Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کورونا کے مزید 38 کیسز رپورٹ، 48 مریضوں کی حالت تشویشناک

    کورونا کے مزید 38 کیسز رپورٹ، 48 مریضوں کی حالت تشویشناک

    کورونا کے مزید 38 کیسز رپورٹ، 48 مریضوں کی حالت تشویشناک

    قومی ادارہ صحت ( این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 5 ہزار 473 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ این آئی ایچ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 473 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 38 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔


    اس طرح گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئے گئے مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.69 فیصد رہی ہے، مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی بھی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 48 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
    کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

    یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • کورونا سے ایک مریض انتقال جبکہ 48 کی حالت تشویش ناک

    کورونا سے ایک مریض انتقال جبکہ 48 کی حالت تشویش ناک

    کورونا کا ایک مریض انتقال کرگیا، 48 متاثرین کی حالت تشویش ناک
    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کا ایک مریض انتقال کرگیا جب کہ 48 متاثرین کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 10 ہزار 953 ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 64 افراد کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے اور مثبت کیسز کی شرح 0.58 فی صد ریکارڈ کی گئی۔


    واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح بتدریج کم ہو رہی ہے۔ تین روز قبل بھی وبا سے متاثرہ ایک شخص انتقال کرگیا تھا۔ کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
    یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔
    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟
    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ لانگ مارچ؛ آج دوبار شاہدرہ سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا
    پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج
    رانا ثنااللہ کی عمران خان کوپی ڈی ایم قیادت سے غیرمشروط بات کرنے کی پیشکش:لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ
    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی عابد زبیری کو صدر سپریم کورٹ بار منتخب ہونے پر مبارکباد

  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 46 نئے کیسز رپورٹ

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 46 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 46 نئے کیسز رپورٹ جبکہ 41 مریضوں کی حال تشویشناک ہے۔ قومی ادارۂ صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 73 ہزار 853 افراد کورونا سے متاثر جبکہ وائرس کے باعث 30 ہزار 625 جاں بحق ہوئے۔ شرحِ اموات 2 فیصد کے لگ بھگ رہی۔


    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کی تشخیص کیلئے 7 ہزار 904 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ مثبت کیسز کا تناسب 0.58 فیصد رہا۔ ٹیسٹس کی مجموعی تعداد 37 لاکھ 7 ہزار 904 ہوگئی جبکہ کورونا کے 41 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
    خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں کورونا نے پھر سر اُٹھا لیا اور صرف 1 روز کے دوران کورونا وائرس کے 3 ہزار 375 نئے کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 4 کروڑ 46 لاکھ کے قریب جا پہنچی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کینسر کا پتہ لگانے کیلئے تشخیصی پراجیکٹ پاکستانی آبادی سے نمونے اکٹھے کرے گا. ڈاکٹر عاصمہ
    ٹی 20 ورلڈ کپ: آج پاکستان اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے ساتھ کھیلے گا
    ایران میں شاہ چراغ کےمزار پردہشتگردوں کا حملہ،15 زائرین جاں بحق
    ارشد شریف کا نماز جنازہ دو بجے فیصل مسجد میں ادا کیا جائے گا، انتظامات مکمل
    بھارتی حکومت کا رواں ماہ کے آغاز میں کہنا تھا کہ ملک میں کورونا سے 4 کروڑ 40 لاکھ مریض ٹھیک ہو چکے ہیں جن کو ملک کے مختلف اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداددوشمار سے پتہ چلا کہ 1 روز کے دوران کورنا وائرس سے مزید 18 بھارتی شہری ہلاک ہو گئے۔
    بھارتی حکومت کا پاکستان کی جاسوسی کیلئے ہنگامی طور پر ڈرون خریدنے کا فیصلہ
    ارشد شریف قتل؛ کسی بھی فورم کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہو. عمران خان
    عمران خان نے ارشد شریف کو کے پی یا پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس کیوں نہ بھیجا؟ احسن اقبال

  • 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 1 شہری جاں بحق جبکہ 52 نئے کیسز رپورٹ

    24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 1 شہری جاں بحق جبکہ 52 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں کورونا کے 52 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس کے باعث 1 شہری جاں بحق ہوگیا۔

    قومی ادارۂ صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 73 ہزار 807افراد کورونا سے متاثر جبکہ وائرس کے باعث 30 ہزار 625 جاں بحق ہوئے۔ شرحِ اموات 2 فیصد کے لگ بھگ رہی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کی تشخیص کیلئے 7 ہزار 512 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ مثبت کیسز کا تناسب 0.69فیصد رہا۔ ٹیسٹس کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 7 لاکھ سے زائد ہوگئی جبکہ کورونا کے43 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔


    خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں کورونا نے پھر سر اُٹھا لیا اور صرف 1 روز کے دوران کورونا وائرس کے3ہزار375نئے کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد4 کروڑ 46 لاکھ کے قریب جا پہنچی۔ بھارتی حکومت کا رواں ماہ کے آغاز میں کہنا تھا کہ ملک میں کورونا سے 4 کروڑ 40 لاکھ مریض ٹھیک ہو چکے ہیں جن کو ملک کے مختلف اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداددوشمار سے پتہ چلا کہ 1 روز کے دوران کورنا وائرس سے مزید 18 بھارتی شہری ہلاک ہو گئے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ جنسی ہراسگی میں ملوث تین ملزمان گرفتار،فحش ویڈیوز بھی برآمد
    ارشد شریف قتل؛ تحقیقاتی ٹیم کینیا جائے گی
    ٹریفک پولیس اہلکارکی گانا گا کرپارکنگ کے بارے میں بتانے کی ویڈیو وائرل
    وزیراعظم نے وفد کے ہمراہ عمرہ ادائیگی کے دوران ملکی سلامتی وخوشحالی کےلئے دعائیں کی
    ڈیرہ مرادجمالی میں مسلح افراد نے پولیس اسٹیشن پر حملہ، ایک اہلکار شہید
    امریکا کی جانب سے تیل کے ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پر سعودی عرب کا شدید ردعمل
    ڈیرہ اسمٰعیل خان:فیصل کریم کنڈی اور جے یو آئی ف کے رہنماوں کی صوبے کی ترقی کے لیے کوششیں جاری

  • ملک بھر میں کورونا کے 54 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں کورونا کے 54 نئے کیسز رپورٹ

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس کے باعث کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی تاہم 54 نئے کیسز رپورٹ ہوئے.

    ملک بھر میں کورونا کے 54 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم کورونا کے 46مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ قومی ادارۂ صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 73 ہزار 457افراد کورونا سے متاثر جبکہ وائرس کے باعث 30 ہزار 621 جاں بحق ہوئے۔ شرحِ اموات 2 فیصد کے لگ بھگ رہی۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کی تشخیص کیلئے 9 ہزار 447 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ مثبت کیسز کا تناسب 0.57فیصد رہا۔ ٹیسٹس کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 7 لاکھ ہوگئی جبکہ کورونا کے46 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں کورونا نے پھر سر اُٹھا لیا اور صرف 1 روز کے دوران کورونا وائرس کے3ہزار375نئے کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد4 کروڑ 46 لاکھ کے قریب جا پہنچی۔

    بھارتی حکومت کا رواں ماہ کے آغاز میں کہنا تھا کہ ملک میں کورونا سے 4 کروڑ 40 لاکھ مریض ٹھیک ہو چکے ہیں جن کو ملک کے مختلف اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداددوشمار بتاتے ہیں کہ 1 روز کے دوران کورنا وائرس سے مزید 18 بھارتی شہری ہلاک ہو گئے۔

    یاد رہے کہ کرونا وبا کا آغاز دسمبر 2019 میں چین سے ہوا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے فروری 2020 میں کرونا کو ’گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ قرار دے دیا تھا۔ بعد ازاں وبا میں تیزی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے کرونا وبا کو مارچ 2020 میں عالمگیر وبا قرار دے دیا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے، لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے، سفری پابندیاں عائد کی گئیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے پر مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ تین سال سے تاحال دنیا کے متعدد ممالک میں کرونا سے تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن سمیت دیگر بعض پابندیاں نافذ ہیں۔وبا کے آغاز سے لے کر اب تک دنیا بھر میں کرونا وائرس انفیکشن سے 63 کروڑ 15 لاکھ 41 ہزار 300 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جب کہ وائرس نے 65 لاکھ 77 ہزار انسانوں کی جانیں نگلی ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ جنرل قمر جاوید باجوہ بطور آرمی چیف اور سیکیورٹی چیلنجز ، بقلم: شکیل احمد رامے
    امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    اداروں سے متعلق بیان پر وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کی وضاحت
    یورپی یونین نے 6 ماہ سے زائد عمر کے بچوں کو کورونا وائرس کی ویکسین دینےکی منظوری دے دی۔
    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار نوجوان کی لانڈھی جیل میں پراسرار ہلاکت
    اسمارٹ فون خریدنے کیلئے 16 سالہ لڑکی اپنا خون بیچنے اسپتال پہنچ گئی

  • کورونا اب بھی ‘گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ ہے:احتیاط سب پر لازم ہے:عالمی ادارہ صحت

    کورونا اب بھی ‘گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ ہے:احتیاط سب پر لازم ہے:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک:عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا کے جلد ختم ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تین سال قبل شروع ہونے والی وبا ابھی تک صحت کا عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔کورونا کے آغاز دسمبر 2019 میں چین سے ہوا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے فروری 2020 میں کورونا کو ’گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ قرار دیا تھا۔

    بعد ازاں وبا میں تیزی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے کورونا کو مارچ 2020 میں عالمی وبا قرار دیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں اس سے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے، لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے، سفری پابندیاں عائد کی گئیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے پر مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ تین سال سے تاحال دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا سے تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن سمیت دیگر بعض پابندیاں نافذ ہیں مگر دنیا بھر کے لوگوں کا خیال ہے کہ اب کورونا ختم ہوچکا۔لیکن عالمی ادارہ صحت نے کورونا کے خاتمے کا سوچنے والے افراد پر واضح کیا ہےکہ کورونا تاحال عالمی ہنگامی صحت کا معاملہ بنا ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی ’ایمرجنسی‘ کمیٹی نے واضح کیا کہ تاحال کورونا دنیا کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے، اس کے ختم ہونے کے خیالات درست نہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے اعتراف کیا کہ حالیہ چند ہفتوں میں دنیا بھر میں کورونا کیسز میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے جب کہ اموات میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ کورونا ہیلتھ ایمرجنسی کا معاملہ نہیں رہا۔

    ادارے کے مطابق اگرچہ حالیہ دنوں میں کورونا سے ہونے والی اموات وبا کے آغاز سے لے کر اب تک کم ترین سطح پر آ چکی ہے لیکن اس باوجود اموات کی شرح دیگر وائرسز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ دنیا کے بعض خطوں میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ کورونا ختم ہوچکا لیکن ایسا نہیں، یہ اب بھی گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی بنا ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا سے دسمبر 2019 سے 11 اکتوبر 2022 تک دنیا بھر میں 62 کروڑ 23 لاکھ 89 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے تھے، جس میں 65 لاکھ 48 ہزار بیماری کے باعث ہلاک ہوچکے تھے۔

  • ملک بھر میں کورونا کے تین مریض انتقال کرگئے

    ملک بھر میں کورونا کے تین مریض انتقال کرگئے

    ملک بھر میں کورونا کے 3 مریض انتقال کرگئے

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے مزید 3 مریض انتقال کرگئے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے متاثر مزید3 افراد کا انتقال ہوگیا جبکہ 45 مریضوں کی حالت نازک ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 8 ہزار815 ٹیسٹ کئےگئے جس میں 55 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔
    این آئی ایچ کا مزید کہنا ہے کہ کورونا کے 45 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔


    واضح رہے کہ کورونا کے کیسز میں اضافے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس وبا کے خلاف متحرک ہو گئیں ہیں اور کورونا کی موجودہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے ملکوں سے آنے والے مسافروں کی کورونا سے متعلق سخت نگرانی یقینی بنائی جا رہی ہے ۔

    کورونا وائرس کیا ہے؟
    کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی پہلی بار شناخت چین کے شہر ووہان میں ہوئی اور اسے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کو 2019 (کووِڈ- 19) کا نام دیا گیا۔ بیماری کے اس نام میں ’کو‘ کا مطلب ’کورونا‘ ’وی‘ کا مطلب ’وائرس‘ جبکہ ’ڈ‘ کا مطلب disease یعنی بیماری ہے۔ اس سے قبل اس بیماری کو ’2019 نیا کورونا وائرس‘ یا ’2019 – این کو‘ کا نام بھی دیا گیا تھا.
    کورونا وائرس کی علا ما ت اور بچائو
    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں.

  • امریکی سائنسدانوں نے  کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد کر لیا

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد کر لیا

    واشنگٹن:امریکی محققین نے کوویڈ 19 وائرس کا نیا تباہ کن اور مہلک وائرس تیار کر لیا جس کی شرح اموات 80 فیصد اور پھیلنے کی شرح پانچ فیصد زیادہ ہے

    امریکی بائیو ٹیکنالوجی کے ریسرچرز کے ایک گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ لیبارٹری میں کووِڈ وائرس کی ایک نئی قسم کو پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو اصل وائرس سے کہیں زیادہ مہلک اور خطرناک ہے۔

    بوسٹن ہیرالڈ ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق بوسٹن یونیورسٹی کے ریسرچروں کا کہنا ہے کہ چین کے علاقے ووہان سے کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کے بارے میں نظریہ کو سامنے رکھ کر انہوں نے تجربات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس میں وہ ایک نیا وائرس تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کی شرح اموات 80 فیصد ہے۔

    بوسٹن یونیورسٹی کے محققین نے کہا ہے کہ یہ نیا ویرینٹ کوویڈ 19 اور امیکرون کو ملا کر تیار کیا گیا ہے۔ جب اس نئے وائرس کو چوہوں کے جسم میں داخل کیا گیا تو اس سے 80 فیصد چوہے مر گئے، اس وائرس کے پھیلنے کی شرح کوویڈ 19 سے پانچ گنا زیادہ ہے اور اس کی علامات بھی بہت کم ہیں ۔

    یاد رہے کہ کوویڈ 19 کے بارے میں امریکہ اور چین ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، چینی کہتے ہیں کہ یہ امریکہ نے تیار کیا تھا تاکہ اس کے ذریعے چین کی ابھرتی معیشت کا راستہ روکا جا سکے جب کہ امریکی چین پر الزام لگاتے ہیں کہ کرونا وائرس چین کی ووہان لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا اور وہیں سے ہی یہ ساری دنیا میں پھیلا تھا

  • ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 32 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اب تک کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا ہے. قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری ٹویٹ میں شیئر کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24گھنٹوں کے دوران 7 ہزار 597 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 32 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں. اسیطرح مثبت کیسز کی شرح 0.42 فیصد رہی ہے۔


    مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 40 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ یونیسف کے مطابق؛ کورونا وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ فصلوں کی باقیات جلانے والے کسانوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم
    آٹھ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا ڈراپ سین،والد لینا چاہتا تھا مخالفین سے دشمنی کا بدلہ
    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی
    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • ٹی20 ورلڈکپ سے قبل اہم  بھارتی کھلاڑی ایونٹ سے باہر

    ٹی20 ورلڈکپ سے قبل اہم بھارتی کھلاڑی ایونٹ سے باہر

    نئی دہلی: آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ سے قبل بھارتی ٹیم کو بڑا دھچکا لگا گیا۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق فاسٹ بولر جسپریت بہمرا کمر کی تکلیف کے سبب آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہوگئے ہیں، ڈاکٹرز نے انہیں مزید 4 ہفتوں تک آرام کا مشورہ دیا ہے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے فاسٹ بولر کو کمر کی انجری کے آپریشن کی ضرورت نہیں تاہم انجری سے نجات کیلئے انہیں ریسٹ کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب جسپریت پہمرا کی انجری کے باعث بھارتی ٹیم میں فاسٹ بولر محمد شامی یا محمد سراج کو اسکواڈ کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ بھارتی ٹیم ایشیاکپ میں بھی پیسر کی خدمات سے محروم تھی جبکہ سپر فور راؤنڈ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی۔

     

     

    ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کرونا وائرس کا شکار ہوگئے۔لاہور میں دو روز قبل فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سینے میں انفیکشن کے باعث اسپتال لے جایا گیا تھا۔ان کے ٹیسٹ کرانے پررپورٹ میں نمونیا کی تشخیص ہوئی۔ کرونا ٹیسٹ کرانے پر نسیم شاہ کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا ہے۔

    نسیم شاہ لاہورمیں نجی اسپتال میں ہی زیرِعلاج رہے اور جمعرات کو ان کو ڈسچارج کردیا گیا۔نسیم شاہ اسپتال سےڈسچارج ہوکر واپس ہوٹل پہنچ گئے ہیں۔ ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نسیم شاہ پہلے سے قدرے بہتر محسوس کررہے ہیں اور وہ ہوٹل میں قرنطینہ مکمل کرینگے۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے