Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام دینے کی وجہ بتا دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی جریدے ٹیلی گراف کے سینئر ایڈیٹر پال نکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عالمی ادارہ صحت کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے ایک ذریعہ نے تصدیق کی کہ اومی کرون کا لفظ یونانی حروف تہجی سے لیا گیا ہےعالمی ادارہ صحت نے کورونا کی تمام اقسام کا نام یونانی حروف کے مطابق رکھا ہے اومی کرون 15 واں یونانی زبان کا تہجی ہے۔


    ان کا کہنا تھا کہ یونانی زبان میں 13 ویں نمبر پر NU اور 14 ویں پر XE آتا ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے NU نام New سے مماثلت رکھتا ہے اور XE ایک خاص خطے کی زبان میں استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں حروف کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام وبائی امراض فطری طور پر سیاسی ہیں-

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    دوسری جانب ڈبلیو ایچ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ میوٹیشنز والی قسم اومیکرون ممکنہ طور پر عالمی سطح پر پھیل جائے گی اور اس سے بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے جس کے کچھ خطوں میں تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

    رپعرٹس کے مطابق عالمی ادارے نے بتایا کہ ابھی اومیکرون سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کے ویکسینز ہا سابقہ بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف مزاحمت کے بارے جانچ پڑتال کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ ہفتے اومیکرون کے اولین کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور اب عالمی ادارہ صحت نے اپنے 194 رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ خطرات سے دوچار گروپس کے لیے ویکسینیشن کی رفتار بڑھائیں اور طبی سروسز کو مستحکم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق اومیکرون کے اسپائیک پروٹینز میں ہونے والی میوٹیشنز کی تعداد کی مثال موجود نہیں، جن میں سے کچھ تبدیلیاں باعث تشویشن ہیں کیونکہ وہ وبا کی صورتحال پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہوسکتی ہیں عالمی سطح پر کورونا کی اس نئی قسم سے لاحق ہونے والا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ میوٹیشن والی قسم اومیکرون کے ابھرنے سے عندیہ ملتا ہے کہ صورتحال کتنی خطرناک ہے، یہ نئی قسم ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کو وباؤں کے حوالے سے ایک نئے معاہدے کی ضرورت ہے۔

    نیا عالمی معاہدہ مئی 2024 تک متوقع ہے جس میں مختلف مسائل جیسے ابھرتے وائرسز کا ڈیٹا اور جینوم سیکونسنگ کو شیئر کرنے کو کور کیا جائے گا اور ویکسینز سمیت دیگر معاملات کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    اومیکرون کے بارے میں جنوبی افریقہ نے سب سے پہلے 24 نومبر کو رپورٹ کیا تھا عالمی ادارے کے مطابق خطرے سے دوچار آبادیوں پر اس نئی قسم کے اثرات تباہ کن ہوسکتے ہیں بالخصوص ایسے ممالک میں جہاں ویکسینیشن کی شرح کم ہے ویکسینیشن کرانے والے افراد میں کووڈ کیسز متوقع ہیں مگر ان میں یہ شرح کم ہوگی۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر اومیکرون کے مدافعتی دفاع سے بچنے کی صلاحیت کے بارے میں ابھی کافی کچھ غیریقینی ہے اور مزید ڈیٹا آنے والے ہفتوں میں سامنے آسکا ہے۔

    دوسری جانب اٹلی کے بمبینو گیسو ہاسپٹل کے ماہرین نے اومیکرون کی پہلی تصویر حال ہی میں جاری کی جس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کووڈ کا بہت زیادہ میوٹیشن والا ورژن ہے اس تصویر میں اومیکرون کے اسپائیک پروٹین کی ساخت کو ڈیلٹا قسم کے اسپائیک پروٹین کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جس سے بہت زیادہ میوٹیشنز کا انکشاف ہوتا ہے۔

    اسپائیک پروٹین وائرس کا وہ اہم ترین حصہ ہے جسے وہ انسانی خلیات میں داخلے کے لیے استعمال کرتا ہے اور ویکسینز میں بھی اسے ہی ہدف بنایا جاتا ہےدنیا بھر کے سائنسدان اومیکرون قسم کے بارے میں تفصیلات جمع کرنے کے لیے مسلسل کام کررہے ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری…

    یہ نئی قسم سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں سائنسدانوں نے شناخت کی تھی اور اسے 26 نومبر کو عالمی ادارہ صحت نے ویرینٹ آف کنسرن یا قابل تشویش قرار دیا تھا اطالوی تحقیق میں ثابت ہوا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے اسپائیک پروٹین میں 43 میوٹیشنز ہوئی ہیں جبکہ ڈیلٹا میں یہ تعداد صرف 18 ہے۔

    اس سے قبل تخمینہ لگایا گیا تھا کہ اومیکرون کے اسپائیک پروٹین میں 32 میوٹیشنز ہوئی ہیں مگر اٹلی کی تحقیق میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی گئی تحقیق کے مطابق یہ میوٹیشنز اس حصے میں ہوئی ہیں جو انسانی خلیات سے رابطے میں رہتا ہے۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

  • کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے

    اسد عمرکا کہنا تھا کہ کوروناکی نئی قسم خطرناک ہے پاکستان میں ایس او پیز پرعمل سے کورونا کیسزمیں کمی آئی ،پاکستا ن میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں کمی ہوئی ،کورونا کی نئی قسم کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر احتیاط لازمی ہے،کورونا کی نئی قسم دنیا میں پھیل سکتی ہے،کورونا کی نئی قسم سے بچاو کے لیے ویکسین موثر ہوگی ،کورونا کی نئی قسم کے پھیلنے کے خدشے سے صوبوں کو آگاہ کردیا،کورونا کی نئی قسم پاکستان میں بھی آئے گی ،ہم نے خطرے کو کم کرنا ہے آج 5 کروڑ پاکستانی ویکسنیٹڈ ہو چکے ہیں سب سے ضروری یہ ہے کہ ویکسین کا عمل مکمل ہو این سی او سی آنے والے کل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے،

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ کورونا کی نئی قسم خطرناک ہے ،کورونا کی نئی قسم پرانے کی نسبت زیادہ پھیل رہاہے، اومی کرون کے داخلے کوروکنا نا ممکن ہے ،اومی کرون سے نمٹنے کے لیے دنیاکے تمام ممالک رابطے میں ہیں،ویکسین لگوانے سے ہی اومی کرون سے بچا جاسکتاہے ،کورونا کی نئی قسم پاکستان میں داخل ہوئی تو ہمارے پاس وقت محدود ہوگا،

    کرونا کی نئی قسم نے ایک بار پھر دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے ،پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی کرونا کی نئی قسم پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جنوبی افریقہ سے بھارت پہنچنے والے ایک مسافر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد کھلبلی مچ گئی اور اب تصدیق کی جا رہی ہے کہ مسافر میں کرونا کی نئی قسم اومی کرون تو نہیں، بھارتی محکمہ صحت مسافر کا ٹیسٹ کرے گی، 32 سالہ مسافر کو کرونا مثبت آنے پر قرنطینہ کر دیا گیا ہے

    خبر رساں اداے کے مطابق مسافر جنوبی افریقہ سے دہلی پہنچا تھا جہاں اس کا ٹیسٹ کیا گیا تھا، بھارتی محکمہ صحت نے ان افراد کی تلاش بھی شروع کر دی جو گزشتہ دس روز میں جنوبی افریقہ سے بھارت آئے ہیں، بھارتی محکمہ صحت کے مطابق ایسے افراد کو تلاش کر کے انکے ٹیسٹ کروائے جائیں گے اور انکو قرنطینہ کیا جائے گا ،کورونا کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد پاکستان، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، سعودی عرب ، برازیل سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں

    نیشنل یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے جنوبی افریقہ میں کرونا کی نئی قسم کے حوالہ سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین بہت حد تک اس ویرینٹ کو قابو کرسکتی ہے، یہ ویرینٹ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں بہت خطرناک ہے، اس سے بچنے کے لیے سخت اقدامات اُٹھانے پڑے گے، یہ ویرینٹ پھیپھڑوں کو مکمل طور پر تباہ کردیتا ہے، سب سے پہلے ہم نے جلد سے جلد اپنے ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرنا ہے، جلد سے جلد لوگوں کو ویکسین لگانی ہے

    کووڈ انیس کی یہ نئی قسم پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ قسم کورونا کی پہلے سے معلوم اقسام سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ابھی اس نئی قسم کے بارے میں مکمل سائنسی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ۔ کینیڈا، برازیل، پاکستان، جاپان اور ساوتھ کوریا سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اور کئی ایونٹ بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی جنوبی افریقی ممالک کے لیے پروازوں کی بندش پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ سفری پابندیاں لگانے کی بجائے صحت سے متعلق عالمی قوائد وضوابط پر عمل کیا جائے سفری پابندیوں سے اومی کرون کے پھلاو کو روکنے میں کم مدد ملے گئی جبکہ عوامی اور معاشی مسائل زیادہ بڑھیں گے،ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 12 ویں وزارتی کانفرنس کو بھی ملتوی کر دیا ہے، کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ جنرل کونسل کے صدر نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا اور کہا کہ صحت کے لئے ضروری ہے کہ کام چلتا رہے، کانفرنس بعد میں منعقد کی جائے گی

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

  • چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    بیجنگ:چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے،اطلاعات کے مطابق چین نے ماہ اکتوبر میں اندرون ملک سے تعلق رکھنے والے کورونا وائرس کے نئے واقعات پر حال ہی کنٹرول قائم کیا ہے تو یانگزی ڈیلٹا کے اطراف میں واقع تین شہروں میں ایک نئی وبا منظر عام پر آئی ہے۔

    مقامی حکومت کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق بتایا گیا ہے کہ کل صبح شنگھائی میں 3 خواتین سہیلیوں کے ٹیسٹ مثبت آئے، خواتین کے قریبی رابطے میں ہونے والے 2 مزید افراد صوبہ سیسانگ کے شہر ہانگ چو میں اور 1 شخص سوکو شہر میں تھا۔ جن میں وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    یہ بتایا گیا ہے کہ خواتین گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہینگکو سے اپنے دو مرد دوستوں کے ساتھ سوکو میں رات کے کھانے پر ملی تھیں، اور اسی شہر میں گروپ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے ایک اور شخص کو کووڈ-19 پایا گیا تھا۔

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو گا کیونکہ ان کیسز پر فائلیشن سٹڈی جاری ہے جن کی اصل کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔

    خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں کوویڈ 19 کی ایک نئی قسم کی تشخیص کی ہے جس کے اندر میوٹیشنز کی بڑی تعداد موجود ہے۔سائنسدانوں نے اس کی وجہ کرونا (کورونا) کیسز میں بڑھتے ہوئے اضافے کو قرار دیا ہے۔

    سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس نئے وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقہ کو بڑی مقدار میں ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر ضرورت ہے۔

    برطانیہ کے ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ کے جینومکس انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جیفری بیرٹ نے کہا کہ ویکسینز بھیجنے کا وقت اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’نئے ویریئنٹ کو پھیلنے سے روکنے کے علاوہ تخلیقی انداز میں متاثرہ علاقوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقہ میں رواں ماہ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے کرونا کے کیسز کی تعداد میں 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

  • چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟   بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    بات ہے 2020 کے شروع کی میں جو کہ چائنا کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں طالب علم ہوں معمول کے مطابق چھٹیاں ہوئی تھی تو میں اپنے گھر ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں پاکستان آیا تو بیس یا پچیس دن کے بعد خبریں آنا شروع ہوگئی کہ چائنہ میں بہت زیادہ کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے۔ مجھے پاکستان کے کافی لوگ بھی پوچھتے تھے کہ اب ادھر کیسے حالات ہیں تو میں کہتا پھرتا تھا کہ حالات نارمل ہی ہیں اور کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم سب کو یہی تھا کہ حالات معمول کے مطابق ایک دو مہینے میں ٹھیک ہوجائیں گے اور ہم واپس چلے جائیں گے۔ حالات بدلتے گئے اور ہر ٹی وی چینل پہ آنا شروع ہو گیا کہ حالات بہت زیادہ خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

    ہم اپنی یونیورسٹی کی مینجمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے وہ ہمیں یہی کہہ رہے تھے آپ کا یہ والا سمسٹر آن لائن ہے اگلے سمسٹر سے آپ کو یونیورسٹی واپس بلا لیا جائے گا اور معمول کے مطابق آپ کی کلاسز شروع کروا دی جائیں گی۔

    تو جناب کرتے کرواتے ایک سال یوں ہی گزر گیا۔ تو جب اگلا سال شروع ہونا تھا تو یونیورسٹی نے ہم سے فیس کا مطالبہ کیا تو ہم جو کہ پاکستان میں تھے اور کورونا وائرس کی وجہ سے سب کے معاشی حالات جو تھے وہ اتنے زیادہ اچھے نہیں تھے۔ تو ہم نے یونیورسٹی سے بولا کہ ہمیں فیس میں رعایت دی جائے اور جتنی جلدی ہو سکے ہمیں واپس بھی بلایا جائے۔ یونیورسٹی نے ہماری ایک نہ سنی اور ہم سے پوری کی پوری فیس چارج کی۔ خیر کرتے کرواتے وہ سال بھی گزر گیا یا اور ہم ابھی تک پاکستان میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

    اب مسئلہ یہ بنا ہوا ہے ہم سب کے لیے کہ ہم چوتھے سال میں یا پانچویں سال میں ہو چکے ہیں اور ہماری کلاسز آن لائن ہی چل رہی ہیں۔ اور ہم جب بھی اپنی یونیورسٹی سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں کب واپس بلایا جائے گا ؟ تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ ہماری حکومت کرے گی ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ صرف سٹوڈنٹ ویزے والے ہی ہیں جو ملک میں واپس نہیں جا سکتے ہیں۔ جتنے بھی لوگ وہاں پر کام کرتے ہیں ان کو جانے کی اجازت ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں اور کدھر جائیں؟

    ہم جتنے بھی اسٹوڈنٹس ہیں ہم نے سوشل میڈیا پر بھی بڑی کوشش کی ہے اور اپنا پوائنٹ سب کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی۔ ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ہم تعلیم بے شک بیرون ملک حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمارا دل پاکستان میں ہی ہے۔ اور ہم پاکستانی ہی ہیں۔ تو خدارا ہمارے فیوچر کے ساتھ نہ کھیلا جائے اور کوئی نہ کوئی بات کی جائے تاکہ چینی حکومت ہمیں جلد از جلد اپنے ملک میں واپس بلا لے۔

    ہم میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے وزیروں اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو سارا کا سارا قصہ بتایا۔ لیکن بڑے دکھ کی بات ہے اور نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے بھی اس معاملے میں ہماری کوئی بھی مدد نہیں کی اب تک۔

    اور دوسری جانب جو پاکستان کے میڈیکل کا ادارہ ہے جس کو ہم پاکستان میڈیکل کمیشن کہتے ہیں۔ اس ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ جو بچے آن لائن ڈگری حاصل کر رہے ہیں ہم ان کو پاکستان میں پریکٹس کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ یہ تو ہمارے ساتھ ظلم ہے۔ ہمارے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں کہ اپنے دکھ اور کیفیت کو کیسے بیان کریں۔ ہمارے والدین بھی بہت زیادہ صدمے سے دوچار ہو رہے ہیں انہی حالات کی وجہ سے۔اب آپ ہی بتائیں کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا ہمارے جینے کی بھی وجہ بچتی ہے ؟ ہمارے والدین جو کہ بہت زیادہ خواب سجائے بیٹھے تھے ان سب کی آنکھیں بہت افسردہ نظر آتی ہیں۔

    انہی حالات کی وجہ سے ہم ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نہ صرف پیسے کا نقصان ہوتا جا رہا ہے بلکہ وقت کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ کی بات تو یہی ہے کہ ہمیں اپنا مستقبل بھی نظر نہیں آ رہا کہ کس طرف جائے گا۔ حالانکہ پاکستان میڈیکل کمیشن کو سوچنا تو یہ چاہیے کہ کرونا کے دوران ساری دنیا کے حالات اس طرح کے تھے کہ سٹوڈنٹس نے آن لائن کلاسز لیں ہیں۔ اگر پاکستان میڈیکل کمیشن ہمارا اتنا خیر خواہ ہے تو ہمیں پاکستان کے جو ٹیچنگ ہوسپٹلز ہیں ان میں روٹیشنز کی آفیشلی اجازت دے۔ یا پھر ہماری حکومت ایسے کرے کہ ہمیں کسی بھی طرح چین میں واپس بھیجے تاکہ ہم ادھر جا کے اپنی تعلیم باقاعدگی سے حاصل کر سکیں۔

    اور ہماری پاکستانی حکومت سے اور پاکستان میڈیکل کمیشن سے یہی گزارش ہے کہ جو بچے کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے آخری سال آن لائن لے چکے ہیں ان کی ڈگری کو تسلیم کیا جائے اور ان کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوسکیں۔

  • کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    سول ایوی ایشن (سی اے اے) کی جانب سے کورونا کی نئی قسم کے پیش نظر نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سول ایوی ایشن نے نیا سفر ہدایت نامہ پاکستان آنے والی فلائٹس سے متعلق جاری کیا ہے سی اے اے نے جنوبی افریقہ سمیت افریقہ کے 6 ملکوں اور ہانگ کانگ میں سفری پابندی عائد کر دی۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کیٹگری سی میں شامل ممالک کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے۔ کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے جنوبی افریقہ سمیت 7 ممالک کو کیٹگری سی میں شامل کیا گیا ہے کیٹگری سی کی فہرست میں شامل ممالک میں جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، موزمبیق، لیسوتھو، بوٹسوانہ، نمیبیا، ایسواتینی ہیں۔

    بیرون ملک سے آئے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان پہنچنے پر مسافروں کا ایئرپورٹ پر ریپد انٹیجن ٹیسٹ ہو گا سی اے اے کے مطابق کورونا مثبت آنے پر مسافروں کو سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب ملک میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا کیس سامنے آنے پراسرائیل نے چودہ دن کے لیے غیر ملکیوں کی اپنے ملک میں آمد پر پابندی عائد کر دی ہے اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی وفاقی کابینہ کی جانب سے سرحدیں مکمل طور پر بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور پابندی کا اطلاق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سے ہوچکا ہے۔

    غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے ویکسینیٹڈ اسرائیلی شہریوں کو بھی تین دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا جبکہ وہ اسرائیلی شہری جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی انہیں سات دن کے لیے قرنطینہ مکمل کرنا ہوگا۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    اسرائیل نے 50 افریقی ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے ان ممالک سے سفر کر کے اسرائیل آنے والے اسرائیلی شہریوں کو حکومت کی طرف سے متعین کردہ ہوٹلوں میں لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا اور ٹیسٹس کروانے ہوں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے مزید افریقی ممالک کیلئے پروازیں روک دی ہی ۔سعودی وزارت داخلہ نے ملاوی،زیمبیا،مڈغاسکر اور انگولا کے لیے پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب نے سیشلز، ماریشس اور کوموروس جزائر کیلئے بھی پروازیں روک دی ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری پابندی عائد کر دی

    دوسری جانب امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے اعلان کیا یے کہ وہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے لیے ویکسین کے بوسٹر شاٹ تیار کرے گی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی نے کورونا کے نئے ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے تین آپشنز پر مشتمل حکمت عملی میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اومی کرون سے بچنے کے لیےموجودہ ویکسین کی زیادہ خوراک استعمال کی جائے۔

    موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیفن بینسل نے کورونا کی نئی قسم کو تشویشناک قرار دیا ہےان کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نئی قسم کے خلاف اپنی حکمت عملی پر جلد عملدرآمد کریں۔

    پاکستان میں مزید 303 کورونا کیسز رپورٹ

    دوسری جانب یورپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹرزکا کہنا ہے کہ وہ نئی قسم کا جائزہ لے رہے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اومی کرون کے لیے نئی ویکسین کی ضرورت ہے یا نہیں اومی کرون سے متعلق معلومات ابھی نا کافی ہیں ان معلومات سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قسم زیادہ پھیلے گی یا ویکسین سے حاصل کی گئی مدافعت اس کے لیے کافی نہیں ہوگی یہ جاننے میں کچھ وقت لگے گا کہ اومی کرون کے لیے کسی نئی میڈیسن کی ضروت ہو گی یا نہیں۔

    کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں انکشاف ہوا اور اس کے بعد یہ وائرس بیلجیئم، بوٹسوانا، اسرائیل، ہانگ کانگ اور یورپی ممالک میں بھی پایا گیا ہے۔

    کورونا وائرس کی نئی اور خطرناک ترین قسم اومی کرون یورپ بھی پہنچ گئی غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی نئی قسم اومی کرون جرمنی، اٹلی اور برطانیہ بھی پہنچ گئی ہے جرمنی کے وزارت صحت کے حکام کے مطابق جنوبی جرمنی کی ریاست باویریا میں نئےکورونا وائرس کے دو کیسز اور ایک مشتبہ کیس ملک کے مغرب میں پایا گیا ہے۔

    سب سے پہلے جنوبی افریقہ سے واپس آنے والے ایک شخص میں اومی کرون کی علامات کی تشخیص ہوئی ہے۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ برطانیہ میں اومی کرون وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز ہیں، ایک کیس چیلمسفورڈ اور ایک ناٹنگھم میں پایا گیا ہے دونوں افراد حال ہی میں جنوبی افریقہ کے سفر سے واپس آئے تھے۔

    اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ موزمبیق سے میلان واپس آنے والے ایک شخص میں اومیکرون کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اس کے علاوہ چیک ریپبلک میں بھی نئے ویرینٹ کا ایک مشتبہ کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی بتایا گیا ہے کہ یہ قسم کورونا کی پہلے سے معلوم اقسام سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ابھی اس نئی قسم کے بارے میں مکمل سائنسی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ۔ کینیڈا، برازیل، پاکستان، جاپان اور ساوتھ کوریا سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اور کئی ایونٹ بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کا ویمن ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائر میچ منسوخ کردیا گیا تھائی لینڈ بمقابلہ امریکہ اور پاکستان بمقابلہ زمباوے میچز شیڈول کے مطابق ہوں گےورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 12 ویں وزارتی کانفرنس کو بھی ملتوی کر دیا ہے، کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ جنرل کونسل کے صدر نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا اور کہا کہ صحت کے لئے ضروری ہے کہ کام چلتا رہے، کانفرنس بعد میں منعقد کی جائے گی-

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی-

  • پاکستان میں مزید 303 کورونا کیسز رپورٹ

    پاکستان میں مزید 303 کورونا کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید5 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 36 ہزار979 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 303 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 84 ہزار89 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد28ہزار709 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.81فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 75ہزار284، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 79 ہزار928، پنجاب میں 4 لاکھ 42 ہزار950،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار626، بلوچستان میں 33 ہزار479، آزاد کشمیر میں 34 ہزار547 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار411 ہو گئی ہے۔

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار16افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار621، خیبرپختونخوا 5 ہزار833، اسلام آباد 952، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 359 اور آزاد کشمیر میں 742 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری پابندی عائد کر دی

    کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری پابندی عائد کر دی

    اسلام آباد:کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری پابندی عائد کر دی،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ آنے کے بعد 6 افریقی ممالک اور ہانگ کانگ پر سفری پابندی عائد کر دی ہے۔

    پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ آنے کے بعد 6 افریقی ممالک اور ہانگ کانگ پر سفری پابندی عائد کر دی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سنٹر (این سی او سی) نے ٹویٹر پر نوٹیکفیشن جاری کر دیا ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سنٹر کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں جنوبی افریقا، ہانگ کانگ، نمیبیا، بوٹسوانا، لیسوتھو ، موزمبیق ، اسواتینی شامل ہیں۔

     

    این سی او سی نے ٹویٹر پر لکھا کہ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ سامنے آنے کے بعد ان ممالک کو کیٹیگری سی میں شامل کر لیا گیا ہے اور ان ممالک سے براہ راست / بالواسطہ اندرون ملک سفر پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق ان ممالک سے پاکستان سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو ایمرجنسی کی صورت میں ہی آنے کی اجازت ہوگی، شہریوں کے لیے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ اور بورڈنگ سے 72 گھنٹے پرانا کورونا منفی ٹیسٹ لازمی ہوگا۔ آنے والے مسافروں کے لیے ریپڈ ٹیسٹ بھی لازمی ہوگا، ٹیسٹ تیسرے روز سول ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کیا جائے گا، پازیٹو آنے کی صورت میں مسافروں کو مزید 10 روز کے لیے قرنطینہ کرنا ہوگا، پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی مدد کے لیے 5 دسمبر تک شہریوں کو داخلے پر استشنی ہوگا، سول ایوی ایشن حکام 29 نومبر تک متعلقہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی فہرست مرتب کریں گے۔

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سنٹر (این سی او سی) اسد عمر نے ٹویٹر پر تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ دنیا بھر میں نیا کورونا وائرس کا ویرینٹ آنے کے بعد 6 جنوبی افریقی ممالک اور ہانگ کانگ پر سفری پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

     

    انہوں نے مزید لکھا کہ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ آنے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ 12 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام شہریوں کو جلد از جلد ویکسین لگائی جائے۔

    یاد رہے کہ عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی منظرعام پر آنے والی نئی قسم انتہائی ‘باعثِ تشویش‘ ہے اور ابتدائی شواہد کے مطابق اس نئی قسم میں ری انفیکشن کا خطرہ دیگر اقسام سے زیادہ ہے۔ کورونا کی اس نئی قسم کو اومیکورن کا نام دیا گیا ہے اور اس کے پہلے کیسز جنوبی افریقا میں دریافت کیے گئے تھے۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں کورونا وائرس کا تیزی سے منتقل ہونے والا نیا ویرینٹ رپورٹ ہونے کے بعد کئی ممالک نے جنوبی افریقا سمیت مختلف افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

     

     

  • کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    نیشنل یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے جنوبی افریقہ میں کرونا کی نئی قسم کے حوالہ سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین بہت حد تک اس ویرینٹ کو قابو کرسکتی ہے، یہ ویرینٹ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں بہت خطرناک ہے، اس سے بچنے کے لیے سخت اقدامات اُٹھانے پڑے گے، یہ ویرینٹ پھیپھڑوں کو مکمل طور پر تباہ کردیتا ہے، سب سے پہلے ہم نے جلد سے جلد اپنے ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرنا ہے، جلد سے جلد لوگوں کو ویکسین لگانی ہے

    کورونا کی نئی قسم کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی سفر ی پابندیاں عائد کر دیں،نو افریقی ممالک سے صرف نیوزی لینڈ کے شہری ہی واپس آ سکیں گے، شہریوں کو ملک میں داخلے سے پہلے 14 دن کے لیے قرنطینہ ہونا ہو گا،جنوبی افریقا سے نیدرلینڈز جانے والی 2 پروازوں میں 61 مسافروں میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے ،نیدرلینڈز محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس مثبت افراد میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون ویرینٹ کی جانچ جاری ہے، جنوبی افریقا سے آنے والے کورونا مریضوں کو ہوٹل میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے،

    دوسری جانب سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کا ویمن ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائر میچ منسوخ کردیا گیا تھائی لینڈ بمقابلہ امریکہ اور پاکستان بمقابلہ زمباوے میچز شیڈول کے مطابق ہونگے

    کورونا کی نئی قسم ،مختلف ممالک نے افریکی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی ،عالمی ادارہ صحت نے جنوبی افریقی کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘کا نام دے دیا‏ ،عالمی اداراہ صحت کے مطابق کورونا وبا کی نئی اور زیادہ مہلک قسم او میکرون سامنے آ گئی. یورپ نے جنوبی افریقی ریجن کے ساتھ تمام سفری راستے منقطع کردیئے امریکا، کینیڈا، فرانس ،ہالینڈ ، مراکش یو اے ای اور بحرین نے بھی سفری پابندیوں کا فیصلہ کر لیا جنوبی افریقہ میں 5دسمبر سے ہونے والا جونیئر وومن ہاکی ورلڈ کپ روک دیا برطانیہ میں ایک ماہ کے دوران کورونا کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں برطانوی ماہرین نے کورونا کی نئی قسم کو زیادہ پریشان کن وائرس قرار دے دیا

    کورونا کی نئی قسم کے پھیلنے کا خدشہ،آسٹریلیا نے 9  افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دیں جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو، ملاوی اور موزمبیق پر پابندیاں عائد کر دی گئی آسٹریلوی شہریوں کو 14 دن کے قرنطینہ کے بعد ملک میں داخلے کی اجازت ہو گی ،دوسری جانب بھارت میں بھی کرونا کے نئے وائرس سے بچاؤ کے لئے بھارتی وزیراعظم مودی نے اجلاس طلب کر لیا ہے.،اجلاس میں بھارت میں کرونا ویکسین کے حوالہ سے بھی بات چیت ہو گی جبکہ مودی محکمہ صحت کے افسران کو ہدایات دیں گے ،مودی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کابینہ سیکرٹری،وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا، ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن اور نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال و دیگر افسران شریک ہوں گے

    دوسری جانب دہلی کےوزیراعلیٰ کیجریوال نے جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم آنے پر بھارتی وزیراعظم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ کوروناکی نئی قسم سے بچنے کے لئے متاثرہ ملکوں کی پروازیں بند کی جائیں بڑی مشکل سے بھارت میں کورونا پرقابو پایا گیا ،کوروناکی نئی قسم کوروکنے کے لئےہمیں ہرممکن قدم اٹھانے ہوں گے,بھارت کی مرکزی وزارت صحت نے تمام ریاستوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان تین ممالک کا سفر کرنیوالے مسافروں پر نظر رکھیں اور انکے ٹیسٹ کروائیں، بھارتی سیکرٹری صحت نے ریاستوں کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ کرونا کی نئی قسم سامنے آچکی ہے اسلئے انٹرنیشنل سفر کرنیوالے مسافروں کے کرونا ٹیسٹ لازمی کروائیں ، جو افراد ان ممالک کا سفر کر چکے انکا پتہ لگایا جائے اور انکے ٹیسٹ کروائے جائیں، دوسری جانب برطانیہ نے بھی چھ افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے

    ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 12 ویں وزارتی کانفرنس کو بھی ملتوی کر دیا ہے، کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ جنرل کونسل کے صدر نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا اور کہا کہ صحت کے لئے ضروری ہے کہ کام چلتا رہے، کانفرنس بعد میں منعقد کی جائے گی

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

  • پاکستان میں مزید411 کورونا کیسز رپورٹ،7 افراد جاں بحق

    پاکستان میں مزید411 کورونا کیسز رپورٹ،7 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید7افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44 ہزار598 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید411 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون”،آئی سی سی کی ویمن ٹیموں کو دبئی پہنچانے کیلئے کوششیں تیز

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 83 ہزار886 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد28 ہزار704 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.92فیصد رہی۔

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 75ہزار97، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 79 ہزار888، پنجاب میں 4 لاکھ 42 ہزار876،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار601، بلوچستان میں 33 ہزار471، آزاد کشمیر میں 34 ہزار542 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار411 ہو گئی ہے۔

    یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار15افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار620، خیبرپختونخوا 5 ہزار830، اسلام آباد 952، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 359 اور آزاد کشمیر میں 742 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    جنوبی افریقہ میں کرونا کی نئی قسم، ممالک نے سفری پابندیاں عائد کر دی

    چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا کر رکھ دی تھی، لاک ڈاؤن اب کرونا کیسز کم ہونے کی وجہ سے ختم ہو رہے تھے، بازار، تعلیمی ادارے کھل رہے تھے کہ اب ایک اور کرونا کی نئی قسم سامنے آئی ہے جس سے ایک بار پھر تہلکہ مچ گیا ہے اور خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ایک بار پھر زندگی کے معمولات لاک ڈاؤن کی طرف جا سکتے ہیں

    کرونا وائرس کی نئی قسم جنوبی افریقہ میں سامنے آئی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ سب سے تبدیل شدہ قسم ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کی بدترین قسم ہے، کرونا کے حوالہ سے ویکسین اس قسم کے لئے کام کرے گی یا نہیں کچھ نہیں کہا جا سکتا، جنوبی افریقا، ہانگ کانگ، بوٹسوانا میں اب تک اس نئی قسم کے 59 کرونا مریض سامنے آ چکے ہیں ،

    کرونا وائرس کی مختلف شکلیں سامنے آئیں، سائنسدان نظر رکھتے ہیں کہ کرونا کی نئی شکل کتنی خطرناک ہو سکتی ہے اور کیا کرونا ویکسین اس پر مؤثر ہو سکتی ہے یا نہیں، کرونا کی نئی قسم کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اب نئی قسم بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے،پچھلے تین چار دنوں میں نئی قسم کے کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ فی الحال B.1.1.529 کے طور پر کرونا کی نئی قسم کو شناخت کیا گیا ہے، نئی شکل بوٹسوانا اور ہانگ کانگ میں بھی جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافروں میں پائی گئی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تکنیکی ورکنگ گروپ کی آج میٹنگ ہونی ہے تاکہ نئی شکل کا جائزہ لیا جا سکے ،

    جنوبی افریقہ کی سات یونیورسٹیوں کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر تحقیق کر رہی ہے، وزیر صحت فاہلہ کا کہنا ہے کہ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ پی سی آر ٹیسٹ سے اس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جنوبی افریقہ میں اوسطا 200 سے زائد نئے مریض سامنے آ رہے تھے، تا ہم گزشتہ ہفتے اس میں اضافہ ہوا اور ایک روز میں کرونا مریضوں کی تعداد 200 سے بڑھ کر 1200 تک پہنچ چکی ہے

    کیمبرج یونیورسٹی میں کلینیکل مائکرو بایولوجی کے پروفیسر رویندر گپتا کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک ایسی قسم ہے جس کے بارے میں ہمیں بہت سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اس میں اسپائک میوٹیشنز کی ایک بڑی تعداد ہے جو منتقلی اور مدافعتی ردعمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ گپتا نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں سائنس دانوں کو یہ تعین کرنے کے لیے وقت درکار ہے کہ آیا نئے کیسز میں اضافے کی وجہ نئے قسم ہے۔ جنوبی افریقی سائنسدانوں نے اس کی فوری شناخت کرنے اور اسے دنیا کی توجہ میں لانے کا ایک ناقابل یقین کام کیا ہے۔

    جنوبی افریقہ کے تقریباً 41% بالغوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے قومی محکمہ صحت کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نکولس کرسپ کے مطابق، جنوبی افریقہ کے پاس ویکسین کی تقریباً 16.5 ملین خوراکیں موجود ہیں اور اگلے ہفتے میں تقریباً 2.5 ملین مزید ڈیلیوری کی توقع ہے۔60 ملین کی آبادی کے ساتھ جنوبی افریقہ میں 2.9 ملین سے زیادہ کرونا کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں 89,000 سے زیادہ اموات بھی شامل ہیں۔

    بھارت کی مرکزی وزارت صحت نے تمام ریاستوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان تین ممالک کا سفر کرنیوالے مسافروں پر نظر رکھیں اور انکے ٹیسٹ کروائیں، بھارتی سیکرٹری صحت نے ریاستوں کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ کرونا کی نئی قسم سامنے آچکی ہے اسلئے انٹرنیشنل سفر کرنیوالے مسافروں کے کرونا ٹیسٹ لازمی کروائیں ، جو افراد ان ممالک کا سفر کر چکے انکا پتہ لگایا جائے اور انکے ٹیسٹ کروائے جائیں، دوسری جانب برطانیہ نے بھی چھ افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے برطانیہ کے سیکریٹری صحت ساجد جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ جمعہ کی دوپہر 12 بجے (جی ایم ٹی) سے چھ ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور یہاں سے تمام پروازوں پر عارضی طور پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برطانیہ نے جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو اور ایسواتینی جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا