Baaghi TV

Category: انٹرویوز

  • راشد نذیر ۔ سماجی خدمت کا زریں باب،انٹرویو: اظہر سجاد

    راشد نذیر ۔ سماجی خدمت کا زریں باب،انٹرویو: اظہر سجاد

    راشد نذیر کھوڑ کمپنی کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت ہیں، جنہوں نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔ آپ ۱۰ اپریل ۱۹۸۰ء کو محمد نذیر کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق تلہ گنگ کے نواحی قصبے ٹہی سے ہے، جبکہ ابتدائی تعلیم پی او ایل ماڈل سکول کھوڑ کمپنی سے حاصل کی۔ آپ نواحی گاؤں احمدال کے پہلے حافظِ قرآن، حافظ اعتبار خان کے نواسے ہیں۔

    راشد نذیر نے عوامی خدمت کا سفر تقریباً پندرہ برس قبل شروع کیا، جو آج ایک وسیع فلاحی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اِس عرصے میں راشد نذیر اپنی مدد آپ اور اہلِ خیر کے تعاون سے کثیر مالیت کے رفاہی منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ مستحق خاندانوں کی کفالت، صاف پانی کی فراہمی، تعلیم و صحت کی معاونت، شجرکاری، قدرتی آفات میں امداد اور دیگر بے شمار عوامی فلاحی اقدامات ان کی شناخت بن چکے ہیں۔
    راشد نذیر ایسی شخصیت ہیں جِس نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا اوّلین مقصد بنایا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف ایک عملی انسان ہیں بلکہ ان کا فلاحی جذبہ مضبوط ایمانی عقیدے اور توکل پر مبنی ہے۔ سادگی، اخلاص اور مسلسل خدمت نے راشد نذیر کو علاقے کی ایک بااعتماد اور ہر دل عزیز شخصیت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اِس انٹرویو میں اُن کی زندگی، جدوجہد اور خدمتِ انسانیت کے سفر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے ۔

    سوال: اپنے بچپن اور خاندانی ماحول کے بارے میں بتائیے۔ خدمتِ خلق کا جذبہ کہاں سے ملا؟ آپ کے گھر والوں نے آپ کی سماجی سرگرمیوں میں کس حد تک ساتھ دیا؟

    جواب: میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے ۔ بچپن سے ہی گھر میں بڑوں کو ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرتے دیکھا۔ ہم چھوٹے بچوں کے ہاتھوں سے بھی کچھ نہ کچھ خیر کا کام ضرور کروایا جاتا تھا اور ترغیب دی جاتی تھی کہ جو دوسروں کے کام آتا ہے اللہ اس کے کام کرتا ہے۔

    سوال: آپ کھوڑ کمپنی کی ایک معروف اور کامیاب کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ کاروبار اور سماجی خدمت میں توازن کیسے قائم رکھتے ہیں؟
    جواب: گھر کا نظام چلانے کے لیے کاروبار کرنا میری ذمہ داری ہے اور خدمت خلق میرا شوق میرا ایمان ہے کہ اگر انسان کی نیت صاف ہو تو اللہ رب العزت برکت عطا فرماتے ہیں۔ کاروبار میں کچھ حِصہ مخلوقِ خدا کے لیے وقف کر رکھا ہے، لہٰذا اللہ رب العزت میرے کاروبار کی حفاظت فرما رہا ہے اور برکت بھی عطا کر رہا ہے۔

    سوال: آپ کی زندگی کا وہ لمحہ کون سا تھا جس نے آپ کو خدمتِ خلق کے راستے پر گامزن کیا؟
    جواب: جب میں میٹرک میں تھا تو راولپنڈی میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے ایک مکان کی چھت گر گئی۔ ہم نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا اور ایک بچے کو اپنا خون بھی عطیہ کیا۔ بچے کے والدین کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر اور اُن کے منہ سے نکلنے والی دعاؤں سے مجھے ناقابلِ بیان روحانی سکون ملا ۔ یہی وہ لمحات تھے جنھوں نے مجھے خدمتِ خلق کے راستے پر گامزن کیا۔

    سوال: آپ کے نزدیک انسان کی اصل دولت کیا ہے؟ کیا کبھی خدمتِ خلق کی وجہ سے ذاتی نقصان بھی اٹھانا پڑا؟
    جواب: میرے نزدیک انسان کی اصل دولت بن مانگی مخلص دعائیں اور بے لوث عزت ہے جو انسان کو مخلوق خدا کی خدمت سے ملتی ہیں۔ رہی بات نقصان کی تو وہ ہمارا مقدر ہوتا ہے۔میرا ایمان ہے کہ اللہ رب العزت بلا وجہ ہمارا نقصان نہیں ہونے دیتا۔ جو چلا گیا وہ ہمارے مقدر میں نہیں یا اس میں اللہ کی کوئی حکمت چھپی ہوتی ہے۔

    سوال: آپ کتنے عرصےسے رمضان میں راشن تقسیم کر رہے ہیں ۔اِس حوالے سے کوئی ایسا واقعہ جو آج بھی آپ کو یاد ہو؟
    جواب: الحمدللہ پچھلے بارہ سال سے ماہانہ اور رمضان میں بھی راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک دفعہ ایک مستحق باپردہ خاتون نے اپنا راشن وصول کرتے ہوئے پُرنم آنکھوں سے دعا دیتے ہوئے کہا: بیٹا ! اللہ تمہاری زندگی میں برکت عطا فرمائے ۔ ہمارے گھر میں گزشتہ پانچ دنوں سے سوکھی روٹی قہوے میں بھگو کے کھائی جا رہی ہے۔ اس خاتون کی وہ دعا عموماً میں اپنے کانوں میں محسوس کرتا ہوں۔

    سوال: آپ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بھی سیلاب زدگان اور زلزلہ متاثرین کی مدد وہاں جا کر کرتے رہے ہیں۔ اِس دوران کون سا منظر آپ کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا؟
    جواب: ۲۰۰۵ ء کے زلزلے کے فوراً بعد ہم امدادی سامان لے کر تباہ حال علاقے بالاکوٹ اور پِھر بونیر کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پہنچے۔ وہاں ایک شخص نے پُرنم آنکھوں سے ہم سے معذرت کی اور کہا کہ: “ آپ اتنی دور سے ہماری مدد کو پہنچے ہیں اور میں آپ کو ایک پیالی چائے بھی نہیں پلا سکتا، کیوں کہ میرا گھر صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔” اُس شخص کا یہ جملہ مجھے اندر سے چھلنی کر گیا۔

    سوال: آپ نے اپنے علاقے میں مختلف سماجی بہبود کے کام کیے، جن میں پانی کے کنوئیں، گلیاں اور سڑکیں پختہ کروانا اور بارشوں سے متاثرہ مکانات کی مرمت اور بے گھرافراد کو گھر فراہم کرنا جیسے فلاحی کام شامل ہیں۔ مختصراً اُن کے بارے میں آگاہ کیجیے۔
    جواب: الحمدللہ! ۲۰۱۲ء سے لے کر اب تک سیاست ، برادری اور تعصب سے بالاتر ہو کر اور محض اللہ کی رضا کی خاطر اپنی مدد آپ کے تحت علاقہ بھر میں مختلف فلاحی کام مکمل کیے جن میں، ماہانہ بنیاد پر مستحق گھرانوں کو راشن کی فراہمی، چھوٹے کاروبار کے لیے۲۵ ہزار روپے قرضِ حسنہ ، اپنے علاقے کے ۱۲ مقامات پر پینے کے صاف پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نلکا سکیم، ہر سال علاقہ بھر میں شجرکاری مہم ، کھوڑ کمپنی کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی کنکریٹ سے پختگی، عیدِ قربان کے بعد ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے آلائِشوں کی تدفین، سالانہ صفائی مہم ، علاقہ بھر کے گورنمنٹ سکولوں میں مستحق بچوں اور بچیوں کے لیے یونیفارم، جوتے اور کاپیوں کا تحفہ ، قرآن ِپاک کے ضعیف نسخوں اور پاک اوراق کے لیے کمرے کی تعمیر، مختلف اوقات میں زلزلہ زدگان اور سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی فراہمی، ہر سال رمضان المبارک میں حکومتی نرخ سے کم قیمت پر سبزی، فروٹ اور پرچون اشیاء کی فروخت کے لیے سستے بازار کا اہتمام ، قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بیوہ خواتین کے لیے اپنا چھت سکیم، آبادی میں پانی کی سٹوریج کے لیے ۱۴۰۰ بیرل کے واٹر ٹینک کی تعمیر،فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد ، تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے لیے فری بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد ، ہر سال یوم آزادی کے موقع پر رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد اور تمام مسالک کے علمائے کرام ،سیاسی اور سماجی شخصیات کے ہاتھوں پرچم کشائی کی تقریب، کھوڑ کمپنی میں اپنی مدد آپ کے تحت واٹر سپلائی سکیم کے تکمیل، ہر سال رمضان سے قبل کھوڑ کے گرد و نواح کے پندرہ دیہات کے ۵۰۰ مستحق گھرانوں کو راشن کی فراہمی، عوام کی آسانی کے لیے اجتماعی قربانی کی ترتیب اور آگ سے متاثرہ خانہ بدوش گھرانوں کو تمام ضروریات زندگی کے برتن، راشن اور عارضی چھتوں کی فراہمی شامل ہیں۔

    سوال: کھوڑ کمپنی واٹر سپلائی جیسےاہم منصوبے کی طرف خصوصی توجہ کیوں دی؟
    جواب: مقامی طور پر مختلف گلی محلوں میں جب اپنی ماؤں اور بہنوں کو پانی بھر کے گھر جاتے ہوئے دیکھتا تو دل سے ایک ہی دعا نکلتی کہ خالق کائنات اگر توفیق دے تو اپنی آبادی کے اِس بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کروں ۔

    سوال: اپنی مدد آپ کے تحت گلیوں کی تعمیر کا خیال کیسے آیا؟
    جواب: جب اپنی خستہ حال گلیوں اور داخلی و خارجی رستوں کو دیکھتا تو اِس سوچ میں مبتلا ہو جاتا تھا کہ یہ ملک میرا ہے جس نے مجھے پوری دنیا میں پہچان دی ۔ جیسے میں اپنے گھر کی تعمیر اس کی خوبصورتی اور حفاظت اپنی ذمہ سمجھتا ہوں تو کیوں نہ میں اللہ کی ذات پر توکل کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقے کے لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے راستوں کو پختہ کروں اور حکومت کا ہاتھ بنوں۔

    سوال: لوگوں کو قرضِ حسنہ دیتے وقت آپ کن اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں؟
    جواب: یہ قرضہ صرف چھوٹے کاروبار اور ہنر مند افراد کو اور خصوصاً جن گھرانوں کو ماہانہ راشن فراہم کیا جاتا ہے اُن کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ بیوہ خواتین باعزت رزق کما سکیں۔ اِس کے علاوہ ، حجام، سبزی فروٹ فروخت کرنے والے، بیوٹی پارلر یا پھیری کا کام کر نے والے افراد کو دو گواہان کی موجودگی میں ۲۵ ہزار روپے کا قرضہ آسان اقساط پر دیا جاتا ہے۔

    سوال: جب وسائل کم ہوں اور ضرورت مند زیادہ، تو فیصلہ کیسے کرتے ہیں؟
    جواب: ہم ہمیشہ ایسے گھرانوں کا انتخاب کرتے ہیں جن کا سربراہ وفات پاچکا ہو، یا مستقل معذوری میں مبتلا ہو، بچے چھوٹے ہوں یا پڑھ رہے ہوں اور پینشن یا کرایا کی مد میں کوئی آمدنی نہ ہو، کثیر تعداد میں مال مویشی یا زرعی زمین بھی موجود نہ ہو تو اِس صورت میں ایسے گھرانوں کے لیے راشن کی فراہمی کی ترتیب بنائی جاتی ہے۔ الحمدللہ ! آج تک خالق کائنات نے کبھی مایوس نہیں ہونے دیا ، کیوں کہ اُس کا وعدہ ہے کہ ہم جیسا اُس سے گمان کریں گے وہ ویسا ہی فیصلہ فرمائے گا۔

    سوال: آپ اپنے ذاتی کردار اور عبادات کو اپنی سماجی سرگرمیوں سے کس طرح جوڑتے ہیں؟
    جواب: میرے نزدیک عبادت صرف نماز، روزہ اور زکوٰۃ ہی نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کی خدمت لوگوں کی راحت رسانی کا سبب بننا اور آنے والی نسلوں کی بہتری کی فکر کرنا بھی ایک عظیم عبادت ہے۔

    سوال: آپ کی زندگی کا سب سے مشکل فلاحی مشن کون سا رہا؟
    جواب: میری زندگی کا سب سے مشکل فلاحی مشن تونسہ شریف اور کوہ ِسلیمان کے سیلاب زدگان تک راشن کی اِمداد پہنچانا تھا ۔ وہاں کوئی مواصلاتی نظام تھا نہ ہی کوئی سڑک یا راستہ اپنی اصل حالت میں موجود تھا ۔ مگر اللہ کی ذات پر توکل اور رب ِکائنات کے خصوصی فضل و کرم سے ہم اِمداد اپنے بھائیوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

    سوال: کبھی ایسا ہوا کہ کسی ضرورت مند کی دعا نے آپ کی زندگی بدل دی ہو؟
    جواب: بالاکوٹ میں زلزلہ زدگان میں راشن اور نقدی تقسیم کرتے وقت ایک بزرگ نے روتے ہوئے کہا: “ کہ وہ اپنے ہاتھوں سے خود صدقہ اور زکوٰۃ دیا کرتا تھا، مگر آج حالات نے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا۔ اللہ پاک آپ حضرات کو ہمیشہ دینے والوں میں رکھے۔” الحمدللہ! میں یہ محسوس کرتا ہوں تب سے لے کر آج تک اللہ رب العزت میرے ہاتھوں خیر تقسیم فرما رہے ہیں۔ انسانیت کی خدمت ایک عظیم عبادت ہے۔ بس اللہ رب العزت مرتے دم تک مجھے قبول فرمائے۔

    سوال: آپ کے خیال میں آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی سماجی ضرورت کیا ہے؟
    جواب: میرے نزدیک معاشرے کی سب سے بڑی سماجی ضرورت تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور ہنر سے آراستہ کرنا ہے، کیوں کہ صرف راشن دینے سے غربت ختم نہیں ہوتی۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشرے کا سہارا بنانا ہے۔

    سوال: نوجوان نسل کو خدمتِ خلق کی طرف کیسے راغب کیا جا سکتا ہے؟
    جواب: نوجوانوں کو خدمت کے میدان میں لانے کے لیے بھرپور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ سکولوں، کالجوں اور مدارس کو بھرپور ترغیب دینی چاہیے۔ جہاں بھی فلاحی کام ہو رہا ہو ، پیار و محبت سے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ جس حد تک ہو ان سے مشاورت کی جائے اور اگر ممکن ہو تو اُن کے مشورے پر عمل بھی کیا جائے ۔ یہ عمل حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے۔

    سوال: کیا فلاحی کاموں میں شہرت نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے؟
    جواب: جی بالکل! کیوں کہ عملوں کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ اگر ہماری نیت میں دنیا کی شہرت یا واہ واہ ہوئی تو آخرت میں کوئی اَجر نہ ہوگا ۔ لہٰذا ہمیں ہر اچھے کام سے پہلے اپنی نیت کو خالصتا اللہ کی رضا کے لیے مخصوص کرنا چاہیے۔

    سوال: کاروبار نے آپ کو خدمتِ خلق کے لیے کیا سبق دیا؟
    جواب: الحمدللہ! میرے کاروبار نے مجھے لوگوں کو نفع پہنچانے میں بہت مدد کی۔نبی کریم (ﷺ) کی سُنت کے مطابق ہم مستقل طور پر آٹے پر نفع نہیں لیتے۔ استعمال شدہ اشیاء بھی دس دن تک واپس لے لیتے ہیں۔ جائز منافع لے کر تمام اشیاء حکومتی نرخ نامے کے مطابق فروخت کر کے سفید پوش لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِسی طرح نفع کا کچھ حصہ مخلوقِ خدا کی فلاح کے لیے مختص کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر صرف پاکستانی مصنوعات فروخت کر کے ملکی مصنوعات کو فروغ دینا ہماری اوّلین ترجیح ہے۔

    سوال: اگر آپ کے پاس بے پناہ وسائل ہوں تو سب سے پہلے کون سا منصوبہ شروع کریں گے؟
    جواب: اگر میرے پاس وسائل ہوں تو انشاءاللہ مفت علاج معالجہ اور تعلیم میری اوّلین ترجیح ہو گی۔ اِس کےساتھ ساتھ نوجوان نسل کے لیے ہنر سیکھنے کے مفت مواقع فراہم کروں گا۔

    سوال: آپ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؛ کاروبار یا لوگوں کی دعائیں اور آپ کون سی دعا ہمیشہ مانگتے ہیں؟
    جواب: رزق جو اللہ رب العزت نے مقدر میں لکھا ہے وہ مل کر رہے گا۔ میرے نزدیک سب سے انمول چیز پُرخلوص دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں ہیں۔ میں ہمیشہ ایمان کی حالت میں موت طلب کرتا ہوں اور یہ دعا کرتا ہوں کہ آخری دم تک اللہ رب العزت انسانیت کے نفع کے لیے مجھ جیسے حقیر انسان کو توفیق عطا فرمائے۔
    سوال: آپ کیا چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو کس حیثیت سے یاد رکھیں؛ تاجر، سماجی کارکن یا ایک اچھا انسان؟
    جواب: میں چاہتا ہوں لوگ مجھے ایک اچھا انسان ہونے کے ناطے ہمیشہ یاد رکھیں۔ میرے نزدیک ایک انسان کی مثال اُس گھنے درخت کی مانند ہے جو خود تپتی دھوپ میں گرمی دھول اور لُو کو برداشت کرتا ہے، لیکن اگر اُس کے سائے میں کوئی جاندار آ جائے تو ٹھنڈی سانس لیتا ہے۔ لہٰذا ایک مکمل انسان کو اپنے اِرد گرد کے ماحول اور اُس کی صحبت میں آنے والے ہر ذی روح کی راحت کا سامان بنتا چاہیے۔

    سوال: آپ کی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ جس نے آپ کو رُلا دیا، لیکن ساتھ ہی حوصلہ بھی دیا؟
    جواب: بچپن میں جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اِیسا محسوس ہوا جیسے امّی کے ساتھ میری روح بھی جسم سے نکل گئی ہو ۔ مگر جب سرکارِ دو عالم حضرت محمد (ﷺ) کا خیال دل میں آیا کہ آپ (ﷺ) کی والدہ ماجدہ بھی آپ (ﷺ) کے بچپن میں رحلت فرما گئیں اور والد بھی پہلے ہی وفات پا چکے تھے، تو ہم کیا چیز ہیں۔ اُس وقت بے ساختہ دل سے ایک دعا نکلی : “ اے محمد (ﷺ)کے اللہ! مجھے کبھی تنہا نہ چھوڑنا ۔” بس! یہ کہنا تھا کہ دل کو تسلی مل گئی۔

    سوال: اگر آج کے نوجوانوں کو صرف ایک نصیحت کرنی ہو تو وہ کیا ہوگی؟
    جواب: میری نوجوانوں کو ایک ہی نصیحت ہے کہ اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ میرے نزدیک زندگی کی مثال برف کی مانند ہے جسے بروقت کسی برتن میں ڈال دیا جائے تو بہت سے لوگوں کے لیے نفع بخش ثابت ہوگی، ورنہ قطرہ قطرہ زمین پر گرنے سے کیچڑ کی صورت میں لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بنے گی۔

    سوال: آپ کے نزدیک معاشرے کی تعمیر حکومت زیادہ کرتی ہے یا عوام؟
    جواب: میرے خیال میں معاشرے کی تعمیر ہمیشہ عوام ہی کر سکتی ہے ۔ حکومت جیسی بھی پالیسیاں بنا لے جب تک عوام اپنے ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے مل جل کر باہمی اتفاق سے اپنا کردار ادا نہ کریں ، حکومت کی تمام تر کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔

    سوال: آخر میں ہمارے قارئین کے لیے اپنا پیغام اور اپنی زندگی کا وہ اصول بتائیے جس نے آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔
    جواب: اللہ کی ذات پر توکل اور انسانیت کے نفع کے لیے کیے گئے ہر کام میں اللہ کی مدد ہمیشہ شاملِ حال رہتی ہے۔ اللہ رب العزت کا یہ وعدہ ہے جیسا ہم گمان اُس کی ذات سے کریں گے ویسے ہی آسمان سے فیصلے آئیں گے۔ لہٰذا ، ہمیں مسلک ، برادری یا سیاست سے بالاتر رہ کر اللہ کی رضا کے لیے انسانیت کی خدمت کے جذبے سے اپنی آنے والی نسلوں کی آسانی کی فکر کو لے کر اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہر قسم کی شر اور فتنے سے محفوظ فرماتے ہوئے ہم سب کا خاتمہ ایمان کی حالت میں فرمائے (آمین)۔

  • قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    السلام علیکم ، یاسمین صاحبہ ، کیسی ہیں ؟
    الحمدللہ ، بالکل ٹھیک
    کچھ اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیے کن اداروں سے تعلیم حاصل کی ؟
    کانونٹ جیسز اینڈ میری اور اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فائن آرٹس سٹڈیز میں تعلیم مکمل کی
    پہلی پینٹنگ کب بنائی ؟
    پہلی پینٹنگ دس سال کی عمر میں بنائی جو والد صاحب نے دیکھی اور اینا مولکا کو دکھائی ( اینا مولکا احمد مشہور مصورہ اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ فائن آرٹس کی بانی)
    اور پھر مصوری میں میں اینا مولکا صاحبہ کی پرائیویٹ سٹوڈنٹ رہی
    کانونٹ میں تعلیم اور فائن آرٹس میں دلچسپی کے باوجود اردو شاعری کی طرف کیسے ا ئیں؟
    کانونٹ میں پڑھنے کی وجہ سے میری اردو زرا کمزور تھی وہ میں نے اپنی والدہ صفیہ بیگم صاحبہ سے سیکھی وہ لکھتی تھیں شاعری بھی کرتی تھیں میرے ننھیال کا ماحول بہت علمی و ادبی تھا میرے نانا ماموں سب علامہ اقبال کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے اور گھر میں مولانا ظفر علی خان کا بھی آ نا جانا تھا شاعری میں علامہ اقبال سے متاثر ہوئی .

    شاعری اور مصوری میں کیا قدر مشترک ہے ؟
    میرے خیال میں شاعر اپنے تخیل میں الفاظ سے رنگ بھر کر کے غزل و نظم کہتا ہے اور مصور اپنے تخیل کو رنگوں کی صورت کینوس پر اتارتا ہے دونوں اپنے اپنے تخیل میں رنگ بھرتے ہیں
    بہت خوبصورت بات ہے یاسمین صاحبہ ، یہ بتائیے جب آ پ نے قائد اعظم کی پینٹنگ بنای تو تخیل میں وہ کیسے تھے ؟
    بالکل ویسے تھے جیسے میں نے انہیں زندہ و سلامت دیکھا تھا انہیں ملی تھی اور ان کا دست شفقت آ ج بھی میں اپنے سر پر محسوس کرتی ہوں
    yasmeen
    یاسمین صاحبہ آ پ کا پاکستان کے اہم خانوادہ سے تعلق ہے آ پ کے والد محترم ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے اور آ خری وقت میں ان کے ساتھ تھے اس حوالے سے تفصیل سے بتائیے
    جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی تو ان دنوں میری عمر سات آ ٹھ سال تھی اتنا بچہ سمجھ دار ہوتا ہے اسے سب یاد ہوتا ہے میں نے اپنے گھر میں قائد اعظم اور پاکستان کا بہت نام سنا تھا میں سب بچوں کو جمع کرلیتی تھی اور جلوس نکالتی تھی ہلیپرز کے بچے بھی آ جاتے تھے اور میری قیادت میں سب بچے مل کر نعرے لگاتے تھے
    لے کے رہیں گے پاکستان
    دینا پڑے گا پاکستان
    پاکستان ہمارا ہے
    جان سے بڑھ کر پیارا ہے
    بہت جوش وخروش کا عالم تھا میرے تصور میں پاکستان ایسا تھا کہ جہاں پھول کھلے ہونگے اور بہت خوبصورت ہوگا جہاں مسلمان خوش رہیں گے اور قائد اعظم مجھے ہمالیہ سے بھی بلند لگتے تھے اور واقعی وہ بہت بڑے عظیم لیڈر تھے آ ج تک کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آ یا
    اور پھر ایک دن وہ بھی آ یا جب ابا نے سب بچوں بڑوں کو ڈراینگ روم میں بلایا سب وہاں جمع تھے اور خاموش تھے ابا نے ریڈیو آ ن کردیا کچھ دیر بعد ایک آ واز گونجی پہ آ ل انڈیا ریڈیو ہے کچھ دیر بعد اہم اعلان کیا جاے گا
    اور پھر بارہ بج کر سات منٹ پر مصطفی ہمدانی نے اعلان کیا ،، یہ ریڈیو پاکستان ہے ،،
    یہ آ واز اب تک میرے کانوں سے نکلتی نہیں ، سب کی آ نکھوں میں خوشی کے آ نسو تھے ، قائد اعظم جب بمبئی میں تھے تو ڈاکٹر پیٹل کے زیر علاج تھے وہ ایک مہلک بیماری ٹی بی میں مبتلا تھے ڈاکٹر پیٹل نے میرے والد صاحب ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے ھیینڈ اوور کردیا کیونکہ والد صاحب اس وقت برصغیر کے نامور ٹی بی سپشلسٹ تھے اور اس سلسلے میں ایوارڈ حاصل کر چکے تھے امریکہ سے انہوں نے اس بیماری پر ریسرچ کی تھی
    اب وہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے قائد اعظم نے میرے والد سے کہا تھا کہ ڈاکٹر شاہ میری بیماری کو سیکرٹ رکھنا ہے اور میرے والد صاحب نے اسے بہت راز میں رکھا قائد اعظم کی حالت ایسی تھی کہ اب وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ان کی زندگی کی جتنی مدت ڈاکٹرز نے بتا دی تھی والد صاحب کے علاج کے بعد اس مدت میں کچھ اضافہ ہوا اور وہ مزید اٹھارہ ماہ زندہ رہے
    لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر جناح کی بیماری کا علم ہو جاتا تو پاکستان نہ بنتا
    انگریز اور ہندو یہی چاہتے تھے میرے والد صاحب نے بہت رازداری سے علاج کیا اور کسی کو ان کی حالت کی ہوا نہیں لگنے دی یہ میرے والد صاحب کی پاکستان کے لیے خدمت تھی لیکن انہوں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا کسی بڑائی کا اظہار نہیں کیا،جب قائد اعظم کراچی آ گئے اور یہیں رہنا چاہتے تھے لیکن ان کی حالت کے پیش نظر والد صاحب اور دوسرے ڈاکٹرز نے آ ب وہوا کی تبدیلی کے لیے انہیں کوئیٹہ زیارت لے جانے کا فیصلہ کیا،کوئٹہ منتقل ہونے کے بعد ان کا علاج جاری تھا ڈاکٹرز کو بہتری کی امید تھی محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ساتھ تھیں ، اب والد صاحب قائد کے علاج کے سلسلے میں لاہور سے کوئٹہ آ تے جاتے رہتے تھے چونکہ قائد ایسے انسان تھے جو دوسروں کا سوچتے تھے کسی کی تکلیف انہیں گوارا نہیں تھی انہوں نے والد صاحب سے کہا ڈاکٹر شاہ آ پ کی فیملی لاہور میں ہے آ پکو کوئیٹہ آ نا پڑتا ہے آ پ فیملی کو بھی یہاں بلا لیں اس طرح والد صاحب نے ہمیں کوئیٹہ بلوا لیا ہم وہاں چلتان ہوٹل میں رہے ان دنوں میری والدہ کی فاطمہ جناح سے بہت دوستی ہو گئی ہم بچوں کو جہاں قائد اعظم تھے زیارت ریزیڈنسی میں نہیں لے جایا جاتا تھا ایک دن میں اور میرا بھائی ضد کر کے والد صاحب کے ساتھ چلے گئے اس دن قائد اعظم کو وہیل چیئر پر لایا گیا ان کے ایک طرف برٹش نرس اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح تھیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ وہ کتنے کمزور ہو گئے تھے جب میں پہلے ان سے ملی تھی تو وہ بہت شاندار نظر آ ئے تھے اور انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا،جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں کراچی واپس لایا گیا وہ اپنے جہاز میں جو پہلے ماؤنٹ بیٹن کا تھا ڈکوٹا اس میں کراچی آ ئے اور ایئر پورٹ سے ایمبولینس روانہ ہوئی جس میں میرے والد صاحب محترمہ فاطمہ جناح اور دوسرے ڈاکٹرز تھے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر ہماری گاڑی تھی جس میں ہماری فیملی تھی کچھ دور جانے کے بعد ایمبولینس رک گئی اس کا پچھلا دروازہ کھلا برٹش نرس باہر آ ئیں فاطمہ جناح بھی اتریں ہم پریشان ہوے پھر پتہ چلا کہ ٹکنیکل فالٹ ہے ابھی دوسری ایمبولینس آ جائے گی ، یہاں میں ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ قائد اعظم کا ایمبولینس میں انتقال نہیں ہوا اکثر لوگوں نے کہا اور یہ لکھا ہے لیکن یہ غلط ہے میں نے اپنی آ نکھوں سے ایمبولینس میں قائد اعظم کو دیکھا وہ بے چین تھے ہاتھ ہلا رہے تھے محترمہ سے بات کرنے کی کوشش کر رہے تھے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھلا تھا قائد اسٹریچر پر تھے اور پیچھے ہماری گاڑی تھی میں رونے لگی اور والدہ نے مجھے تسلی دی کہ قائد کو کچھ نہیں ہوگا ، پھر دوسری ایمبولینس آ گئی اور ہم وہاں سے روانہ ہوئے.کراچی پہنچنے کے تھوڑے دنوں بعد ایک رات محترمہ فاطمہ جناح کا والد صاحب کو فون آ یا کہ کہ قائد کی طبیعت بہت خراب ہے آ پ آ جائیں.میرے والد صاحب نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ جب میں وہاں پہنچا تو محترمہ فاطمہ جناح کی گود میں قائد کا سر تھا ان کا آ خری وقت تھا ان کی آ واز مدھم ہوگئی تھی لیکن موت سے پہلے شاید ایک سنھبالا آ یا اور ان کے آ خری الفاظ تھے اللہ اور پاکستان..

    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ
    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ

    یاسمین صاحبہ ، آ پ خؤش قسمت ہیں آ پ نے عظیم لیڈر کو نہ صرف دیکھا بلکہ آ پ کا بچپن ان کے ساتھ گزرا کچھ محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں بتائیے ؟
    فاطمہ جناح بہت گریس فل ، بہت اچھی شخصیت کی مالک تھیں ہمیشہ سفید یا گرے لباس میں ملبوس ہوتیں مجھے بہت اچھی لگتی تھیں لاہور میں ہمارا فارم ہاؤس تھا دلکشا گارڈن وہ جب بھی لاہور آ تیں وہیں ٹھہرتیں اور میں سب سے پہلے جاکر ان سے ہاتھ ملاتی میرا دل چاہتا تھا میں بھی ان جیسی بنوں ایک دن میرا دل چاھا میں ان کے سفید خوبصورت لباس کو ہاتھ لگا کر دیکھوں میں نے ان کی چادر کو چھوا تو انہیں مجھ پر پیار آ یا انہوں نے مجھے پیار کیا اور کہا تم بڑی ہو جاؤ گی تو اپنے ملک کے لیے کام کرنا ، اور مجھے امید ہے تم ضرور کرو گی

    ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور فاطمہ جناح
    یاسمین صاحبہ اب اپنے سوشل ورک کے بارے میں بتائیے اس سلسلے میں آ پ کی بہت خدمات ہیں ؟
    میں امریکہ میں پندرہ سال رہی ہوں وہاں سے صرف اپنے وطن کی خدمت کے لیے واپس آ ئی ہوں اس کا سہرا شمسی صاحب کو جاتا ہے وہ میرے استاد بھی ہیں ہم نے مل کر ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، ا کے نام سے ادارہ بنایا جس کے تحت غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور گھر گھر جاکر مستحق لوگوں کی مدد کی جاتی ہے ، غریب جھگیوں والوں کی مدد کی جاتی ہے ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، کے پریذیڈنٹ زاہد شمسی صاحب اور میں وائس پریزیڈنٹ ہوں
    یاسمین صاحبہ نئی نسل کے لیے کوئی پیغام ؟
    میں ساری دنیا میں گھومی ہوں لیکن میں نے اپنی یوتھ کو سب سے اچھا پایا یہ سب کرسکتے ہیں بس انہیں قائد اعظم کے سنہری اصولوں ، اتحاد ، ایمان ، تنظیم کو اپنانا ہوگا
    میرا خیال ہے اب میں ہی زندہ ہوں جس نے پاکستان بنتے دیکھا ان دنوں کا جوش و جذبہ محسوس کیا اور قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح جیسی عظیم شخصیات کو قریب سے دیکھا والد صاحب قائد اعظم کے صرف پرسنل ڈاکٹر ہی نہیں دوست بھی تھے اور انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن کے دنوں میں ان کی حمایت میں ورک بھی کیا تھا پھر میرے نانا اور ماموں علامہ اقبال کی زندگی میں ان سے مل چکے تھے اور گھر میں علامہ اقبال کی شاعری کا بہت ذکر ہوتا تھا سب انہیں بہت پسند کرتے تھے پھر پاکستان اور قائد اعظم کا بہت ذکر ہوتا تھا اس کے علاؤہ مولانا ظفر علی میرے والد کے پیشنٹ بھی تھے پڑوس میں رہتے تھے ان کے گھر بھی آ نا جانا تھا ان کی شاعری اس وقت میری سمجھ میں نہیں آ تی تھی ، بس ان عظیم شخصیات کے ساتھ گزرا میرا بچپن بہت حسین تھا اور میں انہی یادوں کے ساتھ زندہ ہوں اور نئی نسل سے توقع ہے کہ قیام پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے
    اپنے شوہر محترم اور بچوں کے بارے میں بتائیے ؟
    میرے شوہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید سجاد بخاری صاحب ستارہ امتیاز حاصل کر چکے ہیں بیٹا ڈاکٹر احمد جمال بخاری بیسٹ ڈاکٹر کے متعدد ایوارڈز حاصل کر چکا ہے دو بیٹیاں ہیں بڑی عائشہ بخاری اور چھوٹی شہرزادے بخآری
    یاسمین بخاری صاحبہ آ پ سے مل کر بہت اچھا لگا میں خوش قسمت ہوں کہ آ پ جیسی شخصیت سے ملی اور بات چیت کی
    مجھے بھی اچھا لگا
    یہ میرے لیے اعزاز ہے ، بہت شکریہ

  • شیخ رشید اور انکے بھتیجے کو عدالت سے ملی خوشخبری

    شیخ رشید اور انکے بھتیجے کو عدالت سے ملی خوشخبری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر داخلہ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو توہین مذہب کیس میں بری کر دیا گیا ہے

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے اتحادی شیخ رشید احمد اور انکے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو توہین مذہب کیس میں بری کر دیا گیا ، اٹک کے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عارف نے دونوں رہنماؤں کو بری کیا ہے، شیخ رشید اور شیخ راشد پر مسجدنبوی میں ہنگامہ آرائی کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، شیخ رشید کے خلاف تھانہ نیو ایئر پورٹ فتح جنگ میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ، جس میں اب پی ٹی آئی کے اتحادی رہنماؤں کو بری کر دیا گیا ہے ۔

    واضح رہے گزشتہ برس اپریل کے ماہ کے آخر میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران ان کے وفد کے دو ارکان وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر برائے نارکوٹیکس شاہ زین بگٹی کی مسجد نبوی میں حاضری کے دوران مبینہ طور پر تحریک انصاف کے حامیوں نے نعرے بازی کی تھی جس کی ویڈیو وائرل ہوئی اور اس کی ملکی و غیر ملکی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔ تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے اس احتجاج سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    توہین مذہب مقدمہ، چھٹی کے روز درخواست پر سماعت، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

  • عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان دراصل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان میں اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ کہناتھا پیپلزپارٹی کے بانی رہنماء اور سابق سینیٹر سردار سلیم کا جنہوں نے باغی ٹی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: سابق وزیر اعظم عمران خان حمایت تو دور مخالفت کرنے کے بھی قابل نہیں ہے۔
    جب سردار سلیم سے باغی ٹی وی نے سوال کیا کہ عمران خان دعوی کرتے ہیں کہ جس طرح ذوالفقارعلی بھٹوکیخلاف امریکہ نے سازش کی تھی ٹھیک اسی طرح انکے خلاف بھی بیرونی سازش ہوئی ہےتواسکے جواب میں سردار سلیم نے کہاکہ: عمران خان نے کونسا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ ان کے خلاف امریکہ سازش کرتا؟

    سابق سینیٹر کے مطابق: جہاں تک بات ذوالفقار علی بھٹو کی ہے وہ تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی کوشش کررہے تھے اوردوسرا انہوں نے تیل پیدا کرنےوالےتمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کےوہ اپنے تیل کی پیداوار کم کردیں اور ان کے اس مشورہ پرعمل کے بعد امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے تھے کیوں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے سے ناصرف انہیں تیل مہنگا خریدنا پڑ رہا تھا بلکہ مقدار میں بھی کم مل رہا تھا۔ اورپھریہ کہ مسلم ممالک اپنا تیل مہنگے دام بیچ کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کما رہے تھے جسکے سبب ان ممالک میں مالی خوشحالی آنا شروع ہوگئی۔

    فیٹف کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنےکےعندیہ پرسردارسلیم کا کہنا تھا کہ: "بہت سارے دانشور اس بات پر موثر ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں عمران خان کا زیادہ کردارہے کیونکہ اس نے 34 کی 34 شرائط کو پورا کیا تھا۔ لیکن میرے خیال میں تعصب کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو یہ یاد نہیں کہ بات صرف شرائط پوری کرنے کی ہوتی تو پاکستان کوکب کا گرے لسٹ سے خارج کردیا گیاہوتا لیکن اصل معاملہ شرائط پوری کرنے کا نہیں تھا بلکہ امریکہ اوردوسرے یورپی ممالک جو اثررکھتے تھے پر بھارتی حکومت کا دباؤ تھا کہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں نہ ڈالا جائے اور پاکستان کے اس وقت کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی میں اتنی اہلیت نہیں تھی کہ وہ چین کی بھرپورحمایت کے باوجود بھی امریکہ اوریورپی ممالک کو بھارتی دباؤ سے نکال کر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرواتا ۔”
    سردارسلیم سمجھتے ہیں کہ: یہ کارنامہ بی بی شہید کے فرزند اور نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے بڑے احسن طریقے سےکردکھایا۔ جسکے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے.

  • شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، رحمان ملک

    شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، رحمان ملک

    سابق وزیرِداخلہ سینیٹر رحمان ملک نے شمالی وزیرستان میں فوجی پوسٹ پر سرحد پار فائرنگ کی شدید مزمت کی ہے، حملے میں شہید ہونے والے دو فوجی اہلکاروں کی شہادت پر شدید دکھ و افسوس ہوا ہے، شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، مادر وطن کے تحفظ اور دفاع کے لیے شہدا کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، افغان حکومت دہشتگردوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے روکے، پاکستان دشمن افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں، دشمن پاک افغان تعلقات اور افغانستان میں امن کے عمل کو برباد کرنا چاہتے ہیں.

  • اسپیکر خبیر پختونخواہ اسمبلی کا باغی ٹی وی کو تہلکہ خیز انٹرویو؟

    اسپیکر خبیر پختونخواہ اسمبلی کا باغی ٹی وی کو تہلکہ خیز انٹرویو؟

    پشاور:(نمائندہ باغی ٹی وی)اسپیکر کے پی کے اسمبلی مشتاق احمد غنی کا باغی ٹی وی جرنلسٹ سردارطیب کو تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کے صوبائی اسمبلی ارکان نے وزیراعلیٰ محمود خان اور پارٹی قیادت پر پھر پور اعتماد اظہار کیا جس وجہ سے ہم 10سٹیں لینے میں کامیاب ہوئے

    پشاور:ارکان اسمبلی نے سینٹ میں اپنی قیادت پرپھر پور اعتماد کا اظہار کیا،مشتاق احمد غنی

    پشاور:اسلام آباد چئیرمین سینٹ کی سیٹ پر دوبارہ الیکشن ہونے چاہئیں ،اسپیکر مشتاق احمد غنی

    پشاور:حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے،اسپیکر کے پی کے اسمبلی

    پشاور:الیکشن کمیشن ضمیر بیچنے والے ارکان کے خلاف کاروائی کرے ،مشتاق احمد غنی

    پشاور:پی ڈی ایم مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،اسپیکر کے پی کے اسمبلی

    پشاور:عوام مایوس نہ ہو وزیراعظم جلد اس مشکل وقت سے نکال لیں گے،مشتاق احمد غنی

    تفصیلات کے مطابق اسپیکر کے پی کے اسمبلی مشتاق احمد غنی نے اپنے تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کے قوم پی ڈی ایم کی کرپشن جان چکے ہیں جس طرح ان لوگوں نے سینٹ الیکشن جس انداز سے خریدوفروخت کی پوری قوم نے دیکھی ہے یہ لوگ اپنی چوری پچانے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں عمران خان ایک نڈر اور دیندار لیڈر ہے وہ قوم کو اس کرپٹ نظام سے نجات دینا چاہتے ہیں یہ چور سب ایک ہو کر بھی وزیراعظم عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے الیکشن کمیشن کو چاہیے کے اپنا رول ادا کریں اور جن لوگوں نے موجودہ الیکشن میں پیسہ چلایا انکے خلاف کاروائی کرنی چاہیے تاکے اس کرپٹ نظام سے عوام کو نجات ملے قوم نے دیکھا وزیراعظم نے عدم اعتماد لیا اور دو ووٹ زیادہ لیے اوپن بیلٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کے وزیراعظم عمران خان جو کہتے ہیں وہ درست کہتے ہیں اگر سینٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ ہوتا تو یہ پی ڈی ایم کے چور کبھی یہ الیکشن نہیں جیت سکتے اسپیکر کے پی کے اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا کے ڈی چوک کے باہر جو واقعہ رونما ہوا یہ بہت افوسوس ناک بات ہے لیکن اپوزیشن کو کس نے کہا کے وہ پی ٹی آئی کے وروکروں کے سامنے آکر نیوز کانفرس کریں اور انکے لیڈر کو گالیاں دیے کونسا ورکر چاہے گا کے اسکے لیڈر کو کوئی گالی دے یہ ن لیگ کا پراپر پلان تھا کے یہ یہاں آکر ہنگامہ کریں اور میڈیا کی توجہ حاصل کریں ان لوگوں میں ہمت ہوتی تو اسمبلی میں آکر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے اجلاس میں شرکت کرتے اور اپنے پتے شو کرتے یہ لوگ کرپشن اور پیسے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے نوجوان مایوس مت ہو انشاللہ ملک جلد مشکل وقت سے نکل آئے گا اور عوام وزیراعظم عمران خان ہی اس کرپٹ نظام کو پاک کریں گے اور ایک نیا فلاحی ریاست کا نظام کا خواب پورا ہو گا

  • خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم، وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش

    خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم، وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش

    خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش کی لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت
    خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش نے لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت کی۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، سیکرٹری زاہد چوہدری ، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر ، ممبر ان گورننگ باڈی نفیس احمد قادری ، فوزیہ غنی اور سینئرجرنلسٹ نعیم مصطفی نے معززمہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں آج لاہور رپریس کلب آکربہت خوش ہوں اور پریس کلب کی نو منتخب گورننگ باڈی کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ انھوںنے حکومت کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے بتایاکہ خیبر پختونخواہ حکومت نے ریاست مدینہ کے ویژن کے مطابق صحت کارڈ دئیے، صحت کارڈ کے تحت دس لاکھ تک علاج مفت کرایاجاسکتاہے، پشاور بی آر ٹی پر سیاست کی گئی مگر ہم عوام کو سہولت دے رہے ہیں،خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،مولانا فضل الرحمن، امیر مقام اور اسفندر یار بھی صحت کارڈ سے دس لاکھ روپے کا علاج کروا سکتے ہیں، ۔ انھوںنے مزیدبتایاکہ ہمارے بی آر ٹی کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی جو ہمارا کامیاب منصوبہ ہے ،ہم روزانہ دو لاکھ تک افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کر رہے ہیں، سوات ایکسپریس وے فیز ون کو مکمل کیا،کے پی کے جنوبی اضلاع پہلے نظر انداز کئے جا رہے تھے جہاں پہلے ڈی آئی خان موٹروے بنا رہے ہیں،پچھلے دو ماہ میں گلیات میں سات لاکھ سے زائد سیاح آئے، وزیراعظم کے ویژن کے مطابق آٹھ نئے سیاحتی زون بنانے کے ٹارگٹ میںسے چار سیاحتی مقامات کو ہم بنا چکے ہیں، تیس سال ایک جنگ سے گزرے ہیں، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے تحت 17 اکنامک زون بنا دئیے گئے ہیں، کے پی کے پہلا صوبہ ہے جہاں رسکئی اکانومی زون میں دو لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا جو چین کے تعاون سے بنایا ہے، اسی طرح کے پی کے میں ماربل انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے چکرال اکانومک زون بنا رہے ہیں جبکہ توانائی کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے ہیںاور ساڑھے تین سو چھوٹے پن بجلی کے منصوبے بنائے ہیں،خیبر پاس اکانومک زون ہمارے لوگوں کے لئے نئی معاشی سرگرمیاں لے کر آئے گا،چشمہ رائٹ بنک کنال سے صوبے میں زرعی انقلاب آئے اور 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زائد زمین قابل کاشت بن جائے گی، تعمیراتی شعبے میں ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے نئی رہائشی سوسائٹیاں بنائی جارہی ہیں اور کے پی کے میں بلند و بالا عمارتیں بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ علماءکرام کو حکومت جون 2021 سے فی کس ماہانہ دس ہزار روپے دے گی جس سے وہ عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے ضروریات زندگی کو بہتراندازمیں ادا کرسکیں گے۔ انھوں نے کہاکہ صوبے میں سات پناہ گاہیں بنائی ہیں اب ہم اس کو چونتیس اضلاع میں لے کر جا رہے ہیں۔فاٹاکے سات قبائل ختم ہو کر کے پی کے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں کبھی 20 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے نہیں ہوئے اسے ہم 70 ارب روپے تک لے کر جائیں گے فاٹا انضمام پر سیاسی پنڈت اسے نا مکمن قرار دیتے تھے لیکن ہم نے وہ کر کے دکھایا ہے،اب قبائل میں ایف سی آر کا قانون ختم کیا،ہم سیاسی کرپٹ ٹولوں کا خاتمہ اپنی کارکردگی سے ختم کیا،17 ارب یونٹس بجلی کے نیشنل گرڈ میں جاتے ہیں ۔ ان کا کہناتھاکہ بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کا ایک غیر متنازع تجزیہ ہونا چاہیے ،کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم پر ایک نیوٹرل کمیشن بننا چاہئیے تاکہ جو بھی اس پر سیاست کرے اس کا احتساب ہو ،پشاور اور گومل یونیورسٹی خسارے میں اس کے لئے ہم بہترین اقدامات کرنے جا رہے ہیں، مالم جبہ اسکینڈل کو ایک پروپیگنڈا ٹول بنا کر پیش کیا جارہا ہے،مالم جبہ پر ٹیکنیکل ایشو آرہا ہے، دلیپ کمار اور راج کار کی حویلیوں کے بارے مالکان کیساتھ رابطے میں ہیں، پنجاب اور کے پی کے وزیر اعلیٰ دونوں ہی عاجز اور کام سے مخلص اور ایماندارہیں دونوں وزرا اعلی 24 میں سے 18 گھنٹے کام کرتے ہیں،خوش شکل ہونا اتنا معنی نہیں رکھتا جتنا کہ عاجز ہونا رکھتا ہے ، کے پی کے لوگ بکاو ¿ نہیں ہیں۔ صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد چوہدری نے معززمہمان کی کلب آمد پر ان کا شکریہ اداکیا اور ان کی جانب سے حکومت کے ترقیاتی کاموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ بطورپاکستانی اورصحافی ہم کے پی کے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں سے خوش ہیںاور اس میں مزید ترقی کے لئے دعاگوہیںاورجس طرح آپ نے ہمیں فراخدلانہ طورپرکے پی کے میں ہونے والی ترقیاتی کاموں کاجائزہ لینے کی دعوت دی ہے ہم اس کے لئے آپ کے مشکورہیں۔خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان اور ان کے ساتھ آئے خیبرپختونخواہ کے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنزبہرامند درانی کو کلب کی جانب سے یادگاری شیلڈزپیش کی گئیں۔

  • امریکی وزیر خارجہ کو عدالتی فیصلے پر تشویش، نظرِ ثانی کی خواہش کا اظہار،  شاہ محمود قریشی

    امریکی وزیر خارجہ کو عدالتی فیصلے پر تشویش، نظرِ ثانی کی خواہش کا اظہار، شاہ محمود قریشی

    ملتان : وزیراعظم عمران خان کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مؤقف واضح ہے۔امریکی وزیر خارجہ کو ایک عدالتی فیصلے پر تشویش تھی جس پر انہیں اعتماد میں لیا. امریکی وزیر خارجہ نے عدالتی فیصلے پر نظرِ ثانی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں عدالتیں مکمل آزاد، آئین و قانون کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی

  • اسامہ بن لادن کی جانب سے نواز شریف کی مالی معاونت کی گئی ،ریکارڈ

    اسامہ بن لادن کی جانب سے نواز شریف کی مالی معاونت کی گئی ،ریکارڈ

    ملتان : "پاکستان سفارتی ذرائع سے بھارتی مکروہ اقدامات اور تشدد کو بے نقاب کر رہا ہے۔ کرپشن کو روکنا عمران خان کی ترجیحات میں سے ہے۔ کرپشن کے ذمہ دار افراد کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ ہم ہر اس ادارے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جو کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی کرے گا۔ اسامہ بن لادن کی جانب سے نواز شریف کی جو مالی معاونت کی گئی یہ ریکارڈ پر ہے۔ ملکی سلامتی کے معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا”۔ شاہ محمود قریشی

  • پاکستان کی معاشی مشکلات پر غلبہ پانے کیلئے کوشاں،شاہ محمود قریشی

    پاکستان کی معاشی مشکلات پر غلبہ پانے کیلئے کوشاں،شاہ محمود قریشی

    ملتان : شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کی معاشی مشکلات پر غلبہ پانے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ افغان امن عمل کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ افغان امن عمل پر پیشرفت پاکستان کی خواہش مگر فائدہ افغانیوں نے کرنا ہے۔ خطے کے حوالے سے منصوبے اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچیں گے جب افغانستان میں امن ہو گا۔