • امریکا کی اپنے شہریوں کو چین کے سفر سے متعلق سخت ہدایات جاری

    امریکا کی اپنے شہریوں کو چین کے سفر سے متعلق سخت ہدایات جاری

    امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو چین کا سفر کرنے کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافے اور کوویڈ کے پھیلاؤ کو روکنے کے چینی طریقہ کار کی وجہ سے امریکی حکومت نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ چین نہ جائیں۔

    شنگھائی میں کئی کیسوں میں کوویڈ پابندیوں کے تحت بچوں کو ان کے والدین سے بھی الگ کیا جا رہا ہے کسی بھی شخص میں کوویڈ کی تشخیص پر اسے الگ تھلگ کر کے اسپتال میں قرنطینہ کی مدت پوری کرنا ہوتی ہے۔

    واشنگٹن حکومت نے شہریوں کو ہانگ کانگ نہ جانے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

    واضح رہے کہ چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا ہے چین کے شہر شنگھائی میں حکومت کی جانب سے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شنگھائی میں لاک ڈاؤن کے تحت کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اب تک کے سب سے بڑے کوویڈ پھیلنے کے درمیان ان کے پاس کھانا ختم ہو رہا ہے رہائشی اپنے گھروں تک محدود ہیں، یہاں تک کہ اشیائے خورد و نوش کی خریداری جیسی ضروری وجوہات کی بنا پر بھی باہر جانے پر پابندی ہے۔.

    چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز

    شنگھائی کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کو “مشکلات” کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن شہریوں میں سخت غصہ اور بے چینی بھی ہے ، جیسا کہ بچوں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کو والدین سے الگ کیا جا رہا ہے۔

    شہریوں کے ردعمل کے بعد شنگھائی کے حکام نے بعد میں ان والدین کو بھی ان کے بچوں کے ساتھ تنہائی کے مراکز میں جانے کی اجازت دے دی ہے تاہم ایک بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اب بھی والدین سے الگ ہونے والے بچوں کے بارے میں شکایات موجود ہیں جو کوویڈ پازیٹو نہیں تھے۔

    حکومت نے شنگھائی شہر میں ہر معاملے کی شناخت اور الگ تھلگ کرنے کے لیے بدھ کو لازمی بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ کا ایک اور دور شروع کر دیا ہے شنگھائی کے وہ شہری جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے وہ اپنے گھروں میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتے چاہے کورونا کی علامت ہلکی ہوں یا مہلک ہوں شنگھائی میں قرنطینہ مراکز پر بھی سخت دباؤ ہے، اور حکومت نئے قرنطینہ مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    کورونا کی نئی قسم سابقہ ریکارڈ توڑنےلگی

  • چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا

    چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا

    چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ،اطلاعات کے مطابق چین کے شہر شنگھائی میں حکومت کی جانب سے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شنگھائی میں لاک ڈاؤن کے تحت کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اب تک کے سب سے بڑے کوویڈ پھیلنے کے درمیان ان کے پاس کھانا ختم ہو رہا ہے۔

    رہائشی اپنے گھروں تک محدود ہیں، یہاں تک کہ اشیائے خورد و نوش کی خریداری جیسی ضروری وجوہات کی بنا پر بھی باہر جانے پر پابندی ہے۔چین کے سب سے بڑے شہر میں جمعرات کو تقریباً 20,000 نئے ریکارڈ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے.

    شنگھائی کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کو “مشکلات” کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لیکن شہریوں میں سخت غصہ اور بے چینی بھی ہے ، جیسا کہ بچوں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کو والدین سے الگ کیا جا رہا ہے۔

    شہریوں کے ردعمل کے بعد شنگھائی کے حکام نے بعد میں ان والدین کو بھی ان کے بچوں کے ساتھ تنہائی کے مراکز میں جانے کی اجازت دے دی ہے۔

    تاہم ایک بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اب بھی والدین سے الگ ہونے والے بچوں کے بارے میں شکایات موجود ہیں جو کوووڈ پازیٹو نہیں تھے۔

    حکومت نے شنگھائی شہر میں ہر معاملے کی شناخت اور الگ تھلگ کرنے کے لیے بدھ کو لازمی بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ کا ایک اور دور شروع کر دیا ہے۔

    شنگھائی کے وہ شہری جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے وہ اپنے گھروں میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتے چاہے کورونا کی علامت ہلکی ہوں یا مہلک ہوں۔

    شنگھائی میں اس وقت قرنطینہ مراکز پر بھی سخت دباؤ ہے، اور حکومت نئے قرنطینہ مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

     

  • جعلی ویکسین کارڈزفروخت کرنے کیلئے 90 بار کورونا ویکسین لگوانے والا شخص

    جعلی ویکسین کارڈزفروخت کرنے کیلئے 90 بار کورونا ویکسین لگوانے والا شخص

    میگڈیبرگ: جرمنی میں ایک 60 سالہ شخص نے محض اس مقصد سے درجنوں بار خود کو کورونا ویکسین لگوائی تاکہ جو لوگ ویکسین نہیں لگوانا چاہتے انہیں جعلی ویکسین کارڈز اصلی بیچ نمبرز کے ساتھ فروخت کیے جاسکیں۔

    باغی ٹی وی : "سکائے نیوز کے مطابق مشرقی جرمنی کے شہر میگڈیبرگ سے تعلق رکھنے والے شخص جن کا نام جرمن رازداری کے قوانین کے مطابق جاری نہیں کیا گیا، نے ویکسینیشن مراکز میں مہینوں تک 90 بار کورونا ویکسین لگوائیں تاہم بالآخر وہ پولیس کی گرفت میں آگئے۔

    چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز

    مطلوبہ تعداد سے زیادہ مرتبہ ویکسین کروانے سے، یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جعلی دستاویزات کو فروخت کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا جس میں ویکسین کے اصلی بیچ نمبر شامل تھے، جو ویکسین نہیں لگوانا چاہتے تھے۔

    سکائے نیوز نے اپنی رپورٹ میں جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹ کےحوالے سے بتایا کہ، جرمن رازداری کے قوانین کے مطابق اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے، پولیس نے اسے حراست میں نہیں لیا ہے لیکنتاہم ویکسینیشن کارڈز کے غیر مجاز اجراء اور دستاو یزا ت کی جعلسازی کی وجہ سے ملزم سے تفتیش جاری ہے۔

    60 سالہ جرمن شہری سیکسنی میں ایلن برگ کے ایک ویکسینیشن سنٹر میں اس وقت پکڑے گئے جب وہ لگاتار دوسرے دن بھی کورونا ویکسین لگوانے پہنچ گئے پولیس نے ان کے پاس سے متعدد خالی ویکسینیشن کارڈ ضبط کر لیے اور فوجداری کارروائی شروع کر دی ہے۔

    جرمنی نے ہفتوں سے انفیکشن کی اعلی شرح دیکھی ہے لیکن اس نے حال ہی میں متعدد کوویڈ اقدامات اٹھائے ہیں۔ پوری وبا کے دوران، ریستوران، تھیٹر، کچھ کام کی جگہوں، اور سوئمنگ پولز سمیت مخصوص مقامات تک رسائی کے لیے ملک بھر میں ویکسینیشن کارڈ دکھانا لازمی ہے-

    2020 میں وبائی مرض شروع ہونے کے بعد سے جرمنی میں 21.6 ملین سے زیادہ کورونا وائرس کے واقعات اور 130,029 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

    چین میں پھرکورونا نے سراٹھالیا:شنگھائی میں پاکستان طرز کامخصوص لاک ڈاون لگادیاگیا

  • کورونا کی نئی قسم سابقہ ریکارڈ توڑنےلگی

    کورونا کی نئی قسم سابقہ ریکارڈ توڑنےلگی

    برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم ’’ایکس ای‘‘ سامنے آگئی ہے۔اومی کرون سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلنے والی کورونا کی نئی قسم سے ہرطرف خوف کی فضا قائم ہے

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کورونا کی نئی قسم ایکس ای کے بارے میں جانچ کررہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ BA.2 اومی کرون کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ تیز منتقل ہوتی ہے تاہم اس قسم کی مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔

    رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 22 مارچ تک ایکس ای کے 637 کیسز سامنے آئے ہیں۔اس کے علاوہ کروونا کی یہ نئی قسم نیوزی لینڈ اور تھائی لینڈ میں بھی پہنچ گئی ہے۔

    برطانیہ ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق 16 مارچ تک اس کی نمو، BA.2 کی نسبت 9.8 فیصد زائد تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری جانب فروری کے بعد انگلینڈ اور ویلز میں کووڈ سے اموات کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ 25 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں انگلینڈ اور ویلز میں 780 اموات ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق اموات کی یہ تعداد گزشتہ ہفتے کی نسبت 14 فیصد زائد ہے۔

    ادھر پاکستان میں‌ کورونا کی پانچویں لہر کے وار کم ہونے لگے۔ ملک میں چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا وائرس سے 154 مریض متاثر ہوئے۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 15 لاکھ 25 ہزار 466 ہوگئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 154 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 5 لاکھ 5 ہزار 148، سندھ میں 5 لاکھ 75 ہزار 781، خیبرپختونخوا میں 2 لاکھ 19 ہزار 131، بلوچستان میں 35 ہزار 476، گلگت بلتستان میں 11 ہزار 714، اسلام آباد میں ایک لاکھ 35 ہزار 93 جبکہ آزاد کشمیر میں 43 ہزار 277 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک 2 کروڑ 75 لاکھ 84 ہزار 493 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 ہزار 265 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 14 لاکھ 86 ہزار 191 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 320 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پنجاب میں 13 ہزار 558، سندھ میں 8 ہزار 97، خیبرپختونخوا میں 6 ہزار 322، اسلام آباد میں ایک ہزار 23، بلوچستان میں 378، گلگت بلتستان میں 191 اور آزاد کشمیر میں 792 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

  • چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز

    چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز

    بیجنگ: چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز،اطلاعات کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کی جائے پیدائش چین میں مہلک وائرس کے 2500 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ اس سے ایک دن پہلے یہاں اس مہلک وائرس سے متاثرہ 1,787 نئے لوگ پائے گئے تھے۔جمعہ کو سامنے آنے والے نئے کیسز میں سے شمال مشرقی صوبے جیلن میں، شنگھائی میں اور شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ میں یہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے 43 نئے لوگ بھی کووڈ-19 سے متاثر پائے گئے ہیں۔ اس سے ایک دن پہلے بیرون ملک سے یہاں آنے والے 40 افراد کورونا سے متاثر پائے گئے تھے۔

    یہاں جمعہ کو اس وبا سے 4,307 مریض شفایاب ہو ئے ہیں ۔ اس وقت مختلف اسپتالوں میں زیر علاج کووڈ-19 مریضوں کی تعداد 27,128 ہے، جن میں سے 58 کی حالت نازک ہے۔جمعہ کو یہاں کووڈ-19 سے کسی کی موت کی اطلاع نہیں ہے۔ مرنے والوں کی تعداد 4,638 پر مستحکم ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق چینی حکومت نے پاکستانی طرز کا سمارٹ لاک شروع کررکھا ہے اورحکومت کا کہنا ہے کہ سمجھ سے باہر ہےکہ بہت زیادہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے کے باوجود بھی کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے ،

    ادھر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگریہ معاملہ قابو میں نہ آیا تودنیا ایک بارپھربحرانوں کا شکارہوجائے گی اورپھریہ کورونا ایک نئی شکل میں تباہی مچاسکتا ہے جس کی روک تھام کےلیے مل بیٹھ کرکوششیں ضروری ہیں‌

  • کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے تشکیل دیا گیا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرختم کردیا گیا

    کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے تشکیل دیا گیا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرختم کردیا گیا

    عالمی وبا کورونا وائرس سے نمٹنے اور پالیسیاں بنانے کے لیے تشکیل دیئے گئےنیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو ختم کرکے ذمہ داریاں محکمہ صحت کو سونپ دی گئیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ آج نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا آخری دن ہےکورونا کیسز کی شرح انتہائی کم ہوچکی ہے اور ویکسی نیشن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے-


    انہوں نے کہا ہے کہ این سی او سی کی ذمہ داریاں وزارت صحت کو سونپی جارہی ہیں۔2سال میں این سی اوسی کی سربراہی کرنا میرے لیے اعزاز رہا۔


    ان کا کہنا ہے کہ االلہ کی رحمت اور پوری قوم کے تعاون سے ہم اس بے مثال چیلنج پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک پاکستانی کے طور پر مجھے فخر ہے کہ عالمی ایجنسیوں اور شخصیات کی جانب سے پاکستان کوکوویڈ پالیسی کے لیےدنیا کے کامیاب ترین ممالک میں سے ایک کے طور پر سراہا گیا۔

    این سی اوسی کا ملک بھرمیں کورونا سے متعلق تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

    دوسری جانب ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی تشخیص کے لیے 29 ہزار 625 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 244 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ مثبت کیسز کی شرح 0.82 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ 439 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    کورونا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بتائی جانیوالی تعداد سے تین گنا زائد ہے

  • چین میں پھرکورونا نے سراٹھالیا:شنگھائی میں پاکستان طرز کامخصوص لاک ڈاون لگادیاگیا

    چین میں پھرکورونا نے سراٹھالیا:شنگھائی میں پاکستان طرز کامخصوص لاک ڈاون لگادیاگیا

    شنگھائی :چین میں پھرکورونا نے سراٹھالیا:شنگھائی کو انتہائی بڑے کووڈ لاک ڈاؤن کا سامنا ،اطلاعات کے مطابق چین نے اپنے سب سے بڑے شہر شنگھائی میں کووڈ لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا ہے۔ یہ سن 2020 کے بعد سب سے بڑا لاک ڈاؤن قرار دیا گیا ہے۔

    چین کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کورونا نے پھرسے سراُٹھا لیا ہے،اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔ چینی حکومت نے ملک کے مالیاتی مرکز سمجھے جانے والے چھبیس ملین کی آبادی والے شہر شنگھائی میں وبائی مرض کووڈ انیس کے پھیلاؤ کے بعد لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا ہے۔ شہر کے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے تا کہ مختلف علاقوں میں وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    وسطی چینی شہر ووہان میں نومبر سن 2019 میں کورونا وائرس نے افزائش پائی تھی اور پھر اوائل سن 2020 میں کووڈ انیس نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ گیارہ ملین آبادی کے اِس شہر کو انتہائی سخت لاک ڈاؤن کا سامنا رہا تھا۔ ووہان کو حکام نے چھہتر ایام تک مکمل طور پر بقیہ ملک سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد اب شنگھائی میں قریب قریب ویسے ہی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ کورونا سے انکاری، مظاہروں کے پیچھے کون ہے؟

    حکام کا کہنا ہے کہ شنگھائی کو دو مرحلوں میں لاک ڈاؤن میں رکھا جائے گا۔ اس دوران وسیع پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں شنگھائی کے مشرقی علاقے پوڈونگ کو بقیہ شہر سے پوری طرح کاٹ دیا جائے گا۔ پوڈونگ میں لاک ڈاؤن جمعے تک رہے گا۔ اس کے بعد زیادہ گنجان آباد علاقے پوکسی میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہواہےکہ چین نے پاکستان میں ایک خاص قسم کے لاک ڈاون کی طرز پرلاک ڈاون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں معاشی سرگرمیاں بھی چلتی رہیں اور اس خطرناک وبا سے جان بھی چھوٹ جائے

  • کورونا وبا: پاکستان میں دوسرے روز بھی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،مثبت کیسز کی شرح 0.69 فیصد

    کورونا وبا: پاکستان میں دوسرے روز بھی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،مثبت کیسز کی شرح 0.69 فیصد

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے باعث کوئی موت واقع نہیں ہوئی.-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 30 ہزار54کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید210 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 15 لاکھ 23 ہزار72ہو گئی جبکہ ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 30 ہزار 333 ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.69 فیصد رہی 445 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے-

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 74 ہزار239، خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ 18 ہزار 819، پنجاب میں 5 لاکھ 4ہزار 639، اسلام آباد میں ایک لاکھ 35 ہزار3، بلوچستان میں 35 ہزار460، آزاد کشمیر میں 43 ہزار 237اور گلگت بلتستان میں 11 ہزار 675 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 551 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 8 ہزار 92، خیبر پختونخوا 6 ہزار 307، اسلام آباد ایک ہزار 22، گلگت بلتستان میں 191، بلوچستان میں 378 اور آزاد کشمیر میں 792 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • پاکستان میں کورونا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی مثبت کیسز کی شرح 1.28 فیصد

    پاکستان میں کورونا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی مثبت کیسز کی شرح 1.28 فیصد

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے کیسز میں واضح کمی آگئی ہے، 2 سال بعد پہلی بار ملک میں 24 گھنٹے میں کورونا سے کسی شخص کا انتقال نہیں ہوا۔

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ اعداو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے 34 ہزار 476 ٹیسٹ کیے گئے جس میں مزید 443 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں-

    رپورٹس کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا سے کسی شخص کا انتقال نہیں ہوا جبکہ ملک میں کورونا کیسز کی شرح 1.28 فیصد رہ گئی ہے۔

    دوسری جانب چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہےبین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    این سی اوسی کا ملک بھرمیں کورونا سے متعلق تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    کورونا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بتائی جانیوالی تعداد سے تین گنا زائد ہے

  • چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ :چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری،اطلاعات کے مطابق چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی پورٹ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا میں کورونا کے کیسز میں 25 فیصد اور اموات میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ افریقا میں بھی نئے کیسز میں 12 فیصد اور اموات میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں نئے کیسز میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد مستحکم ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور برطانیہ میں کیسز بڑھنے لگے ہیں جس کے باعث یورپ میں کورونا کی ایک اور لہر کا امکان بڑھ گیا ہے۔