Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کرونا وائرس پھیلاؤ کے پیش نظر سی اے اے کی جانب سے نئے احکامات جاری

    کرونا وائرس پھیلاؤ کے پیش نظر سی اے اے کی جانب سے نئے احکامات جاری

    اسلام آباد:دنیا بھر میں کرونا سے متاثرین کی تعداد 666,903,120ہو چکی ہے،ان میں سے6,704,727 متاثرین وفات پاچکےہیں،جبکہ 638,608,652 صحت یاب ہوچکے ہیں ، امریکہ میں کورونا متاثرین کی تعداد اس وقت 102,686,752 ہے جبکہ چین میں 444,828,سے کورونا متاثرین کی تعداد پہنچ چکی ہے

    متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

    دنیا کی طرح پاکستان میں بھی پھر سے کورونا نے سراٹھانا شروع کردیا ہے ،ان حالات کے تناظر میں سول ایوی ایشن اتھارٹی ( سی اے اے) نے کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاو کے پیش نظر ملک بھر کے ایئرپورٹس کےلیے نئے احکامات جاری کردیں۔

    قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی

    حکام کی جانب چین جانے والے مسافروں کے لیے منفی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کرنا لازم قرار دی گئی ہے جبکہ انٹرنیشنل آرائیول لاؤنج میں تعینات تمام متعلقہ عملے کو فیس ماسک لازمی پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط…

    سی اے اے کی جانب سے پاکستان سے چین جانے والے ایئرلائنز کمپنیوں کو مراسلہ بھیج دیا گیا۔ چین جانے والوں کے لئے پرواز سے 48 گھںٹے قبل کی کورونا منفی رپورٹ لازمی ہو گی۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 8 جنوری سے کرونا منفی رپورٹ پرہی مسافر کو بورڈنگ کارڈ جاری کیے جائیں گے جبکہ بین بین الاقوامی مسافروں کے لیے ہیلتھ ڈیکلئیریشن کوڈ، گرین کوڈ منسوخ کر دیا گیا۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

    متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ایئرپورٹس انٹری پوائنٹس پرڈس انفیکشن اور فیومیگیشن کے اقدامات اور بیرون ملک سے آنے والی پروازوں کے2 فیصد مسافروں کی کرونا اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے۔

  • عالمی ادارۂ صحت نے پھر کورونا خطرےکی گھنٹی بجا دی

    عالمی ادارۂ صحت نے پھر کورونا خطرےکی گھنٹی بجا دی

    نیویارک:عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے پوری دنیا میں ایک بار پھر کورونا وائرس کے انفیکشن کی نئی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے اس بار کووڈ-19 کی نئی لہر میں مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہو سکتی ہے۔

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    ڈبلیو ایچ او نے Omicron کے نئے ذیلی قسم XBB.1.5 کو اب تک کی سب سے زیادہ متعدی شکل کے طور پر سمجھا ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ ہر دوسرے ہفتے اس سے متاثرہ افراد کی تعداد دوگنی ہو رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے شمال مشرقی امریکہ کو XBB.1.5 ذیلی قسم سے سب سے زیادہ متاثر قرار اس کے تیزی سے پھیلنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط…

    کورونا انفیکشن کے معاملے میں چین کو بھی پوری دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی اہلکار ماریا وان کرخوف نے کہا کہ اومیکرون کا نیا ذیلی قسم XBB.1.5 اب تک کورونا کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی شکل ہے اور ادارے کے پاس فی الحال اس ذیلی شکل کی شدت سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔

    کورونا کا خدشہ؛ اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ شروع کردی گئی

    بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت امریکہ میں XBB.1.5 کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے جس نے صحت کی تنظیم کو پریشان کر دیا ہے۔ ماریہ نے بتایا کہ یہ وائرس خلیات سے غیر معمولی طور پر چپک جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے آسانی سے تبدیل ہونے میں مدد ملتی ہے۔

  • گزشتہ 24  گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 33 نئے کیس رپورٹ. قومی ادارہ صحت

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 33 نئے کیس رپورٹ. قومی ادارہ صحت

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 33 نئے کیس رپورٹ. قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت ( این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 33کیس رپورٹ ہوئے ۔ جمعرات کو این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 3ہزار942 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے33 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے، اس طرح اس مدت میں کورونا ٹیسٹوں کی مثبت شرح 0.84 فیصد رہی ہے۔ مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 19 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔


    ملک بھر کے مختلف شہروں میں24گھنٹوں کے دوران کیے گئے، ٹیسٹوں میں سے کراچی میں 225 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے6افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے اور یہاں مثبت کیسز کی شرح 2.67 فیصد رہی،لاہور میں811 ٹیسٹوں میں سے6افراد کے ٹیسٹ مثبت اورشرح 0.74 فیصد،پشاور میں433 میں سے 7 مثبت اور شرح 1.62فیصد رہی، کوئٹہ میں 81 میں سے 2 مثبت اورشرح 2.47 فیصد جبکہ ملتان میں کئے گئے 84ٹیسٹوں میں سے 2 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے اور وہاں پر مثبت کیسوں کی شرح 2.38فیصد رہی۔

    دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ چین میں سرکاری اعداد و شمار کورونا کے اصل اثرات نہیں بتا رہے۔ عالمی ادارہ صحت نے چین کی جانب سے جاری کیے جانے والے کورونا سے متعلق اعدادو شمار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے اعدادوشمار کورونا کی حقیقی صورتحال پیش نہیں کر رہے۔

    جینیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسیز کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کورونا وائرس سے متعلق صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے پاس اب بھی مکمل اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے خیال میں انتہائی نگہداشت میں داخل مریضوں اور ہلاکتوں سے متعلق چین کے اعداد و شمار بیماری کے حقیقی اثرات کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کر رہے. مائیکل ریان نے اس بات پر زور دیا کہ وائرس کے حقیقی اثرات سے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کیسے پھیل رہا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
    اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
    فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے

    اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
    بیجنگ میں کورونا کا اومی کرون ویریئنٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چینی اعدادوشمار کے مطابق دسمبر سے اب تک چین میں کورونا وائرس سے 22 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ جبکہ چین کے سرکاری میڈیا نے ایک سینیئر ڈاکٹر کے حوالے سے کہا کہ مرکزی شہر شنگھائی کی 70 فیصد آبادی ممکنہ طور پر کورونا سے متاثر ہے۔

  • امریکہ کورونا پابندیوں کو چین کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال نہ کرے: چین

    امریکہ کورونا پابندیوں کو چین کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال نہ کرے: چین

    بیجنگ: چین کی جانب سے متعدد ممالک میں چین سے آنے والے مسافروں کے منفی کورونا ٹیسٹ لازمی کرنے کے اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے ۔ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤ ننگ نے مختلف ممالک کےاس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط سائنسی طور پر بے بنیاد اور غیرمعقول ہے۔

    کورونا کے مزید 21 کیسز رپورٹ، 19 مریضوں کی حالت نازک

     

    ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین سےآنےوالےمسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کےاقدام کی سخت مخالفت کرتے ہیں ، چین سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ لازمی کرنے پر جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔

    چین میں رواں ماہ کورونا پابندیاں نرم کرنے کے بعد کورونا کیسز میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ ملک پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے وائرس کے تیز پھیلاؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چین کی حکومت نے منگل کے روز ان ممالک کو منہ توڑ جواب دیا ہے، جو چین کے عوام یا چین سے ہوتے ہوئے گزرنے والے فضائی مسافروں پر پابندیاں لگارہی ہیں۔ چینی سرزمین سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں پر ایک درجن کے قریب ممالک کی طرف سے کووڈ۔19 ٹیسٹ کو لازمی کردیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ وہ جواب میں ان ممالک کے خلاف اقدامات کرسکتی ہے۔

    کورونا کا خدشہ؛ اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ شروع کردی گئی

    امریکہ، کینیڈا، فرانس اور جاپان ان متعدد ممالک میں شامل ہیں جو اب چین سے آنے والے مسافروں کو آنے سے پہلے منفی کوویڈ ٹیسٹ دکھانے کو لازمی کردیا ہے، کیونکہ اب ان ممالک میں بھی کورونا کے کیسوں میں اضافے کا سامنا ہے۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

    وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک باقاعدہ بریفنگ میں بتایا کہ کچھ ممالک نے صرف چینی مسافروں کو نشانہ بناتے ہوئے داخلے پر پابندیاں لگائی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں سائنسی بنیادوں کا فقدان ہے اور کچھ طرز عمل ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین باہمی اصول کی بنیاد پر جوابی اقدامات کر سکتا ہے۔ پچھلے مہینے بہت کم انتباہ یا تیاری کے ساتھ اچانک صفر کووڈ۔19 کی سخت پابندیوں کو کم کرنے کے بعد چین میں کورونا انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

    حکومت کا بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کی ہدایت

    یاد رہے کہ چین نے تین سال بعد 8 جنوری سے کورونا پابندیاں نرم کرکے تمام بارڈر کھولنے کا اعلان کر رکھا ہے، زیرو کووڈ پالیسی میں نرمی کے معاملے پر مختلف ممالک کی جانب سے سفری پابندیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔

  • پاکستان میں نئے ویرینٹ کی موجودگی؛ ایئرپورٹس پر جراثیم کش اسپرے

    پاکستان میں نئے ویرینٹ کی موجودگی؛ ایئرپورٹس پر جراثیم کش اسپرے

    پاکستان میں نئے ویرینٹ کی موجودگی،ایئرپورٹس پر جراثیم کش اسپرے

    ملک میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کرونا سے دو اموات رپورٹ کی گئی ہیں، جب کہ پاکستان میں نئے ویرینٹ ایکس بی بی کی تصدیق کے بعد ملک بھر کے ایئرپورٹس میں کرونا سے بچاؤ اور جراثیم کش اسپرے پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق بدھ 4 جنوری کو پاکستان بھر سے کرونا وائرس سے متاثرہ مزید 22 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ قومی ادارہ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کرونا کیسز کی موجودہ شرح صفر اعشاریہ 43 فیصد ہے، جب کہ زیرِعلاج مریضوں میں سے 14 کی حالت تشویش ناک ہے۔


    کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے اسلام آباد ائرپورٹس پرجراثیم کش اسپرے کئے جا رہے ہیں، جب کہ تمام لاؤنچز میں ڈس انفیکشن کا عمل بھی جاری ہے۔ این سی او سی کی جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں بین الاقوامی پروازوں کے بعد ڈس انفیکشن عمل یقینی بنایا جا رہا ہے، جب کہ بیرون ملک سے آنے والی فلائٹس کے 2 فیصد مسافروں کی سیمپلنگ بھی جاری ہے۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں تین جنوری کو حکام نے تصدیق کی کہ شہر میں 6 اومیکرون کی نئی قسم کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل اومیکرون کی نئی قسم جسے ایکس بی بی اور ایکس بی بی-ون کا نام دیا گیا ہے، وہ چین، امریکا، بھارت، سنگاپور اور ہانگ کانگ سمیت دنیا کے 30 ممالک میں رپورٹ ہو چکا ہے۔ کرونا کی دونوں نئی قسمیں ایکس بی بی اور ایکس بی بی-ون سب سے پہلے اکتوبر 2022 میں چین میں رپورٹ ہوئی تھیں، جس کے بعد اب یہ قسمیں دنیا کے 30 ممالک تک پھیل چکی ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کووڈ-19 کی صورت حال قابو میں ہے تاہم انہوں نے حکام کو وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کووڈ-19 کی صورتحال پر جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس کو خطے سمیت پوری دنیا اور پاکستان میں اس وقت کرونا کی صورتحال، کووڈ-19 کی نئی اقسام اور اس کی روک تھام کے لیے کئے گئے اقدامات اور ویکسی نیشن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق شہباز شریف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ 5 سے 12 سال کے بچوں کی 100 فیصد ویکسی نیشن کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے، پاکستان کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر آمدورفت پر اسکریننگ کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ واضح رہے کہ اومیکرون کے سب ویرینٹ ’بی ایف سیون‘ کے پھیلنے کے خدشات اور خطرات کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو تعلیمی اداروں، سماجی اجتماعات و تقریبات کے لیے احتیاطی تدابیر جاری کرنے اور اس سلسلے میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں
    ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری
    ملک بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران کورونا سے دو اموات رپورٹ
    متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل
    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی
    حکام نے بتایا تھا کہ اس سلسلے میں طورخم بارڈر پر پیدل چلنے والوں کی ویکسی نیشن اور ان کے اسکریننگ ٹیسٹ روزانہ کی بنیاد پر شروع کردیے گئے ہیں۔ یہ فیصلے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کی زیر صدارت ہونے والے جائزہ اجلاس میں کیے گئے تھے۔ اجلاس میں این آئی ایچ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے حکام نے بھی شرکت کی، اجلاس کے دوران کووڈ 19 کی صورتحال اور کورونا کی نئی لہر سے لاحق خطرات کے حوالے سے ہوائی اڈوں پر نگرانی کے طریقہ کار پر غور کیا گیا تھا۔

  • ملک  بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹے  کےدوران کورونا سے دو اموات رپورٹ

    ملک بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران کورونا سے دو اموات رپورٹ

    ملک بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران کورونا سے دو اموات رپورٹ. این آئی ایچ

    ملک بھر میں عالمی وباء کورونا وائرس کے وار نہ تھم سکے، مزید 22 مریضوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 2 افراد جان کی بازی بھی ہار گئے ہیں۔ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے 5 ہزار 126 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 22 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔


    این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.43 فیصد رہی ہے جبکہ 2 مریض موت کے منہ میں بھی چلے گئے ہیں۔ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ابھی بھی 14 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں
    ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری
    ملک بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران کورونا سے دو اموات رپورٹ
    متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل
    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی
    دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے،افغان طالبان اپنے وعدوں کو پورا کریں،امریکا

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کے کیسز کی تصدیق ہونے کے بارے خبر آئی تھی جبکہ بعدازاں قومی ادارہ صحت نے اس کی تردید کردی تھی جبکہ محکمۂ صحت سندھ سے منسوب سے بتایا گیا تھا کراچی میں کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کے 5 کیسز سامنے آئے ہیں۔

    ادھر سابق وفاقی مشیرِ صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ غالب امکان ہے کہ تیزی سے پھیلنے والا بی ایف 7 ویرینٹ بھی پاکستان پہنچ چکا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے بھی 100 فیصد یقین ہے کہ دونوں ویرینٹس پاکستان آ چکے ہیں۔ حکام اور ماہرین کے مطابق پاکستان کو دونوں نئے ویرینٹس سے کوئی بڑا خطرہ نہیں، یہاں قوتِ مدافعت بہت بہتر ہے۔

  • متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

    متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

    متعدد ممالک میں چین سے آنے والے مسافروں کے منفی کوروناٹیسٹ لازمی کرنے کے اقدام پرچین نے جوابی اقدام کرنے کا انتباہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے چین سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط سائنسی طور پر بے بنیاد اور غیرمعقول ہے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط عائد کردی

    ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہناہے کہ چین سےآنےوالےمسافروں پر منفی کوروناٹیسٹ کےاقدام کی سخت مخالفت کرتےہیں،چین سے آنےوالےمسافروں پر منفی کوروناٹیسٹ لازمی کرنے پر جوابی اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ امریکا،برطانیہ،بھارت سمیت متعدد ممالک چین میں کورونا کیسز کے پھیلاو پروہاں سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط لازمی کر چکے ہیں۔

    5 جنوری سے آسٹریلیا اور کینیڈا آنے والے چین کےمسافروں کو کورونا کے منفی ٹیسٹ لازمی دکھانے ہوں گے،آسٹریلوی وزیرصحت کے مطابق مسافروں کو چین،مکاؤ ،ہانگ کانگ سے روانگی کے 48 گھنٹوں کے اندرکرائے گئے کورونا کےمنفی ٹیسٹ پیش کرنےکی ضرورت ہوگی۔آسٹریلوی حکومت مسافروں کے رضاکارانہ نمونے لینے سمیت اضافی اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

    کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ چین کے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ دکھانے کا عارضی اقدام 30 دن تک جاری رہے گا اور یہ پابندی مکاؤ اور ہانگ کانگ سے آنے والے مسافروں پر بھی لاگو ہوگی۔

    دوسری طرف چین میں کورونا کیسز میں اضافے کی صورتحال پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ملک میں وبا پر قابو پانے کی کوششیں نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں ہم سب کو مل کر اس پر قابو پانے کے لیے محنت کرنی ہے۔

    نئے سال کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ کا کورونا وبا سے متعلق پیغام میں کہنا تھا کہ چین نےکورونا کےخلاف جنگ میں غیرمعمولی مشکلات اور چیلنجز پر قابو پایا ہے، اب وبا سے تحفظ اور اس پر قابو پانے کےنئےدورمیں داخل ہورہےہیں ابھی بھی وبا کےخلاف کوششوں کا وقت ہے، وبا سے بچاؤ کے لیے سب انتھک محنت کر رہے ہیں، وبا کے خلاف سخت محنت کا تسلسل اور ہمارا اتحاد ہی کامیابی کا ضامن ہے۔چین میں کورونا پابندیاں نرم ہونے کے بعد حالیہ دنوں میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

  • قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی

    قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی

    قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی

    قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی گئی ہے کہ اور قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کے نئے قسم کا تاحال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبریں بے بنیاد ہیں سربراھ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں نئے ویرینٹ سے نمٹنے کے حوالے سے انتطامات مکمل ہیں.

    خیال رہے کہ اس سے قبل مختلف میڈیا پر یہ خبر چلی تھی کہ "قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد کی جانب سے چین میں پائے جانے والے ”ایکس بی بی ویرئینٹ“ کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔ قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد اور آغا خان یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے منگل 3 جنوری کو ”ایکس بی بی“ ویرئینٹ کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کی گئی۔

    این آئی ایچ اور آغا خان یونی ورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ویرئینٹ کی تصدیق جینوم سیکونسنگ کے ذریعے کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی تک پاکستان میں “ بی ایف۔7 “ ویرئینٹ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    دوسری جانب سابق وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غالب امکان ہے کہ بی ایف۔7 ویرئینٹ بھی پاکستان پہنچ چکا ہے۔ جب کہ جامعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فیصل محمود نے بھی ڈاکٹر سلطان کے دعوے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے بھی سو فیصد یقین ہے کہ دونوں ویرئینٹس پاکستان آچکے ہیں۔

    حکام اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ان دونوں نئے ویرئینٹس سے کوئی بڑا خطرہ نہیں، پاکستانیوں کی قوت مدافعت بہت بہتر ہے۔
    3 جنوری کو موصول رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آج صرف 15 کرونا کے کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ مثبت کیسز کی شرح صرف اعشاریہ چالیس فیصد تھی۔

    ماہرین صحت نے یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا سے چین جیسے حالات پیدا ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔
    واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں کرونا کی نئی لہر نے ہنگامی صورت حال پیدا کردی ہے، جہاں یومیہ کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث طبی سہولیات کے اداروں پر دباؤ بڑھ گیا اور عملے کی کمی کا سامنا ہے۔

    چین میں کرونا کی نئی شکل کا ویریئنٹ تیزی سے دیگر ممالک میں بھی پھیل رہا ہے جس کے باعث کئی ممالک چین پر سفری پابندیوں کے قوانین کے نفاذ پر غور کر رہے ہیں۔
    گزشتہ سال 2022 دسمبر میں ہونے والے چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ آئندہ سال کے اختتام تک چین میں کرونا سے مزید 10 لاکھ سے زیادہ اموات ہو سکتی ہیں۔”

  • پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کووڈ-19 کی صورتحال ہر جائزہ اجلاس ہوا اجلاس کو خطے سمیت پوری دنیا اور پاکستان میں اس وقت کووڈ کی صورتحال، کووڈ کی نئی اقسام، ان کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات اور ویکسینیشن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. جبکہ اجلاس کو بتایا گیا کہ کووڈ کی نئی قسم سے پاکستان کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں کیونکہ پاکستان کی 90 فیصد آبادی مکمل طور پر اور 95 فیصد آبادی جزوی طور پر ویکسینیٹڈ ہے. 5 سے 12 سال کے تین کروڑ 50 لاکھ بچوں میں ویکسینیشن کی شرح 25 فیصد ہے جبکہ اس کو آئندہ مہینوں میں 100 فیصد کر دیا جائے گا. پاکستان میں انفیکشن کی اوسط شرح 0.2 سے 0.5 فیصد ہے اور گزشتہ 15 ہفتوں سے کووڈ سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کووڈ-19 کی نئی اقسام کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے باڈر پر مؤثر انتظامات کئے گئے ہیں. اس کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں پر رینڈم سامپلنگ کی شرح بڑھا کر 2 فیصد کر دی گئی ہے اور متاثرہ ممالک سے آنے والے ہوائی جہازوں کی فیومیگیشن کے ساتھ ساتھ مسافروں کی سکریننگ بھی مزید مؤثر بنائی گئی ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کے اقدامات اور وزیرِ اعظم کی خصوصی توجہ کی بدولت پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس میں جینوم سرویلنس یقینی بنائی گئی ہے جسکی بدولت بہت جلد وائرس کی نئی قسم کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے.

    وزیرِ اعظم نے وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز، NCOC حکام اور سول ایوی ایشن حکام کے کووڈ-19 کی روک تھام کے اقدامات کی تعریف کی. علاوہ ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے جبکہ پانچ سے بارہ سال کے بچوں کی 100 فیصد ویکسینیشن کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے.اور پاکستان کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر آمدورفت پر سکریننگ کو مزید مؤثر بنایا جائے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے نظام کی تھرڈ پارٹی جانچ پڑتال کرکے رپورٹ پیش کی جائے.

    وزیرِ اعظم کے مطابق پاکستان میں پچھلے 15 ہفتوں میں کووڈ-19 سے ایک بھی موت نہ ہونا خوش آئند امر ہے. جبکہ مجھ سمیت پوری قوم ویکسین عطیہ کرنے والے ممالک کے شکرگزار ہے. اور کووڈ-19 انفیکشن کی کم شرح خوش آئند ہے مگر ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے والے تمام عہدیداران اور NCOC کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں.

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی امن پر کوئی سمجھوتا نہیں ، دہشت گردی ناقابل برداشت ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ این ایس سی نے کئی گھنٹے طویل مشاورت کے بعد اہم فیصلے کیے، جن میں سے دو نمایاں ہیں۔


    دہشت گردی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ پاکستان کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کے لیے ریاست زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے گی اور قیام امن پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی روڈ میپ ملکی معیشت کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے ریلیف کے اسباب بھی پیدا کرے گا۔ دریں اثنا وزیراعظم شباز شریف نے ملائیشین ہم منصب اسماعیل صابری یعقوب سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی ہے۔ وزیراعظم نے ملائیشیا کے نئے وزیراعظم اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    دونوں وزرائے اعظم نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور تجارت وسرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے ملائیشین ہم منصب کو 9 جنوری کو جنیوا میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔ وزیراعظم نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے ڈونرز کانفرنس کے انعقاد سے آگاہ کیا ، جس پر ملائیشین وزیراعظم نے ڈونرز کانفرنس میں اعلیٰ سطح کا وفد بھجوانے کی یقین دہائی کرا دی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے ملائیشین ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی، جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے شہباز شریف کو بھی ملائیشیا کے دورے کی دعوت دی۔

  • آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط عائد کردی

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط عائد کردی

    لاہور:چین میں کورونا کیسز بڑھنے پر مختلف ممالک تشویش میں مبتلا ہوگئے،وہیں آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سےآنے والے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ دکھانے کی شرط عائد کردی۔

     

    5جنوری سے آسٹریلیا اورکینیڈا آنے والےچین کےمسافروں کو کورونا کےمنفی ٹیسٹ لازمی دکھانے ہوں گے،اس سے قبل امریکا،برطانیہ، فرانس سمیت کئی ممالک بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد کرچکے ہیں۔

    آسٹریلوی وزیرصحت کے مطابق مسافروں کو چین،مکاؤ ،ہانگ کانگ سے روانگی کے 48 گھنٹوں کے اندرکرائے گئے کورونا کے منفی ٹیسٹ پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔آسٹریلوی حکومت مسافروں کے رضاکارانہ نمونے لینے سمیت اضافی اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

    2022 تلخ اور خوشگواریادوں کےساتھ غروب ہو گیا

     

    دوسری جانب کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ چین کے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ دکھانے کا عارضی اقدام 30 دن تک جاری رہے گا اور یہ پابندی مکاؤ اور ہانگ کانگ سے آنے والے مسافروں پر بھی لاگو ہوگی۔

    برطانیہ کا سالِ نو کےآغازپر141 شہریوں کو اعلیٰ ترین اعزازات دینے کا اعلان:پاکستانی…

    دوسری طرف چین میں کورونا کیسز میں اضافے کی صورتحال پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ملک میں وبا پر قابو پانے کی کوششیں نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں ہم سب کو مل کر اس پر قابو پانے کے لیے محنت کرنی ہے۔

    نئے سال کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ کا کورونا وبا سے متعلق پیغام میں کہنا تھا کہ چین نے کورونا کے خلاف جنگ میں غیرمعمولی مشکلات اور چیلنجز پر قابو پایا ہے، اب وبا سے تحفظ اور اس پر قابو پانے کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ کا سالِ نو کےآغازپر141 شہریوں کو اعلیٰ ترین اعزازات دینے کا اعلان:پاکستانی…

    انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی وبا کے خلاف کوششوں کا وقت ہے، وبا سے بچاؤ کے لیے سب انتھک محنت کر رہے ہیں، وبا کے خلاف سخت محنت کا تسلسل اور ہمارا اتحاد ہی کامیابی کا ضامن ہے۔چین میں کورونا پابندیاں نرم ہونے کے بعد حالیہ دنوں میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔