ملکوال کے شہریوں کے لئے خوشخبری
رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق تحصیل ملکوال کے سب سے نامور اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مشہور ڈاکٹر قمر عباس مرزا صاحب نے ملکوال میں پہلی بار ایمرجنسی نوزائیدہ بچوں کے لئے بےبی وارمر، فوٹو تھراپی اور شیشہ انکیوبیٹر کی سہولت شروع کی ہے جو القمر ہیلتھ کلینک کا عوام دوست شاندار منصوبہ ہے.
زیرِ نگرانی. القمر ہیلتھ کلینک. ڈاکٹر قمر عباس مرزا اور لیڈی ڈاکٹر منزہ قمر
نزد ٹیلی نار آفس پرانی غلہ منڈی جناح روڈ ملکوال
Category: حیاتیات

ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

اسلام اور جانوروں کے حقوق تحریر: محمد اختر
تمام جاندار – انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔
قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔
حدیث اورجانوروں کی حقوق
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔
نوٹ:
آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔@MAkhter_

ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین
لکھنو: ملیح آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
باغی ٹی وی : اس حوالے سے حاجی کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اُگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے پشتینی باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے لیکن’’بدقسمتی سے وہ درخت سیلاب کی نذر ہوگیا،‘‘

کلیم اللہ خان نے کہا آئندہ تیس سالہ تک آم کی کاشت میں تجربہ اور نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد، 1987 میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے لڑکپن کے ادھورے منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی تاہم اب کی بار انہوں نے اپنے پشتینی باغ میں آم کے ایسے درخت کا انتخاب کیا جو 100 سال پرانا اور بہت بڑا تھا۔

وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔وہ اوسطاً ہر مہینے اس درخت میں ایک نئی قسم کی قلم کا اضافہ کردیتے؛ اور یوں بالآخرمیں تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا، جسے بھارت کی ’’لمکا بُک آف ریکارڈز‘‘ میں بھی درج کرلیا گیا۔

آج یہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کے سائے تلے 15 افراد بہت آرام سے پکنک منا سکتے ہیں جبکہ اس کی ہزاروں شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

آموں سے اپنے عشق اور آموں کی کاشت میں غیرمعمولی مہارت کی بناء پر حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی‘‘ کا لقب بھی مل چکا ہے۔

بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ کلیم اللہ خان کا یہ کارنامہ صرف نمائشی ہے جس کا کوئی مالی فائدہ نہیں۔ لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہر چیز کا فائدہ پیسے کے ترازو میں تولا نہیں جانا چاہیے۔اس کارنامے پر حاجی کلیم اللہ خان کو بھارتی حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔

کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟
منی پلانٹ کا نام تو سب نے سنا ہوگا ۔منی پلانٹ سے متعلق کئی باتیں منسوب بھی کی جاتی ہیں منی پلانٹ کا سائنسی زبان میں نباتاتی نام ایپی پرینیم منی پلانٹ کہتے ہیں منی پلانٹ ایک آرائشی، سرسبز، خوبصورت اور سدا بہار بیل ہے یہ پانی میں بھی اگائی جا سکتی ہے اور مٹی میں بھی۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اِس پر نہ کوئی پھل لگتا ہے اور نہ پھول۔ لیکن اگر یہ جنگل میں اگا ہو تو اِس پر بہت دیر بعد پھول لگ جاتے ہیں اور ایسا ہونا بہت نایاب ہے اس کا وطن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ اسے بڑھنے کے لیے گرم مرطوب موسم مون سون پسند ہے۔
پودوں کو تین بنیادی نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا نائیٹروجن دوسرا پوٹاشیم اور تیسرا فاسفورس۔ نائیٹروجن سے پودے میں ہریالی آتی ہے یعنی پتے وغیرہ بہت اگتے ہیں۔ پوٹاشیم سے جریں شاہیں اور تنہ وغیرہ مضبوط ہوتے ہیں اور شاہیں ذیادہ اگتی ہیں اور فاسفورس سے پھول اور پھل بہت ذیادہ اگتا ہے منی پلانٹ کو کسی بھی خاص کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی آپ اِس کو صرف پانی میں بھی لگا دیں تو یہ پھلتا پھولتا رہے گا۔
منی پلانٹ کے فوائد:
منی پلانٹ اپنی خوراک ہوا سے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس گھر میں یہ لگا ہو اُس گھر میں جتنی بھی مضر صحت گیسیں ہوتی ہیں منی پلانٹ اُس کو جزب کر لیتا ہے اوراُن کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے اور گھر کا ماحول بھی تازہ اور خوشگوار رہتا ہے۔ اِس کی ایک اور خاص بات جو دوسرے پودوں سے منفرد ہے وہ یہ کے دوسرے پودے دن میں اپنے اندر سے اوکسیجن باہر نکالتے ہیں اور کاربنڈائی اوکسائیڈ اپنے اندر جزب کرتے ہیں اور رات کو اوکسیجن اور کاربنڈائی اوکسائیڈ دونوں ہی جزب کرتے ہیں۔ لیکن منی پلانٹ دن میں بھی اوکسیجن خارج کرتا ہے اور رات میں بھی اوکسیجن ہی خارج کرتا ہے۔ جس سے گھر کے ماحول میں تازگی رہتی ہے۔منی پلانٹ لگانے کا طریقہ:
منی پلاٹ گملے میں بھی لگا سکتے ہیں اور پانی میں بھی اگر گملے میں لگانا ہے تو گملے میں مٹی بھر لیجیے اور اگر پانی میں لگانا ہے تو کسی بوتل وغیرہ میں پانی بھر لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو منی پلانٹ کی بیل کا ایک چھوٹا ٹکرا چاہیے ہو گا۔ وہ بیل کا چھوٹا ٹکڑا آپ اپنی لوکل نرسری سے بھی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اگر آپ کے آس پاس کسی نے منی پلانٹ لگایا ہوا ہے تو آپ اُن سے بھی بیل کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے سکتے ہیں۔ اُس کی لمبائی کم از کم دو اینچ ہونی چاہیے۔ اب اُس بیل کے ٹکرے پر اگر پتے لگے ہوئے ہیں تو اُن کو اتار لیں صرف سرے پر جو چھوٹے پتے لئے ہوں اُن کو نہ اتاریں۔ اب آپ اِس بیل کو گملے میں لگا لیں اور کسی چھاوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہے۔لیکن یاد رہے کہ اِس کو دھوپ میں نہیں رکھنا۔ اسی طرح آپ اِس کو پانی میں بھی لگا سکتے ہیں۔ ایک بوتل لیں اور اُس میں پانی ڈال دیں۔ اِس کے بعد اُس بوتل میں بیل ڈال دیں۔ اور اُس کو کسی چھائوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہو۔ بیل لگانے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر آپ کی بیل کی جڑیں نکل آئیں اور آپ کی بیل بڑھنے شروع ہو جائے گی اور اُس پر نئے پتے بھی لگنے شروع ہو جائیں گے۔
منی پلانٹ کے بارے میں اختیاطی تدابیر:
اگر آپ نے پانی میں منی پلانٹ لگایا ہے تو جس بوتل وغیرہ میں بھی آپ نے منی پلانٹ لگایا ہے اُس میں پانی کا لیول برکرار رکھیں یعنی اگر پانی ختم ہو رہا ہو تو اُس بوتل میں دوبارہ پانی بھر دیں اگر گملے میں منی پلانٹ لگایا ہے تو اُس کو روز پانی دیں لیکن یہ یاد رہے کہ پانی گملے میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی گملے میں کھڑا رہا تو آپ منی پلانٹ کی جڑیں گل جائے گئیں اور وہ مرجھا جائے گا منی پلانٹ کی بیل اور پتے بہت بد ذائقہ ہوتے ہیں۔ اِس لیے کبھی غلطی سے بھی اُن کو نہ چکھیں۔منی پلانٹ کے بارے میں مفروضات:
نام کی مناسبت سے یہ خیال بھی عام ہے کہ منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے تاہم پودے بیچنے والوں کی نظر میں منی پلانٹ لگا کر امیر ہوجانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں البتہ کہا جاتا ہے کہ صحت بڑی دولت ہے تواس لحاظ سے دیکھا جائے تومنی پلانٹ واقعی بڑا دولت بخش پودا ہے ۔ گھر کے ماحول میں چوبیس گھنٹے وافر آکسیجن سے گھر بھر تروتازہ اورہشاش بشاش رہتا ہے۔
پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟
چند روز قبل پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں مردہ جیلی فش نظر آنے لگیں۔
باغی ٹی وی :ایک فٹ سے لے کر نصف فٹ چوڑی اور کلو سے ڈیڑھ کلو وزنی یہ سمندری حیات سمندری لہروں کے ساتھ تیرتی ہوئی کراچی کے سی ویو سے لے کر بلوچستان کے اوڑماڑہ ساحل تک دیکھی گئیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیلی فش آخر آئی کہاں سے اور ان کا ساحلوں پر اس طرح نمودار ہونے کا کیا مطلب ہے؟
اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون معظم خان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں جیلی فش کی تعداد بڑھی تو ماہی گیروں نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کیا اور اس کی ہارویسٹنگ کا آغاز ہو گیا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے نمک اور پھٹکڑی لگا کر چین برآمد کیا جاتا ہے برآمد ہونے والی جیلی فش کی دو اقسام ہیں ایک کو ‘اصلی’ اور ایک کو ‘جنگلی’ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں کویوڈ کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے اور کویوڈ کے بعد انھوں نے برآمدات پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں اس لیے پاکستان سے وہاں جیلی فش جا نہیں رہی یا کم جا رہی ہے اس لیے اس موسم میں ماہی گیروں نے اس کی ہارویسٹنگ نہیں کی اور یہ مردہ حالت میں ساحلوں تک پہنچ گئیں۔

معظم خان کے مطابق پاکستان میں جیلی فش کی پچاس سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جو سندھ کی کریکس سے لے کر بلوچستان کی کلمت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں اس طرح سمندر میں جیلی فش کا بلوم آتا ہے جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔15 سال پہلے تک یہ اس تعداد میں نہیں ملتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تغیر ہے۔
ان کے مطابق اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مچھلی کا شکار اور وہ سمندری حیات جو جیلی فش کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کی تعداد میں کمی بھی جیلی فش کی تعداد میں اضافے کے ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر ماہی گیر جال لگا کر بھی مچھلیاں پکڑتے ہیں سی ویو پر بھی ایک درجن کے قریب ماہی گیر ایک طویل جال سمندر میں لے گئے اور وہاں سے کھینچ کر کنارے تک لائے اور اس میں سے جیلی فش نکال نکال کر ساحل پر پھینکتے رہے۔ایک ماہی گیر آفتاب نے بتایا کہ مارچ سے لے کر مئی، جون تک جیسے جیسے پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور یہ گرم ہوتا ہے یہ جیلی فش ساحل کی طرف آتی ہیں

آفتاب نے بتایا کہ عام دنوں میں جال میں مچھلی زیادہ آتی ہے لیکن ان دنوں میں جیلی فش بھی آ جاتی ہے، پہلے یہ جیلی فش چین خرید لیتا تھا ابھی ان کا بھاؤ نہیں اس لیے ہم اس کو پکڑ کر باہر پھنیک دیتے ہیں۔‘انھوں نے بتایا کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب چین والوں کو جیلی فش کی طلب ہوئی تو ماہی گیروں نے مچھلی چھوڑ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا اور ساحل پر جال لگا کر مچھلی پکڑنے والوں سے لے کر کشتی والے ماہی گیروں تک بس اس کا شکار کرتے رہے لیکن آج کل اسے کوئی نہیں خریدتا۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبے میرین سائنس کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ قادری کا کہنا ہے کہ جیلی فش میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں Eutrophication یعنی پانی میں معدنیات اور نشوونما کے اجزا شامل ہو جانا، سیوریج سمندر میں جانے سے سمندری نباتات بڑھنا، اس کے علاوہ انسانی سرگرمیاں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔’اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو جیلی فش کی تعداد معمول پر آ سکتی ہے۔‘

وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز
ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سینگ والی وہیل کی ایک قسم ناروہیل کا سینگ اپنے اندر بہت سے ماحولیاتی راز رکھتا ہے۔
باغی ٹی وی :کسی درخت کے دائروں کی مانند، نار وہیل کے سینگ پر ہر سال ایک دائرہ نموپذیر ہوتا ہے اور اس کے جائزے سے نہ صرف اس کی غذا، عادات اور دیگر عوامل کا پتا ملتا ہے بلکہ اطراف کے ماحول کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔
اس ضمن میں ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی نے دس جانوروں کے سینگ دیکھے ہیں جو شکاریوں کےہاتھوں پہلے ہی مارے جاچکے تھے۔
وہیل کے سینگوں کی لمبائی 150 سے 240 سینٹی میٹر تھی اور تمام سینگوں کو لمبائی کے لحاظ سے درمیان سے چیرا گیا اور اس کے اندر خدوخال یا دائروں کا جائزہ لیا گیا اس میں ایک جانب پارہ موجود تھا تو دوسری جانب ہردائرے میں کاربن اور نائٹروجن کے اسٹیبل آئسوٹوپس موجود تھے ان سے معلوم ہوا کہ آیا وہیل کھلے سمندر میں تھیں یا برفانی ساحلوں کے قریب ہی کہیں رہ رہی تھیں۔
سینگوں کے مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ 1990 سے 2000 تک وہیل کو برف کی کمی کا سامنا تھا اور اس تناظر میں اس نے غذائی عادات بھی تبدیل کی تھیں ان تفصیلات پر ماہرین نے کہا ہے کہ وہیل پر اس انوکھی تحقیق سے ان کی خوراک، بقا اور دیگر عادات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ جسے ہم سینگ قرار دیتے ہیں وہ نر وہیل کا لمبا دانت ہوتا ہے جو سینگ کی صورت میں چہرے سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

فنگر پرنٹس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر
ہر ایک کے انگلیوں کے نشانات مختلف ہوتے ہیں۔
ہم سب کے انگلیوں کے نشانات ہیں جو مختلف ہیں۔ حتی کہ یکساں جڑواں بچوں کے نشانات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جبکہ 1400 سال پہلے کوئی بھی یہ بات نہیں جانتا تھا۔ مگر قرآن میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ اللہ قیامت کے دن انسانوں کو دوبارہ سے صحیح سالم زندہ کرے گا یہاں تک کے انکی انگلیوں کے نشانات بھی پورے ہوں گے۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ یہ وہ نشانات ہیں جو ہر ایک انسان کے مختلف ہوتے ہیں۔
Quran 75:04

(القیامہ 4#)
ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور پور(نشانات) درست کر دیں۔قیامت کے دن اللہ ہمارے جسموں کو پورا پورا دوبارہ بنا دے گا یہاں تک کہ ہماری انگلیوں کے نشانات کو بھی۔
ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ انگلیوں پہ کچھ انوکھی(یونیک) چیز بھی موجود ہے؟؟؟
بقلم سلطان سکندر!!!

بریسٹ فیڈنگ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر
دودھ پلانا اور اسکا معاشرتی تعلق،
بچے کو دودھ پلانے کی دو سال تک ہدایت کی گئی ہے۔
Reference:- World Health Organization, Breastfeeding, 2018.
"چھاتی کا دودھ بچے کیلئے پہلی قدرتی غذا ہوتی ہے، یہ وہ تمام غذائی اجزاء اور طاقت مہیا کرتا ہے جو ایک نوزائیدہ بچے کو پہلے مہینے کیلئے ضروری ہوتے ہیں، اور یہ آدھی یا اس سے زیادہ کی غذائیت پہلے سال کے دوسرے حصے تک مہیا کرتا رہتا ہے، اور ایک تہائی غذائیت زندگی کے دوسرے سال کے دوران مہیا کرتا رہتا ہے۔ ”جیسے جیسے بچہ بھاری ہوتا جائے گا، ماں کا دودھ اسے ناکافی ہوتا جائے گا۔ دوسرے سال میں ماں بچے کو اسکی ضرورت کے تحت صرف ایک تہائی حصہ مہیا کرتی ہے جو بچے کی غذائیت کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس دوران بچے کو دوسرے کھانے پھل وغیرہ دینا بہتر رہتا ہے۔
Quran 2:233

"اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں، یہ اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت کو پورا کرنا چاہے،”قرآن میں چھاتی کا دودھ پلانے کی حد دو سال مقرر کر دی گئی تھی۔
ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ چھاتی کا دودھ کتنی دیر تک پلانا صحت بخش ہے؟؟؟؟؟؟
بچے اور ماں کے درمیان چھاتی کا دودھ پینے کی وجہ سے مضبوط رشتے کا ایک اور فائدہ جو بہت کم جانا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ
Reference:- Time, Is Breast Milk the Key to Mother-Baby Bounding?, 2011
"ماں اور بچے کے اچھے تعلقات کا راز چھاتی کا دودھ ہوسکتا ہے، نئی تحقیق کے مطابق یہ مانا جاتا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے کچھ مہینے بعد چھاتی کا دودھ پلانے والی ماں کا فارمولہ دودھ پلانے والی ماں کی بہ نسبت زیادہ گہرا رشتہ اور تعلق قائم ہوتا ہے۔ جب وہ(چھاتی کا دودھ پلانے والی مائیں) اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی ہیں تو وہ مضبوط حاضر دماغی کے ساتھ جواب دینے کا مظاہرہ کرتی ہیں
(مئی کے مہینے میں بچے کی سائیکالوجی اور سائیکیٹری کی ساخت کے مضمون پہ پبلش ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق)۔
جبکہ ریسرچ میں شریک ماؤں کو سکینر میں لٹایا گیا اور انہیں اپنے بچے اور نامعلوم بچے کے رونے کے کلپس سنائے گئے، محققین نے سوراخ لگایا کہ انکے دماغوں کے کونسے حصے روشن ہوتے ہیں۔ تمام ماؤں کے دماغ زیادہ متحرک ہوتے تھے جب وہ اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی تھیں۔ لیکن دماغی حصے کے متعلق دودھ پلانے والی ماؤں میں ہونے والی تبدیلیاں کہیں زیادہ نمایاں تھیں۔دودھ پلانا ماں اور بچے کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے، ایک بہت مضبوط تعلق۔
یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے یہ بات دریافت کردی گئی تھی کہ آخری لمحات میں یہ مضبوط ترین تعلق بھی ٹوٹ جائے گا۔Quran 22:2
يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (2)"جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تجھے لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔”
آخری وقتوں میں یہ مضبوط تعلق بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ دودھ پلانا ماں اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق بنا دیتا ہے؟؟؟؟؟؟
بقلم سلطان سکندر!!!

آسمانی بجلی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر
Keraunoparalysis
Kerauno- ("Lightning”) + paralysis
ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے.ناؤن keraunoparalysis(دوائی) آسمانی بجلی گرنے کے بعد اعضاء میں ہونے والی عارضی کمزوری, سردی اور جِلد کے بدبودار ہونے پر استعمال کی جاتی ہے.
یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کہتا ہے کہ ایک 50 سالہ آدمی ہمارے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں لایا گیا جس پہ آسمانی بجلی گری جب وہ بجلی کے طوفان کے دوران درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا, وہ 15 منٹ تک بےحال پڑا رہا اور 15 منٹ بعد جب اسکی حالت ٹھیک ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے نچلے دونوں اعضاء(ٹانگیں پاؤں وغیرہ) ہلانے کے قابل نہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ حساسیت (سینسیشن) اور یورینری ریٹنشن(پیشاب برقرار رکھنے کا سسٹم) کو بھی کھو چکا تھا.
آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن ہوتا ہے. یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے سے یہ بات کتاب قرآن مجید میں موجود ہے کہ
Quran 51:44-45

"پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی تو ان کو بجلی نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے۔
پھر نہ تو وہ اٹھ(نقل و حرکت) ہی سکے اور نہ وہ کوئی مدد ہی لے سکے۔”"پھر نہ وہ اٹھ سکے” آج ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اٹھ سکے, یہ keraunoparalysis ہے, جو آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن کا سبب بنتا ہے.
سوال یہ ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا غیر معمولی شخص kerunoparalysis کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟
بقلم سلطان سکندر!!!

ہائیپوکسیا کی بیماری کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر
ہائیپوکسیا کی بیماری آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
فضاء کی اونچائی پر آکسیجن کی موجودگی کم ہوتی ہے۔
جب آکسیجن کی سطح پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں(بلڈ ویسلز) کو گراتی ہے تو:👇
Hypoxic pulmonary vasoconstriction (HPV),
جو
Euler-Liljestrand mechanism
کے طور پر بھی جانا جاتا ہے, ایک جسمانی رجحان ہے جس میں
alveolar hypoxia (آکسیجن کی کمی)
کی موجودگی کی وجہ سے پلمونری آرٹریز (پھیپھڑوں کی نَسّیں) سکڑ جاتی ہیں,یعنی جب آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے تو پھیپھڑوں میں موجود بلڈ ویسلز سکڑ جاتی ہیں.
یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے ساڑھے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکا انکشاف کر دیا گیا تھا.Quran: 6/125

(الانعام 125)
"سو جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے، اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔”یہاں پر "اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے(سینہ سکڑ جاتا ہے) گو کہ وہ آسمان پر(کی طرف) چڑھتا ہے،”
‘آسمان پر چڑھتا ہے’ سے مراد آپ جیسے جیسے آسمان کی طرف جاتے جائیں گے یعنی اونچی سطح پر جاتے جائیں گے تو آکسیجن کی کمی ہوتی جائے گی.اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سکڑاو کیوں ہوتا ہے؟, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے, قرآن میں کوئی غلط بات نہیں لکھی ہوئی.
آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کیا چیز سکڑ سکتی ہے؟(جیسا کہ پھیپھڑوں کی نسیں وغیرہ)
آگے چلیں, اسے واضح کرتے ہیں,آکسیجن کی کمی کی ایک عام نشانی یہ ہے کہ آپکی جلد نیلی پڑ جاتی ہے.
Cyanosis (سائنوسِس)
جلد کی نیلی یا پرپل رنگ کی رنگت ہے یا میوکس ممبرینز ہیں,
جب جلد کی سطح کے پاس والے ٹشوز میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو جلد یہ رنگ اختیار کر لیتی ہے,
سائنوسِس کا لفظی معنی نیلی بیماری یا نیلی حالت ہے, یہ سیان رنگ سے اخذ کیا گیا ہے جو ایک یونانی لفظ سیانوس سے نکلا ہے.آکسیجن کی کمی آپکی جِلد کو نیلا کر دیتی ہے. یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن نافرمانوں کی جلد نیلی پڑ جائے گی.
Quran: 20/102

(طہٰ 102)
"اور جس دن صُور پھونکا جائے گا, اور ہم اس دن مجرموں کو نیلا کر کے جمع کر دیں گے.”مجرموں کا رنگ نیلا پڑ جائے گا, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نیلا کیوں پڑتا ہے, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جو کہ ایک عام وجہ ہے.
Hypoxia
کی ایک اور کم معلوم وجہ موٹر (دماغ کے) فنکشنز(افعال) کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے.Brain hypoxia (دماغی ہائپوکسیا)
بھی ہائپوکسیا کی ایک قسم ہے یا دماغ پر اثر انداز آکسیجن کی کمی ہے. یہ تب ہوتا ہے جب دماغ خون کے بہاو کے باوجود آکسیجن کی مطلوبہ مقدار وصول نہیں کر رہا ہوتا اور جب آکسیجن کی سپلائی مکمل بند ہوجاتی ہے تو اس حالت کو دماغی ہائپوکسیا کہتے ہیں.
دماغی ہائپوکسیا ایک طبی ہنگامی حالت ہے جسکا علاج بروقت ہنگامی حالت میں کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے فنکشنز صحیح طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی مسلسل سپلائی اور نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے.
دماغی ہائپوکسیا کی کئی وجوہات ہوتی ہیں.
ان میں ڈوبنا ، دم گھٹنا ، دل کی دھڑکن رکنا اور اسٹروک(دماغی سیلز کا مرنا) شامل ہیں۔
ہلکی علامات میں سے حافظہ کھو بیٹھنا اور دماغی فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے جیسا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ آجانا.
سنگین حالات میں دوریں پڑنا اور دماغ کی موت ہونا شامل ہے.موٹر(دماغی) فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہائپوکسیا کی ہلکی علامات میں سے ایک ہے,
یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی یہ کتاب میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن مجرموں کے دماغی افعال مسئلہ کرنا شروع کر دیں گے.Quran: 75/29

(القیامہ 29)
"اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی”ٹانگ دوسری ٹانگ سے لپٹ جائے گی, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی موٹر فنکشن کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے ہے, یہ ہائپوکسیا کی ایک علامت ہے.
قرآن کی ایک اور آیت بتاتی ہے کہ مجرم لوگ اس دن چکرانے یا نشے کی حالت میں ہوں گے.
Quran: 22/2

(الحج 2)
"جس دن (تم) اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال(گرا) دے گی اور تجھے لوگ مدہوش(نشے میں) نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی اتنا سخت ہوگا۔”مدہوش ہونا نشے کی ایک علامت ہے لیکن یہ ہائپوکسیا کی بھی ایک علامت ہے. تو وہ ایسے نظر آئیں گے جیسے نشے میں ہیں جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے. آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں, کیونکہ یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.
آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے.
Cortical blindness(کارٹیکل بلائنڈنیس)
ایک دماغی بیماری کا نام ہے.
دماغ کا ایک حصہ جسے
Brain’s occipital cortex
کہتے ہیں, اس میں خرابی کی صورت میں ایک عام نظر آنے والی آنکھ کی تھوڑی سی بینائی یا ساری بینائی چلی جاتی ہے جسے کارٹیکل بلائنڈنیس کہتے ہیں.
کارٹیکل بلائنڈنیس کی بیماری پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی اور بعض صورتوں میں یہ عارضی طور پر بھی ہوسکتی ہے
کارٹیکل بلائنڈنیس کی ایک عام وجہ ischemia (آکسیجن کی کمی) ہے. جو کہ آکسیپیٹل لوبز میں دماغ کی بیرونی آرٹیریز میں بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے.آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے, یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے یہ کتاب میں موجود تھا کہ
Quran: 20/124

(124)
اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔قیات کے دن مجرم اندھے کر دیے جائیں گے, ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے, یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.
ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی ہائپوکسیا کی علامات کے بارے میں کیسے اتنا سب کچھ جان سکتا ہے؟؟؟؟
قرآن میں آکسیجن کی کمی کی وجہ دم گھٹنا ہے.
Quran: 14/16-17

اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔(ابراہیم 16)
جسے گھونٹ گھونٹ کر پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔ (ابراہیم 17)"گھونٹ گھونٹ کر پیے گا” مطلب اسکے گلے کے ساتھ یہ مسئلہ ہوگا. اسکا مطلب اس ہائپوکسیا کی وجہ دم گھٹنا ہے یا گلے کا گھٹنا ہے.
گلے کی یہ بیماری کانٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے.
Quran: 88/6

"ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا۔”وہ کانٹے دار جھاڑیوں کے ساتھ اپنا گلا گھونٹیں گے اور ہائیپوکسیا کی تمام علامات دکھائیں گے.
سوال تو یہ بنتا ہے کہ
ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص گلا گھٹنے کی علامات کیسے جان سکتا ہے؟؟؟یہ باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا لکھا گیا نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور اور علم سے بھری ہوئی ذات کی طرف سے لکھا گیا ہے جو ہر چیز کی ہر باریکی سے مکمل طور پر واقف ہے.
بقلم سلطان سکندر!!!

























