Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • گلگت میں کرونا سےموت کےمتعلق خبردرست نہیں،ترجمان حکومت

    گلگت میں کرونا سےموت کےمتعلق خبردرست نہیں،ترجمان حکومت

    گلگت: گلگت میں کرونا سے موت کے متعلق خبردرست نہیں ،اطلاعات کےمطابق گلگت بلتستان کی حکومت نے اپنے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ دیامر سے تعلق رکھنے والے 90 سالہ مریض کی موت کورونا وائرس کی وجہ سے نہیں ہوئی۔

    یاد رہے کہ سیکریٹری صحت گلگت بلتستان راشد احمد نے وزیر اعلیٰ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ کورونا وائرس سے دیامر سے تعلق رکھنے والا 58 سالہ شخص جاں بحق ہوا۔تاہم ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ‘فوت ہونے والا نمونیا کامریض تھا ،

    انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی (اے ایف آئی پی) کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ‘مریض کا کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا ہے اور اس کی موت نمونیا سے ہوئی۔’

  • 2020 میں جنگوں، فتنوں اورکرونا سے تباہیوں سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،6سوسال بعد حرف بہ حرف پوری ہونے لگیں‌

    2020 میں جنگوں، فتنوں اورکرونا سے تباہیوں سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،6سوسال بعد حرف بہ حرف پوری ہونے لگیں‌

    پیرس : 2020 سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،کرونا سے متعلق بھی پشین گوئی ،حرف بہ حرف پوری ہوتی نظرآرہی ہیں ،مورخین کے مطابق مشہور فرانسیسی نجومی نوسٹرا ڈیمس نے امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں کیا پیش گوئیاں کی تھیں، بہت کچھ ویسا ہی ہو گیا اور اب آگے کیا ہونیوالا ہے؟ چونکا دینے والے انکشافات،ذرائع کےمطابق مشہور فرانسیسی کاہن نوسٹراڈیمس جس کی موت 1566ء میں ہوئی مگر اس نے مستقبل کے بارے میں جو ہزاروں پیشگوئیاں کیں وہ آج تک لوگوں کے لئے حیرت کا باعث بن رہی ہیں۔

    نوسٹرا ڈیمس کی یہ پیشگوئیاں چار سطری نظموں کی صورت میں ہیں جنہیں لیس پرافرٹیز کے نام سے 10 مجموعوں میں شائع کیا گیا ہے۔اس کے تیسرے مجموعے کی 81 ویں نظم کو بہت سے لوگوں نے امریکہ کے 2016ء میں ہونے والے انتخابات اور اس کے نتائج کی جانب واضح اشارہ قرار دیا ہے۔

    نوسٹرا ڈیمس نے اس پیش گوئی میں کہا کہایک عظیم بے شرم، بے باک جھگڑالو شخص آئے گا اور فوجوں کا حاکم مقرر ہوگا، اس کے جھگڑے ایسے شدید ہوں گے کہ قومیں اور ملک اس کی وجہ سے کٹ جائیں گے اور خوف کے باعث لوگوں کے رابطے منقطع ہوجائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا اس پیشگوئی کے بارے میں کہنا ہے کہ اس کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بارے میں ہے جو کہ امریکہ افواج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں۔

    نوسٹرا ڈیمس کی پیشگوئی کے مطابق ایک بے شرم، بے باک اور جھگڑالو شخص دنیا کی سب سے بڑی فوج کا حاکم بن چکا ہے اور اس کے جھگڑے بھی دنیا بھر میں شروع ہو چکے ہیں۔ اگر فرانسیسی کاہن نوسٹراڈیمس کی بات پر یقین کر لیا جائے تو پھر دنیا کو تیار ہو جانا چاہیے کہ آنے والے وقت میں ٹرمپ کے ہاتھوں اس دنیا کا برا حال ہونے والا ہے۔

    کئی لوگ تو امریکہ روس مخاصمت اور چین کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین کے سمندری علاقے پر جھگڑے کو پہلے ہی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اس نے مستقبل کے بارے میں جو ہزاروں پیشگوئیاں کیں وہ آج تک لوگوں کے لئے حیرت کا باعث بن رہی ہیں۔ نوسٹرا ڈیمس کی یہ پیشگوئیاں چار سطری نظموں کی صورت میں ہیں جنہیں لیس پرافرٹیز کے نام سے 10 مجموعوں میں شائع کیا گیا ہے۔2020 سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،جوحرف بہ حرف پوری ہوتی نظرآرہی ہیں

    ہمارے ایک پڑوسی کافی توہم پرست ہیں۔ بلّی کی خرخراہٹ‘ پہیوں کی چرچراہٹ‘موزہ الٹا ہونے اور کتا بھونکنے سے اندازہ لگاتے ہیں کہ مستقبل میں کوئی آفت آنے والی ہے یا خوش خبری۔حالیہ دسمبر کے آخری ہفتے ان سے ملاقات ہوئی تو گھبرائے سے لگے۔ بولے ’’میاں ‘ نیا سال شروع ہو رہا ہے۔ خدا خیر کرے۔‘‘ چونک کر پوچھا ’’انکل کیا ہوا؟ خیریت تو ہے؟‘‘

    کہنے لگے: ’’لو تمہیں کچھ پتا ہی نہیں۔ ارے نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیشن گوئی پڑھو۔ 2020ء جنگ و تباہی کا سال ہے۔ اسی برس تیسری جنگ عظیم شروع ہو گی۔ میں تو جنگ کے لیے تیار ہوں۔ تم اپنی خیر مناؤ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلتے بنے اور ہمیں حیران پریشان چھوڑ گئے۔

    ماضی میں معلومات کاسب سے بڑا ماخذ کتابیں تھیں تو اب نیٹ بھی بڑا ذریعہ بن چکا۔ مارے تجسس کے ہم نے گوگل پر نوسٹراڈیمس لکھا تاکہ جان سکیں، اس مغربی نجومی نے آخر سال رواں کے متعلق کیا پیش گوئیاں فرمائی ہیں۔ آخر ہر انسان مستقبل کی پنہائیوں میں جھانکنے کا شوق رکھتا ہے۔ لیجیے میاں گوگل واقعی 2020ء کے بارے میں نوسٹرا ڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں سامنے لے آئے۔ انہیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ خدانخواستہ سال رواں ہماری زندگی کا آخری برس ہو سکتا ہے۔ ہائے‘ ابھی تو ہم صحیح طرح دنیا کی بہاروں سے بھی لطف اندوز نہیں ہوئے!

    فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کون تھے ، اس حوالے سے نوسٹراڈیمس کے بارے میں جان لیجیے۔ وہ دسمبر 1503ء میں فرانس میں پیدا ہوا۔ باپ یہودی تھا مگر بعدازاں کیتھولک عیسائی بن گیا ۔ غلے کا تاجر اور بنیا تھا۔ سود پر رقم دیتا۔ نوسٹراڈیمس چودہ سال کا تھا کہ تعلیم کی خاطر یونیورسٹی اوینیون میں داخلہ لیا۔ مگر طاعون کے حملے نے ایک سال بعد ہی درسگاہ کو بند کر ڈالا۔ حیرت انگیز بات یہ کہ وہ پھر گھر جانے کے بجائے دیہات میں گھومنے پھرنے لگا۔ موصوف نے اپنی تحریروں میں دعوی کیا ہے کہ وہ جڑی بوٹیوں پر تحقیق کرتا تھا۔اس نے پھر جڑی بوٹیوں سے ادویہ بنائیں اور گھوم پھر کر انھیں فروخت کرنے لگا۔

    2020 کے متعلق پشین گوئیاں کرنے والے فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی زندگی کے اہم پہلو

    1529ء میں نوسٹراڈیمس نے ڈاکٹر بننے کے لیے یونیورسٹی مونٹی پلر میں داخلہ لیا۔ تاہم جلد اساتذہ کو پتا چل گیا کہ وہ دوا فروش رہا ہے۔تب دوا فروش یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتے تھے۔ اسی بنا پر اسے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ وہ پھر دوا فروشی کر کے گزر بسر کرنے لگا۔ دور جدید میں اس کے معتقد مگر اسے’’ڈاکٹر‘‘ ہی کہتے ہیں۔

    اس جعلی ڈاکٹر نے گلاب کی پتیوں سے طاعون کا علاج کرنے کے لیے ایک گولی بنائی تھی۔ مگر وہ 1534ء میں اپنی بیگم اور دو بچوں کو طاعون سے محفوظ نہ رکھ سکا۔اہل خانہ کی موت نے اسے دل شکستہ کر دیا۔ وہ پھر اٹلی چلا گیا اور وہاں دس گیارہ سال مقیم رہا۔ اٹلی میں قیام کے دوران ہی نوسٹراڈیمس شاید اپنا غم غلط کرنے کے لیے روحانیت اور پراسرار علوم میں دلچسپی لینے لگا۔ وہ نجومیوں‘ کاہنوں‘ دست شناسوں ‘ پیروں وغیرہ کے ساتھ اٹھا بیٹھا اور خود بھی ’’روحانی عالم‘‘ بن بیٹھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اسے خوابوں میں مستقبل کے حالات اور واقعات دکھائی دینے لگے۔1574ء میں نوسٹراڈیمس نے ایک امیر بیوہ سے شادی کر لی۔ فکر معاش سے آزاد ہو کر اب اس کا بیشتر وقت روحانی دنیا میں گزرنے لگا۔

    اس زمانے میں توہم پرستی کا دور دورہ تھا۔لوگ نجومیوں سے مشورے کر کے اہم منصوبے بناتے تھے۔ اس لیے نوسٹراڈیمس کو کئی پیروکار مل گئے۔ وہ اس سے اپنی قسمت یا مستقبل کا حال پوچھنے آتے۔ چند بار اتفاقیہ طور پر اس کی پیش گوئیاں درست ثابت ہو گئیں۔ بس پھر کیا تھا‘ وہ ایک ماہر نجوم کی حیثیت سے مشہور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ اسے احساس ہوا کہ اپنی شہرت سے مالی فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ چنانچہ وہ 1550ء سے ایک سالانہ کتاب (المانک ) شائع کرنے لگا۔اس میں زائچوں ‘ آپ کے ستارے کیا کہتے ہیں‘ موسمی حالات وغیرہ کے علاوہ مستقبل کی پیش گوئیاں کا بھی ذکر موجود ہوتا۔

    اس دور میں جادوگری کو کفر سمجھا جاتا تھا۔ کیتھولک کلیسا جادوگروں کو واجب القتل قرار دے چکا تھا۔ ٹوسٹراڈیمس کو خطرہ تھا کہ پیش گوئیاں کرنے پر کہیں اسے بھی جادوگر نہ سمجھ لیا جائے۔ اس واسطے اس نے شاعرانہ انداز اپنایا اور رباعی میں ایک پیش گوئی بیان کرنے لگا۔ ہر رباعی میں فرانسیسی کے علاوہ لاطینی‘ یونانی اور مقامی بولیوں کے الفاظ بھی شامل ہوئے۔ تلمیحیں ‘ استعارے اور اصطلاحیں بھی برتی گئیں۔ دیومالا اور تاریخی واقعات کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ اس ساری چکر بازی کا مقصد یہ تھا کہ کلیسا کی مذہبی پولیس رباعیوں میں پوشیدہ پیش گوئیوں کو آسانی سے دریافت نہیں کر سکے۔یوں وہ جادوگر قرار نہ پاتا۔

    فرانس میں نوسٹراڈیمس کی مرتب کردہ سالانہ کتب کو کافی پذیرائی ملی ا ور وہ اس کی موت تک شائع ہوتی رہیں ۔ ماہرین کی رو سے ان کتب میں کم ازکم 6338پیش گوئیاں محفوظ ہیں۔ 1555ء میں اس نے پیش گوئیوں کی باقاعدہ کتاب شائع کرائی جس کا نام ’’لے پروفیٹی‘‘(Les Propheties) ہے۔

    یہ 942 رباعیوں پر مشتمل ہے۔اس کی تمام کتب میں اسی کتاب کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔ 1555ء ہی میں فرانس کی ملکہ کیتھرائن نے اس سے اپنا اور اپنے بچوں کازائچہ بنوایا۔ شاہی دربار تک رسائی نے اسے مزید مشہور بنا دیا۔وہ جولائی 1566ء میں چل بسا۔ کہا جاتا ہے، اس نے اپنے ڈاکٹر کو موت سے ایک دن قبل ہی بتا دیا تھا کہ وہ اگلے روز کا سورج نہیں دیکھے گا۔اس کی پیش گوئیوں کا ’’گیرائی و گہرائی‘‘ سے مطالعہ کرنے والے مغربی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس کی یہ پیش گوئیاں عملی جامہ پہن چکیں:۔فرانسیسی بادشاہ ہنری کی موت‘ لندن کی عظیم آگ‘ فرانسیسی انقلاب‘ نپولین بونا پارٹ کا عروج‘ ہٹلر کی آمد‘ پہلی اور دوسری جنگ عظیم‘ جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرانا‘ چاند پر اپالو کا اترنا‘ شہزادی ڈائنا کی موت اور حادثہ نائن الیون۔

    دلچسپ بات یہ کہ نوسٹراڈیمس کو بطور غیب داں اور نجومی مشہور کرنے والے مغربی ماہرین کا وتیرہ یہ ہے کہ وہ پہلے اس کی رباعیوں میں کسی واقعے کے اشارے ڈھونڈتے ہیں۔ جب ایسی رباعی مل جائے تو اعلان کر دیتے ہیں کہ اس نے پہلے ہی واقعے کی پیش گوئی کر دی تھی۔ یہ سارا فراڈ بلکہ کھڑاگ اسی لیے اپنایا گیا تاکہ اس کی پیش گوئیوں پر مبنی کتب دنیا بھر میں فروخت ہو سکیں۔

    دور جدید میں سائنس و ٹیکنالوجی کا دور عروج پر ہے۔ مگر آج بھی دنیا بھر میں بظاہر تعلیم یافتہ لاکھوں لوگ اس کی پیش گوئیوں پر مبنی کتب خریدتے اور ان پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ سچ ہے‘ تو ہم پرستی مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    درج بالا حقائق سے ظاہر ہے کہ کلیسا کی پولیس سے بچنے کے لیے نوسٹرا ڈیمس رباعیوں کی شکل میں اور الفاظ کے ہیرپھیر سے اپنی پیش گوئیاں بیان کرتا رہا۔ وہ عموماً ماضی کے واقعات کو مستقبل پر منطبق کردیتا۔ لیکن لاکھوں سادہ لوح اس کی پیش گوئیوں کو سچ جان کر ان پر اعتبار کرنے لگے۔

    اپنے اعتقاد کے باعث وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی کسی پیش گوئی کا پورا ہوجانا محض اتفاق ہے۔ حقیقت میں اس فرانسیسی نجومی نے انسان کی وہم پرستی سے فائدہ اٹھایا اور نام نہاد پیش گوئیوں کی کتابیں بیچ کر دولت، شہرت اور عزت پانے میں کامیاب رہا۔مضحکہ خیز بات یہ کہ اب دنیائے نیٹ میں اس کی جعلی پیش گوئیاں بھی زیر گردش ہیںمگر ہمارے پڑوسی انکل جیسے توہم پرست انھیں سچ مان کر خود پریشان ہوتے اور دوسروں کا سکون بھی برباد کرتے ہیں۔اب ’’عظیم‘‘غیب داں کی سال رواں میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی پیش گوئی ہی کو دیکھئے جو دنیائے نیٹ میں بہت مشہور ہے۔ انگریزی میں وہ کچھ یوں ہے:

    “In the city of God, there will be a great thunder

    Two brothers torn apart by Chaos while the fortress endures

    The great leader will succumb

    The third big war will begin when the big city is burning.”

    (ترجمہ: خدا کے شہر میں زبردست کڑک پیدا ہوگی

    انتشار دو بھائیوں کو جدا کردے گا جب قلعہ حملہ سہے گا

    عظیم لیڈر شکست کھائے گا

    جب بڑا شہر جلے گا تو تیسری بڑی جنگ شروع ہوگی۔)

    اسی پیش گوئی کی بنیاد پر بہت سے توہم پرست پاکستانی سمجھتے ہیں کہ سال 2020ء میں تیسری عالمگیر جنگ چھڑسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ درج بالا پیش گوئی نوسٹرا ڈیمس نے لکھی ہی نہیں، یہ تو بیسویں صدی کے ایک نوجوان طالب علم، نیل مارشل کی تخلیق ہے۔ یہ کینیڈا کی بروک یونیورسٹی کا طالب علم تھا، انسانوں کی توہم پرستی پر بہت کڑھتا تھا۔ خصوصاً اسے یہ دیکھ کر تاؤ آتا کہ لوگ نوسٹرا ڈیمس اور دیگر نجومیوں کی باتوں پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرلیتے ہیں۔

    1997ء میں نیل مارشل نے نوسٹراڈیمس پر ایک تنقیدی مضمون قلمبند کیا۔ اس میں نیل نے لکھا کہ کوئی بھی شخص نوسٹراڈیمس جیسی پیش گوئی لکھ سکتا ہے۔ توہم پرست رباعی کو نوسٹراڈیمس کی تخلیق ہی سمجھے گا۔تبھی اس نے درج بالا پیش گوئی لکھ ڈالی۔ نیل کا خیال تین سال بعد درست ثابت ہوا۔ ستمبر 2001ء میں نائن الیون حادثہ پیش آیا۔ جلد ہی دنیائے نیٹ میں نیل مارشل کی تخلیق کردہ رباعی نوسٹرا ڈیمس کی پیش گوئی بن کر مشہور ہوگئی۔ یہ کہا جانے لگا کہ ممتاز فرانسیسی نجومی نے پہلے ہی حادثہ نائن الیون کی پیش گوئی کردی تھی۔

    مزے دار بات یہ کہ نیل مارشل کی رباعی میں آخری سطر نہیں تھی۔بعد میں کسی انٹرنیٹئے نے رباعی میں شامل کردی۔ بس تب سے یہ رباعی تیسری جنگ عظیم کی آمد کا اعلان بن چکی۔ جب بھی نیا سال شروع ہو، تو نیٹ پر اس کا چرچا ہوتا ہے۔ چناں چہ ہمارے پڑوسی انکل کی طرح دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں توہم پرست سمجھتے ہیں کہ نئے برس میں تیسری جنگ عظیم دنیا تباہ کرسکتی ہے۔ کسی سیانے نے درست کہا ہے کہ سوجھ بوجھ اور عقل کی سب سے بڑی دشمن توہم پرستی ہے۔اسی طرح مشہور ہے کہ نوسٹراڈیمس نے درج ذیل رباعی میں جرمنی کے ایڈلف ہٹلر کے عروج کی پیش گوئی کی ہے۔

    ” The major battle shall be close by the Hister

    He shall cause the great one

    in an iron cage to be dragged

    while the Germans shall be looking at the infant Rhine.”

    اس پیش گوئی میں جرمنی، جنگ اور ہسٹر کا ذکر ہے جو ہٹلر سے ملتا جلتا نام ہے۔ مگر یہ کسی شخصیت کا نام نہیں بلکہ فرانسیسی میں دریائے ڈینوب کا ایک حصہ ہسٹر کہلاتا ہے۔ لیکن نوسٹراڈیمس کی پیش گوئیوں سے بیسویں صدی میں مالی فوائد حاصل کرنے والے جعلی دانش وروں نے اسے ہٹلر سے تشبیہ دے دی۔

    حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک بھی ایسی پیش گوئی نہیں جس کی بنیاد کوئی دانشور یہ اعلان کرسکے کہ مستقبل میں اس میں بیان کردہ واقعہ ظہور پذیر ہو گا۔ جیسا کہ بتایا گیا، جب کوئی نمایاں واقعہ جنم لے، تو نوسٹرا ڈیمس کی پیش گوئیوں سے منسلک دانشور کسی پیش گوئی کو اس سے جوڑ دیتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ پیش گوئی کی تشریح کرتے ہوئے دور کی کوڑی لاتے اور بے سروپا باتیں کرتے ہیں۔

  • پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری : کورونا وائرس سے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی

    پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری : کورونا وائرس سے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی

    اسلام آباد :پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری : کورونا وائرس سے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی ،اطلاعات کےمطابق سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں مزید کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 297 ہو گئی ہے جبکہ پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت گلگت بلتستان میں ہوئی ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریض کی عمر 90سال تھی اور انتقال کرنےوالےشخص کا تعلق چلاس سے تھا۔انہوں نے بتایا کہ انتقال کرجانے والا شخص 4دن سے سی ایم ایچ گلگت میں زیر علاج تھا، اور اس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں تھی۔ مزید پڑھیں۔۔۔

    کرونا وائرس سے سندھ میں مجموعی تعداد 208 ہوگئی،ادھروزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 19 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 208 ہوگئی ہے۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق سکھر میں موجود زائرین میں سے 50 فیصد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور وہاں کورونا سے متاثرہ 151 افراد موجود ہیں۔سکھر کے قرنطینہ مرکز کے علاوہ کراچی سمیت سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 57 ہوگئی ہے جن میں سے 56 کا تعلق کراچی اور ایک مریض حیدرآباد سے ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے 2 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

    حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں 1874 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ نجی ہسپتالوں میں 702مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے،سکھر سے 303 نمونے ٹیسٹ کے لئے بھیجے گئے تھے جن میں سے میں سے 151 افراد کے ٹیسٹ کلیئر اور 151 میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ ایک مریض کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

    بریفنگ کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ٹیسٹنگ کی گنجائش ایک ہفتے میں 800 تک بڑھائیں جس پر انڈس اسپتال حکام نے یقین دہانی کرائی کہ ہفتے کے اندر گنجائش بڑھادی جائے گی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے حکام کو ہدایت کی کہ تفتان سے آنے والی بسوں کو جراثیم کش اسپرے کر کے واپس بھیجاجائے۔

    ادھر ذرائع کےمطابق کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی پنجاب میں تعداد 33 ہوگئی.ڈی سی مظفر گڑھ امجید شعیب نے رجب طیب اردگان اسپتال میں زیر علاج 7 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ اسپتال میں کورونا متاثرہ افراد کے لیے 62 بیڈز مختص ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ صوبے میں تین اسپتال کورونا سے متعلق مختص کردیے ہیں، تفتان میں کیمپ بنانے یا بلوچستان حکومت کو سہولت دینے پر بات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کےسرکاری دفاتر میں ملازمین کی تعدادکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ صوبے میں دکانیں رات 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،شاپنگ مالزاور ریسٹورنٹ بھی رات 10 بجے بند کر دیے جائیں گے تاہم دواؤں کی دکانیں کھلی رہیں گی ۔

    جبکہ خیبر پختونخوا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 19 ہو گئی ،ڈی سی بونیر محمد خالد خان کا کہنا ہے کہ ضلع بونیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔محمد خالد خان کا بتانا ہے کہ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ شخص کو ڈگر اسپتال آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتہ قبل متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔

    گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مزید 10 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وہاں متاثرہ افراد کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ اسلام آباد میں 3 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر کا بتانا ہے کہ میر پور آئسولیشن وارڈ میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ڈی سی میر پور کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص 14 دن قبل ایران سے تفتان آیا تھا، متاثرہ شخص کو 4 دن سے میر پور آئسولیشن وارڈ میں رکھا ہواتھا۔

  • مالک ہو تو ایسا ہو : فیس بُک مالک مارک زکربرگ کا اپنے ہر ملازم کےلیے 1 لاکھ 60 ہزار روپے ’’کورونا بونس‘‘ کا اعلان

    مالک ہو تو ایسا ہو : فیس بُک مالک مارک زکربرگ کا اپنے ہر ملازم کےلیے 1 لاکھ 60 ہزار روپے ’’کورونا بونس‘‘ کا اعلان

    سلیکان ویلی:فیس بُک مالک مارک زکربرگ کا اپنے ہر ملازم کےلیے 1 لاکھ 60 ہزار روپے ’’کورونا بونس‘‘ کا اعلان،اطلاعات کےمطابق دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’فیس بُک‘‘ کے بانی اور سربراہ مارک زکربرگ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ادارہ اپنے ہر ملازم کو 1,000 ڈالر (1 لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے) بطور بونس دے گا تاکہ وہ کورونا کی عالمی وبا کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکے اور اپنے اہلِ خانہ کا خیال رکھ سکے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں فیس بُک ملازمین کی مجموعی تعداد 190,000 ہے جس میں کم از کم 45,000 کل وقتی ملازمین بھی شامل ہیں۔ مارک زکربرگ کی جانب سے یہ اعلان دنیا بھر میں فیس بُک کے کُل وقتی ملازمین کےلیے کیا گیا ہے۔ جزوقتی (پارٹ ٹائم) اور کنٹریکٹ ملازمین کےلیے ابھی تک فیس بُک کی جانب سے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

    خبروں کے مطابق، فیس بُک ملازمین کے نام اپنے پیغام میں مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی اپنے ملازمین کو اضافی چھٹیاں دینے پر بھی غور کررہی ہے تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ سکیں اور ان کا خیال رکھ سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2020 کے پہلے ششماہی جائزے میں فیس بُک کے کُل وقتی ملازمین کو ’’اضافی‘‘ ریٹنگ دی جائے گی، یعنی وہ حالیہ ششماہی کے اختتام پر زیادہ بونس کے اہل قرار پائیں گے۔

    یاد رہے کہ فیس بُک پہلے ہی 30 ہزار چھوٹے کاروباری و تجارتی اداروں کےلیے 100 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کرچکا ہے تاکہ یہ ادارے بھی موجودہ عالمی بحران میں اپنے اُن ملازمین کو تنخواہیں ادا کرسکیں جو اس وقت کسی بھی وجہ سے کام پر نہیں آسکتے۔

  • کورونا نے دنیا کی خوشیاں چھین لیں ، کرونا وائرس کے سبب یورو کپ اور کوپا امریکا ایک سال کیلئے موخر

    کورونا نے دنیا کی خوشیاں چھین لیں ، کرونا وائرس کے سبب یورو کپ اور کوپا امریکا ایک سال کیلئے موخر

    نیویارک :کورونا نے دنیا کی خوشیاں چھین لیں ، کرونا وائرس کے سبب یورو کپ اور کوپا امریکا ایک سال کیلئے موخر،اطلاعات کےمطابق عالمی سطح پر کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر رواں سال شیڈول سال کے اہم فٹبال مقابلوں یورو کپ اور کوپا امریکا کو ایک سال کے لیے موخر کردیا گیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منگل کو یورپیئن فٹبال گورننگ باڈی کا خصوصی اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ اداروں نے یورو کپ کو ایک سال کے لیے موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ ٹورنامنٹ رواں سال 12 جون سے 12جولائی تک منعقد ہونا تھا لیکن اب اسے آئندہ سال 11جون سے 11جولائی تک منعقد کیا جائے گا۔

    امریکی حکام کے مطابق اس ایونٹ کے التوا کے بعد اب وائرس کے پھیلاؤ کے سبب ملتوی ہونے والی دنیا بھر کی یورپیئن لیگز کے مقابلے منعقد ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے لیکن اس کا انحصار بھی اس بات پر ہو گا کہ کورونا وائرس کے دنیا بھر میں مزید کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    یوئیفا کے صدر الیگزینڈر کیفرن نے کہا کہ اس وقت میں فٹبال کی برادری کو ذمے داری، اتحادی اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے ک ضرورت ہے اور ہمارے لیے کھلاڑیوں، شائقین اور عملے کی صحت اولین ترجیح ہے۔یورو کپ کی طرح امریکا بھر کے ممالک کے درمیان منعقد ہونے والے مقابلے کوپا امریکا کپ کو بھی ایک سال کے لیے موخر کردیا گیا ہے۔

  • چین نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاپان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرہی لیا ، اہم پیش رفت قرار دیا

    چین نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاپان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرہی لیا ، اہم پیش رفت قرار دیا

    بیجنگ :چین نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاپان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرہی لیا ، اہم پیش رفت قرار دیا ،اطلاعات کےمطابق چین نے کہا ہے کہ جاپان میں انفلوائنزا کی نئی قسم کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا کورونا وائرس پر موثر ثابت ہورہی ہے۔

    برطانوی روزنامے دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک عہدیدار زینگ شن من نے بتایا کہ فیویپیراویر (favipiravir) نامی دوا کے اثرات ووہان اور شینزن میں کلینکل ٹرائلز کے دوران حوصلہ افزا رہے ہیں۔اس دوا کو 340 مریضوں کو استعمال کرایا گیا اور عہدیدار نے بتایا ‘یہ بہت زیادہ محفوظ ہونے کے ساتھ علاج میں واضح طور پر موثر ثابت ہوئی ہے’۔

    رپورٹ کے مطابق جن مریضوں کو شینزن میں یہ دوا استعمال کرائی گئی ان میں ٹیسٹ مثبت آنے کے 4 دن بعد وائرس ختم ہوگیا، جبکہ اس دوا کے بغیر مرض کی علامات کے لیے دیگر ادویات کے استعمال سے صحت یابی میں اوسطاً 11 دن درکار ہوتے ہیں۔

    جاپانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہےکہ ایکسرے سے بھی اس نئی دوا کے استعمال سے 91 فیصد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری کی تصدیق ہوئی، جبکہ دیگر ادویات میں یہ شرح 62 فیصد کے قریب ہوتی ہے۔اس دوا کو فیوجی فلم ٹویاما کیمیکل نے 2014 میں تیار کیا تھا تاہم اس نے چینی دعویٰ پر کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا۔

    جاپان میں بھی ڈاکٹروں کی جانب سے اس دوا کو کورونا وائرس کے معمولی سے معتدل علامات والے مریضوں پر ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ان کو توقع ہے کہ اس کے استعمال سے مریضوں میں وائرس کی نشوونما کی روک تھام ممکن ہے۔

    جاپانی وزارت صحت کے ذرائع نے کہا ہے کہ یہ دوا سنگین علامات والے مریضوں کے لیے ممکنہ طور پر زیادہ موثر نہیں کیونکہ ایسے مریضوں پر اس کا اثر دیکھنے میں نہیں آیا جن میں یہ وائرس زیادہ پھیل چکا تھا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اس سے ہٹ کر جن مریضوں میں ایچ آئی وی انفیکشن کے لیے استعمال ہونے والے ادویات کے امتزاج کو استعمال کیا گیا، ان کے ساتھ بھی سنگین کیسز میں یہی مسئلہ دیکھنے میں آیا۔اس نئی دوا کو نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والے بیماری کووڈ 19 کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے حکومتی اجازت کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہ بنیادی طور پر فلو کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔

    جاپانی وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس دوا کی کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری مئی تک دی جاسکتی ہے، تاہم کلینیکل تحقیق کے نتائج میں تاخیر ہوئی تو منظوری کے عمل میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ فی الحال کووڈ 19 کا علاج موجود نہیں بلکہ اس کی علامات کا علاج ان کی نوعیت دیکھتے ہوئے مختلف ادویات سے کیا جاتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 97 فیصد مریض ریکور بھی کرلیتے ہیں۔اس کے لیے مختلف ممالک میں ویکسین کی تیاری پر کام ہورہا ہے جبکہ امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع ہوچکی ہے مگر کسی ویکسین کی عام دستیابی میں ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

  • جنوبی کوریا نے پاکستان کو2 لاکھ ڈالرز کا عطیہ دے دیا ، کرونا سے نبٹنے کے لیے نہیں، توپھرکس لیے دیئے ، اہم خبرآگئی

    جنوبی کوریا نے پاکستان کو2 لاکھ ڈالرز کا عطیہ دے دیا ، کرونا سے نبٹنے کے لیے نہیں، توپھرکس لیے دیئے ، اہم خبرآگئی

    اسلام آباد:جنوبی کوریا نے پاکستان کو2 لاکھ ڈالرز کا عطیہ دے دیا ، کرونا سےنبٹنے کے لیے نہیں، توپھرکس لیے دیئے ، اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا نے پاکستان میں ٹڈی دل کی 2 دہائیوں کی بدترین صورتحال پر حکومت کو 2 لاکھ ڈالر عطیہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق کوریائی سفیرکواک سونگ کیو کا کہنا تھا کہ ‘ٹڈی دل کے نقصانات سے پریشان پاکستان کے کسانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کوریا کی حکومت نے ریلیف کے کاموں میں پاکستانی حکومت کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے’۔

    کوریائی سفیرکواک سونگ کیو کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ یہ کوریا اور پاکستان کے درمیان باہمی زراعتی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے مددگار ثابت ہوگی جس میں موجودہ پاکستان میں کوپیا سینٹر کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے’۔

    یہ فنڈ اقوام متحدہ کی دو ایجنسیوں، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) اور فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ذریعے پاکستان کو دی جائیں اور چھوٹے کسانوں تک جائیں گی جنہیں بحران کی وجہ سے غذائی قلت کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے۔

  • کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    بیجنگ :کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،چین نے 3 امریکی اداروں کے صحافیوں پر پابندی لگادی،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور آزادی صحافت پر امریکا اور چین کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور امریکا میں 3 چینی اداروں پر پابندیوں کے بعد بدھ کو چین نے بھی 3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق اس نازک موقع پر یہ اقدام ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب گزشتہ ماہ اخبار کے کالم میں چین پر کڑی تنقید کے بعد چین نے وال اسٹریٹ جرنل کے 2 امریکی اور ایک آسٹریلین صحافی کو بے دخل کردیا تھا۔چین نے اس کالم کو نسل پرستانہ قرار دیا تھا اور اخبار کی جانب سے معافی مانگنے سے انکار کے بعد تینوں صحافیوں کے ویزے ختم کر دیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ ادارے کے ایک رپورٹر کو اس وقت چین سے جانا پڑا تھا جب ان کے ویزے کی میعاد بڑھانے سے انکار کردیا گیا تھا۔پھر رواں ماہ مارچ کے اوائل میں ہی امریکا نے اپنے ملک میں چین کے 4 ریاستی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 160 سے کم کرتے ہوئے صرف 100 کو کام کرنے کی اجازت دی تھی۔

    ذرائع کےمطابق اسی اقدام کے ردعمل کے طور پر بدھ کو بیجنگ نے نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کو امریکی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ان اداروں کے افراد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ 10دن کے اندر اپنے پریس کارڈ واپس کریں تاہم یہ بات واضح نہیں کہ اس حکم نامے کے نتیجے میں کتنے افراد متاثر ہوں گے۔

    اس کے ساتھ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تینوں اخبارات کی چین کی شاخوں، وائس آف امریکا اور ٹائم میگزین کو چین میں اپنے عملے، مالی معاملات، آپریشن اور ریئل اسٹیٹ کی تمام تر معلومات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔چین نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے چین کے صحافیوں پر عائد پابندیوں کے جواب میں یہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔

    چین کے فیصلے میں اہم بات یہ ہے کہ اس نے اپنی نیم خودمختار ریاستوں ہانگ کانگ اور مکاؤ میں بھی امریکی صحافیوں کو کام سے روک دیا ہے حالانکہ ماضی میں چین میں پابندیوں کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو ہانگ کانگ میں کام کی اجازت ہوتی تھی۔

    کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر اسٹیون بٹلر نے کہا کہ اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ چین اس کا فیصلہ کرے کہ ہانگ کانگ میں کون صحافی کام کرے یا کون نہیں۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو چکی ہے جہاں چین سے جنم لینے والے اس وائرس سے اب تک 7ہزار 400افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائک پومپیو نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کا یہ اقدام کورونا وارئس کے اس حد تک چیلنجنگ اوات میں دنیا اور چین کے عوام کو معلوما سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں چین کی جانب سے آزادانہ صحافت کی دنیا کی کاوشوں پر پابندی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، یہ بدقسمتی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر غور کریں گے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹؤ ایڈیٹر مارٹن بیرن نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم امریکی رپورٹرز کو نکالنے کے چین کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، چینی حکومت کا فیصلہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ یہ ایک عالمی بحران کے دوران سامنے آیا ۔وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

  • ایم کیوایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کروناوائرس فنڈزمیں جمع کرانے کا اعلان کردیا

    ایم کیوایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کروناوائرس فنڈزمیں جمع کرانے کا اعلان کردیا

    کراچی :ایم کیوایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کروناوائرس فنڈزمیں جمع کرانے کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے لوگوں میں حب الوطنی اورایک دوسرے سے خیرخواہی کے جزبے نے پھرجوش مارا ہےاور ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہیں کرونا فنڈز میں جمع کرانے کا اعلان کیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریوں کے پیش نظراوراس سے بچاو کےلیے حفاظتی اقدامات اختیارکرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان نے اعلان کیا ہےکہ پارٹی کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز،سینیٹرز،میئراورڈپٹی میئرز کی ایک ماہ کی تنخواہ کرونافنڈز میں جمع کرانے کا اعلان کرکے پاکستان میں خیر الناس من ینفع الناس کے جزبے میں پہل کردی ہے

    یاد رہے کہ اس وقت کرونا وائرس پاکستان میں بھی پنجے گاڑنے لگا ہے اوراس وقت ملک بھر میں مصدقہ کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 263 سے تجاوز کرگئی ہے ،اس آفت سے نبٹنے کے لیے جہاں وفاقی اورصوبائی حکومتیں بڑی محنت سے کام کررہی ہیں وہاں ایم کیوایم جیسی سیاسی جماعتوں نے اس کارخیرکی ابتدا کرکے ایک نئی مثال قائم کردی ہے

  • ایم کیو ایم اراکین پارلیمنٹ کا کرونا متاثرین  کیلیے بڑا اعلان

    ایم کیو ایم اراکین پارلیمنٹ کا کرونا متاثرین کیلیے بڑا اعلان

    ایم کیو ایم اراکین پارلیمنٹ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کےلیے ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی :متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کورونا وائرس سے نمنٹے کے لیے قائم فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے۔کنوینر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اگر صورتحال سنگین ہوجاتی ہے تو ان کی جماعت تمام ضرورت مندوں میں اجناس تقسیم کریگی۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان ایک لاکھ سینیٹائزرز بھی عوام میں تقسیم کریگی۔ خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) پر پابندی کے باوجود کورونا وائرس کی پرائمری اسکریننگ کرنے کیلئے کیمپ لگادیا گیا ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تمام یو سی چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ سینیٹائزرز اور صابن عوام میں تقسیم کریں۔ حکومت کے ایم سی ڈی ایم سی اور کے کے ایف میں آئیسولیشن وارڈز قائم کرنے کیلئے اپنی تمام عمارتیں دینے کو تیار ہیں.

    واضح‌رہے کہ سندھ میں کرونا وائرس کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت نے اپنے اقدامات بارے اٹھائے گئے اقدام بارے میڈیا کو بریف کی اتھا . ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں کرونا وائرس کے 181 مریض ہیں، 2 صحت یاب ہوئے ہیں، 9 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، کرونا سے نمٹنے کیلئے 3 ارب کا فنڈ قائم کر رہے ہیں۔