Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے کورونا وائرس کے خاتمے سے متعلق ایک اور پیشگوئی کر دی۔

    باغی ٹی وی : بزنس انسائیڈر کے مطابق مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے منگل کو اپنے گیٹس نوٹس بلاگ پر شائع ہونے والے سال کے جائزے میں لکھا، کہ ایک اور پیش گوئی کرنا بے وقوفی ہو سکتی ہے لیکن میرے اندازے کے مطابق سال 2022 میں کورونا کی وبا کسی بھی وقت ختم ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ رواں سال 2021 میں کورونا وائرس کے خاتمے کے امکانات موجود تھے لیکن لوگوں کی ویکسینیشن کے عمل میں سستی اور اس کی مختلف اقسام سامنے آنے پر اس امید نے دم توڑ دیا۔

    بل گیٹس نے کہا کہ کورونا کی نئی قسم اومی کرون بلاشبہ ایک خطرناک قسم ثابت ہو رہی ہے لیکن ویکسینز کی موجودگی اور اینٹی وائرل ادویات کے استعمال میں تیزی اس وائرس کو جلد ختم کرنے میں مدد فراہم کرے گی اور انہیں امید ہے کہ 2022 میں کووڈ 19 ایک مقامی بیماری بن جائے گی۔

    برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    انہوں نے کہا ہے کہ اومی کرون کی اس لہر سے بہتر انداز سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا تیار ہے اور ویکسینز کو اپ ڈیٹڈ کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اینٹی وائرل ادویات کا استعمال اور ویکسی نیشن کے عمل کے بعد کورونا ایک جان لیوا مرض نہیں رہے گا بلکہ اس کی نوعیت میں بہت حد تک کمی واقع ہوجائے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ دنیا اب تک وبائی امراض کے کسی بھی دوسرے موڑ کے مقابلے میں ممکنہ طور پر خطرناک قسموں سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے،”اگر ضرورت ہو تو ہم تازہ ترین ویکسین بنانے کے لیے بہت بہتر پوزیشن میں ہیں،”

    ان کے تبصرے اس وقت سامنے آئے ہیں جب کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون، جسے B.1.1.529 بھی کہا جاتا ہے، پوری دنیا میں پھیل رہی ہے سائنس دان اور فارماسیوٹیکل فرمیں یہ جاننے کے لیے مصروف ہیں کہ اومی کرون کس حد تک خطرناک ہے، اور ویکسین اس کے خلاف کتنی اچھی طرح سے موثر رہے گی۔

    گیٹس نے کہا کہ اومی کرون کی مختلف قسم کے بارے میں بہت سی مزید معلومات جیسے کہ موجودہ ویکسین یا پچھلا انفیکشن اس کے خلاف کتنی اچھی طرح سے تحفظ فراہم کرتے ہیں جلد ہی دستیاب ہوں گے، کیونکہ محققین، بشمول بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں-

    اپنے جائزے میں، گیٹس نے کہا کہ ویکسین اور اینٹی وائرل مستقبل میں کوویڈ 19 کے حملوں کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں”کمیونٹیز کو اب بھی کبھی کبھار وباء نظر آئے گی، لیکن نئی دوائیں دستیاب ہوں گی جو زیادہ تر معاملات کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں اور ہسپتال باقی کو سنبھال سکیں گے

    خیال رہے کہ بل گیٹس اس سے قبل بھی کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے مختلف پیشگوئیاں کر چکے ہیں۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ اس وبائی صورتحال اور لاک ڈاؤن سے مکمل نجات سال 2022 کے اختتام پر مل جائیگی اور دنیا ایک بار پھر سے سال 2019 کے معمولات زندگی گزارنے لگے گی۔

    پاکستان میں مزید 350 کورونا کیسز رپورٹ

  • اومی کرون کا پہلا کیس،این سی او سی کی تردید ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا خط بھی سامنے آ گیا

    اومی کرون کا پہلا کیس،این سی او سی کی تردید ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا خط بھی سامنے آ گیا

    کراچی اومی کرون کیس: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا خط سامنے آ گیا ہے جس میں اومی کرون کا ایک اور تین مشتبہ کیسز کی ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے ۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے خط کے مطابق نجی ہسپتال میں کورونا کے چار کیسز سامنے آئے ، غیر ویکسینیٹیڈ 65 سالہ خاتون میں اومی کرون کی تصدیق ہوئی ہے ،خاتو ن کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں ہے اور بظاہر اومی کرون کی کوئی علامت بھی نہیں ہے –

    خط کے متن کے مطابق خاتون کو 8 دسمبر کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا اور و ہ اب گھر پر قرنطینہ ہیں، 2مشتبہ کیسز ہسپتال میں اور 1 گھر پر قرنطینہ ہے ،61 سالہ شخص ویکسینیٹیڈ ہے ، اومی کرون کا پہلا کیس 8 دسمبر کو شام 7 بجے سامنے آیا پرائیویسی کی یقین دہانی کے باوجود بھی پتہ فراہم نہیں کیا گیا ۔

    دوسر جانب نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سینٹر(این سی او سی) نے کراچی میں ویرینٹ اومی کرون کیس رپورٹ ہونے کی تردید کر دی ہے اور کہاہے کہ یہ خبر مصدقہ نہیں ہے این سی او سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ پاکستان میں اومی کرون وائرس آنے کی خبر مصدقہ نہیں ہے ، کراچی کی مریضہ کو ابھی مشکوک مریض ہی کہا جا سکتا ہے ۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں پھیلا کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا پہلا کیس پاکستان میں بھی رپورٹ ہو گیا۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق ویرینٹ اومی کرون کا کیس کراچی کے ایک نجی اسپتال میں رپورٹ ہوا متاثرہ خاتون بیرون ملک سے آئی ہیں اور کورونا پازیٹو ہیں، متاثرہ خاتون نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    حکام محکمہ صحت سندھ کے مطابق نجی اسپتال سے متاثرہ خاتون کی ٹریول ہسٹری معلوم کی جا رہی ہے، خاتون کی کانٹیکٹ ٹریسنگ کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب کرونا کی نئی قسم اومیکرون سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان نے سے بوسٹر ڈوز لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، بوسٹر ڈوز مرحلہ وار لگائی جائے گی، پہلے ہیلتھ کیئرورکرز اور 50سال سے زائد عمر والوں کو ڈوز لگائی جائے گی۔

    برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    خیال رہے کہ جنوبی افریقا سے سامنے آنے والا کورونا کا انتہائی خطرناک ویرینٹ ’اومی کرون‘ امریکا، برطانیہ، بھارت اور جاپان سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بھی سامنے آ چکا ہےجنوبی افریقا اور اس کے آس پاس موجود ممالک پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ وائرس ان کے ملک میں نہ پہنچ جائے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے عالمی سطح پر اومی کرون ویرینٹ کےممکنہ مزید پھیلاؤ کا امکان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کےسبب مستقبل میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتاہے جس کےسنگین نتائج ہوسکتےہیں۔

    فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
    دوسری جانب کورونا کی اس نئی قسم کو قدرت کا تحفہ قرار دیا ہے اس حوالے سے جنوبی افریقا کے ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ نئے ویرینٹ کی اب تک کوئی شدید علامات سامنے نہیں آئیں اور اس سے متاثرہ افراد میں کورونا کی ہلکی نوعیت کی علامات دیکھی گئیں ہیں اومی کرون ویرینٹ کے زیادہ تر کیسز نوجوانوں میں سامنے آئے ہیں جن میں کم شدت کی علامات پائی گئی ہیں۔

    جنوبی افریقی حکام کی اس بات کو جرمن ماہرین صحت نے خوشی کی خبر قرار دیا اور کہا ہے کہ اگر اومی کرون سے متاثرہ مریض میں شدید علامات نہیں پائی جارہیں تو یہ کرسمس سے قبل قدرت کا تحفہ ہے۔

    فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
    جنوبی افریقی ماہرین کا کہنا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کے متاثرہ مریض کو سر درد اور تھکان کی علامات سامنے آئی ہیں اور پچھلے ویرینٹس کی طرح اس ویرینٹ سے متاثر کوئی شخص اب تک اسپتال میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کی موت ہوئی ہے۔

    جرمنی کے اگلے متوقع وزیر صحت اور وبائی امراض کے ماہر پروفیسر کارل لوٹر باخ کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اومی کرون کرسمس کا تحفہ ہے اور یہ عالمی وبا کے خاتمے کی رفتار تیز کردے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ اومی کرون میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہیں، 32 تبدیلیاں تو صرف اس کے اسپائیک پروٹین میں ہیں جو ڈیلٹا سے دوگنا ہیں اور اب تک متاثرہ مریضوں کا جو ڈیٹا سامنے آرہاہے اس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اومی کرون نے خود کو اس طرح ڈھال لیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر تو کرسکتا ہے لیکن اس کے مہلک اثرات میں کمی آگئی ہے اگر یہ درست ہے تو پھر اومی کرون کی صورت میں کورونا وائرس بھی نظام تنفس کے دیگر وائرس کی طرح ارتقائی مراحل طے کر رہا ہے۔

    فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
    یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا کے متعدی امراض کے ماہر پروفیسر پال ہنٹر کہتے ہیں کہ اومی کرون کی شدت زیادہ نہ ہونے کا نظریہ درست نظر آتا ہے لیکن ممکنہ طور پر اس کی وجہ وائرس کی تبدیلی نہیں بلکہ پچھلے ویرینٹس سے بڑے پیمانے پر ہونے والے انفیکشنز اور ویکسینیشن مہم ہے جو اس نئے ویرینٹ کے خلاف تحفظ فراہم کر رہے ہیں اگر ایسا ہے تو بھی یہ اچھی خبر ہے کیوں کہ وائرس چاہے خود کو جتنا بھی تبدیل کرلے انسانی قوت مدافعت سے مکمل طور پر نہیں چھپ سکتا اور جو لوگ ماضی میں کورونا کا شکار ہوئے ہیں یا ویکسین شدہ ہیں وہ اس نئے ویرینٹ سے بھی زیادہ بہتر طریقےسے لڑ سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس ویرینٹ کے اب تک زیادہ شدید کیسز سامنے نہیں آئے۔

    این سی او سی اجلاس، ملک کے مختلف حصوں میں آکسجین پلانٹس نصب کرنے کی تجویز


    فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
    ماہرین صحت کافی عرصے سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ شاید کورونا وائرس کبھی ختم نہ ہو ہاں ممکن ہے کہ یہ اپنی ہیئت تبدیل کرتا ہوا محض زکام کی وجہ بننے والے وائرس کی طرح رہ جائے تاہم اومی کرون کے حوالے سے ماہرین فی الحال کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس ویرینٹ کے اثرا ت کا جائزہ لینے میں کم سے کم دو ہفتوں کا وقت درکار ہوگا اور اس دوران یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ یہ ڈیلٹا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے یا نہیں اور ویکسین کا اس پر کتنا اثر ہورہا ہے۔

    این سی او سی اجلاس،اومیکرون سے محفوظ رہنے کے لیے اہم ہدایات


    فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل

  • پاکستان میں مزید 350 کورونا کیسز رپورٹ

    پاکستان میں مزید 350 کورونا کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید10افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں میں 46ہزار697کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 350 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 88 ہزار53 ہوگئی جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار803 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.74 فیصد رہی۔

    برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 77ہزار299،خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار514، پنجاب میں 4 لاکھ 43 ہزار682،اسلام آباد میں ایک لاکھ8 ہزار22، بلوچستان میں 33 ہزار519، آزاد کشمیر میں 34 ہزار595 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار422 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار46افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار630، خیبرپختونخوا 5 ہزار874، اسلام آباد 962، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 362 اور آزاد کشمیر میں 743افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    لندن :برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی بھی چُھٹّی ہوسکتی ہے:تہلکہ خیزانکشافات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت سخت خطرے میں ہے ، اس کی وجہ بہت سنگین بتائی جارہی ہے،

    ادھر اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان کے دارالعوام میں اس ویڈیو پر معذرت کر لی ہے جس میں ان کے سٹاف کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر ان کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ پارٹی پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    بورس جانسن نے پارلیمان میں اس معاملے پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ اس بات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ کوئی پارٹی نہیں ہوئی تھی اور اعلان کیا کہ یہ انکوائری بھی کروائی جائے گی کہ آیا کووڈ کی وجہ عائد کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

    کرسمس کے موقع پر کووڈ کی پابندیوں کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے پارٹی کا اہتمام کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد سے بورس جانسن کی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔

    اس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کیر سٹامر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور ان واقعات کے بارے میں ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ہے۔

    ادھر غلط بیانی پر یہ ویڈیو بورس جانسن کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے ،ویسے تو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے تنازعہ کوئی نئی چیز نہیں تاہم حالیہ دنوں میں وہ اور ان کی کابینہ ایک نئے سکینڈل کی زد میں آ گئے ہیں۔اس بہت بڑے جھوٹ نما سیکنڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ بورس جانسن کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا

    اس بار ان کے لیے مشکل وہ ویڈیو بن گئی ہے جس میں ان کی اپنی پریس سیکریٹری یہ انکشاف کر رہی ہیں کہ گذشتہ برس دسمبر میں کووڈ 19 کے باعث لاگو پابندیوں کے باوجود وزیر اعظم آفس میں ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔

    لیک ہونے والی ویڈیو کے مطابق اس پارٹی میں 40 سے 50 افراد شریک تھے اور یہ ویڈیو برطانیہ کے آئی ٹی وی چینل نے نشر کی ہے۔اب بورس جانسن کی طرف سے اقرار کرنے کےساتھ جہاں ان کی پریس سیکرٹری کو مستعفیٰ ہونا پڑا ہے ، بعض حلقوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بورس جانسن کی حکومت بھی چند دن کی مہمان ہے

  • برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    لندن :برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ہرآنے والا لمحہ بڑا خطرناک ثابت ہورہا ہے اورلندن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ برطانیہ میں نئے خطرناک ویئرنٹ جسے اومی کرون کا نام دیا گیا ہے کے 437 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ،

    ادھر اومی کرون کیے حملوں سے بچنے کےلیے برطانوی وزیرصحت نے حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ پابندیاں نافذ کرنے کا عندیہ دیا تھا ، جبکہ دوسری طرف برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نے کہا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا

    برطانیہ کے وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ اب انگلینڈ کے تمام خطوں میں کورونا وائرس کے اومی کرون (Omicron) ویرینٹ کی کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوچکی ہے۔ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا اس سے متاثر ہونے والے جلد صحت یاب ہوجائیں گے یا انھیں شدید خطرہ لاحق ہوگا۔

    وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروانے کا دفاع کرتے ہوئے ساجد جاوید نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت ہمیشہ مستعد ہے۔ ہمارے سائنسدانوں نے اس قسم کا اندازہ لگایا، جس کی رپورٹ گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ میں پہلی بار سامنے آئی تھی۔

    برطانوی وزیرصحت ساجد جاوید نے کہا کہ ’’اب انگلینڈ میں اومی کرون کے437 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں‌۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں ایسے کیس بھی شامل ہیں جن کا بین الاقوامی سفر سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اب انگلینڈ کے متعدد خطوں میں کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوا ہے‘‘۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نے پیر کے روز کہا کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔
    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آنے جانے والے تمام مسافروں کو روانگی سے قبل کورونا COVID-19 ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوگی جبکہ نائیجیریا، جنوبی افریقہ اور نو دیگر افریقی ممالک سے آنے والوں کو نئے ویرینٹ کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ہوٹلوں میں قرنطینہ کرنا پڑے گا۔

    ادھر ساجد جاوید نے کہا کہ بین الاقوامی قرنطینہ کے لیے دستیاب ہوٹل کے کمروں کی تعداد اس ہفتے دگنی کر دی جائے گی اور حکومت جلد سے جلد اس صلاحیت کو بڑھا رہی ہے۔ جاوید نے کہا کہ اس مرحلے پر حکومت یقینی طور پر نہیں کہہ سکتی کہ آیا اومی کرون کووڈ ویکسین سے بچ جائے گا یا نہیں، یا یہ زیادہ شدید بیماری کا سبب بنتا ہے۔

    ادھر تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پہلے بورس جانسن سخت پابندیوں کو نافذ کرنے سے ہچکچا رہے تھےلیکن اس عزم کے تھوڑی دیربعد ہی اپنے فیصلے پر قائم نہ رہے اور نئی پابندیاں‌عائد کردیں جنہں پلان بی کا نام دیا گیا ہے

    اس پلان کے تحت

    حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اب تمام سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین اپنے اپنے گھروں سے کام کریں گے
    انگلینڈ پلان بی کے اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    چہرے کے ماسک لازمی ہو جائیں گے۔ان میں تھیٹر اور سینما گھر شامل ہیں،

    NHS COVID پاس نائٹ کلبوں اور جگہوں میں داخلے کے لیے بھی ضروری ہو گا جہاں لوگوں کے بڑے گروپ جمع ہوتے ہیں۔

    یہ 500 سے زیادہ افراد کے ساتھ غیر بیٹھنے والے اندرونی مقامات، 4,000 سے زیادہ افراد کے ساتھ غیر نشست شدہ بیرونی مقامات، اور 10,000 سے زیادہ افراد کے ساتھ کوئی بھی مقام پر درکار ہوگا

    پاس اب بھی ان لوگوں کے لیے کام کریں گے جنہوں نے COVID ویکسین کی صرف دو خوراکیں لی ہیں، حالانکہ اس کا جائزہ لیا جائے گا۔یہ تازہ ترین اقدام ایک ہفتے کے اندر متعارف کرایا جائے گا۔

  • کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    چین کے شہر ہربن کی انتظامیہ کی جانب سے کورونا ٹیسٹ کروانے والوں کو انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر ہربن کی انتظامیہ نے ایسے افراد کو انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کورونا کی علامات ظاہر ہونے کے بعد چھپنے کی بجائے اپنا ٹیسٹ کرانے کے لیے سامنے آئیں گے اگر ان میں بیماری کی تشخیص ہو جاتی ہے تو انہیں حکومت کی جانب سے 2 لاکھ 80 ہزار کی قرم دی جائے گی۔

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نوٹیفکیشن میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ بخار، گلے میں سوجن، سونگھنے یا چکھنے کی حصوں کو محسوس نہیں کر پا رہے ہیں تو اپنے قریب سینٹرز میں اطلاع کریں، اور خود اس کا علاج نہ کریں-

    نوٹیفیکیشن کے مطابق کرونا کی تشخیص کے بعد انتظامیہ کو یہ جاننے میں آسانی ہو گی کہ آپ کہاں کہاں گئے اور کن افراد سے رابطے میں رہے۔اس مدد کے بعد آپ انتظامیہ کے انعام کے حق دار بھی ہوں گے، تاہم شرط یہی ہے کہ اس کے لیے شہریوں کو خود آگے آکر کووڈ ٹیسٹ کرانا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ہربن میں 10 سے بھی کم کرونا کیسز سامنے آئے ہیں۔

    اومیکرون، برطانیہ میں کیسز میں ایک روز میں پچاس فیصد اضافہ

    واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان سے 2019 میں کرونا کی وبا دنیا بھر میں پھیلی تھی، مگر سخت اقدامات کے بعد چین بھر میں عالمی وبا کے کیسز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ووہان سے پھوٹنے والی وبا سے چین سمیت دنیا بھر میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں، اب تک دنیا بھر میں اموات کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 9 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا سے مزید 9 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 43 ہزار503 کورونا ٹیسٹ کیے گئےمزید 310 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    اومیکرون، برطانیہ میں کیسز میں ایک روز میں پچاس فیصد اضافہ

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 87 ہزار703 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار793 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.71 فیصد رہی۔

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 77 ہزار119،خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار471، پنجاب میں 4 لاکھ 43 ہزار610،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار989، بلوچستان میں 33 ہزار510، آزاد کشمیر میں 34 ہزار586 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار414 ہو گئی ہے۔

    امریکا میں بھی اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار44افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار630، خیبرپختونخوا 5 ہزار868، اسلام آباد 961، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 362 اور آزاد کشمیر میں 742 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 7 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 41ہزار62کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 232 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 87 ہزار393 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 784 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.56 فیصد رہی۔

    پاکستان:کرونا مزید 6 زندگیاں نگل گیا، 372 نئےکیسز رپورٹ:اومی کرون سے بچاوکی سخت حفاظتی تدابیر

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 76ہزار958، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار412، پنجاب میں 4 لاکھ 43 ہزار560،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار960، بلوچستان میں 33 ہزار509، آزاد کشمیر میں 34 ہزار580 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار414 ہو گئی ہے۔

    اومی کرون کے خطرات منڈلانے لگے :بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان سیریز ملتوی

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار42افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار627، خیبرپختونخوا 5 ہزار864، اسلام آباد 961، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 362 اور آزاد کشمیر میں 742 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • اومیکرون، برطانیہ میں کیسز میں ایک روز میں پچاس فیصد اضافہ

    اومیکرون، برطانیہ میں کیسز میں ایک روز میں پچاس فیصد اضافہ

    اومیکرون، برطانیہ میں کیسز میں ایک روز میں پچاس فیصد اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والا خطرناک ترین وائرس دنیا بھر میں پھیلا،اور تباہی مچائی

    کرونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی ہوتی ہے تو ایک نئی قسم سامنے آ جاتی ہے،اب کرونا کی نئی قسم نے برطانیہ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، برطانیہ میں ایک ہی روز میں کرونا کیسز میں 50 فیصد اضافہ ہوا، برطانیہ میں اومیکرون کے مریضوں کی تعداد 86 نئے کیسز کے ساتھ 246 ہو گئی ہے، سائنسدان نے خبردار کیا ہے کہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بہت دیر ہو گئی ہے ایڈنبرا یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر نے کہا کہ یہ ‘بہت تیزی سے پھیل رہا ہے

    کرونا کے حوالہ سے اعداد و شمار شائع کرنے والی یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے نئے کیسز میں سے 18 سکاٹ لینڈ میں ہیں جن کی تعداد 48 ہوگئی ہے باقی 68 کیسز انگلینڈ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں برطانیہ میں اس ہفتے مزید 43,992 کوویڈ کیسز ریکارڈ کیے گئے، گزشتہ اتوار کے بعد سے یہ اضافہ 16.7 فیصد اضافہ ہے جبکہ مزید 54 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں،جنوبی افریقہ میں بھی اومیکرون کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 11,125 نئے انفیکشن ریکارڈ کیے گئے،

    دوسری جانب یہ اعلان کیا گیا کہ انگلینڈ پہنچنے والے تمام مسافروں کو منگل سے کووِڈ 19 پری ڈیپارچر ٹیسٹ دینے کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اومیکرون پر موجودہ ویکسین کا کوئی اثر نہیں ہوتا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اومیکرون جنوبی افریقہ میں کورونا کی ڈیلٹا قسم سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عام زکام کے ساتھ جینیاتی مواد کے اشتراک کی وجہ سے اومیکرون زیادہ پھیلتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اومیکرون سے ظاہر ہوتا ہے کہ کووڈ پرکنٹرول نہیں عالمی سطح پر اقدامات ہی اس کو روک سکتے ہیں

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

  • اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این سی اوسی کا اومی کرون کے پھیلاو کے خدشہ پیش نظر ائیر ٹریول سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس ہوا جس میں کورونا کی صورتحال فضائی سفر اور کیٹیگری سی لسٹ کا جائزہ لیا گیا ،این سی او سی نے تفصیلی جائزے کے بعدکیٹگری سی میں 15ممالک کو شامل کیا کیٹگری سی میں شامل ممالک کے شہری پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے کیٹگری سی میں شامل ممالک میں کروشیا ،ہنگری اور یوکرین شامل ہیں کیٹگری سی میں شامل ممالک میں آئرلینڈ ،سولوینیا ، ویتنام اور پولینڈ شامل ہیں جنوبی افریقہ ،موذنبیق ،لیسوتھو،بوٹسوانا،زمبابوے اور نمیبیا بھی کیٹگری سی میں شامل ہیں ،این سی او سی کے مطابق کم مدت ویزے پرجانیوالے پاکستانیوں کوواپسی کی اجازت ہوگی،بے دخل کیے جانیوالوں کو بغیر استثنیٰ سرٹیفکیٹ واپسی کی اجازت ہوگی ،6سال سے زائد عمر کے مسافروں پر ویکسین سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے،کورونا مثبت کیسز کو 10 روز کیلئے قرنطینہ ہونا لازمی ہوگا

    این سی او سی کے مطابق اومی کرون متاثرہ ممالک کے مسافروں کو 3 دن کیلئے قرنطینہ میں رہنا ہوگا،کیٹیگری بی میں 7 ممالک شامل،تمام مسافروں کیلئے کورونا منفی رپورٹ لازم قرار دی گئی ہے،این سی او سی کے مطابق پاکستان آنے والے تمام مسافروں کے لیے ویکسی نیشن لازمی ہوگی جب کہ 6 سال اور زائدعمر کے پاکستانیوں غیرملکیوں کے لیے پی سی آر ٹیسٹ لازمی ہو گا، بورڈنگ سے 48 گھنٹے پہلے کیا گیا پی سی آرٹیسٹ دکھانا لازمی ہوگا

    قبل ازیں این سی او سی نے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کے تازہ ترین اعدادو شمار جاری کئے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 10 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 28 ہزار 777 ہو گئی ہے، چوبیس گھنٹوں میں مزید 336 مریض سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں کرونا مریضوں کی تعداد 12 لاکھ 87 ہزار 161 ہو گئی ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 0.78 فیصد رہی

    این سی او سی اجلاس میں کہا گیا کہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے،نئی قسم سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسی نیشن ضروری ہے، ماسک کا استعمال،سماجی فاصلہ اور ہاتھ دھونے کے عمل کو یقینی بنایا جائے صوبائی وزرائے صحت اور چیف سیکریٹریز نے ویکسی نیشن مہم کو بڑھانے سے متعلق آگاہ کیا کورونا ٹیسٹ کے اعدادو شمار کو بہتر بنانے اور کال سینٹرز کے قیام کے اقدامات پربھی بریفنگ دی گئی،تمام صوبے اہداف حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر ویکسی نیشن مہم شروع کریں گے ،

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    این سی او سی اجلاس،اومیکرون سے محفوظ رہنے کے لیے اہم ہدایات

    این سی او سی اجلاس، ملک کے مختلف حصوں میں آکسجین پلانٹس نصب کرنے کی تجویز

    کرونا کی نئی قسم، دنیا ایک بار پھر خوف میں مبتلا