باغی ٹی وی : ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار)پولیس کی پشت پناہی کے باعث ڈیرہ شہر میں ہوٹلوں پر منشیات کاکاروبار جاری،نوجوان نسل منشیات جیسی لعنت کاشکارہوکر بے راہ روی کا شکارہونے لگی،عوامی سماجی حلقوں کاڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت سے ہوٹلوں میں منشیات کے کاروبارمیں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کامطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق پولیس کی پشت پناہی کی وجہ سے ڈیرہ شہر کے بارونق مقامات پر ہوٹلوں میں منشیات کادھندہ جاری ہے۔ مارکیٹوں اوربازارو ں میں معروف ومشہورہوٹلوں پر عوام کو منشیات فروخت کی جارہی ہے۔اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کو پولیس کی آشیرباد باد حاصل ہے اورآج تک کسی منشیات فروش کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ منشیات کے کاروبار سے وابستہ افراد ہوٹلوں میں آئی عوام کو منشیات فروخت کرکے پولیس کو حصہ بقدرجسہ دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیاجاتا۔ منشیات کے کاروبار میں ہوٹل مالکان بھی برابرکے شریک ہیں۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت سے ہوٹلوں میں منشیات کے کاروبارسے وابستہ افراداوراس کاربار میں ملوث ہوٹل مالکان کے خلاف کاروائی کامطالبہ کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری نوجوان نسل منشیات جیسے مکروہ نشے کی عادی ہورہی ہے اس لیے اس کاروبار کی فوری روک تھام کی جائے تاکہ نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنایاجاسکے۔
Category: ڈیرہ اسماعیل خان

ڈیرہ اسماعیل خان – زنانہ ہسپتال میں ڈاکٹرزنرسزوعملہ جلاد بن گئے
باغی ٹی وی :ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار)زنانہ ہسپتال میں ڈاکٹرزنرسزوعملہ جلادبن گئے، زنانہ ہسپتال میں علاج کی غرض سے لائی جانے والی خواتین سے جانوروں جیساسلوک ہونے لگا،ہسپتال کاعملہ مریضوں کے تیمارداروں سے بداخلاقی سے پیش آنے لگا اور انتہائی ہتک آمیزرویہ اختیارکیاجانے لگاہے،گائنی وارڈ ویرانی کامنظرپیش کررہاہے،زنانہ ہسپتال میں ڈاکٹرزونرسزکی نااہلی کی وجہ سے نرسری میں نولومودبچوں کی دیکھ بھال اوربروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ناخوشگوارواقعات روزکامعمول بن گئے جبکہ صفائی کی صورتحال انتہائی ابترہوچکی ہے، زنانہ ہسپتال میں جابجاگندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جنہیں ٹھکانے لگانے والاکوئی نہیں ہے اورہرطرف گندگی ہی گندگی پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہرطرف بدبوپھیل چکی ہے اورمختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں،زنانہ ہسپتال انتظامیہ بے حسی کا شکارہے اورخواتین شفایاب ہونے کی بجائے مزید بیماریوں کاشکارہورہی ہیں۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پور اورڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے زنانہ ہسپتال انتظامیہ سے عملے کی کارکردگی بہتربنانے کامطالبہ کیاہے۔تفصیلات کے مطابق زنانہ ہسپتال میں آوے کاآوابگڑاہواہے اورسب اپنی من مانیوں میں مصروف ہیں۔ زنانہ ہسپتال میں ڈاکٹرزنرسزوعملہ جلادبن گئے۔ زنانہ ہسپتال میں علاج کی غرض سے لائی جانے والی خواتین مریضوں سے جانوروں جیساسلوک کیاجانے لگاہے۔زنانہ ہسپتال کاعملہ مریضوں کے تیمارداروں سے بداخلاقی سے پیش آنے لگاہے اور ان سے انتہائی ہتک آمیزرویہ اختیارکیاجانے لگاہے۔مریضوں کو مفت سرکاری ادویات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔زنانہ ہسپتال میں ڈاکٹرزونرسزکی نااہلی کی وجہ سے نرسری میں نولومودبچوں کی دیکھ بھال اوربروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ناخوشگوارواقعات روزکامعمول بن گئے۔زنانہ ہسپتال میں صفائی کی صورتحال انتہائی ابترہوچکی ہے اور ہسپتال میں جابجاگندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جنہیں ٹھکانے لگانے والاکوئی نہیں ہے۔صفائی نہ ہونے کی وجہ سے ہرطرف بدبوپھیل چکی ہے اورمختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔زنانہ ہسپتال کے ڈاکٹرز،نرسز اورعملہ بے حسی کاشکارہوگئے ہیں اورانہیں مریضوں کی تکلیف کاکوئی احساس نہیں ہے۔زنانہ ہسپتال میں خواتین شفایاب ہونے کی بجائے مزید بیماریوں کاشکارہورہی ہیں۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پور اورڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے زنانہ ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی اورلاپرواہی پر بازپرس کرنے اورکاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرز،نرسز وعملے کو مریضوں اوران کے تیمارداروں سے اخلاق سے پیش آنے،بروقت علاج کرنے کاپابندبنایاجائے۔


ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلابی ریلے میں بہہ جانیوالا بچہ چار دن بعد زندہ سلامت مل گیا
کہاوت ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، ایسی ہی ایک حقیقی مثال ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئی جہاں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا بچہ معجزاتی طور پر چار دن بعد زندہ مل گیا۔
باغی ٹی وی : سیلاب کے پانی سے بچنے کے لیے بچے نے چار دن سےدرخت پر پناہ لے رکھی تھی،پانی کم ہوا تو بچہ درخت سے نیچے آیا ، آواز دینے پر ریسکیو اہلکار مدد کو پہنچے۔
سوات میں پھنسے 110 افراد کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا
ڈی آئی خان میں بچہ ٹرک کے مکینک کے پاس کام کرتا تھا اور بچہ اس کا استاد اور ٹرک ڈرائیور چار روز قبل سگو پل کے قریب پانی میں بہہ گئے تھے۔
ریسکیو حکام کو دریا سے ٹرک مل گیا تھا جس کے بعد بچے کے مکینک استاد کی لاش گزشتہ روز سیلابی پانی سے ملی، ڈرائیور تاحال غائب ہے جس کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
مقامی افراد نےبتایا کہ تلاش کیلئے جانے والے افراد کو درخت پر موجود بچے نے دیکھا اور آواز دی، لوگوں نے بچے کو درخت سے نیچے اتارا تو وہ صحیح سلامت اور زندہ تھا۔
آذر بائیجان کا بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان
بچے نے بتایا کہ اُس نے پانی میں بہتے وقت درخت کو پکڑا لیا تھا، جس کے بعد وہ اس پر چڑھ گیا اور چار روز تک سوئے بغیر بھوکا پیسا یہاں پر رہا۔
عینی شاہدین نے بچے کے زندہ بچ جانے کو معجزہ قرار دیا اور کہ خدا کی قدرت سے اس بچے کو ہمت ملی جس کی وجہ سے وہ زندہ رہا بچے کو زندہ دیکھ کر گھروالوں نے شکر ادا کیا اور بچے کو ہار پہنا کر استقبال کیا۔
واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سیلابی ریلوں نے تباہی مچارکھی ہے سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونےسے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزارسے زائد ہو گئی

ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک آمد،سیلاب متاثرین کا عمران خان اور کے پی وزیر اعلیٰ کے رویے پر احتجاج
سابق وزیراعظم عمران خان اور کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان نے ٹانک اور ڈی آئی خان سمیت کے پی کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا دورے کے دوران عمران خان اور محمود خان نے متاثرہ اضلاع اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا-
باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ آفت سندھ میں 2010 کے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو پیچھے چھوڑ چکی ہے 2010 کے سیلاب کے مقابلے اس سال بارشوں نے دس گنا زیادہ نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم 2010 کے سیلاب کو ناقابل تصور تباہی تصور کرتے تھے لیکن اطلاعات کے مطابق اس بار ہونے والی تباہی اور جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ڈیمز تعمیر کر کے ہم سیلاب کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اگر ہمارے پاس ڈیم ہوتے تو سیلابی پانی سے نقصانات کی بجائے ترقی ہوتی-
عمران خان نے میڈیا سے کہا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، لیکن عملی طور پر انہی آفت زدہ لوگوں نے سابق وزیراعظم اور کے پی کے چیف ایگزیکٹو کے ڈی آئی خان اور ٹانک کی آمد پر احتجاج کیا اور اسے ان کے لیے غیر نتیجہ خیز قرار دیا۔
سیلاب متاثرین میں سے ایک شخص نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان اور محمود خان نے ان سے ملنے کی زحمت نہیں کی اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کی بدترین صورتحال کے باعث ان کے مسائل اور پریشانیوں کو بھی نہیں سنا سانحہ سے متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان کے رویے پربھی احتجاج کیا۔
دریائے کابل ، سوات، پنجکوڑہ اور دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب
واضح رہے کہ شبقدر کے قریب منڈا کا ہیڈ ورکس پل گرنے سے دریائے سوات کا سیلابی پانی چارسدہ شہر میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔
مقامی لوگ انتہائی پریشان ہیں کیونکہ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چارسدہ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ شاہی قلعے کے علاقے میں سیلابی پانی نے 500 مکانات مکمل طور پر ڈوب گئے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق چارسدہ میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور پانچ یونین کونسلوں کے سرکاری سکولوں کو سیلاب زدگان کی رہائش کے لیے خالی کرا لیا گیا۔
سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے متعدد اضلاع میں فوری طور پر 30 اگست تک رین ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
یہ فیصلہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی سفارش پر کیا گیا جبکہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ اور اس سے منسلک ندی، نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

کوہ سلیمان رودکوہیوں سے تباہ کاریاں،پنجاب سے بلوچستان ،ڈیرہ غازیخان سے ڈیرہ اسماعیل خان کازمینی راستہ بند،شمتالہ میں لڑکاجاں بحق، متعددزخمی۔
کوہ سلیمان رودکوہیوں سے تباہیاں جاری،تودے گرنے سے پنجاب بلوچستان اورکٹائوسے ڈیرہ غازیخان و ڈیرہ اسماعیل خان کازمینی راستہ بند، شمتالہ میں8سالہ لڑکاجاں بحق، متعددزخمی۔
باغی ٹی وی رپورٹ۔کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے بلوچستان پنجاب کو ملانے والی مین بین الصوبائی شاہراہ کوئٹہ روڈ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ پہاڑی تودوں کے گرنے کی وجہ سے بند ہے۔ این ایچ اے کی نااہلی کی وجہ سے گزشتہ رات سے ٹریفک بلاک ہے۔ فارملٹی کے لیے ایک گاڑی کو کھڑا کیاہواہے، این ایچ اے کی جانب سے تاحال لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں گرنے والے پہاڑی تودوں کو نہ ہٹایا جا سکا،

مسافر سیاح پھنس گئے جو انتہائی پریشان ہیں ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہوگئی ہیں، اس وقت صورتحال انتہائی خراب ہے،بارڈر ملٹری پولیس تھانہ راکھی گاج پہاڑی تودے ہٹواکر روڈ کھلوانے میں مصروف ہے۔دوسری طرف صوبہ خیبرپختون کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا ڈیرہ غازی خان سے زمین رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔جت والا ناڑی کے مقام پربین الصوبائی انڈس ہائی وے پر پانی کے تیز بہا ئوسے روڈ کٹ گیا، کئی بستیوں کو بھی سیلابی پانی نے گھیر لیاہے۔ کچھی کینال کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے کادبائو برداشت نہ کرسکی ،جس سے بستی ہدیانی ائرپورٹ روڈ کے پاس کچھی کینال کا مشرقی کنارہ ٹوٹ گیا اوراب سیلابی پانی ڈی جی کینال کی جانب رواں دواں ہے جس سے سینکڑوں بستیوں کے زیرآب آنے کاشدیدخطرہ پیداہوگیاہے۔کوہ سلیمان کے علاقوں فورٹ منرو ،کھر،رونگھن، یکبائی، مبارکی، گجڑی، تھوخ ،کھرڑ بزدار،پیر گہنوں، منجھیل، ہنگلون کَچھ اور گردو نواح میں گزشتہ روز سے وقفے وقفے سے تیز بارش کاسلسلہ جاری ہے جس ندی نالوںجن می رونگھن، وڈور ندی ، زندہ پیر سوری لنڈ ندی اورسنگھرندی میں شدید طغیانی ہے،
کوہ سلیمان پر بارش سے مختلف علاقوں میں مکانات کے گرنے کی اطلاعات تمن قیصرانی شمتالہ میں قاسم کا 8سالہ بیٹا مکان گرنے سے جاں بحق باقی گھر والے زخمی بتائے جارہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کی بستیاں لوہاروالا، گدپور ،چٹ روڈ اور بستی جندانی کے لوگ نقل مکانی کرنے میں مصروف درجنوں بستیاں زیر آب آچکی ہیں۔تھانہ چوٹی کی حدود میں کھوسہ اور جلال آنی برادری کے درمیان سیلابی پانی کا کٹ لگانے پر تصادم تین افراد زخمی ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل۔تونسہ کے علاقہ کوٹ مہوئی کی مغربی جانب باندھا جانیوالا پروٹیکشن بند گٹہ مکمل کٹا ئو کی زد میں ہے جوکسی بھی وقت ٹوٹ سکتاہے۔ڈیرہ غازیخان میں بارشوں، رودکوہیوں میں طغیانی کے باعث ریسکیو عمل تیز کردیا گیا ہے،

ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد انور بریار امدادی سرگرمیاں کی نگرانی میں مصروف ہیں،ڈیرہ غازیخان میں 14تا 18اگست کے4روز کے دوران4300ریسکیو سرگرمیاں عمل میں لائیں گئیں۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122 نے ٹرانسپورٹیشن کی4290 سرگرمیوں پر کام کیا۔سیلاب سے سینکڑوں معمولی زخمیوں کو بھی ابتدائی طبی امداد دی گئی،ریسکیو ٹیموں نے14شدید زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں شفٹ کیا۔سیلاب سے دو فیز میں مجموعی طور پر235 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہم کہ سیلاب متاثرین کی دن رات خدمت کررہے ہیں،بارشوں کا سلسلہ تھم جانے پر ریلیف سرگرمیاں مزید تیز کردی جائیں گی،لوہار والا،کوچہ ککری،یارو کھوسہ،حیدر چوک،کوٹ مبارک،بستی بزدار میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،تونسہ کی بستیوں منجوتھہ،مگروتھہ،کلاچی،سوکڑ،کھر بزدار،جلو والی،وہوا،مندرانی،جٹ والا میں سیلابی پانی موجود ہے،دیگر والی،چوکی والا سے سیلابی پانی نکل چکا ہے،انہوں نے کہا کہ کوٹ چھٹہ کی بستیوں کمہار والی،رمدانی،تالپور،سہرانی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے،متاثرین صبر سے کام لیں،انہیں تمام سہولیات موقع پر فراہم کریں گے۔
ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹرغائب عوام دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور
ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو یا مذبح خانے میں تبدیل انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت دے دی گئی ہے-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹر غائب عوام دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور شہریوں کا کہنا ہے کہ واحد بنیادی مرکز صحت سینٹر بنایا گیا ہے جس میں آئے روز لیڈی ڈاکٹر اور سٹاف غائب رہتا ہے-
شہریوں کا کہنا تھا کہ لیڈی ڈاکٹر انتہائی بدتمیز بداخلاق رویے سے خواتین سے بات کرتی ہیں اور دیہی علاقوں سے آنے والی خواتین سے پیسے بھی وصول کرتی ہیں اور جب اس حوالے سے سٹاف سے موقف لیا گیا تو اسٹاف کا کہنا ہے کہ آج ڈاکٹر صاحب ڈی ایچ او صاحب کی جانب سے ایک این جی او کے ساتھ ڈیوٹی پر گئی ہوئی ہے سیکڑوں گاؤں کے لوگ دردر رُل گئے خواتین مارے پھرنے لگی –

خواتین کا کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈی ایچ او کے خلاف اور بی ایچ یوکے ڈاکٹر کے خلاف وزیراعلی خیبرپختونخوا چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ہیلتھ سیکرٹری خیبرپختونخوا فوری طور پر نوٹس لے اور کاروائی کریں تاکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ڈی ایچ او ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے –دوسری جانب ڈی ایچ او سے موقف لینے کے لیے بارہا رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے انکار کردیا۔

ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج، مردو خواتین ماہر ڈرائیورز شریک
محکمہ سیاحت کے زیر اہتمام ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقدہ ڈیرہ جات میلہ، میلے کے پہلے مرحلے میں ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج 4×4 صحرائی جیپ ریس کا آغازہوا ، افتتاحی روز ریگی میں ٹاپ کوالیفائی رائونڈ ہوا ، ریس ڈیرہ کے علاقے یارک سے شروع ہو کر پنیالہ، رحمانی خیل، عبدالخیل سے گلوئی میں اختتام پذیر ہو گی،ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقدہ ریلی میں 70 سے زائد مردو خواتین ماہر ڈرائیورز شریک ہوئے ، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی ریلی 120 کلومیٹر فاصلے پر منعقد ہوگی
ریلی میں نادر مگسی، صاحبزدہ سلطان، بابر خان، تشنہ پٹیل، سلمہ مروت، ماحم شیراز اور زین محمود سمیت نامور ڈرائیورز شریک ہوئے دوسرے روز موٹوکراس بائیک ریس بھی منعقد ہو گی، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان یحییٰ اخونزادہ نے کہا کہ مزید ایسے بڑے ایونٹس ڈیرہ میں منعقد کرینگے، ایسے ایونٹس سے ٹورازم اور ثقافت دونوں کے فروغ ملے گا، ڈیرہ اور صوبے کی تاریخ کا پہلی صحرائی ریس ہے،

گومل یونیورسٹی کے طلباء کامطالبات منظورہونے کے باوجود مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک
ڈیرہ اسماعیل خان۔گومل یونیورسٹی کے طلباء کا مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک،اطلاعات کے مطابق گومل یونیورسٹی کے طلباء کا مین کیمپس گیٹ پر احتجاج جاری پئ اوردوسری طرف پولیس پہنچ چکی ہے اورمذاکرات کی اطلاعات ہیں
باغی ٹی وی کےمطابق گومل یونیورسٹی کے طلباء نے مین انڈس ہائی وے شاہرہ بلاک کردی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لک گیں۔طلباء کا مطالبہ ہے فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے اوریونیورسٹی کے گرفتار طلباء کو رہا کیا جائے۔ساتھ طلبا نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ مطالبات کی منظور تک انڈس ہائی وے بلاک رہے گا
گومل یونیورسٹی کے طلباء کامطالبات منظورہونے کے باوجود مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک pic.twitter.com/5QArMx3zMU
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) February 13, 2020
دوسری طرف گومل یونیورسٹی انتظا میہ کا موقف گومل یونیورسٹی کے طلباء جن مطالبات کا ذکر کر رہے ہیں وہ تمام منظور ہو چکے ہیں اور وائس چانسلر گومل یونیورسٹیi نے فیسوں میں کمی بھی کی ہے مگر اس تمام کے باوجود ان کا جی پی او چوک پر دھرنا دینے واضح کرتا ہے کہ یہ طلباء شاید کسی اور مقاصد کے حصول کے لئے نکلے ہیں ۔
گومل یونیورسٹی میں انہی طلباء کی 13مختلف مطالبات دو ماہ پہلے حل کر دیئے گئے تھے اور فیس کا ایک مطالبہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے 900روپے کم کرکے ایک ماہ پہلے حل کر دیا تھا۔لیکن طلباء نے مزید3500کمی کا مطالبہ کر دیا جس پر وائس چانسلر نے پانچ دن پہلے ایک بار پھر منظور کر لیا ۔ جب یہ مطالبات بھی منظور کر لئے گئے تو یہ 20سے25طلباء اپنی بات سے ایک بار پھر مکر گئے ۔
ان کے مکرنے کے باوجود بھی گومل یونیورسٹی نے گزشتہ روز ان طلباء کے پاس مذاکرات کیلئے گئے مگر ان طلباء نے مذاکرات سے انکار کر دیا اور وہ مین کیمپس سے جی پی او چوک تک ریلی نکالنے اور پھر دھرنا دینے کیلئے باضد تھے۔ جس سے واضح ہوا کہ ان طلباء کا ان مطالبات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کچھ اور مقاصد کیلئے کام کررہے ہیں ۔
گومل یونیورسٹی کے طلباء کامطالبات منظورہونے کے باوجود مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک pic.twitter.com/5QArMx3zMU
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) February 13, 2020
رات گئے احتجاج اور انڈس ہائی وے کو بلاک کرنا گومل یونیورسٹی انتظامیہ ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئر اور پرووسٹ کی قیادت میں الصبح بھی ان طلباء کو ریلی اور دھرنے سے روکا اور ان سے مذاکرات کی کوشش کی مگر طلباء نے کسی بھی قسم کی بات کرنے سے انکار کرد یا اور جی پی او چوک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور اب بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور گومل یونیورسٹی انتظامیہ ،حکومت کے خلاف نعرے بازی میں ملوث ہیں۔
واضح رہے کہ گومل یونیورسٹی میں15ہزار طلباء ہیں جبکہ کیمپ میں موجود د س سے بارہ لڑکے نہیں ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ طلباء کچھ اور مقاصد کیلئے یہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ گومل یونیورسٹی کے طلباء پر امن طلباء ہیں کیونکہ یہ طلباء دور دراز علاقوں سے پڑھائی کیلئے آئے ہوئے ہیں اور گومل یونیورسٹی میں امن چاہتے ہیں
آخری اطلاعات کے آنے تک طلباء کو منشیر کرنے کے لیے پولیس کی ڈنڈہ بردار نفری پہنچ کئی ہے۔گومل یونیورسٹی طلباء کے پولیس سے مزکرات جاری ہیں اورپولیس نےگرفتار طلباء کی رہائی کی یقین دہانی کرادی ہے ادھر ذرائع کے مطابقطلباء نے جزوی طورپر مین انڈس ہائی وے ٹریفک کے لیے کھول دی۔

میڈیا معاشرتی برائیوں کی نشان دہی کرے ہم ایکشن لیں گے، بڑا بیان سامنے آگیا
ڈیرہ اسماعیل خان۔ (اے پی پی)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ دلاور خان بنگش نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں میڈیا کے کردار سے انکار ممکن نہیں، میڈیا اور پولیس کا چولی دامن کا ساتھ ہے، میڈیا ہماری آنکھ اور کان ہیں،میڈیا معاشرتی برائیوں کی نشان دہی کرے جس پر ایکشن لیا جائے گا، وہ گزشتہ روز صحافیوں سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔ڈی پی او ڈیرہ نے ضلع بھر میں ہونے والے جرائم کی روک تھام کیلئے موثر اقدام پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے خاتمے کے لیئے افسران پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں جوکہ جرائم پیشہ افراد اور اشتہاریوں کی گرفتاریوں کے لیئے سرگرم عمل ہیں ضلع ڈیرہ سمیت تمام چاروں تحصیلوں کے ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز کو سختی سے ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ عام شہریوں کو انصاف ان کی دہلیز پرمہیا کیا جائے، مظلوم کی داد رسی کی جائے اور ظالم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی ہر گز برداشت نہیں کیا جائیگی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ دلاور خان بنگش نے ڈیرہ کے چند صحافیوں کی مثبت صحافت کو سہراتے ہوئے کہا کہ مثبت صحافت کرنے کا سہرا ڈیرہ کے انہی صحافیوں کے سر ہے اور ہم تمام صحافیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں













