Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    تل ابیب: اسرائیل نے اومی کرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر امریکہ اور کینیڈا کو ریڈ لسٹ میں شامل کرلیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سرائیل نے امریکا اور کینیڈا میں کورونا کی نئی شکل اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کو سفری سے لحاظ ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کر لیا ہے۔

    اسرائیل کی سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل ممالک میں جانے کے لیے اسرائیلی شہریوں کو خصوصی اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا ہے اسی طرح ان ممالک سے ملک میں داخل ہونے والوں کو بھی کڑی نگرانی سے گزرنا ہوتا ہے۔

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    اسرائیلی صدر نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور کینیڈا پر پابندیوں کا اطلاق منگل سے ہوگا دریں اثنا اسرائیل میں اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بوسٹر ڈوز لگائے جارہے ہیں۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں پہلی بار سامنے آنے والے کورونا کی نئی شکل اومی کرون ویرینٹ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ نئی شکل ڈیلٹا سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

    نیدر لینڈ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک

    خیال رہے کہ جنوبی افریقا سے سامنے آنے والا کورونا کا انتہائی خطرناک ویرینٹ ’اومی کرون‘ امریکا، برطانیہ، بھارت اور جاپان سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بھی سامنے آ چکا ہے جنوبی افریقا اور اس کے آس پاس موجود ممالک پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ وائرس ان کے ملک میں نہ پہنچ جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے عالمی سطح پر اومی کرون ویرینٹ کےممکنہ مزید پھیلاؤ کا امکان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کےسبب مستقبل میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتاہے جس کےسنگین نتائج ہوسکتےہیں۔

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    برطانیہ میں اومی کرون کے کیسز میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دنیا کے کئی ممالک میں وائرس کی اس نئی قسم نے خوف پیدا کر دیا ہے. بھارت کے طبی ماہرین بھی پریشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برطانیہ جیسی ہو گی تو بھارت کے حالات بہت ہی خراب ہوں گے، طبی ماہرین نے مودی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ اومی کرون سے نمٹنے کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے،بھارت میں اومی کرون کے اب تک 151 کیسز سامنے آ چکے ہیں-

  • اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

    اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

    کراچی : اومبرطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی
    برطانیہ میں عالمی وبا کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کے بڑھتے کیسز کے سبب برطانیہ سے آنے والے مسافروں کی سخت چیکنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کی جانب سے برطانیہ سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئےتمام مسافروں کا ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    این سی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق برطانیہ سے بالواسطہ فضائی مسافروں کا بھی ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ ہوگا، بورڈنگ سے 48 گھنٹے قبل مسافروں کی ویکسینیشن اور منفی پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ بھی لازمی ہو گی۔این سی اوسی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سو فیصد ریپڈاینٹی جن ٹیسٹ کے لیے برطانیہ کی براہ راست پروازیں ایڈجسٹ کرے۔دوسری جانب سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ ایک پرواز کے بعد دوسری پرواز میں اتنا وقت رکھا جائے گا کہ پہلے سے آنے والی پرواز کے تمام مسافروں کے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ مکمل ہوجائیں۔سی اے اے حکام کے مطابق اقدامات برطانیہ میں کوروناوائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے کیسز کے باعث کیے جا رہے ہیں۔

  • اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اومیکرون کا خدشہ برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کی سختی سے چیکنگ کی ہدایت کی گئی ہے سی اے اے کو برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں سے متعلق نئی ہدایات موصول ہو گئی ہیں برطانیہ سے پاکستان آنے والے مسافروں کے ایئرپورٹس پر ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، برطانیہ سے پاکستان آنے مسافروں کو پرواز سے 48 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ لازمی ہوگا ،سول ایوی ایشن حکام کے مطابق اقدامات برطانیہ میں کورونا کے اومیکرون ویرینٹ کے کیسز کے باعث کیے جارہے ہیں،

    قبل ازیں کرونا سے بچاؤ کے لئے این سی او سی کا اجلاس ہوا ،اجلاس میں ویکسین حکمت عملی اور بیماریوں کے پہلو وں پر تبادل خیال کیا گیا،این سی او سی نے ویکسی نیشن لازمی کرانے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا،اجلاس میں ویکسی نیشن کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا، این سی او سی نے کہا کہ یکم جنوری سے 30سال سے زائد عمر کے افراد بوسٹر ڈوزکے اہل ہیں کورونا کی نئی قسم سے بچنے کے لیے مکمل طور پر ویکسین لگوائیں ،اومیکرون وائرس 95 ممالک میں رپورٹ کیا گیا ،اومیکرون کے 58 ہزار تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،اومیکرون کا مرکز برطانیہ اور ڈنمارک ہیں ، بھارت میں 149 تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں ملک کی 58 فیصد آبادی کو ویکسی نیشن دی گئی

    خیال رہے کہ جنوبی افریقا سے سامنے آنے والا کورونا کا انتہائی خطرناک ویرینٹ ’اومی کرون‘ امریکا، برطانیہ، بھارت اور جاپان سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بھی سامنے آ چکا ہے جنوبی افریقا اور اس کے آس پاس موجود ممالک پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ وائرس ان کے ملک میں نہ پہنچ جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے عالمی سطح پر اومی کرون ویرینٹ کےممکنہ مزید پھیلاؤ کا امکان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کےسبب مستقبل میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتاہے جس کےسنگین نتائج ہوسکتےہیں۔

    برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دنیا کے کئی ممالک میں وائرس کی اس نئی قسم نے خوف پیدا کر دیا ہے. بھارت کے طبی ماہرین بھی پریشان ہیں، انکا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برطانیہ جیسی ہو گی تو بھارت کے حالات بہت ہی خراب ہوں گے، طبی ماہرین نے مودی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ اومیکرون سے نمٹنے کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے،بھارت میں اومیکرون کے اب تک 151 کیسز سامنے آ چکے ہیں

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 9 اموات

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

  • نیدر لینڈ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک

    نیدر لینڈ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک

    ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈ نے کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن نافذ‌کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیدرلینڈ حکومت نے دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے اومی کرون کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگا دیا جو 19 دسمبر سے 14 جنوری تک نافذ رہے گا جس کے بعد نیدر لینڈ اومی کرون میں لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک بن گیا۔

    نیدرلینڈ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران غیر ضروری کاروبار، ہوٹلز، بارز اور عوامی مقامات کو بند رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق کسی بھی گھر میں ایک وقت میں صرف 2 مہمانوں کو داخلے کی اجازت ہو گی جبکہ کرسمس کے موقع پر 24 سے 26 دسمبر کے درمیان ایک وقت میں 4 مہمان گھر بلانے کی اجازت ہو گی اسکول کم سے کم 9 جنوری تک بند رہیں گے –

    نیدرلینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا یہ فیصلہ یورپ میں اومی کرون کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد کیا گیا۔

    نیدرلینڈ میں 85 فیصد افراد کو کورونا ویکسین لگ چکی ہے جبکہ 9 فیصد بوسٹر کی ویکسین بھی لگوا چکے ہیں۔

    برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اومی کرون ویریئنٹ 89 ممالک کو متاثر کرچکا ہے جبکہ امی کرون کے کیسز ہر ڈیڑھ سے تین دن میں دوگنا ہورہے ہیں‌عالمی ادارہ صحت نے آج ہفتے کے دن بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے نئے تبدیل شدہ ویرینغ اومی کرون کی 89 ممالک ميں تصدیق ہو چکی ہے اومی کرون کےکیسزان ممالک ميں بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں‌ جن ميں عوام کی بڑی اکثریت ویکسین لگوا چکی ہے۔

    فی الحال یہ واضح نہيں کہ آیا یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ویرینٹ ویکسینیشن کے باوجود لاحق ہو سکتا ہےیا محض اس ليے کہ یہ زیادہ مہلک ہے یا پھر اِن دونوں وجوہات کی وجہ سے پھیل رہا ہے طبی ماہرین نے اومی کرون وائرس کی ايک نئے ویریئنٹ کے طور پر باقاعدہ تصدیق چھبیس نومبر کو کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ فی الحال اس نئی تبديل شدہ قسم کے بارے ميں زيادہ معلومات دستیاب نہیں عالمی ادارہ صحت کے بیان کے مطابق جس تیزی سے اومیکرون کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اُس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ دنوں میں برطانیہ اور جنوبی افریقا میں اسپتالوں پر بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔

    انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

  • کورونا وبا: مزید 2 افراد جاں بحق،260 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا وبا: مزید 2 افراد جاں بحق،260 نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی :نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری تازہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 42 ہزار640 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 260 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 91 ہزار108 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 872ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.60 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 79 ہزار 90، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار 976، پنجاب میں 4 لاکھ 44 ہزار 164،اسلام آباد میں ایک لاکھ 8 ہزار259، بلوچستان میں 33 ہزار 551، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 640 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 428 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 58 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 649، خیبرپختونخوا 5 ہزار 907، اسلام آباد 964، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 363 اور آزاد کشمیر میں 745 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک :بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثر کرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ 89 ممالک کو متاثر کرچکا ہے جبکہ امی کرون کے کیسز ہر ڈیڑھ سے تین دن میں دوگنا ہورہے ہیں‌

    عالمی ادارہ صحت نے آج ہفتے کے دن بتایا کہ کورونا وائرس کے نئے تبدیل شدہ ویرینغ اومی کرون کی 89 ممالک ميں تصدیق ہو چکی ہے۔

    ادارے کے مطابق اومی کرون کےکیسزان ممالک ميں بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں‌ جن ميں عوام کی بڑی اکثریت ویکسین لگوا چکی ہے۔

    فی الحال یہ واضح نہيں کہ آیا یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ویرینٹ ویکسینیشن کے باوجود لاحق ہو سکتا ہےیا محض اس ليے کہ یہ زیادہ مہلک ہے یا پھر اِن دونوں وجوہات کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔

    طبی ماہرین نے اومی کرون وائرس کی ايک نئے ویریئنٹ کے طور پر باقاعدہ تصدیق چھبیس نومبر کو کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ فی الحال اس نئی تبديل شدہ قسم کے بارے ميں زيادہ معلومات دستیاب نہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے بیان کے مطابق جس تیزی سے اومیکرون کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اُس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ دنوں میں برطانیہ اور جنوبی افریقا میں اسپتالوں پر بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔ی

    ادھرغیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک دن پہلے انگلینڈ میں 93ہزار کیسز سامنے آئے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں اب تک کورونا سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،عالمی موذی مرض سے برطانیہ میں ایک لاکھ 47ہزار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔

    سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا اسٹور جیون نے کہا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ اب ملک میں موثر ویریئنٹ بن چکا ہے۔ ایک ہفتے پہلے جس سونامی کو لے کر میں نے وارننگ دی تھی، وہ اب آچکا ہے۔ دوسری طرف اومیکرون کی حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ بھر میں 26 دسمبر کے بعد نائٹ کلبوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

    ادھر دوسری طرف ان خطرات کے پیش نظر جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے برطانیہ میں حکومتی اقدامات کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا، بل کے مطابق نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ماسک، سیلف آئسولیشن کی جگہ روزانہ لٹرل فلو ٹسٹ اور کوویڈ پاسپورٹ پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں نائٹ کلب، سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 97 ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود حکومت نے تمام بل منظور کرالئیے، 97 ارکان نے کووڈ پاسپورٹ کے معاملے پر مخالفت کی۔ 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ اومی کرون سے ایک ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اومیکرون ویرینٹ کے پھیلاؤ کی شرح تو غیرمعمولی ہے، لیکن ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  • برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    لندن: برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ڈیلٹا سے 70 گنا زیادہ خطرناک کورونا کے اومیکران ویریئنٹ نے تباہی پھیلا دی ،ایک ہی دن میں 93ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آگئے ،

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک دن پہلے انگلینڈ میں 88ہزار کیسز سامنے آئے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں اب تک کورونا سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،عالمی موذی مرض سے برطانیہ میں ایک لاکھ 47ہزار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔

    سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا اسٹور جیون نے کہا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ اب ملک میں موثر ویریئنٹ بن چکا ہے۔ ایک ہفتے پہلے جس سونامی کو لے کر میں نے وارننگ دی تھی، وہ اب آچکا ہے۔ دوسری طرف اومیکرون کی حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ بھر میں 26 دسمبر کے بعد نائٹ کلبوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

    ادھر دوسری طرف ان خطرات کے پیش نظر جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے برطانیہ میں حکومتی اقدامات کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا، بل کے مطابق نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ماسک، سیلف آئسولیشن کی جگہ روزانہ لٹرل فلو ٹسٹ اور کوویڈ پاسپورٹ پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں نائٹ کلب، سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 97 ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود حکومت نے تمام بل منظور کرالئیے، 97 ارکان نے کووڈ پاسپورٹ کے معاملے پر مخالفت کی۔ 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ اومی کرون سے ایک ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اومیکرون ویرینٹ کے پھیلاؤ کی شرح تو غیرمعمولی ہے، لیکن ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  • خبردار،ہوشیار:کراچی میں اومی کرون کا دوسرا کیس:مریض قرنطینہ سینٹرسے فرار

    خبردار،ہوشیار:کراچی میں اومی کرون کا دوسرا کیس:مریض قرنطینہ سینٹرسے فرار

    کراچی :خبردار،ہوشیار:کراچی میں اومی کرون کا دوسرا کیس:مریض قرنطینہ سینٹرسے فرار ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس کے جنوبی افریقی ویرینٹ اومی کرون کا دوسرا کیس سامنے آگیا ہے۔مگرپریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ مریض فرار ہوگیا ہے اوراس کی فراری کی خبرسُن کرہرکوئی خبردار ہوگیا ہے

    ذرائع محکمہ صحت کے مطابق اومی کرون وائرس میں مبتلا 35 سالہ شخص برطانیہ سے کراچی پہنچا تھا، رینڈم چیکنگ میں متعلقہ شخص میں پہلے کورونا اور بعد میں اومی کرون کی تصدیق ہوئی، متاثرہ شخص کو محکمہ صحت نے ائیرپورٹ سے شارع فیصل پر واقع نجی ہوٹل منتقل کیا۔

    کراچی سے محکمہ صحت کے ذرائع کا بتانا ہے کہ متاثرہ شخص میں جینوم سیکوئنسنگ کے بعد اومی کرون کی تصدیق ہوئی۔حکومت نے کیٹیگری سی اور اومی کرون والے ممالک پر سفری پابندی لگا رکھی ہے لیکن برطانیہ کیٹیگری سی میں نہیں آتا۔

    ذرائع محکمہ صحت کا یہ بھی بتانا ہے کہ اومی کرون سے متاثرہ شخص ہوٹل کے قرنطینہ سے فرار ہو گیا، قرنطینہ پر سکیورٹی فراہم کرنا محکمہ داخلہ، پولیس اور متعلقہ ڈی سی کی ذمہ داری ہے۔

    ذرائع کے مطابق نجی ہوٹل میں اب بھی کورونا سے متاثرہ 19 افراد قرنطینہ میں موجود ہیں، نجی ہوٹل میں متاثرہ لوگ قرنطینہ میں ہیں لیکن انہیں سکورٹی اب بھی فراہم نہیں کی گئی۔

    ذرائع محکمہ صحت کا یہ بھی بتانا ہے کہ کورونا سے متاثرہ 19 میں سے 5 افراد کی جینوم سیکوئنسنگ ابھی ہونی ہے، سکیورٹی کی عدم فراہمی کے باعث اب تک 38 افراد قرنطینہ سے فرار ہوچکے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بیرون ملک سے آنے والی خاتون کورونا میں مبتلا تھیں جن کے اومی کرون میں مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ متاثرہ خاتون کی اب جینوم سیکوئنسنگ کی گئی ہے جس کے نتائج میں اومی کرون کی تصدیق ہوگئی تھی ۔ذرائع کا کہنا تھا کہ خاتون کے رابطے میں آنے والے 51 افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ دنیا کے 63 ممالک میں پھیل چکا ہے ۔ یہ ڈیلٹا سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلتا اور ویکسین کے خلاف زیادہ مدافعت رکھتا ہے۔

  • این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

    این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

    این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بھی شرکت کی، اجلاس میں چھٹیوں کے حوالہ سے بات چیت کی گئی،اجلاس میں . یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے موسم سرما کی تعطیلات 3 جنوری 2022 سے شروع ہوں گی (ماسوائے انتہائی موسمی حالات یا دھند سے متاثرہ علاقوں کے)۔اس ضمن میں صوبائی ادارے بھی مطلع کریں گے۔

    یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں طالب علموں میں زیادہ سے زیادہ ویکسین لینے کے لیے لیا گیا ہے، تا کہ تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ بچوں کی ویکسین لگائی جا سکے، ابھی تک لاکھوں طالب علموں کو ویکسین نہیں دی گئی، اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بچے انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    این سی او سی اجلاس میں والدین سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو جلد از جلد ویکسین لگوائیں تاکہ ان کی اور ان کے آس پاس کے لوگوں کی حفاظت کی جا سکے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان میں جنوری میں موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول کرنا سمجھداری کی بات ہو گی تاکہ اومیکرون کیسز کا بھی پتہ چل سکے

    قبل ازیں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے سربراہ این سی او سی اسد عمر سے ملاقات کی، وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ سردی زیادہ ہو رہی ہے، لوگوں نے چھٹیوں کے حوالے سے پلان کیے ہوتے ہیں، چھٹیاں 20 دسمبر سے کرنی چاہئیں، ہماری سفارش ہے کہ 20 دسمبر سے موسم سرما تعطیلات کریں سربراہ این سی او سی کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین کا عمل جاری یے، اومی کرون کے کیسز پاکستان میں تصدیق ہونا شروع ہو چکے ہیں، این سی او سی نے اومی کرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں ویکسین جاری رکھنے کی ہدایت دی، تین ہفتوں میں کورونا پھیلنے کا خدشہ ہوتا، جب سکول کھلیں گے تو اومی کرون پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہو گا،ا ومی کرون خطرناک نہیں البتہ پھیلاؤ کے پیش نظر احتیاط بہت ضروری ہیں ,سربراہ این سی او سی نے کہا کہ 20 دسمبر سے چھٹیاں ہوں تو دوبارہ ادارے کھلنے پر اگر کورونا پھیلے گا تو دوبارہ ادارے بند کرنا پڑ سکتے ہیں، این سی او سی حکام سے معاملہ پر بات کروں گا

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    سموگ کے تدارک کے لئے لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے کیا پوچھ لیا؟

    مغل پورہ کی طرف جائیں آسمان کا رنگ ہی بدل جاتا ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سموگ کے تدارک کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے سکول بند کرنے کی عدالت کو کروائی یقین دہانی

  • برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:بازار،گلیاں پبلک مقامات پرسناٹا چھاگیا:لاک ڈاون کی تیاریاں

    برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:بازار،گلیاں پبلک مقامات پرسناٹا چھاگیا:لاک ڈاون کی تیاریاں

    لندن :برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:بازار،گلیاں پبلک مقامات پرسناٹا چھاگیا:لاک ڈاون کی تیاریاں ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے لاک ڈاون لگانے کا اشارہ دے دیا ہے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ہرآنے والا لمحہ بڑا خطرناک ثابت ہورہا ہے اورلندن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ برطانیہ میں نئے خطرناک ویئرنٹ جسے اومی کرون کا نام دیا گیا ہے کے سبب مریضوں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ،

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکومت نے لاک ڈاون لگانے کے حوالے سے مشاورت کوحتمی شکل دے دی ہے ، ادھراطلاعات ہیں‌کہ لندن اوردیگرعلاقوں میں ہو کا عالم ہے اورہرطرف سناٹا چھاگیا ہے،

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پبلک مقامات ، ریل گاڑیاں اوردیگرٹرانسپورٹ سروس بھی اس نئے ویرینٹ کا شکارہوگئی ہے اورلوگوں نے سفرکرنا بھی چھوڑ دیا ہے ، کیفے اورریسٹورینٹس پرلوگ جانے سے ڈرتے ہیں ادھرویکسینیشن کا عمل تیز کردیا گیا ہے اورلوگ لائنوں میں لگ کرویکسین لگوا رہے ہیں‌

    ادھر چند روز قبل اومی کرون کیے حملوں سے بچنے کےلیے برطانوی وزیرصحت نے حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ پابندیاں نافذ کرنے کا عندیہ دیا تھا ، جبکہ دوسری طرف برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نے کہا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا

    برطانیہ کے وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ اب انگلینڈ کے تمام خطوں میں کورونا وائرس کے اومی کرون (Omicron) ویرینٹ کی کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوچکی ہے۔ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا اس سے متاثر ہونے والے جلد صحت یاب ہوجائیں گے یا انھیں شدید خطرہ لاحق ہوگا۔

    وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروانے کا دفاع کرتے ہوئے ساجد جاوید نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت ہمیشہ مستعد ہے۔ ہمارے سائنسدانوں نے اس قسم کا اندازہ لگایا، جس کی رپورٹ گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ میں پہلی بار سامنے آئی تھی۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نےپچھلے ہفتے کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔لیکن اب یہ اطلاعات ہیں کہ بورس جانسن نے لاک ڈاون کی حکمت عملی کا اپنانے کا فیصلہ کیا ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ چند دن پہلے بورس جانسن سخت پابندیوں کو نافذ کرنے سے ہچکچا رہے تھےلیکن اس عزم کے تھوڑی دیربعد ہی اپنے فیصلے پر قائم نہ رہے اور نئی پابندیاں‌عائد کردیں جنہں پلان بی کا نام دیا گیا اور اب یہ خطرہ محسوس کیا ہے کہ اگرلاک ڈاون نہ لگایا گیا تو برطانیہ میں صورت حال بے قابو ہوجائے گی