Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • چین میں زیرو کووڈ رولز کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین لاپتہ ہونے لگے

    چین میں زیرو کووڈ رولز کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین لاپتہ ہونے لگے

    چین میں گزشتہ سال زیرو کووڈ رولز کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین لاپتہ ہونے لگے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی حکام کی جانب سے گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں چین کی زیرو کووڈ پابندیوں کےخاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف خاموشی سے شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد کئی لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    اندھیرے میں خالی سفید چادریں اٹھائےہوئےنام نہاد وائٹ پیپر احتجاج میں ہزاروں افراد نے پابندی والی کوویڈ پالیسیوں کےخلاف ریلی نکالی یہ حکمران چینی کمیونسٹ پارٹی اور اس کے رہنما شی جن پنگ پر تنقید کا ایک منفرد مظاہرہ تھا،اس دوران پولیس نے چند گرفتاریاں کیں-

    چینی سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اب، کئی مہینوں بعد، ان مظاہرین کی تعداد پولیس کی حراست میں ہے، مہینوں گذرجانے کے باجودکئی افراد کے حوالے سے کوئی معلومات میسر نہیں ہو سکی ہے،ایک گروپ کے اندازے کے مطابق 100 سے زیادہ گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اوریونیورسٹیوں کی جانب سے بیجنگ، شنگھائی، گوانگژو اور نانجنگ سمیت دیگر شہروں سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہےالبتہ چینی حکام کی جانب سےلوگوں کے زیر حراست ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    چینی حکام نے گرفتاریوں سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا لیکن بی بی سی کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے بعد کم از کم ایسے 12 افراد کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے الزام میں بیجنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان میں سے کم از کم پانچ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ ان لوگوں میں سے جو اب بھی زیر حراست ہیں، چار خواتین بھی شامل ہیں جنہیں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے الزام میں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہےیہ ایک مبہم الزام ہے جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا ہے، اور ایک جسے ناقدین کہتے ہیں کہ اکثر اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    بی بی سی کی خبر کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں سے زیادہ تر افراد سماجی کارکنان نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر لکھاری، صحافی، موسیقار، اساتذہ اور فنانشل انڈسٹری کے پروفیشنلز ، امریکا اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جواپنی بیزاری ظاہر کرنے کیلئے ہاتھوں میں سفید کاغذ کا علامتی ٹکڑا اٹھا کر پرامن احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔

    ان میں سے بہت سی خواتین ہیں اور رپورٹس کے مطابق پولیس نے ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی ہے کہ آیا وہ حقوق نسواں کی علمبردار تھیں یا "نسوانی سرگرمیوں” میں ملوث تھیں۔ چینی حکام نے حالیہ برسوں میں خواتین کے حقوق کے کارکنوں پر تیزی سے کریک ڈاؤن کیا ہے یا انہیں سنسر کیا ہے۔

    چینی حکام کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا تھا کہ لمبے عرصے سے ماحول بہت ہی کشیدہ ہوتا جا رہا تھا، جب وہ احتجاج میں شرکت کیلئے جار ہے تھے تب انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ جس احتجاج میں شریک ہونے جا رہے ہیں وہ ایک تحریک ہے، وہ تو بس اپنے احساسات کے اظہار کیلئے شامل ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا احتجاج کے دوران ہم لوگ پرامن تھے، نہ ہم نے پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کیا نہ ہی کوئی بنیاد پرستی کی بات کی، اس لیے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ اتنی سنجیدہ لینے والی بات تھی۔

    گرفتار لوگوں کے دوستوں نے اصرار کیا کہ اگرچہ یہ گروپ سماجی طور پر باشعور تھا، اور کچھ اراکین نے #MeToo شخصیت Xianzi کی حمایت ظاہر کی تھی، لیکن وہ کارکن نہیں تھے-

    قیدیوں کے ایک دوست نے کہا کہ وہ صرف نوجوانوں کا ایک گروپ ہیں جو معاشرے کے بارے میں فکر مند ہیں… میرے دوست کو نہ صرف خواتین کے حقوق میں، بلکہ انسانی حقوق اور کمزوروں کے حقوق میں بھی دلچسپی ہے۔ اس کا حقوق نسواں سے متعلق سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے-

    27 نومبر کو، گروپ کی کئی خواتین بیجنگ میں دریائے لیانگما پر ایک عوامی نگرانی میں شامل ہوئیں یہ تقریب اُرمچی میں اپارٹمنٹ میں لگنے والی آگ کے متاثرین کے سوگ کے لیے اُس رات چین بھر میں بے ساختہ منعقد ہونے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک تھی جس نے چین کو چونکا دیا تھا – بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ متاثرین کووِڈ کی پابندیوں کی وجہ سے بچ نہیں سکتے، حالانکہ حکام نے اس پر اختلاف کیا۔

    چوکسی ایک پرامن احتجاج میں بدل گئی، لوگوں کے پاس کاغذ کے خالی ٹکڑے تھے جو ان کی مایوسی کی علامت بن گئے ایک اور دوست نے کہا ماحول اتنے عرصے سے اتنا جابرانہ رہا ہے۔ جب وہ گئے تو وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ وہ کسی تحریک میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ صرف اپنے جذبات کو ہوا دینے کا ایک طریقہ ہے انہوں نے پولیس کے ساتھ جھڑپ نہیں کی اور نہ ہی بنیاد پرستانہ رائے کا اظہار کیا۔ اس لیے وہ اسے سنجیدہ نہیں سمجھتے تھے۔

    خبر کے مطابق تاحال یہ بات واضح نہیں کہ پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کو کس طرح شناخت کیا تاہم خدشہ ہے کہ سرویلینس کیمروں اور فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئرز کے ذریعے ان کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں ان کے فونز کو تلاش کرنے کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

  • عباسی شہید اسپتال میں عملے کا انتظامی افسران پر تشدد

    عباسی شہید اسپتال میں عملے کا انتظامی افسران پر تشدد

    کراچی:عباسی شہید اسپتال میدان جنگ بن گیا، ملازمین کے ایک گروپ نے اسپتال انتظامیہ اور سابق سینیٹر عبدالحسیب پر تشدد کی کوشش کی۔ملازمین نے ڈی ایم ایس ڈاکٹر طارق پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی ، ملازمین کے جارحانہ روییاور گالم گلوچ کرنے پر سابق سینیٹر عبدالحسیب انتظامیہ سمیت اجلاس چھوڑ کر اسپتال سے چلے گئے۔

    ٹیچر لائسنس لینے والےاساتذہ کی گریڈ 16 میں ترقی ہوگی:صوبائی وزیر تعلیم

    ملازمین کی بدسلوکی اورغنڈہ گردی پر انتظامیہ نے مزید کام کرنے سے انکار کردیا، سابق سینیٹر اور چیئرمین ہیلتھ کمیٹی عبدالحسیب اسپتال انتظامیہ کے ساتھ اسپتال کی بہتری کے حوالے سے ڈائریکٹر آفس میں اجلاس میں مصروف تھے۔
    اس دوران اسپتال ملازمین کا ایک گروپ ڈائریکٹر آفس میں گھس گیا اور وہاں موجود سابق سینیٹر سمیت دیگر افسران کو مغلظات بکنےلگا اسی دوران مشتعل ملازمین میں شامل امتیاز،اسد،فراز،کاشف مجید اور ڈاکٹر مبشر سمیت غیر متعلقہ افراد نے ڈاکٹر طارق کو شدید تشدد کانشانہ بناتے ہوئے سابق سینیٹر عبدالحسیب پر بھی تشدد کی کوشش کی۔

    سابق اٹارنی جنرل پاکستان جسٹس (ر) ملک قیوم انتقال کر گئے

    ملازمین کے جارحانہ رویے پر عبدالحسیب افسران سمیت اجلاس چھوڑ کر اسپتال سے چلے گئے، ملازمین کے خطرناک عزائم پر ایم ایس عباسی اسپتال سمیت دیگر افسران نے ایدمنسٹریٹر کراچی کو تمام صورتحال سے تحریری طور پر آگاہ کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا او کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی غنڈہ گردی کا نوٹس لیں۔

  • کورونا کیسز میں اضافہ ہونے لگا،11 مریضوں کی حالت نازک

    کورونا کیسز میں اضافہ ہونے لگا،11 مریضوں کی حالت نازک

    اسلام آباد:قومی ادارہ صحت ( این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 4 ہزار 978 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

    این آئی ایچ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 978 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 37 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

     

    اس طرح گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئے گئے مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.74 فیصد رہی ہے، مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی بھی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 11 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    ادھر ملک میں موسم کیصورت حال بھی بہت خراب بتائی جارہی ہے ، پنجاب اورسندھ کے میدانی علاقوں میں دھند کے باعث حد نگاہ متاثر ہونے کے باعث مختلف مقامات پر موٹرویز کو بند کر دیا گیا۔موٹرویز پولیس کے مطابق لاہور، اسلام آباد موٹروے ایم 2 ٹھوکرنیازبیگ سے کوٹ مومن تک جبکہ پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد موٹروےایم 3 فیض پورسے ننکانہ صاحب تک بند کردی گئی ہے۔

     

    سکھر، ملتان موٹروے ایم 5 اوچ شریف سے ظاہر پیر تک اورلاہور، سیالکوٹ موٹروے ایم 11 کالا شاہ کاکو سے سمبڑیال تک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی۔موٹرویز پولیس کے مطابق دھند کے باعث قومی شاہراہوں پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی ہے۔موٹروے پولیس نے شہریوں کو محتاط ڈرائیونگ کی ہدایت جاری کردی۔

  • برطانوی شہزادی ایک سال میں دوسری بار کورونا میں مبتلا

    برطانوی شہزادی ایک سال میں دوسری بار کورونا میں مبتلا

    لندن:برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سوم کی اہلیہ کوئن کنسورٹ کمیلا پارکر کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں جس پر انھوں نے خود کو اہل خانہ سے الگ کرکے گھر میں ہی قرنطینہ کرلیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق بکنگھم پیلس سےجاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کوئن کنسورٹ کمیلا پارکر کا معمولی علامات ظاہر ہونے پر کورونا کا ٹیسٹ کرایا گیا جو مثبت آیا ہے جس پران کے عالمی دورے منسوخ اور تمام مصروفیات معطل کردی گئیں۔بکنگھم پیلس کے مطابق 75 سالہ کوئن کنسورٹ کی حالت خطرے سے باہرہےاورانھوں نےکورونا ٹیسٹ مثبت آنےپرخود کو گھرپرقرنطینہ کرلیا۔ ماہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم ان کی نگرانی کر رہی ہے۔

    نئے نیب قانون میں کچھ کوتاہیاں ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں:چیف جسٹس آف پاکستان

    یاد رہے کہ کوئن کنسورٹ ایک سال قبل فروری کے ماہ ہی کورونا کا شکار ہوگئی تھیں اور اس دوران بھی ٹیسٹ منفی آنے تک خود کو قرنطینہ میں رکھا تھا۔ شاہ برطانیہ اور ان کی اہلیہ نے شہریوں سے کورونا کی ویکسین لگوانے کی اپیل کی ہے۔برطانیہ کے ادارۂ شماریات کے جنوری کے آخری ہفتے میں کرائے گئے سروے کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 10 لاکھ افراد کورونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہوئے تھے یعنی ہر 65 میں سے ایک شہری اس وائرس سے متاثر ہوا تھا۔

    برطانیہ میں ایک تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کوئن کنسورٹ کیملا پارکر کی عمر کے (75 سے 79 سال کے درمیان کے تقریباً 96% افراد نے ویکسین لگوائی ہے جن میں سے 78 فیصد نے حال ہی میں 3 سے 6 ماہ قبل ویکسینیشن کرائی تھی۔

  • کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ، 08 مریضوں کی حالت تشویشناک

    کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ، 08 مریضوں کی حالت تشویشناک

    اسلام آباد: قومی ادارہ صحت ( این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 4 ہزار 784 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

    این آئی ایچ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 784 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 30 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

    اس طرح گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئے گئے مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.63 فیصد رہی ہے، مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی بھی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 08 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • چوہدری شجاعت کے بھائی اور بھتیجےکیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج

    چوہدری شجاعت کے بھائی اور بھتیجےکیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج

    گجرات:چوہدری شجاعت حسین کے بھائی چوہدری وجاہت حسین اور بھتیجے موسیٰ الٰہی کیخلاف گجرات میں ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں اقدام قتل سمیت 8 سنگین دفعات شامل ہیں۔پولیس کے مطابق گجرات کے تھانہ کڑیانوالہ میں چوہدری وجاہت حسین اور موسیٰ الہٰی کے خلاف اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے

    پولیس کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنماء محمد علی کی مدعیت میں چوہدری وجاہت حسین اور موسیٰ الٰہی کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں اقدام قتل سمیت 8 سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔مدعی مقدمہ محمد علی نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہےکہ 23 جنوری کو میرے گھر پر فائرنگ کی گئی، ملزمان مجھے قتل کروانا چاہتے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ن لیگی رہنماء کے گھر پر فائرنگ کرنے پر دونوں سیاسی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، ایف آئی آر میں وجاہت حسین، موسیٰ الٰہی سمیت 3 نامزد اور 11 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔

    مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ وجاہت حسین، موسیٰ الٰہی ن لیگی رہنماوں سے جان کو خطرہ ہے ۔واضح رہے کہ فائرنگ کا واقعہ 23 جنوری کو پیش آیا، جس کا مقدمہ تھانہ کڑیانوالہ میں 10 روز بعد درج ہوا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ چوہدری وجاہت حسین اور موسیٰ الہٰی پر مقدمہ مقامی ن لیگی رہنما محمد علی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں چوہدری وجاہت حسین اور موسیٰ الہٰی سمیت 11ملزمان نامزد ہیں۔

    ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو 

    نیشنل ایکشن پلین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے،

    ہ پشاور کا سانحہ دہشت گردوں کی مزاحمت کا تقاضا کر رہا ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف پشاور پہنچ گئے،

  • کراچی میں نئے کرونا ویرئینٹ بی ایف سیون کی تشخیص

    کراچی میں نئے کرونا ویرئینٹ بی ایف سیون کی تشخیص

    کراچی میں نئے کرونا ویرئینٹ بی ایف سیون کی تشخیص

    کراچی میں کرونا کےنئے ویرئینٹ کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔ بی ایف7ویرینٹ نےچین میں بڑےپیمانےپرلوگوں کومتاثرکیا ہے۔ دم توڑتا کرونا ایک بار پھرسراٹھانے لگا، کراچی مین کرونا کے نئےورینٹ بی ایف 7 کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی کراچی میں موجودگی کی تصدیق جینوم سیکوئینسنگ کےبعد تصدیق ہوئی۔ پاکستان میں اس ویریئنٹ کا یہ پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی قومی ادارہ صحت نے فلحال کوئی تصدیق یا تردید اس بارے میں نہیں کی ہے.

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے اعلامیہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا اب بھی بین الاقوامی سطح پر باعث تشویش پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ہے جو ڈبلیو ایچ او کا سب سے زیادہ الرٹ لیول ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے یہ اعلان دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہفتہ واراموات میں حالیہ اضافے کےبعد کیا گیا ۔

    کووڈ۔ 19 پر اپنے سہ ماہی اجلاس کے بعد ڈبلیو ایچ او کی بین الاقوامی صحت کے ضوابط (2005) کی ہنگامی کمیٹی نےاعلان کیا جس کی منظوری ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈھانوم گبریسس نے دی ہے۔ کمیٹی نے بیان میں کہا کہ کورونا وائرس ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو صحت کے نظام کو کافی نقصان پہنچاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن سے عالمی سطح پر بیماری اور اموات کے اثرات کو محدود کیا جا سکتا ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ وائرس مستقبل قریب میں انسانوں اور جانوروں میں مستقل طور پر قائم پیتھوجن رہے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    کمیٹی نے ممالک سے صحت عامہ کےطویل مدتی اقدامات کا مطالبہ کیا جس میں بیماری اور اموات پرکووڈ۔ 19کے اثرات کو کم کرنے پرتوجہ دی جائے۔دریں اثناکمیٹی نے ممالک کو سفارش کی کہ کورونا ویکسی نیشن کے 100فیصد اہداف حاصل کرنے چاہیئں ،ڈبلیو ایچ اوکو کورونا وائرس کی وبا کی نگرانی کے ڈیٹا کی رپورٹنگ کو بہتر بنانا چاہیے اور طبی انسدادی اقدامات جیسے ویکسین ، تشخیص اور علاج کی طویل مدتی دستیابی کو یقینی بنانا چاہیے۔

  • ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ ہوئے،قومی ادارہ صحت
    قومی ادارہ صحت(این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کورونا وائرس سے متاثرہ 10مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔ این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4ہزار462کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے17ٹیسٹ مثبت آئے اور اس دوران کورونا ٹیسٹ کی مثبت شرح 0.38 فیصد رہی۔ اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 10مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ملک بھر کے مختلف شہروں میں24گھنٹوں کے دوران کیے گئے۔

    جبکہ ٹیسٹوں میں اسلام آباد میں483ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے کوئی بھی ٹیسٹ مثبت نہیں آیا اور شرح 0.00فیصد ، پشاور میں226ٹیسٹوں میں سےایک ٹیسٹ مثبت اور شرح 0.44فیصد جبکہ لاہور میں531ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 2ٹیسٹ مثبت آئے اور وہاں پر شرح 0.38فیصد رہی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ومی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 4 ہزار 462 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ این آئی ایچ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 462 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 17 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

  • کورونا پابندیوں کے خاتمہ: چین کے اسپتالوں میں مریضوں کا رش لگ گیا

    کورونا پابندیوں کے خاتمہ: چین کے اسپتالوں میں مریضوں کا رش لگ گیا

    کورونا پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے چین کے اسپتالوں میں مریضوں کا رش لگ گیا ہے اور ایک ہفتے میں 13 ہزار سے زائد اموات سامنے آئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: خبر ایجنسی کے مطابق چین میں 13 سے 19 جنوری کے دوران کورونا سے تقریباً 13 ہزار نئی اموات ریکارڈ ہوئیں، ان اموات میں گھر پر ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔

    خبر ایجنسی کے مطابق کورونا پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے چین کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کا رش لگ گیا ہے جس کیلئے ماہرین پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ چین میں کورونا وائرس کی لہرعروج پر ہے۔

    خبر ایجنسی کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ چین میں 8 سے 12 جنوری کے دوران اسپتالوں میں تقریبا 60 ہزار اموات کا انکشاف کیا گیا تھا طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین میں نئے قمری سال کی چھٹیاں شروع ہونے پر کورونا وائرس مزید پھیلنے کا امکان ہے۔

    قبل ازیں جمعرات کو صحت کے حکام نے کہا تھا کہ چین کے ہسپتالوں میں کووِڈ کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے جن کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت نے پھر کورونا خطرےکی گھنٹی بجا دی

    چین کے سرکاری کوویڈ کے اعداد و شمار پر بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جب سے اس نے پچھلے مہینے اچانک اینٹی وائرس کنٹرول کو ختم کردیا جس نے چین کے 1.4 بلین لوگوں کو تین سالوں سے اس بیماری سے بچایا تھا۔

    چین نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ 8 دسمبر سے 12 جنوری کے درمیان ہسپتالوں میں کوویڈ کے ساتھ تقریباً 60,000 افراد کی موت ہوئی ہےجو پچھلے انکشافات سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے۔

    تاہم، اس تعداد میں ان لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جن کی اموات گھروں میں ہوئی، اور چین میں کچھ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ موت کے سرٹیفکیٹ پر کوویڈ ڈالنے کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔

    برطانیہ میں قائم ہیلتھ ڈیٹا فرم ایئرفینٹی کی تازہ ترین پیشین گوئیوں کے مطابق، نئے قمری سال کی تعطیلات کے مصروف موسم کے دوران سفر میں تیزی آنے کے ساتھ، اس بیماری سے ہر روز 36,000 افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ دیگر ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال اس بیماری سے 10 لاکھ سے زیادہ لوگ مر جائیں گے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 33 نئے کیس رپورٹ. قومی ادارہ صحت

  • محکمہ صحت پنجاب کی جین سیکونسنگ میں سب ویرینٹ ایکس بی بی کا انکشاف

    محکمہ صحت پنجاب کی جین سیکونسنگ میں سب ویرینٹ ایکس بی بی کا انکشاف

    محکمہ صحت پنجاب کی جین سیکونسنگ میں سب ویرینٹ ایکس بی بی کا انکشاف ہوا ہے.

    پنجاب میں کرونا وائرس کے سب ویرنٹ ایکُس بی بی ( XBB ) اومی کرون ( Omicron ) کا نیا کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق کرونا کے نئے ویرنٹ کا انکشاف محکمے کی جین سیکونسنگ کے نتیجے میں ہوا۔ موصول اطلاعات کے مطابق صوبے میں کرونا وائرس کے 30 مثبت کیسز پر تحقیق کی گئی، جس کے بعد 5 مثبت کیسز ایکس بی بی اومی کرون ویرینٹ کے نکلے ہیں۔

    محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مثبت 3 ایکس بی بی اومی کرون ویرینٹ کا تعلق لاہور سے ہے۔ متاثرہ افراد کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ ایکس بی بی اومی کرون ویرنٹ والے افراد کی سفری ہسٹری معلوم کررہے ہیں۔ ایکس بی بی ویرنٹ کا پھیلاؤ تیز ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق سنگاپور اور امریکا سمیت 80 ممالک میں ایکس بی بی اومی کرون رپورٹ ہورہا ہے۔ اب تک پاکستان میں ایکس بی بی اومی کرون کے 24 کیسز سامنے آچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
    اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
    فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
    اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب

    یاد رہے کہ اس سے قبل قومی ادارہ برائے صحت ’این آئی ایچ ‘ کے ترجمان نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ایکس بی بی کی پاکستان میں موجودگی کی خبر درست نہیں ہے۔ ترجمان این آئی ایچ کے مطابق کچھ علاقوں میں رپورٹ ہونے والا ایکس بی بی ویرینٹ پرانا ہےاور یہ اومی کرون ہے۔ قومی ادارۂ برائے صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رپورٹ ہونے سے اب تک اومی کرون ویرینٹ کے 29 کیسز سامنے آئے ہیں۔