Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کورونا وائرس کا خوف: برطانیہ میں بلدیاتی انتخابات آئندہ برس تک ملتوی کردیئے گئے

    کورونا وائرس کا خوف: برطانیہ میں بلدیاتی انتخابات آئندہ برس تک ملتوی کردیئے گئے

    لندن :کورونا وائرس کا خوف: برطانیہ میں بلدیاتی انتخابات آئندہ برس تک ملتوی کردیئے گئے ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے پیش نظر برطانیہ میں رواں سال مئی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ایک سال کے لیے ملتوی کردیے گئے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رواں سال مئی میں برطانیہ کی 118 کونسلز، لندن اسمبلی اور 7 ریجنل میئرز کے الیکشن ہونا تھا۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لندن میئر، انگلینڈ اور ویلز کے پولیس اور کرائم کمشنر کے الیکشن ہونا تھے جنہیں ایک سال کے لیے ملتوی کردیاگیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے رواں برس مئی میں ہونے والے انتخابات کو ایک سال کے لیے ملتوی کردیا ہے۔ حکومتی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے سبب شیڈول کے مطابق انتخابات کرانا ممکن نہیں۔

    یہ دوسرا موقع ہے کہ برطانیہ کے بلدیاتی اداروں کے الیکشن ملتوی کیے گئے ہیں، اس سے قبل 2001 میں ’فُٹ اینڈ ماؤتھ‘ نامی بیماری پھیلنے کے سبب انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تھے۔خیال رہے کہ گزشتہ روزبرطانوی الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی الیکشن مؤخر کرنے کا کہا گیا تھا۔

  • اٹلی میں کورونا کے مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوگئی، مزید 250 ہلاک،جاں بحق افراد کی تعداد 1266ہوچکی

    اٹلی میں کورونا کے مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوگئی، مزید 250 ہلاک،جاں بحق افراد کی تعداد 1266ہوچکی

    اٹلی :اٹلی میں کورونا کے مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوگئی، مزید 250 ہلاک،جاں بحق افراد کی تعداد 1266ہوچکی ،اطلاعات کےمطابق اٹلی میں کورونا وائرس کے باعث مزید 250 افراد ہلاک ہوگئے اور مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوگئی۔

    /https://infogram.com/corona-virus-1h9j6qkkzz7e6gz

    اطلاعات کےمطابق لوگ سڑکوں ، بازاروں میں جان دے رہے ہیں اوراپنے ہی دیکھ کرمنہ موڑ لیتے ہیں ، لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے بند کرلیے ہیں ، مارکیٹیں اوربازاربند ہیں ، اٹلی میں کوروناوائرس کےمزید2 ہزار 547 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد اٹلی میں کورونا وائرس کے زیر علاج مریضوں کی تعداد چین سے بھی تجاوز کر گئی۔

    چین میں64 ہزار افراد کےصحت یاب ہونے کے بعد کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد13ہزار 486 ہے جبکہ اٹلی میں کورونا وائرس کےمریضوں کی تعداد 14 ہزار 955 تک پہنچ گئی ہے۔اٹلی میں اب تک ایک ہزار 266 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

  • قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری، وزیراعظم نے قوم سے کی بڑی اپیل

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری، وزیراعظم نے قوم سے کی بڑی اپیل

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری، وزیراعظم نے قوم سے کی بڑی اپیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا

    اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اورچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر داخلہ اعجازشاہ اور وزیردفاع پرویزخٹک ،سیکریٹری داخلہ، خارجہ اور سیکریٹری سلامتی کمیٹی بھی شریک ہوئے.کورونا وائرس سے متعلق معاون خصوصی ظفر مرزا نے بریفنگ دی،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں کوروناکے پیش نظر11فیصلے لیے گئے،

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے،

    اعلامیہ کے مطابق کرتارپورراہداری پاکستانیوں کیلئےبند،بھارتی یاتری آسکیں گے،کراچی،لاہوراوراسلام آباد سے غیرملکی پروازیں آپریٹ ہوں گی،تینوں ایئرپورٹس پرمسافروں کی اسکریننگ کی جائےگی،کوروناوائرس کے معاملے پرقومی کوآرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دے دی گئی ،معاون خصوص صحت کمیٹی کے سربراہ،صوبائی اورملٹری اسٹیک ہولڈرزممبران ہوں گے، کوآرڈی نیشن کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر صورتحال مانٹیرکرےگی کوروناوائرس پراین ڈی ایم اےآپریشنل کام کرے گا،این ڈی ایم اے صوبوں اوراضلاع کےساتھ وباسےنمٹنےمیں رابطہ رکھےگا

    اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 3ہفتوں کیلئےسرکاری اورنجی تعلیمی ادارےبندرہیں گے،ا2ہفتوں کیلئے مغربی بارڈرانسانی اورکمرشل مقاصد کیلئے بندرہےگا،تمام عوامی اجتماعات کوفوری طور پر بند کیا جائےگا،شادی ہالزاورسینیمازدوہفتوں کے لیے بندکرنےکافیصلہ کیا گیا.بڑی کانفرنسزبھی نہیں ہوں گی،پی ایس ایل کےبقیہ میچزمیں شائقین نہیں ہوں گے

    اعلامیہ کے مطابق مذہبی اجتماعات سےمتعلق وزیرمذہبی اموراورچیئرمین نظریاتی کونسل علماسےمشاورت کریں گے،تین ہفتوں تک جیلوں میں موجودقیدیوں سےملنےکی اجازت نہیں ہوگی،چیف جسٹس صاحبان سے3ہفتوں کیلئےسماعتیں نہ کرنے کی درخواست کی جائےگی،

    وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کےتوسط سےقوم سےاپیل کی ہے کہ قوم کو رونا کے پھیلاؤ کو روکنےمیں مثبت کردار ادا کرنےکیلئےمتحدہو،بحثیت قوم احتیاطی تدابیرکےذریعےاس چیلنج کامقابلہ کرسکتےہیں

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کی صحت کےتحفظ کیلئےایک جامع اورمتفقہ قومی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے ،متعلقہ حکام یقینی بنائیں کہ وائرس سےبچاوَکیلئےتمام اقدامات اٹھائےگئےہیں

  • کرونا وائرس،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل،پہلا اجلاس کب ہو گا؟

    کرونا وائرس،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل،پہلا اجلاس کب ہو گا؟

    کرونا وائرس،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل،پہلا اجلاس کب ہو گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے قومی سلامتی کمیٹی نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دیدی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،اعلی سطحی کمیٹی میں متعلقہ وفاقی وزراء،وزراءاعلی ، این ڈی ایم اے کے چیئرمین ، سرجن جنرل آف پاکستان آرمی اور ڈی جی آئی ایس آئی ، آئی ایس پی آر اور ڈی جی ایم او کے نمائندے اس کمیٹی کے رکن ہونگے ،

    اس کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی اور ادارے یا آفیشل کو شامل کرنا چاہے تو کرسکے جبکہ وزیر صحت کمیٹی کے کنوینیئر اور وفاقی سیکرٹری صحت اس کمیٹی کے سیکرٹری ہونگے ، اس کمیٹی کا پہلا اجلاس ہفتہ کی سہ پہر4بجے ہوگا ،اس کمیٹی کی تشکیل ضروری تھی،

    ڈاکٹر ظفر مرزا کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں بروقت اور مناسب اقدامات کی بدولت خطے اور ہمسایہ ممالک کے حوالے سے پاکستان آخری ملک تھا جہاں کرونا وائرس رپورٹ ہوا ،ہمارے اردگرد چین ،ایران، افغانستان اور انڈیا ہے جو کہ متاثرہ ممالک ہیں ۔ دنیا میں پاکستان 48واں ملک تھا جس میں یہ کرونا وائرس کیس رپورٹ ہوا ، اس وقت پاکستان میں کرونا وائرس کے کنفرم 28کیسز ہیں۔ آج کے اجلاس میں انتہائی اہم فیصلے کیے گئے ،ان کا اثر قومی سطح پر ہوگا ،یہ فیصلے اصل میں ذمہ دار حکومت کا اظہار ہے جو عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے کرتی ہیں .

    ڈاکٹر ظفر مرزا کا مزید کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے زور دیا اور تمام شرکاءکا بھی اتفاق تھا کہ ایک قومی صورتحال میں قومی سطح پر مشاورت کی ضرورت ہے ،اس حوالے سے یہ ضروری ہے کہ کوئی غلط فہمی نہ ہو تا کہ مل جل کر فیصلے کر کے فوری عمل درآمد کیا جائے ، این ڈی ایم اے مرکزی آپریشنل ایجنسی ہوگی ۔ کوآرڈینیشن کمیٹی دو ہفتوں کے بعد اجلاس میں جائزہ لے گی ،سرحدوں پر نظام کو موثر ،سیکریننگ یقینی بنائی جائے گی تا کہ متاثرہ لوگ پاکستان داخل نہ ہوسکیں ۔معاشی ضروریات کا تعین ہونے پر وفاقی حکومت این ڈی ایم اے کو فنڈز اور چیزیں فراہم کریگی جبکہ صوبائی حکومتیں پی ڈی ایم اے کو فراہم کریں گی

  • صورت حال پرقابوپانےکےلیےکراچی کے اسپتالوں میں کورونا کی مزید تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں، نمائندہ ڈبلیو ایچ او

    صورت حال پرقابوپانےکےلیےکراچی کے اسپتالوں میں کورونا کی مزید تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں، نمائندہ ڈبلیو ایچ او

    کراچی: صورت حال پرقابوپانےکےلیےکراچی کے اسپتالوں میں کورونا کی مزید تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں،اطلاعات کے مابقعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کراچی کے پرائیویٹ اور سرکاری اسپتالوں میں بہترین تشخیصی سہولیات اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کے مزید سرکاری اسپتالوں میں تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ بڑے پیمانے پر مریض ان اسپتالوں میں آنے کی صورت میں فوری طور پر ان کے ٹیسٹ کیے جا سکیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپالا نے کہا کہ چین میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پاکستان نے فوری اقدامات کیے اور وبا سے نمٹنے کے لیے قومی رسپانس پروگرام ترتیب دیا جو کہ دنیا کا بہترین پروگرام ہے، پاکستان میں اس وقت سات لیباٹریاں کورونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہیں جہاں اس وقت 15000 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 2000 آئسولیشن بستر تیار رکھے گئے ہیں جو کہ موجودہ صورتحال میں کافی بڑی تعداد ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس کا دورہ کیا اور وہاں پر کورونا وائرس کی تشخیصی لیبارٹری اور آئسولیشن وارڈ کا معائنہ کیا۔ڈاکٹر پالیتھا نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے آئسولیشن وارڈ اور لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی سے بھی ملاقات کی۔

    عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے سندھ میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر سارہ سلمان کے ساتھ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو سے بھی ملاقات کی اور محکمہ صحت کو کورونا وائرس کی تشخیصی کٹس، ماسک اور دیگر سازوسامان کی فراہمی کی پیشکش بھی کی۔

    بعد ازاں ڈاکٹر پالیتھا ماہی والا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا نیشنل ریسپانس پروگرام دنیا کا بہترین پروگرام ہے اور اب یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس مہلک بیماری سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات پر کتنا عمل کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر پالیتھا کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ صابن اور پانی سے 20 سیکنڈ تک بار بار اپنے ہاتھوں کو دھوئیں، صابن اور پانی نہ ہونے کی صورت میں میں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں، نزلہ زکام کی صورت میں گھروں تک محدود رہیں اور کھانسی بخار اور سانس لینے میں تکلیف کی صورت میں میں بڑے اور مخصوص اسپتالوں میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

  • خبردار،ہوشیار : یورپ اب کورونا وائرس کی وبا کا نیا مرکز ہے، عالمی ادارہ صحت

    خبردار،ہوشیار : یورپ اب کورونا وائرس کی وبا کا نیا مرکز ہے، عالمی ادارہ صحت

    جنیوا:خبردار،ہوشیار : یورپ اب کورونا وائرس کی وبا کا نیا مرکز ہے، عالمی ادارہ صحت،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے چین کی جگہ اب یورپ کو نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا نیا مرکز قرار دے دیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹیڈورز ایڈہانوم گھیبریتس نے کہا ‘اب روزانہ یورپ میں اس سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں جتنے چین میں اس وبا کے عروج میں سامنے آرہے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ممالک کو اس وبا سے لڑنے کے لیے منظم سوچ کو اختیار کرنا ہوگا ‘صرف ٹیسٹنگ تک محدود نہ رہیں،

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹیڈورز ایڈہانوم گھیبریتس نے نے کہا ہے کہ صرف قرنطینہ کو ہی اہمیت نہ دیں، صرف سماجی طور پر الگ تھلگ ہونے کو ترجیح دیں، سب پر عمل کریں، ہر ملک کو دیگر ممالک کے تجربے کو دیکھنا چاہیے اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہ ہمارے ساتھ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ جان لیوا غلطی ہے، ایسا کسی بھی ملک کے ساتھ ہوسکتا ہے’۔

    عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کو کووڈ 19 کو عالمگیر وبا قرار دیا تھا جو اب تک ایشیا سمیت تمام براعظموں تک پھیل چکی ہے اور صرف انٹارکٹیکا ہی اس سے مھفوظ ہے۔چین کے شہر ووہان سے نمودار ہونے والا وائرس 3 ماہ سے بھی کم وقت میں دنیا کے متعدد ممالک میں پھیل گیا جس سے اب تک ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد متاثر جبکہ 5 ہزار ہلاک ہوچکے ہیں۔

    چین میں نئے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آچکی ہے اور جمعرات کو صرف 26 نئے کیس سامنے آئے جبکہ یورپ میں راتوں رات کیسز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنگ ڈیزیز اینڈ زونسٹ یونسٹ کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ وان کرکوف نے بتایا ‘چین میں وائرس عروج پر گیا اور پھر کمی آئی، اس کا مطلب ہے کہ ہمیشہ ایک موقع ہمارے پاس ہوتا ہے’۔

    ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریان کے مطابق ‘سماجی طور پر کٹ جانے سے وائرس کے پھیلاﺅ کی رفتار میں بہت معمولی کمی آتی ہے تاکہ آپ کا طبی نظام اس پر قابو پاسکیں، اگر آپ کی رفتار تیز نہیں ہوتی تو وائرس ہمیشہ آپ کو پکڑ لیتا ہے’۔

    اٹلی اس وقت چین سے باہر کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں 15 ہزار سے زائد افراد بیمار ہوچکے ہیں، جس کے بعد اسپین میں 43 سو سے زائد، جرمنی میں 31 سو سے زائد جبکہ فرانس میں 28 سو سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔یورپ کے دیگر ممالک میں بھی کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور امریکا نے یورپی باشندوں کی آمد پر 30 دن کے لیے پابندی عائد کردی ہے تاہم کچھ یورپی ممالک کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

  • سعودی عرب میں کرونا کے مزید 24 کیسز سامنے آ گئے

    سعودی عرب میں کرونا کے مزید 24 کیسز سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مزید 24 کیسر رپورٹ ہوئے ہیں

    سعودی وزارت صحت کے مطابق مکہ مکرمہ سے کورونا وائرس کے 15 کیسز رپورٹ ہوئے ،14متاثرہ افراد کا تعلق مصر اور ایک کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے،

    سعودی وزارت صحت کے مطابق کرونا وائرس کے نئے مریضوں میں پہلا سعودی شہری پہلے سے کورونا میں مبتلا شخص سے ملنے کی وجہ سے مرض کا شکار ہوا،دوسرا کیس بھی سعودی شہری کا ہے جو پرتگال سے ترکی کے راستے سعودی عرب پہنچا تھا۔ تیسرا کیس سعودی خاتون کا ہے جو ایران سے براستہ عمان مملکت آئی.دو سعودی شہری عراق سے ہوکر آئے تھے۔ جن میں کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد قطیف ریجن میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے

    دوسری جانب سعودی پبلک پراسیکیوشن نے خبردار کیا ہے کہ نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جاری کی جانے والی ہدایات اور فیصلو ں کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے۔اس پر احتساب ہوگا۔ سعودی میڈیا کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کورونا وائرس سے بچاﺅ کے انتظامات کرنے والے ادارے جو فیصلے جاری کررہے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے طور پر ہدایات دے رہے ہیں ان سب کی پابندی تمام سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں پر لازم ہے۔اس حوالہ سے جو بھی فیصلے کیے جا رہے ہیں ان پر سعودی و غیر سعودی سب پر عمل کرنا لازم ہے

    اگر کوئی شخص کورونا وائرس سے بچاﺅ کی تدابیر اور فیصلوں کی خلاف ورزی جان بوجھ کر کرے گا تو اس کے خلاف فوجداری کارروائی ہوگی اور متعلقہ عدالت سے اسے سبق سکھانے والی سزا دلوائی جائے گی۔

    کرونا وائرس، چین سے طالب علم پاکستان پہنچا تو اسکے ساتھ کیا ہوا؟

    کرونا وائرس، مائیں رو رہی ہیں ،حکومت سو رہی ہے، مشاہد اللہ خان کی سینیٹ میں کڑی تنقید

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کے تمام مریضوں کو قرنطینہ میں بالکل الگ رکھا گیا ہے، ان کا علاج جاری ہے،دوسری جانب سعودی عرب میں کرونا وائرس کا پہلا مریض صحتیاب ہو گیا ہے، متاثرہ شخص سعودی شہری تھا جو قطیف سینٹرل اسپتال میں زیر علاج تھا۔ معائنے سے پتہ چلا کہ اسے نئے کورونا وائرس سے نجات مل گئی ہے۔

    قبل ازیں سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سعودی حکام کی جانب سے ملک کو لاک ڈاون کرنے کے فیصلے سے تمام ممالک اور ائیر لائنز کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔سعودی حکومت کے فیصلے کے تحت تمام عمرہ زائرین اور وزٹ ویزے پر آنے والوں کو 72 گھنٹوں میں سعودی عرب چھوڑنا ہو گا۔

    سعودی عرب میں کورونا کے مریضوں سے ملنے والوں کی تعداد 800 ہے۔ وزارت صحت کے ترجمان کا کہناتھا کہ 2032 افراد کو گھروں میں الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔ صحت ادارے ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ 468 قرنطینہ میں ہیں۔ سعودی عرب اب تک ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بری سرحدی چوکیوں پر 5 لاکھ افراد کا طبی معائنہ کرچکا ہے

  • پاک فوج کے افسران کے بارے میں  کرونا ہونے کی فیک خبرشائع کربیٹھے،غلطی ہوگئی ، ہندوستان ٹائمزنے پابندی کے ڈرسے جھوٹ تسلیم کرلیا

    پاک فوج کے افسران کے بارے میں کرونا ہونے کی فیک خبرشائع کربیٹھے،غلطی ہوگئی ، ہندوستان ٹائمزنے پابندی کے ڈرسے جھوٹ تسلیم کرلیا

    راولپنڈی: پاک فوج کے افسران کے بارے میں کرونا ہونے کی فیک خبرشائع کربیٹھے،غلطی ہوگئی ، ہندوستان ٹائمزنے پابندی کے ڈرسے جھوٹ تسلیم کرلیا،اطلاعات کےمطابق بھارت کے ترجمان ادارے ہندوستان ٹائمز نےپاک فوج کے حوالے سے کرونا ہونے کی غلط خبرچھاپی تھی اس غلط خبر کی وجہ سے پابندی لگنے کے ڈرسے بڑی جلدی اپنا سفید جھوٹ تسلیم کرکے اپنی حقیقت پرسے پردہ اٹھا لیا

    باغی ٹی وی کے مطابق ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہےکہ بعض ہندوستانی نشریاتی اداروں نے اس خبرکو شائع کیا تھا جہاں سے انہوں نے اٹھا کراسے شائع کردیا ، بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ خبر جھوٹ ہے اورپاکستان آرمی کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے

    ہندوستان ٹائمز نے یہ بھی تسلیم کیا ہےکہ ان کے ادارے سے یہ غلط اورجھوٹی خبرشائع ہوگئی ہے، جس کا وہ اقرار کرتے ہیں ،دوسری طرف ہندوستان ٹائمز نے اے این آئی کا حوالہ دیا ہےکہ اس ادارے نے پہلے یہ خبر شائع کی تھی اورجہاں سے انہوں نے یہ خبراٹھاکرپھراپنے میڈیا سے شائع کی ،

    تفصیلات کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا کے 120 سے زائد ممالک میں اپنے پنجھے گاڑھے ہوئے ہیں، دنیا بھر میں 4200 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ چین کے بعد اٹلی میں خوفناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے، پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے، جہاں پر کرونا وائرس نے خوف پھیلایا ہوا ہے

    یاد رہے کہ بھارت نے مکاری کرتے ہوئےدنیا کی اس خطرناک بیماری کی آڑ میں پاک فوج کے خلاف ایک سوشل مہم شروع کررکھی سوشل میڈیا پر جعلی خبریں بھی پھیلائی جا رہی ہیں، سوشل میڈیاپر کرونا وائرس سے متعلق جعلی خبروں کی بھرمار ہو گئی ہے۔

    وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی آفیسرز کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی خبر کی تردید کرتے ہیں۔ پاک فوج کے افسران کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی خبر بے بنیاد ہے۔واضح رہے کہ ملائیشیا، تھائی لینڈ، ہنگری، اٹلی سمیت دیگر ممالک میں جعلی خبروں پھیلانے پر کارروائی کی گئی ہیں متعدد لوگوں کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ بڑے جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔

  • صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور پیشگی سدباب کے لئے ہوئے بڑے فیصلے

    صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور پیشگی سدباب کے لئے ہوئے بڑے فیصلے

    صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور پیشگی سدباب کے لئے ہوئے بڑے فیصلے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور پیشگی سدباب کے لئے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے قومی سلامتی اجلاس کے بعد اہم فیصلے کئے ہیں.

    صوبہ پنجاب بھر میں تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بشمول سکول، کالج، میڈیکل کالج، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹیز اگلے تین ہفتے کے لئے بند رہیں گے، اگلے تین ہفتو ں کے دوران ہونے والے تمام امتحانات منسوخ کردیئے گئے ہیں – تمام ٹیوشن سینٹر بھی بند رہیں گے، تمام دینی مدارس تین ہفتے کے لئے بند رکھے جائیں گے – دینی مدارس میں مقیم صرف غیرملکی طلبہ کو مدارس کے ہوسٹل میں رہنے کی اجازت دی جائے گی-

    صوبہ بھر میں تمام میرج، بینکوئٹ حال اور مارکی تین ہفتوں کے لئے بند رہیں گی- اگلے تین ہفتوں کے لئے تمام مذہبی اجتماعات اور تقریبات بھی منسوخ کردی گئی ہیں – جشن بہاراں اور دوسرے میلے بھی تین ہفتے کے لئے کینسل کردیئے گئے ہیں – تمام سرکاری اور نجی سپورٹس فیسٹیول بھی تین ہفتے کے لئے منسوخ کئے جاچکے ہیں – تین ہفتوں کے لئے جیلوں میں مقیم قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے-

    تین ہفتوں کے لئے تمام قسم کے عوامی اجتماعات کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے- محکمہ پرائمری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی مشاورت کے ساتھ محکمہ اطلاعات موثرمیڈیا کمپین کا اہتمام کرے گا- پی ایس ایل کے میچزشائقین کے بغیر منعقد ہوں گے- تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹ مذکورہ بالا احکامات کی تعمیل کے لئے موثر اقدامات اور گائیڈ لائن جاری کریں گے- وزیر اعلی کے احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے-

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 28 ہوگئی جس کی تصدیق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کی ہے.

    کرونا کا پنجاب میں کوئی مریض نہیں،پنجاب میں میڈیکل ایمرجنسی ڈکلیئرکر دی ہے، یاسمین راشد

    کرونا کا خدشہ، چکن کی قیمت دس روپے فی کلو ہونے پر پولٹری مالکان نے 6 ہزار مرغیوں کو زندہ دفنا دیا

    کرونا وائرس، چین سے طالب علم پاکستان پہنچا تو اسکے ساتھ کیا ہوا؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    سندھ میں کورونا وائرس کا ایک اور مریض میں تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبہ سندھ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 16 ہوگئی ہے محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ 52 سال کے شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور متاثرہ شخص 2 روز قبل اسلام آباد سے کراچی پہنچا تھا۔ کورونا وائرس کے 13 مریض آئسولیشن وارڈز میں زیر علاج ہیں جب کہ 2 مریض صحتیاب ہوکر ڈسچارج کیے جاچکے ہیں۔

    خیال رہے کہ اب تک ملک میں کورونا وائرس کے 28 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے کراچی میں 16، اسلام آباد میں 2 جب کہ گلگت بلتستان 3 اور بلوچستان سے ایک کیس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ان مریضوں میں سے سب سے پہلے سامنے آنے والے کراچی کے یحییٰ جعفری نامی نوجوان کو صحت یابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے جب کہ باقی تمام متاثرہ افراد زیر علاج ہیں

  • ‘کورونا وائرس سے15 کروڑ تک امریکی شہری متاثر ہوسکتے ہیں’امریکہ پرخوف کے سائے طویل ہونے لگے

    ‘کورونا وائرس سے15 کروڑ تک امریکی شہری متاثر ہوسکتے ہیں’امریکہ پرخوف کے سائے طویل ہونے لگے

    واشنگٹن:’کورونا وائرس سے15 کروڑ تک امریکی شہری متاثر ہوسکتے ہیں’امریکہ پرخوف کے سائے طویل ہونے لگے ،رپورٹس کے مطابق امریکا میں نئے نوول کورونا وائرس سے 7 کروڑ سے 15 کروڑ افراد اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

    یہ بات امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) اور امریکی سپریم کورٹ کے آفیشل ڈاکٹر برائن موناہن نے کہی۔این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر برائن نے یہ بات منگل کی سہ پہر سینٹ میں بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں کہی، جس میں سینٹرز شامل نہیں تھے بلکہ انتظامیی عملہ اور دونوں پارٹیوں کے افراد شریک تھے۔

    خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کو کورونا وائرس کو عالمگیر وبا قرار دیا تھا جو اب تک 114 ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے اب تک ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 5 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد 69 ہزار سے زیادہ ہے۔امریکا میں اب تک 1701 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 41 مریض ہلاک اور 12 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    امریکا کی کم ازکم 36 ریاستوں تک یہ وائرس پھیل چکا ہے اور وبائی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک یہ وائرس سیزنل فلو کے مقابلے میں زیادہ متعدی اور جان لیوا نظر آتا ہے کیونکہ اموات کی شرح اگر ایک فیصد بھی ہوتی ہے تو بھی یہ فلو کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ جان لیوا ہوگا۔

    بدھ کو امریکی کانگریس کی اوور سائٹ اینڈ ریفارم کمیٹی کے اجلاس کے دوران امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشز ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فیوسی نے کہا تھا کہ امریکا میں کورونا وائرس سے صورتحال ابھی مزید بدتر ہونا باقی ہے۔انہوں نے کہا ‘میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم مزید کیسز دیکھیں گے اور صورتحال اس وقت کے مقابلے میں زیادہ بدتر ہوجائے گی’۔

    ان کا کہنا تھا ‘اس عرصے میں ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہوا، 1980 کی دہائی میں ایچ آئی وی ایڈز کا بحران اور 2009 میں سوائن فلو کی عالمی وبا، مگر ہم نے روزمرہ کی زندگی میں اس طرح کا انتشار کبھی نہیں دیکھا، بلکہ ہم نے اس طرح کی صورتحال کا سامنا پہلے کبھی نہیں کیا’۔دوسری جانب امریکا میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کے ٹیسٹوں کے عمل میں سست رفتاری پر تنقید کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اسے بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔