Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • چین کے ایک صوبے کا یہ حال ہے کہ کورونا کے یومیہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچی

    چین کے ایک صوبے کا یہ حال ہے کہ کورونا کے یومیہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچی

    بیجنگ: چین کے صنعتی صوبے ژجیانگ میں کورونا کے ایک دن میں 10 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس تعداد کے دگنا ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں زیرو کورونا ٹالیرنس پالیسی کے باوجود مہلک وائرس کی نئی لہر انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

    شنگھائی کے نزدیک واقع صوبے ژجیانگ میں کورونا کیسز میں اضافے کے باعث لاک ڈاؤن کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاہم حالات کنٹرول سے باہر ہیں۔چین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صوبے ژجیانگ میں زیادہ مریضوں میں معمولی علامات ہیں وہ گھر پر قرنطینہ میں ہے جب کہ 13 ہزار 583 اسپتال میں داخل ہیں۔

    وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبے ژجیانگ میں کورونا سے متاثر 242 مریضوں کی حالت نازک ہے اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہیں۔چین میں کورونا کی اس نئی لہر نے عالمی قوتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور وہ شکوہ کر رہے ہیں کہ چین ایک بار پھر درست حقائق سامنے نہیں لارہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اب چین نے روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے نئے کورونا کیسز کی تعداد بتانے سے گریز کرنا شروع کردیا ہے جس لگتا ہے کہ معاملہ گھمبیر ہے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق دسمبر کے اختتامی دنوں میں دنیا بھر میں کورونا کیسز میں تیزی آگئی۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے درمیان سب سے زیادہ کیسز 58 ہزار 448 جنوبی کوریا میں ریکارڈ ہوئے جبکہ 46 افراد جانوں سے بھی گئے۔

    کورونا کے پھیلاؤ میں دوسرے نمبرپرتائیوان ہے جہاں 24 گھنٹوں کے دوران 17 ہزار 728 کیسز سامنے آئے جبکہ چوبیس مریض انتقال کرگئے۔آسٹریلیا میں دوہزار 242 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بولیویا میں ایک ہزار 772 نئے کیسز سامنے آئے۔ دومریض انتقال کرگئے۔

    دوسری جانب چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی نئی قسم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔خیال رہے کہ اومیکرون بی ایف 7 نامی کووڈ ویرینٹ کے باعث چین کو وبا کی تباہ کن لہر کا سامنا ہے۔ چین نے کووڈ ڈیلی کیسز کے اعدادو شماردینا ہی بند کردیے ہیں۔

  • ملک میں کورونا کی نئی قسم سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی ادارہ صحت

    ملک میں کورونا کی نئی قسم سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ) اسلام آباد نے کورونا کی نئی قسم سے متعلق زیرگردش خبروں کی تردید کردی۔این آئی ایچ کے مطابق کورونا کے نئی قسم سے متعلق غیرمصدقہ خبریں گردش میں ہیں، این سی او سی نے تصدیق کی ہے فی الحال ایسا کوئی خطرہ نہیں۔

    این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ کورونا سے متعلق صورتحال پر کڑی نظررکھی ہوئی ہے۔علاوہ ازیں خبر سامنے آئی تھی کہ چین میں پھیلنے والے کورونا کے نئے ویرینٹ کا پاکستان میں بھی آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے حکام کا کہنا تھا کہ چین میں لاک ڈاؤن کھلنے اور فری ٹریولنگ سے پاکستان میں کورونا کا نیا ویرینٹ آنے کا خطرہ ہے لیکن پاکستان کورونا کے کسی بھی نئے ویرینٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

    دوسری طرف ہندوستان کی مرکزی وزارت صحت کے مطابق ملک کی دس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام تین علاقوں میں کورونا کے نئے مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے نئے مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے ان میں دارالحکومت دہلی، راجستھان، پنجاب ، تلنگانہ اور اس ملک کے زیر انتظام جموں و کشمیر شامل ہیں ۔

    ہندوستانی وزارت صحت کے مطابق دہلی میں کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد تینتس ہوگئی ہے۔

  • چین میں  نیا کورونا ویرئنٹ؛ جسکا پاکستان میں بھی خطرہ. حکام این سی او سی

    چین میں نیا کورونا ویرئنٹ؛ جسکا پاکستان میں بھی خطرہ. حکام این سی او سی

    چین میں نئے کورونا ویرئنٹ کا پاکستان میں بھی خطرہ . حکام این سی او سی

    چین سے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے حکام کے مطابق چین میں لاک ڈاؤن کھلنے اور فری ٹریولنگ سے پاکستان میں کورونا کے ویریئنٹ آنے کا خطرہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کورونا کے کسی بھی نئے ویریئنٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

    حکام کے مطابق ماضی میں بھی کورونا کے نئے ویرینئٹ آئے جنہیں بروقت کنٹرول کیا۔ این سی او سی حکام کے مطابق پاکستان میں انسداد کورونا ویکسین لگنے کے باعث خطرہ کم ہے۔ حکام کا بتانا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کی اہل 90 فیصد آبادی کی ویکسی نیشن مکمل ہے اور 95 فیصد آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگ چکی ہے۔ واضح رہے کہ چین میں کورونا کے نئے ویریئنٹ کے کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

    خیال رہے کہ چین میں رواں ہفتے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر صحت کے نظام پر زیادہ دباؤ کی توقع کی جا رہی ہے۔
    خبر رساں ادارے روئٹرز نے چین کے محکمہ صحت کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ وہاں کورونا کے کیسز میں تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ چین کی ’زیرو کووِڈ پالیسی‘ کے خلاف حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد حکومت نے لاک ڈاؤن اور لازمی ٹیسٹوں میں نرمی کا عندیہ دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع
    کووڈ سے بچاؤ کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات کی وجہ سے چین کی عالمی منڈیوں میں سامان کی رسائی اور تجارت کافی متاثر ہوئی تھی۔ اب اگر چینی کارکن زیادہ تعداد میں بیمار ہو گئے تو اگلے برس بھی چین کی معیشت کی حالت دگرگوں رہے گی۔

  • چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز دریافت

    چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز دریافت

    چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کے بہت زیادہ متعدی نئی قسم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اومیکرون بی ایف 7 نامی کوویڈ ویرینٹ کے باعث چین کو وبا کی تباہ کن لہر کا سامنا ہے کوویڈ کی اسی قسم کے 4 کیسز اب تک بھارت میں بھی سامنے آچکے ہیں-

    بھارتی دوا ساز کمپنی پرگیمبیا میں 69 بچوں کی ہلاکت کا جرم ثابت،انکوائری کمیٹی کا…

    بھارتی میڈیا کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں کورونا وائرس کے10 ویرینٹس موجود ہیں، جس کے باعث بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن نے عوام کو کوویڈ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اب تک، دو کیس گجرات سے، دو اڈیشہ سے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بی ایف 7 قسم کا پتہ چلا ہےامریکہ اور برطانیہ اور یورپی ممالک جیسے بیلجیئم، جرمنی، فرانس اور ڈنمارک سمیت کئی دوسرے ممالک میں پہلے ہی اس کا پتہ چل چکا ہے۔

    کورونا کی اس نئی قسم کے کیسز دریافت ہونے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے اسی طرح کورونا کی نئی اقسام کی مانیٹرنگ کو بھی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو کورونا کے مثبت کیسز کیے جینیاتی تجزیے کاحکم دیا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے 22 دسمبر کو ایک اجلاس میں کوویڈ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اسی طرح اترپردیش اور پنجاب سمیت متعدد ریاستوں میں کورونا کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کیے گئے ہیں۔

    چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    22 دسمبر سے بیرون ملک سے بھارت پہنچنے والے مسافروں کےکورونا ٹیسٹ کیےجائیں گے، یہ پابندی پہلے ختم کردی گئی تھی بھارت کی جانب سے 22 دسمبر کو 185 نئے کووڈ کیسز کو رپورٹ کیا گیا تھا۔

    حکومت، اگرچہ لوگوں کو ہجوم والی جگہوں پر ماسک پہننے کا مشورہ دے رہی ہے، لیکن کہا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے – یہ تجویز ویکسین بنانے والے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (SII) کے ادار پونا والا نے دہرائی ہے-

    بدھ کو ایک جائزہ میٹنگ کے بعد، وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے ٹویٹ کیا کہ کوویڈ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ میں نے تمام متعلقہ اداروں کو چوکس رہنے اور نگرانی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

    مرکزی حکومت نے ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جینوم کی ترتیب کے لیے نمونے لیبارٹریوں کو بھیجیں، جس سے مختلف یا ذیلی قسم کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔

    یوکرین کو اب بھی بردار ملک کے طور پردیکھتے ہیں،روسی صدر

    جاپان، ریاستہائے متحدہ امریکہ، جمہوریہ کوریا، برازیل اور چین میں کیسوں میں اچانک اضافے کے پیش نظر، مختلف حالتوں کو ٹریک کرنے کے لیے مثبت کیسوں کے نمونوں کی پوری جینوم ترتیب کو تیار کرنا ضروری ہے-

    بدھ کو وزیر کی زیر صدارت کوویڈ جائزہ اجلاس میں، ماہرین نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان میں ابھی تک کوویڈ کیس لوڈ میں مجموعی طور پر کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، لیکن موجودہ اور ابھرتی ہوئی مختلف حالتوں پر نظر رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا کی اس نئی قسم میں ایسی جینیاتی تبدیلی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں یہ لوگوں میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے ایک تخمینے کے مطابق بی ایف 7 سے متاثر فرد اپنے اردگرد 10 سے 18 افراد کو اس بیماری کا شکار بناسکتا ہے۔

    بازو میں شدید درد کی شکایت، وجہ لبلبے کا سرطان قرار

  • چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    چین میں ایک مرتبہ پھر عالمی وبا کورونا وائرس سر اٹھانے لگی ہے۔

    باغی ٹی وی: دارالحکومت بیجنگ سمیت چین کے مختلف شہروں میں کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ملک میں اموات بڑھنے سے شمشان گھاٹوں میں ایک کے بعد دوسرا مردہ لایا جانے لگا۔

    دوسری جانب چین میں کئی عرصے سے لگا لاک ڈاؤن ایک دم ہٹائے جانے کے سبب لوگوں میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت میں کمی کیسز میں اضافے کی اہم وجہ قرار دی جارہی ہے۔

    دوسری جانب کئی سرکردہ سائنسدانوں اور عالمی ادارہ صحت کے مشیروں کے مطابق، چین میں ممکنہ طور پر تباہ کن لہر آنے کی وجہ سے کوویڈ 19 وبائی امراض کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    دی گارڈین کے مطابق جب سے چین نے انفیکشن میں اضافے اور بے مثال عوامی مظاہروں کے بعد گذشتہ ہفتے اپنی صفر کوویڈ پالیسی کو ختم کرنا شروع کیا تھا۔ تخمینوں نے تجویز کیا ہے کہ چانک تبدیلی کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کو 2023 میں دس لاکھ سے زیادہ اموات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے زیرو کوویڈ اپروچ نے 1.4 بلین کی آبادی میں انفیکشن اور اموات کو نسبتاً کم رکھا، لیکن قوانین میں نرمی نے عالمی تصویر بدل دی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا آپ اسے وبائی بیماری کے بعد کا نام دے سکتے ہیں جب دنیا کا اتنا اہم حصہ حقیقت میں صرف اس کی دوسری لہر میں داخل ہو رہا ہے ،” ڈچ وائرولوجسٹ ماریون کوپ مینس ، جو ڈبلیو ایچ او کی ایک کمیٹی میں بیٹھی ہیں جنہیں کوویڈ کی ایمرجنسی حیثیت کے بارے میں مشورہ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہیں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ہم وبائی بیماری کے ایک بہت ہی مختلف مرحلے میں ہیں، لیکن میرے ذہن میں، چین میں زیر التواء لہر ایک وائلڈ کارڈ ہے۔

    جیسا کہ حال ہی میں ستمبر میں، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ، ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے کہا تھا کہ وبائی مرض کا "ختم نظر میں ہے”۔ پچھلے ہفتے، انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ 2023 میں کسی وقت ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے "پُرامید” ہیں۔

    2022 کے دوسرے نصف میں وائرس کی خطرناک نئی شکلوں یا انفیکشن کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرات کے طور پر زیادہ تر ممالک نے کوویڈ پابندیوں کو ہٹا دیا۔

    ٹیڈروس کے ابتدائی تبصروں نے امید پیدا کی کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی جلد ہی کوویڈ کے لیے سب سے زیادہ الرٹ لیول کو ہٹا دے گی، جو جنوری 2020 سے نافذ ہے۔

    کوپ مینز اور ڈبلیو ایچ او کی مشاورتی کمیٹی کے دیگر ارکان جنوری کے آخر میں الرٹ کی سطح پر اپنی سفارشات پیش کرنے والے ہیں۔ ٹیڈروس حتمی فیصلہ کرتا ہے اور کمیٹی کی سفارش پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے۔

    منگل کے روز، چین بھر کے شہروں میں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی، کیونکہ حکام نے مزید پانچ اموات کی اطلاع دی ہے اور بیجنگ کے وائرس کو آزاد کرنے کے حیران کن فیصلے کے بارے میں بین الاقوامی تشویش بڑھ گئی ہے-

    چین کے لیے خطرات کے ساتھ ساتھ، کچھ عالمی صحت کے اعداد و شمار نے متنبہ کیا ہے کہ وائرس کے مقامی طور پر پھیلنے سے اسے تبدیل ہونے کا موقع بھی مل سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک خطرناک نئی شکل پیدا کر سکتا ہے۔

    اس وقت، چین کا ڈیٹا ڈبلیو ایچ او اور وائرس ڈیٹا بیس GISAID دونوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں گردش کرنے والی مختلف قسمیں عالمی سطح پر غالب اومیکرون اور اس کی شاخیں ہیں، حالانکہ مکمل ڈیٹا کی کمی کی وجہ سے تصویر نامکمل ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے ماہر وائرولوجسٹ ٹام پیکاک نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ چین میں لہر مختلف قسم کی ہے، یا یہ صرف کنٹینمنٹ کی خرابی کی نمائندگی کرتی ہے۔

    ریاستہائے متحدہ نے منگل کے روز اشارہ کیا کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے وباء میں مدد کرنے کے لئے تیار ہے، اور خبردار کیا کہ وہاں بے قابو پھیلاؤ عالمی معیشت پر مضمرات کا باعث بن سکتا ہے۔

  • کورونا وائرس کے 24 نئے کیس رپورٹ جبکہ مثبت کیسز کی شرح 0.32 فیصد رہی. قومی ادارہ صحت

    کورونا وائرس کے 24 نئے کیس رپورٹ جبکہ مثبت کیسز کی شرح 0.32 فیصد رہی. قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 24 نئےکیس رپورٹ ، مثبت کیسز کی شرح 0.32فیصد رہی.

    قومی ادارہ صحت(این آئی ایچ)کے مطابق ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 24کیس رپورٹ ہوئے، مثبت کیسز کی شرح 0.32فیصد رہی۔جمعرات کو قومی ادارہ صحت(این آئی ایچ)کے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے7ہزار451 ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے24 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے.


    اس طرح کورونا ٹیسٹ کی مثبت شرح 0.32فیصد رہی ۔ مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہواجبکہ26مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ پشاورمیں 24 گھنٹوں کے دوران471 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے5ٹیسٹ مثبت آئے اوروہاں مثبت کیسزکی شرح1.06 فیصد رہی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
    اسی طرح لاہو ر میں 265ٹیسٹوں میں سے4افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے اورشرح1.51فیصد رہی ، اسلام آباد میں395ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے2ٹیسٹ مثبت آئے اورشرح 0.51فیصد رہی اورکراچی میں 300ٹیسٹوں میں سے 6افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے اور وہاں مثبت کیسوں کی شرح 2فیصد رہی۔

    جبکہ خیال رہے کہ گزشتہ روز کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کی چھٹی لہر کے وار جاری جبکہ جان لیوا وائرس سے مزید 2 مریض لقمہ اجل بن گئے تھے. قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق گزشتہ دنوں 6 ہزار 708 ٹیسٹ کئے گئے جس میں 28 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، مہلک وائرس میں مبتلا 35 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی.

  • آسٹریلوی وزیراعظم ایک سال میں دوسری بارکورونا میں مبتلا

    آسٹریلوی وزیراعظم ایک سال میں دوسری بارکورونا میں مبتلا

    کینبرا: آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البنیس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس پر انھوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم ایک بار پھر کورونا میں مبتلا ہوگئے۔ انھیں 12 اور 13 دسمبر کو گونیا جانا تھا تاہم معمولی علامات ظاہر ہونے اور سفری شرائط کے باعث کورونا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا۔

    پرہجوم بازار میں خاتون کا بہیمانہ قتل، جسم کے مختلف اعضاء کاٹ دیے گئے

    آسٹریلوی وزیراعظم نے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے بیان میں ان تمام لوگوں سے کورونا ٹیسٹ کرانے کا کہا ہے جو حال میں اُن سے ملے تھے۔وزیراعظم انتھونی البنیس نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا اور کورونا ٹیسٹ منفی تک وہ امور مملکت گھر ہی سے چلائیں گے۔

    پارٹی رہنماؤں کو قتل کی دھمکیاں اور رہائش گا ہوں پرحملے تشویشناک ہیں :اصغر اچکزئی

    خیال رہے کہ نومنتخب وزیراعظم انتھونی البنیس رواں برس الیکشن مہم کے دوران بھی کورونا کے شکار ہوگئے جس پر انھوں نے آئسولیشن اختیار کی تاہم پارٹی نے ان کی انتخابی مہم چلائی اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔تین سال تک اپنی دہشت سے دنیا کو ڈرائے رکھنے والے کورونا وبا کے دوران مجموعی طور پر 66 لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اس وائرس نے ساڑھے 64 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا۔

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی ترقی کے لئے 100 دن کا پروگرام جاری کردیا

     

    یاد رہے کہ 3 سال قبل چین میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہلاکت خیز وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کورونا ویکسین کے مارکیٹ میں آنے اور ویکسینیشن تک دنیا بھر میں تجارتی اور سماجی سرگرمیاں معطل رہیں۔

  • چین :عوامی احتجاج کے بعد کئی شہروں میں کووڈ سختیوں میں نرمی

    چین :عوامی احتجاج کے بعد کئی شہروں میں کووڈ سختیوں میں نرمی

    بیجنگ:چینی حکومت نے اب تک کووڈ کے لیےحفاظتی سخت اقدامات میں قدرےنرمی کی ہے۔ قوانین میں ترمیم احتجاج کے بعد کی گئ ہے۔بیجنگ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سب سےپہلے گوانگ زو شہر میں کووڈ قوانین میں نرمی کی گئی تھی کیونکہ زیرو کووڈ پالیسی کے تحت عوامی احتجاج جاری تھا ۔ اس کےجواب میں بدھ کے روز حکومت نے بعض پابندیاں اٹھائی ہیں۔ واضح رہے کہ گوانگ زو چین کا مشہور صنعتی مرکز ہے جہاں کووڈ 19 کے بعض واقعات پر دوبارہ عوامی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

    ایک کروڑ نوےلاکھ افراد پر مشتمل شہر میں پابندی کے بعد کورونا وائرس کے نئے کیسوں میں واضح کمی دیکھی گئی تھی تاہم اب پابندیوں میں نرمی کا دائرہ مزید شہروں اور اضلاع تک بڑھایا گیا ہے۔ ۔ دوسری جانب زیرو کووڈ کی سخت ترین پالیسیوں کے بعد بیجنگ، شنگھائی اور گوانگ زو میں سختی کی گئی تھی اور انہی شہروں میں عوام سراپا احتجاج بھی تھے۔

    دوسری جانب نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان سن چنلین نےکہا ہے کہ نئی وبا کا اہم کردار اومیکرون ویریئنٹ ہے جو اب کمزور ہورہا ہے اور ویکسین کا عمل بھی بہتر ہورہا ہے۔ تاہم بیجنگ انتظامیہ نے کہا ہے کہ عوامی مقامات پر جانے والے باشندوں کو وہاں کام کرنے سے 48 گھنٹے قبل کووڈ کا منفی ٹیسٹ درکار ہوگا اور اس کےبعد ہی وہ دوبارہ پرہجوم مقامات پر جاسکیں گے۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • چین میں کورونا پابندیوں کیخلاف احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا

    چین میں کورونا پابندیوں کیخلاف احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا

    چین میں کورونا پابندیوں کیخلاف احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا، کورونا پابندیوں کیخلاف شہریوں کے مسلسل احتجاج کے دوران کئی شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی ۔ بعض شہروں میں پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں جبکہ احتجاج کے پیش نظر چینی سٹاک مارکیٹ بھی مندی کا شکار ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قیمت میں بھی کمی دیکھی جارہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں جبکہ مظاہروں کے بعد چینی حکومت سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے میں ناکام نظرآ رہی ہے۔

    واضح رہے کہ چین سے سر اٹھانے والے کورونا وائرس نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی جان لی اور کروڑوں لوگوں کو بری طرح متاثر کیا۔عوام الناس کی طرف سے چینی صدر کے استعفے کا مطالبہ زورپکڑرہا ہے اور یہ مطالبہ چند مقامات سے بڑھتا ہوا اب پورے ملک میں پھیل گیا ہے ، دوسری طرف چینی حکومت اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ ، ان مظاہروں کے پیچھے کہیں امریکہ اور دیگرچین مخالف قوتوں کی مدد تو نہیں جو اقدامات کے باوجود غیرقانونی مطالبات کررہے ہیں‌

    ادھرپاکستان میں کورونا کی چھٹی لہر کے وار جاری ہیں، ملک بھر میں جاں لیوا وائرس سے مزید ایک مریض دم توڑ گیا۔

     

    تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ صحت کے مطابق (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران 3 ہزار248 ٹیسٹ کئے گئے، 22 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ موذی مرض سے متاثرہ 32 مریضوں کی حالت تاحال تشویشناک ہے۔این آئی ایچ رپورٹ کے مطابق ملک میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.68 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ ایک مریض جاں بحق ہو گیا ہے۔

     

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

  • چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج، شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے

    چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج، شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے

    چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، چینی صدر شی جن پنگ سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق اتوار کی صبح مشتعل ہجوم نے بیجنگ اور شنگھائی کی سڑکوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، اس سے قبل شمال مغربی چینی صوبے سنکیانگ سے بھی شدید احتجاج کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

    امام خمینی ایئرپورٹ سٹی کی تعمیر:چینی کمپنی کو3 ارب یورو کا ٹھیکہ دے دیا گیا

    بیجنگ کی سنگھوا یونیورسٹی کے سینکڑوں طلباء نے اتوار کو اپنے کیمپس میں ریلی نکالی، ”آزادی غالب آئے گی“ کے نعرے لگائے اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بعض مظاہرین کی جانب سے شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے بھی لگائے گئے۔یہ مظاہرے کووڈ کے حوالے سے چینی حکومت کے زیرو ٹالرنس اپروچ پر بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔

    چین میں کورونا وبا کی نئی لہر؛ مزید 31 ہزار کیسز رپورٹ

    حال ہی میں چین کے شہر ارومکی میں ایک ٹاور آتشزدگی سے 10 افراد کی ہلاکت پر لاک ڈاؤن کے قوانین کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا، جب کہ چینی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے اموات ہوئیں۔ارومکی میں حکام نے جمعہ کو ایک غیر معمولی معافی نامہ جاری کیا جس میں پابندیوں کو ختم کرکے ”امن بحال“ کرنے کا عہد کیا۔

    چین: فیکٹری میں آتشزدگی،38 افراد ہلاک

    خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل چین میں چھ ماہ بعد کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت واقع ہوئی تھی جس کے بعد بیجنگ سمیت ملک بھر میں سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے تھے۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں رہائیشیوں کو شہر کے مختلف اضلاع کے درمیان سفر کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ ریستوران، دکانیں، شاپنگ مالز اور اپارٹمنٹ بلڈنگز کی ایک کثیر تعداد کو بند کیا ہوا ہے۔