Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پاکستان میں کوروناسے مزید 9 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کوروناسے مزید 9 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 38 ہزار38 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 350 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 82 ہزار860 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار677 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.92 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 74ہزار573، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 79 ہزار720، پنجاب میں 4 لاکھ 42 ہزار638،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار525، بلوچستان میں 33 ہزار456، آزاد کشمیر میں 34 ہزار538 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار410 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار5افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار613، خیبرپختونخوا 5 ہزار821، اسلام آباد 952، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 358 اور آزاد کشمیر میں 742 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • یورپ میں کورونا سے مزید7 لاکھ اموات کا خدشہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے وارننگ جاری کردی

    یورپ میں کورونا سے مزید7 لاکھ اموات کا خدشہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے وارننگ جاری کردی

    پیرس :یورپ میں کورونا سے مزید7 لاکھ اموات کا خدشہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے وارننگ جاری کردی،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مارچ 2022 تک یورپ میں کورونا وائرس سے مزید 7لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کردیا۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے حالیہ عرصے میں یورپ میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر یہی صورت حال رہی تو مارچ 2022 تک وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ کر 22 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافے کے باعث اسپتالوں کے خصوصی نگہداشت کے شعبوں پر دباؤ میں اضافےکا بھی خدشہ ہے۔

    خیال رہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں یورپ میں کورونا کیسز میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ اور آسٹریا میں متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد حکومتوں کی جانب سے نئی پابندیاں بھی لگائی جارہی ہیں۔

    ادھر ذرائع کے مطابق آسٹریا ، آسٹریلیا،بلجئیم اور دیگریورپین ملکوں میں کورونا کیسز میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

    اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے نئی کووڈ پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ، سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ادھر آسٹریلیا میں بھی مظاہرے جاری ہیں‌

    تفصیلات کے مطابق ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں نئی کوویڈ پابندیوں کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات پر پولیس کی جانب سے انتباہی گولیاں چلائی گئی جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پولیس افسران بھی شامل ہیں، ملک بھر سے یونٹس کو کو روانہ کردیا گیا ہے۔

    پرتشدد اور بدامنی کا آغاز کچھ ڈچ شہریوں کی جانب سے کیا گیا جو کووڈ کی ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے خلاف پابندیوں پر باہر نکلے تھے۔

    فسادات کے آغاز میں پولیس نے واٹر کینن کی مدد سے سینکڑوں مظاہرین کو منتقل کرنے کی کوشش کی جبکہ پولیس افسران نے روٹرڈیم میں ہنگامی صورت حال کا آرڈینس جاری کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا اور لوگوں کو گھر جانے کا حکم دیا۔

    روٹرڈیم پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امن عامہ کی بحالی کے لیے پولیس کی زیادہ سے زیادہ تعیناتی ضروری ہے۔ ایمرجنسی آرڈر ابھی بھی نافذ ہے۔

    پولیس کی ترجمان پیٹریشیا ویسلز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ “ہم نے انتباہی گولیاں چلائیں اور براہ راست گولیاں بھی چلائی گئیں کیونکہ صورتحال جان لیوا ہوگئی تھی۔

    ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ انتباہی گولیوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن ہمیں اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

    حکومت کے مطابق وہ ایک ایسا قانون متعارف کروانا چاہتے ہیں جس سے کاروباروں کو ملک کے کورونا وائرس پاس سسٹم کو صرف ان لوگوں تک محدود رکھنے کی اجازت ملے گی جو مکمل طور پر ویکسین لگوا چکے ہوں اور کوویڈ 19 سے صحت یاب ہو چکے ہیں یا پھر ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کا ٹیسٹ منفی آیا ہوں۔

    یاد رہے کہ پاکستان پراللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے اوربہت زیادہ آبادی بہت کم وسائل کے باوجود پاکستان اس بیماری سے باہرنکلنے میں‌ کامیاب ہوگیا ہے

  • یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے

    یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے

    آسٹریا :یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے ،اطلاعات کے مطابق آسٹریا میں کورونا وائرس کے مسلسل بڑھتے ہوئے دیگر انفیکشنز کو روکنے کے لیے دوبارہ ملک گیر لاک ڈاؤن نافذکر دیا گیا ہے۔

    کووڈ انیس کی موجودہ لہر کے دوران آسٹریا میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی روزانہ تعداد حالیہ ہفتوں میں تین گنا ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبے بھی شدید دباؤ میں ہیں۔

    آج سے شروع ہونے والا لاک ڈاؤن دس دن کے لیے ہے مگر اس میں مزید دس روز کی توسیع ممکن ہے۔اس دوران عام شہریوں کو صرف اشیائے خوراک کی خریداری یا ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے ہی گھروں سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔

    ادھرطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے نئی کووڈ پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ، سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ادھر آسٹریلیا میں بھی مظاہرے جاری ہیں‌

    تفصیلات کے مطابق ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں نئی کوویڈ پابندیوں کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات پر پولیس کی جانب سے انتباہی گولیاں چلائی گئی جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پولیس افسران بھی شامل ہیں، ملک بھر سے یونٹس کو کو روانہ کردیا گیا ہے۔

    پرتشدد اور بدامنی کا آغاز کچھ ڈچ شہریوں کی جانب سے کیا گیا جو کووڈ کی ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے خلاف پابندیوں پر باہر نکلے تھے۔

    فسادات کے آغاز میں پولیس نے واٹر کینن کی مدد سے سینکڑوں مظاہرین کو منتقل کرنے کی کوشش کی جبکہ پولیس افسران نے روٹرڈیم میں ہنگامی صورت حال کا آرڈینس جاری کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا اور لوگوں کو گھر جانے کا حکم دیا۔

    روٹرڈیم پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امن عامہ کی بحالی کے لیے پولیس کی زیادہ سے زیادہ تعیناتی ضروری ہے۔ ایمرجنسی آرڈر ابھی بھی نافذ ہے۔

    پولیس کی ترجمان پیٹریشیا ویسلز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ “ہم نے انتباہی گولیاں چلائیں اور براہ راست گولیاں بھی چلائی گئیں کیونکہ صورتحال جان لیوا ہوگئی تھی۔

    ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ انتباہی گولیوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن ہمیں اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

    حکومت کے مطابق وہ ایک ایسا قانون متعارف کروانا چاہتے ہیں جس سے کاروباروں کو ملک کے کورونا وائرس پاس سسٹم کو صرف ان لوگوں تک محدود رکھنے کی اجازت ملے گی جو مکمل طور پر ویکسین لگوا چکے ہوں اور کوویڈ 19 سے صحت یاب ہو چکے ہیں یا پھر ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کا ٹیسٹ منفی آیا ہوں۔

    یاد رہے کہ پاکستان پراللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے اوربہت زیادہ آبادی بہت کم وسائل کے باوجود پاکستان اس بیماری سے باہرنکلنے میں‌ کامیاب ہوگیا ہے

  • ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے کورونا کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ "بوسٹر ڈوز” ضروری

    ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے کورونا کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ "بوسٹر ڈوز” ضروری

    واشنگٹن: امریکی طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے نوول کورونا وائرس کا شکار ہونے کے امکانات زیاہ ہیں-

    باغی ٹی وی:امریکی محققین نے خبردار کیا ہے کہ دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کی طرح ذہنی امراض میں مبتلا افراد کےلیے بھی کووِڈ 19 میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں س لیے انہیں ویکسی نیشن مکمل ہوجانے کے بعد بھی ویکسین کی ایک اور اضافی خوراک یعنی ’تقویتی ٹیکے‘ (بوسٹر ڈوز) ترجیحی بنیادوں پر لگائے جائیں۔

    ڈپریشن کی عام اور کم خرچ دوا بھی کورونا وائرس کی شدت کم کرتی ہے ڈبلیو ایچ او

    محققین نے ییل نیو ہیون ہیلتھ سسٹم کے پانچ اسپتالوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کورونا مثبت کے ساتھ اسپتال آنے والے ذہنی امراض میں مبتلا افراد میں کیا پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔

    ہیرس سینٹر فار مینٹل ہیلتھ اینڈ آئی ڈی ڈی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر لومنگ لی نے بھی بتایا تھا کہ ہم نے تحقیق کے دوران یہ پایا کہ نفسیاتی اور ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے کورونا سے ہلاک ہونے کی شرح زیادہ تھی۔

    کورونا وائرس سے بچانے والا اسپرے

    ماہر نفسیات ڈاکٹر لومنگ لی نے مزید بتایا کہ عام لوگوں کے مقابلے میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی کورونا وائرس سے موت کا خطرہ 50 فیصد زیادہ ہے اس لیے بوسٹر ڈوز کےلیے ذہنی امراض کو ترجیح میں رکھا جائے۔

    ماہرین نفسیات نے اپنی یہ رپورٹ امریکی حکومت کو بھیج دی ہے جس کی بنیاد پر وہاں بوسٹر ڈوز لگانے کی مہم میں دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے ساتھ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو بھی ترجیحی بنیاد پر بوسٹر ڈوز لگائی جائے گی۔

    کورونا سے بچاؤ کے لیے کیپسول تیار

    اس سے قبل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے زیرِ انتظام برازیل میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ ڈپریشن کی عام اور کم خرچ دوا ’فلوووکسامائن‘ (fluvoxamine) بھی کورونا وائرس کی شدت کم کرتی ہے ادویہ سے متعلق امریکی ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے ڈپریشن کے علاج کےلیے 2007 میں فلوووکسامائن کی منظوری دی تھی جو مختلف تجارتی ناموں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام دستیاب ہے۔

    برازیل میں اس دوا کی آزمائشیں اقوامِ متحدہ کے ’ٹوگیدر‘ (TOGETHER) پروگرام کے تحت برازیل میں اس سال 15 جنوری سے 6 اگست تک جاری رہیں، جن کی نگرانی عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا ایک پینل کررہا تھا۔

  • کورونا وبا: پاکستان میں مزید 5 افراد جاں بحق

    کورونا وبا: پاکستان میں مزید 5 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوگئے-

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری تازہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 35 ہزار332 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید315کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 82 ہزار510 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار668 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.89فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 74ہزار407، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 79 ہزار644، پنجاب میں 4 لاکھ 42 ہزار556،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار506، بلوچستان میں 33 ہزار453، آزاد کشمیر میں 34 ہزار536 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار408 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار2افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار611، خیبرپختونخوا 5 ہزار818، اسلام آباد 952، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 358 اور آزاد کشمیر میں 741 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • یورپ : کورونا وائرس کے باعث مزید 5 لاکھ افراد کی اموات کا خدشہ

    یورپ : کورونا وائرس کے باعث مزید 5 لاکھ افراد کی اموات کا خدشہ

    لندن: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے یورپ میں کورونا وائرس کے باعث مزید 5 لاکھ افراد کی اموات کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر جان کلیوگ نے کورونا وائرس کی نئی لہر کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں مارچ 2022 تک مزید 5 لاکھ افراد کی اموات ہو سکتی ہیں اگر کورونا وائرس کے خلاف کوئی فوری ایکشن نہیں لیا گیا تو یہ بڑی تباہی مچا دے گا۔ ویکسین کی قلت، سردیاں اور علاقائی سطح پر میل جول ڈیلٹا ویرینٹ کو تیز سے پھیلانے کا سبب بنے گا۔

    ڈاکٹر جان کلیوگ نے کہا کہ ماسک کے ذریعے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اور کورونا ویکسین کی فراہمی سمیت کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے ذریعے کورونا کی تازہ لہر سے لڑا جا سکتا ہے کورونا ایک بار پھر خطے میں ہلاکتوں کی بڑی وجہ بن رہا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے کیا کرنا ہے ایک بار پھر کورونا سے بچاؤ کی روک تھام کی ضرورت ہے۔

    یورپ :کورونا وبا کی چوتھی لہر،آسٹریا میں ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان

    دوسری جانب جرمن وزیر صحت نے کہا ہے کہ ملک میں بڑی تیزی سے کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی ہے اور امکان ہے کہ جس کسی نے بھی ویکسینیشن نہیں کروائی ہے اس موسم سرما کے اختتام تک وبا میں مبتلا ہوجائے گا اور ان میں کچھ لوگ موت کا شکار بھی ہوجائیں گےکورونا کا ڈیلٹا ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے اسی وجہ سے لوگوں کو جلد از جلد ویکسین لگوانے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

    جرمن وزیر صحت جینز اسپاہن کا کہنا تھا کہ ڈیلٹا ویرینٹ کی وجہ سے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لوگ جتنی جلدی ہوسکے ویکسین کروائیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں ایسی صورتحال ہوگی کہ لوگ ویکسین کروالیں، کورونا سے بچ جائیں یا مر جائیں، جرمنی میں اب تک 68 فیصد آبادی نے مکمل ویکسینیشن کرائی ہے، جرمنی میں حالیہ ہفتوں میں کورونا کے ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس وقت کئی ممالک میں ایک بار پھر کورونا کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کچھ ممالک نے دوبارہ لاک ڈاؤن بھی لگا دیا ہے۔

    کورونا میں مبتلا ماؤں کے ہاں مردہ بچےکی پیدائش کا خطرہ دو گنا ہو جاتا ہے امریکی تحقیق

  • کورونا وبا: مزید 4 افراد جاں بحق ، 313 کیسز رپورٹ

    کورونا وبا: مزید 4 افراد جاں بحق ، 313 کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 4 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 40ہزار19کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید313 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 81 ہزار872 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 659 ہو گئی ہےاور مثبت کیسز کی شرح 0.78فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 74ہزار58، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 79 ہزار553، پنجاب میں 4 لاکھ 42 ہزار422،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار467، بلوچستان میں 33 ہزار434، آزاد کشمیر میں 34 ہزار532 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار406 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 12 ہزار 997افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار611، خیبرپختونخوا 5 ہزار814، اسلام آباد 952، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 358 اور آزاد کشمیر میں 741 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • اہل پاکستان کےلیے مقام شکر:کئی ملکوں میں کورونا کی تباہی جاری: لوگوں نے تنگ آکراحتجاج شروع کردیا

    اہل پاکستان کےلیے مقام شکر:کئی ملکوں میں کورونا کی تباہی جاری: لوگوں نے تنگ آکراحتجاج شروع کردیا

    روٹرڈیم: اہل پاکستان کےلیے مقام شکر:دنیا ابھی کورونا کی لپیٹ میں کئی ملکوں میں لوگوں نے تنگ آکراحتجاج شروع کردیا ،اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے نئی کووڈ پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ، سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ادھر آسٹریلیا میں بھی مظاہرے جاری ہیں‌

    یاد رہے کہ پاکستان پراللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے اوربہت زیادہ آبادی بہت کم وسائل کے باوجود پاکستان اس بیماری سے باہرنکلنے میں‌ کامیاب ہوگیا ہے

    تفصیلات کے مطابق ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں نئی کوویڈ پابندیوں کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات پر پولیس کی جانب سے انتباہی گولیاں چلائی گئی جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پولیس افسران بھی شامل ہیں، ملک بھر سے یونٹس کو کو روانہ کردیا گیا ہے۔

     

     

     

     

    پرتشدد اور بدامنی کا آغاز کچھ ڈچ شہریوں کی جانب سے کیا گیا جو کووڈ کی ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے خلاف پابندیوں پر باہر نکلے تھے۔

    فسادات کے آغاز میں پولیس نے واٹر کینن کی مدد سے سینکڑوں مظاہرین کو منتقل کرنے کی کوشش کی جبکہ پولیس افسران نے روٹرڈیم میں ہنگامی صورت حال کا آرڈینس جاری کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا اور لوگوں کو گھر جانے کا حکم دیا۔

    روٹرڈیم پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امن عامہ کی بحالی کے لیے پولیس کی زیادہ سے زیادہ تعیناتی ضروری ہے۔ ایمرجنسی آرڈر ابھی بھی نافذ ہے۔

    پولیس کی ترجمان پیٹریشیا ویسلز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ “ہم نے انتباہی گولیاں چلائیں اور براہ راست گولیاں بھی چلائی گئیں کیونکہ صورتحال جان لیوا ہوگئی تھی۔

    ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ انتباہی گولیوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن ہمیں اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

    حکومت کے مطابق وہ ایک ایسا قانون متعارف کروانا چاہتے ہیں جس سے کاروباروں کو ملک کے کورونا وائرس پاس سسٹم کو صرف ان لوگوں تک محدود رکھنے کی اجازت ملے گی جو مکمل طور پر ویکسین لگوا چکے ہوں اور کوویڈ 19 سے صحت یاب ہو چکے ہیں یا پھر ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کا ٹیسٹ منفی آیا ہوں۔

    یاد رہے کہ ہالینڈ میں کورونا وائرس کے ریکارڈ کیسز سامنے آنے کے بعد ایک ہفتہ قبل جزوی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    ادھردوسری طرف آسٹریلیا میں کورونا ویکسین کو لازمی قرار دینے کے خلاف ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز کووڈ 19 ویکسین کو لازمی قرار دیے جانے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جب کہ اس موقع پرعوام کی کچھ تعداد نے حکومتی اقدامات کی حمایت میں بھی مظاہرہ کیا۔

    رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا میں 16 سال اور اس سے اوپر کے 85 فیصد افراد کو مکمل کورونا ویکسین لگائی جاچکی ہے، ملکی سطح پر کورونا ویکسین کو رضاکارانہ قرار دیا گیا ہے تاہم بعض ریاستوں کی جانب سے متعدد پیشوں میں ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے اور ویکسی نیشن نہ کرانے والوں کو پیشہ ورانہ سرگرمیوں سمیت کانسرٹس اور ہوٹلوں میں جانے سے روکا جارہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز آسٹریلیا کے شہروں سڈنی، برسبین اور پرتھ میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، اس موقع پر پولیس کی سخت سکیورٹی تعینات تھی۔

    ریلیوں میں شامل مظاہرین نے آزادی کے نعرے لگائے اور ’ان ویکس لائیوز میٹر‘ کے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جب کہ ہزاروں افراد نے ویکسی نیشن کے خلاف میلبرن کی گلیوں میں بھی مارچ کیا۔

    آسٹریلیا کے مقامی میڈیا کا کہناہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ طویل لاک ڈاؤن میلبرن میں نافذ کیا گیا تھا۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہےکہ عوام کی بڑی تعداد میں کورونا کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی پر بھی تشویش پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام ویکسی نیشن سے متعلق ہونے والی قانون سازی پر بھی مشتعل ہیں۔

  • کورونا میں مبتلا ماؤں کے ہاں مردہ بچےکی پیدائش کا خطرہ دو گنا ہو جاتا ہے    امریکی تحقیق

    کورونا میں مبتلا ماؤں کے ہاں مردہ بچےکی پیدائش کا خطرہ دو گنا ہو جاتا ہے امریکی تحقیق

    امریکا میں کی گئی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا میں مبتلا ماؤں کے ہاں مردہ بچوں کی پیدائش کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کےمطابق یہ تحقیق کی رپورٹ 12 لاکھ سےزیادہ کیسزکےجائزےکےبعد مرتب کی گئی ہے۔

    امریکا میں ہوئی اس نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا میں مبتلا ماؤں کے ہاں مردہ بچےکی پیدائش کا خطرہ دو گناہوجاتا ہے جبکہ کورونا کےڈیلٹا ویریئنٹ کی شدید لہر کےدوران یہ خدشہ چارگنا دیکھا گیا ۔

    اس سے قبل امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ کبھی بھی کورونا وائرس کے ابتدا کے بارے میں نشاندہی نہ کر سکیں امریکہ کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کا قدرتی ماخذ اور لیبارٹری سے وائرس کا لیک ہونا دونوں قابل فہم مفروضے ہیں۔ رپورٹ میں کورونا وائرس کو ایک حیاتیاتی ہتھیار سمجھنےکےمفروضےکومسترد کردیاگیا ہے۔

    یاد رہے کہ کورونا کا پہلا کیس چین میں دسمبر 2019میں رپورٹ ہو اتھا جسےووہان شہر کی ایک سی فوڈ مارکیٹ سے جوڑا گیا تھا۔ بہت سے ماہرین نے یہ خیال بھی ظاہر کیاتھا کہ یہ وائرس ووہان کی ایک خفیہ لیبارٹری میں تیار کیاگیا ہے-

    واضح رہے کہ یورپ میں کورونا وبا نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے یورپ میں کورونا وبا کی بگڑتی صورت حال پر وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ خدشہ ہے اکتوبر نومبر میں یورپ کورونا وبا سے مزید شدید متاثر ہوگا اور ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

    یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ کا کہنا تھا کہ یہ ایسا وقت ہے کہ کئی ممالک بری خبر سننا نہیں چاہتے، ہم ان کی یہ خواہش سمجھ سکتے ہیں یہ تاثر کہ ویکسین آنے سے وبا ختم ہو جائے گی ایسا ہرگز نہیں، ہم یہ نہیں جانتے کہ ویکسین ہر فرد کے لیے یکساں کارآمد ہوگی عالمی وبا کا اختتام تب ہو گا جب ہم اس کے ساتھ جینا سیکھ لیں گے۔

  • ہالینڈ : کورونا کے باعث جزوی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے

    ہالینڈ : کورونا کے باعث جزوی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے

    ایمسٹر ڈیم: ہالینڈ میں کورونا کیسزمیں اضافے کے بعد جزوی لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جس کے بعد عوام سڑکوں پر آ گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق روٹرڈیم میں سیکڑوں افراد نے جزوی لاک ڈان اورپابندیوں کے خلاف مظاہرہ اور جلاؤ گھیراؤ کیا۔پولیس اورمظاہرین میں جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے-

    پولیس نے مظاہرین کومنتشرکرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی متعدد مظاہرین کوگرفتارکرلیا گیا جبکہ بھگدڑ مچنے سے بھی کئی افراد زخمی ہوئےمظاہرین نے پولیس پرپتھراؤ کیا اورکئی گاڑیوں کوآگ لگا دی۔

    دوسری جانب پولیس نے رات کے وقت ہنگامہ آرائی کرنے پر درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ مزاحمت پر پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہوئے-

    یورپ :کورونا وبا کی چوتھی لہر،آسٹریا میں ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان

    ہالینڈ میں کورونا کے بڑھتے کیسزکے باعث تین ہفتوں کے لئے جزوی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب عالمی وبا کورونا وائرس کی چوتھی لہر نے یورپ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس کے بعد آسٹریا نے ملک گیر لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے آسٹریا یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے باقاعدہ قانون سازی کے تحت کووڈ 19 ویکسین کو عام افراد کے لیے لازم قرار دیا ہے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کا نفاذ پیر سے کیا جائے گا۔

    آسٹریا کے چانسلر الیگزینڈر شیلن برگ نے اس ضمن میں کہا ہے کہ کورونا لاک ڈاون زیادہ سے زیادہ 20 روز کے لیے نافذ کیا جا رہا ہےالیگزینڈر شیلن برگ کے مطابق یکم فروری کے بعد ہر ایک کے لیے ویکسین لگانا لازمی ہو گا۔

    حکومتی اعلان کے تحت لاک ڈاؤن کے دوران بچے گھروں سے آن لائن کلاسز لیں گے، ریسٹورینٹس اور اسٹورز مکمل طور پر بند رہیں گے اور ثقافتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔